بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
النساء
سورۃ النساء — 176 آیات — صفحہ 4 از 4
قرآن کریم Surah 4
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہی ہیں ٹھیک ٹھیک کافر اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ لوگ ہیں، جو حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی لوگ حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے! ٭٭

اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، یوشع علیہ السلام موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔ مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کر دیا۔ کسی ربانی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش جوش تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے۔ اس لیے کہ اگر اور انبیاء علیہم السلام کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بے معنی ہے، ایسے لوگ حتماًً اور یقیناً کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں، پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو۔ جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے، پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کر دی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لیے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ» ۱؎ [2-البقرة:285] ‏‏‏‏ پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔
151۔ 1 اہل کتاب کے متعلق پہلے گزر چکا ہے کہ وہ بعض نبیوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں۔ جیسے یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ و حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسایؤں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان تفریق کرنے والے یہ پکے کافر ہیں۔
(آیت 151) {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا:} یعنی ان لوگوں کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔ {”حَقًّا“} مصدر محذوف کی تاکید ہے۔ (کبیر)
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور ا س کے تمام رسولوں کو مانیں، اور اُن کے درمیان تفریق نہ کریں، اُن کو ہم ضرور اُن کے اجر عطا کریں گے، اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے، یہ ہیں جنہیں اللہ ان کو پورا ﺛواب دے گا اور اللہ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں وہ (اللہ) ان کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہ کی، یہی لوگ ہیں جنھیں وہ عنقریب ان کے اجر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے! ٭٭

اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، یوشع علیہ السلام موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔ مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی کسی نبی کو مانا، کسی سے انکار کر دیا۔ کسی ربانی دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ محض اپنی نفسانی خواہش جوش تعصب اور تقلید آبائی کی وجہ سے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک نبی کو نہ ماننے والا اللہ کے نزدیک تمام نبیوں کا منکر ہے۔ اس لیے کہ اگر اور انبیاء علیہم السلام کو بوجہ نبی ہونے کے مانتا تو اس نبی کو ماننا بھی اسی وجہ سے اسپر ضروری تھا، جب وہ ایک کو نہیں مانتا تو معلوم ہوا کہ جنہیں وہ مانتا ہے انہیں بھی کسی دنیاوی غرض اور ہواؤں کی وجہ سے مانتا ہے، ان کا شریعت ماننا یا نہ ماننا دونوں بے معنی ہے، ایسے لوگ حتماًً اور یقیناً کافر ہیں، کسی نبی پر ان کا شرعی ایمان نہیں بلکہ تقلیدی اور تعصبی ایمان ہے جو قابل قبول نہیں، پس ان کفار کو اہانت اور رسوائی آمیز عذاب کئے جائیں گے۔ کیونکہ جن پر یہ ایمان نہ لا کر ان کی توہین کرتے تھے اس کا بدلہ یہی ہے کہ ان کی توہین ہو اور انہیں ذلت والے عذاب میں ڈالا جائے گا، ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ خواہ غور و فکر کے بغیر نبوت کی تصدیق نہ کرنا ہو، خواہ حق واضح ہو چکنے کے بعد دنیوی وجہ سے منہ موڑ کر نبوت سے انکار کرنا ہو۔ جیسے اکثر یہودی علماء کا شیوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا کہ محض حسد کی وجہ سے آپ کی عظیم الشان نبوت کے منکر تھے اور آپ کی مخالفت اور عداوت میں آ کر مقابلے پر تل گئے، پس اللہ نے ان پر دنیا کی ذلت بھی مسلط کر دی اور آخرت کی ذلت کی مار بھی ان کے لیے تیار کر رکھی۔ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہو رہی ہے کہ یہ اللہ پر ایمان رکھ کر تمام انبیاء علیہم السلام کو اور تمام آسمانی کتابوں کو بھی الہامی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ» ۱؎ [2-البقرة:285] ‏‏‏‏ پھر ان کے لیے جو اجر جمیل اور ثواب عظیم اس نے تیار کر رکھا ہے اسے بھی بیان فرما دیا کہ ان کے ایمان کامل کے باعث انہیں اجر و ثواب عطا ہوں گے۔ اگر ان سے کوئی گناہ بھی سرزد ہو گیا تو اللہ معاف فرما دے گا اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائیں گے۔
152۔ 1 یہ ایمانداروں کا شیوا بتایا گیا ہے کہ سب انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس طرح مسلمان ہیں وہ کسی بھی نبی کا انکار نہیں کرتے۔ اس آیت سے بھی ایک مذہب کی نفی ہوتی ہے جس کے نزدیک رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ اور وہ ان غیر مسلموں کو بھی نجات یافتہ سمجھتے ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق ایمان باللہ رکھتے ہیں۔ لیکن قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ ایمان باللہ کے ساتھ رسالت محمدیہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اگر اس آخری رسالت کا انکار ہوگا تو اس انکار کے ساتھ ایمان باللہ غیر معتبر اور نامقبول ہے (مزید دیکھئے سورة بقرہ کی (آیت نمبر 12 کا حاشیہ)
(آیت 152) {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ ……:} مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتی ہے، لہٰذا ان کے لیے بشارت ہے۔ (قرطبی)
یَسۡـَٔلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر اُن پر نازل کراؤ تو اِس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰؑ سے کر چکے ہیں اُس سے تو اِنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو اور اِسی سرکشی کی وجہ سے یکایک اِن پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے اس پر بھی ہم نے اِن سے درگزر کیا ہم نے موسیٰؑ کو صریح فرمان عطا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے یہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب ﻻئیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تو انہوں نے اس سے بہت بڑی درخواست کی تھی کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دکھا دے، پس ان کے اس ﻇلم کے باعﺚ ان پر کڑاکے کی بجلی آ پڑی پھر باوجودیکہ ان کے پاس بہت دلیلیں پہنچ چکی تھیں انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا، لیکن ہم نے یہ بھی معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ (اور صریح دلیل) عنایت فرمائی
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! اہل کتاب تم سے سوال کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے ایک کتاب اتاردو تو وہ تو موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے کہ بولے ہمیں ا لله کو اعلانیہ دکھادو تو انہیں کڑک نے آ لیا ان کے گناہوں پر پھر بچھڑا لے بیٹھے بعداس کے لئے روشن آیتیں ان کے پاس آچکیں تو ہم نے یہ معاف فرمادیا اور ہم نے موسیٰ کو روشن غلبہ دیا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ سے اہل کتاب مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی (لکھی ہوئی) کتاب اتروا دیں سو یہ تو جناب موسیٰ سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے ہیں یعنی کہا تھا کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ دکھا دو تو ان کے (اسی) ظلم کی وجہ سے ان کو بجلی نے پکڑ لیا۔ اور پھر ان لوگوں نے آیات و معجزات آجانے کے بعد گوسالے کو (خدا) بنا لیا۔ مگر ہم نے انہیں معاف کر دیا اور موسیٰ کو کھلا ہوا غلبہ عطا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی کتاب اتارے، سو وہ تو موسیٰ سے اس سے بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے کہا ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا، تو انھیں بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے پکڑ لیا، پھر انھوں نے بچھڑے کو پکڑ لیا، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آ چکی تھیں، تو ہم نے اس سے در گزر کیا اور ہم نے موسیٰ کو واضح غلبہ عطا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں ٭٭

یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں۔ یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا۔ جس طرح سورۃ سبحان میں مذکور ہے کہ“جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور تروتازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ” پس بطور تسلی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی۔ جیسے سورۃ البقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا۔ ملاحظہ ہو آیت «وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:55] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ علیہ السلام ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ ‘

پھر فرماتا ہے کہ ”بڑی بڑی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا۔“ مصر میں اپنے دشمن فرعون کا موسیٰعلیہ السلام کے مقابلے میں ہلاک ہونا اس کے تمام لشکروں کا نامرادی کی موت مرنا، ان کا دریا سے بچ کر پار نکل آنا، ابھی ابھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوا تھا۔ لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ’ ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو۔ ‘ جس کا پورا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور سورۃ طہٰ میں بھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا

اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ وزاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں، پھر پہاڑ ہٹایا گیا۔

ان کی دوسری کشی کا بیان ہو رہا ہے کہ قول و فعل دونوں کو بدل دیا، حکم ملا تھا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حطتہ» کہیں ”یعنی اے اللہ ہماری خطائیں بخش کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا اور تھک کر بیٹھ رہے جس کی سزا میں چالیس سال میدان تیہ میں سرگشتہ و حیران و پریشان رہے۔‏‏‏‏“ لیکن ان کی کم ظرفی کا یہاں بھی مظاہرہ ہوا اور اپنی رانوں کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہونے لگے اور «حنطتہ فی شعرۃ» کہنے لگے یعنی گیہوں کی بالیں ہمیں دے۔ پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ والے دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لیے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت «وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ» ۱؎ [7-الأعراف:163] ‏‏‏‏، ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا۔ یہ پوری حدیث سورۃ سبحان کی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:101] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ!
153۔ 1 یعنی جس طرح موسیٰ ؑ کوہ طور پر گئے اور تختیوں پر لکھی ہوئی تورات لے کر آئے، اسی طرح آپ بھی آسمان پر جا کر لکھا ہوا قرآن مجید لے کر آئیں۔ یہ مطالبہ محض عناد، حجود اور تعنت کی بنا پر تھا۔
(آیت 153) ➊ {يَسْـَٔلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ ……:} اس آیت میں یہود کی ایک اور جہالت کا بیان ہے اور اس کا مقصد ان کی سرکشی اور طبعی ضد و عناد کو بیان کرنا ہے۔ (کبیر) ان کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا تو تھا نہیں، محض شرارت کے لیے اور لاجواب کرنے کے لیے نت نئے اعتراضات پیش کرتے رہتے۔ ان میں سے ان کی ایک فرمائش یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تختیاں ملی تھیں، لہٰذا آپ بھی اﷲ تعالیٰ کے پاس سے اسی طرح کی کتاب لا کر دکھائیں، تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں اور آپ پر ایمان لائیں۔ قرآن نے اس اعتراض کے جواب میں پہلے تو ان پر ان کی گزشتہ کارستانیاں بطور الزام پیش کیں (کیونکہ اصل خاموش کرانے والا جواب الزامی ہوتا ہے کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، پھر اعتراض کرو) اور پھر آیت (۱۶۳) «اِنَّاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ كَمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ» ‏‏‏‏ سے اس اعتراض کا تحقیقی جواب دیا ہے۔ (کبیر) اور یہ سلسلۂ بیان آیت (۱۷۰) تک چلا گیا ہے۔ اس کے بعد «يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ» سے نصاریٰ سے خطاب ہے۔ (فتح الرحمن) ➋ {فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ:} فرمایا (تمھاری اس فرمائش کے عین مطابق) موسیٰ علیہ السلام کتاب لائے تو تم نے اس سے بڑا مطالبہ پیش کر دیا، یعنی یہ کہ ہمیں واضح طور پر سامنے اﷲ تعالیٰ کا دیدار کراؤ۔ (دیکھیے بقرہ: ۵۵) پھر اس سے بھی بڑی گستاخی کی کہ بچھڑے کو معبود بنا لیا، مگر ہم نے تمھیں معاف کر دیا اور تمھاری اس ضد، عناد اور جہل کے باوجود موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے غلبہ اور اقتدار عطا فرما دیا اور تم لوگ ان کے حکم کی مخالفت نہ کر سکے۔ اس آیت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی بشارت ہے کہ آخر کار یہ ضد اور عناد رکھنے والے مغلوب ہوں گے۔ اس کے بعد ان کی دوسری جہالتوں کا بیان ہے۔ (کبیر)
وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ﴿۱۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اِن لوگوں پر طور کو اٹھا کر اِن سے (اُس فرمان کی اطاعت کا) عہد لیا ہم نے اِن کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہوں ہم نے اِن سے کہا کہ سبت کا قانون نہ توڑو اوراس پر اِن سے پختہ عہد لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کا قول لینے کے لئے ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ ﻻ کھڑا کردیا اور انہیں حکم دیا کہ سجده کرتے ہوئے دروازے میں جاؤ اور یہ بھی فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے سخت سے سخت قول وقرار لئے
احمد رضا خان بریلوی
پھر ہم نے ان پر طور کو اونچا کیا ان سے عہد لینے کو اور ان سے فرمایا کہ دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو اور ان سے فرمایا کہ ہفتہ میں حد سے نہ بڑھو اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان سے (فرمانبرداری کا) پختہ عہد لینے کے لیے ان کے اوپر کوہ طور کو بلند کیا اور ہم نے ان سے کہا سجدہ ریز ہوکر دروازہ (شہر) میں داخل ہو جاؤ اور ان سے کہا کہ قانون سبت کے بارے میں زیادتی نہ کرو (حد سے نہ بڑھو) اور ہم نے ان سے پختہ عہد و پیمان لیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان پر پہاڑ کو ان کا پختہ عہد لینے کے ساتھ اٹھا کھڑا کیا اور ہم نے ان سے کہا دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جائو اور ہم نے ان سے کہا کہ ہفتے کے دن میں زیادتی مت کرو اور ہم نے ان سے ایک مضبوط عہد لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں ٭٭

یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں۔ یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا۔ جس طرح سورۃ سبحان میں مذکور ہے کہ“جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور تروتازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ” پس بطور تسلی کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی۔ جیسے سورۃ البقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا۔ ملاحظہ ہو آیت «وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:55] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ علیہ السلام ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ ‘

پھر فرماتا ہے کہ ”بڑی بڑی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا۔“ مصر میں اپنے دشمن فرعون کا موسیٰعلیہ السلام کے مقابلے میں ہلاک ہونا اس کے تمام لشکروں کا نامرادی کی موت مرنا، ان کا دریا سے بچ کر پار نکل آنا، ابھی ابھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوا تھا۔ لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ’ ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو۔ ‘ جس کا پورا بیان سورۃ الاعراف میں ہے اور سورۃ طہٰ میں بھی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا

اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ وزاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں، پھر پہاڑ ہٹایا گیا۔

ان کی دوسری کشی کا بیان ہو رہا ہے کہ قول و فعل دونوں کو بدل دیا، حکم ملا تھا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور «حطتہ» کہیں ”یعنی اے اللہ ہماری خطائیں بخش کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا اور تھک کر بیٹھ رہے جس کی سزا میں چالیس سال میدان تیہ میں سرگشتہ و حیران و پریشان رہے۔‏‏‏‏“ لیکن ان کی کم ظرفی کا یہاں بھی مظاہرہ ہوا اور اپنی رانوں کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہونے لگے اور «حنطتہ فی شعرۃ» کہنے لگے یعنی گیہوں کی بالیں ہمیں دے۔ پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ والے دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لیے۔ جیسے کہ سورۃ الاعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت «وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ» ۱؎ [7-الأعراف:163] ‏‏‏‏، ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا۔ یہ پوری حدیث سورۃ سبحان کی آیت «وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:101] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ!
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 154) ➊ { ”وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ“ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۳) اور { ”ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا“ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ(۵۸، ۵۹)۔ ➋ {وَ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِي السَّبْتِ:} ”اصحاب سبت“ جنھیں ہفتے کے دن مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا تھا، ان کے قصے کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۵) اور سورۂ اعراف (۱۶۳)۔
فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ وَ کُفۡرِہِمۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ قَتۡلِہِمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ وَّ قَوۡلِہِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیۡہَا بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۵۵﴾۪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کا ر اِن کی عہد شکنی کی وجہ سے، اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور متعدد پیغمبروں کو نا حق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ در حقیقت اِن کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے اِن کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(یہ سزا تھی) بہ سبب ان کی عہد شکنی کے اور احکام الٰہی کے ساتھ کفر کرنے کے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالنے کے، اور اس سبب سے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حاﻻنکہ دراصل ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے، اس لئے یہ قدر قلیل ہی ایمان ﻻتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور اس لئے کہ وہ آیات الٰہی کے منکر ہوئے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے تو ایمان نہیں لاتے مگر تھوڑے،
علامہ محمد حسین نجفی
سو (ان کو جو سزا ملی وہ) ان کے عہد شکنی کرنے، آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرنے، نبیوں کو ناحق قتل کرنے اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے (دلوں) پر مہر لگا دی ہے۔ اس لیے وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ان کے اپنے عہد کو توڑ دینے ہی کی وجہ سے (ہم نے ان پر لعنت کی) اور ان کے اللہ کی آیات کا کفر کرنے اور ان کے انبیاء کو کسی حق کے بغیر قتل کرنے اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں، بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کر دی تو وہ ایمان نہیں لاتے مگر بہت کم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اہل کتاب ، قاتلان انبیاء ، عیسیٰ علیہ السلام کی روداد اور مراحل قیامت ٭٭

اہل کتاب کے ان گناہوں کا بیان ہو رہا ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمتوں سے دور ڈال دیئے گئے اور ملعون و جلا وطن کر دیئے گئے اولاً ان کی عہد شکنی یہ تھی کہ جو وعدے انہوں نے اللہ سے کئے ان پر قائم نہ رہے، دوسرے اللہ کی آیتوں یعنی حجت و دلیل اور نبیوں کے معجزوں سے انکار اور کفر، تیسرے بلا وجہ، ناحق انبیاء کرام علیہم السلام کا قتل۔ ان کے رسولوں کی ایک بڑی جماعت ان کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ چوتھی ان کا یہ خیال اور قول کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں یعنی پردے میں ہیں، جیسے مشرکین نے کہا تھا آیت «وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ» ۱؎ [41-فصلت:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ اے نبی تیری دعوت سے ہمارے دل پردے میں ہیں۔ ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ’ ہمارے دل علم کے ظروف ہیں وہ علم و عرفان سے پُر ہیں۔ ‘ سورۃ البقرہ میں بھی اس کی نظیر گذر چکی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کی تردید کرتا ہے کہ یوں نہیں بلکہ ان پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے کیونکہ یہ کفر میں پختہ ہو چکے تھے۔ پس پہلی تفسیر کی بنا پر یہ مطلب ہوا کہ وہ عذر کرتے تھے کہ ہمارے دل بوجہ ان پر غلاف ہونے کے نبی کی باتوں کو یاد نہیں کر سکتے تو انہیں جواب دیا گیا کہ ایسا نہیں بلکہ تمہارے کفر کی وجہ سے تمہارے دل مسخ ہو گئے ہیں اور دوسری تفسیر کی بنا پر تو جواب ہر طرح ظاہر ہے۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں اس کی پوری تفصیل و تشریح گذر چکی ہے۔ پس بطور نتیجے کے فرما دیا کہ اب ان کے دل کفر و سرکشی اور کمی ایمان پر ہی رہیں گے۔

پھر ان کا پانچواں جرم عظیم بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے سیدہ مریم علیہا السلام پر زناکاری جیسی بدترین اور شرمناک تہمت لگائی اور اسی زناکاری کے حمل سے عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا شدہ بتایا، بعض نے اس سے بھی ایک قدم آگے رکھا اور کہا کہ یہ بدکاری حیض کی حالت میں ہوئی تھی۔ اللہ کی ان پر پھٹکار ہو کہ ان کی بد زبانی سے اللہ کے مقبول بندے بھی نہ بچ سکے۔

پھر ان کا چھٹا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ بطور تمسخر اور اپنی بڑائی کے یہ ہانک بھی لگاتے ہیں کہ ”ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو مار ڈالا“ جیسے کہ بطور تمسخر کے مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے تو تو مجنون ہے۔ پورا واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت دے کر بھیجا اور آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزے دکھائے مثلاً بچپن کے اندھوں کو بینا کرنا، کوڑھیوں کو اچھا کرنا، مردوں کو زندہ کرنا، مٹی کے پرند بنا کر پھونک مارنا اور ان کا جاندار ہو کر اڑ جانا وغیرہ تو یہودیوں کو سخت طیش آیا اور مخالفت پر کمربستہ ہو گئے اور ہر طرح سے ایذاء رسانی شروع کر دی، آپ کی زندگی تنگ کر دی، کسی بستی میں چند دن آرام کرنا بھی آپ کو نصیب نہ ہوا، ساری عمر جنگلوں اور بیابانوں میں اپنی والدہ کے ساتھ سیاحت میں گذاری، پھر بھی انہیں چین نہ لینے دیا، یہ دمشق کے بادشاہ کے پاس گئے جو ستارہ پرست مشرک شخص تھا (‏‏‏‏اس مذہب والوں کے ملک کو اس وقت یونان کہا جاتا تھا) یہاں آکر بہت روئے پیٹے اور بادشاہ کو عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف اکسایا اور کہا کہ یہ شخص بڑا مفسد ہے۔ لوگوں کو بہکا رہا ہے، روز نئے فتنے کھڑے کرتا ہے، امن میں خلل ڈالتا ہے۔ لوگوں کو بغاوت پہ اکساتا ہے وغیرہ۔ بادشاہ نے اپنے گورنر کو جو بیت المقدس میں تھا، ایک فرمان لکھا کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر لے اور سولی پر چڑھا کر اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ کر لوگوں کو اس دکھ سے نجات دلوائے۔ اس نے فرمان شاہی پڑھ کر یہودیوں کے ایک گروہ کو اپنے ساتھ لے کر اس مکان کا محاصرہ کر لیا جس میں روح اللہ علیہ السلام تھے، آپ کے ساتھ اس وقت بارہ تیرہ یا زیادہ سے زیادہ ستر آدمی تھے، جمعہ کے دن عصر کے بعد اس نے محاصرہ کیا اور ہفتہ کی رات تک مکان کو گھیرے میں لیے رہا

جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہ محسوس کر لیا کہ اب وہ مکان میں گھس کر آپ کو گرفتار کر لیں گے یا آپ کو خود باہر نکلنا پڑے گا تو آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈال دی جائے یعنی اس کی صورت اللہ مجھ جیسی بنا دے اور وہ ان کے ہاتھوں گرفتار ہو اور مجھے اللہ مخلصی دے؟ میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔ اس پر ایک نوجوان نے کہا مجھے یہ منظور ہے لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں اس قابل نہ جان کر دوبارہ یہی کہا، تیسری دفعہ بھی کہا مگر ہر مرتبہ صرف یہی تیار ہوئے رضی اللہ عنہ۔ اب آپ نے یہی منظور فرما لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی صورت قدرتاً بدل گئی بالکل یہ معلوم ہونے لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام یہی ہیں اور چھت کی طرف ایک روزن نمودار ہو گیا اور عیسیٰ علیہ السلام پر اونگھ کی سی حالت ہو گئی اور اسی طرح وہ آسمان پر اٹھا لیے گئے۔

جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ۱؎ [3-آل عمران:55] ‏‏‏‏، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ اے عیسیٰ میں تم سے مکمل تعاون کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ ‘ روح اللہ کے سوئے ہوئے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد یہ لوگ اس گھر سے باہر نکلے، یہودیوں کی جماعت نے اس بزرگ صحابی کو جس پر جناب مسیح علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی تھی، عیسیٰ سمجھ کر پکڑ لیا اور راتوں رات اسے سولی پر چڑھا کر اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ دیا۔ اب یہود خوشیاں منانے لگے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو قتل کر دیا اور لطف تو یہ ہے کہ عیسائیوں کی کم عقل اور جاہل جماعت نے بھی یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی اور ہاں صرف وہ لوگ جو مسیح علیہ السلام کے ساتھ اس مکان میں تھے اور جنہیں یقینی طور پر معلوم تھا کہ مسیح آسمان پر چڑھا لیے گئے اور یہ فلاں شخص ہے جو دھوکے میں ان کی جگہ کام آیا۔ باقی عیسائی بھی یہودیوں کا سا راگ الاپنے لگے، یہاں تک کہ پھر یہ بھی گھڑ لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ سولی تلے بیٹھ کر روتی چلاتی رہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے کچھ باتیں بھی کیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

دراصل یہ سب باتیں اللہ کی طرف سے اپنے بزرگ بندوں کا امتحان ہیں جو اس کی حکمت بالغہ کا تقاضا ہے، پس اس غلطی کو اللہ تعالیٰ نے واضح اور ظاہر کر کے حقیقت حال سے اپنے بندوں کو مطلع فرما دیا اور اپنے سب سے بہتر رسول اور بڑے مرتبے والے پیغمبر کی زبانی اپنے پاک، سچے اور بہترین کلام میں صاف فرما دیا کہ حقیقتاً نہ کسی نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا، نہ سولی دی بلکہ ان کی شبیہ جس پر ڈالی گئی تھی، اسے عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھ بیٹھے۔ جو یہود و نصاریٰ آپ کے قتل کے قائل ہو گئے وہ سب کے سب شک و شبہ میں حیرت و ضلالت میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں نہ انہیں خود کچھ علم ہے صرف سنی سنائی باتوں پہ یقین کے سوا کوئی ان کے پاس دلیل نہیں۔ اسی لیے پھر اسی کے متصل فرما دیا کہ ”یہ یقینی امر ہے کہ روح اللہ کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ جناب باری عزاسمہ نے جو غالب تر ہے اور جس کی قدرتیں بندوں کے فہم میں بھی نہیں آ سکتیں اور جس کی حکمتوں کی تہ تک اور کاموں کی لم تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اپنے خاص بندے کو جنہیں اپنی روح کہا تھا اپنے پاس اٹھا لیا“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھانا چاہا تھا، آپ گھر میں آئے اور گھر میں بارہ حواری تھے، آپ کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے فرمایا! تم میں بعض ایسے ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں مگر کچھ مجھ سے کفر کریں گے۔ پھر آپ نے فرمایا ”تم میں سے کون شخص اسے پسند کرتا ہے کہ اس پر میری شبیہ ڈالی جائے اور میری جگہ وہ قتل کر دیا جائے اور جنت میں میرا رفیق بنے۔“ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ روح اللہ علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق بعض نے آپ سے بارہ بارہ بار کفر کیا۔ پھر ان کے تین گروہ ہو گئے، یعقوبیہ، نسطوریہ اور مسلمان، یعقوبیہ تو کہنے لگے خود اللہ ہم میں تھا، جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا، نسطوریہ کا خیال ہو گیا کہ اللہ کا لڑکا ہم میں تھا، جسے ایک زمانے تک ہم میں رکھ کر پھر اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا کہ اللہ کا بندہ اور رسول ہم میں تھا جب تک اللہ نے چاہا وہ ہم میں رہا اور پھر اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان پہلے دو گمراہ فرقوں کا زور ہو گیا اور انہوں نے تیسرے سچے اور اچھے فرقے کو کچلنا اور دبانا شروع کیا، چنانچہ یہ کمزور ہوتے گئے

یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر اسلام کو غالب کیا۔ اس کی اسناد بالکل صحیح ہے اور نسائی میں سیدنا ابومعاویہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1110/4] ‏‏‏‏ اسی طرح سلف میں سے بہت سے بزرگوں کا قول ہے، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس وقت شاہی سپاہی اور یہودی عیسیٰ علیہ السلام پر چڑھ دوڑے اور گھیرا ڈال دیا اس وقت آپ کے ساتھ سترہ آدمی تھے۔ ان لوگوں نے جب دروازے کھول کر دیکھا تو دیکھا کہ سب کے سب عیسیٰ کی صورت میں ہیں تو کہنے لگے تم لوگوں نے ہم پر جادو کر دیا ہے، اب یا تو تم اسے جو حقیقی عیسیٰ علیہ السلام ہوں ہمیں سونپ دو یا اسے منظور کر لو کہ ہم تم سب کو قتل کر ڈالیں۔ یہ سن کر روح اللہ نے فرمایا ”کوئی ہے جو جنت میں میرا رفیق بنے اور یہاں میرے بدلے سولی پر چڑھنا منظور کرے“ ایک صحابی اس کے لیے تیار ہو گئے اور کہنے لگے عیسیٰ میں تیار ہوں، چنانچہ دشمنان دین نے انہیں گرفتار کیا قتل کیا اور سولی چڑھایا اور بغلیں بجانے لگے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کیا، حالانکہ دراصل ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ دھوکے میں پڑ گئے اور اللہ نے اپنے رسول کو اسی وقت اپنے پاس چڑھا لیا۔

تفسیر ابن جریر میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو یہ وحی کر دیا کہ وہ دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں تو آپ پر بہت گراں گذرا اور موت کی گھبراہٹ بڑھ گئی تو آپ نے حواریوں کی دعوت کی، کھانا تیار کیا اور سب سے کہدیا کہ آج رات کو میرے پاس تم سب ضرور آنا، مجھے ایک ضروری کام ہے۔ جب وہ آئے تو خود کھانا کھلایا سب کام کاج اپنے ہاتھوں کرتے رہے، جب وہ کھا چکے تو خود ان کے ہاتھ دھلائے اور اپنے کپڑوں سے کے ہاتھ پونچھے یہ ان پر بھاری پڑا اور برا بھی لگا لیکن آپ نے فرمایا“اس رات میں جو کچھ کر رہا ہوں، اگر تم میں سے کسی نے مجھے اس سے روکا تو میرا اس کا کچھ واسطہ نہیں نہ وہ میرا نہ میں اس کا۔ ”چنانچہ وہ سب خاموش رہے۔ جب آپ ان تمام کاموں سے فارغ ہو گئے تو فرمایا دیکھو! تمہارے نزدیک میں تم سب سے بڑے مرتبے والا ہوں اور میں نے تمہاری خدمت خود کی ہے، یہ اس لیے کہ تم میری اس سنت کے عامل بن جاؤ، خبردار تم میں سے کوئی اپنے آپ کو اپنے بھائیوں سے بڑا نہ سمجھے، بلکہ ہر بڑا چھوٹے کی خدمت کرے، جس طرح خود میں نے تمہاری خدمت کی ہے۔ اب تم سے میرا جو خاص کام تھا جس کی وجہ سے آج میں نے تمہیں بلایا ہے وہ بھی سن لو کہ“تم سب مل کر آج رات بھر خشوع و خضوع سے میرے لیے دعائیں کرو کہ اللہ میری اجل کو مؤخر کر دے۔ ”چنانچہ سب نے دعائیں شروع کیں لیکن خشوع و خضوع کا وقت آنے سے پہلے ہی اس طرح انہیں نیند آنے لگی کہ زبان سے ایک لفظ نکالنا مشکل ہو گیا، آپ نے انہیں بیدار کرنے کی کوشش میں ایک ایک کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہا تمہیں کیا ہو گیا؟ ایک رات بھی جاگ نہیں سکتے؟ میری مدد نہیں کرتے؟ لیکن سب نے جواب دیا اے رسول اللہ ہم خود حیران ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟

ایک چھوڑ کئی کئی راتیں جاگتے تھے، جاگنے کے عادی ہیں لیکن اللہ جانے، آج کیا بات ہے کہ بری طرح نیند نے گھیر رکھا ہے، دعا کے اور ہمارے درمیان کوئی قدرتی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے تو آپ نے فرمایا! اچھا پھر چرواہا نہ رہے گا اور بکریاں تین تیرہ ہو جائیں گی، غرض اشاروں کنایوں میں اپنا مطلب ظاہر کرتے رہے، پھر فرمایا ”دیکھو تم میں سے ایک شخص صبح کا مرغ بولنے سے پہلے تین مرتبہ میرے ساتھ کفر کرے گا اور تم میں سے ایک چندہ درہموں کے بدلے مجھے بیچ دے گا اور میری قیمت کھائے گا۔“ اب یہ لوگ یہاں سے باہر نکلے ادھر ادھر چلے گئے، یہود جو اپنی جستجو میں تھے، انہوں نے شمعون حواری کو پہچان کر اسے پکڑا اور کہا یہ بھی اس کا ساتھی ہے، مگر شمعون نے کہا ”غلط ہے میں اس کا ساتھی نہیں ہوں۔“ انہوں نے یہ باور کر کے اسے چھوڑ دیا لیکن کچھ آگے جا کر یہ دوسری جماعت کے ہاتھ لگ گیا، وہاں سے بھی اسی طرح انکار کر کے اپنا آپ چھڑایا۔ اتنے میں مرغ نے بانگ دی اب یہ پچھتانے لگے اور سخت غمگین ہوئے۔ صبح ایک حواری یہودیوں کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں تمہیں عیسیٰ کا پتہ بتا دوں تو تم مجھے کیا دلواؤ گے؟ انہوں نے کہا تیس درہم، چانچہ اس نے وہ رقم لے لی، اور عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ بتا دیا۔ اس سے پہلے وہ شبہ میں تھے، اب انہوں نے گرفتار کر لیا اور رسیوں میں جکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے چلے اور بطور طعنہ زنی کے کہتے جاتے تھے کہ آپ تو مردوں کو زندہ کرتے تھے، جنات کو بھگا دیا کرتے تھی، مجنون کو اچھا کر دیا کرتے تھے، اب کیا بات ہے کہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے ان رسیوں کو بھی نہیں توڑ سکتے، تھو ہے تمہارے منہ پر!

