بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 34
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ وَّ بِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ؕ وَ الّٰتِیۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَہُنَّ فَعِظُوۡہُنَّ وَ اہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیۡرًا ﴿۳۴﴾
مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو، پھر اگر تم وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے
مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں، پس نیک فرمانبردار عورتین خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاﻇت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وه تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بلندی اور بڑائی واﻻ ہے
مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لئے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے تو نیک بخت عورتیں ادب والیاں ہیں خاوند کے پیچھے حفاظت رکھتی ہیں جس طرح اللہ نے حفاظت کا حکم دیا اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ اور ان سے الگ سوؤ اور انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارے حکم میں آجائیں تو ان پر زیادتی کی کوئی راہ نہ چاہو بیشک اللہ بلند بڑا ہے
مرد عورتوں کے محافظ و منتظم (حاکم) ہیں (ایک) اس لئے کہ اللہ نے بعض (مردوں) کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی ہے اور (دوسرے) اس لئے کہ مرد (عورتوں پر) اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں۔ سو نیک عورتیں تو اطاعت گزار ہوتی ہیں اور جس طرح اللہ نے (شوہروں کے ذریعہ) ان کی حفاظت کی ہے۔ اسی طرح پیٹھ پیچھے (شوہروں کے مال اور اپنی ناموس کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں اور وہ عورتیں جن کی سرکشی کا تمہیں اندیشہ ہو انہیں (نرمی سے) سمجھاؤ (بعد ازاں) انہیں ان کی خواب گاہوں میں چھوڑ دو اور (آخرکار)۔ انہیں مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان کے خلاف کوئی اور اقدام کرنے کے راستے تلاش نہ کرو۔ یقینا اللہ (اپنی کبریائی میں) سب سے بالا اور بڑا ہے۔
مرد عورتوں پر نگران ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔ پس نیک عورتیں فرماں بردار ہیں، غیرحاضری میں حفاظت کرنے والی ہیں، اس لیے کہ اللہ نے (انھیں) محفوظ رکھا اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی سے تم ڈرتے ہو، سو انھیں نصیحت کرو اور بستروں میں ان سے الگ ہو جائو اور انھیں مارو، پھر اگر وہ تمھاری فرماں برداری کریں تو ان پر (زیادتی کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت بلند، بہت بڑا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مرد عورتوں سے افضل کیوں؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مرد عورت کا حاکم رئیس اور سردار ہے۔ اسے درست اور ٹھیک ٹھاک رکھنے والا ہے۔ اس لیے کہ مرد عورتوں سے افضل ہیں یہی وجہ ہے کہ نبوت ہمیشہ مردوں میں رہی بعینہ شرعی طور پر خلیفہ بھی مرد ہی بن سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ لوگ کبھی نجات نہیں پاسکتے جو اپنا والی کسی عورت کو بنائیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4425] ‏‏‏‏ اسی طرح ہر طرح کا منصب قضاء وغیرہ بھی مردوں کے لائق ہی ہیں۔ دوسری وجہ افضیلت کی یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں جو کتاب و سنت سے ان کے ذمہ ہے مثلاً مہر نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا پورا کرنا۔ پس مرد فی نفسہ بھی افضل ہے اور بہ اعتبار نفع کے اور حاجت براری کے بھی اس کا درجہ بڑا ہے۔ اسی بنا پر مرد کو عورت پر سردار مقرر کیا گیا جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» [2-البقرة:228] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی اطاعت کرنی پڑے گی اس کے بال بچوں کی نگہداشت اس کے مال کی حفاظت وغیرہ اس کا کام ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کی پس آپ نے بدلہ لینے کا حکم دے ہی دیا تھا جو یہ آیت اتری اور بدلہ نہ دلوایا گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9305:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لیے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے اس خاوند نے مجھے تھپڑ مارا ہے، جس کا نشان اب تک میرے چہرے پر موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حق نہ تھا“، وہیں یہ آیت اتری کہ ادب سکھانے کے لیے مرد عورتوں پر حاکم ہیں تو آپ نے فرمایا: ”میں اور چاہتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اور چاہا۔“ ۱؎ [میزان:8131:ضعیف] ‏‏‏‏

شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال خرچ کرنے سے مراد مہر کا ادا کرنا ہے دیکھو اگر مرد عورت پر زناکاری کی تہمت لگائے تو لعان کا حکم ہے اور اگر عورت اپنے مرد کی نسبت یہ بات کہے اور ثابت نہ کر سکے تو اسے کوڑے لگیں گے۔ پس عورتوں میں سے نیک نفس وہ ہیں جو اپنے خاوندوں کی اطاعت گزار ہوں اپنے نفس اور خاوند کے مال کی حفاظت والیاں ہوں جسے خود اللہ تعالیٰ سے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”بہتر عورت وہ ہے کہ جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے، وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے بجا لائے اور جب کہیں باہر جائے تو اپنے نفس کو برائی سے محفوظ رکھے اور اپنے خاوند کے مال کی محافظت کرے“ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9329:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جب کوئی پانچوں وقت نماز ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے تو چاہے جنت میں چلی جا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:191/1،قال الشيخ الألباني:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏

پھر فرمایا: ”جن عورتوں کی سرکشی سے ڈرو یعنی جو تم سے بلند ہونا چاہتی ہو نافرمانی کرتی ہو بےپرواہی برتتی ہو دشمنی رکھتی ہو تو پہلے تو اسے زبانی نصیحت کرو ہر طرح سمجھاؤ اتار چڑھاؤ بتاؤ اللہ کا خوف دلاؤ حقوق زوجیت یاد دلاؤ اس سے کہو کہ دیکھو خاوند کے اتنے حقوق ہیں“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر میں کسی کو حکم کر سکتا کہ وہ ماسوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ سب سے بڑا حق اس پر اسی کا ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:4/381،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بسترے پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3237] ‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ہے کہ جس رات کوئی عورت روٹھ کر اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑے رہے تو صبح تک اللہ کی رحمت کے فرشتے اس پر لعنتیں نازل کرتے رہتے ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:120-1436] ‏‏‏‏ تو یہاں ارشاد فرماتا ہے کہ ایسی نافرمان عورتوں کو پہلے تو سمجھاؤ بجھاؤ پھر بستروں سے الگ کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی سلائے تو بستر ہی پر مگر خود اس سے کروٹ موڑ لے اور مجامعت نہ کرے، بات چیت اور کلام بھی ترک کر سکتا ہے اور یہ عورت کی بڑی بھاری سزا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں ساتھ سلانا ہی چھوڑ دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عورت کا حق اس کے میاں پر کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ جب تو کھا تو اسے بھی کھلا جب تو پہن تو اسے بھی پہنا اس کے منہ پر نہ مار گالیاں نہ دے اور گھر سے الگ نہ کر غصہ میں اگر تو اس سے بطور سزا بات چیت ترک کرے تو بھی اسے گھر سے نہ نکال۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2142،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اس سے بھی اگر ٹھیک ٹھاک نہ ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ یونہی سی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے بھی راہ راست پر لاؤ۔

صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ہے کہ عورتوں کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو وہ تمہاری خدمت گزار اور ماتحت ہیں تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ جس کے آنے جانے سے تم خفا ہو اسے نہ آنے دیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں یونہی سی تنبیہہ بھی تم کر سکتے ہو لیکن سخت مار جو ظاہر ہو نہیں مار سکتے تم پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں کھلاتے پلاتے پہناتے اڑھاتے رہو۔ [صحیح مسلم:1218] ‏‏‏‏ پس ایسی مار نہ مارنی چاہیئے جس کا نشان باقی رہے جس سے کوئی عضو ٹوٹ جائے یا کوئی زخم آئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو فدیہ لو اور طلاق دے دو۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی لونڈیوں کو مارو نہیں“ اس کے بعد ایک مرتبہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! عورتیں آپ کے اس حکم کو سن کراپنے مردوں پر دلیر ہو گئیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کی اجازت دی اب مردوں کی طرف سے دھڑا دھڑ مار پیٹ شروع ہوئی اور بہت سی عورتیں شکایتیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”سنو میرے پاس عورتوں کی فریاد پہنچی یاد رکھو تم میں سے جو اپنی عورتوں کو زدو کوب کرتے ہیں وہ اچھے آدمی نہیں“ [سنن ابوداود:2146،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا اتفاقاً اس روز میاں بیوی میں کچھ ناچاقی ہو گئی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو مارا پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث تین باتیں یاد رکھ جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد رکھی ہیں ایک تو یہ کہ مرد سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی عورت کو کس بنا پر مارا؟ دوسری یہ کہ وتر پڑھے بغیر سونا مت اور اور تیسری بات راوی کے ذہن سے نکل گئی۔ ۱؎ [سنن نسائی:5/9168،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اگر اب بھی عورتیں تمہاری فرمانبردار بن جائیں تو تم ان پر کسی قسم کی سختی نہ کرو نہ مارو پیٹو نہ بیزاری کا اظہار کرو۔ اللہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔ یعنی اگر عورتوں کی طرف سے قصور سرزد ہوئے بغیر یا قصور کے بعد ٹھیک ہو جانے کے باوجود بھی تم نے انہیں ستایا تو یاد رکھو ان کی مدد پر ان کا انتقام لینے کے لیے اللہ تعالیٰ ہے اور یقیناً وہ بہت زورآور اور زبردست ہے۔

