بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النازعات — Surah Naziat
آیت نمبر 37
کل آیات: 46
قرآن کریم النازعات آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ النازعات islamicurdubooks.com ↗
فَاَمَّا مَنۡ طَغٰی ﴿ۙ۳۷﴾
تو جس نے سرکشی کی تھی
تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی)
تو وہ جس نے سرکشی کی
پس جس شخص نے سرکشی کی ہوگی۔
پس لیکن جو حد سے بڑھ گیا ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭

«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ ‏‏‏‏ [54-القمر:46] ‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ ‏‏‏‏ [89-الفجر:23] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

37۔ 1 یعنی کفر و گناہوں میں حد سے تجاوز کیا ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →