بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النساء — Surah Nisa
آیت نمبر 36
کل آیات: 176
قرآن کریم النساء آیت 36
آیت نمبر: 36 — سورۃ النساء islamicurdubooks.com ↗
وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ﴿ۙ۳۶﴾
اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے
اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا
اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بیشک اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والے بڑائی مارنے والا
اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور قریبی ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ اور پہلو میں بیٹھنے والے رفیق اور مسافر، اپنے مملوکہ (غلاموں کنیزوں) کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ بے شک اللہ مغرور و متکبر اور شیخی بگھارنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حقوق العباد اور حقوق اللہ ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے اور اپنی توحید کے ماننے کو فرماتا ہے اور اپنے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے روکتا ہے اس لیے کہ جب خالق رزاق نعمتیں دینے والا تمام مخلوق پر ہر وقت اور ہر حال میں انعام کی بارش برسانے والا صرف وہی ہے تو لائق عبادت بھی صرف وہی ہوا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جانتے ہو اللہ عزوجل کا حق بندوں پر کیا ہے؟“ آپ جواب دیتے ہیں اللہ اور اس کا رسول بہت زیادہ جاننے والے ہیں آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ اسی کی عبادت کریں اسی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں“، پھر فرمایا: ”جانتے ہو جب بندے یہ کریں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے؟ یہ کہ انہیں وہ عذاب نہ کرے“ ۱؎ [صحیح بخاری:6500] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ماں باپ کے ساتھ احسان کرتے رہو وہی تمہارے عدم سے وجود میں آنے کا سبب بنے ہیں۔ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی ماں باپ سے سلوک و احسان کرنے کا حکم دیا ہے جیسے فرمایا «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ» ۱؎ [31-لقمان:14] ‏‏‏‏ اور «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] ‏‏‏‏ یہاں بھی یہ بیان فرما کر پھر حکم دیتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں سے بھی سلوک و احسان کرتے رہو۔ حدیث میں ہے مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہی ہے لیکن قریبی رشتہ داروں کو دینا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی،۱؎ [سنن ترمذي:685،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر حکم ہوتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ بھی سلوک و احسان کرو اس لیے کہ ان کی خبرگیری کرنے والا ان کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرنے والا ان کے ناز، لاڈ اٹھانے والا نہیں محبت کے ساتھ کھلانے پلانے والا ان کے سر سے اٹھ گیا ہے۔ پھر مسکینوں کے ساتھ نیکی کرنے کا ارشاد کیا کہ وہ حاجت مند ہے ہاتھ میں محتاج ہیں ان کی ضرورتیں تم پوری کرو ان کی احتیاج تم رفع کرو ان کے کام تم کر دیا کرو۔ فقیرو مسکین کا پورا بیان سورۃ براۃ کی تفسیر میں آئے گا۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»

پڑوسیوں کے حقوق ٭٭

اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو ان کے ساتھ بھی برتاؤ اور نیک سلوک رکھو خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہود و نصرانی ہوں یہ بھی کہا گیا ہے کہ «الْجَارِ ذِي الْقُرْبَى» سے مراد بیوی ہے اور «الْجَارِ الْجُنُبِ» سے مراد مرد رفیق سفر ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:341/8] ‏‏‏‏ پڑوسیوں کے حق میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں کچھ سن لیجئے۔ مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسیوں کے بارے میں یہاں تک وصیت و نصیحت کرتے ہیں کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید یہ پڑوسیوں کو وارث بنا دیں گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6015] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں: { ”بہتر ساتھی اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ہمراہیوں کے ساتھ خوش سلوک زیادہ ہو اور پڑوسیوں میں سے سب سے بہتر اللہ کے نزدیک وہ ہے جو ہمسایوں سے نیک سلوک میں زیادہ ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1944،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ فرماتے ہیں: { ”انسان کو نہ چاہیئے کہ اپنے پڑوسی کی آسودگی بغیر خود شکم سیر ہو جائے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:1/54:منقطع ولہ شواھد] ‏‏‏‏ { ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے سوال کیا: ”زنا کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: وہ حرام ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے اسے حرام کیا ہے اور قیامت تک وہ حرام ہی رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو دس عورتوں سے زناکاری کرنے والا اس شخص کے گناہ سے کم گنہگار ہے جو اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرے“، پھر دریافت فرمایا: ”تم چوری کی نسبت کیا کہتے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور وہ بھی قیامت تک حرام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو دس گھروں سے چوری کرنے والے گناہ کا اس شخص کے گناہ سے ہلکا ہے جو اپنے پڑوسی کے گھر سے کچھ چرالے“ }۔۱؎ [مسند احمد:8/6،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی ایک نے تجھے پیدا کیا ہے“، میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زناکاری کرے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6001] ‏‏‏‏ { ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے چلا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب کھڑے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہیں میں نے خیال کیا کہ شاید انہیں آپ سے کچھ کام ہو گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور ان سے باتیں ہو رہی ہیں بڑی دیر ہو گئی یہاں تک کہ مجھے آپ کے تھک جانے کے خیال نے بےچین کر دیا بہت دیر کے بعد آپ لوٹے اور میرے پاس آئے میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اس شخص نے تو آپ کو بہت دیر کھڑا رکھا میں تو پریشان ہو گیا آپ کے پاوں تھک گئے ہوں گے، آپ نے فرمایا: ”اچھا تم نے انہیں دیکھا“، میں نے کہا: ہاں خوب اچھی طرح دیکھا فرمایا: ”جانتے ہو وہ کون تھے؟ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، مجھے پڑوسیوں کے حقوق کی تاکید کرتے رہے یہاں تک ان کے حقوق بیان کئے کہ مجھے کھٹکا ہوا کہ غالباً آج تو پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے“ } ۱؎ [مسند احمد:5/32،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند عبد بن حمید میں ہے { سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص عوالی مدینہ سے آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام اس جگہ نماز پڑھ رہے تھے جہاں جنازوں کی نماز پڑھی جاتی ہے جب آپ فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دوسرا شخص کون نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم نے انہیں دیکھا؟“ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: ”تو نے بہت بڑی بھلائی دیکھی یہ جبرائیل تھے مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ عنقریب اسے وارث بنا دیں گے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:1897:صحیح بالشواھد] ‏‏‏‏

آٹھویں حدیث بزار میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی تین قسم کے ہیں ایک حق والے یعنی ادنی، دو حق والے اور تین حق والے یعنی اعلیٰ، ایک حق والا وہ ہے جو مشرک ہو اور اس سے رشتہ داری نہ ہو، دو حق والا وہ ہے جو مسلمان ہو اور رشتہ دار نہ ہو، ایک حق اسلام دوسرا حق پڑوس، تین حق والا وہ ہے جو مسلمان بھی ہو پڑوسی بھی ہو اور رشتے ناتے کا بھی ہو تو حق اسلام کا حق ہمسائیگی حق صلہ رحمی تین تین حق اس کے ہو گئے“ }۔ ۱؎ [مسند بزار:1896:ضعیف] ‏‏‏‏ نویں حدیث مسند احمد میں ہے { سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں میں ایک کو ہدیہ بھیجنا چاہتی ہوں تو کسے بھجواؤں؟ آپ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ قریب ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2259] ‏‏‏‏ دسویں حدیث طبرانی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا لوگوں نے آپ کے وضو کے پانی کو لینا اور ملنا شروع کیا آپ نے پوچھا: ایسا کیوں کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں، آپ نے فرمایا: ”جسے یہ خوش لگے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیئے کہ جب بات کرے سچ کرے اور جب امانت دیا جائے تو ادا کرے“ }۔ (‏‏‏‏تفسیر ابن کثیر میں یہ حدیث یہیں پر ختم ہے لیکن شاید اگلا جملہ اس کا سہوا رہ گیا ہے جس کا صحیح تعلق اس مسئلہ سے ہے وہ یہ کہ اسے چاہیئے پڑوسی کے ساتھ سلوک و احسان کرے۔ مترجم)۔ ۱؎ [بیہقی:2/1533،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ گیارھویں حدیث مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن سب سے پہلے جو جھگڑا اللہ کے سامنے پیش ہو گا وہ دو پڑوسیوں کا ہو گا}۔۱؎ [مسند احمد:4/151،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

پھر حکم ہوتا ہے «الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ» کے ساتھ سلوک کرنے کا۔ اس سے مراد بہت سے مفسرین کے نزدیک عورت ہے اور بہت سے فرماتے ہیں مراد سفر کا ساتھی ہے اور یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد دوست اور ساتھی ہے عام اس سے کہ سفر میں وہ یا قیام کی حالت میں «ابن السبیل» سے مراد مہمان ہے اور یہ بھی جو سفر میں کہیں ٹھہر گیا ہو اگر مہمان بھی یہاں مراد لی جائے کہ سفر میں جاتے جاتے مہمان بنا تو دونوں ایک ہو گئے، اس کا پورا بیان سورۃ براۃ کی تفسیر میں آ رہا ہے۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ»

غلاموں کے بارے میں احکامات ٭٭

پھر غلاموں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ بھی نیک سلوک رکھو اس لیے کہ وہ غریب تمہارے ہاتھوں اسیر ہے اس پر تو تمہارا کامل اختیار ہے تو تمہیں چاہیئے کہ اس پر رحم کھاؤ اور اس کی ضروریات کا اپنے امکان بھر خیال رکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے آخری مرض الموت میں بھی اپنی امت کو اس کی وصیت فرما گئے فرماتے ہیں: { ”لوگو نماز کا اور غلاموں کا خوب خیال رکھنا باربار اسی کو فرماتے رہے یہاں تک کہ زبان رکنے لگی“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1625،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

مسند کی حدیث میں ہے { آپ فرماتے ہیں تو جو خود کھائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنے بچوں کو کھلائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنی بیوی کھلائے وہ بھی صدقہ ہے جو اپنے خادم کو کھلائے وہ بھی صدقہ ہے }۔۱؎ [مسند احمد:131/4:حسن] ‏‏‏‏ مسلم میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ دراوغہ سے فرمایا کہ کیا غلاموں کو تم نے ان کی خوراک دے دی؟ اس نے کہا اب تک نہیں دی فرمایا جاؤ دے کر آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انسان کو یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی خوراک کا وہ مالک ہے ان سے روک رکھے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:996] ‏‏‏‏ مسلم میں ہے { مملوکہ ماتحت کا حق ہے کہ اسے کھلایا پلایا پہنایا اڑھایا جائے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام اس سے نہ لیا جائے}۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1662] ‏‏‏‏ بخاری شریف میں ہے { جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے تو تمہیں چاہیئے کہ اگر ساتھ بٹھا کر نہیں کھلاتے تو کم از کم اسے لقمہ دو لقمہ دے دو خیال کرو کہ اس نے پکانے کی گرمی اور تکلیف اٹھائی ہے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5460] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { چاہیئے تو یہ کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے اور اگر کھانا کم ہو تو لقمہ دو لقمے ہی دے دیا کرو، آپ فرماتے ہیں تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کر دیا ہے پس جس کے ہاتھ تلے اس کا بھائی ہو اسے اپنے کھانے سے کھلائے اور اپنے پہننے میں سے پہنائے اور ایسا کام نہ کرے کہ وہ عاجز ہو جائے اگر کوئی ایسا ہی مشکل کام آ پڑے تو خود بھی اس کا ساتھ دے}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:30] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ خود بین، معجب، متکبر، خود پسند، لوگوں پر اپنی فوقیت جتانے والا، اپنے آپ کو تولنے والا اپنے تیئں دوسروں سے بہتر جاننے والا اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں، وہ گو اپنے آپ کو بڑا سمجھے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ذلیل ہے لوگوں کی نظروں میں وہ حقیر ہے بھلا کتنا اندھیر ہے کہ خود تو اگر کسی سے سلوک کرے تو اپنا احسان اس پر رکھے لیکن رب کی نعمتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہیں شکر بجا نہ لائے لوگوں میں بیٹھ کر فخر کرے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں میرے پاس یہ بھی ہے اور وہ بھی ہے۔ ابورجاہروی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر بدخلق متکبر اور خود پسند ہوتا ہے پھر اسی آیت کو تلاوت کیا اور فرمایا ہر ماں باپ کا نافرمان سرکش اور بدنصیب ہوتا ہے پھر آپ نے آیت «‏‏‏‏وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا» ۱؎‏‏‏‏ [19-مريم:32] ‏‏‏‏ پڑھی، عوام بن حوشب رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ مطرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ملی تھی میرے دل میں تمنا تھی کہ کسی وقت خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر اس روایت کو انہی کی زبانی سنوں چنانچہ ایک مرتبہ ملاقات ہو گئی تو میں نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان فرماتے ہیں کہ { اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں یہ سچ ہے میں بھلا اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہوں؟ میں نے کہا اچھا پھر وہ تین کون ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دشمن رکھتا ہے۔ آپ نے اسی آیت «إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا» ۱؎‏‏‏‏ [4-النساء:36] ‏‏‏‏ کی تلاوت کی اور فرمایا اسے تو تم کتاب اللہ میں پاتے بھی ہو } ۱؎‏‏‏‏ [تفسیر ابن جریر الطبری:3/5313:صحیح] ‏‏‏‏ بنو ہجیم کا ایک شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے { مجھے کچھ نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا کپڑا ٹخنے سے نیچا نہ لٹکاؤ کیونکہ یہ تکبر اور خود پسندی ہے جسے اللہ ناپسند رکھتا ہے}۔ ۱؎‏‏‏‏ [سنن ترمذي:2721:صحیح] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

36۔ 1 الجار، الجنب، قرابت دار پڑوسی کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن و سلوک کیا جائے رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار، جس طرح کہ حدیث میں بھی اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔ 36۔ 2 اس سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص ہے جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت و ہم نشینی اختیار کرے بلکہ اسکی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم، تعلم صناعت (کوئی کام سیکھنے) کے لئے یا کسی کاروباری سلسلہ میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے (فتح القدیر) 36۔ 3 اس میں گھر، دکان اور کارخانوں، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے ہیں۔ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید حدیث میں آئی ہے۔ 36۔ 4 فخر و غرور اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے بلکہ ایک حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ " وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔ " (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ حدیث نمبر۔ 91) یہاں کبر کی بطور خاص مذمت سے یہ مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور جن جن لوگوں سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ اس پر عمل وہی شخص کرسکتا ہے جس کا دل کبر سے خالی ہوگا۔ متکبر اور مغرور شخص صحیح معنوں میں نہ حق عبادت ادا کرسکتا ہے اور نہ اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ حسن سلوک کا اہتمام۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 36) ➊ {وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ:} میاں بیوی کے معاملات کے بعد دوسرے حقوق والوں کے ساتھ احسان کا ذکر ہے، مگر ابتدا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم اور شرک سے منع کرنے سے کی ہے، کیونکہ ہر کام کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، جیسا کہ اس سورت کا موضوع عموماً عورتوں کے مسائل ہیں، مگر سورت کی ابتدا «{ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ }» سے کی ہے۔ (ابن عاشور) ➋ { وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا:} یعنی کسی چیز کو کسی صورت میں اس کا شریک نہ بنانا۔ اس کا شریک نہ بنانا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک و مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک قرار نہ دیا جائے، تمام مرادیں اور حاجات اسی سے مانگی جائیں کہ وہی عالم میں متصرف ہے، کوئی اور نہیں۔ ➌ {وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا:} توحید کا حکم دینے کے بعد درجہ بدرجہ رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے حقوق بیان فرمائے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اول حق اللہ تعالیٰ کا، پھر ماں باپ کا اور پھر ان سب کا درجہ بدرجہ۔“(موضح) انسان کے عدم سے وجود میں آنے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بعد ماں باپ بنتے ہیں، اس لیے ان کا حق پہلے رکھا۔ ➍ {وَ بِذِي الْقُرْبٰى:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ، صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“ [ ترمذی، الزکاۃ، باب ما جاء فی الصدقۃ…:۶۵۸ ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پسند کرے کہ اس کے لیے اس کا رزق فراخ کیا جائے اور اس کے نشان قدم میں تاخیر کی جائے تو چاہیے کہ وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب صلۃ الرحم…: 2557/21 ] ➎ { وَ الْيَتٰمٰى:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی کو ملا کر بتایا۔ [ بخاری، الأدب، باب فضل من یعول یتیمًا: ۶۰۰۵، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➏ مسکین کی تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۶۰)۔ ➐ { وَ الْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ:} قرابت والے ہمسائے سے مراد رشتے دار ہمسایہ ہے اور اجنبی ہمسائے سے مراد غیر رشتے دار ہمسایہ ہے۔ ہمسائیگی کے حقوق کی نگہداشت میں متعدد احادیث وارد ہیں، ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام مجھے ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث قرار دے دیں گے۔“ [ بخاری، الأدب، باب الوصاءۃ بالجار: ۶۰۱۵، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا۔“ صحابہ نے پوچھا: ”کون شخص؟“ فرمایا: ”وہ شخص جس کی ایذا رسانیوں سے اس کا ہمسایہ بے خوف نہ ہو۔“ [ بخاری، الأدب، باب إثم من لا یأمن جارہ بوائقہ: ۶۰۱۶، عن أبی شریح رضی اللہ عنہ ] ➑ { وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ:} پہلو کے ساتھی سے ہم نشین دوست، سفر کا ساتھی، بیوی، علم سیکھنے کے لیے آنے والے یا کاروباری سلسلے میں پاس آ بیٹھنے والے سب مراد ہیں۔ ➒ { وَ ابْنِ السَّبِيْلِ:} مسافر سے مراد اکثر سلف کے نزدیک مہمان بھی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا اکرام (عزت افزائی) کرے۔“ [ بخاری، الأدب، باب من کان یؤمن…: ۶۰۱۸، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ➓ {وَ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ:} اس سے مراد غلام اور لونڈیاں ہیں، کیونکہ وہ ملکیت میں ہونے کی وجہ سے بالکل ہی بے بس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”نماز اور تمھارے غلام (ان دونوں کا خاص خیال رکھنا)۔“ [ أبو داوٗد، الأدب، باب فی حق المملوک: ۵۱۵۶، عن علی رضی اللہ عنہ ] آج کل اگرچہ کفار نے زنا پھیلانے اور دوسرے مذموم مقاصد کے لیے غلامی کو ختم کر دیا ہے اور جنگوں میں گرفتار ہونے والی عورتوں کو غلامی کی صورت میں ایک ایک آدمی کی ملکیت میں دینے کی بجائے کیمپوں میں رکھ کر ان پر فوجیوں کے ظلم و جبر اور آبرو ریزی کا دروازہ کھولا ہے، پھر نہ ان بیچاریوں کا کوئی غم خوار یا ذمہ دار ہوتا ہے نہ ان کی اولاد کا کوئی باپ، جب کہ غلامی کی صورت میں وہ ایک مالک کی غلامی میں رہ کر اس کی اولاد کی ماں بن کر عزت حاصل کرتی ہیں۔ مگر اس آیت پر عمل کرنے کے لیے آدمی کے ماتحت افراد جو اگرچہ غلام نہیں، حسن سلوک کے حق دار ہیں، مثلاً گھر، دکان اور کارخانوں کے ملازم اور نوکر چاکر وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کو اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن لوگوں کی خوراک کا مالک ہے ان کی خوراک روک لے۔“ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب فضل النفقۃ…: ۹۹۶، عن ابن عمرو رضی اللہ عنھما ] ⓫ { مُخْتَالًا فَخُوْرًا: ”مُخْتَالًا“ } جو خرچ کرنے سے پہلے متکبر ہو اور {”فَخُوْرًا“} جو خرچ کرنے کے بعد فخر کرے۔ معلوم ہوا متکبر اور فخر کرنے والا نام و نمود کے لیے خرچ کرے گا، مگر اللہ کی خاطر خرچ نہیں کر سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت نہیں رکھتا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اکڑنے والے، شیخی باز بخیل ہوتے ہیں، کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتے کہ اس پر خرچ کریں۔ حقیقی سخی متواضع ہوتے ہیں۔ جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرمائیے۔“ تو آپ نے (چند اہم امور کا تذکرہ کرنے کے بعد) فرمایا: ”تہ بند کو نیچے نہ لٹکاؤ، کیونکہ تہ بند کا (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ [ أحمد: 64/5، ح: ۲۰۶۶۳ ]
← پچھلی آیت (35) پوری سورۃ اگلی آیت (37) →