قَسم ہے ان (فرشتوں) کی جو (جسم میں ڈوب کر) سختی سے (جان) کھینچتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر سختی سے ( جان) کھینچ لینے والے ہیں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
ڈوب کر سختی سے کھنچنے والوں کی قسم (1)
(آیت 2،1) {وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا …: ” النّٰزِعٰتِ “} اور {” النّٰشِطٰتِ “} سے مراد سختی اور آسانی کے ساتھ جان نکالنے والے فرشتے ہیں۔ اگرچہ ان الفاظ کی تفسیریں اور بھی کی گئی ہیں، مگر تفسیر طبری میں حسن سندوں کے ساتھ ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے یہی تفسیر مروی ہے اور صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ مسند احمد میں براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِّنَ الدُّنْيَا… ثُمَّ يَجِيْءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتّٰی يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُوْلُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ! اخْرُجِيْ إِلٰی مَغْفِرَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ قَالَ فَتَخْرُجُ تَسِيْلُ كَمَا تَسِيْلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ… وَ إِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِّنَ الدُّنْيَا… ثُمَّ يَجِيْءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتّٰی يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُوْلُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيْثَةُ! اخْرُجِيْ إِلٰی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتَفْرُقُ فِيْ جَسَدِهِ فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ ] [مسند أحمد: ۴ /۲۸۷،۲۸۸، ح: ۱۸۵۶۱] ”اور مومن آدمی جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے… تو ملک الموت علیہ السلام اس کے سر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: ”اے پاکیزہ جان! اللہ کی مغفرت اور رضا کی طرف نکل آ۔“ تو وہ اس طرح نکل آتی ہے جس طرح مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے… اور کافر جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے… تو ملک الموت اس کے سر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: ”اے خبیث جان! اللہ کی ناراضی اور غصے کی طرف نکل آ۔“ تو وہ جسم میں بکھر جاتی ہے تو وہ اسے اس طرح سختی سے کھینچ کر نکالتا ہے جس طرح بھیگی ہوئی اون سے گرم سلاخ کھینچ کر نکالی جاتی ہے۔“ مشکوٰۃ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ {” النّٰزِعٰتِ “} سختی سے کھینچ کر نکالنے والے۔“ {” غَرْقًا “} ”ڈوب کر۔“ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو کفار کی جان ڈوب کر یعنی ان کے بدن کے ہر حصے میں پہنچ کر سختی سے کھینچ کر نکالتے ہیں، جب کہ وہ نکلنا نہیں چاہتی۔ {” النّٰشِطٰتِ “ ”نَشَطَ الْعِقَالَ“} (ن) رسی کی گرہ کھولنا۔ فرشتے مسلمان کی روح گرہ کھول کر نکالتے ہیں اور وہ خوشی سے اللہ کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑتی ہے۔ کافر اور مومن کا یہ فرق روح کی حالت میں ہے، بدن کی تکلیف الگ ہے، اس میں مسلمان اور کافر برابر ہیں۔ (خلاصہ موضح)
اور قَسم ہے آہستگی اور آسانی سے (جان) نکالنے والوں کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو بند کھولنے والے ہیں! آسانی سے کھولنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
2۔ 1 نَشْط کے معنی گرہ کھول دینا، یعنی مومنوں کی جان فرشتے بہ سہولت سے نکالتے ہیں جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!
احمد رضا خان بریلوی
اور آسانی سے پیریں
علامہ محمد حسین نجفی
اور قَسم ہے (فضاؤں کے اندر) تیر نے پھرنے والوں کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو تیرنے والے ہیں! تیزی سے تیرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
3۔ 1 سَبْح کے معنی تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتے ہیں یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔
(آیت 4،3){ وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا ……: ” سَبَحَ يَسْبَحُ سَبْحًا“} (ف) تیرنا۔ {” السّٰبِحٰتِ “} تیرنے والے۔ {” سَبْحًا “} مصدر تاکید کے لیے ہے، ترجمہ میں یہ مفہوم ”خوب تیزی سے“ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔ مراد وہ فرشتے ہیں جو احکامِ الٰہی کی تعمیل کے لیے تیزی سے آسمان میں تیرتے ہوئے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔
پھر قَسم ہے (تعمیلِ حکم میں) ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والوں کی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو آگے نکلنے والے ہیں! آگے بڑھ کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
4۔ 1 یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیاء تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی خبر نہ لگے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
پھر (احکام الٰہی کے مطابق) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!