📖 احسن البیان

34۔ 1 اس میں مرد کی حاکمیت و قوامیت کی دو وجہیں بیان کی گئی ہیں، ایک مردانہ قوت و دماغی صلاحیت ہے جس میں مرد عورت سے خلقی طور پر ممتاز ہے۔ دوسری وجہ کسبی ہے جس کا مکلف شریعت نے مرد کو بنایا ہے اور عورت کو اس کی فطری کمزوری اور مخصوص تعلیمات کی وجہ سے جنہیں اسلام نے عورت کی عفت و حیا اور اس کے تقدس کے تحفظ کے لئے ضروری قرار دیا، عورت کو معاشی جھمیلوں سے دور رکھا۔ عورت کی سربراہی کے خلاف قرآن کریم کی یہ نص قطعی بلکل واضح ہے جس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتی ہے۔ جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ قوم ہرگز فلاح یاب نہیں ہوسکتی جس نے اپنے امور ایک عورت کے سپرد کردیئے۔ 34۔ 2 نافرمانی کی صورت میں عورت کو سمجھانے کے لئے سب سے پہلے وعظ و نصیحت کا نمبر ہے دوسرے نمبر پر ان سے وقتی اور عارضی علیحدگی ہے جو سمجھدار عورت کے لئے بہت بڑی تنبہ ہے۔ اس سے بھی نہ سمجھے تو ہلکی سی مار کی اجازت ہے۔ لیکن یہ مار وحشیانہ اور ظالمانہ نہ ہو جیسا کہ جاہل لوگوں کا وطیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ظلم کی اجازت کسی مرد کو نہیں دی۔ اگر وہ اصلاح کرلے تو پھر راستہ تلاش نہ کرو یعنی مار پیٹ نہ کرو تنگ نہ کرو، یا طلاق نہ دو، گویا طلاق بلکل آخری مرحلہ ہے جب کوئی اور چارہ کار باقی نہ رہے۔ لیکن مرد اس حق کو بھی بہت ناجائز طریقے سے استعمال کرتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات میں فوراً طلاق دے ڈالتے ہیں اور اپنی زندگی بھی برباد کرتے ہیں، عورت کی بھی اور بچے ہوں تو ان کی بھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34) ➊ {اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ …:} شریعت نے گھر کے بندوبست اور انتظام کے لیے مرد کو گھر کا قوام (نگران، ذمہ دار) قرار دیا ہے اور عورت کو اس کے ماتحت رکھا ہے۔ قرآن نے اس کی دو وجہیں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ مرد کو طبعی طور پر امتیاز حاصل ہے کہ وہ منتظم بنے اور دوسرے یہ کہ گھر کے سارے اخراجات بیوی کے نفقہ سمیت مرد کے ذمے ہیں۔ اس بنا پر گھر کا نگران بننے کا حق مرد کو ہے عورت کو نہیں۔ یہی حال حکومتی امور کا ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ یا امیر عورت نہیں ہو سکتی، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ] ”وہ قوم ہر گز کامیاب نہیں ہو گی جس نے اپنا حاکم عورت کو بنا لیا۔“ [ بخاری، المغازی، باب کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی کسریٰ و قیصر: ۴۴۲۵ ] ➋ {فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ …:} اس آیت کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ” بہترین بیوی وہ ہے جسے اگر تم دیکھو تو تمھیں خوش کرے، اگر تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمھاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو تمھارے پیچھے وہ تمھارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔“ پھر رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ }» [ مسند أبی داوٗد الطیالسی: ۲۴۴۴۔ ابن جریر: 62/4، و صححہ صاحب ہدایۃ المستنیر ] ➌ { حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ:} یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دے کر ان کے حقوق محفوظ کر دیے ہیں، اس کے بدلے میں وہ خاوندوں کی غیر موجودگی میں ان کے مال اور عزت و آبرو کی حفاظت رکھتی ہیں۔ [ دیکھیے نسائی، النکاح، باب أی النساء خیر: ۳۲۳۳ ] یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کے مال و عزت اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں اور خیانت سے کام نہیں لیتیں۔ (شوکانی) ➍ { وَ الّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ …:} نشوز کا لفظی معنی ”اونچا ہونا، چڑھائی کرناہے“ اور عورت کے نشوز کا معنی ”خاوند سے بغض رکھنا اور اس کی اطاعت سے اپنے آپ کو اونچا سمجھنا ہے۔“(مفردات) عورت پر مرد کا بہت بڑا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ (اللہ کے سوا) کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“ [ ترمذی، الرضاع، باب ما جاء فی حق…: ۱۱۵۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ۔ أبو داوٗد: ۲۱۴۰ ] عورت نافرمانی کا رویہ اختیار کرے تو خاوند کو حالات کے مطابق تین چیزوں کا اختیار دیا گیا ہے، تینوں یکے بعد دیگرے اور اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں، نصیحت کرنا، گھر میں رہ کر بستر الگ کر لینا اور انھیں مارنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض ناگزیر حالات میں مارنے کی اجازت دی، مگر فرمایا: ”چہرے پر مت مارو، اسے بد صورت نہ کہو اور اسے مت چھوڑو مگر گھر میں۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا: ۲۱۴۲، عن حکیم بن معاویۃ رضی اللہ عنہ ] اسی طرح ایسی مار سے بھی منع کیا جس سے سخت چوٹ آئے۔ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸، عن جابر رضی اللہ عنہ ] اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارے جس طرح غلام کو مارتے ہیں، پھر دن کے آخر حصے میں اس سے جماع کرے گا۔“ [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من ضرب النساء:۵۲۰۴ ] ➎ { فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا:} یعنی اگر وہ تمھاری مطیع ہو جائیں تو ان پر زیادتی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو، مثلاً طلاق دینا، تنگ کر کے خلع پر مجبور کرنا وغیرہ۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →