بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النازعات — Surah Naziat
آیت نمبر 34
کل آیات: 46
قرآن کریم النازعات آیت 34
آیت نمبر: 34 — سورۃ النازعات islamicurdubooks.com ↗
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّۃُ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۳۴﴾
پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا
پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی
پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی
پس جب بڑی آفت (قیامت) آئے گی۔
پھر جب وہ ہر چیز پر چھاجانے والی سب سے بڑی مصیبت آجائے گی ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭

«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ ‏‏‏‏ [54-القمر:46] ‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ ‏‏‏‏ [89-الفجر:23] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 34) {فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى:” الطَّآمَّةُ “} اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لیے فرمایا {” الْكُبْرٰى “} کہ جو سب سے بڑی(مصیبت) ہے۔
← پچھلی آیت (33) پوری سورۃ اگلی آیت (35) →