احمد رضا خان بریلوی
پھر کام کی تدبیر کریں
علامہ محمد حسین نجفی
پھر قَسم ہے ہر امر کا بندوبست کرنے والوں کی (کہ قیامت برحق ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو کسی کام کی تدبیر کرنے والے ہیں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
5۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ جو کام سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہا جاتا ہے۔
(آیت 5){ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا:} پھر دین و دنیا کے جس کام کا انھیں حکم دیا ہوتا ہے اس کی تدبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے یا تو ان کی ندرت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے یا انھیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی شہادت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں جواب قسم صاف لفظوں میں مذکور نہیں مگر قیامت کے احوال ذکر کرنے سے خود بخود سمجھ میں آرہا ہے کہ یہ قسمیں اس بات کا یقین دلانے کے لیے کھائی گئی ہیں کہ قیامت قائم ہو کر رہے گی۔ اہلِ عرب فرشتوں کا اللہ کی طرف سے قبضِ ارواح اور دوسرے معاملات کی تدبیر پر مامور ہونا مانتے تھے۔ فرشتوں کے یہ اوصاف ذکر کرکے ان کی قسم اس بنا پر کھائی گئی ہے کہ فرشتے جس اللہ کے حکم سے روح قبض کرتے ہیں، نہایت تیزی سے کائنات میں نقل و حرکت کرتے ہیں اور کائنات کے معاملات کی تدبیر کرتے ہیں، اسی اللہ کے حکم سے صور میں پھونک کر اس کائنات کو فنا بھی کر سکتے ہیں اور دوبارہ پھونک کر از سر نو زندہ بھی کر سکتے ہیں۔
کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن تھرتھرانے والی (زمین وغیرہ) تھرتھرائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ہلا ڈالے گا سخت ہلانے والا ( زلزلہ )۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
6۔ 1 یہ نفخئہ اولیٰ ہے جسے نفخئہ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہوجائے گی۔
(آیت 7،6) {يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ …:} قاموس میں ہے: {”رَجَفَ حَرَّكَ وَ تَحَرَّكَ وَ اضْطَرَبَ شَدِيْدًا“} یعنی {”رَجَفَ“} کا معنی سخت حرکت کرنا اور حرکت دینا دونوں آتے ہیں۔ یہاں حرکت دینا زیادہ مناسب ہے۔ {” الرَّاجِفَةُ “} سے مراد پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ {” الرَّادِفَةُ “} سے مراد دوسرے نفخہ سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے تمام لوگ زندہ ہو کر از سر نو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سورۂ زمر (۶۸) میں بھی انھی دونوں نفخوں کا ذکر ہے۔
اس کے بعد ساتھ ہی پیچھے آنے والا ( زلزلہ ) آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
7۔ 1 یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہوگا۔
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
8۔ 1 قیامت کے ہول اور شدائد سے۔
(آیت 9،8){ قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ …: } کئی دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے، یعنی سخت خوف زدہ ہوں گے۔ ”کئی دل“ اس لیے فرمایا کہ صالح مومن اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے، جیساکہ فرمایا: «لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ» [ الأنبیاء: ۱۰۳ ] ”(اس دن)سب سے بڑی گھبراہٹ انھیں غمگین نہیں کرے گی۔“ دلوں اور آنکھوں کا حال بیان کرنے سے اس دن کفار کی ظاہری اور باطنی پریشانی کی مکمل تصویر سامنے آگئی۔
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
9۔ 1 دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی (مجرموں کی طرح) جھکی ہوئی ہوں گی۔
یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟
احمد رضا خان بریلوی
کافر کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (کافر لوگ) کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت میں (الٹے پاؤں) واپس لائے جائیں گے؟
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ کہتے ہیں کیا بے شک ہم یقینا پہلی حالت میں لوٹائے جانے والے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
10۔ 1 حافِرَۃ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ منکرین قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کردیئے جائیں گے جس طرح مرنے سے پیشتر تھے۔
(آیت 11،10) {يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِي …:} ”کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے تو دوبارہ پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے؟ “ یہ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے منکرین قیامت کا تھا، آج کے مادہ پرست بھی یہی کہتے ہیں، ان کے خیال میں ہڈیاں بوسیدہ ہونے کے بعد انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
11۔ 1 یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کردیئے جائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گی۔
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
12۔ 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں، پھر دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی
(آیت 12) {قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ:} ان کا یہ کہنا بطور مذاق ہے، یعنی اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے مطابق ہم دوبارہ پہلی حالت میں آئے تو ان کے مطابق تو ہمارے لیے یہ بہت خسارے کا اٹھنا ہوگا۔
حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو وہ نہیں مگر ایک جھڑکی
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ اس (واپسی) کیلئے ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی۔
عبدالسلام بن محمد
پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14،13){ فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ …:} یعنی تمھارا دوبارہ اٹھایا جانا تمھیں کتنا ہی ناممکن دکھائی دے، اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ اس کی طرف سے ایک ڈانٹ یعنی صور میں ایک پھونک پڑنے کی دیر ہے کہ سب زندہ ہو کر قبروں سے نکل کر سطح زمین پر موجود ہوں گے۔ {”سَهِرَ “} (س) جاگنا اور {”اَلسَّاهِرَةُ“} زمین کا اوپر کا حصہ، کیونکہ اسی پر انسانوں کا جاگنا اور سونا ہے۔چٹیل میدان اور صحرا کو {”اَلسَّاهِرَةُ“} اس لیے کہتے ہیں کہ وہاں خوف کی وجہ سے انسان بیدار رہتا ہے۔ (فتح القدیر)
کہ (جس کے ﻇاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ کھلے ہوئے میدان (قیامت) میں موجود ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
پس یک لخت وہ زمین کے اوپر موجود ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔ بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“ اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں، پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔ دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن] ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن] اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔ «حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے، جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔ اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔ «سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔ اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48] ، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔ اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
14۔ 1 یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوجائیں گے۔
(اے رسول(ص)) کیا آپ(ص) کو موسیٰ(ع) کے قصہ کی خبر پہنچی ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15){ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى:} ”کیا تیرے پاس موسیٰ کی بات پہنچی ہے؟“قیامت اور اس کا انکار کرنے والوں کے ذکر کے ساتھ ہی موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا ذکر فرمایا۔ اس سے ایک تو منکرین کو ڈرانا مقصود ہے کہ حق کا انکار کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے، دوسرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ ان کافروں کے جھٹلانے پر رنجیدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تو ان کا یہ انجام ہوا۔
جب اس کے رب نے اُسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا
احمد رضا خان بریلوی
جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں ندا فرمائی،
علامہ محمد حسین نجفی
جب ان کے پروردگار نے طویٰ کی مقدس وادی میں انہیں پکارا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس کے رب نے اسے مقدس وادی طویٰ میں پکارا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
16۔ 1 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ مدین سے واپسی پر آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ الالسلام سے کلام فرمایا تھا، جیسا کہ تفصیل سورة طٰہٰ کے آغاز میں گزری۔
(آیت 16){ اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى: ” طُوًى “} طور سینا کے دامن میں واقع ایک وادی کا نام ہے۔ موسیٰ علیہ السلام پر مدین سے واپسی پر پہلی وحی یہیں اتری۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۲)۔
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا
علامہ محمد حسین نجفی
کہ جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرعون کے پاس جا ، یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
17۔ 1 یعنی کفر و معصیت اور تکبر میں حد سے تجاوز کر گیا ہے۔
(آیت 17تا19) ➊ { اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ …:} فرعون کے پاس جانے کا حکم دینے کے ساتھ اسے دی جانے والی دعوت بھی سکھلائی، دعوت کے الفاظ میں اختصار کے باوجود نرمی اور ترغیب و ترہیب واضح طور پر نمایاں ہیں۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو فرمایا تھا: «فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى» [ طٰہٰ: ۴۴ ] ”فرعون سے نرم بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا ڈر جائے۔“ ➋ { اِنَّهٗ طَغٰى:} ”یقینا وہ حد سے بڑھ گیا ہے۔“ فرعون کا حد سے بڑھنا ایک تو بندگی کی حد سے بڑھ کریہ کہنا تھا کہ میں تمھارا رب اعلیٰ ہوں، دوسرا خلق خدا پر اس کی طغیانی یہ تھی کہ اس نے قوم کو طبقوں میں تقسیم کرکے اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ خصوصاً بنی اسرائیل کے بیٹے ذبح کرتا اور عورتیں زندہ رکھتا تھا۔ ➌ {فَقُلْ هَلْ لَّكَ …: ” تَزَكّٰى “} پاک ہو جائے، یعنی شرک و کفر کی گندگی سے پاک ہو جائے۔ {” فَتَخْشٰى “} پس تو ڈر جائے، یعنی اپنے رب کا راستہ معلوم ہو جانے کے بعد تو ڈر جائے کہ پروردگار اپنی دی ہوئی حکومت چھین کر نعمتوں کی جگہ اپنی گرفت ہی میں نہ لے لے، چنانچہ تو اس ڈر سے اس کا شریک بننے اور بندوں پر ظلم کرنے سے بچ جائے، کیونکہ دل میں ڈر علم ہی سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا» [ فاطر: ۲۸ ] ”اللہ سے صرف اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔“
اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس سے کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے؟
عبدالسلام بن محمد
پس کہہ کیا تجھے اس بات کی کوئی رغبت ہے کہ تو پاک ہو جائے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
18۔ 1 یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسند کرتا ہے جس سے تیری اصلاح ہوجائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہوجا۔
اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے
احمد رضا خان بریلوی
اور تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (کیا تو چاہتا ہے کہ) میں تیرے پروردگار کی طرف تیری راہنمائی کروں تو تُو (اس سے) ڈرے؟
عبدالسلام بن محمد
اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہ نمائی کروں، پس تو ڈر جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
19۔ 1 یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اسے بڑی نشانی دکھائی
احمد رضا خان بریلوی
پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی
علامہ محمد حسین نجفی
پس موسیٰ(ع) نے (وہاں جا کر) اسے ایک بہت بڑی نشانی دکھائی۔
عبدالسلام بن محمد
چنانچہ اس نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
20۔ 1 یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
(آیت 20) {فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَ الْكُبْرٰى: } بڑی نشانی سے مراد لاٹھی کا سانپ بن جانا ہے۔ {” الْاٰيَةَ “} کو واحد کے بجائے جنس مان لیں تو عصائے موسیٰ اور یدبیضا دونوں مراد ہو سکتے ہیں، بلکہ موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیے جانے والے ”تسع آيات بينات“ (۹ معجزے) بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۰۱)۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
پھر وہ پلٹا (اور مخالفانہ سرگرمیوں میں) کوشاں ہو گیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر واپس پلٹا ، دوڑ بھاگ کرتا تھا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
22۔ 1 یعنی اس نے ایمان و اطاعت سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلائے اور موسیٰ ؑ کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چناچہ جادوگروں کو جمع کر کے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ ؑ سے کرایا تاکہ موسیٰ ؑ کو جھوٹا ثابت کیا جاسکے۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا
علامہ محمد حسین نجفی
پس اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے (دوہرے) عذاب میں پکڑا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
25۔ 1 یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے فرمانوں کے لئے نشان عبرت بنادیا اور قیامت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا
(آیت 25) {فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰى:} یعنی آخرت کو آگ میں جلے گا اور دنیا میں غرق ہوا۔
درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اس (قصہ) میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کیلئے جو (خدا سے) ڈرے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معفرت دل حق کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ ’ اس نے اپنے بندے اور رسول موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا اور معجزات سے ان کی تائید کی، لیکن باوجود اس کے فرعون اپنی سرکشی اور اپنے کفر سے باز نہ آیا بالاخر اللہ کا عذاب اترا اور برباد ہو گیا، اسی طرح اے پیغمبر آخر الزمان آپ کے مخالفین کا بھی حشر ہو گا ‘۔ اسی لیے اس واقعہ کے خاتمہ پر فرمایا ڈر والوں کے لیے اس میں عبرت ہے، پس فرماتا ہے کہ ’ تجھے خبر بھی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اس کے رب نے آواز دی جبکہ وہ ایک مقدس میدان میں تھے جس کا نام طویٰ ہے ‘۔ اس کا تفصیل سے بیان سورۃ طہٰ میں گزر چکا ہے، آواز دے کر فرمایا کہ ’ فرعون نے سرکشی تکبر، تجبر اور تمرد اختیار کر رکھا ہے تم اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا یہ پیغام دو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ میری بات مان کر اس راہ پر چلے جو پاکیزگی کی راہ ہے، میری سن میری مان، سلامتی کے ساتھ پاکیزگی حاصل کر لے گا، میں تجھے اللہ کی عبادت کے وہ طریقے بتاؤں گا جس سے تیرا دل نرم اور روشن ہو جائے اس میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور دل کی سختی اور بدبختی دور ہو ‘۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اللہ کا فرمان پہنچایا، حجت ختم کی، دلائل بیان کئے، یہاں تک کہ اپنی سچائی کے ثبوت میں معجزات بھی دکھائے لیکن وہ برابر حق کی تکذیب کرتا رہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی باتوں کی نافرمانی پر جما رہا چونکہ دل میں کفر جاگزیں ہو چکا تھا اس سے طبیعت نہ ہٹی اور حق واضح ہو جانے کے باوجود ایمان و تسلیم نصیب نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ دل سے جانتا تھا کہ یہ حق برحق نبی علیہ السلام ہیں اور ان کی تعلیم بھی برحق ہے۔
لیکن دل کی معرفت اور چیز ہے اور ایمان اور چیز ہے، دل کی معرفت پر عمل کرنے کا نام ایمان ہے کہ حق کا تابع فرمان بن جائے اور اللہ رسول کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے جھک جائے۔ پھر اس نے حق سے منہ موڑ لیا اور خلاف حق کوشش کرنے لگا جادوگروں کو جمع کر کے ان کے ہاتھوں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نیچا دکھانا چاہا۔ اپنی قوم کو جمع کیا اور اس میں منادی کی کہ تم سب میں بلند و بالا میں ہی ہوں۔ اس سے چالیس سال پہلے وہ کہہ چکا تھا کہ آیت «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» ۱؎ [28-القصص:38] یعنی ’ میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا معبود کوئی اور بھی ہو ‘۔ اب تو اس کی طغیانی حد سے بڑھ گئی اور صاف کہہ دیا کہ میں ہی رب ہوں، بلندیوں والا اور سب پر غالب میں ہی ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ ہم نے بھی اس سے وہ انتقام لیا جو اس جیسے تمام سرکشوں کے لیے ہمیشہ ہمیشہ سبب عبرت بن جائے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، بدترین عذاب تو ابھی باقی ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ» ۱؎ [28-القصص:41] یعنی ’ ہم نے انہیں جہنم کی طرف بلانے والے پیش رو بنائے قیامت کے دن یہ مدد نہ کئے جائیں گے ‘۔ پس صحیح تر معنی آیت کے یہی ہیں کہ آخرت اور اولیٰ سے مراد دنیا اور آخرت ہے، بعض نے کہا ہے اول آخر سے مراد اس کے دونوں قول ہیں یعنی پہلے یہ کہنا کہ میرے علم میں میرے سوا تمہارا کوئی اللہ نہیں، پھر یہ کہنا کہ تمہارا سب کا بلند رب میں ہوں، بعض کہتے ہیں مراد کفر و نافرمانی ہے، لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو نصیحت حاصل کریں اور باز آ جائیں۔
26۔ 1 یا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہوسکتا ہے۔
کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم لوگوں کا (دوبارہ) پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے؟ یا آسمان کا؟ اللہ نے اس کو بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
27۔ 1 یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود تنبیہ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کرسکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا آسمان بنانے سے زیادہ مشکل ہے۔
(آیت 27تا29) {ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا …:} شروع سورت میں قیامت حق ہونے کی دلیل کے طور پر فرشتوں کا اور ان چند امور کا ذکر فرمایا جو وہ سرانجام دیتے ہیں، یعنی ان فرشتوں کے رب کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنا کون سا مشکل کام ہے؟ یہاں سے پھر قیامت کے دلائل کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ آیت (۲۷) سے (۳۳) تک اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی عظیم الشان مخلوقات کا ذکر فرمایا کہ اتنی قدرتوں والے پروردگار کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنے میں کیا دشواری ہو سکتی ہے؟
اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کی چھت کو بلند کیا پھر اس کو درست کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
28۔ 1 ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کی رات کو تاریک کر دیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30تا33) {وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا …:} یہاں ایک سوال ہے کہ اس جگہ آسمان بنانے کے بعد زمین بچھانے کا ذکر فرمایا ہے، جب کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۲۹) اور حم سجدہ کی آیات (۹ تا ۱۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین پیدا کی گئی پھر آسمان، ان دونوں کے درمیان تطبیق کیا ہوگی؟ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات ذکر فرمائے ہیں: (1) بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلے زمین بنی پھر آسمان، البتہ زمین کو بچھانے، اس کا پانی اور چارہ نکالنے اور اس میں پہاڑ گاڑنے کا کام بعد میں ہوا۔ گویا زمین کی خلق (پیدائش) آسمان سے پہلے ہے، البتہ {”دَحْوٌ“} (بچھانا) بعد میں ہے۔ طبری نے یہ تفسیر علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کی ہے اور اسے ترجیح دی ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: [ قَوْلُهُ حَيْثُ ذَكَرَ خَلْقَ الْأَرْضِ قَبْلَ السَّمَاءِ، ثُمَّ ذَكَرَ السَّمَاءِ قَبْلَ الْأَرْضِ، وَذٰلِكَ أَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الْأَرْضَ بِأَقْوَاتِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَدْحُوَهَا قَبْلَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَوٰی إِلَی السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ، ثُمَّ دَحَا الْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ، فَذٰلِكَ قَوْلُهُ: «وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» ] [ طبري: ۲۴ /۹۲، ح: ۳۶۶۳۲ ] ”یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس میں موجود روزیوں سمیت اسے بچھائے بغیر آسمان سے پہلے پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور انھیں درست کر کے سات آسمان بنا دیا، پھر زمین کو اس کے بعد بچھا دیا، یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: «وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» [ النازعات: ۳۰ ] ”اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا۔“ ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے {” وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا “} کی تفسیر بعد والی آیات: «اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا …» کے ساتھ فرمائی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ زمین میں پہلے پیدا کر دیا تھا، مگر انھیں آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد زمین سے نکالا۔ (2) بعض مفسرین نے سورۂ نازعات کی زیر تفسیر آیات اور حم سجدہ کی آیات (۹ تا ۱۲) کو ملا کر خلاصہ یوں نکالا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان پیدا کیا، اس حال میں کہ وہ دھوئیں کی مانند تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا، پھر اس پر پہاڑوں کو رکھ دیا، پھر زمین میں سبزیاں اور درخت وغیرہ کی پیدائش کا اندازہ مقرر کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو، جواب تک دھوئیں کی شکل میں تھا، سات آسمانوں میں تبدیل کیا اور آسمان کی چھت کو بلند کیا، پھر زمین کو بچھا دیا، اس میں سے پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو زمین میں مضبوطی سے گاڑ دیا۔“ (تفسیر قرآن عزیز سورۃ النازعات) (3) تیسری تطبیق یہ ہے کہ یہاں سورئہ نازعات میں زمین و آسمان پیدا کرنے کی ترتیب زمانی بیان کرنا مقصود ہی نہیں، وہ تو وہی ہے جو سورئہ بقرہ اورسورئہ حم سجدہ میں ہے، بلکہ یہاں اللہ تعالیٰ کے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر پہلے آسمان کو ذکر کیا گیا ہے پھر زمین کو۔ واضح رہے کہ بعد کا لفظ ہر جگہ زمانے کی ترتیب کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ترتیب ذکری کے لیے ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے زیادہ اہم چیز پہلے ذکر ہوتی ہے اور دوسری بعد میں، جیساکہ فرمایا: «عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ» [ القلم: ۱۳] ”سخت مزاج اس کے بعد بدنام۔“ ایسے موقع پر زمانی ترتیب کچھ بھی ہو لفظ بعد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلی چیز کے بعد اس کی خبر دی جا رہی ہے، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر عموماً بعد کا معنی ”مع“ (ساتھ) ہوتا ہے، یعنی سخت مزاج ہونے کے ساتھ وہ بدنام بھی ہے۔ اسی طرح سورۂ بلد کی آیات (۱۱ تا ۱۷) کی تفسیر بھی دیکھ لیں، جن میں {” فَكُّ رَقَبَةٍ …“} کے بعد فرمایا: «ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …» یہاں بھی {” ثُمَّ “} ترتیب زمانی کے لیے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ گردن چھڑانے اور کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ یہ تطبیق تقریباً تمام مفسرین نے ذکر کی ہے اور سب سے بہتر ہے، کیونکہ پہلی دونوں تطبیقوں میں چھ دن میں زمین و آسمان کی پیدائش کی تفصیل اور ترتیب پوری طرح واضح نہیں ہوتی اور نہ اصل اشکال دور ہوتا ہے۔
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
سامان زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں)
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے اور تمہارے مو یشیوں کے لئے سامانِ زندگی کے طور پر۔
عبدالسلام بن محمد
تمھاری اور تمھارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
پھر جب وہ ہر چیز پر چھاجانے والی سب سے بڑی مصیبت آجائے گی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ [54-القمر:46] یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34) {فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى:” الطَّآمَّةُ “} اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لیے فرمایا {” الْكُبْرٰى “} کہ جو سب سے بڑی(مصیبت) ہے۔
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ [54-القمر:46] یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔
اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ﻇاہر کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
اور (ہر) دیکھنے والے کیلئے دوزخ ظاہر کر دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جہنم (ہر) اس شخص کے لیے ظاہر کردی جائے گی جو دیکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ [54-القمر:46] یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 36) {وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى:} یعنی گمراہ لوگوں کے لیے جہنم سامنے کر دی جائے گی کہ یہ تمھارا ٹھکانا ہے، البتہ متقی لوگوں کے لیے جنت قریب کی جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (90) وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغٰوِيْنَ» [الشعراء: 91،90] ” جنت متقی لوگوں کے قریب کر دی جائے گی۔ اور جہنم گمراہوں کے لیے ظاہر کر دی جائے گی۔ “ یہ معنی بھی درست ہے کہ مومن ہو یا کافر جہنم ہر دیکھنے والے کے سامنے ہوگی، مومن اس سے بچائے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کافر شدید حسرت و افسوس میں مبتلا ہوں گے۔ میدان محشر میں جہنم لائے جانے کے متعلق دیکھیے سورۂ فجر (۲۳) کی تفسیر۔