یہ کہتے جاتے تھے اور کانٹے ان کے اوپر ڈالتے جاتے تھے۔ اسی طرح بیدردی سے گھسیتے ہوئے جب اس لکڑی کے پاس لائے جہاں سولی دینا تھی اور ارادہ کیا کہ سولی پر چڑھا دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اپنی طرف چڑھا لیا اور انہوں نے دوسرے شخص کو جو آپ کے مشابہ تھا سولی پر چڑھا دیا۔ پھر سات دن کے بعد مریم اور وہ عورت جس کو عیسیٰ علیہ السلام نے جن سے نجات دلوائی تھی۔ وہاں آئیں اور رونے پیٹنے لگیں تو ان کے پاس عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان سے کہا کہ ”کیوں روتی ہو؟ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کر لیا ہے اور مجھے ان کی اذیتیں نہیں پہنچیں، ان پر تو شبہ ڈال دیا گیا ہے میرے حواریوں سے کہو کہ مجھ سے فلاں جگہ ملیں“ چنانچہ یہ بشارت جب حواریوں کو ملی تو وہ سب کے سب گیارہ آدمی اس جگہ پہنچے، جس حواری نے آپ کو بیچا تھا، اسے انہوں نے وہاں نہ پایا، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ندامت اور شرمندگی کی وجہ سے اپنا گلا گھونٹ کر آپ ہی مر گیا، اس نے خودکشی کر لی۔ آپ نے فرمایا ”اگر وہ توبہ کرتا تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔“ پھر پوچھا کہ یہ بچہ جو تمہارے ساتھ ہے، اس کا نام یحییٰ ہے، اب یہ تمہارا ساتھی ہے سنو صبح کو تمہاری زبانیں بدل دی جائیں گی، ہر شخص اپنی اپنی قوم کی زبان بولنے لگے گا، اسے چاہیئے کہ اسی قوم میں جا کر اسے میری دعوت پہنچائے اور اللہ سے ڈرائے۔ یہ واقعہ نہایت ہی غریب ہے

ابن اسحاق کا قول ہے کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ جس نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لیے اپنی فوج بھیجی تھی اس کا نام داؤد تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت سخت گھبراہٹ میں تھے، کوئی شخص اپنی موت سے اس قدر پریشان حواس باختہ اور اس قدر واویلا کرنے والا نہ ہو گا، جس قدر آپ نے اس وقت کیا۔ یہاں تک کہ فرمایا یا اللہ اگر تو موت کے پیالے کو کسی سے بھی ٹالنے والا ہے تو مجھ سے ٹال دے اور یہاں تک کہ گھبراہٹ اور خوف کے مارے ان کے بدن سے خون پھوٹ کر بہنے لگا، اس وقت اس مکان میں آپ کے ساتھ بارہ حواری تھے، جن کے نام یہ ہیں فرطوس، یعقوب، ربداء، یحنس، [ یعقوب کا بھائی ] ‏‏‏‏ اندرا اییس، فیلبس ابن یلما، منتا، طوماس، یعقوب بن حلقایا، تداوسیس، قثانیا، یودس ذکریا یوطا۔ بعض کہتے ہیں تیرہ آدمی تھے اور ایک کا نام سرجس تھا۔ اسی نے اپنا آپ سولی پر چڑھایا جانا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت پر منظور کیا تھا۔

جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر چڑھا لیے گئے اور بقیہ لوگ یہودیوں کے ہاتھوں میں اسیر ہو گئے، اب جو گنتی گنتے ہیں تو ایک کم نکلا۔ اس کے بارے میں ان میں آپس میں اختلاف ہوا۔ یہ لوگ جب اس جماعت پر چھاپہ مارتے ہیں اور انہیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام کو چونکہ پہچانتے نہ تھے تو یودس ذکریا یوطا نے تیس درہم لے کر ان سے کہا تھا کہ میں سب سے پہلے جاتا ہوں جسے میں جا کر بوسہ دوں تم سمجھ لینا کہ عیسیٰ علیہ السلام وہی ہے۔ جب یہ اندر پہنچتے ہیں، اس وقت عیسیٰ اٹھا لیے گئے تھے اور سرجس آپ کی صورت میں بنا دیئے گئے تھے، اس نے جا کر حسب قرار داد انہی کا بوسہ لیا اور یہ گرفتار کر لیے گئے پھر تو یہ بہت نادم ہوا اور اپنے گلے میں رسی ڈال کر پھانسی پر لٹک گیا اور نصرانیوں میں ملعون بنا۔ بعض کہتے ہیں اس کا نام یودس رکریا بوطا تھا، یہ جیسے ہی عیسیٰ علیہ السلام کی پہچان کرانے کے لیے اس گھر میں داخل ہوا، عیسیٰ علیہ السلام تو اٹھا لیے گئے اور خود اس کی صورت عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہو گئی اور اسی کو لوگوں نے پکڑ لیا، یہ ہزار چیختا چلاتا رہا کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں، میں تو تمہارا ساتھی ہوں، میں نے ہی تو تمہیں عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ دیا تھا لیکن کون سنتا؟ آخر اسی کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ اب اللہ ہی کو علم ہے کہ یہی تھا یا وہ تھا، جس کا ذکر پہلے ہوا۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ روح اللہ علیہ السلام کی مشابہت جس پر ڈال دی گئی تھی اسے صلیب پر چڑھایا اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ آپ کے ان تمام ساتھیوں پر ڈال دی گی تھی۔“ اس کے بعد ذکر ہوتا ہے کہ جناب روح اللہ علیہ السلام کی موت سے پہلے جملہ اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے اور قیامت تک آپ ان کے گواہ ہوں گے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی تفسیر میں کئی قول ہیں

ایک تو یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام موت سے پہلے یعنی جب آپ دجال کو قتل کرنے کے لیے دوبارہ زمین پر آئیں گے اس وقت تمام مذاہب ختم ہو چکے ہوں گے اور صرف ملت اسلامیہ جو دراصل ابراہیم علیہ السلام حنیف کی ملت ہے رہ جائے گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «موتہ» سے مراد موت عیسیٰ علیہ السلام ہے ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب جناب مسیح علیہ السلام اتریں گے، اس وقت کل اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:380/9] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور روایت میں ہے خصوصاً یہودی ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی نجاشی اور ان کے ساتھی آپ سے مروی ہے کہ قسم اللہ کی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے پاس اب زندہ موجود ہیں۔ جب آپ زمین پر نازل ہوں گے، اس وقت اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ ہو گا جو آپ پر ایمان نہ لائے۔ آپ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی جاتی ہے تو آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو اپنے پاس اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے آپ کو دوبارہ زمین پر اس حیثیت سے بھیجے گا کہ ہر نیک و بد آپ پر ایمان لائے گا۔ قتادہ، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بہت سے مفسرین کا یہی فیصلہ ہے اور یہی قول حق ہے اور یہی تفسیر بالکل ٹھیک ہے، ان شاءاللہ العظیم اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی توفیق سے ہم اسے بادلائل ثابت کریں گے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ہر اہل کتاب آپ پر اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا ہے۔ اس لیے کہ موت کے وقت حق و باطل سب کھل جاتا ہے تو ہر کتابی عیسیٰ  کی حقانیت کو زمین سے سدھارنے سے پہلے یاد کر لیتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کوئی یہودی نہیں مرتا جب تک کہ وہ روح اللہ پر ایمان نہ لائے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا یہی قول ہے۔ بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو یہاں تک مروی ہے کہ اگر کسی اہل کتاب کی گردن تلوار سے اڑا دی جائے تو اس کی روح نہیں نکلتی جب تک کہ وہ عیسیٰ پر ایمان نہ لائے اور یہ نہ کہدے کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ ابی رحمہ اللہ کی تو قرأت میں «قبل موتھم» ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا جاتا ہے کہ فرض کرو کوئی دیوار سے گر کر مر جائے؟ فرمایا پھر بھی اس درمیانی فاصلے میں وہ ایمان لا چکتا ہے۔ عکرمہ، محمد بن سیرین، محمد ضحاک، سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ ایک قول امام حسن رحمہ اللہ سے ایسا بھی مروی ہے کہ جس کا مطلب پہلے قول کا سا بھی ہو سکتا ہے اور عیسیٰ  کی موت سے پہلے کا بھی ہو سکتا ہے۔
1۔ 155 تقدیری عبارت یوں ہوگی فبنقضھم میثاقھم لعناھم۔ یعنی ہم نے ان کے نقض میثاق، کفربآیات اللہ اور قتل انبیاء وغیرہ کی وجہ سے ان پر لعنت کی یا سزا دی۔
(آیت 155) ➊ {فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ:} اس میں {”مَا“} تاکید کے لیے بڑھایا گیا ہے، یعنی ان کے اپنے پختہ عہد کو توڑنے ہی کی وجہ سے۔ یہاں کچھ الفاظ محذوف ہیں جو آیت پڑھنے والے کی سمجھ پر چھوڑ دیے گئے ہیں، چنانچہ اکثر مفسرین نے تو لکھا ہے کہ وہ الفاظ ہیں: { ”لَعَنَّاهُمْ“ } یعنی ہم نے ان پر لعنت کی، اس کی دلیل یہ ہے کہ دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: «فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۱۳ ] ”ان کے اپنے پختہ عہد کو توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی“ اور بعض نے کہا کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ نے بات کو عام رکھا ہے اسے عام رکھنا ہی بہتر ہے یعنی ان کے عہد کو توڑنے ہی کی وجہ سے { ”فَعَلْنَا بِهِمْ مَّا فَعَلْنَا“ } (ہم نے ان کے ساتھ کیا جو کیا) یعنی جو ہم نے ان کے ساتھ کیا وہ تمھارے اندازے سے باہر ہے۔ ➋ { ”وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِيَآءَ۠ بِغَيْرِ حَقٍّ“ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۱) اور { ”غُلْفٌ“ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۸۸)۔ ➌ {فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا:} یعنی بہت کم لوگ، جیسے عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے چند ساتھی۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ {”قَلِيْلًا“} مصدر محذوف کی صفت ہو یعنی { ”اِيْمَانًا قَلِيْلاً“ } (وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑا) یعنی صرف موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر۔ یہ ان کے گمان کے اعتبار سے فرمایا، ورنہ ایک نبی کو بھی جھٹلایا تو گویا سب کو جھٹلا دیا۔ (رازی)
وَّ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا ﴿۱۵۶﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے کفر کے باعﺚ اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعﺚ
احمد رضا خان بریلوی
اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور مریم پر بڑا بہتان اٹھایا،
علامہ محمد حسین نجفی
نیز ان کے ساتھ یہ جو کچھ ہوا یہ ان کے کفر کی وجہ سے ہوا۔ اور جناب مریم پر بہتان عظیم لگانے کی وجہ سے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے کفر کی وجہ سے اور مریم پر ان کے بہت بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تیسرا قول یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی موت سے پہلے ایمان لائے گا۔ عکرمہ رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سب اقوال میں زیادہ تر صحیح قول پہلا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے قیامت کے قریب اتریں گے، اس وقت کوئی اہل کتاب آپ پر ایمان لائے بغیر نہ رہے گا۔ فی الواقع امام صاحب کا یہ فیصلہ حق بجانب ہے۔ اس لیے کہ یہاں کی آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ اصل مقصود یہودیوں کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنا ہے کہ ہم نے جناب مسیح علیہ السلام کو قتل کیا اور سولی دی اور اسی طرح جن جاہل عیسائیوں نے یہ بھی کہا ہے ان کے قول کو بھی باطل کرنا ہے، روح اللہ نہ مقتول ہیں، نہ مصلوب۔ تو اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ فی الواقع نفس الامر میں نہ تو روح اللہ مقتول ہوئے، نہ مصلوب ہوئے بلکہ ان کے لیے شبہ ڈال دیا گیا اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام جیسے ایک شخص کو قتل کیا لیکن خود انہیں اس حقیقت کا علم نہ ہو سکا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو اپنے پاس چڑھا لیا۔ وہ زندہ ہیں، اب تک باقی ہیں، قیامت کے قریب اتریں گے۔ جیسے صحیح متواتر احادیث میں ہے مسیح ہر گمراہ کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیروں کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہیں کریں گے، اعلان کر دیں گے کہ یا تو اسلام کو قبول کرو یا تلوار سے مقابلہ کرو۔

پس اس آیت میں خبر دیتا ہے کہ اس وقت تمام اہل کتاب آپ کے ہاتھ پر ایمان قبول کریں گے اور ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو اسلام کو مانے بغیر رہ جائے یا رہ سکے۔ پس جسے یہ گمراہ یہود اور یہ جاہل نصرانی مرا ہوا جانتے ہیں اور سولی پر چڑھایا ہوا مانتے ہیں، یہ ان کی حقیقی موت سے پہلے ہی ان پر ایمان لائیں گے اور جو کام انہوں نے ان کی موجودگی میں کئے ہیں اور کریں گے۔ یہ ان پر قیامت کے دن اللہ کے سامنے گواہی دیں گے یعنی آسمان پر اٹھائے جانے کے قبل زندگی کے مشاہدہ کئے ہوئے کام اور دوبارہ کی آخری زندگی جو زمین پر گذاریں گے۔ اس میں ان کے سامنے جتنے کام انہوں نے کئے وہ سب آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے اور انہیں اللہ کے سامنے انہیں پیش کریں گے۔

ہاں اس کی تفسیر میں جو دو قول اور بیان ہوئے ہیں وہ بھی واقعہ کے اعتبار سے بالکل صحیح اور درست ہیں۔ موت کا فرشتہ آ جانے کے بعد احوال آخرت، سچ جھوٹ کا معائنہ ہو جاتا ہے، اس وقت ہر شخص سچائی کو سچ کہنے اور سمجھنے لگتا ہے لیکن وہ ایمان اللہ کے نزدیک معتبر نہیں۔ اسی سورت کے شروع میں ہے آیت «وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:18] ‏‏‏‏ اور جگہ فرمان ہے آیت «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:84] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو لوگ موت کے آ جانے تک برائیوں میں مشغول رہے ان کی توبہ قبول نہیں اور جو لوگ عذاب رب دیکھ کر ایمان لائیں، انہیں بھی ان کا ایمان نفع نہ دے گا۔ ‘ پس ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھ کر ہم کہتے ہیں کہ پچھلے دو اقوال جن کی امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تردید کی ہے وہ ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ امام صاحب فرماتے ہیں اگر پچھلے دونوں قولوں کو اس آیت کی تفسیر میں صحیح مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ کسی یہودی یا نصرانی کے اقرباء اس کے وارث نہ ہوں، اس لیے کہ وہ تو عیسیٰ علیہ السلام پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر مرا اور اس کے وارث یہود و نصاریٰ ہیں، مسلمان کا وارث کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ اس وقت ہے جب ایمان ایسے وقت لائے کہ اللہ کے نزدیک معتبر ہو، نہ ایسے وقت ایمان لانا جو بالکل بےسود ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر گہری نظر ڈالئے کہ دیوار سے گرتے ہوئے، درندے کے جبڑوں میں، تلوار کے چلتے ہوئے وہ ایمان لاتا ہے تو ایسی حالت کا ایمان مطلق نفع نہیں دے سکتا۔

جیسے قرآن کی مندرجہ بالا دونوں آیتیں ظاہر کر رہی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» میرے خیال سے تو یہ بات بہت صاف ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے پچھلے دونوں قول بھی معتبر مان لینے سے کوئی اشکال پیش نہیں آتی۔ اپنی جگہ وہ بھی ٹھیک ہیں۔ لیکن ہاں آیت سے واقعی مطلب تو یہ نکلتا ہے جو پہلا قول ہے۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں، قیامت کے قریب زمین پر اتریں گے اور یہودیوں و نصرانیوں دونوں کو جھوٹا بتائیں گے اور جو افراط تفریط انہوں نے کی ہے، اسے باطل قرار دیں گے۔ ایک طرف ملعون جماعت یہودیوں کی ہے، جنہوں نے آپ کو آپ کی عزت سے بہت گرا دیا اور ایسی ناپاک باتیں آپ کی شان میں کہیں جن سے ایک بھلا انسان نفرت کرے۔ دوسری جانب نصرانی ہیں جنہوں نے آپ کے مرتبے کو اس قدر بڑھایا کہ جو آپ میں نہ تھا اس کے اثبات میں اتنے بڑھے کہ مقام نبوت سے مقام ربوبیت تک پہنچا دیا جس سے اللہ کی ذات بالکل پاک ہے۔

اب ان احادیث کو سنئے جن میں بیان ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام آخر زمانے میں قیامت کے قریب آسمان سے زمین پر اتریں گے اور اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی طرف سب کو بلائیں گے۔ صحیح بخاری شریف جسے ساری امت نے قبول کیا ہے اس میں امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ و کتاب ذکر انبیاء علیہم السلام میں یہ حدیث لائے ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم میں ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ عادل منصف بن کر صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ ہٹا دیں گے۔ مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ اسے لینا کوئی منظور نہ کرے گا، ایک سجدہ کر لینا دنیا اور دنیا کی سب چیزوں سے محبوب تر ہو گا۔ } اس حدیث کو بیان فرما کر راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بطور شہادت قرآنی کے اسی آیت «وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ» ۱؎ [4-النساء:159] ‏‏‏‏کی آخر تک تلاوت کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2476] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے اور سند سے یہی روایت بخاری مسلم میں مروی ہے اس میں ہے کہ { سجدہ اس وقت فقط اللہ رب العالمین کے لیے ہی ہو گا۔ } اور اس آیت کی تلاوت میں «قبل موتہ» کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ «قبل موت عیسیٰ بن مریم» پھر اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا تین مرتبہ دوہرانا بھی ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { عیسیٰ علیہ السلام حج یا عمرے پر یا دونوں پر لبیک کہیں گے، میدان حج میں، روحاء میں۔ } ۱؎ [مسند احمد:240/2-272:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1252] ‏‏‏‏ مسند کی اور حدیث میں ہے { عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو مٹائیں گے، نماز با جماعت ہو گی اور اللہ کی راہ میں مال اس قدر کثرت سے دیا جائے گا کہ کوئی قبول نہ کرنے والا نہ ملے گا۔ خراج چھوڑ دیں گے، روحاء میں جائیں گے اور وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے یا دونوں ایک ساتھ کریں گے۔ } پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت پڑھی لیکن آپ کے شاگرد حنظلہ رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”حضرت عیسیٰ کے انتقال سے پہلے آپ پر ایمان لائیں گے۔“ مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب حدیث کے ہی الفاظ ہیں یا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اپنے۔ ۱؎ [مسند احمد:290/2-291:صحیح] ‏‏‏‏
156۔ 1 اس سے مراد یوسف نجار کے ساتھ حضرت مریم ؑ پر بدکاری کی تہمت ہے۔ آج بھی بعض نام نہاد محققین اس بہتان عظیم کو ایک ' حقیقت ثابتہ ' باور کرانے پر تلے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوسف نجار (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰ ؑ کا باپ تھا یوں حضرت عیسیٰ ؑ کی بن باپ کے معجزانہ ولادت کا بھی انکار کرتے ہیں۔
(آیت 156) {وَ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْيَمَ ……:} کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی نبوت کاانکار کر کے صریح کفر کا ارتکاب کیا اور پھر مریم علیھا السلام کی طرف زنا کی نسبت کر کے مزید بہتان باندھا۔
وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا ﴿۱۵۷﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابن مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے انہوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یوں کہنے کے باعﺚ کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حاﻻنکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے ان (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا۔ یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو شہید کیا اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے ان کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا اور وہ جو اس کے بارہ میں اختلاف کررہے ہیں ضرور اس کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں انہیں اس کی کچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے خدا کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان پر اصل معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ یقینا اس کے متعلق شک میں ہیں اور انہیں گمان کی پیروی کرنے کے سوا کوئی علم نہیں ہے۔ اور انہوں نے یقینا ان کو قتل نہیں کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے یہ کہنے کی وجہسے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا، حالانکہ نہ انھوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کے لیے (کسی کو مسیح کا) شبیہ بنا دیا گیا اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، یقینا اس کے متعلق بڑے شک میں ہیں، انھیں اس کے متعلق گمان کی پیروی کے سوا کچھ علم نہیں اور انھوں نے اسے یقینا قتل نہیں کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح بخاری میں ہے اس وقت کیا ہو گا، جب تم میں مسیح بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3449] ‏‏‏‏ ابوداؤد، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“انبیاء کرام علیہم السلام سب ایک باپ کے بیٹے بھائی کی طرح ہیں، مائیں جدا جدا اور دین ایک۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ تر نزدیک میں ہوں اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں، یقیناً وہ اترنے والے ہیں پس تم انہیں پہچان رکھو۔ درمیان قد ہے، سرخ سفید رنگ ہے۔ وہ دو گیروے رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے اوڑھے اور باندھے ہوں گے، بال خشک ہونے کے باوجود ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہ کریں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔ ان کے زمانے میں تمام ملتیں مٹ جائیں گی، صرف اسلام ہی اسلام رہے گا، ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پھر زمین پر امن ہی امن ہو گا یہاں تک کہ کالے ناگ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے، چالیس برس تک ٹھہریں گے، پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4324،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن جریر کی اسی روایت میں ہے، { آپ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے،} اس حدیث کا ایک ٹکڑا بخاری شریف میں بھی ہے اور روایت میں ہے { سب سے زیادہ قریب تر عیسیٰ علیہ السلام سے دنیا اور آخرت میں میں ہوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3443] ‏‏‏‏

صحیح مسلم میں ہے { قیامت قائم نہ ہو گی، جب تک رومی اعماق یا والق میں نہ اتریں اور ان کے مقابلہ کے لیے مدینہ سے مسلمانوں کا لشکر نہ نکلے گا، جو اس وقت تمام زمین کے لوگوں سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے، جب صفیں بندھ جائیں گی تو رومی کہیں گے تم سے ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم میں سے جو دین بدل کر تم میں ملے ہم ان سے لڑنا چاہتے ہیں تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ لیکن مسلمان کہیں گے واللہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اپنے ان کمزور بھائیوں کو تمہارے حوالے کر دیں۔ چنانچہ لڑائی شروع ہو گی مسلمانوں کے اس لشکر کا تہائی حصہ تو شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہو گا، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہ فرمائے گا اور تہائی حصہ شہید ہو جائے گا، جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل شہید ہیں لیکن آخری تہائی حصہ فتح حاصل کرے گا اور رومیوں پر غالب آ جائے گا۔ پھر یہ کسی فتنے میں نہ پڑیں گے، قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، ابھی تو وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکائے ہوئے مال غنیمت تقسیم کر ہی رہے ہوں گے جو شیطان چیخ کر کہے گا کہ تمہارے بال بچوں میں دجال آ گیا، اس کے اس جھوٹ کو سچ جان کر مسلمان یہاں سے نکل کھڑے ہوں گے، شام میں پہنچیں گے، دشمنوں سے جنگ آزما ہونے کے لیے صفیں ٹھیک کر رہے ہوں گے کہ دوسری جانب نماز کی اقامت ہو گی۔ اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کی امامت کرائیں گے، جب دشمن رب انہیں دیکھے گا تو اسی طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے، اگر عیسیٰ علیہ السلام اسے یونہی چھوڑ دیں، جب بھی وہ گھلتے گھلتے ختم ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور آپ اپنے حربے پر اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2897 ] ‏‏‏‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { معراج والی رات میں نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، آپس میں قیامت کی نسبت بات چیت ہونے لگی، ابراہیم علیہ السلام نے اپنی لاعلمی ظاہر کی، اس طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی، لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اس کے آنے کا ٹھیک وقت تو سوائے اللہ عزوجل کے کوئی نہیں جانتا، ہاں مجھ سے میرے رب نے جو عہد لیا ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اس کے ہمراہ دو شاخیں ہوں گی، مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے گا جب وہ مجھے دیکھ لے گا یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے پیچھے ایک کافر ہے آو اور اسے قتل کر لیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو غارت کر دے گا اور لوگ امن و امان کے ساتھ اپنے اپنے وطن اور شہروں کو لوٹ جائیں گے۔ اب یاجوج ماجوج نکلیں گے، ہر طرف سے چڑھ دوڑیں گے، تمام شہرں کو روندیں گے، جس جس چیز پر گذر ہو گا اسے ہلاک کر دیں گے، جس پانی کے پاس سے گذریں گے پی جائیں گے، لوگ پھر لوٹ کر میرے پاس آئیں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا، اللہ ان سب کو ایک ساتھ فنا کر دے گا لیکن ان کے مردہ جسموں سے ہوا بگڑ جائے گی، بدبو پھیل جائے گی۔ پھر مینہ برسے گا اور اس قدر کہ ان کی تمام لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گا۔ بس اس وقت قیامت کی اس طرح آمد آمد ہو گی جس طرح پورے دن کی حاملہ عورت ہو کہ اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ صبح کو بچہ ہو جائے یا شام کو، رات کو پیدا ہو یا دن کو؟ } ۱؎ [مسند احمد:375/1:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے ابونضرہ فرماتے ہیں ہیں ہم سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے پاس جمعہ والے دن آئے کہ ہم اپنا لکھا ہوا قرآن ان کے قرآن سے ملائیں، جب جمعہ کا وقت آیا تو آپ نے ہم سے فرمایا ”غسل کر لو“ پھر خوشبو لے آئے جو ہم نے ملی، پھر ہم مسجد میں آئے اور ایک شخص کے پاس بیٹھ گئے جنہوں نے ہم سے دجال والی حدیث بیان کی پھر سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ آئے، ہم کھڑے ہو گئے، پھر سب بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہو جائیں گے، ایک دونوں سمندر کے ملنے کی جگہ پر، دوسرا حیرہ میں اور تیسرا شام میں، پھر تین گھبراہٹیں لوگوں کو ہوں گی، پھر دجال نکلے گا، یہ پہلے شہر کی طرف جائے گا، وہاں کے لوگ تین حصوں میں بٹ جائیں گے، ایک حصہ تو کہے گا ہم اس کے مقابلہ پر ٹھہرے رہیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟ دوسری جماعت گاؤں کے لوگوں میں مل جائے گی اور تیسری جماعت دوسرے شہر میں چلی جائے گی جو ان سے قریب ہو گا، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، جن کے سروں پر تاج ہوں گے، ان کی اکثریت یہودیوں کی اور عورتوں کی ہو گی۔ یہاں کے یہ مسلمان ایک گھاٹی میں سمٹ کر محصور ہو جائیں گے، ان کے جانور جو چرنے چگنے کو گئے ہوں گے، وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے، اس سے ان کے مصائب بہت بڑھ جائیں گے اور بھوک کے مارے برا حال ہو جائے گا، یہاں تک کہ اپنی کمانوں کی تانیں سینک سینک کر کھا لیں گے، جب سخت تنگی کا عالم ہو گا تو انہیں سمندر میں سے آواز آئے گی کہ لوگو تمہاری مدد آ گئی، اس آواز کو سن کر یہ لوگ خوش ہوں گے، کیونکہ آواز سے جان لیں گے کہ یہ کسی آسودہ شخص کی آواز ہے

{ عین صبح کی نماز کے وقت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کا امیر آپ سے کہے گا کہ اے روح اللہ علیہ السلام آگے بڑھئے اور نماز پڑھایئے لیکن آپ کہیں گے کہ اس امت کے بعض بعض کے امیر ہیں، چنانچہ انہی کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا، نماز سے فارغ ہو کر اپنا حربہ ہاتھ میں لے کر مسیح علیہ السلام دجال کا رخ کریں گے۔ دجال آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، آپ اس کے سینہ پر وار کریں گے جس سے وہ ہلاک ہو جائے گا اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے، لیکن انہیں کہیں امن نہیں ملے گا، یہاں تک کہ اگر وہ کسی درخت تلے چھپیں گے تو وہ درخت پکار کر کہے گا کہ اے مومن یہ ایک کافر میرے پاس چھپا ہوا ہے اور اسی طرح پتھر بھی۔ } ۱؎ [مسند احمد:216/3:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ کا کم و بیش حصہ دجال کا واقعہ بیان کرنے اور اس سے ڈرانے میں ہی صرف کیا، جس میں یہ بھی فرمایا کہ دنیا کی ابتداء سے لے کر انتہا تک کوئی فتنہ اس سے بڑا نہیں، تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو اس سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔ میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو، وہ یقیناً تمہیں میں آئے گا، اگر میری موجودگی میں آ گیا تو میں آپ اس سے نمٹ لوں گا اور اگر بعد میں آیا تو ہر شخص کو اپنے آپ کو اس سے بچانا پڑے گا۔ میں اللہ تعالیٰ کو ہر مسلمان کا خلیفہ بناتا ہوں۔ وہ شام و عراق کے درمیان نکلے گا، دائیں بائیں خوب گھومے گا، لوگو اے اللہ کے بندو! دیکھو دیکھو تم ثابت قدم رہنا، سنو میں تمہیں اس کی ایسی صفت بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی۔ وہ ابتداء میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، پھر وہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور کہے گا میں اللہ ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ اللہ کو ان آنکھوں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا، ہاں مرنے کے بعد دیدار باری تعالیٰ ہو سکتا ہے۔ اور سنو وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان“کافر“ لکھا ہو گا جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ غرض ہر ایماندار پڑھ لے گا۔ اس کے ساتھ آگ ہو گی اور باغ ہو گا اس کی آگ دراصل جنت ہو گی اور اس کا باغ دراصل جہنم ہو گا،}

{ سنو تم میں سے جسے وہ آگ میں ڈالے، وہ اللہ سے فریاد رسی چاہے اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے، اس کی وہ آگ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام پر نمرود کی آگ ہو گئی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک اعرابی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے مرے ہوئے باپ کو زندہ کر دوں تو تو مجھے رب مان لے گا وہ اقرار کرے گا، اتنے میں دو شیطان اس کی ماں اور باپ کی شکل میں ظاہر ہوں گے اور ان سے کہیں گے بیٹے یہی تیرا رب ہے تو اسے مان لے، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا اسے آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کروا دے گا، پھر لوگوں سے کہے گا میرے اس بندے کو دیکھنا اب میں اسے زندہ کر دوں گا۔ لیکن پھر بھی یہی کہے گا کہ اس کا رب میرے سوا اور ہے، چنانچہ یہ اسے اٹھا بیٹھائے گا اور یہ خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے۔ اللہ کی قسم اب تو مجھے پہلے سے بھی بہت زیادہ یقین ہو گیا۔ } دوسری سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“یہ مومن میری تمام امت سے زیادہ بلند درجہ کا جنتی ہو گا۔}

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس حدیث کو سن کر ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما ہی ہوں گے آپ کی شہادت تک ہمارا یہی خیال رہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4077،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا اور آسمان سے بارش ہو گی، وہ زمین کو پیداوار اگانے کا حکم دے گا اور زمین سے پیداوار نکلے گی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس جائے گا وہ اسے نہ مانیں گے، اسی وقت ان کی تمام چیزیں برباد اور ہلاک ہو جائیں گی، ایک اور قبیلے کے پاس جائے گا جو اسے خدا مان لے گا، اسی وقت اس کے حکم سے ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین پھل اور کھیتی اگائے گی، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہو جائیں گے۔ سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام کا گشت کرے گا، جب مدینہ کا رخ کرے گا تو یہاں ہر ہر راہ پر فرشتوں کو کھلی تلواریں لیے ہوئے پائے گا تو ضریب کی انتہائی حد پر ضریب احمر کے پاس ٹھہر جائے گا، پھر مدینے میں تین بھونچال آئیں گے، اس وجہ سے جتنے منافق مرد اور جس قدر منافقہ عورتیں ہوں گی۔ سب مدینہ سے نکل کر اس کے لشکر میں مل جائیں گے اور مدینہ ان گندے لوگوں کو اس طرح اپنے میں سے دور پھینک دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو لاگ کر دیتی ہے، اس دن کا نام یوم الخلاص ہو گا۔

سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا اولاً تو ہوں گے ہی بہت کم اور اکثریت ان کی بیت المقدس میں ہو گی، ان کا امام ایک صالح شخص ہو گا جو آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھا رہا ہوگا، جیسے ہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہونگے۔ امام پچھلے پیروں پیچھے ہٹے گا تاکہ آپ آگے بڑھ کر امامت کرائیں لیکن آپ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ، اقامت تمہارے لیے کی گی ہے پس ان کا امام ہی نماز پڑھائے گا، فارغ ہو کر آپ فرمائیں گے، دروازہ کھول دو، پس کھول دیا جائے گا۔ ادھر دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لیے ہوئے موجود ہو گا، جن کے سر پر تاج اور جن کی تلواروں پر سونا ہو گا، دجال آپ کو دیکھ کر اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اور ایک دم پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کر دے گا لیکن آپ فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تو میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھائے تو اسے ٹال نہیں سکتا۔ چنانچہ آپ اسے مشرقی باب لد کے پاس پکڑ لیں گے اور وہیں اسے قتل کریں گے، اب یہودی بد حواسی سے منتشر ہو کر بھاگیں گے لیکن انہیں کہیں سر چھپانے کو جگہ نہ ملے گی، ہر پتھر ہر درخت ہر دیوار اور ہر جانور بولتا ہو گا کہ اے مسلمان یہاں یہودی ہے، آ اسے مار ڈال، ہاں ببول کا درخت یہودیوں کا درخت ہے یہ نہیں بولے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا رہنا چالیس سال تک ہو گا، سال آدھے سال کے برابر اور سال مہینہ بھر جیسا اور مہینہ جمعہ جیسا اور باقی دن مثل شرارہ کے۔
157۔ 1 اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودی قتل کرنے میں کامیاب ہو سکے نہ سولی چڑھانے میں۔ جیسا کہ ان کا منصوبہ تھا۔ جیسا کہ) سورة آل عمران کی آیت نمبر 55 کے حاشیہ) مختصر تفصیل گزر چکی ہے۔ 157۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودیوں کی سازش کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے حواریوں کو جن کی تعداد 12 یا 17 تھی جمع کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص میری جگہ قتل ہونے کے لئے تیار ہے؟ تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی شکل و صورت میری جیسی بنادی جائے۔ ایک نوجوان اس کے لئے تیار ہوگیا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ ؑ کو وہاں سے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ بعد میں یہودی آئے اور انہوں نے اس نوجوان کو لے جا کر سولی چڑھا دیا۔ جسے حضرت عیسیٰ ؑ کا ہم شکل بنادیا گیا تھا۔ یہودی یہی سمجھتے رہے کہ ہم نے عیسیٰ ؑ کو سولی دی ہے درآنحالیکہ حضرت عیسیٰ ؑ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے وہ زندہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جاچکے تھے (ابن کثیر و فتح القدیر) 157۔ 3 عیسیٰ ؑ کے ہم شکل شخص کو قتل کرنے کے بعد ایک گروہ تو یہی کہتا رہا حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا گیا جب کہ دوسرا گروہ جسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مصلوب شخص عیسیٰ ؑ نہیں کوئی اور ہے، بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو آسمان پر جاتے ہوئے بھی دیکھا تھا بعض کہتے ہیں کہ اس اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو خود عیسائیوں کے ایک فرقے نے کہا کہ عیسیٰ ؑ جسم کے لحاظ تو سولی دے دیے گئے لیکن لاہوت (خداوندی) کے اعتبار سے نہیں۔ ملکانیہ فرقے نے کہا یہ قتل و صلب ناسوت اور لاہوت دونوں اعتبار سے مکمل طور پر ہوا ہے (فتح القدیر) بہرحال وہ اختلاف اور تردد اور شک کا شکار رہے۔
(آیت 157)➊ {وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ:} یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود خود مسیح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کر کے اپنے گمان میں انھیں قتل کرنے کا دعویٰ اور اس پر فخر کر رہے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مفسرین نے اس کے چند جواب دیے ہیں، پہلا یہ کہ وہ جو اپنے آپ کو ”رسول اﷲ “ سمجھتا تھا، ہم نے اسے قتل کر دیا۔ دوسرا یہ کہ وہ بطور طنز انھیں ”رسول اﷲ “ کہہ رہے تھے۔ تیسرا یہ کہ یہودیوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کو بطور فخر ذکر کرنے پر اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے اکرام اور شرف کے اظہار کے لیے اپنے پاس سے لفظ ”رسول اﷲ“ کا اضافہ کر دیا کہ ان ظالموں نے کتنی بڑی ہستی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔ چوتھا یہ کہ یہودیوں کو نہ مریم علیھا اسلام کے پاکباز ہونے میں کوئی شک تھا، نہ عیسیٰ علیہ السلام کے رسول ہونے میں، کیونکہ پیدائش کے دن ہی بطور معجزہ اﷲ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کی زبانی تمام یہودیوں کے سامنے مریم علیھا السلام کی پاکبازی اور مسیح علیہ السلام کی رسالت ثابت فرما دی تھی، مگر قوم یہود کو جب مسیح علیہ السلام نے ان کے کفر و شرک، ریا کاری اور سود خوری پر ٹوکا تو وہ ان کی جان کے درپے ہو گئے اور گناہوں نے ان کے دل اس طرح مسخ کر دیے تھے کہ جس عظیم خاتون کو وہ تیس سال تک پاکباز سمجھتے رہے اس پر زنا کی تہمت لگا دی اور جسے دل سے رسول مانتے رہے گناہوں سے ٹوکنے پر اسے قتل کرنے کے درپے ہو گئے، حتیٰ کہ اپنے خیال میں قتل میں کامیاب ہو گئے اور اس پر فخر بھی کرنے لگے۔ انسانی طبائع جب مسخ ہوتی ہیں تو ان کی شقاوت کہاں تک پہنچ جاتی ہے، یہ اس کی مثال ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی رسولوں کو قتل کر چکے تھے۔ ➋ {وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ:} قرآن پاک نے یہودیوں کے دعویٰ کی صاف نفی کی اور فرمایا کہ نہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ ان کے لیے کسی اور آدمی کو مسیح علیہ السلام کی شبیہ (ان جیسا) بنا دیا گیا۔ وہ اسے سولی دے کر سمجھتے رہے کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ آدمی کون تھا اور کیسے شبیہ بنایا گیا، قرآن مجید یا حدیث رسول میں اس کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، ہاں اگلی آیت میں آ رہا ہے کہ (عیسیٰ علیہ السلام کو نہ انھوں نے قتل کیا نہ سولی دیا بلکہ) اﷲ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنائے جانے کی کیفیت کی ایک روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ امام ابن کثیر اور ابن جریر نے بیان فرمائی ہے کہ جب یہودی مسیح علیہ السلام کو پکڑنے کے لیے گئے تو آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس بات پر راضی ہے کہ اسے میرا شبیہ بنا دیا جائے؟ ایک حواری اس پر راضی ہو گیا، چنانچہ مسیح علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا اور اس نوجوان کو مسیح علیہ السلام کی شکل و صورت میں تبدیل کر دیا گیا، یہودی آئے اور اس نوجوان کو سولی دے دی۔ ➌ {وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ:} عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل کو قتل کرنے کے بعد وہ لوگ خود تردد میں پڑ گئے کہ جسے ہم نے سولی دی ہے، کون ہے! بعض نے کہا، مسیح ہی قتل ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ مسیح تو نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ خود انھیں بھی یقین نہ ہو سکا کہ واقعی ہم نے انھی کو صلیب پر چڑھایا ہے، بس ایک گمان کی پیروی کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔ یقینی علم تو بہت دور ہے، خود وہ بھی اختلاف کا شکار ہیں اور شک میں مبتلا ہیں کہ کون قتل ہوا۔ یہ اختلاف یہود میں بھی تھا اور نصاریٰ کے فرقوں میں بھی ہے، جن میں سے بعض کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے ناسوت (انسانی جسم) کو سولی دی گئی اور لاہوت (ان کا وہ حصہ جو خدا تھا) اوپر اٹھا لیا گیا۔ بعض دونوں کی سولی کے قائل ہیں وغیرہ، قرآن مجید نے ان سب کو جھوٹا قرار دیا۔
بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھالیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر غالب، کمال حکمت والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
{ صبح ہی ایک شخص شہر کے ایک دروازے سے چلے گا، ابھی دوسرے دروازے تک نہیں پہنچا تو شام ہو جائے گی۔ } لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر ان چھوٹے دنوں میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے؟ { آپ نے فرمایا اندازہ کر لیا کرو جیسے ان لمبے دنوں میں اندازہ سے پڑھا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میری امت میں حاکم ہوں گے، عادل ہوں گے، امام ہوں گے، باانصاف ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ہٹا دیں گے صدقہ چھوڑ دیا جائے گا پس بکری اور اونٹ پر کوشش نہ کی جائے گی، حسد اور بغض بالکل جاتا رہے گا، ہر زہریلے جانور کا زہر ہٹا دیا جائے گا، بچے اپنی انگلی سانپ کے منہ میں ڈالیں گے لیکن وہ انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا۔ شیروں سے لڑکے کھیلیں گے نقصان کچھ نہ ہو گا، بھیڑئے بکریوں کے گلے میں اس طرح پھریں گے جیسے رکھوالا کتا ہو تمام زمین اسلام اور اصلاح سے اس طرح بھر جائے گی جیسے کوئی برتن پانی سے لبالب بھرا ہوا ہو، سب کا کلمہ ایک ہو جائے گا، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہو گی، لڑائی اور جنگ بالکل موقف ہو جائے گی، قریش اپنا ملک سلب کر لیں گے، زمین مثل سفید چاندی کے منور ہو جائے گی اور جیسی برکتیں زمانہ آدم علیہ السلام میں تھیں لوٹ آئیں گی، ایک جماعت کو ایک انگور کا خوشہ پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہو گا، ایک انار اتنا ہو گا کہ ایک جماعت کھائی اور سیر ہو جائے بیل اتنی اتنی قیمت پر ملے گا اور گھوڑا چند درہموں پر ملے گا۔ لوگوں نے پوچھا اس کی قیمت گر جانے کی کیا وجہ؟ فرمایا اس لیے کہ لڑائیوں میں اس کی سواری بالکل نہ لی جائے گی۔ دریافت کیا گیا بیل کی قیمت بڑھ جانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا اس لیے کہ تمام زمین پر کھیتیاں ہونی شروع ہو جائیں گی۔}

{ دجال کے آنے سے تین سال پیشتر سے سخت قحط سالی ہو گی، پہلے سال بارش کا تیسرا حصہ بحکم الٰہی روک لیا جائے گا اور زمین کی پیداوار کا بھی تیسرا حصہ کم ہو جائے گا، پھر دوسرے سال اللہ آسمان کو حکم دے گا کہ بارش کی دو تہائیاں روک لے اور یہی حکم زمین کو اپنی پیداوار کی دو تہائیاں کم کر دے، تیسرے سال آسمان بارش کا ایک قطرہ نہ برسے گا، نہ زمین سے کوئی روئیدگی پیدا ہو گی، تمام جانور اس قحط سے ہلاک ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے۔ } آپ سے پوچھا گیا کہ پھر اس وقت لوگ زندہ کیسے رہ جائیں گے، { آپ نے فرمایا ”ان کی غذا کے قائم مقام اس وقت ان کا «لا الہٰ الا اللہ» کہنا اور «اللہ اکبر» کہنا اور «سبحان اللہ» کہنا اور «الحمداللہ» کہنا ہو گا۔ } امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے استاد نے اپنے استاد سے سنا وہ فرماتے تھے یہ حدیث اس قابل ہے کہ بچوں کے استاد اسے بچوں کو بھی سکھا دیں بلکہ لکھوائیں تاکہ انہیں بھی یاد رہے۔ ۱؎ [المشکاۃ للالبانی:6044:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے ہے تو غریب لیکن اس کے بعض حصوں کی شواہد دوسری حدیثیں ہیں۔ اسی حدیث جیسی ایک حدیث سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اسے بھی ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے { ایک دن صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور اس طرح اسے واضح بیان فرمایا کیا کہ ہم سمجھے، کہیں مدینہ کے نخلستان میں وہ موجود نہ ہو پھر جب ہم لوٹ کر آپ کی طرف آئے تو ہمارے چہروں سے آپ نے جان لیا اور دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ }

ہم نے دل کی بات کہہ دی تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! دجال کے علاوہ مجھے تو تم سے اس سے بھی بڑا خوف ہے، اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو میں آپ اس سے سمجھ لوں گا اور اگر وہ میرے بعد آیا تو ہر مسلمان اس سے آپ بھگت لے گا، میں اپنا خلیفہ ہر مسلمان پر اللہ کو بناتا ہوں، وہ جوان ہو گا، آنکھ اس کی ابھری ہوئی ہو گی، بس یوں سمجھ لو کہ عبدالعزیٰ بن قطن جیسا ہو گا۔ تم میں جو اسے دیکھے اسے چاہیئے کہ سورۃ الکہف کی شروع کی آیتیں پڑھے وہ شام و عراق کے درمیانی گوشے سے نکلے گا اور دائیں بائیں گشت کرے گا، اے اللہ کے بندو! خوب ثابت قدم رہنا، ہم نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ رہے گا کتنی مدت؟ آپ نے فرمایا چالیس دن، ایک دن سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن جمعہ کے برابر اور باقی دن تمہارے معمولی دنوں جیسے، پھر ہم نے دریافت کیا کہ جو دن سال بھر کے برابر ہو گا، کیا اس میں ایک ہی دن کی نماز کافی ہوں گی؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اندازہ کر لو اور نماز ادا کر لو۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی رفتار کی سرعت کیسی ہو گی؟ فرمایا ایسی جیسے بادل ہواؤں سے بھاگتے ہیں۔ ایک قوم کو پانی طرف بلائے گا وہ مان لیں گے تو آسمان سے ان پر بارش برسے گی، زمین سے کھیتی اور پھل اگیں گے، ان کے جانور تروتازہ اور زیادہ دودھ والے ہو جائیں گے، ایک قوم کے پاس جائے گا جو اسے جھٹلائے گی اور اس کا انکار کر دے گی، یہ وہاں سے لوٹے گا تو ان کے ہاتھ میں کچھ نہ رہے گا وہ بنجر زمین پر کھڑے ہو کر حکم دے گا کہ اے زمین کے خزانو نکل آؤ تو وہ سب نکل آئیں گے اور شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے پھریں گے۔

{ یہ ایک نوجوان کو بلائے گا اور اسے قتل کرے گا اس کے ٹھیک دو ٹکڑے کر کے اتنی اتنی دور ڈال دے گا جو کسی تیر کی کمان سے نکلے ہوئے دوری ہو، پھر اسے آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر ہنستا ہوا اس کے پاس آ جائے گا۔ اب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا اور وہ دمشق کے سفید شرقی مینارے کے پاس دو چادریں اوڑھے دو فرشتوں کے پروں پر بازو رکھے ہوئے اتریں گے، جب سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو مثل موتیوں کے وہ قطرے لڑھکیں گے، جس کافر تک ان کا سانس پہنچ جائے وہ مر جائے گا اور آپ کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک نگاہ پہنچے، آپ دجال کا پیچھا کریں گے اور باب لد کے پاس اسے پا کر قتل کریں گے، پھر ان لوگوں کے پاس آئیں گے، جنہیں اللہ نے اس فتنے سے بچایا ہو گا، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور جنت کے درجوں کی انہیں خبر دیں گے، اب اللہ کی طرف سے عیسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی آئے گی کہ میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا تم میرے ان خاص بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۔}

{ پھر یاجوج، ماجوج نکلیں گے اور وہ ہر طرف سے کودتے پھاندتے آ جائیں گے، بحیرہ طبریہ پر ان کا پہلا گروہ آئے گا اور اس کا سارا پانی پی جائے گا، جب ان کے بعد ہی دوسرا گروہ آئے گا تو وہ اسے ایسا سوکھا ہوا پائے گا کہ وہ کہیں گے شاید یہاں کبھی پانی نہیں ہو گا؟ عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھی مومن وہاں اس قدر محصور رہیں گے کہ ایک بیل کا سر انہیں اس سے بھی اچھا لگے جیسے تمہیں آج ایک سو دینار محبوب ہیں، اب آپ اور مومن اللہ سے دعائیں اور التجائیں کریں گے، اللہ ان پر گردن کی گلٹی کی بیماری بھیج دے گا، جس میں سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم میں فنا ہو جائیں گے، پھر عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کے ساتھی زمین پر اتریں گے مگر زمین پر بالشت بھر بھی ایسی نہ پائیں گے جو ان کی لاشوں سے اور بدبو سے خالی ہو، پھر اللہ تعالیٰ سے دعائیں اور التجائیں کریں گے تو بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر ایک قسم کے پرند اللہ تعالیٰ بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ چاہے ڈال آئیں گے۔ پھر بارش ہو گی، جس سے تمام زمین دھل دھلا کر ہتھیلی جیسی صاف ہو جائے گی، پھر زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھل نکال اور اپنی برکتیں لوٹا، اس دن ایک انار ایک جماعت کو کافی ہو گا اور وہ سب اس کے چھلکے تلے آرام حاصل کر سکیں گے، ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے سے نہیں پیا جائے گا۔ پھر پروردگار عالم ایک لطیف اور پاکیزہ ہوا چلائے گا جو تمام ایماندار مردوں عورتوں کی بغل تلے سے نکل جائے گی اور ساتھ ہی ان کی روح بھی پرواز کر جائے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو آپس میں گدھوں کی طرح دھینگا مشتی میں مشغول ہو جائیں گے ان پر قیامت قائم ہو گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2937] ‏‏‏‏ مسند احمد میں بھی ایک ایسی ہی حدیث ہے اسے ہم سورۃ انبیاء کی آیت «حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [21-الأنبياء:96] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
158۔ 1 یہ نص صریح ہے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور متواتر صحیح احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ یہ حدیث کی تمام کتابوں کے علاوہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بھی وارد ہیں۔ ان احادیث میں آسمان پر اٹھائے جانے کے علاوہ قیامت کے قریب ان کے نزول کا اور دیگر بہت سی باتوں کا تذکرہ ہے۔ امام ابن کثیر یہ تمام روایات کا ذکر کر کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں پس یہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر ہیں۔ ان کے راویوں میں حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود، عثمان بن ابی العاص، ابو امامہ، نواس بن سمعان، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، مجمع بن جاریہ، ابی سریحہ اور حذیفہ بن اسیر ؓ ہیں۔ ان احادیث میں آپ کے نزول کی صفت اور جگہ کا بیان ہے، آپ ؑ دمشق میں منارہ شرقیہ کے پاس اس وقت اتریں گے جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی۔ آپ خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، جزیہ معاف کردیں گے، ان کے دور میں سب مسلمان ہوجائیں، دجال کا قتل بھی آپ کے ہاتھوں سے ہوگا اور یاجوج و ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپ کی موجودگی میں ہوگا، بالآخر آپ ہی کی بددعا سے ان کی ہلاکت واقع ہوگی۔ 2۔ 158 وہ زبردست اور غالب ہے، اس کے ارادہ اور مشیت کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور جو اس کی پناہ میں آجائے، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور وہ حکیم بھی ہے، وہ جو فیصلہ کرتا ہے، حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔
(آیت 158) {بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا:} یہ صاف و صریح دلیل ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ صحیح احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ یہ احادیث بخاری و مسلم سمیت حدیث کی اکثر کتابوں میں موجود ہیں۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی ابن مریم علیھما السلام: ۳۴۴۸۔ مسلم: ۱۵۵ ] ان احادیث میں آسمان پر اٹھائے جانے کے علاوہ قیامت کے قریب ان کے نزول اور دوسری بہت سی باتوں کا ذکر ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ یہ تمام روایات ذکر کر کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ احادیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر ہیں، ان کے راویوں میں ابوہریرہ، عبد اﷲ بن مسعود، عثمان بن ابی العاص، ابو امامہ، نواس بن سمعان، عبد اﷲ بن عمرو بن عاص، مجمع بن جاریہ، ابو سریحہ اور حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ ان احادیث میں آپ کے نزول کی کیفیت اور جگہ کا بیان ہے۔ آپ دمشق میں منارۂ شرقیہ کے پاس اس وقت اتریں گے جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہو گی۔ آپ خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، ان کے دور میں سب مسلمان ہو جائیں گے، دجال کا قتل بھی آپ کے ہاتھوں سے ہو گا اور یا جوج ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپ کی موجودگی میں ہو گا، بالآخر آپ ہی کی بد دعا سے ان کی ہلاکت واقع ہو گی۔ مسیح علیہ السلام کا اپنے جسم کے ساتھ اٹھایا جانا، وہاں ان کا زندہ موجود ہونا، دوبارہ دنیا میں آ کر کئی سال رہنا اور دجال کو قتل کرنے کے بعد اپنی طبعی موت مرنا امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے، جس کی بنیاد قرآنی تصریحات اور ان تفصیلات پر ہے جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [اِتَّفَقَ أَصْحَابُ الْأَخْبَارِ وَالتَّفْسِيْرِ عَلٰي أَنَّ عِيْسٰي رُفِعَ بِبَدَنِهٖ] [التلخیص الحبیر ] ” تمام اصحاب تفسیر اور ائمۂ حدیث اس پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے بدن سمیت آسمان پر زندہ اٹھائے گئے۔“ لہٰذا حیاتِ مسیح کے انکار سے قرآن وحدیث کا انکار لازم آتا ہے جو سراسر گمراہی ہے۔ {”عَزِيْزًا حَكِيْمًا“} کا لفظ بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا عام فوت ہونے والوں کی طرح نہیں تھا۔
وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا ﴿۱۵۹﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اُس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ ﻻچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں، جو اپنی موت (یا ان کی موت) سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور وہ قیامت کے دن ان کے خلاف گواہ ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اہل کتاب میں کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ یہ کیا بات ہے جو مجھے پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں قیامت یہاں یہاں تک آ جائے گی آپ نے سبحان اللہ یا لا الہٰ الا اللہ کہہ کر فرمایا میرا تو اب جی چاہتا ہے کہ تمہیں اب کوئی حدیث ہی نہ سناؤں، میں نے تو یہ کہا تھا کہ کچھ زمانے کے بعد تم بڑے بڑے امر دیکھو گے، بیت اللہ جلا دیا جائے گا اور یہ ہو گا وہ ہو گا وغیرہ۔ پھر فرمایا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال نکلے گا اور میری امت میں چالیس تک ٹھہرے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، آپ کی صورت مثل سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہے۔ آپ اسے تلاش کر کے قتل کریں گے پھر سات سال تک لوگ اسی طرح رہیں گے کہ وہ بھی کچھ عداوت ہو گی، پھر ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے چلے گی اور سب ایمان والوں کو فوت کر دے گی، جس کے دل میں ایک ذرے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا اگرچہ وہ کسی پہاڑ کے غار میں ہو وہ بھی فوت ہو جائے گا، پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور درندوں جیسے دماغوں والے ہوں گے، اچھائی برائی کی کی کوئی تمیز ان میں نہ ہو گی۔ شیطان ان کے پاس انسانی صورت میں آ کر انہیں بت پرستی کی طرف مائل کرے گا لیکن ان کی اس حالت میں بھی ان کی روزی کے دوازے ان پر کھلے ہوں گے اور زندگی بہ آرام گذر رہی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا، جس سے لوگ گرنے مرنے لگیں گے،}

