بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 1
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 1
آیت نمبر: 1 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا ﴿۱﴾
لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے
اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،
(اے انسانو!) اپنے اس پروردگار سے ڈرو۔ جس نے تمہیں ایک متنفس سے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بھی اسی سے (اس کی جنس سے) پیدا کیا اور پھر انہی دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا۔ اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ اور رشتہ قرابت کے بارے میں بھی ڈرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تم پر حاضر و ناظر ہے۔
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں سے بھی، بے شک اللہ ہمیشہ تم پر پورا نگہبان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

محبت و مودت کا آفاقی اصول ٭٭

محبت و مودت کا آفاقی اصول اللہ تعالیٰ اپنے تقوے کا حکم دیتا ہے کہ جسم سے اسی ایک ہی کی عبادتیں کی جائیں اور دل میں صرف اسی کا خوف رکھا جائے، پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے، ان کی بیوی یعنی حواء علیہما السلام کو بھی انہی سے پیدا کیا، آپ سوئے ہوئے تھے کہ بائیں طرف کی پسلی کی پچھلی طرف سے حواء کو پیدا کیا، آپ نے بیدار ہو کر انہیں دیکھا اور اپنی طبیعت کو ان کی طرف راغب پایا اور انہیں بھی ان سے انس پیدا ہوا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں عورت مرد سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کی حاجت و شہوت مرد میں رکھی گئی ہے اور مرد زمین سے پیدا کئے گئے ہیں اس لیے ان کی حاجت زمین میں رکھی گئی ہے۔ پس تم اپنی عورتوں کو روکے رکھو، صحیح حدیث میں ہے عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور سب سے بلند پسلی سب سے زیادہ ٹیڑھی ہے پس اگر تو اسے بالکل سیدھی کرنے کو جائے گا تو توڑ دے گا اور اگر اس میں کچھ کجی باقی چھوڑتے ہوئے فائدہ اٹھانا چاہے گا تو بیشک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3331] ‏‏‏‏

پھر فرمایا ان دونوں سے یعنی آدم اور حواء سے بہت سے انسان مردو عورت چاروں طرف دنیا میں پھیلا دیئے جن کی قسمیں، صفتیں، رنگ روپ، بول چال میں بہت کچھ اختلاف ہے، جس طرح یہ سب پہلے اللہ تعالیٰ کے قبضے میں تھے اور پھر انہیں اس نے ادھر ادھر پھیلا دیا، ایک وقت ان سب کو سمیٹ کر پھر اپنے قبضے میں کر کے ایک میدان میں جمع کرے گا۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت، عبادت بجا لاتے رہو، اسی اللہ کے واسطے سے اور اسی کے پاک نام پر تم آپس میں ایک دوسرے سے مانگتے ہو، مثلاً یہ کہنا کہ میں تجھے اللہ کو یاد دلا کر اور رشتے کو یاد دلا کر یوں کہتا ہوں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:519/7] ‏‏‏‏ اسی کے نام کی قسمیں کھاتے ہو اور عہد و پیمان مضبوط کرتے ہو، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/7] ‏‏‏‏ اللہ جل شانہ سے ڈر کر رشتوں ناتوں کی حفاظت کرو انہیں توڑو نہیں بلکہ جوڑو صلہ رحمی، نیکی اور سلوک آپس میں کرتے رہو ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:519/7-522] ‏‏‏‏

«ارحام» بھی ایک قرأت میں ہے یعنی اللہ کے نام پر اور رشتے کے واسطے سے، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام احوال اور اعمال سے واقف ہے خوب دیکھ بھال رہا ہے، جیسے اور جگہ ہے: «وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» ۱؎ ‏‏‏‏ [85-البروج:9] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ ہر چیز پر گواہ اور حاضر ہے ‘، صحیح حدیث میں ہے اللہ عزوجل کی ایسی عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:50] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ اس کا لحاظ رکھو جو تمہارے ہر اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے پر نگراں ہے، یہاں فرمایا گیا کہ لوگو تم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو ایک دوسرے پر شفقت کیا کرو، کمزور اور ناتواں کا ساتھ دو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب قبیلہ مضر کے چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چادریں لپیٹے ہوئے آئے کیونکہ ان کے جسم پر کپڑا تک نہ تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ظہر کے بعد وعظ بیان فرمایا جس میں اس آیت کی تلاوت کی پھر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [59-الحشر:18] ‏‏‏‏ کی تلاوت کی، پھر لوگوں کو خیرات کرنے کی ترغیب دی چنانچہ جس سے جو ہو سکا ان لوگوں کے لیے دیا درہم و دینار بھی اور کھجور و گیہوں بھی ۱؎ [صحیح مسلم:1017] ‏‏‏‏ یہ حدیث، مسند اور سنن میں خطبہ حاجات کے بیان میں ہے ۱؎ [سنن ابوداود:2118،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر تین آیتیں پڑھیں جن میں سے ایک آیت یہی «اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ» ہے۔

📖 احسن البیان

اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (1) اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو (2) بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔

📖 القرآن الکریم

سورۂ نساء مدنی ہے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء ایسے زمانے میں نازل ہوئیں جب میں (رخصتی کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آ چکی تھی۔ [ بخاری، فضائل القرآن، باب تألیف القرآن: ۴۹۹۳ ] اس سورت میں عورتوں سے متعلقہ مسائل کی وجہ سے اس کا نام سورۂ نساء ہے۔ (آیت 1) ➊ {خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ:} یعنی پوری نوع انسانی آدم علیہ السلام کی نسل سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و لقد أرسلنا …» : ۳۳۴۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ایک جان سے پیدا کرنے سے یہ توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ تم تمام انسان ایک شخص کی اولاد ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو یہ رشتہ داری کیا کم ہے، اس کا خیال ہی رکھو اور اپنے کمزوروں کی مدد کرتے رہو۔ ➋ {وَ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہوتا ہے، سو اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ بیٹھو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اس طرح فائدہ اٹھا ؤ گے کہ اس میں برابر ٹیڑھا پن ہو گا۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ: ۳۳۳۱، ۵۱۸۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] بعض روایات میں ہے: [وَ كَسْرُهَا طَلاَقُهَا ] ” اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [ مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء: 715/59 بعد ح: ۱۴۶۶۔ بخاری: ۵۱۸۴ ] قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ حواء علیھا السلام آدم علیہ السلام سے پیدا ہوئیں۔ حدیث سے ثابت ہوا کہ پسلی سے پیدا ہوئیں، اس کی کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں کی۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ عورت میں کچھ ٹیڑھا پن رہتا ہی ہے، اس لیے اسے پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، مگر قرآن کے صریح الفاظ کہ آدم سے اس کی بیوی کو پیدا کیا، ان کے ساتھ حدیث ملائیں تو اس کا پسلی سے پیدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہاں، اس کی کجی بھی اپنی جگہ درست ہے۔ ➌ {تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ:} یعنی جس اللہ کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اس اللہ سے ڈرو۔ { ”وَ الْاَرْحَامَ“ } اس کا عطف لفظ {” اللّٰهَ “} پر ہے، یعنی {”وَاتَّقُوا الْأَرْحَامَ“} کہ قطع رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی سے بچو۔ { ”الْاَرْحَامَ“ } کو میم کے کسرہ سے پڑھنا غلط ہے اور قواعد نحویہ کی رو سے بھی ٹھیک نہیں، ہاں معنی کے اعتبار سے صحیح ہے، یعنی جس رشتہ داری کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ (قرطبی) شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام علمائے شریعت و لغت کا اتفاق ہے کہ {”الْاَرْحَامَ“} سے محرم اور غیر محرم تمام رشتے مراد ہیں۔ قرآن و حدیث میں قطع رحمی کی بہت مذمت آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ محمد (۲۲،۲۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتے داری کو توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ [ بخاری، الأدب، باب إثم القاطع: ۵۹۸۴، عن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ] اور فرمایا: ”جو شخص چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کے نشانِ(قدم) دیر تک رکھے جائیں وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [ بخاری، الأدب، باب فضل صلۃ الرحم…: ۵۹۸۳، عن أبی أیوب الأنصاری رضی اللہ عنہ ] ➍ {رَقِيْبًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۵۰۔ مسلم: ۸، عن أبی ہریرۃ و عمر رضی اللہ عنہما ]
← پچھلی آیت پوری سورۃ اگلی آیت (2) →