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ [54-القمر:46] یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ [89-الفجر:23] یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتا رہا ہوگا اور (اپنے) نفس کو (اس کی) خواہش سے روکا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور رہا وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے نفس کو خواہش سے روک لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
40۔ 1 کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ "آخر وہ گھڑی کب آ کر ٹھیرے گی؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ آپ(ص) سے سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب کھڑی (برپا) ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
42۔ 1 یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے واقع کا صحیح وقت کیا ہے؟
(آیت 42){ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا: ” مُرْسٰىهَا “ ”أَرْسٰي يُرْسِيْ“} (افعال) سے مصدر ہو تو معنی ہوگا ”اس کا وقوع یا قیام“ اور اگر ظرف ہو تو معنی ہے ”اس کے قیام کا وقت۔“ کافر لوگ یہ سوال بار بار کرتے تھے، اس سے ان کا مقصد قیامت کا وقت اور تاریخ معلوم کرنا نہیں تھا بلکہ اسے جھٹلانا اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
43۔ 1 یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
(آیت 43){ فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا:} یعنی جب آپ کو خود ہی اس کا مقرر وقت معلوم نہیں تو آپ انھیں کیا بتائیں گے اور آپ کا اس کے ذکر سے کیا تعلق؟
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 44){ اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا: ” مُنْتَهٰىهَا “} اس کی انتہا، جہاں جا کر بات ختم ہوتی ہے وہ رب تعالیٰ ہے، یعنی جس کسی سے قیامت کے متعلق پوچھو وہ بے خبر ہوگا، کسی دوسرے سے پوچھنے کو کہے گا تو وہ بھی بے خبر ہوگا، پوچھتے پوچھتے آخر میں جہاں بات ختم ہوگی اور جو بتا سکتا ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے، درمیان میں سب بے خبر ہیں۔ (موضح القرآن)
تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) تو بس ڈرانے والے ہیں اس شخص کو جو اس سے ڈرے۔
عبدالسلام بن محمد
توُ تو صرف اسے ڈرانے والا ہے جو اس سے ڈرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
45۔ 1 یعنی آپ کا کام صرف انذاز (ڈرانا) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔
(آیت 45){ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا:} یعنی آپ کا کام اس کا وقت بتانا نہیں ہے بلکہ اس سے ڈرانا ہے اور اگرچہ آپ کا فریضہ تمام دنیا کو اس سے ڈرانا ہے مگر اس کا فائدہ صرف اس کو ہوگا جس کے دل میں اس کا خوف ہے اور وہ آپ کی تبلیغ سن کر تیاری کرے گا۔ جس کے دل میں قیامت پر ایمان اور اس کا خوف ہی نہیں اسے آپ کے ڈرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، وہ اس کا وقت ہی پوچھتا رہ جائے گا۔
جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (یہ دنیا میں یا حالت موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھیرے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن یہ لوگ اس (قیامت) کو دیکھیں گے تو (انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ) وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے تھے۔ مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح۔
عبدالسلام بن محمد
گویا وہ جس دن اسے دیکھیں گے وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے، مگر دن کا ایک پچھلا حصہ، یا اس کا پہلا حصہ ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔
پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»
46۔ 1 یعنی دنیا میں پورا ایک دن بھی نہ رہے، دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔
(آیت 46){ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا …:} یعنی وہ قیامت جسے یہ بہت دور سمجھ رہے ہیں جب آئے گی تو انھیں ایسے معلوم ہوگا جیسے وہ دنیا میں صرف دن کا پچھلا حصہ یا پہلا حصہ ہی رہے ہیں، پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ مثال سمجھنے کے لیے اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