{ ایک شخص جو اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے ان کا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا، سب سے پہلے صور کی آواز اس کے کان میں پڑے گی، جس سے یہ اور تمام اور لوگ بیہوش ہو جائیں گے۔ غرض سب کچھ فنا ہو چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ مینہ برسائے گا، جو مثل شبنم کے یا مثل سائے کے ہو گا، اس سے دوبارہ جسم پیدا ہوں گے۔ پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا، سب کے سب جی اٹھیں گے، پھر کہا جائے گا لوگو اپنے رب کی طرف چلو، انہیں ٹھہرا کر ان سے سوال کیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا جہنم کا حصہ نکالو، پوچھا جائے گا کتنوں سے کتنے؟ جواب ملے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا اور یہی دن ہے جس میں پنڈلی کھولی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2940] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے ابن مریم علیہ السلام باب لد کے پاس یا لد کی جانب مسیح دجال کو قتل کریں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:420/3:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ ترمذی میں باب لد ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2244،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اس کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ نے چند اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام بھی لیے ہیں کہ ان سے بھی اس باب کی حدیثیں مروی ہیں تو اس سے مراد وہ حدیثیں ہیں جن میں دجال کا مسیح علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہونا مذکور ہے۔ صرف دجال کے ذکر کی حدیثیں تو بےشمار ہیں، جنہیں جمع کرنا سخت دشوار ہے۔ مسند میں ہے کہ { عرفے سے آتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع کے پاس سے گذرے اس وقت وہاں قیامت کے ذکر افکار ہو رہے تھے تو آپ نے فرمایا جب تک دس باتیں نہ ہو لیں، قیامت قائم نہ ہو گی، آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا، دھوئیں کا آنا، دابتہ الارض کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا، دجال کا آنا، تین جگہ زمین کا دھنس جانا، شرق میں، غرب میں اور جزیرہ عرب میں اور عدن سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہنکا کر ایک جگہ کر دے گی۔ وہ شب باشی بھی انہی کے ساتھ کرے گی اور جب دوپہر کو وہ آرام کریں گے یہ آگ ان کے ساتھ ٹھہری رہے گی۔ } یہ حدیث مسلم اور سنن میں بھی ہے ۱؎ [صحیح مسلم:2901] ‏‏‏‏ اور سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یہی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ متواتر حدیثیں جو سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عثمان بن ابوالعاص، سیدنا ابوامامہ، سیدنا نواس بن سمعان، سیدنا عبداللہ بن عمرو، مجمع بن جاریہ، ابو شریحہ، حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہیںیہ صاف دلالت کرتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، ساتھ ہی ان میں یہ بھی بیان ہے کہ کس طرح اتریں گے اور کہاں اتریں گے اور کس وقت اتریں گے؟

یعنی صبح کی نماز کی اقامت کے وقت شام کے شہر دمشق کے شرقی مینارہ پر آپ اتریں گے۔ اس زمانہ میں یعنی سن سات سو اکتالیس میں جامع اموی کا مینارہ سفید پتھر سے بہت مضبوط بنایا گیا ہے، اس لیے کہ آگ کے شعلہ سے یہ جل گیا ہے آگ لگانے والے غالباً ملعون عیسائی تھے کیا عجب کہ یہی وہ مینارہ ہو جس پر مسیح بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے، صلیبوں کو توڑ دیں گے، جزیئے کو ہٹا دیں گے اور سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔ جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیثیں گذر چکیں، جن میں پیغمبر صادق و مصدق علیہ السلام نے یہ خبر دی ہے اور اسے ثابت بتایا ہے۔ یہ وہ وقت ہو گا جبکہ تمام شک شبے ہٹ جائیں گے، اور لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے ماتحت اسلام قبول کر لیں گے۔ جیسے اس آیت میں ہے اور جیسے فرمان ہے آیت «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ اور ایک قرأت میں «لعلم» ہے۔ یعنی جناب مسیح علیہ السلام قیامت کا ایک زبردست نشان ہے، یعنی قرب قیامت کا اس لیے کہ آپ دجال کے آچکنے کے بعد تشریف لائیں گے اور اسے قتل کریں گے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی جس کا علاج نہ مہیا کیا ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5678] ‏‏‏‏ آپ ہی کے وقت میں یاجوج ماجوج نکلیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ہلاک کرے گا۔ قرآن کریم ان کے نکلنے کی خبر بھی دیتا ہے،

فرمان ہے آیت «حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَـٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [21-الأنبياء:96] ‏‏‏‏ یعنی ان کا نکلنا بھی قرب قیامت کی دلیل ہے۔ اب عیسیٰ کی صفتیں ملاحظہ ہوں۔ پہلے کی دو احادیث میں بھی آپ کی صفت گذر چکی ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { لیلتہ المعراج میں میں نے موسیٰ سے ملاقات کی وہ درمیانہ قد صاف بالوں والے ہیں، جیسی شنوہ قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں اور عیسیٰ سے بھی ملاقات کی، وہ سرخ رنگ میانہ قد ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ابھی حمام سے نکلے ہیں، ابراہیم کو بھی میں نے دیکھا بس وہ بالکل مجھ جیسے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3437] ‏‏‏‏ بخاری کی اور روایت میں ہے { حضرت عیسیٰ سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں والے، چوڑے چکلے سینے والے تھے، موسیٰ گندمی رنگ کے جسم اور سیدھے بالوں والے تھے، جیسے زط کے لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:3438] ‏‏‏‏ اسی طرح آپ نے دجال کی شکل و صورت بھی بیان فرما دی ہے کہ { اس کی داہنی آنکھ کافی ہو گی، جیسے پھولا ہوا انگور۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3439] ‏‏‏‏ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے کعبہ کے پاس خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بہت گندمی رنگ والے آدمی جن کے سر کے پٹھے دونوں کندھوں تک تھے، صاف بالوں والے جن کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم  ہیں، میں نے ان کے پیچھے ہی ایک شخص کو دیکھا جس کی داہنی آنکھ کافی تھی، ابن قطن سے بہت ملتا جلتا تھا، سخت الجھے ہوئے بال تھے، وہ بھی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، میں نے کہا یہ کون یہ؟ کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:169] ‏‏‏‏

بخاری کی اور روایت میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کو سرخ رنگ نہیں بتایا بلکہ آپ نے گندمی رنگ بتایا ہے۔ } پھر اوپر والی پوری حدیث ہے۔ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا، جو جاہلیت میں مر چکا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3441] ‏‏‏‏ وہ حدیث بھی گذر چکی جس میں یہ بیان ہے کہ { جناب مسیح علیہ السلام اپنے نزول کے بعد چالیس سال یہاں رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4324] ‏‏‏‏ ہاں مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ یہاں سال ہا سال رہیں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940] ‏‏‏‏ تو ممکن ہے کہ چالیس سال کا فرمان اس مدت سمیت کا ہو جو آپ نے دنیا میں اپنے آسمانوں پر اٹھائے جانے پہلے گذاری ہے۔ جس وقت آپ اٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر تینتیس سال کی تھی اور سات سال اب آخر زمانے کے تو پورے چالیس سال ہو گئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (‏‏‏‏ابن عساکر) بعض کا قول ہے کہ جب آپ آسمانوں پر چڑھائے گئے اس وقت آپ کی عمر ڈیڑھ سال کی تھی، یہ بالکل فضول سا قول ہے، ہاں حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بعض سلف سے یہ بھی لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں آپ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3617،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر ارشاد ہے کہ یہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے یعنی اس بات کے کہ اللہ کی رسالت آپ نے انہیں پہنچا دی تھی اور خود آپ نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کیا تھا، جیسے سورۃ المائدہ کے آخر میں آیت «وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ» ‏‏‏‏ سے «أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدة:116-118] ‏‏‏‏ تک ہے یعنی آپ کی گواہی کا وہاں ذکر ہے اور اللہ کے سوال کا۔
159۔ 1 قبل موتہ میں ہ ضمیر کا مرجع بعض مفسرین کے نزدیک اہل کتاب (نصاریٰ) ہیں اور مطلب یہ کہ ہر عیسائی موت کے وقت حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لے آتا ہے۔ گو موت کے وقت ایمان نافع نہیں۔ لیکن سالف اور اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب ان کا دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا اور وہ دجال کو قتل کر کے اسلام کا بول بالا کریں گے تو اس وقت جتنے یہودی اور عیسائی ہونگے ان کو بھی قتل کر ڈالیں گے اور روئے زمین پر مسلمان کے سوا کوئی اور باقی نہ بچے گا اس طرح دنیا میں جتنے بھی اہل کتاب حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے ہیں وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے پہلے ان پر ایمان لا کر اس دنیا سے گزر چکے ہونگے۔ خواہ ان کا ایمان کسی بھی دھنگ کا ہو۔ صحیح احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ضرور ایک وقت آئے گا کہ تم میں ابن مریم حاکم و عادل بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے، جزیہ اٹھا دیں گے اور مال کی اتنی بہتات ہوجائے گی کہ کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ یعنی صدقہ خیرات لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حتی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابو ہریرۃ ؓ فرماتے اگر تم چاہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو " وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ " (صحیح بخاری۔ کتاب الانبیاء) یہ احادیث اتنی کثرت سے آئی ہیں کہ انہیں تواتر کا درجہ حاصل ہے اور انہی متواتر صحیح روایات کی بنیاد پر اہلسنت کے تمام مکاتب کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں اور قیامت کے قریب دنیا میں ان کا نزول ہوگا اور دجال کا اور تمام ادیان کا خاتمہ فرما کر اسلام کو غالب فرمائیں گے۔ یاجوج ماجوج کا خروج بھی حضرت عیسیٰ ؑ ہی کی موجودگی میں ہوگا اور حضرت عیسیٰ ؑ کی دعا کی برکت سے ہی اس فتنے کا بھی خاتمہ ہوگا جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔ 159۔ 2 یہ گواہی اپنی پہلی زندگی کے حالات سے متعلق ہوگی جیسا کہ سورة مائدہ کے آخر میں وضاحت ہے (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ) 5۔ المائدہ:117) ' میں جب تک ان میں موجود رہا، ان کے حالات سے باخبر رہا ـ '
(آیت 159) ➊ {وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ:} اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں درست ہیں، پہلا تو یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا ہر شخص اپنے مرنے سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور ان کے زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لے آئے گا، مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب موت سامنے آ جاتی ہے، جیسا کہ فرعون مرتے وقت ایمان لے آیا تھا، مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب عادل حاکم کی صورت میں اتریں گے اور دجال اور دوسرے تمام کفار سے جہاد کریں گے، تو ان کی موت سے پہلے پہلے تمام دنیا میں اسلام غالب ہو جائے گا۔ یہود و نصاریٰ یا تو مقابلے میں قتل ہو جائیں گے، یا اسلام لے آئیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب توڑ دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، چنانچہ جب عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے تو ان کی وفات سے پہلے ہر موجود یہودی اور نصرانی ان کی نبوت اور ان کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ اترنے پر ایمان لا چکا ہو گا۔ چنانچہ بخاری اور مسلم میں مذکور اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر کے فرماتے: ”اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو: «‏‏‏‏وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ» ‏‏‏‏ ”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لائے گا۔“ ➋ {وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۱۷)۔
فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَہُمۡ وَ بِصَدِّہِمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ﴿۱۶۰﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
غرض اِن یہودی بن جانے والوں کے اِسی ظالمانہ رویہ کی بنا پر، اور اس بنا پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو نفیس چیزیں ان کے لئے حلال کی گئی تھیں وه ہم نے ان پر حرام کردیں ان کے ﻇلم کے باعﺚ اور اللہ تعالیٰ کی راه سے اکثر لوگوں کو روکنے کے باعﺚ
احمد رضا خان بریلوی
تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام فرمادیں اور اس لئے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہودیوں کے ایسے ہی مظالم اور زیادتیوں کیوجہ سے ہم نے وہ بہت سی پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کر دیں، جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں۔ نیز ان کے (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے بکثرت روکنے کی وجہ سے۔
عبدالسلام بن محمد
تو جو لوگ یہودی بن گئے، ان کے بڑے ظلم ہی کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں، جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں اور ان کے اللہ کے راستے سے بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭

اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] ‏‏‏‏ ’ یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ‘ اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:146] ‏‏‏‏، ’ یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کر دیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لیے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے ‘ پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث جو ان کی پرانی عادت تھی رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کر دیں، ان کفار کے لیے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ لیکن ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورۃ آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو با ایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا ثعلبہ بن سعید، سیدنا زید بن سعید، سیدنا اسید بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جو اسلام قبول کر چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت «وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ» تمام ائمہ کے قرآن میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں آیت «والمقیمون الصلوۃ» ہے۔ صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت «وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ الخ، میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت «بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ» ۱؎ [2-البقرة:4] ‏‏‏‏ پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔
160۔ 1 یعنی ان کے ان جرائم و معاصی کی وجہ سے بطور سزا بہت سی حلال چیزیں ہم نے ان پر حرام کردی تھیں (جن کی تفصیل سورة الآنعام۔ 146 میں ہے)
(آیت 160)➊ {فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا: ”فَبِظُلْمٍ“ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور جار مجرور پہلے آنے کی وجہ سے تخصیص پیدا ہو گئی، اس لیے ترجمہ ”ان کے بڑے ظلم ہی کی وجہ سے“ کیا گیا ہے۔ ➋ یہود کی سرکشی اور شرارتیں ذکر کرنے کے بعد اب ان پر سختی کا ذکر ہے۔ (کبیر) ➌ {حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ ……:} پاکیزہ چیزوں کی یہ حرمت کچھ تو ان کی سرکشی کی بنا پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تھی، کیونکہ وہ گناہ پر بہت دلیر تھے، تاکہ ان کی سرکشی کچھ ٹوٹے، یہ شرعی حرمت تھی، جیسا کہ سورۂ انعام (۱۴۶) میں ہے اور کچھ چیزیں انھوں نے اپنے احبار و رہبان کو حلال و حرام کا اختیار دے کر ان کے حرام قرار دینے کی وجہ سے حرام کر لیں، گویا یہ اﷲ کی تقدیر میں ان کے بڑے ظلم شرک (احبار و رہبان کو رب بنانے) کی سزا کے طور پر حرام ہوئیں، جیسا کہ اب مسلمانوں میں سے بھی بعض نے اپنے اماموں کے کہنے پر کئی حلال چیزیں حرام اور کئی حرام چیزیں حلال قرار دے رکھی ہیں۔ ➍ شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ نے ایک اور نفیس مطلب بیان کیا ہے کہ یہاں {”طَيِّبٰتٍ“} سے مراد ان انعامات کا موقوف کر دینا ہے جو بادشاہی اور نبوت و نصرت کی شکل میں حاصل تھے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۶۱ ] ”اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی۔“(فتح الرحمان) حقیقت میں تینوں معنی مراد ہو سکتے ہیں۔
وَّ اَخۡذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدۡ نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اَکۡلِہِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں، اور جو لوگ اِن میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سود جس سے منع کئے گئے تھے اسے لینے کے باعﺚ اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعﺚ اور ان میں جو کفار ہیں ہم نے ان کے لئے المناک عذاب مہیا کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس لئے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے سود لینے کے سبب سے، حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کا ناحق مال کھانے کے باعث (یہ سب کچھ ہوا)۔ اور ان میں سے جو لوگ کافر ہیں، ہم نے ان کے لئے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے سود لینے کی وجہ سے، حالانکہ یقینا انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اور ان کے لوگوں کے اموال باطل طریقے کے ساتھ کھانے کی وجہ سے اور ہم نے ان میں سے کفر کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭

اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] ‏‏‏‏ ’ یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ‘ اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:146] ‏‏‏‏، ’ یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کر دیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لیے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے ‘ پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث جو ان کی پرانی عادت تھی رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کر دیں، ان کفار کے لیے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ لیکن ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورۃ آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو با ایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا ثعلبہ بن سعید، سیدنا زید بن سعید، سیدنا اسید بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جو اسلام قبول کر چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت «وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ» تمام ائمہ کے قرآن میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں آیت «والمقیمون الصلوۃ» ہے۔ صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت «وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ الخ، میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت «بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ» ۱؎ [2-البقرة:4] ‏‏‏‏ پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 161)➊ {وَ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ:} اس وقت جو تورات موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھیے کتاب خروج، باب ۲۲، فقرہ ۲۵ تا ۲۷)۔ ➋ {وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ:} یعنی رشوت، جوئے، دھوکے اور دوسرے ناجائز ذرائع سے لوگوں کے اموال کھانا۔ گناہوں کی دو قسمیں ہیں، مخلوق پر ظلم اور حق سے اعراض۔ اوپر کی آیت: «وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» (ان کے اﷲ کے راستے سے بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے) سے مخلوق پر ظلم کی طرف اشارہ ہے، باقی کا تعلق {”اعراض عن الحق“} سے ہے۔ (کبیر)
لٰکِنِ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ مِنۡہُمۡ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ وَ الۡمُقِیۡمِیۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ الۡمُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ اُولٰٓئِکَ سَنُؤۡتِیۡہِمۡ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۱۶۲﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اُس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی اِس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان ﻻتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور زکوٰة کے ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہاں جو اُن میں علم کے پکے اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اُترا اور جو تم سے پہلے اُترا اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰة دینے والے اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
البتہ ان میں سے جو علم میں پختہ ہیں اور جو ایمان دار ہیں، وہ سب اس پر ایمان لاتے ہیں، جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا اور وہ نماز کو قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم بہت بڑا اجر و ثواب عطا کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن ان میں سے وہ لوگ جو علم میں پختہ ہیں اور جو مومن ہیں، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا اور جو خاص کر نماز ادا کرنے والے ہیں اور جو زکوٰۃ دینے والے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں، یہ لوگ ہیں جنھیں ہم عنقریب بہت بڑا اجر عطا کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام ٭٭

اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کر لیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:93] ‏‏‏‏ ’ یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ‘ اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورۃ الانعام میں فرمایا آیت «وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:146] ‏‏‏‏، ’ یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کر دیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لیے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے ‘ پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث جو ان کی پرانی عادت تھی رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کر دیں، ان کفار کے لیے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ لیکن ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورۃ آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو با ایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد سیدنا عبداللہ بن سلام، سیدنا ثعلبہ بن سعید، سیدنا زید بن سعید، سیدنا اسید بن عبید رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں، جو اسلام قبول کر چکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت «وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ» تمام ائمہ کے قرآن میں اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر رحمہ اللہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صحیفہ میں آیت «والمقیمون الصلوۃ» ہے۔ صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت «وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» ۱؎ [2-البقرة:177] ‏‏‏‏ الخ، میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت «بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ» ۱؎ [2-البقرة:4] ‏‏‏‏ پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہو سکتے ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔
162۔ 1 ان سے مراد عبد اللہ بن سلام وغیرہ ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوگئے۔ 162۔ 2 ان سے مراد بھی وہ اہل ایمان ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے یا پھر مہاجرین و انصار مراد ہیں۔ یعنی شریعت کا پختہ علم رکھنے والے اور کمال ایمان سے متصف لوگ ان معاصی کے ارتکاب سے بچتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔ 162۔ 3 اس سے مراد زکوٰۃ اموال ہے یا زکوٰۃ نفوس یعنی اپنے اخلاق و کردار کی تطہر اور ان کا تزکیہ کرنا یا دونوں ہی مراد ہیں۔ 162۔ 4 یعنی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ نیز بعث بعد الموت اور عملوں پر جزا اور سزا پر یقین رکھتے ہیں۔
(آیت 162) ➊ {لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ ……:} علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو اﷲ کی طرف سے آنے والی وحی کے متلاشی ہوں اور اسی سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں، نہ لکیر کے فقیر ہوں نہ تقلید آباء کے اور {”الْمُؤْمِنُوْنَ“} سے مراد تورات پر صحیح ایمان رکھنے والے ہیں، یعنی یہ مومن اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔ یہ اہل کتاب کے مومنوں کو بشارت ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لے آئے، مثلاً عبد اﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ وغیرہ۔ ➋ {وَ الْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ:} اس سے پہلے اور بعد والی تمام صفات مرفوع ہیں اور یہ منصوب ہے، اسے ”منصوب علی المدح“ یا ”علی الاختصاص“ کہا جاتا ہے۔ گویا یہ {”اَخُصُّ“ } کا مفعول ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور جو خاص کر نماز ادا کرنے والے ہیں۔“
اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطِ وَ عِیۡسٰی وَ اَیُّوۡبَ وَ یُوۡنُسَ وَ ہٰرُوۡنَ وَ سُلَیۡمٰنَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا ﴿۱۶۳﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوحؑ اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی ہم نے ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ، عیسیٰؑ، ایوبؑ، یونسؑ، ہارونؑ اور سلیمانؑ کی طرف وحی بھیجی ہم نے داؤدؑ کو زبور دی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی، اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اوﻻد پر اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف۔ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اے محبوب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے دحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے۔ جس طرح (جناب) نوح اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اولادِ یعقوب، عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی تھی۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم نے تیری طرف وحی کی، جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد (دوسرے) نبیوں کی طرف وحی کی اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! ‏‏‏‏ ہم نہیں‏ مانتے کہ موسیٰ علیہ السلام بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔“ اس پر یہ آیتیں اتریں، محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:153-156] ‏‏‏‏ تک اتری . اور یہودیوں کے برے اعمال کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو انہوں نے صاف کر دیا کہ کسی انسان پر اللہ نے اپنا کوئی کلام نازل ہی نہیں فرمایا، نہ موسیٰ علیہ السلام پر، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر، نہ کسی اور نبی پر۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گوٹ لگائے بیٹھے تھے، اسے آپ نے کھول دیا اور فرمایا کسی پر بھی نہیں؟ } پس اللہ تعالیٰ نے آیت «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ» ۱؎ [6-الأنعام:91] ‏‏‏‏ الخ، نازل فرمائی . لیکن یہ قول غور طلب ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ الانعام میں ہے جو مکیہ ہے اور سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت مدنیہ ہے جو ان کی تردید میں ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ آسمان سے کوئی کتاب آپ اتار لائیں، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ «فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ» [4-النساء:153] ‏‏‏‏ موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا۔ پھر ان کے عیوب بیان فرمائے ان کی پہلی اور موجودہ سیاہ کاریاں واضح کر دیں پھر فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے جس طرح اور انبیاء کی طرف وحی کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی، ان انبیاء علیہم السلام کے قصے سورۃ قصص کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

پھر فرماتا ہے اس آیت یعنی مکی سورت کی آیت سے پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہو چکا ہے اور بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں بھی ہوا۔ جن انبیاء علیہم السلام کے نام قرآن کے الفاظ میں آ گئے ہیں وہ یہ ہیں،: آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، یوشع، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، اور بقول اکثر مفسرین ذوالکفل اور ایوب اور الیاس علیہم السلام اور ان سب کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے انبیاء اور مرسلین کی تعداد میں اختلاف ہے، اس بارے میں مشہور حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ہے جو تفسیر ابن مردویہ میں یوں ہے کہ آپ نے پوچھا: { یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار میں نے پوچھا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: تین سو تیرہ، بہت بڑی جماعت۔ میں نے پھر دریافت کیا: ”سب سے پہلے کون سے ہیں؟“ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا ”کیا وہ بھی رسول تھے؟“ فرمایا: ”ہاں اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر درست اور ٹھیک ٹھاک کیا“ پھر فرمایا: اے ابوذر! چار سریانی ہیں، آدم، شیت، نوح، خنوخ علیہم السلام جن کا مشہور نام ادریس ہے، انہی نے پہلے قلم سے خط لکھا، چار عربی ہیں، ہود، صالح، شعیب علیہم السلام اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، اے بوذر! بنو اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخری عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تمام نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:361:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ اس پوری حدیث کو جو بہت طویل ہے۔ حافظ ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الانواع و التقاسیم میں روایت کیا ہے جس پر صحت کا نشان دیا ہے، لیکن ان کے برخلاف امام ابوالفرج بن جوزی رحمہ اللہ اسے بالکل موضوع بتلاتے ہیں، اور ابراہیم بن ہشام اس کے ایک راوی پر وضاع ہونے کا وہم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے بہت سے لوگوں نے ان پر اس حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، لیکن یہ حدیث دوسری سند سے ابوامامہ سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں معان بن رفاعہ سلامی ضعیف ہیں اور علی بن یزید بھی ضعیف ہیں اور قاسم ابو بن عبدالرحمٰن بھی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:265/5:ضعیف جداً] ‏‏‏‏

ایک اور حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی بھیجے ہیں، چار ہزار بنو اسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی اور لوگوں کی طرف۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4132:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی ضعیف ہے اس میں رنبری اور ان کے استاد رقاشی دونوں ضعیف ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابو یعلیٰ کی اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آٹھ ہزار انبیاء میرے بھائی گذر چکے ہیں ان کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے بعد میں آیا ہوں۔} ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4092:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { میں آٹھ ہزار نبیوں کے بعد آیا ہوں جن میں سے چار ہزار نبی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیۃ:162/3:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے غریب تو ضرور ہے لیکن اس کے تمام راوی معروف ہیں اور سند میں کوئی کمی یا اختلاف نہیں بجز احمد بن طارق کے کہ ان کے بارے میں مجھے کوئی علالت یا جرح نہیں ملی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث جو انبیاء کی گنتی کے بارے میں ہے، اسے بھی سن لیجئے، { آپ فرماتے ہیں میں مسجد میں آیا اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرماتے، میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: آپ نے نماز کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ بہتر چیز ہے، چاہے کوئی زیادتی کرے چاہے کمی“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سے اعمال افضل ہیں؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کی راہ میں جہاد کرنا“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سا مسلمان اعلیٰ ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں“

{ میں نے پوچھا ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ فرمایا: ”برائیوں کو چھوڑ دینا“ میں نے پوچھا کون سی نماز افضل ہے؟ فرمایا: ”لمبے قنوت والی“ میں نے کہا کون سا روزہ افضل ہے؟ فرمایا: ”فرض کفایت کرنے والا ہے اور اللہ کے پاس بہت بڑھا چڑھا ثواب ہے“ میں نے پوچھا کون سا جہاد افضل ہے؟ ”فرمایا: جس کا گھوڑا بھی کاٹ دیا جائے اور خود اس کا بھی خون بہا دیا جائے۔“ میں نے کہا غلام کو آزاد کرنے کے عمل میں افضل کیا ہے؟ ”فرمایا: جس قدر گراں قیمت ہو اور مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ میں نے پوچھا صدقہ کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”کم مال والے کا کوشش کرنا اور چپکے سے محتاج کو دے دینا۔“ میں نے کہا قران میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”آیت الکرسی“ پھر آپ نے فرمایا ”اے ابوذر ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی حلقہ کسی چٹیل میدان کے مقابلے میں اور عرش کی فضیلت کرسی پر، بھی ایسی ہے جیسے وسیع میدان کی حلقے پر“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انبیاء علیہم السلام کتنے ہیں؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار“ میں نے کہا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: ”تین سو تیرہ کی بہت بڑی پاک جماعت“ میں نے پوچھا: سب سے پہلے کون ہیں؟ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا کیا وہ بھی نبی رسول تھے؟ فرمایا: ”ہاں انہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور انہیں صحیح تر بنایا۔“ }

{ پھر آپ نے فرمایا: سنو چار تو سریانی ہیں، آدم، شیث، خنوخ علیہم السلام اور یہی ادریس علیہ السلام ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا اور نوح اور چار عربی ہیں ہود، شعیب، صالح علیہم السلام اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے رسول آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں؟ فرمایا: ایک سو چار، شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، خنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے اور موسیٰ علیہ السلام پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے اور توراۃ انجیل زبور اور فرقان۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: اس کا کل یہ تھا اے بادشاہ مسلط کیا ہوا اور مغروز میں نے تجھے دنیا جمع کرنے اور ملا ملا کر رکھنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے کہ تو مظلوم کی پکار کو سامنے سے ہٹا دے اگر میرے پاس پہنچے تو میں اسے رد نہ کروں گا گو وہ مظلوم کافر ہی ہو اور ان میں مثالیں بھی تھیں یہ کہ عاقل کو لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کے کئی حصے کرے ایک وقت اپنے نفس کا حساب لے ایک وقت خدا کی صفت میں غور کرے ایک وقت اپنے کھانے پینے کی فکر کرے۔ اس کی مرکزی تعلیم جبر سے مسلط بادشاہ کو اس کے اقتدار کا مقصد سمجھانا تھا اور اسے مظلوم کی فریاد رسی کرنے کا احساس دلانا تھا۔ جس کی دعا کو اللہ تعالیٰ لازماً قبول فرماتے ہیں۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو!“ دنیا کا مال جمع کرنے سے روکنا تھا اور ان میں نصائح تھیں مثلاً یہ کہ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا نظام الاوقات بنائے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، دوسرے حصہ میں اپنے خالق کی صفات پہ غور و فکر کرے، بقیہ حصہ میں تدبیر معاش میں مشغول ہو۔ عقلمند کو تین چیزوں کے سوا کسی اور چیز میں دلچسپی نہ لینا چاہیئے، ایک تو آخرت کے زاد راہ کی فکر، دوسرے سامان زیست اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا یا فکر معاش یا غیر حرام چیزوں سے سرور و لذت، عقلمند کو اپنے وقت کو غنیمت سمجھ کر سرگرم عمل رہنا چاہیئے، اپنی زبان پر قابو اور قول و فعل میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیئے، وہ بہت کم گو ہو گا، بات وہی کہو جو تمہیں نفع دے، }

{ میں نے پوچھا: موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: وہ عبرت دلانے والی تحریروں کا مجموعہ تھے، مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر بھی غافل ہے، تقدیر کا یقین رکھتا ہے پھر بھی مال دولت کے لیے پاگل ہو رہا ہے، ہائے وائے میں پڑا ہوا ہے، دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر بھی اسی کو سب کچھ سمجھتا رہے، قیامت کے دن حساب کو جانتا ہے پھر بےعمل ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں جو تھا اس میں سے بھی کچھ ہماری کتاب میں ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں پڑھو آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:19-14] ‏‏‏‏ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، یہی تیرے اعمال کی روح ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ!کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ وہ تیرے لیے آسمانوں میں ذکر اور زمین میں نور کے حصول کا سبب ہو گا، میں نے پھر کہا: یا رسول اللہ! کچھ مزید فرمایئے، فرمایا خبردار زیادہ ہنسی سے باز رہو زیادہ ہنسی دل کو مردہ اور چہرہ کا نور دور کر دیتی ہے، میں نے کہا: اور زیادہ، فرمایا: جہاد میں مشغول رہو، میری امت کی رہبانیت یعنی درویشی یہی ہے، میں نے کہا: اور وصیت کیجئے فرمایا: بھلی بات کہنے کے سوا زبان بند رکھو، اس سے شیطان بھاگ جائے گا اور دینی کاموں میں بڑی تائید ہو گی۔}

{ میں نے کہا: کچھ اور بھی فرما دیجئیے فرمایا: اپنے سے نیچے درجے کے لوگوں کو دیکھا کر اور اپنے سے اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر نظریں نہ ڈالو، اس سے تمہارے دل میں اللہ کی نعمتوں کی عظمت پیدا ہو گی۔ میں نے کہا مجھے اور زیادہ نصیحت کیجئے فرمایا: مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کے ساتھ بیٹھو، اس سے اللہ کی رحمتیں تمہیں گراں قدر معلوم ہوں گی، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: ”قرابت داروں سے ملتے رہو، چاہے وہ تجھ سے نہ ملیں“ میں نے کہا: اور؟ فرمایا: سچ بات کہو چاہے وہ کسی کو کڑوی لگے۔ میں نے اور بھی نصیحت طلب کی، فرمایا: اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کر، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: اپنے عیبوں پر نظر رکھا کر، دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہو، پھر میرے سینے پر آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کے مانند کوئی عقلمندی نہیں اور حرام سے رک جانے سے بڑھ کر کوئی پرہیزگاری نہیں اور اچھے اخلاق سے بہتر کوئی حسب نسب نہیں۔} ۱؎ [صحیح ابن حبان:361،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں بھی یہ حدیث کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:178/5-179:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا خارجی بھی دجال کے قائل ہیں، لوگوں نے کہا نہیں فرمایا: { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ایک ہزار بلکہ زیادہ نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور ہر ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے لیکن مجھ سے اللہ نے اس کی وہ علامت بیان فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں فرمائی ”سنو وہ بھینگا ہو گا اور رب ایسا ہو نہیں سکتا اس کی داہنی آنکھ کافی بھینگی ہو گی، آنکھ کا ڈھیلا اتنا اٹھا ہوا جیسے چونے کی صاف دیوار پر کسی کا کھنکار پڑا ہو اور اس کی بائیں آنکھ ایک جگمگاتے ستارے جیسی ہے، وہ تمام زبانیں بولے گا، اس کے ساتھ جنت کی صورت ہوگی سرسبز و شاداب اور پانی والی اور دوزخ کی صورت ہوگی سیاہ دھواں دھار۔ } ۱؎ [مسند احمد:79/3:ضعیف] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے ایک لاکھ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں بلکہ زیادہ کا۔ پھر فرمایا ہے موسیٰ سے خود اللہ نے صاف طور پر کلام کیا۔ یہ ان کی خاص صفت ہے کہ وہ کلیم اللہ تھے، ایک شخص ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک شخص اس جملہ کو یوں پڑھتا ہے «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ’ یعنی موسیٰ نے اللہ سے بات کی ہے ‘ اس پر آپ بہت بگڑے اور فرمایا یہ کسی کافر نے پڑھا ہو گا۔ میں نے اعمش سے، اعمش نے یحییٰ سے، یحییٰ نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے کہ آیت «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:164] ‏‏‏‏ ۱؎ [طبرانی اوسط:8603:ضعیف] ‏‏‏‏ غرض اس شخص کی معنوی اور لفظی تحریف پر آپ بہت زیادہ ناراض ہوئے مگر عجب نہیں کہ یہ کوئی معتزلی ہو، اس لیے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا نہ کسی اور سے۔ کسی معتزلی نے ایک بزرگ کے سامنے اسی آیت کو اسی طرح پڑھا تو انہوں نے اسے ڈانٹ کر فرمایا پھر اس آیت میں یہ بد دیانتی کیسے کرو گے؟ جہاں فرمایا ہے آیت «وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ» ۱؎ [7-الأعراف:143] ‏‏‏‏ ’ یعنی موسیٰ ہمارے وعدے پر آیا اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا ‘ مطلب یہ ہے کہ یہاں تو یہ تاویل و تحریف نہیں چلے گی۔

ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا تو وہ اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کا کسی صاف پتھر پر چلنا بھی دیکھ لیتے تھے۔ } ۱؎ [مجمع الزوائد:373/8:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد صحیح نہیں اور جب موقوفاً بقول سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ثابت ہو جائے تو بہت ٹھیک ہے۔ مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے۔ کہ کلیم اللہ سے جب اللہ نے کلام کیا وہ صوف کی چادر اور صوف کی سردول اور غیر مذبوح گدھے کی کھال کی جوتیاں پہنے ہوئے تھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1734،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چالیس ہزار باتیں موسیٰ علیہ السلام کیں جو سب کی سب وصیتیں تھیں، نتیجہ یہ کہ لوگوں کی باتیں موسیٰ علیہ السلام سے سنی نہیں جاتی تھیں کیونکہ کانوں میں اسی پاک کلام الٰہی کی گونج رہتی تھی۔ ۱؎ [المعجم الاوسط:3949:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں۔ پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔ ایک اثر ابن مردویہ میں ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو کلام اللہ تعالیٰ نے طور والے دن موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا یہ تو میرے اندازے کے مطابق اس کی صفت جس دن پکارا تھا اس انداز کلام کی صفت سے الگ تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کا راز معلوم کرنا چاہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ابھی تو میں نے دس ہزار زبانوں کے برابر کی قوت سے کلام کیا ہے حالانکہ مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے بلکہ ان سب سے بھی بہت زیادہ۔

بنو اسرائیل نے آپ سے جب کلام زبانی کی صفت پوچھی آپ نے فرمایا ”میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا“ انہوں نے کہا کچھ تشبیہ تو بیان کرو، آپ نے فرمایا تم نے کڑاکے کی آواز سنی ہو گی، وہ اس کے مشابہ تھی لیکن ویسی نہ تھی . ۱؎ [بزار:2353:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے ایک راوی فضل رقاشی ضعیف ہیں اور بہت ہی ضعیف ہیں . سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تو یہ تمام زبانوں پہ محیط تھا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پوچھا“باری تعالیٰ یہ تیرا کلام ہے؟ فرمایا نہیں اور نہ تو میرے کلام کی استقامت کر سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اسے رب تیری مخلوق میں سے کسی کا کلام تیرے کلام سے مشابہ ہے؟ فرمایا نہیں سوائے سخت تر کڑاکے کے۔ یہ روایت بھی موقوف ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اگلی کتابوں سے روایت کیا کرتے تھے جن میں بنو اسرائیل کی حکایتیں ہر طرح صحیح اور غیر صحیح ہوتی ہیں۔ یہ رسول ہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی کے متلاشیوں کو جنتوں کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور اس کے فرمان کے خلاف کرنے والوں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب اور سزا سے ڈراتے ہیں۔

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتابیں نازل فرمائی ہیں اور اپنے رسول بھیجے ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے اوامر و نواہی کی تعلیم دلوائی یہ اس لیے کہ کسی کو کوئی حجت یا کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى» ۱؎ [20-طه:134] ‏‏‏‏ ’ یعنی اگر ہم انہیں اس سے پہلے ہی اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجے جو ہم ان کی باتیں مانتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ ‘ اسی جیسی یہ آیت بھی ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:47] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو حرام کیا ہے خواہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور ایسا بھی کوئی نہیں جسے بہ نسبت اللہ کے مدح زیادہ پسند ہو یہی وجہ ہے کہ اس نے خود اپنی مدح آپ کی ہے اور کوئی ایسا نہیں جسے اللہ سے زیادہ عذر پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4637] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2760] ‏‏‏‏
163۔ 1 حضرت ابن عباس ؓ ما سے مروی ہے کہ بعض لوگوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بغیر کسی انسان پر اللہ تعالیٰ نے کچھ نازل نہیں کیا اور یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی و رسالت سے بھی انکار کیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) جس میں مذکورہ قول رد کرتے ہوئے رسالت محمدیہ کا اثبات کیا گیا۔
(آیت 163) ➊ {اِنَّاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ ……:} یہ ان کے اس اعتراض اور مطالبے کا اصل جواب ہے کہ آپ تورات کی طرح آسمان سے اکٹھی کتاب نازل کروائیں، یعنی وحی اور دعوت الی الحق میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ دوسرے انبیاء سے مختلف نہیں ہے، نوح علیہ السلام سے لے کر جتنے انبیاء و رسل ہوئے ہیں سب کو الگ الگ معجزات ملے اور تورات کے علاوہ کسی کو بھی یک بارگی کتاب نہیں دی گئی، پھر جب یک بارگی کتاب ان پر نازل نہ کرنے سے ان کی نبوت پر حرف نہیں آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے لیے باعث اعتراض کیوں ہے؟ نوح علیہ السلام سے پہلے بھی بہت سے انبیاء ہوئے ہیں مگر اولو العزم اور صاحب شریعت نبی سب سے پہلے نوح علیہ السلام تھے اور نوح علیہ السلام ہی وہ نبی ہیں جن کی قوم پر عذاب نازل ہوا اور رد شرک کا وعظ بھی نوح علیہ السلام سے شروع ہوا، اس لیے سب سے پہلے ان کا نام ذکر کیا ہے۔ (قرطبی، کبیر) وحی کے اصل معنی تو ” کسی مخفی ذریعے سے کوئی بات سمجھا دینا“ کے ہیں اور {” اِيْحَاءٌ “} (افعال) بمعنی الہام بھی آ جاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ (۵۱)۔ ➋ {وَ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا}: یعنی تم زبور کو تو اﷲ تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرتے ہو، حالانکہ وہ بھی داؤد علیہ السلام پر تورات کی طرح تختیوں کی شکل میں نازل نہیں ہوئی تھی، پھر قرآن مجید کے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟ (کبیر) موجودہ زبور میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں، جن میں دعائیں نصیحتیں اور تمثیلیں مذکور ہیں، حلت و حرمت کے احکام مذکور نہیں ہیں۔
وَ رُسُلًا قَدۡ قَصَصۡنٰہُمۡ عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ وَ رُسُلًا لَّمۡ نَقۡصُصۡہُمۡ عَلَیۡکَ ؕ وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوۡسٰی تَکۡلِیۡمًا ﴿۱۶۴﴾ۚ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اُن رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اِس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا ہم نے موسیٰؑ سے اِس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر کلام کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور رسولوں کو جن کا ذکر آگے ہم تم سے فرماچکے اور ان رسولوں کو جن کا ذکر تم سے نہ فرمایا اور اللہ نے موسیٰ سے حقیقتاً کلام فرمایا
علامہ محمد حسین نجفی
کچھ پیغمبر وہ ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے پہلے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے آپ سے بیان نہیں کئے اور اللہ نے موسیٰ سے اس طرح کلام کیا جیساکہ کلام کرنے کا حق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بہت سے رسولوں کی طرف جنھیں ہم اس سے پہلے تجھ سے بیان کر چکے ہیں اور بہت سے ایسے رسولوں کی طرف جنھیں ہم نے تجھ سے بیان نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! ‏‏‏‏ ہم نہیں‏ مانتے کہ موسیٰ علیہ السلام بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔“ اس پر یہ آیتیں اتریں، محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:153-156] ‏‏‏‏ تک اتری . اور یہودیوں کے برے اعمال کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو انہوں نے صاف کر دیا کہ کسی انسان پر اللہ نے اپنا کوئی کلام نازل ہی نہیں فرمایا، نہ موسیٰ علیہ السلام پر، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر، نہ کسی اور نبی پر۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گوٹ لگائے بیٹھے تھے، اسے آپ نے کھول دیا اور فرمایا کسی پر بھی نہیں؟ } پس اللہ تعالیٰ نے آیت «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ» ۱؎ [6-الأنعام:91] ‏‏‏‏ الخ، نازل فرمائی . لیکن یہ قول غور طلب ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ الانعام میں ہے جو مکیہ ہے اور سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت مدنیہ ہے جو ان کی تردید میں ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ آسمان سے کوئی کتاب آپ اتار لائیں، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ «فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ» [4-النساء:153] ‏‏‏‏ موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا۔ پھر ان کے عیوب بیان فرمائے ان کی پہلی اور موجودہ سیاہ کاریاں واضح کر دیں پھر فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے جس طرح اور انبیاء کی طرف وحی کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی، ان انبیاء علیہم السلام کے قصے سورۃ قصص کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

پھر فرماتا ہے اس آیت یعنی مکی سورت کی آیت سے پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہو چکا ہے اور بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں بھی ہوا۔ جن انبیاء علیہم السلام کے نام قرآن کے الفاظ میں آ گئے ہیں وہ یہ ہیں،: آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، یوشع، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، اور بقول اکثر مفسرین ذوالکفل اور ایوب اور الیاس علیہم السلام اور ان سب کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے انبیاء اور مرسلین کی تعداد میں اختلاف ہے، اس بارے میں مشہور حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ہے جو تفسیر ابن مردویہ میں یوں ہے کہ آپ نے پوچھا: { یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار میں نے پوچھا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: تین سو تیرہ، بہت بڑی جماعت۔ میں نے پھر دریافت کیا: ”سب سے پہلے کون سے ہیں؟“ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا ”کیا وہ بھی رسول تھے؟“ فرمایا: ”ہاں اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر درست اور ٹھیک ٹھاک کیا“ پھر فرمایا: اے ابوذر! چار سریانی ہیں، آدم، شیت، نوح، خنوخ علیہم السلام جن کا مشہور نام ادریس ہے، انہی نے پہلے قلم سے خط لکھا، چار عربی ہیں، ہود، صالح، شعیب علیہم السلام اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، اے بوذر! بنو اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخری عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تمام نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:361:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ اس پوری حدیث کو جو بہت طویل ہے۔ حافظ ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الانواع و التقاسیم میں روایت کیا ہے جس پر صحت کا نشان دیا ہے، لیکن ان کے برخلاف امام ابوالفرج بن جوزی رحمہ اللہ اسے بالکل موضوع بتلاتے ہیں، اور ابراہیم بن ہشام اس کے ایک راوی پر وضاع ہونے کا وہم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے بہت سے لوگوں نے ان پر اس حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، لیکن یہ حدیث دوسری سند سے ابوامامہ سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں معان بن رفاعہ سلامی ضعیف ہیں اور علی بن یزید بھی ضعیف ہیں اور قاسم ابو بن عبدالرحمٰن بھی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:265/5:ضعیف جداً] ‏‏‏‏

ایک اور حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی بھیجے ہیں، چار ہزار بنو اسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی اور لوگوں کی طرف۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4132:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی ضعیف ہے اس میں رنبری اور ان کے استاد رقاشی دونوں ضعیف ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابو یعلیٰ کی اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آٹھ ہزار انبیاء میرے بھائی گذر چکے ہیں ان کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے بعد میں آیا ہوں۔} ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4092:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { میں آٹھ ہزار نبیوں کے بعد آیا ہوں جن میں سے چار ہزار نبی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیۃ:162/3:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے غریب تو ضرور ہے لیکن اس کے تمام راوی معروف ہیں اور سند میں کوئی کمی یا اختلاف نہیں بجز احمد بن طارق کے کہ ان کے بارے میں مجھے کوئی علالت یا جرح نہیں ملی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث جو انبیاء کی گنتی کے بارے میں ہے، اسے بھی سن لیجئے، { آپ فرماتے ہیں میں مسجد میں آیا اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرماتے، میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: آپ نے نماز کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ بہتر چیز ہے، چاہے کوئی زیادتی کرے چاہے کمی“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سے اعمال افضل ہیں؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کی راہ میں جہاد کرنا“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سا مسلمان اعلیٰ ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں“

{ میں نے پوچھا ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ فرمایا: ”برائیوں کو چھوڑ دینا“ میں نے پوچھا کون سی نماز افضل ہے؟ فرمایا: ”لمبے قنوت والی“ میں نے کہا کون سا روزہ افضل ہے؟ فرمایا: ”فرض کفایت کرنے والا ہے اور اللہ کے پاس بہت بڑھا چڑھا ثواب ہے“ میں نے پوچھا کون سا جہاد افضل ہے؟ ”فرمایا: جس کا گھوڑا بھی کاٹ دیا جائے اور خود اس کا بھی خون بہا دیا جائے۔“ میں نے کہا غلام کو آزاد کرنے کے عمل میں افضل کیا ہے؟ ”فرمایا: جس قدر گراں قیمت ہو اور مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ میں نے پوچھا صدقہ کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”کم مال والے کا کوشش کرنا اور چپکے سے محتاج کو دے دینا۔“ میں نے کہا قران میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”آیت الکرسی“ پھر آپ نے فرمایا ”اے ابوذر ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی حلقہ کسی چٹیل میدان کے مقابلے میں اور عرش کی فضیلت کرسی پر، بھی ایسی ہے جیسے وسیع میدان کی حلقے پر“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انبیاء علیہم السلام کتنے ہیں؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار“ میں نے کہا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: ”تین سو تیرہ کی بہت بڑی پاک جماعت“ میں نے پوچھا: سب سے پہلے کون ہیں؟ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا کیا وہ بھی نبی رسول تھے؟ فرمایا: ”ہاں انہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور انہیں صحیح تر بنایا۔“ }

{ پھر آپ نے فرمایا: سنو چار تو سریانی ہیں، آدم، شیث، خنوخ علیہم السلام اور یہی ادریس علیہ السلام ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا اور نوح اور چار عربی ہیں ہود، شعیب، صالح علیہم السلام اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے رسول آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں؟ فرمایا: ایک سو چار، شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، خنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے اور موسیٰ علیہ السلام پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے اور توراۃ انجیل زبور اور فرقان۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: اس کا کل یہ تھا اے بادشاہ مسلط کیا ہوا اور مغروز میں نے تجھے دنیا جمع کرنے اور ملا ملا کر رکھنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے کہ تو مظلوم کی پکار کو سامنے سے ہٹا دے اگر میرے پاس پہنچے تو میں اسے رد نہ کروں گا گو وہ مظلوم کافر ہی ہو اور ان میں مثالیں بھی تھیں یہ کہ عاقل کو لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کے کئی حصے کرے ایک وقت اپنے نفس کا حساب لے ایک وقت خدا کی صفت میں غور کرے ایک وقت اپنے کھانے پینے کی فکر کرے۔ اس کی مرکزی تعلیم جبر سے مسلط بادشاہ کو اس کے اقتدار کا مقصد سمجھانا تھا اور اسے مظلوم کی فریاد رسی کرنے کا احساس دلانا تھا۔ جس کی دعا کو اللہ تعالیٰ لازماً قبول فرماتے ہیں۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو!“ دنیا کا مال جمع کرنے سے روکنا تھا اور ان میں نصائح تھیں مثلاً یہ کہ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا نظام الاوقات بنائے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، دوسرے حصہ میں اپنے خالق کی صفات پہ غور و فکر کرے، بقیہ حصہ میں تدبیر معاش میں مشغول ہو۔ عقلمند کو تین چیزوں کے سوا کسی اور چیز میں دلچسپی نہ لینا چاہیئے، ایک تو آخرت کے زاد راہ کی فکر، دوسرے سامان زیست اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا یا فکر معاش یا غیر حرام چیزوں سے سرور و لذت، عقلمند کو اپنے وقت کو غنیمت سمجھ کر سرگرم عمل رہنا چاہیئے، اپنی زبان پر قابو اور قول و فعل میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیئے، وہ بہت کم گو ہو گا، بات وہی کہو جو تمہیں نفع دے، }

{ میں نے پوچھا: موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: وہ عبرت دلانے والی تحریروں کا مجموعہ تھے، مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر بھی غافل ہے، تقدیر کا یقین رکھتا ہے پھر بھی مال دولت کے لیے پاگل ہو رہا ہے، ہائے وائے میں پڑا ہوا ہے، دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر بھی اسی کو سب کچھ سمجھتا رہے، قیامت کے دن حساب کو جانتا ہے پھر بےعمل ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں جو تھا اس میں سے بھی کچھ ہماری کتاب میں ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں پڑھو آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:19-14] ‏‏‏‏ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، یہی تیرے اعمال کی روح ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ!کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ وہ تیرے لیے آسمانوں میں ذکر اور زمین میں نور کے حصول کا سبب ہو گا، میں نے پھر کہا: یا رسول اللہ! کچھ مزید فرمایئے، فرمایا خبردار زیادہ ہنسی سے باز رہو زیادہ ہنسی دل کو مردہ اور چہرہ کا نور دور کر دیتی ہے، میں نے کہا: اور زیادہ، فرمایا: جہاد میں مشغول رہو، میری امت کی رہبانیت یعنی درویشی یہی ہے، میں نے کہا: اور وصیت کیجئے فرمایا: بھلی بات کہنے کے سوا زبان بند رکھو، اس سے شیطان بھاگ جائے گا اور دینی کاموں میں بڑی تائید ہو گی۔}

{ میں نے کہا: کچھ اور بھی فرما دیجئیے فرمایا: اپنے سے نیچے درجے کے لوگوں کو دیکھا کر اور اپنے سے اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر نظریں نہ ڈالو، اس سے تمہارے دل میں اللہ کی نعمتوں کی عظمت پیدا ہو گی۔ میں نے کہا مجھے اور زیادہ نصیحت کیجئے فرمایا: مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کے ساتھ بیٹھو، اس سے اللہ کی رحمتیں تمہیں گراں قدر معلوم ہوں گی، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: ”قرابت داروں سے ملتے رہو، چاہے وہ تجھ سے نہ ملیں“ میں نے کہا: اور؟ فرمایا: سچ بات کہو چاہے وہ کسی کو کڑوی لگے۔ میں نے اور بھی نصیحت طلب کی، فرمایا: اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کر، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: اپنے عیبوں پر نظر رکھا کر، دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہو، پھر میرے سینے پر آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کے مانند کوئی عقلمندی نہیں اور حرام سے رک جانے سے بڑھ کر کوئی پرہیزگاری نہیں اور اچھے اخلاق سے بہتر کوئی حسب نسب نہیں۔} ۱؎ [صحیح ابن حبان:361،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں بھی یہ حدیث کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:178/5-179:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا خارجی بھی دجال کے قائل ہیں، لوگوں نے کہا نہیں فرمایا: { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ایک ہزار بلکہ زیادہ نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور ہر ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے لیکن مجھ سے اللہ نے اس کی وہ علامت بیان فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں فرمائی ”سنو وہ بھینگا ہو گا اور رب ایسا ہو نہیں سکتا اس کی داہنی آنکھ کافی بھینگی ہو گی، آنکھ کا ڈھیلا اتنا اٹھا ہوا جیسے چونے کی صاف دیوار پر کسی کا کھنکار پڑا ہو اور اس کی بائیں آنکھ ایک جگمگاتے ستارے جیسی ہے، وہ تمام زبانیں بولے گا، اس کے ساتھ جنت کی صورت ہوگی سرسبز و شاداب اور پانی والی اور دوزخ کی صورت ہوگی سیاہ دھواں دھار۔ } ۱؎ [مسند احمد:79/3:ضعیف] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے ایک لاکھ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں بلکہ زیادہ کا۔ پھر فرمایا ہے موسیٰ سے خود اللہ نے صاف طور پر کلام کیا۔ یہ ان کی خاص صفت ہے کہ وہ کلیم اللہ تھے، ایک شخص ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک شخص اس جملہ کو یوں پڑھتا ہے «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ’ یعنی موسیٰ نے اللہ سے بات کی ہے ‘ اس پر آپ بہت بگڑے اور فرمایا یہ کسی کافر نے پڑھا ہو گا۔ میں نے اعمش سے، اعمش نے یحییٰ سے، یحییٰ نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے کہ آیت «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:164] ‏‏‏‏ ۱؎ [طبرانی اوسط:8603:ضعیف] ‏‏‏‏ غرض اس شخص کی معنوی اور لفظی تحریف پر آپ بہت زیادہ ناراض ہوئے مگر عجب نہیں کہ یہ کوئی معتزلی ہو، اس لیے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا نہ کسی اور سے۔ کسی معتزلی نے ایک بزرگ کے سامنے اسی آیت کو اسی طرح پڑھا تو انہوں نے اسے ڈانٹ کر فرمایا پھر اس آیت میں یہ بد دیانتی کیسے کرو گے؟ جہاں فرمایا ہے آیت «وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ» ۱؎ [7-الأعراف:143] ‏‏‏‏ ’ یعنی موسیٰ ہمارے وعدے پر آیا اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا ‘ مطلب یہ ہے کہ یہاں تو یہ تاویل و تحریف نہیں چلے گی۔

ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا تو وہ اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کا کسی صاف پتھر پر چلنا بھی دیکھ لیتے تھے۔ } ۱؎ [مجمع الزوائد:373/8:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد صحیح نہیں اور جب موقوفاً بقول سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ثابت ہو جائے تو بہت ٹھیک ہے۔ مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے۔ کہ کلیم اللہ سے جب اللہ نے کلام کیا وہ صوف کی چادر اور صوف کی سردول اور غیر مذبوح گدھے کی کھال کی جوتیاں پہنے ہوئے تھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1734،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چالیس ہزار باتیں موسیٰ علیہ السلام کیں جو سب کی سب وصیتیں تھیں، نتیجہ یہ کہ لوگوں کی باتیں موسیٰ علیہ السلام سے سنی نہیں جاتی تھیں کیونکہ کانوں میں اسی پاک کلام الٰہی کی گونج رہتی تھی۔ ۱؎ [المعجم الاوسط:3949:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں۔ پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔ ایک اثر ابن مردویہ میں ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو کلام اللہ تعالیٰ نے طور والے دن موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا یہ تو میرے اندازے کے مطابق اس کی صفت جس دن پکارا تھا اس انداز کلام کی صفت سے الگ تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کا راز معلوم کرنا چاہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ابھی تو میں نے دس ہزار زبانوں کے برابر کی قوت سے کلام کیا ہے حالانکہ مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے بلکہ ان سب سے بھی بہت زیادہ۔

بنو اسرائیل نے آپ سے جب کلام زبانی کی صفت پوچھی آپ نے فرمایا ”میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا“ انہوں نے کہا کچھ تشبیہ تو بیان کرو، آپ نے فرمایا تم نے کڑاکے کی آواز سنی ہو گی، وہ اس کے مشابہ تھی لیکن ویسی نہ تھی . ۱؎ [بزار:2353:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے ایک راوی فضل رقاشی ضعیف ہیں اور بہت ہی ضعیف ہیں . سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تو یہ تمام زبانوں پہ محیط تھا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پوچھا“باری تعالیٰ یہ تیرا کلام ہے؟ فرمایا نہیں اور نہ تو میرے کلام کی استقامت کر سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اسے رب تیری مخلوق میں سے کسی کا کلام تیرے کلام سے مشابہ ہے؟ فرمایا نہیں سوائے سخت تر کڑاکے کے۔ یہ روایت بھی موقوف ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اگلی کتابوں سے روایت کیا کرتے تھے جن میں بنو اسرائیل کی حکایتیں ہر طرح صحیح اور غیر صحیح ہوتی ہیں۔ یہ رسول ہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی کے متلاشیوں کو جنتوں کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور اس کے فرمان کے خلاف کرنے والوں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب اور سزا سے ڈراتے ہیں۔

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتابیں نازل فرمائی ہیں اور اپنے رسول بھیجے ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے اوامر و نواہی کی تعلیم دلوائی یہ اس لیے کہ کسی کو کوئی حجت یا کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى» ۱؎ [20-طه:134] ‏‏‏‏ ’ یعنی اگر ہم انہیں اس سے پہلے ہی اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجے جو ہم ان کی باتیں مانتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ ‘ اسی جیسی یہ آیت بھی ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:47] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو حرام کیا ہے خواہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور ایسا بھی کوئی نہیں جسے بہ نسبت اللہ کے مدح زیادہ پسند ہو یہی وجہ ہے کہ اس نے خود اپنی مدح آپ کی ہے اور کوئی ایسا نہیں جسے اللہ سے زیادہ عذر پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4637] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2760] ‏‏‏‏
164۔ 1 جن نبیوں اور رسولوں کے اسمائے گرامی اور ان کے واقعات قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد 24 یا 25 ہے (1) آدم (2) ادریس (3) نوح (4) ہود (5) صالح (6) ابراہیم (7) لوط (8) اسماعیل (9) اسحاق (10) یعقوب (11) یوسف (12) ایوب (13) شعیب (14) موسیٰ (15) ہارون (16) یونس (17) داؤد (18) سلیمان (19) الیاس (20) الیسع (21) زکریا (22) یحییٰ (23) عیسیٰ (24) ذوالکفل۔ (اکثر مفسرین کے نزدیک (25) حضرت محمد صلوٰت اللہ وسلامہ وعلیہم اجمعین۔ 164۔ 2 جن انبیاء رسل کے نام اور واقعات قرآن میں بیان نہیں کئے گئے، ان کی تعداد کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں جو بہت مشہور ہے ایک لاکھ 24 ہزار اور ایک حدیث میں 8 ہزار تعداد بتلائی گئی ہے۔ قرآن و حدیث سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار و حالات میں مبشرین ومنذرین انبیاء آتے رہے ہیں۔ بالآخر یہ سلسلہ نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم فرما دیا گیا آپ سے پہلے کتنے نبی آئے؟ ان کی صحیح تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جتنے بھی دعویداران نبوت ہو کر گزرے یا ہوں گے، سب کے سب دجال اور کذاب ہیں اور ان کی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور امت محمدیہ سے الگ ایک متوازی امت ہیں۔ جیسے امت بابیہ، بہائیہ اور امت مرزائیہ وغیرہ اسی طرح مرزا قادیانی کو مسیح موعود ماننے والے لاہوری مرزائی بھی۔ 164۔ 3 یہ موسیٰ ؑ کی خاص صفت ہے جس میں وہ دوسرے انبیاء سے ممتاز ہیں۔ صحیح ابن حبان کی ایک روایت کی روح سے امام ابن کثیر نے اس صفت ہم کلامی میں حضرت آدم ؑ و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک مانا ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ) 3:253۔
(آیت 164) ➊ {وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ:} جن رسولوں کے اسمائے گرامی اور واقعات قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد چوبیس (۲۴) یا پچیس (۲۵) ہے۔ آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، الیاس، یسع، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، ذوالکفل (اکثر مفسرین کے نزدیک) اور محمد صلوات اﷲ و سلامہ علیہم اجمعین۔ ➋ {وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ:} جن انبیاء و رسل کے نام قرآن میں ذکر نہیں ہوئے ان کی تعداد کتنی ہے، اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے، جو بہت مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک حدیث میں آٹھ ہزار بتائی گئی ہے، مگر ان احادیث میں کلام ہے۔ ➌ {وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا:} یعنی موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا، جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۳) پھر اگر موسیٰ علیہ السلام کے اس شرف سے دوسرے انبیاء پر طعن نہیں آ سکتا تو تورات کا یک بارگی نزول دوسرے انبیاء کے لیے موجب طعن کیسے ہو سکتا ہے۔ (رازی) ➍ اس آیت سے اﷲ تعالیٰ کا کلام کرنا بھی ثابت ہوا، جو لوگ یونانی فلسفے سے متاثر ہو کر اﷲ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان آیات و احادیث کا کیا جواب دیں گے جن میں صاف لفظوں میں اﷲ تعالیٰ کے کلام کا ذکر ہے۔ اﷲ کے ان بندوں نے اﷲ تعالیٰ کو انسان سے بھی عاجز یعنی گونگا بنا دیا اور اپنے خیال میں اسے اﷲ تعالیٰ کی خوبی سمجھ رہے ہیں۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ ایسے ہی لوگوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ قرآن یا حدیث میں کہیں دکھاؤ کہ قرآن اﷲ کا کلام نہیں بلکہ مخلوق ہے مگر نہ اس وقت ان کے مخالف یہ دکھا سکے نہ اب کوئی دکھا سکتا ہے۔
رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے۔ اللہ تعالی بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
رسول خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے کہ رسولوں کے بعد اللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ہم نے) رسولوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ رسولوں کے آجانے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہ جائے اور اللہ زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ایسے رسول جو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے، تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہ جائے اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! ‏‏‏‏ ہم نہیں‏ مانتے کہ موسیٰ علیہ السلام بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔“ اس پر یہ آیتیں اتریں، محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّـهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:153-156] ‏‏‏‏ تک اتری . اور یہودیوں کے برے اعمال کا آئینہ ان کے سامنے رکھ دیا گیا تو انہوں نے صاف کر دیا کہ کسی انسان پر اللہ نے اپنا کوئی کلام نازل ہی نہیں فرمایا، نہ موسیٰ علیہ السلام پر، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر، نہ کسی اور نبی پر۔ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گوٹ لگائے بیٹھے تھے، اسے آپ نے کھول دیا اور فرمایا کسی پر بھی نہیں؟ } پس اللہ تعالیٰ نے آیت «وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ» ۱؎ [6-الأنعام:91] ‏‏‏‏ الخ، نازل فرمائی . لیکن یہ قول غور طلب ہے اس لیے کہ یہ آیت سورۃ الانعام میں ہے جو مکیہ ہے اور سورۃ نساء کی مندرجہ بالا آیت مدنیہ ہے جو ان کی تردید میں ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ آسمان سے کوئی کتاب آپ اتار لائیں، جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ «فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ» [4-النساء:153] ‏‏‏‏ موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا۔ پھر ان کے عیوب بیان فرمائے ان کی پہلی اور موجودہ سیاہ کاریاں واضح کر دیں پھر فرمایا کہ اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے جس طرح اور انبیاء کی طرف وحی کی۔ زبور اس کتاب کا نام ہے جو داؤد علیہ السلام پر اتری تھی، ان انبیاء علیہم السلام کے قصے سورۃ قصص کی تفسیر میں بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔

پھر فرماتا ہے اس آیت یعنی مکی سورت کی آیت سے پہلے بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہو چکا ہے اور بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر نہیں بھی ہوا۔ جن انبیاء علیہم السلام کے نام قرآن کے الفاظ میں آ گئے ہیں وہ یہ ہیں،: آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، شعیب، موسیٰ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، یوشع، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، اور بقول اکثر مفسرین ذوالکفل اور ایوب اور الیاس علیہم السلام اور ان سب کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے انبیاء اور مرسلین کی تعداد میں اختلاف ہے، اس بارے میں مشہور حدیث سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ہے جو تفسیر ابن مردویہ میں یوں ہے کہ آپ نے پوچھا: { یا رسول اللہ! انبیاء کتنے ہیں؟ فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار میں نے پوچھا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: تین سو تیرہ، بہت بڑی جماعت۔ میں نے پھر دریافت کیا: ”سب سے پہلے کون سے ہیں؟“ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا ”کیا وہ بھی رسول تھے؟“ فرمایا: ”ہاں اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر درست اور ٹھیک ٹھاک کیا“ پھر فرمایا: اے ابوذر! چار سریانی ہیں، آدم، شیت، نوح، خنوخ علیہم السلام جن کا مشہور نام ادریس ہے، انہی نے پہلے قلم سے خط لکھا، چار عربی ہیں، ہود، صالح، شعیب علیہم السلام اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، اے بوذر! بنو اسرائیل کے پہلے نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور آخری عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ تمام نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ } ۱؎ [صحیح ابن حبان:361:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ اس پوری حدیث کو جو بہت طویل ہے۔ حافظ ابوحاتم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الانواع و التقاسیم میں روایت کیا ہے جس پر صحت کا نشان دیا ہے، لیکن ان کے برخلاف امام ابوالفرج بن جوزی رحمہ اللہ اسے بالکل موضوع بتلاتے ہیں، اور ابراہیم بن ہشام اس کے ایک راوی پر وضاع ہونے کا وہم کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے بہت سے لوگوں نے ان پر اس حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، لیکن یہ حدیث دوسری سند سے ابوامامہ سے بھی مروی ہے، لیکن اس میں معان بن رفاعہ سلامی ضعیف ہیں اور علی بن یزید بھی ضعیف ہیں اور قاسم ابو بن عبدالرحمٰن بھی ضعیف ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:265/5:ضعیف جداً] ‏‏‏‏

ایک اور حدیث ابویعلیٰ میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار نبی بھیجے ہیں، چار ہزار بنو اسرائیل کی طرف اور چار ہزار باقی اور لوگوں کی طرف۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4132:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی ضعیف ہے اس میں رنبری اور ان کے استاد رقاشی دونوں ضعیف ہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابو یعلیٰ کی اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آٹھ ہزار انبیاء میرے بھائی گذر چکے ہیں ان کے بعد عیسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے بعد میں آیا ہوں۔} ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:4092:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے { میں آٹھ ہزار نبیوں کے بعد آیا ہوں جن میں سے چار ہزار نبی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ } ۱؎ [ابونعیم فی الحلیۃ:162/3:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے غریب تو ضرور ہے لیکن اس کے تمام راوی معروف ہیں اور سند میں کوئی کمی یا اختلاف نہیں بجز احمد بن طارق کے کہ ان کے بارے میں مجھے کوئی علالت یا جرح نہیں ملی، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ والی طویل حدیث جو انبیاء کی گنتی کے بارے میں ہے، اسے بھی سن لیجئے، { آپ فرماتے ہیں میں مسجد میں آیا اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تشریف فرماتے، میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: آپ نے نماز کا حکم دیا ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ بہتر چیز ہے، چاہے کوئی زیادتی کرے چاہے کمی“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سے اعمال افضل ہیں؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اس کی راہ میں جہاد کرنا“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ! کون سا مسلمان اعلیٰ ہے؟ فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں“

{ میں نے پوچھا ”کون سی ہجرت افضل ہے؟“ فرمایا: ”برائیوں کو چھوڑ دینا“ میں نے پوچھا کون سی نماز افضل ہے؟ فرمایا: ”لمبے قنوت والی“ میں نے کہا کون سا روزہ افضل ہے؟ فرمایا: ”فرض کفایت کرنے والا ہے اور اللہ کے پاس بہت بڑھا چڑھا ثواب ہے“ میں نے پوچھا کون سا جہاد افضل ہے؟ ”فرمایا: جس کا گھوڑا بھی کاٹ دیا جائے اور خود اس کا بھی خون بہا دیا جائے۔“ میں نے کہا غلام کو آزاد کرنے کے عمل میں افضل کیا ہے؟ ”فرمایا: جس قدر گراں قیمت ہو اور مالک کو زیادہ پسند ہو۔“ میں نے پوچھا صدقہ کون سا افضل ہے؟ فرمایا: ”کم مال والے کا کوشش کرنا اور چپکے سے محتاج کو دے دینا۔“ میں نے کہا قران میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ فرمایا: ”آیت الکرسی“ پھر آپ نے فرمایا ”اے ابوذر ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے کوئی حلقہ کسی چٹیل میدان کے مقابلے میں اور عرش کی فضیلت کرسی پر، بھی ایسی ہے جیسے وسیع میدان کی حلقے پر“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! انبیاء علیہم السلام کتنے ہیں؟ فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار“ میں نے کہا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ فرمایا: ”تین سو تیرہ کی بہت بڑی پاک جماعت“ میں نے پوچھا: سب سے پہلے کون ہیں؟ فرمایا: ”آدم“ علیہ السلام میں نے کہا کیا وہ بھی نبی رسول تھے؟ فرمایا: ”ہاں انہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی روح ان میں پھونکی اور انہیں صحیح تر بنایا۔“ }

{ پھر آپ نے فرمایا: سنو چار تو سریانی ہیں، آدم، شیث، خنوخ علیہم السلام اور یہی ادریس علیہ السلام ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھا اور نوح اور چار عربی ہیں ہود، شعیب، صالح علیہم السلام اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے رسول آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری رسول محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتابیں کس قدر نازل فرمائی ہیں؟ فرمایا: ایک سو چار، شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے، خنوخ علیہ السلام پر تیس صحیفے، ابراہیم علیہ السلام پر دس صحیفے اور موسیٰ علیہ السلام پر توراۃ سے پہلے دس صحیفے اور توراۃ انجیل زبور اور فرقان۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: اس کا کل یہ تھا اے بادشاہ مسلط کیا ہوا اور مغروز میں نے تجھے دنیا جمع کرنے اور ملا ملا کر رکھنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے کہ تو مظلوم کی پکار کو سامنے سے ہٹا دے اگر میرے پاس پہنچے تو میں اسے رد نہ کروں گا گو وہ مظلوم کافر ہی ہو اور ان میں مثالیں بھی تھیں یہ کہ عاقل کو لازم ہے کہ وہ اپنے اوقات کے کئی حصے کرے ایک وقت اپنے نفس کا حساب لے ایک وقت خدا کی صفت میں غور کرے ایک وقت اپنے کھانے پینے کی فکر کرے۔ اس کی مرکزی تعلیم جبر سے مسلط بادشاہ کو اس کے اقتدار کا مقصد سمجھانا تھا اور اسے مظلوم کی فریاد رسی کرنے کا احساس دلانا تھا۔ جس کی دعا کو اللہ تعالیٰ لازماً قبول فرماتے ہیں۔ چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو!“ دنیا کا مال جمع کرنے سے روکنا تھا اور ان میں نصائح تھیں مثلاً یہ کہ عقلمند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا نظام الاوقات بنائے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، دوسرے حصہ میں اپنے خالق کی صفات پہ غور و فکر کرے، بقیہ حصہ میں تدبیر معاش میں مشغول ہو۔ عقلمند کو تین چیزوں کے سوا کسی اور چیز میں دلچسپی نہ لینا چاہیئے، ایک تو آخرت کے زاد راہ کی فکر، دوسرے سامان زیست اور تیسرے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا یا فکر معاش یا غیر حرام چیزوں سے سرور و لذت، عقلمند کو اپنے وقت کو غنیمت سمجھ کر سرگرم عمل رہنا چاہیئے، اپنی زبان پر قابو اور قول و فعل میں یکسانیت برقرار رکھنا چاہیئے، وہ بہت کم گو ہو گا، بات وہی کہو جو تمہیں نفع دے، }

{ میں نے پوچھا: موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تھا؟ فرمایا: وہ عبرت دلانے والی تحریروں کا مجموعہ تھے، مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتا ہے پھر بھی غافل ہے، تقدیر کا یقین رکھتا ہے پھر بھی مال دولت کے لیے پاگل ہو رہا ہے، ہائے وائے میں پڑا ہوا ہے، دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر بھی اسی کو سب کچھ سمجھتا رہے، قیامت کے دن حساب کو جانتا ہے پھر بےعمل ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگلے انبیاء علیہم السلام کی کتابوں میں جو تھا اس میں سے بھی کچھ ہماری کتاب میں ہمارے ہاتھوں میں ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں پڑھو آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ» ۱؎ [87-الأعلى:19-14] ‏‏‏‏ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں، یہی تیرے اعمال کی روح ہے، میں نے کہا: یا رسول اللہ!کچھ اور بھی، آپ نے فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ وہ تیرے لیے آسمانوں میں ذکر اور زمین میں نور کے حصول کا سبب ہو گا، میں نے پھر کہا: یا رسول اللہ! کچھ مزید فرمایئے، فرمایا خبردار زیادہ ہنسی سے باز رہو زیادہ ہنسی دل کو مردہ اور چہرہ کا نور دور کر دیتی ہے، میں نے کہا: اور زیادہ، فرمایا: جہاد میں مشغول رہو، میری امت کی رہبانیت یعنی درویشی یہی ہے، میں نے کہا: اور وصیت کیجئے فرمایا: بھلی بات کہنے کے سوا زبان بند رکھو، اس سے شیطان بھاگ جائے گا اور دینی کاموں میں بڑی تائید ہو گی۔}

{ میں نے کہا: کچھ اور بھی فرما دیجئیے فرمایا: اپنے سے نیچے درجے کے لوگوں کو دیکھا کر اور اپنے سے اعلیٰ درجہ کے لوگوں پر نظریں نہ ڈالو، اس سے تمہارے دل میں اللہ کی نعمتوں کی عظمت پیدا ہو گی۔ میں نے کہا مجھے اور زیادہ نصیحت کیجئے فرمایا: مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کے ساتھ بیٹھو، اس سے اللہ کی رحمتیں تمہیں گراں قدر معلوم ہوں گی، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: ”قرابت داروں سے ملتے رہو، چاہے وہ تجھ سے نہ ملیں“ میں نے کہا: اور؟ فرمایا: سچ بات کہو چاہے وہ کسی کو کڑوی لگے۔ میں نے اور بھی نصیحت طلب کی، فرمایا: اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ کر، میں نے کہا: اور فرمایئے، فرمایا: اپنے عیبوں پر نظر رکھا کر، دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہو، پھر میرے سینے پر آپ نے اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا: اے ابوذر! تدبیر کے مانند کوئی عقلمندی نہیں اور حرام سے رک جانے سے بڑھ کر کوئی پرہیزگاری نہیں اور اچھے اخلاق سے بہتر کوئی حسب نسب نہیں۔} ۱؎ [صحیح ابن حبان:361،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں بھی یہ حدیث کچھ اسی مفہوم کی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:178/5-179:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا خارجی بھی دجال کے قائل ہیں، لوگوں نے کہا نہیں فرمایا: { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میں ایک ہزار بلکہ زیادہ نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں اور ہر ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے لیکن مجھ سے اللہ نے اس کی وہ علامت بیان فرمائی ہے جو کسی اور کو نہیں فرمائی ”سنو وہ بھینگا ہو گا اور رب ایسا ہو نہیں سکتا اس کی داہنی آنکھ کافی بھینگی ہو گی، آنکھ کا ڈھیلا اتنا اٹھا ہوا جیسے چونے کی صاف دیوار پر کسی کا کھنکار پڑا ہو اور اس کی بائیں آنکھ ایک جگمگاتے ستارے جیسی ہے، وہ تمام زبانیں بولے گا، اس کے ساتھ جنت کی صورت ہوگی سرسبز و شاداب اور پانی والی اور دوزخ کی صورت ہوگی سیاہ دھواں دھار۔ } ۱؎ [مسند احمد:79/3:ضعیف] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے ایک لاکھ نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں بلکہ زیادہ کا۔ پھر فرمایا ہے موسیٰ سے خود اللہ نے صاف طور پر کلام کیا۔ یہ ان کی خاص صفت ہے کہ وہ کلیم اللہ تھے، ایک شخص ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک شخص اس جملہ کو یوں پڑھتا ہے «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ’ یعنی موسیٰ نے اللہ سے بات کی ہے ‘ اس پر آپ بہت بگڑے اور فرمایا یہ کسی کافر نے پڑھا ہو گا۔ میں نے اعمش سے، اعمش نے یحییٰ سے، یحییٰ نے عبدالرحمٰن سے، عبدالرحمٰن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھا ہے کہ آیت «وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:164] ‏‏‏‏ ۱؎ [طبرانی اوسط:8603:ضعیف] ‏‏‏‏ غرض اس شخص کی معنوی اور لفظی تحریف پر آپ بہت زیادہ ناراض ہوئے مگر عجب نہیں کہ یہ کوئی معتزلی ہو، اس لیے کہ معتزلہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا نہ کسی اور سے۔ کسی معتزلی نے ایک بزرگ کے سامنے اسی آیت کو اسی طرح پڑھا تو انہوں نے اسے ڈانٹ کر فرمایا پھر اس آیت میں یہ بد دیانتی کیسے کرو گے؟ جہاں فرمایا ہے آیت «وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ» ۱؎ [7-الأعراف:143] ‏‏‏‏ ’ یعنی موسیٰ ہمارے وعدے پر آیا اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا ‘ مطلب یہ ہے کہ یہاں تو یہ تاویل و تحریف نہیں چلے گی۔

ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا تو وہ اندھیری رات میں سیاہ چیونٹی کا کسی صاف پتھر پر چلنا بھی دیکھ لیتے تھے۔ } ۱؎ [مجمع الزوائد:373/8:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد صحیح نہیں اور جب موقوفاً بقول سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ثابت ہو جائے تو بہت ٹھیک ہے۔ مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے۔ کہ کلیم اللہ سے جب اللہ نے کلام کیا وہ صوف کی چادر اور صوف کی سردول اور غیر مذبوح گدھے کی کھال کی جوتیاں پہنے ہوئے تھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1734،قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چالیس ہزار باتیں موسیٰ علیہ السلام کیں جو سب کی سب وصیتیں تھیں، نتیجہ یہ کہ لوگوں کی باتیں موسیٰ علیہ السلام سے سنی نہیں جاتی تھیں کیونکہ کانوں میں اسی پاک کلام الٰہی کی گونج رہتی تھی۔ ۱؎ [المعجم الاوسط:3949:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں۔ پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔ ایک اثر ابن مردویہ میں ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو کلام اللہ تعالیٰ نے طور والے دن موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا یہ تو میرے اندازے کے مطابق اس کی صفت جس دن پکارا تھا اس انداز کلام کی صفت سے الگ تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کا راز معلوم کرنا چاہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ابھی تو میں نے دس ہزار زبانوں کے برابر کی قوت سے کلام کیا ہے حالانکہ مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے بلکہ ان سب سے بھی بہت زیادہ۔

بنو اسرائیل نے آپ سے جب کلام زبانی کی صفت پوچھی آپ نے فرمایا ”میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا“ انہوں نے کہا کچھ تشبیہ تو بیان کرو، آپ نے فرمایا تم نے کڑاکے کی آواز سنی ہو گی، وہ اس کے مشابہ تھی لیکن ویسی نہ تھی . ۱؎ [بزار:2353:ضعیف] ‏‏‏‏ اس کے ایک راوی فضل رقاشی ضعیف ہیں اور بہت ہی ضعیف ہیں . سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا تو یہ تمام زبانوں پہ محیط تھا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پوچھا“باری تعالیٰ یہ تیرا کلام ہے؟ فرمایا نہیں اور نہ تو میرے کلام کی استقامت کر سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اسے رب تیری مخلوق میں سے کسی کا کلام تیرے کلام سے مشابہ ہے؟ فرمایا نہیں سوائے سخت تر کڑاکے کے۔ یہ روایت بھی موقوف ہے اور یہ ظاہر ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ اگلی کتابوں سے روایت کیا کرتے تھے جن میں بنو اسرائیل کی حکایتیں ہر طرح صحیح اور غیر صحیح ہوتی ہیں۔ یہ رسول ہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی کے متلاشیوں کو جنتوں کی خوشخبریاں دیتے ہیں اور اس کے فرمان کے خلاف کرنے والوں، اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو عذاب اور سزا سے ڈراتے ہیں۔

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے جو اپنی کتابیں نازل فرمائی ہیں اور اپنے رسول بھیجے ہیں اور ان کے ذریعہ اپنے اوامر و نواہی کی تعلیم دلوائی یہ اس لیے کہ کسی کو کوئی حجت یا کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى» ۱؎ [20-طه:134] ‏‏‏‏ ’ یعنی اگر ہم انہیں اس سے پہلے ہی اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہیں بھیجے جو ہم ان کی باتیں مانتے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جاتے۔ ‘ اسی جیسی یہ آیت بھی ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:47] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام برائیوں کو حرام کیا ہے خواہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور ایسا بھی کوئی نہیں جسے بہ نسبت اللہ کے مدح زیادہ پسند ہو یہی وجہ ہے کہ اس نے خود اپنی مدح آپ کی ہے اور کوئی ایسا نہیں جسے اللہ سے زیادہ عذر پسند ہو، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوش خبریاں سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4637] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں اتاریں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2760] ‏‏‏‏
165۔ 1 ایمان والوں کو جنت اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دینا اور کافروں کو اللہ کے عذاب اور بھڑکتی ہوئی جہنم سے ڈرانا۔ 165۔ 2 یعنی نبوت کا یہ سلسلہ ہم نے اس لئے قائم فرمایا کہ کسی کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمیں تو تیرا پیغام پہنچا ہی نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے سے) پہلے ہی ہلاک کردیتے تو وہ کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پیشتر تیری آیات کی پیروی کرلیتے
(آیت 165) {رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ ……:} یعنی انبیاء کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں انھیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر اور نادانی پرجمے رہیں انھیں ان کے غلط رویے کے انجامِ بد سے ڈرائیں، تاکہ اس طرح ان پر اتمامِ حجت ہو جائے اور وہ اﷲ کے ہاں کوئی عذر پیش نہ کر سکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طرف سے کوئی خوش خبری دینے والا یا ڈرانے والا آیا ہی نہیں اور یہ مقصد کتاب وشریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے (اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حجت بس یہ دونوں چیزیں ہیں، اﷲ تعالیٰ نے کسی امام یا مجتہد کو دین میں حجت نہیں بنایا) عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دے دی جائے یا تدریجاً نازل ہو۔ بعثت کے اس اصلی مقصد پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ کتاب کے حسب ضرورت تدریجاً نازل کرنے سے تو یہ مقصد زیادہ کامل طریقے سے پورا ہوتا ہے، پھر ان کا یہ کہنا کہ موسیٰ علیہ السلام کی طرح یک بارگی کتاب لائیں گے تو مانیں گے ورنہ نہیں، یہ محض ضد اور عناد ہے۔ (کبیر)
لٰکِنِ اللّٰہُ یَشۡہَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکَ اَنۡزَلَہٗ بِعِلۡمِہٖ ۚ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَشۡہَدُوۡنَ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿۱۶۶﴾ؕ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں) مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اُس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے، اور اِس پر ملائکہ بھی گواہ ہیں اگرچہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بطور گواه کافی ہے
احمد رضا خان بریلوی
لیکن اے محبوب! اللہ اس کا گواہ ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا وہ اس نے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے گواہ ہیں اور اللہ کی گواہی کافی،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس نے جو کچھ آپ پر نازل کیا۔ وہ اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے (بھی) اس کی گواہی دیتے ہیں۔ اگرچہ گواہی کے لیے اللہ کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن اللہ شہادت دیتا ہے اس کے متعلق جو اس نے تیری طرف نازل کیا ہے کہ اس نے اسے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے شہادت دیتے ہیں اور اللہ کافی گواہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭

چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «‏‏‏‏لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ‏‏‏‏ ’ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ ‘ اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ [ 2۔ البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ‏‏‏‏ عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔

یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو { آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ } ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 166){ لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَيْكَ ……:} یعنی وحی ہر پیغمبر پر آتی رہی ہے، کچھ نیا کام نہیں، پر اس کلام (قرآن مجید) میں اﷲ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اﷲ تعالیٰ اس حق کو ظاہر کر دے گا، چنانچہ ظاہر ہوا کہ جس قدر ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہ ہوئی۔ (موضح) یہ آیت بھی یہود کے مذکورہ سوال کے جواب میں ہے کہ اگر یہود قرآن کے کتابِ الٰہی ہونے کا انکار کرتے ہیں تو اس سے قرآن کا سچا ہونا مجروح نہیں ہوتا، کیونکہ اﷲ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے قرآن اپنے علم اور حکمت بالغہ کے ساتھ نازل کیا ہے، جو اس کے انتہائی کامل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اس کا علم ماضی، حال اور مستقبل سب کو محیط ہے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ قرآن اپنے علم سے، یعنی خوب جانتے ہوئے اتارا ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں سے بڑھ کر آپ ہی اس چیز کے اہل تھے کہ آپ پر یہ قرآن نازل کیا جاتا۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ اِس کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستہ سے روکتے ہیں وہ یقیناً گمرا ہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راه سے اوروں کو روکا وه یقیناً گمراہی میں دور نکل گئے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا بیشک وہ دور کی گمراہی میں پڑے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکا گمراہی میں بہت دور نکل گئے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا یقینا وہ گمراہ ہوگئے، بہت دور گمراہ ہونا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭

چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «‏‏‏‏لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ‏‏‏‏ ’ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ ‘ اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ [ 2۔ البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ‏‏‏‏ عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔

یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو { آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ } ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 167){ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ……:} ان لوگوں سے مراد یہودی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خود بھی ایمان نہ لاتے اور لوگوں کو بھی یہ کہہ کر روکا کرتے تھے کہ اس شخص کی کوئی صفت ہماری کتاب میں مذکور نہیں، یا یہ کہ نبوت کا دائرہ تو ہارون اور داؤد علیہما السلام کی اولاد تک محدود ہے، یا یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی شریعت منسوخ نہیں ہو سکتی، ان کی اسی قسم کی کوششوں کو قرآن نے دور کی گمراہی قرار دیا ہے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ ظَلَمُوۡا لَمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ طَرِیۡقًا ﴿۱۶۸﴾ۙ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ا ِس طرح جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ،
مولانا محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے کفر کیا اور ﻇلم کیا، انہیں اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راه دکھائے گا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور حد سے بڑھے اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ظلم و ستم کیا، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں ہے۔ اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں بخشے اور نہ یہ کہ انھیں کسی راستے کی ہدایت دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭

چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «‏‏‏‏لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ‏‏‏‏ ’ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ ‘ اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ [ 2۔ البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ‏‏‏‏ عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔

یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو { آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ } ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
168۔ 1 کیونکہ مسلسل کفر اور ظلم کا ارتکاب کر کے، انہوں نے اپنے دلوں کو سیاہ کرلیا جس سے اب ان کی ہدایت و مغفرت کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔
(آیت 168) {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا ……:} ان کی گمراہی کی کیفیت بیان کرنے کے بعد اب ان کو وعید سنائی جا رہی ہے۔ (کبیر) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا، یا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کو چھپا کر ان پر ظلم کیا، یا دوسرے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کر کے ان پر ظلم کیا۔ (قرطبی)
اِلَّا طَرِیۡقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز جہنم کی راه کے جس میں وه ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، اور یہ اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جہنم کا راستہ کہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیتں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
سوا جہنم کے راستہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بات اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سوائے جہنم کی راہ کے، جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ، اور یہ ہمیشہ سے اللہ پر بہت آسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭

چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «‏‏‏‏لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ‏‏‏‏ ’ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ ‘ اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ [ 2۔ البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ‏‏‏‏ عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔

یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو { آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ } ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 169) {اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ……:} یعنی جب کفر ہی کی حالت میں مر جائیں گے اور مرنے سے پہلے توبہ نہیں کریں گے تو سیدھے جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کو جہنم میں لے جانا اور پھر ہمیشہ وہاں رکھنا اﷲ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے، لہٰذا اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ کفر و عناد سے باز آ جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع اختیار کر لیں۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَقِّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے، ایمان لے آؤ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے، اور اگر انکار کرتے ہو تو جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے اور اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف حق لے کر رسول آگیا ہے، پس تم ایمان ﻻؤ تاکہ تمہارے لئے بہتری ہو اور اگر تم کافر ہوگئے تو اللہ ہی کی ہے ہر وه چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ دانا ہے حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! تمہارے پاس یہ رسول حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تشریف لائے تو ایمان لاؤ اپنے بھلے کو اور اگر تم کفر کرو تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے رسول حق لے کر آگیا ہے۔ پس ان پر ایمان لاؤ۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر انکار کروگے تو (اللہ کا کیا نقصان کروگے) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ اللہ ہی کا ہے۔ اور اللہ بڑا علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! بلا شبہ تمھارے پاس یہ رسول حق کے ساتھ تمھارے رب کی طرف سے آیا ہے، پس تم ایمان لے آئو، تمھارے لیے بہتر ہوگا اور اگر کفر کرو تو بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭

چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «‏‏‏‏لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ‏‏‏‏ ’ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ ‘ اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ [ 2۔ البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ‏‏‏‏ عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔

یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو { آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ } ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
170۔ 1 یعنی تمہارے کفر سے اللہ کا کیا بگڑے گا جیسے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا (اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 14:8 (ابراہیم۔ 8) اگر تم اور روئے زمین پر بسنے والے سب کے سب کفر کا راستہ اختیار کرلیں تو وہ اللہ کا کیا بگاڑیں گے؟ یقیناً اللہ تعالیٰ تو بےپروا تعریف کیا گیا ہے، اور حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' اے میرے بندو! اگر تمہارے اوّل وآخر تمام انسان اور جن اس ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں جو تم میں سب میں متقی ہے تو اس سے میری بادشاہی میں اضافہ نہیں ہوگا اور اگر تمہارے اول و اخر انس و جن اس کے ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں جو تم میں سب میں بڑا نافرمان ہے تو اس سے میری اس سے میری بادشاہی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تم سب ایک میدان میں جمع ہوجاؤ اور مجھ سے سوال کرو اور میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانے میں اتنی ہی کمی ہوگی جتنی سوئی کے سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے (صحیح مسلم کتاب البر، باب تحریم، الظلم)
(آیت 170) {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ ……:} متعدد طریقوں سے یہود کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور قرآن کی حقانیت ثابت کرنے کے بعد اب سب لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے، جن میں یہود بھی شامل ہیں کہ جب یہ رسول برحق ہے اور قرآن بھی اﷲ کی سچی کتاب ہے تو تمھیں لازم ہے کہ اس دعوت کو قبول کر لو، اس میں تمھارا بھلا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے، ورنہ یاد رکھو کہ زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے سب کا مالک اﷲ تعالیٰ ہے، اس کا تمھارے ایمان نہ لانے سے کچھ نہیں بگڑتا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم(۸)۔
یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ ۚ اَلۡقٰہَاۤ اِلٰی مَرۡیَمَ وَ رُوۡحٌ مِّنۡہُ ۫ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ۟ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَۃٌ ؕ اِنۡتَہُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ سُبۡحٰنَہٗۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗ وَلَدٌ ۘ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۱۷۱﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اُ س کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ "تین" ہیں باز آ جاؤ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو، مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شده) ہیں، جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لئے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں، اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لئے بہتری ہے، اللہ عبادت کے ﻻئق تو صرف ایک ہی ہے اور وه اس سے پاک ہے کہ اس کی اوﻻد ہو، اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ کافی ہے کام بنانے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اے کتاب والو! اپنے دین میں زیادتی نہ کرو اور اللہ پر نہ کہو مگر سچ مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا ا لله کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف بھیجا اور اس کے یہاں کی ایک روح تو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور تین نہ کہو باز رہو اپنے بھلے کو اللہ تو ایک ہی خدا ہے پاکی اُسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کافی کارساز،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اور اللہ کے بارے میں نہ کہو مگر سچی بات جناب عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ جسے اس نے مریم کی طرف بھیجا۔ اور اللہ کی طرف سے ایک خاص روح ہیں۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور تثلیث (یعنی تین خداؤں) کے قائل نہ ہو۔ (اس سے باز آجاؤ) (یہ) تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ تو صرف ایک ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ سب اسی کا ہے اور اللہ کارسازی کے لئے کافی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ گزرو اور اللہ پر مت کہو مگر حق۔ نہیں ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم مگر اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ، جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور مت کہو کہ تین ہیں، باز آجائو، تمھارے لیے بہتر ہوگا۔ اللہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بطور وکیل کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اپنی اوقات میں رہو حد سے تجاوز نہ کرو! ٭٭

اہل کتاب کو زیادتی سے اور حد سے آگے بڑھ جانے سے اللہ تعالیٰ روک رہا ہے۔ عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حد سے نکل گئے تھے اور نبوت سے بڑھا کر الوہیت تک پہنچا رہے تھے۔ بجائے ان کی اطاعت کرنے کے عبادت کرنے لگے تھے، بلکہ اور بزرگان دین کی نسبت بھی ان کا عقیدہ خراب ہو چکا تھا، وہ انہیں بھی جو عیسائی دین کے عالم اور عامل تھے معصوم محض جاننے لگ گئے تھے۔ اور یہ خیال کر لیا تھا کہ جو کچھ یہ ائمہ دین کہہ دیں اس کا ماننا ہمارے لیے ضروری ہے، سچ و جھوٹ، حق و باطل، ہدایت و ضلالت کے پرکھنے کا کوئی حق ہمیں حاصل نہیں۔ جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے آیت «اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ» ۱؎ [9-التوبة:31] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے تم ایسا نہ بڑھانا جیسا نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بڑھایا، میں تو صرف ایک بندہ ہوں پس تم مجھے عبداللہ اور رسول اللہ کہنا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3445] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے اسی کی سند ایک حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے آپ سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اے ہمارے سردار اور سردار کے لڑکے، اے ہم سب سے بہتر اور بہتر کے لڑکے! تو آپ نے فرمایا ”لوگو اپنی بات کا خود خیال کر لیا کرو تمہیں شیطان بہکا نہ دے، میں محمد بن عبداللہ ہوں، میں اللہ کا غلام اور اس کا رسول ہوں، قسم اللہ کی میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے میرے مرتبے سے بڑھا دو۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن نسائی:10078،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پھر فرماتا ہے اللہ پر افتراء نہ باندھو، اس سے بیوی اور اولاد کو منسوب نہ کرو، اللہ اس سے پاک ہے، اس سے دور ہے، اس سے بلند و بالا ہے، اس کی بڑائی اور عزت میں کوئی اس کا شریک نہیں، اس کے سوا نہ تو کوئی معبود اور نہ رب ہے۔ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام رسول اللہ ہیں، وہ اللہ کے غلاموں میں سے ایک غلام ہیں اور اس کی مخلوق ہیں، وہ صرف کلمہ کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1123/4] ‏‏‏‏ جس کلمہ کو لے کر جبرائیل علیہ السلام مریم صدیقہ علیہا السلام کے پاس گئے اور اللہ کی اجازت سے اسے ان میں پھونک دیا پس عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ چونکہ محض اسی کلمہ سے بغیر باپ کے آپ پیدا ہوئے، اس لیے خصوصیت سے کلمتہ اللہ کہا گیا۔ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے آیت «مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ» [5-المائدة:75] ‏‏‏‏ ’ یعنی مسیح بن مریم صرف رسول اللہ ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں ‘ ان کی والدہ سچی ہیں، یہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ اور آیت میں ہے «اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» ۱؎ [3-آل عمران:59] ‏‏‏‏ ’ عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے جسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گیا۔ ‘

قرآن کریم اور جگہ فرماتا ہے آیت «وَالَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنٰهَا وَابْنَهَآ اٰيَةً لِّـلْعٰلَمِيْنَ» [21-الأنبياء:91] ‏‏‏‏ ’ جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور ہم نے اپنی روح پھونکی اور خود اسے اور اس کے بچے کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کی علامت بنایا۔ ‘ اور جگہ فرمایا آیت «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ» [66-التحريم:12] ‏‏‏‏ عیسیٰ کی بابت ایک اور آیت میں ہے آیت «اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ» [43-الزخرف:59] ‏‏‏‏ [ 43۔ الزخرف: 59 ] ‏‏‏‏، ’ وہ ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا۔ ‘ پس یہ مطلب نہیں کہ خود کلمتہ الٰہی عیسیٰ علیہ السلام بن گیا بلکہ کلمہ الٰہی سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے آیت «اذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ» [3-آل عمران:45] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ مراد ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ جو جبرائیل علیہ السلام کی معرفت پھونکا گیا، اس سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔

صحیح بخاری میں ہے { جس نے بھی اللہ کے ایک اور لا شریک ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد و رسول ہونے کی عیسیٰ علیہ السلام کے عبد و رسول ہونے اور یہ کہ آپ اللہ کے کلمہ سے تھے جو مریم رضی اللہ عنہا کی طرف پھونکا گیا تھا اور اللہ کی پھونکی ہوئی روح تھے اور جس نے جنت دوزخ کو برحق مانا وہ خواہ کیسے ہی اعمال پر ہو، اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3435] ‏‏‏‏ ایک روایت میں اتنی زیادہ بھی ہے کہ { جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3435] ‏‏‏‏ جیسے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کو آیت و حدیث میں «روح منہ» کہا ہے ایسے ہی قرآن کی ایک آیت میں ہے آیت «وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ» [45-الجاثية:13] ‏‏‏‏ ’ اس نے مسخر کیا تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، تمام کا تمام اپنی طرف سے۔ ‘ یعنی اپنی مخلوق اور اپنے پاس سے یہ مطلب «روح منہ» کا ہے۔ پس لفظ «من تبعیض» (‏‏‏‏اس کا حصہ) کے لیے نہیں جیسے ملعون نصرانیوں کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا ایک جزو تھے بلکہ «من» ابتداء کے لیے ہے۔ جیسے کہ دوسری آیت میں ہے «مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ» [5-المائدة:75] ‏‏‏‏، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «روح منہ» سے مراد «رسول منہ» ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں آیت «محبتہ منہ» لیکن زیادہ قوی پہلا قول ہے یعنی آپ پیدا کئے گئے ہیں، روح سے جو خود اللہ کی مخلوق ہے۔ پس آپ کو روح اللہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے «ناقتہ اللہ» اور «بت اللہ» کہا گیا ہے یعنی صرف اس کی عظمت کے اظہار کے لیے اپنی طرف نسبت کی اور حدیث میں بھی ہے کہ ”میں اپنے رب کے پاس اس کے گھر میں جاؤں گا۔“

پھر فرماتا ہے تم اس کا یقین کر لو کہ اللہ واحد ہے بیوی بچوں سے پاک ہے اور یقین مان لو کہ جناب عیسیٰ اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق اور اس کے برگزیدہ رسول ہیں۔ تم تین نہ کہو یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور مریم رضی اللہ عنہا کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اللہ کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے۔ سورۃ المائدہ میں فرمایا آیت «لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] ‏‏‏‏ ’ یعنی جو کہتے ہیں کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے وہ کافر ہو گئے، اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی اور لائق عبادت نہیں۔ ‘ سورۃ المائدہ کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہو گا کہ «‏‏‏‏وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ» ۱؎ [5-المائدة:116] ‏‏‏‏ ’ اپنی اور اپنی والدہ کی عبادت کا حکم لوگوں کو تم نے دیا تھا، آپ صاف طور پر انکار کر دیں گے۔ ‘ نصرانیوں کا اس بارے میں کوئی اصول ہی نہیں ہے، وہ بری طرح بھٹک رہے ہیں اور اپنے آپ کو برباد کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض تو عیسیٰ کو خود اللہ مانتے ہیں، بعض شریک الہیہ مانتے اور بعض اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر دس نصرانی جمع ہوں تو ان کے خیالات گیارہ ہوں گے۔ سعید بن بطریق اسکندری جو سن 400 ھ کے قریب گذرا ہے اس نے اور بعض ان کے اور بڑے علماء نے ذکر کیا ہے کہ قسطنطین بانی قسطنطنیہ کے زمانے میں اس وقت کے نصرانیوں کا اس بادشاہ کے حکم سے اجتماع ہوا، جس میں دو ہزار سے زیادہ ان کے مذہبی پیشوا شامل ہوتے تھے، باہم ان کے اختلاف کا یہ حال تھا کہ کسی بات پر ستر اسی آدمیوں کا اتفاق مفقود تھا، دس کا عقیدہ ایک ہے، بیس کا ایک خیال ہے، چالیس اور ہی کچھ کہتے ہیں، ساٹھ اور طرف جا رہے ہیں، غرض ہزار ہا کی تعداد میں سے بہ مشکل تمام تین سو اٹھارہ آدمی ایک قول پر جمع ہوئے۔

بادشاہ نے اسی عقیدہ کو لے لیا، باقی کو چھوڑ دیا اور اسی کی تائید و نصرت کی اور ان کے لیے کلیساء اور گرجے بنا دئے اور کتابیں لکھوا دیں، قوانین ضبط کر دئے، یہیں انہوں نے امانت کبریٰ کا مسئلہ گھڑا، جو دراصل بدترین خیانت ہے، ان لوگوں کو ملکانیہ کہتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان کا اجتماع ہوا، اس وقت جو فرقہ بنا اس کا نام یعقوبیہ ہے۔ پھر تیسری مرتبہ کے اجتماع میں جو فرقہ بنا اس کا نام نسطوریہ ہے، یہ تینوں فرقے اقالیم ثلثہ کو عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ثابت کرتے ہیں، ان میں بھی باہم دیگر اختلاف ہے اور ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور ہمارے نزدیک تو تینوں کافر ہیں۔ اللہ فرماتا ہے اس شرک سے باز آؤ، باز رہنا ہی تمہارے لیے اچھا ہے، اللہ تو ایک ہی ہے، وہ توحید والا ہے، اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ تمام چیزیں اس کی مخلوق ہیں اور اس کی ملکیت میں ہیں، سب اس کی غلامی میں ہیں اور سب اس کے قبضے میں ہیں، وہ ہرچیز پر وکیل ہے، پھر مخلوق میں سے کوئی اس کی بیوی اور کوئی اس کا بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ دوسری آیت میں ہے آیت «بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ» ۱؎ [6-الأنعام:101] ‏‏‏‏ ’ یعنی وہ تو آسمان و زمین کی ابتدائی آفرنیش کرنے والا ہے، اس کا لڑکا کیسے ہو سکتا ہے؟‘ ‘ سورۃ مریم میں آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٨٨)‏‏‏‏‏‏‏‏ «لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا» (‏‏‏‏٨٩) «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» (‏‏‏‏٩٠) «أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩١) «‏‏‏‏وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩٢) «‏‏‏‏إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩٣) «‏‏‏‏لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩٤) «‏‏‏‏وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [19-مريم:88-95] ‏‏‏‏ تک بھی اس کا مفصلاً انکار فرمایا ہے۔
171۔ 2 غلو کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کی حد سے بڑھا دینا۔ جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا کہ انہیں رسالت و بندگی کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کردیا اور ان کی اللہ کی طرح عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کو بھی غلو کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم بنا ڈالا اور ان کو حرام وحلال کے اختیار و سے نواز دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے " اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ " 9:31 (انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا) یہ رب بنانا حدیث کے مطابق ان کے حلال کیے کو حلال اور حرام کیے کو حرام سمجھنا تھا۔ درآنحالیکہ یہ اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے لیکن اہل کتاب نے یہ حق بھی اپنے علماء وغیرہ کو دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہل کتاب کو دین میں اسی غلو سے منع فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عیسائیوں کے اس غلو کے پیش نظر اپنے بارے میں اپنی امت کو متنبہ فرمایا۔ (لاتطرونی کما اطرت النصاری عیسیٰ ابن مریم! فانما انا عبدہ، فقولوا: عبد اللہ و رسولہ " (صحیح بخاری۔ کتاب الانبیاء مسند احمد جلد 1 صفحہ 23 نیز دیکھئے مسند احمد جلد 1 صفحہ 153) تم مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم ؑ کو بڑھایا، میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، پس تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہنا۔ لیکن افسوس امت محمدیہ اس کے باوجود بھی اس غلو سے محفوظ نہ رہ سکی جس میں عیسائی مبتلا ہوئے اور امت محمدیہ نے بھی اپنے پیغمبر کو بلکہ نیک بندوں تک کو خدائی صفات سے متصف ٹھرا دیا جو دراصل عیسائیوں کا وطیرہ تھا۔ اسی طرح علماء وفقہا کو بھی دین کا شارح اور مفسر ماننے کے بجائے ان کو شارع (شریعت سازی کا اختیار رکھنے والے) بنادیا ہے۔ سچ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " جس طرح ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح تم پچھلی امتوں کی پیروی کرو گے " یعنی ان کے قدم بہ قدم چلو گے۔ 171۔ 1 کلمۃ اللہ کا مطلب ہے کہ لفظ کن سے باپ کے بغیر ان کی تخلیق ہوئی اور یہ لفظ حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے سے حضرت مریم ؑ تک پہنچایا گیا۔ روح اللہ کا مطلب وہ (پھونک) ہے جو حضرت جبرائیل ؑ اللہ کے حکم سے حضرت مریم (علیہا السلام) کے گریبان میں پھونکا، جسے اللہ تعالیٰ نے باپ کے نطفہ کے قائم مقام کردیا۔ یوں عیسیٰ ؑ اللہ کا کلمہ بھی ہیں جو فرشتے نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈالا اور اس کی وہ روح ہیں جسے لے کر جبرائیل ؑ مریم (علیہا السلام) کی طرف بھیجے گئے۔ (تفسیر ابن کثیر) 171۔ 2 عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں۔ بعض حضرت عیسیٰ کو اللہ اور بعض اللہ کا شریک اور بعض اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ پھر جو اللہ مانتے ہیں وہ (تین خداؤں) کے اور حضرت عیسیٰ کے ثالث ثلاثہ (تین سے ایک) ہونے کے قائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تین خدا کہنے سے باز آجاؤ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے۔
(آیت 171) ➊ {يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ……:} رازی لکھتے ہیں، یہود کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب اس آیت میں نصاریٰ کے شبہ کی تردید کی جا رہی ہے۔ (کذا فی فتح الرحمن) مگر بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ خطاب یہود و نصاریٰ دونوں سے ہے، اس لیے کہ ” غلو“ راہ اعتدال کے چھوڑ دینے کا نام ہے اور یہ افراط و تفریط (زیادتی اور کمی) دونوں صورتوں میں ہے۔ ایک طرف نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں افراط سے کام لے کر ان کو اﷲ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا، تو دوسری طرف یہود نے مسیح علیہ السلام سے متعلق یہاں تک تفریط برتی کہ ان کی رسالت کا بھی انکار کر دیا، قرآن نے بتایا کہ یہ دونوں فریق غلو کر رہے ہیں۔ اعتدال کی راہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ تو اﷲ کے بیٹے ہیں کہ ان کو معبود بنا لیا جائے اور نہ جھوٹے نبی ہیں، بلکہ وہ اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔ (قرطبی) آج کل اسی قسم کا غلو مسلمانوں میں بھی آ گیا ہے اور ایسے لوگ موجود ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے امت کا درجہ اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ انھیں خدا کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہیں اور پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر سمجھنا انتہائی درجے کی گستاخی شمار کرتے ہیں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلو سے سختی سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ تُطْرُوْنِيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰي ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهُ ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اﷲ تعالٰی: «واذكر في الكتاب مريم ……» : ۳۴۴۵ ] ”مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا۔ میں تو اس کا بندہ ہوں، لہٰذا تم مجھے صرف اﷲ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہا کرو۔“ ➋ {وَ كَلِمَتُهٗ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْيَمَ:} یعنی انھیں کلمۂ { ”كُنْ“ } سے بنایا اور اس طرح ان کی پیدائش بن باپ کے ہوئی، یہ معنی نہیں کہ وہ کلمہ ہی عیسیٰ علیہ السلام بن گیا، ورنہ آدم علیہ السلام تو ماں باپ دونوں کے بغیر کلمۂ { ”كُنْ“ } سے پیدا ہوئے تھے۔ پھر انھیں بھی رب ماننا پڑے گا، دیکھیے سورۂ آل عمران(۵۹)۔ ➌ {وَ رُوْحٌ مِّنْهُ:} یعنی اس کی پیدا کردہ روح، اس اضافت سے عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت کا اظہار مقصود ہے، ورنہ تمام روحیں اﷲ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ ہیں، فرمایا: «‏‏‏‏{هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللّٰهِ}» ‏‏‏‏ [ فاطر: ۳ ] ”کیا اﷲ کے سوا بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے؟“ جیسے فرمایا: { ”ھٰذِہٖ نَاقَةُ اللّٰهِ“ } ”یہ اﷲ کی اونٹنی ہے“ اور { ”طَھِّرْ بَيْتِيَ“ } ” میرے گھر کو پاک کر“ حالانکہ تمام اونٹنیوں اور تمام گھروں کا مالک اﷲ ہے۔ یہ {” مِنْ “} تبعیضیہ نہیں ہے بلکہ ابتدائے غایت کے لیے ہے۔ (ابن کثیر) ➍ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام بھی اﷲ کے رسول ہیں، پس تم دوسرے پیغمبروں کی طرح ان کو اﷲ کا رسول ہی مانو اور انھیں الوہیت (خدائی) کا مقام مت دو۔ (کبیر) ➎ {وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ: ”ثَلٰثَةٌ“} مبتدا محذوف کی خبر ہے، یعنی {” اٰلِهَتُنَا ثَلاَثَةٌ “} یا {”اَلْاَقَانِيْمُ ثَلاَثَةٌ “} کہ ہمارے معبود تین ہیں، یا اقانیم تین ہیں۔ مبتدا اس لیے حذف کیا ہے کہ نصرانیوں کے اقوال بہت ہی مختلف ہیں، اگرچہ خلاصہ ان کا ایک ہے کہ خدا تین ہیں مگر وہ تین نہیں ایک ہیں۔ اب ایک ذات اور اس کی بے شمار صفات تو ہو سکتی ہیں، مگر اﷲ تعالیٰ، مریم اور عیسیٰ علیہما السلام یہ تو تین مستقل شخصیتیں اور ذاتیں ہیں، یہ ایک ذات کیسے ہو گئے! نصرانی بیک وقت خدا کو ایک بھی تسلیم کرتے ہیں اور پھر اقانیم ثلاثہ کے بھی قائل ہیں۔ یہ اقانیم ثلاثہ کا چکر بھی نہایت پر پیچ اور ناقابل فہم ہے۔ (کبیر) جس طرح بعض مسلمانوں میں [ نُوْرٌ مِّنْ نُوْرِ اللّٰهِ] کا عقیدہ نہایت گمراہ کن ہے، جو واضح طور پر سورۂ اخلاص اور پورے قرآن کے خلاف ہے۔ نصرانی کبھی تو ان تین سے مراد وجود، علم اور حیات بتاتے ہیں اور کبھی انھیں باپ، بیٹا اور روح القدس سے تعبیر کر لیتے ہیں، حالانکہ وجود، علم اور حیات تو ایک ذات کی صفات ہوتی ہیں مگر باپ، بیٹا اور روح القدس تو تین شخصیتیں ہیں، یہ ایک کیسے بن گئے؟ پھر ان کی کور فہمی دیکھو کہ کبھی کہتے ہیں کہ باپ سے وجود، روح سے حیات اور بیٹے سے مراد مسیح علیہ السلام ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اقانیم ثلاثہ سے مراد اﷲ تعالیٰ، مریم اور عیسیٰ علیہما السلام ہیں۔ قرآن نے بھی اس آخری قول کا ذکر کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۷۳، ۷۵، ۷۶، ۱۱۶) الغرض نصرانیوں کے عقیدۂ تثلیث سے زیادہ بعید از عقل کوئی عقیدہ نہیں اور اس بارے میں ان میں اس قدر انتشار و افتراق ہے کہ دنیا کے کسی عقیدہ میں نہیں، اس لیے قرآن نے انھیں دعوت دی کہ تم تین خداؤں کے گورکھ دھندے کو چھوڑ کر خالص توحید کا عقیدہ اختیار کر لو۔ ➏ {اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ:} یعنی نہ کوئی اس کا شریک ہے، نہ بیوی اور نہ کوئی رشتے دار، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا۔ ➐ {لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} اور جسے تم نے اس کا شریک ٹھہرایا ہے وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اس کا مملوک اور مخلوق ہے اور جو شخص مملوک یا مخلوق ہو وہ خالق یا مالک کا بیٹا یا شریک کیسے ہو سکتا ہے؟ ➑ {وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا:} یعنی اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے، وکیل یعنی سارے کام بنانے والا تو وہ خود ہی ہے۔ (موضح)
لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو، اور نہ مقرب ترین فرشتے اِس کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بنده ہونے میں کوئی ننگ و عار یا تکبر وانکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو، اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے، اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
مسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا اور نہ مقرب فرشتے اور جو اللہ کی بندگی سے نفرت اور تکبر کرے تو کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان سب کو اپنی طرف ہانکے گا
علامہ محمد حسین نجفی
عیسیٰ مسیح اللہ کا بندہ ہونے میں اپنے لئے عار نہیں سمجھتے اور نہ ہی مقرب فرشتے اس میں اپنے لئے کوئی عار محسوس کرتے ہیں اور جو اس کی بندگی میں ننگ و عار محسوس کرے گا اور تکبر کرے گا۔ اللہ سب کو جلد اپنی طرف محشور فرمائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
مسیح ہرگز اس سے عار نہ رکھے گا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتے ہی اور جو بھی اس کی بندگی سے عار رکھے اور تکبر کرے تو عنقریب وہ ان سب کو اپنی طرف اکٹھا کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭

مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسانوں سے افضل ہیں۔ لیکن دراصل اس کا کوئی ثبوت اس آیت میں نہیں، اس لیے یہاں ملائکہ کا عطف مسیح علیہ السلام پر ہے اور استنکاف کا معنی رکنے کے ہیں اور فرشتوں میں یہ قدرت بہ نسبت مسیح علیہ السلام کے زیادہ ہے۔ اس لیے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے افضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کو لوگ پوجتے تھے، اسی طرح فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ تو اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو اللہ کی عبادت سے رکنے والا بتا کر فرشتوں کی بھی یہی حالت بیان کر دی، جس سے ثابت ہو گیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو وہ خود اللہ کو پوجتے ہیں، پھر ان کی پوجا کیسی؟ جیسے اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:26-29] ‏‏‏‏۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ جو اس کی عبادت سے رکے، منہ موڑے اور بغاوت کرے، وہ ایک وقت اسی کے پاس لوٹنے والا ہے اور اپنے بارے میں اس کا فیصلہ سننے والا ہے اور جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، انہیں ان کا پورا ثواب بھی دیا جائے گا، پھر رحمت ایزدی اپنی طرف سے بھی انعام عطا فرمائے گی۔

ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ اجر تو یہ ہے کہ جنت میں پہنچا دیا اور زیادہ فضل یہ ہے کہ جو لوگ قابل دوزخ ہوں، انہیں بھی ان کی شفاعت نصیب ہو گی، جن سے انہوں نے بھلائی اور اچھائی کی تھی ۱؎ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس کی سند ثابت شدہ نہیں، ہاں اگر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر ہی اسے روایت کیا جائے تو ٹھیک ہے۔ پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی عبادت و اطاعت سے رک جائیں اور اس سے تکبر کریں، انہیں پروردگار درد ناک عذاب کرے گا اور یہ اللہ کے سوا کسی کو دلی و مددگار نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں، وہ ذلیل و حقیر ہو کر جہنم میں جائیں گے ’ یعنی ان کے انکار اور ان کے تکبر کا یہ بدلہ انہیں ملے گا کہ ذلیل و حقیر خوار و بے بس ہو کر جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔
172۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح بعض لوگوں نے فرشتوں کو بھی خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا تھا، اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہ تو سب کے سب اللہ کے بندے ہیں اور اس سے انہیں قطعاً کوئی انکار نہیں ہے۔ تم انہیں اللہ یا اس کی خدائی میں شریک کس بنیاد پر بناتے ہو۔
(آیت 172) {لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ ……:} اس آیت میں نصاریٰ اور مشرکین دونوں کے غلط عقیدے کی تردید ہے، کیونکہ نصرانی مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو اﷲ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ دونوں اﷲ کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا بندہ ہونے پر کچھ بھی عار اور شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہی حال ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا کہ جب کوئی شخص آپ کو اﷲ کا بندہ کہتا تو آپ کو بے انتہا خوشی ہوتی۔ کیونکہ اس مالک الملک اور شہنشاہِ مطلق کا بندہ ہونا انتہائی عزت و شرف کا مقام ہے، نہ کہ کسی ذلت و رسوائی کا۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”انوار القلوب“ میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے بندگی کے مقام سے زیادہ عزت کا کوئی مقام نہیں، اکرم الخلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مقامات پر، جو نہایت عزت کے مقامات ہیں، لفظ ”عبد“ یعنی بندہ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے، وہ تین مقام یہ ہیں: (1) نزول وحی۔ دیکھیے کہف: ۱۔ فرقان: ۱۔ نجم: ۱۰۔ حدید: ۹۔ (2) اسراء و معراج۔ دیکھیے بنی اسرائیل: ۱ (3) دعا۔ (دیکھیے جن: ۱۹)
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ۚ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡتَنۡکَفُوۡا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا فَیُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ وَّ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے اُن کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جو لوگ ایمان ﻻئے ہیں اور شائستہ اعمال کئے ہیں ان کو ان کا پورا پورا ﺛواب عنایت فرمائے گا اور اپنے فضل سے انہیں اور زیاده دے گا اور جن لوگوں نے ننگ و عار اور سرکشی اور انکار کیا، انہیں المناک عذاب دے گا اور وه اپنے لئے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، اور امداد کرنے واﻻ نہ پائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی مزدوری انہیں بھرپور دے کر اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا اور وہ جنہوں نے نفرت اور تکبر کیا تھا انہیں دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا نہ اپنا کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کئے ہوں گے انہیں ان کا پورا پورا صلہ و ثواب دے گا اور اپنے فضل و کرم سے انہیں مزید بھی عطا فرمائے گا۔ اور جنہوں نے (اس کی بندگی سے) ننگ و عار محسوس کیا ہوگا اور تکبر کیا ہوگا ان کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا نہ کوئی سرپرست پائیں گے اور نہ کوئی یار و مددگار۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ بھی دے گا اور رہے وہ جنھوں نے عار سمجھا اور تکبر کیا تو وہ انھیں درد ناک عذاب دے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! ٭٭

مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسانوں سے افضل ہیں۔ لیکن دراصل اس کا کوئی ثبوت اس آیت میں نہیں، اس لیے یہاں ملائکہ کا عطف مسیح علیہ السلام پر ہے اور استنکاف کا معنی رکنے کے ہیں اور فرشتوں میں یہ قدرت بہ نسبت مسیح علیہ السلام کے زیادہ ہے۔ اس لیے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے افضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح مسیح علیہ السلام کو لوگ پوجتے تھے، اسی طرح فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ تو اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو اللہ کی عبادت سے رکنے والا بتا کر فرشتوں کی بھی یہی حالت بیان کر دی، جس سے ثابت ہو گیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو وہ خود اللہ کو پوجتے ہیں، پھر ان کی پوجا کیسی؟ جیسے اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:26-29] ‏‏‏‏۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ جو اس کی عبادت سے رکے، منہ موڑے اور بغاوت کرے، وہ ایک وقت اسی کے پاس لوٹنے والا ہے اور اپنے بارے میں اس کا فیصلہ سننے والا ہے اور جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، انہیں ان کا پورا ثواب بھی دیا جائے گا، پھر رحمت ایزدی اپنی طرف سے بھی انعام عطا فرمائے گی۔

ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ اجر تو یہ ہے کہ جنت میں پہنچا دیا اور زیادہ فضل یہ ہے کہ جو لوگ قابل دوزخ ہوں، انہیں بھی ان کی شفاعت نصیب ہو گی، جن سے انہوں نے بھلائی اور اچھائی کی تھی ۱؎ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن اس کی سند ثابت شدہ نہیں، ہاں اگر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول پر ہی اسے روایت کیا جائے تو ٹھیک ہے۔ پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی عبادت و اطاعت سے رک جائیں اور اس سے تکبر کریں، انہیں پروردگار درد ناک عذاب کرے گا اور یہ اللہ کے سوا کسی کو دلی و مددگار نہ پائیں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں، وہ ذلیل و حقیر ہو کر جہنم میں جائیں گے ’ یعنی ان کے انکار اور ان کے تکبر کا یہ بدلہ انہیں ملے گا کہ ذلیل و حقیر خوار و بے بس ہو کر جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔
173۔ 1 بعض نے اس (زیادہ) سے مراد یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو شفاعت کا حق عطا فرمائے گا، یہ اذن شفاعت پا کر جن کی بابت اللہ چاہے گا شفاعت کریں گے۔ 173۔ 2 یعنی اللہ کی عبادت و اطاعت سے رکے رہے اور اس سے انکار وتکبر کرتے رہے۔ 173۔ 3 جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' بیشک جو لوگ میری عبادت سے استکبار (انکار وتکبر) کرتے ہیں، یقیناً ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونگے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمۡ بُرۡہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آ گئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور اتارا
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل آگئی ہے۔ اور ہم نے تمہاری طرف نمایاں نور اتارا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن مجید اللہ تعالٰی کی مکمل دلیل اور حجت تمام ہے ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ تمام انسانوں کو فرماتا ہے کہ میری طرف سے کامل دلیل اور عذر معذرت کو توڑ دینے والی چیز، شک و شبہ کو الگ کرنے والی برہان (‏‏‏‏دلیل) تمہاری طرف نازل ہو چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف کھلا نور، صاف روشنی، پورا اجالا اتار دیا ہے، جس سے حق کی راہ صحیح طور پر واضح ہو جاتی ہے۔ ابن جریج وغیرہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں، اس سے مضبوط رابطہٰ کر لیں، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں، تمام امور اسی کو سونپ دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا، ان کے ثواب بڑھا دے گا، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں، کہیں سے تنگ نہیں۔ پس وہ مومن دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے۔ شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
174۔ 1 برہان ایسی دلیل قاطع جس کے بعد کسی کو عذر کی گنجائش نہ رہے اور ایسی حجت جس سے ان کے شبہات زائل ہوجائیں، اسی لئے آگے اسے نور سے تعبیر فرمایا۔ 174۔ 2 اس سے مراد قرآن کریم ہے جو کفر اور شرک کی تاریکیوں میں ہدایت کا نور ہے۔ ضلالت کی پگڈنڈیوں میں صراط مستقیم اور حبل اللہ المتین ہے۔ پس اس کے مطابق ایمان لانے والے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے مستحق ہیں۔
(آیت 174) {يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ ……:} جب اﷲ تعالیٰ نے تمام گمراہ فرقوں کفار، منافقین، یہود و نصاریٰ پر دلائل قائم کر دیے اور ان کے شکوک و شبہات کی بھی مکمل تردید فرما دی تو اب اس آیت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کی عام دعوت دی کہ تمھارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے کی واضح دلیل آ چکی اور ہم نے حق کو واضح کرنے والا نور، یعنی قرآن مجید نازل فرما دیا جو انسان کو ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور دل میں نور ایمان پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اعۡتَصَمُوۡا بِہٖ فَسَیُدۡخِلُہُمۡ فِیۡ رَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ یَہۡدِیۡہِمۡ اِلَیۡہِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿۱۷۵﴾ؕ
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اور اسے مضبوط پکڑ لیا، انہیں تو وه عنقریب اپنی رحمت اور فضل میں لے لے گا اور انہیں اپنی طرف کی راه راست دکھا دے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ جو اللہ پر ایمان لائے اور اس کی رسی مضبوط تھامی تو عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنی طرف سیدھی راہ دکھائے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور مضبوطی سے اس کا دامن پکڑا تو ضرور اللہ انہیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا۔ اور ان کو اپنے سیدھے راستہ پر لگا دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو لوگ تو اللہ پر ایمان لائے اور اسے مضبوطی سے تھام لیا تو عنقریب وہ انھیں اپنی خاص رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انھیں اپنی طرف سیدھے راستے کی ہدایت دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن مجید اللہ تعالٰی کی مکمل دلیل اور حجت تمام ہے ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ تمام انسانوں کو فرماتا ہے کہ میری طرف سے کامل دلیل اور عذر معذرت کو توڑ دینے والی چیز، شک و شبہ کو الگ کرنے والی برہان (‏‏‏‏دلیل) تمہاری طرف نازل ہو چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف کھلا نور، صاف روشنی، پورا اجالا اتار دیا ہے، جس سے حق کی راہ صحیح طور پر واضح ہو جاتی ہے۔ ابن جریج وغیرہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں، اس سے مضبوط رابطہٰ کر لیں، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں، تمام امور اسی کو سونپ دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا، ان کے ثواب بڑھا دے گا، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں، کہیں سے تنگ نہیں۔ پس وہ مومن دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے۔ شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2906،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 176،175)➊ {يَسْتَفْتُوْنَكَ:} سورت کی ابتدا تقویٰ کے حکم کے بعد اموال کے احکام سے ہوئی تھی، اب آخر میں انھی احکام کے ساتھ سورت کا اختتام ہے۔ درمیان سورت میں مخالفین سے مجادلہ اور ان کی تردید ہے۔ (رازی) کلالہ پر بحث اس سورت کی آیت (۱۱) میں گزر چکی ہے۔ جابربن عبد اﷲ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں اس وقت بیمار اور بے ہوش تھا، آپ نے وضو کیا، پھر وضو کے بچے ہوئے پانی سے مجھ پر چھینٹے مارے، یا فرمایا: ”اس پر چھینٹے مارو۔“ جس سے مجھے ہوش آ گیا، میں نے عرض کی کہ میں کلالہ ہوں، میری میراث کیسے تقسیم ہو گی، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ بخاری، المرض، باب وضوء العائد للمریض: ۵۶۷۶۔ مسلم: ۱۶۱۶ ] ➋ {لَيْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ ……:} بعض نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جس کی اولاد نہ ہو، خواہ اس کا باپ زندہ ہی ہو، اسے کلالہ کہا جائے گا، مگر یہ صحیح نہیں، صحیح معنی وہی ہے جو پہلے گزرا، یعنی کلالہ اس مرنے والے کو کہا جاتا ہے جس کا باپ یا دادا نہ ہو اور اولاد بھی نہ ہو، کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن سرے سے وارث نہیں ہوتی، باپ اس کے حق میں حاجب بن جاتا ہے لیکن یہاں اﷲ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر اس کی بہن ہو تو وہ اس کے نصف مال کی وارث ہو گی، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ وہ ہے کہ اولاد نہ ہونے کے ساتھ ساتھ باپ دادا بھی نہ ہوں۔ یوں اولاد کی نفی تو الفاظ سے واضح ثابت ہو گئی اور باپ کی نفی اشارے سے۔ ➌ اولاد سے مراد بیٹا، بیٹی اور بیٹے کی اولاد ہے، اسی طرح بہن سے مراد یہاں سگی بہن یا علاتی (باپ شریک) بہن ہے، کیونکہ اخیافی بہن، جو صرف ماں کی طرف سے ہو، اس کا حکم پہلے سورۂ نساء (۱۲) میں گزر چکا ہے۔ (ابن کثیر) ➍ {”وَلَدٌ“} کا لفظ بیٹا بیٹی دونوں پر بولا جاتا ہے، اس بنا پر بعض نے کہا کہ بیٹی ہونے کی صورت میں بہن محروم رہے گی، مگر صحیح بخاری (۶۷۴۱) میں معاذ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک شخص فوت ہو جائے اور اس کے ورثاء میں صرف بیٹی اور بہن ہے تو بیٹی کو نصف اور باقی بہن کو (بوجہ عصبہ ہونے کے) دیا جائے گا۔ اور بخاری ہی میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرنے والے کی ایک بہن، ایک بیٹی اور ایک پوتی کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ بیٹی کے لیے نصف ہے، پوتی کے لیے چھٹا حصہ، تاکہ دو ثلث پورے ہو جائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کے لیے ہے۔ [ بخاری، الفرائض، باب میراث ابنۃ ابن مع ابنۃ: ۶۷۳۶ ] ➎ {فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا ……:} اور یہی حکم دو سے زیادہ بہنوں کا ہے، انھیں بھی دو ثلث ہی ملے گا اور اگر کلالہ کے وارث بھائی اور بہن دونوں ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ ➏ {يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ……:} یعنی اﷲ تعالیٰ نے میراث کے یہ حصے خود اس لیے واضح فرمائے ہیں کہ اگر یہ تم پر چھوڑ دیے جائیں تو تم کبھی صحیح فیصلہ نہ کر سکو، کیونکہ تمھیں ہر بات کا علم نہیں، جب کہ اﷲ تعالیٰ کو ہر بات کا خوب علم ہے، اس لیے اس کے فیصلے میں کبھی غلطی نہیں ہو سکتی۔ اس سورت کے مدنی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ” یہ سورت سب سے آخر میں نازل ہوئی، لہٰذا اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو۔“ [ أحمد: 188/6، ح: ۲۵۶۰۲۔ ترمذی: ۳۰۶۳، عن عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما و حسنہ الہلالی فی الاستیعاب ] سورۂ بقرہ کے شروع میں اس کی کچھ فضیلت بیان ہو چکی ہے۔
یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِی الۡکَلٰلَۃِ ؕ اِنِ امۡرُؤٌا ہَلَکَ لَیۡسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَہٗۤ اُخۡتٌ فَلَہَا نِصۡفُ مَا تَرَکَ ۚ وَ ہُوَ یَرِثُہَاۤ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّہَا وَلَدٌ ؕ فَاِنۡ کَانَتَا اثۡنَتَیۡنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ؕ وَ اِنۡ کَانُوۡۤا اِخۡوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾٪
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لوگ تم سے کلالہ کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی، اور اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہوگا اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی، اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہوگا اللہ تمہارے لیے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اوﻻد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے لئے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے اور وه بھائی اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کے اوﻻد نہ ہو۔ پس اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا۔ اور اگر کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب! تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر، ا لله تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ، اور اللہ ہرچیز جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول یہ لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے! کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کا آدھا ترکہ اس کا ہوگا۔ اور اگر وہ (بہن) مر جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو (اور ایک بھائی ہو) تو وہ اس کے پورے ترکہ کا وارث ہوگا۔ اور اگر کسی مرنے والے کی دو بہنیں ہوں تو ان کا اس کے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہوگا۔ اور اگر کئی بھائی بہن ہوں یعنی مرد عورت دونوں ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کھول کر احکام بیان کرتا ہے۔ تاکہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تجھ سے فتویٰ مانگتے ہیں، کہہ دے اللہ تمھیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کوئی آدمی مر جائے، جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کا نصف ہے جو اس نے چھوڑا اور وہ (خود) اس (بہن) کا وارث ہوگا، اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر وہ دو (بہنیں) ہوں تو ان کے لیے اس میں سے دو تہائی ہوگا جو اس نے چھوڑا اور اگر وہ کئی بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا۔ اللہ تمھارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہو جائو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عصبہ اور کلالہ کی وضاحت! مسائل وراثت ٭٭

سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سورتوں میں سب سے آخری سورت سورۃ برأت اتری ہے اور آیتوں میں سب سے آخری آیت «يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ» [4-النساء:176] ‏‏‏‏ اتری ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4605] ‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { میں بیماری کے سبب بیہوش پڑا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ نے وضو کیا اور وہی پانی مجھ پر ڈالا، جس سے مجھے افاقہ ہوا اور میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وارثوں کے لحاظ سے میں کلالہ ہوں، میری میراث کیسے بٹے گی؟ } اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت فرائض نازل فرمائی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6723] ‏‏‏‏

اور روایت میں بھی اسی آیت کا اترنا آیا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1616] ‏‏‏‏ پس اللہ فرماتا ہے کہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں یعنی کلالہ کے بارے میں۔ پہلے یہ بیان گذر چکا ہے کہ لفظ کلالہ اکیل سے ماخوذ ہے جو کہ سر کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ اکثر علماء نے کہا ہے کہ کلالہ وہ ہے جس میت کے لڑکے پوتے نہ ہوں اور بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جس کے لڑکے نہ ہوں، جیسے کہا آیت میں ہے آیت «لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ» سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے جو مشکل مسائل آئے تھے، ان میں ایک یہ مسئلہ بھی تھا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہا نے فرمایا { تین چیزوں کی نسبت میری تمنا رہ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں ہماری طرف کوئی ایسا عہد کرتے کہ ہم اسی کی طرف رجوع کرتے دادا کی میراث، کلالہ اور سود کے ابواب۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3032] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے، آپ فرماتے ہیں کہ { کلالہ کے بارے میں میں نے جس قدر سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے، اتنے کسی اور مسئلہ میں نہیں کئے یہاں تک کہ آپ نے اپنی انگلی سے میرے سینے میں کچوکا لگا کر فرمایا کہ تجھے گرمیوں کی وہ آیت کافی ہے، جو سورۃ نساء کے آخر میں ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1617] ‏‏‏‏

اور حدیث میں ہے { اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید اطمینان کر لیا ہوتا تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں کے ملنے سے زیادہ بہتر تھا }۔۱؎ [مسند احمد:38/1:منقطع و ضعیف] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت موسم گرما میں نازل ہوئی ہو گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سمجھنے کی طرف رہنمائی کی تھی اور اسی کو مسئلہ کا کافی حل بتایا تھا، لہٰذا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اس کے معنی پوچھنے بھول گئے، جس پر اظہار افسوس کر رہے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ { سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے حضور سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا پس فرمایا ”کیا اللہ نے اسے بیان نہیں فرمایا۔ } پس یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10870:منقطع و ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے خطبے میں فرماتے ہیں جو آیت سورۃ نساء کے شروع میں فرائض کے بارے میں ہے، وہ ولد و والد کے لیے ہے اور دوسری آیت میاں بیوی کے لیے ہے اور ماں زاد بہنوں کے لیے اور جس آیت سے سورۃ نساء کو ختم کیا ہے وہ سگے بہن بھائیوں کے بارے میں ہے جو رحمی رشتہ عصبہ میں شمار ہوتا ہے (‏‏‏‏ابن جریر) اس آیت کے معنی «هَلَكَ» کے معنی ہیں مر گیا، جیسے فرمان ہے «كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ» [28-القصص:88] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے ذات الٰہی کے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ ‘ جیسے اور آیت میں فرمایا آیت «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» ۱؎ [55-الرحمن:26-27] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہر ایک جو اس پر ہے فانی یہ اور تیرے رب کا چہرہ ہی باقی رہے گا جو جلال و اکرام والا ہے۔‘

پھر فرمایا اس کا ولد نہ ہو، اس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ کلالہ کی شرط میں باپ کا نہ ہونا نہیں بلکہ جس کی اولاد نہ ہو وہ کلالہ ہے، بروایت ابن جریر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن صحیح قول جمہور کا ہے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ کلالہ وہ ہے جس کا نہ ولد ہو، نہ والد اور اس کی دلیل آیت میں اس کے بعد کے الفاظ سے بھی ثابت ہوتی ہے جو فرمایا آیت «وَّلَهٗٓ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ» [4-النساء:176] ‏‏‏‏ ’ یعنی اس کی بہن ہو تو اس کے لیے کل چھوڑے ہوئے، مال کا آدھوں آدھ ہے۔ ‘ اور اگر بہن باپ کے ساتھ ہو تو باپ اسے ورثہ پانے سے روک دیتا ہے اور اسے کچھ بھی اجماعاً نہیں ملتا، پس ثابت ہوا کہ کلالہ وہ ہے جس کا ولد نہ ہو جو نص سے ثابت ہے اور باپ بھی نہ ہو یہ بھی نص سے ثابت ہوتا ہے لیکن قدرے غور کے بعد، اس لیے کہ بہن کا نصف حصہ باپ کی موجودگی میں ہوتا ہی نہیں بلکہ وہ ورثے سے محروم ہوتی ہے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا جاتا ہے کہ { ایک عورت مر گئی ہے اس کا خاوند ہے اور ایک سگی بہن ہے تو آپ نے فرمایا آدھا بہن کو دے دو اور آدھا خاوند کو جب آپ سے اس کی دلیل پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا میری موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں یہی فیصلہ صادر فرمایا تھا } ۱؎ [مسند احمد:188/5:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہم سے ابن جریر میں منقول ہے کہ ان دونوں کا فتویٰ اس میت کے بارے میں جو ایک لڑکی اور ایک بہن چھوڑ جائے، یہ تھا کہ اس صورت میں بہن محروم رہے گی، اسے کچھ بھی نہ ملے گا، اسی لیے کہ قرآن کی اس آیت میں بہن کو آدھا ملنے کی صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ میت کی اولاد نہ ہو اور یہاں اولاد ہے۔ لیکن جمہور ان کے خلاف ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی آدھا لڑکی کو ملے گا اور بہ سبب فرض اور عصبہ آدھا بہن کو بھی ملے گا۔ ابراہیم اسود کہتے ہیں ہم میں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فیصلہ کیا کہ آدھا لڑکی کا اور آدھا بہن کا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6741] ‏‏‏‏ صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے لڑکی اور پوتی اور بہن کے بارے میں فتویٰ دیا کہ آدھا لڑکی کو اور آدھا بہن کو پھر فرمایا ذرا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ہو آؤ وہ بھی میری موافقت ہی کریں گے۔ لیکن جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ بھی انہیں سنایا گیا تو آپ نے فرمایا ان سے اتفاق کی صورت میں گمراہ ہو جاؤں گا اور راہ یافتہ لوگوں میں میرا شمار نہیں رہے گا، سنو میں اس بارے میں وہ فیصلہ کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے آدھا تو بیٹی کو اور چھٹا حصہ پوتی کو تو دو ثلث پورے ہو گئے اور جو باقی بچا وہ بہن کو۔ ہم پھر واپس آئے اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی تو آپ نے فرمایا جب تک یہ علامہ تم میں موجود ہیں، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔۱؎ [صحیح بخاری:6736] ‏‏‏‏

پھر فرمان ہے کہ یہ اس کا وارث ہو گا اگر اس کی اولاد نہ ہو، یعنی بھائی اپنی بہن کے کل مال کا وارث ہے جبکہ وہ کلالہ مرے یعنی اس کی اولاد اور باپ نہ ہو، اس لیے کہ باپ کی موجودگی میں تو بھائی کو ورثے میں سے کچھ بھی نہ ملے گا۔ ہاں اگر بھائی کے ساتھ ہی اور کوئی مقررہ حصے والا اور وارث ہو جیسے خاوند یا ماں جایا بھائی تو اسے اس کا حصہ دے دیا جائے گا اور باقی کا وارث بھائی ہو گا۔ صحیح بخاری میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرائض کو ان کے اہل سے ملا دو، پھر جو باقی بچے وہ اس مرد کا ہے جو سب سے زیادہ قریب ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6732] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے اگر بہنیں دو ہوں تو انہیں مال متروکہ کے دو ثلث ملیں گے۔ یہی حکم دو سے زیادہ بہنوں کا بھی ہے، یہیں سے ایک جماعت نے دو بیٹیوں کا حکم لیا ہے۔ جیسے کہ دو سے زیادہ بہنوں کا حکم لڑکیوں کے حکم سے لیا ہے جس آیت کے الفاظ یہ ہیں آیت «فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ» ۱؎ [4-النساء:11] ‏‏‏‏ ۱؎ پھر فرماتا ہے اگر بہن بھائی دونوں ہوں تو ہر مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے، یہی حکم عصبات کا ہے خواہ لڑکے ہوں یا پوتے ہوں یا بھائی ہوں، جب کہ ان میں مرد و عورت دونوں موجود ہوں۔ تو جتنا دو عورتوں کو ملے گا اتنا ایک مرد کو۔

اللہ اپنے فرائض بیان فرما رہا ہے، اپنی حدیں مقرر کر رہا ہے، اپنی شریعت واضح کر رہا ہے۔ تاکہ تم بہک نہ جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمام کاموں کے انجام سے واقف اور ہر مصلحت سے دانا، بندوں کی بھلائی برائی کا جاننے والا، مستحق کے استحقاق کو پہچاننے والا ہے۔ ابن جریر کی روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کہیں سفر میں جا رہے تھے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کا سر رسول اللہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے صحابی کے کجاوے کے پاس تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سواری کا سر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی سواری کے دوسرے سوار کے پاس تھا جو یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سنائی اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو۔ اس کے بعد پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس کے بارے میں سوال کیا تو کہا واللہ تم بے سمجھ ہو، اس لیے کہ جیسے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنائی ویسے ہی میں نے آپ کو سنا دی، واللہ میں تو اس پر کوئی زیادتی نہیں کر سکتا۔ } پس سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے الٰہی اگرچہ تو نے ظاہر کر دیا ہو مگر مجھ پر تو کھلا نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10878:منقطع] ‏‏‏‏ لیکن یہ روایت منقطع ہے اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ یہ سوال اپنی خلافت کے زمانے میں کیا تھا ۱؎ [مسند بزار:2206] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ کلالہ کا ورثہ کس طرح تقسیم ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لیکن چونکہ کی پوری تشفی نہ ہوئی تھی، اس لیے اپنی صاحبزادی زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشی میں ہوں تو تم پوچھ لینا۔ }

چنانچہ حفصہ نے ایک روز ایسا ہی موقعہ پا کر دریافت کیا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تیرے باپ نے تجھے اس کے پوچھنے کی ہدایت کی ہے میرا خیال ہے کہ وہ اسے معلوم نہ کر سکیں گے۔ } سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما دیا تو بس میں اب اسے جان ہی نہیں سکتا۔ ۱؎ } (‏‏‏‏مرسل) اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر جب حفصہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنگھے پر یہ آیت لکھوائی، پھر فرمایا کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے اس کے پوچھنے کو کہا تھا؟ میرا خیال ہے کہ وہ اسے ٹھیک ٹھاک نہ کر سکیں گے۔ کیا انہیں گرمی کی وہ آیت جو سورۃ نساء میں ہے کافی نہیں؟ وہ آیت «وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً» ۱؎ [4-النساء:12] ‏‏‏‏ ہے۔ } پھر جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو وہ آیت اتری جو سورۃ نساء کے خاتمہ پر ہے اور کنگھی پھینک دی۔ یہ حدیث مرسل ہے۔ ایک مرتبہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے کنگھے کے ایک ٹکڑے کو لے کر فرمایا میں کلالہ کے بارے میں آج ایسا فیصلہ کر دونگا کہ پردہ نشین عورتوں تک کو معلوم رہے۔ اسی وقت گھر میں سے ایک سانپ نکل آیا اور سب لوگ ادھر ادھر ہو گئے، پس آپ نے فرمایا اگر اللہ عزوجل کا ارادہ اس کام کو پورا کرنے کا ہوتا تو اسے پورا کر لینے دیتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:10886:موقوف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد صحیح ہے۔

مستدرک حاکم میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کاش میں تین مسئلے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لیتا تو مجھے سرخ اونٹوں کے لینے سے بھی زیادہ محبوب ہوتا۔ ایک تو یہ کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہو گا؟ دوسرے یہ کہ جو لوگ زکوٰۃ کے ایک تو قائل ہوں لیکن کہیں کہ ہم تجھے ادا نہیں کریں گے ان سے لڑنا حلال ہے یا نہیں؟ تیسرے کلالہ کے بارے میں۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:303/2:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں بجائے زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے سودی مسائل کا بیان ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:304/2:موقوف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آخری وقت میں میں نے آپ سے سنا فرماتے تھے قول وہی ہے جو میں نے کہا، تو میں نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا یہ کہ کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ وہ۔ ایک اور روایت میں ہے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے اور سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان کلالہ کے بارے میں اختلاف ہوا اور بات وہی تھی جو میں کہتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سگے بھائیوں اور ماں زاد بھائیوں کو جبکہ وہ جمع ہوں، ثلث میں شریک کیا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے خلاف تھے۔ ابن جریر میں ہے کہ خلیفتہ المؤمنین سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک رقعہ پر دادا کے ورثے اور کلالہ کے بارے میں کچھ لکھا پھر استخارہ کیا اور ٹھہرے رہے اور اللہ سے دعا کی کہ پروردگار اگر تیرے علم میں اس میں بہتری ہے تو تو اسے جاری کر دے پھر جب آپ کو زخم لگایا گیا تو آپ نے اس رقعہ کو منگوا کر مٹا دیا اور کسی کو علم نہ ہوا کہ اس میں کیا تحریر تھا پھر خود فرمایا کہ میں نے اس میں دادا کا اور کلالہ کا لکھا تھا اور میں نے استخارہ کیا تھا۔

پھر میرا خیال یہی ہوا کہ تمہیں اسی پر چھوڑ دوں جس پر تم ہو۔ ابن جریر میں ہے میں اس بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلاف کرتے ہوئے شرماتا ہوں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فرمان تھا کہ کلالہ وہ ہے جس کا ولد و والد نہ ہو۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/9] ‏‏‏‏ اور اسی پر جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم اور ائمہ دین ہیں اور یہی چاروں اماموں اور ساتوں فقہاء کا مذہب ہے اور اسی پر قرآن کریم کی دلالت ہے جیسے کہ باری تعالیٰ عزاسمہ نے اسے واضح کر کے فرمایا اللہ تمہارے لیے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ الحمدللہ سورہ نساء کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
176۔ 1 کلالہ کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے کہ اس مرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ جس کا باپ ہو نہ بیٹا یہاں پھر اس کی میراث کا ذکر ہو رہا ہے۔ بعض لوگوں نے کلالہ اس شخص کو قرار دی ہے جس کا صرف بیٹا نہ ہو۔ یعنی باپ موجود ہو۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔ کلالہ کی پہلی تعریف ہی صحیح ہے کیونکہ باپ کی موجودگی میں بہن سرے سے وارث ہی نہیں ہوتی۔ باپ اس کے حق میں حاجب بن جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر اس کی بہن ہو تو وہ اس کے نصف مال کی وارث ہوگی۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کلالہ وہ ہے کہ بیٹے کے ساتھ جس کا باپ بھی نہ ہو۔ یعنی بیٹے کی نفی تو نص سے ثابت ہے اور باپ کی نفی اشارۃ النص سے ثابت ہوجاتی ہے۔ 176۔ 2 اسی طرح باپ بھی نہ ہو۔ اس لئے باپ بھائی کے قریب ہے، باپ کی موجودگی میں بھائی وارث ہی نہیں ہوتا اگر اس کا کلالہ عورت کا خاوند یا کوئی ماں جایا بھائی ہوگا تو ان کا حصہ نکالنے کے بعد باقی مال کا وارث بھائی قرار پائے گا۔ (ابن کثیر) 176۔ 3 یہی حکم دو سے زائد بہنوں کی صورت میں بھی ہوگا۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ کلالہ شخص کی دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں تو انہیں کل مال کا دو تہائی حصۃ ملے گا 176۔ 4 یعنی کلالہ کے وارث مخلوط (مرد اور عورت دونوں) ہوں تو پھر ' ایک مرد دو عورت کے برابر کے اصول پر ورثے کی تقسیم ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