بتدریج حرمت شراب اور پس منظر ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک رہا ہے کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ساتھ ہی محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے اور ساتھ جنبی شخص جسے نہانے کی حاجت ہو محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ہاں ایسا شخص کسی کام کی وجہ سے مسجد کے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جائے تو جائز ہے۔ نشے کی حالت میں نماز کی قریب نہ جانے کا حکم شراب کی حرمت سے پہلے تھا، جیسے اس حدیث سے ظاہر ہے جو ہم نے سورۃ البقرہ کی «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [2-البقرة:219] کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ آیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تلاوت کی تو آپ نے دعا مانگی کہ اے اللہ! شراب کے بارے میں اور صاف صاف بیان نازل فرما پھر نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانے کی یہ آیت اتری اس پر نمازوں کے وقت اس کا پینا لوگوں نے چھوڑ دیا۔ اسے سن کر بھی سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی دعا مانگی تو «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» * «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» ۱؎ [5-المائدة:90-91] تک نازل ہوئی جس میں شراب سے بچنے کا حکم صاف موجود ہے اسے سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم باز آئے۔ اسی روایت کی ایک سند میں ہے کہ جب سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی اور نشے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ہوئی اس وقت یہ دستور تھا کہ جب نماز کھڑی ہوتی تو ایک شخص آواز لگاتا کہ کوئی نشہ والا نماز کے قریب نہ آئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3670،قال الشيخ الألباني: صحیح]
ابن ماجہ شریف میں ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، ایک انصاری نے بہت سے لوگوں کی دعوت کی ہم سب نے خوب کھایا پیا پھر شرابیں پیں اور مخمور ہو گئے پھر آپس میں فخر جتانے لگے ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھا کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ماری جس سے ناک پر زخم آیا اور اس کا نشان باقی رہ گیا اس وقت تک شراب کو اسلام نے حرام نہیں کیا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی پوری مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1748] ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے دعوت کی لوگ گئے سب نے کھانا کھایا پھر شراب پی اور مست ہو گئے اتنے میں نماز کا وقت آ گیا ایک شخص کو امام بنایا اس نے نماز میں سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» میں اس طرح پڑھا «ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» اس پر یہ آیت اتری اور نشے کی حالت میں نماز کا پڑھنا منع کیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3026،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی، سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما اور تیسرے ایک اور صاحب نے شراب پی اور سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نماز میں امام بنائے گئے اور قرآن کی قرأت خلط ملط کر دی اس پر یہ آیت اتری۔ ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3671،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امامت کی اور جس طرح پڑھنا چاہیئے تھا نہ پڑھ سکے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9525:صحیح بالشواھد] اور ایک روایت میں مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امامت کرائی اور اس طرح پڑھا «قل ایھا الکافرون اعبدما تعبدما تعبدون وانتم عابدون ما اعبدو انا عابد ما عبدتم ما عبدتم لکم دینکم ولی دین» پس یہ آیت نازل ہوئی اور اس حالت میں نماز پڑھنا حرام کر دیا گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9527:صحیح بالشواھد] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت سے پہلے لوگ نشہ کی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے پس اس آیت سے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ [ابن جریر]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے رک گئے پھر شراب کی مطلق حرمت نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے بالکل تائب ہو گئے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے شراب کا نشہ مراد نہیں بلکہ نیند کا خمار مراد ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک یہی ہے کہ مراد اس سے شراب کا نشہ ہے اور یہاں خطاب ان سے کیا گیا ہے جو نشہ میں ہیں لیکن اتنے نشہ میں بھی نہیں کہ احکام شرع ان پر جاری ہی نہ ہو سکیں کیونکہ نشے کی ایسی حالت والا شخص مجنون کے حکم میں ہے۔ بہت سے اصولی حضرات کا قول ہے کہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو کلام کو سمجھ سکیں ایسے نشہ والوں کی طرف نہیں جو سمجھتے ہی نہیں کہ ان سے کیا کہا جا رہا ہے اس لیے کہ خطاب کا سمجھنا شرط ہے تکلیف کی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گو الفاظ یہ ہیں کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو لیکن مراد یہ ہے کہ نشے کی چیز کھاؤ پیو بھی نہیں اس لیے کہ دن رات میں پانچ وقت نماز فرض ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک شرابی ان پانچویں وقت نمازیں ٹھیک وقت پر ادا کر سکے حالانکہ شراب برابر پی رہا ہے۔ «واللہ اعلم» پس یہ حکم بھی اسی طرح ہو گا جس طرح یہ حکم ہے کہ ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا تم مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی تیاری ہر وقت رکھو اور ایسے پاکیزہ اعمال ہر وقت کرتے رہو کہ جب تمہیں موت آئے تو اسلام پر دم نکلے یہ جو اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ یہاں تک کہ تم معلوم کر سکو جو تم کہہ رہے ہو، یہ نشہ کی حد ہے یعنی نشہ کی حالت میں اس شخص کو سمجھا جائے گا جو اپنی بات نہ سمجھ سکے نشہ والا انسان قرات میں غلط ملط کردے گا اسے سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کا موقعہ نہ ملے گا نہ ہی اسے عاجزی اور خشوع خضوع حاصل ہو سکتا ہے۔ مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب تم میں سے اگر کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیئے کہ وہ نماز چھوڑ کر سو جائے جب تک کہ وہ جاننے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:213] بخاری اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے اور اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ممکن ہے کہ چاہے تو وہ اپنے لیے استغفار کرے لیکن اس کی زبان سے اس کے خلاف نکلے۔۱؎ [صحیح بخاری:212]
آداب مسجد اور مسائل تیمم ٭٭
پھر فرمان ہے کہ جنبی نماز کے قریب نہ جائے جب تک غسل نہ کر لے ہاں بطور گزر جانے کے مسجد میں گزرنا جائز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایسی ناپاکی کی حالت میں مسجد میں جانا ناجائز ہے ہاں مسجد کے ایک طرف سے نکل جانے میں کوئی حرج نہیں مسجد میں بیٹھے نہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/382] اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے یزید بن ابوحبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض انصار جو مسجد کے گرد رہتے تھے اور جنبی ہوتے تھے گھر میں پانی نہیں ہوتا تھا اور گھر کے دروازے مسجد سے متصل تھے انہیں اجازت مل گئی کہ مسجد سے اسی حالت میں گزر سکتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/381] بخاری شریف کی ایک حدیث سے بھی یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں کے گھروں کے دروازے مسجد میں تھے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری مرض الموت میں فرمایا تھا کہ مسجد میں جن جن لوگوں کے دروازے پڑتے ہیں سب کو بند کر دو ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔۱؎ [صحیح بخاری:467] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے بعد آپ کے جانشین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے تو انہیں ہر وقت اور بکثرت مسجد میں آنے جانے کی ضرورت رہے گی تاکہ مسلمانوں کے اہم امور کا فیصلہ کر سکیں اس لیے آپ نے سب کے دروازے بند کرنے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ بعض سنن کی اس حدیث میں بجائے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3732،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ بالکل غلط ہے صحیح یہی ہے جو صحیح میں ہے اس آیت سے اکثر ائمہ نے دلیل پکڑی ہے کہ جنبی شخص کو مسجد میں ٹھہرانا حرام ہے ہاں گزر جانا جائز ہے، اسی طرح حیض و نفاس والی عورتوں کو بھی بعض کہتے ہیں ان دونوں کے گزرنا بھی جائز نہیں ممکن ہے مسجد میں آلودگی ہو اور بعض کہتے اگر اس بات کا خوف نہ ہو انکا گزرنا بھی جائز ہے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مسجد سے مجھے بوریا اٹھا دو تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حیض سے ہوں آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:298] اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ مسجد میں آ جا سکتی۔ ہے اور نفاس والی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یہ دونوں بطور راستہ چلنے کے جا سکتی ہیں۔ ابو داؤد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میں حائض اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:232،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ابومسلم خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کو ایک جماعت نے ضعیف کہا ہے کیونکہ ”افلت“ اس کا راوی مجہول ہے۔ لیکن ابن ماجہ میں یہ روایت ہے اس میں افلت کی جگہ مخدوج ذہلی ہیں۔