بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 168
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 168
آیت نمبر: 168 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ ظَلَمُوۡا لَمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ طَرِیۡقًا ﴿۱۶۸﴾ۙ
ا ِس طرح جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ،
جن لوگوں نے کفر کیا اور ﻇلم کیا، انہیں اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راه دکھائے گا
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور حد سے بڑھے اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے،
بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ظلم و ستم کیا، اللہ انہیں بخشنے والا نہیں ہے۔ اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھائے گا۔
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں بخشے اور نہ یہ کہ انھیں کسی راستے کی ہدایت دے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالٰی بےنیاز ہے ٭٭

چونکہ سابقہ آیتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لیے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ «‏‏‏‏لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» ۱؎ [41-فصلت:42] ‏‏‏‏ ’ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا۔ ‘ اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» ۱؎ [2-البقرة:255] ‏‏‏‏ [ 2۔ البقرہ: 255 ] ‏‏‏‏ اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110] ‏‏‏‏ عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:166] ‏‏‏‏ پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔

یہودیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی ہے تو { آپ فرماتے ہیں خدا کی قسم مجھے پختہ طور پر معلوم ہے کہ تم میری رسالت کا علم رکھتے ہو۔ } ان لوگوں نے اس کا انکار کر دیا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10854:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔ یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔

📖 احسن البیان

168۔ 1 کیونکہ مسلسل کفر اور ظلم کا ارتکاب کر کے، انہوں نے اپنے دلوں کو سیاہ کرلیا جس سے اب ان کی ہدایت و مغفرت کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 168) {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا ……:} ان کی گمراہی کی کیفیت بیان کرنے کے بعد اب ان کو وعید سنائی جا رہی ہے۔ (کبیر) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا، یا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کو چھپا کر ان پر ظلم کیا، یا دوسرے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کر کے ان پر ظلم کیا۔ (قرطبی)
← پچھلی آیت (167) پوری سورۃ اگلی آیت (169) →