۱؎ [سنن ابن ماجہ:645،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پہلی حدیث بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری بروایت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہے لیکن ٹھیک نام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہی ہے۔ ایک اور حدیث ترمذی میں ہے جس میں ہے کہ اے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مسجد میں جنبی ہونا میرے اور تیرے سوا کسی کو حلال نہیں۔۱؎ [سنن ترمذي:3727،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی اس میں سالم راوی ہے جو متروک ہے اور ان کے استاد عظیہ بھی ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جنبی شخص بغیر غسل کئے نماز نہیں پڑھ سکتا لیکن اگر وہ مسافر ہو اور پانی نہ ملے تو پانی کے ملنے تک پڑھ سکتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما سے بھی یہی مروی ہے، مجاہد، حسن، حکم، زید اور عبدالرحمٰن رحمہ اللہ علیہم سے بھی اس کے مثل مروی ہے۔ عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سنا کرتے تھے کہ یہ آیت سفر کے حکم میں ہے، اس حدیث سے بھی مسئلہ کی شہادت ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پاک مٹی مسلمان کی طہارت ہے گو دس سال تک پانی نہ ملے اور جب مل جائے تو اسی کو استعمال کرے یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] [سنن اور احمد]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں اولیٰ قول ان ہی لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں مراد بطور گزر جانے کے کیونکہ جس مسافر کو جنابت کی حالت میں پانی نہ ملے اس کا حکم تو آگے صاف بیان ہوا ہے پس اگر یہی مطلب یہاں بھی لیا جائے تو پھر دوسرے جملہ میں اسے لوٹانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی پس معنی آیت کے اب یہ ہوئے کہ ایمان والو! نماز کے لیے مسجد میں نہ جاؤ جب کہ تم نشے میں ہو جب تک تم اپنی بات کو آپ نہ سمجھنے لگو۔ اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں نہ جاؤ جب تک نہا نہ لو ہاں صرف گزر جانا جائز ہے «عابر» کے معنی آنے جانے یعنی گزر جانے والے ہیں اس کا مصدر «عبراً» اور «عبورًا» آتا ہے جب کوئی نہر سے گزرے تو عرب کہتے ہیں «عبرفلان النھر» فلاں شخص نے نہر کو عبور کر لیا اسی طرح قوی اونٹنی کو جو سفر کاٹتی ہو «عبرالاسفار» کہتے ہیں۔ امام ابن جیریر رحمہ اللہ جس قول کی تائید کرتے ہیں یہی قول جمہور کا ہے اور آیت سے ظاہر بھی یہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس ناقص حالت میں نماز سے منع فرما رہا ہے جو مقصود نماز کے خلاف ہے اسی طرح نماز کی جگہ میں بھی ایسی حالت میں آنے کو روکتا ہے جو اس جگہ کی عظمت اور پاکیزگی کے خلاف ہے۔ «واللہ اعلم» پھر جو فرمایا کہ یہاں تک کہ تم غسل کر لو امام ابوحنیفہ، امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم اسی دلیل کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جنبی کو مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے جب تک غسل نہ کر لے یا اگر پانی نہ ملے یا پانی ہو لیکن اس کے استعمال کی قدرت نہ ہو تو تیمم کر لے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب جنبی نے وضو کر لیا تو اسے مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے چنانچہ مسند احمد اور سنن سعید بن منصور میں مروی ہے۔ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ جنبی ہوتے اور وضو کر کے مسجد میں بیٹھے رہتے۔ «واللہ اعلم»
پھر تیمم کے مواقع بیان فرمائے جس بیماری کی وجہ سے تیمم جائز ہو جاتا ہے وہ وہ بیماری ہے کہ اس وقت پانی کے استعمال سے عضو کے فوت ہو جانے یا اس کے خراب ہو جانے یا مرض کی مدت بڑھ جانے کا خوف ہو۔ بعض علماء نے ہر مرض پر تیمم کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے کیونکہ آیت میں عموم ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک انصاری بیمار تھے نہ تو کھڑے ہو کر وضو کر سکتے تھے، نہ ان کا کوئی خادم تھا جو انہیں پانی دے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اس پر یہ حکم اترا یہ روایت مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:3/5365:مرسل و ضعیف] دوسری حالت میں تیمم کے جواز کی وجہ سفر ہے خواہ لمبا سفر اور خواہ چھوٹا۔ «غائط» نرم زمین کو یہاں سے کنایہ کیا گیا ہے پاخانہ پیشاب سے۔ «لَامَسْتُمُ» کی دوسری قرأت «لمَسْتُمُ» ہے اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ مراد جماع ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ» ۱؎ [2-البقرة:237] یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو مجامعت سے پہلے طلاق دو اور ان کا مہر مقرر ہو تو جو مقرر ہے اس کا آدھا دو اور آیت میں ہے، اے ایمان والو! جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو پھر مجامعت سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو ان کے ذمہ عدت نہیں، یہاں بھی لفظ «مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ» ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ» سے مراد مجامعت ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392] سیدنا علی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما مجاہد، طاؤس، حسن، عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، شعبی، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392] سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ اس لفظ پر مذاکرہ ہوا تو چند موالی نے کہا یہ جماع نہیں اور چند عرب نے کہا جماع ہے، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا آپ نے پوچھا تم کن کے ساتھ تھے میں نے کہا موالی کے فرمایا موالی مغلوب ہو گئے لمس اور مس اور مباشرت کا معنی جماع ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں کنایہ کیا ہے۔
بعض اور حضرات نے اس سے مراد مطلق چھونا لیا ہے۔ خواہ جسم کے کسی حصہ کو عورت کے کسی حصہ سے ملایا جائے تو وضو کرنا پڑے گا۔ «لمس» سے مراد چھونا ہے اور اس سے بھی وضو واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «لمس» جماع کے ہم معنی نہیں، آپ فرماتے ہیں بوسہ بھی «لمس» میں داخل ہے اور اس سے بھی وضو کرنا پڑے گا فرماتے ہیں مباشرت سے ہاتھ لگانے سے بوسہ لینے سے وضو کرنا پڑے گا۔ «لمس» سے مراد چھونا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی عورت کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کے قائل تھے اور اسے «لمس» میں داخل جانتے تھے۔ عبیدہ، ابوعثمان، ثابت، ابراہیم، زید رحمہ اللہ علیہم بھی کہتے ہیں کہ «لمس» سے مراد جماع کے علاوہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انسان کا اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے ہاتھ لگانا ملامست ہے اس سے وضو کرنا پڑے گا۔ ۱؎ [موطا:64] دارقطنی میں خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن دوسری روایت آپ سے اس کے خلاف بھی پائی جاتی ہے آپ باوضو تھے،آپ نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا پھر وضو نہ کیا اور نماز ادا کی۔ پس دونوں روایتوں کو صحیح ماننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آپ وضو کو مستحب جانتے تھے واللہ اعلم۔
مطلق چھونے سے وضو کے قائل امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی امام مالک رحمہ اللہ ہیں اور مشہور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔ اس قول کے قائل کہتے ہیں کہ یہاں دو قرأتیں ہیں «لَامَسْتُمُ» اور «لمَسْتُمُ» اور لمس کا اطلاق ہاتھ لگانے پر بھی قرآن کریم میں آیا ہے چنانچہ ارشاد ہے «وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [6-الأنعام:7] ظاہر ہے کہ یہاں ہاتھ لگانا ہی مراد ہے۔ اسی طرح سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ شاید تم نے بوسہ لیا ہو گا ہاتھ لگایا ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6844] وہاں بھی لفظ «لَمَسْتُ» ہے۔ اور صرف ہاتھ لگانے کے معنی میں ہی اور حدیث میں ہے «والیدز ناھا اللمس» ہاتھ کا ”زنا“ چھونا اور ہاتھ لگانا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:8/238:صحیح] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بہت کم دن ایسے گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ کر بوسہ نہ لیتے ہوں اور ہاتھ نہ لگاتے ہوں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح] بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامست سے منع فرمایا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2144] یہ بھی ہاتھ لگانے کے بیع ہے پس یہ لفظ جس طرح جماع پر بولا جاتا ہے، ہاتھ سے چھونے پر بھی بولا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے «ولمست کفی کفہ اطلب الغنی» میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملا تو میں تونگری چاہتا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ اے اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ ہے جو ایک اجنبی عورت کے ساتھ تمام وہ کام کرتا ہے جو میاں بیوی میں ہوتے ہیں سوائے جماع کے تو «وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ» ۱؎ [11-هود:114] نازل ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وضو کر کے نماز ادا کر لے“، اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لیے عام ہے آپ جواب دیتے ہیں تمام ایمان والوں کے لیے ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3113،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے زائدہ کی حدیث سے روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند متصل نہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ اسے مرسلاً روایت کرتے ہیں الغرض اس قول کے قائل اس حدیث سے یہ کہتے ہیں کہ اسے وضو کا حکم اسی لیے دیا تھا کہ اس نے عورت کو چھوا تھا جماع نہیں کیا تھا۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اولاً تو یہ منقطع ہے ابن ابی لیلیٰ اور معاذ کے درمیان ملاقات کا ثبوت نہیں دوسرے یہ کہ ہو سکتا ہے اسے وضو کا حکم فرض نماز کی ادائیگی کے لیے دیا ہو جیسے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ جو بندہ کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یہ پوری حدیث سورۃ آل عمران میں «ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ» ۱؎ [3-آل عمران:135] کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں سے اولیٰ قول ان کا ہے جو کہتے ہیں کہ مراد اس سے جماع نہ کہ اور کیونکہ صحیح مرفوع حدیث میں آ چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کا بوسہ لیا اور بغیر وضو کئے نماز پڑھی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9634] ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے بوسہ لیتے پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔
حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے نماز کو جاتے، میں نے کہا وہ آپ ہی ہوں گی تو آپ مسکرا دیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:86،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند میں کلام ہے لیکن دوسری سندوں سے ثابت ہے کہ اوپر کے راوی یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سننے والے سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ { وضو کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز ادا کی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:178،قال الشيخ الألباني:صحیح] { ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے، پھر نہ تو روزہ جاتا، نہ نیا وضو کرتے }۔ ۱؎ [الطبری:9638:ضعیف] [ابن جریر] { سیدہ زینت بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لینے کے بعد وضو نہ کرتے اور نماز پڑھتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:62/6:ضعیف]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اس سے اکثر فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ پانی نہ پانے والے کے لیے تیمم کی اجازت پانی کی تلاش کے بعد ہے۔ کتب فروع میں تلاش کی کیفیت بھی لکھی ہے بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ الگ تھلگ ہے اور لوگوں کے ساتھ اس نے نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تو نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کیا تو مسلمان نہیں؟“، اس نے کہا: یا رسول اللہ! ہوں تو مسلمان لیکن جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس صورت میں تجھے مٹی کافی ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:348] «تیمم» کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «تیممک اللہ بحفظہ» یعنی اللہ اپنی حفاظت کے ساتھ تیرا قصد کرے، امراء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔ «صعید» کے معنی میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو زمین میں سے اوپر کو چڑھے پس اس میں مٹی، ریت، درخت، پتھر، گھاس بھی داخل ہو جائیں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور کہا گیا ہے کہ جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے ریت ہڑتال اور چونا یہ مذہب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف مٹی ہے مگر یہ قول ہے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہما اور ان کے تمام ساتھیوں کا ہے اس کی دلیل ایک تو قرآن کریم کے یہ الفاظ ہیں «فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا» ۱؎ [18-الكهف:40] یعنی ہو جائے وہ مٹی پھسلتی۔
دوسری دلیل صحیح مسلم شریف کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں تمام لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، ہماری صفیں مثل فرشتوں کی صفوں کی ہیں، ہمارے لیے تمام زمین مسجد بنائی گئی اور زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک اور پاک کرنے والی بنائی گئی جبکہ ہم پانی نہ پائیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:522] اور ایک سند سے بجائے «تربت» کے «تراب» کا لفظ مروی ہے۔ پس اس حدیث میں احسان کے جتاتے وقت مٹی کی تخصیص کی گئی، اگر کوئی اور چیز بھی وضو کے قائم مقام کام آنے والی ہوتی تو اس کا ذکر بھی ساتھ ہی کر دیتے۔ یہاں یہ لفظ «طیب» اسی کے معنی میں آیا ہے۔ مراد حلال ہے اور کہا گیا ہے کہ مراد پاک ہے، جیسے حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پاک مٹی مسلمانوں کا وضو ہے گو دس سال تک پانی نہ پائے،، پھر جب پانی ملے تو اسے اپنے جسم سے بہائے یہ اس کے لیے بہتر ہے“، ۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہ