بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النازعات — Surah Naziat
آیت نمبر 36
کل آیات: 46
قرآن کریم النازعات آیت 36
آیت نمبر: 36 — سورۃ النازعات islamicurdubooks.com ↗
وَ بُرِّزَتِ الۡجَحِیۡمُ لِمَنۡ یَّرٰی ﴿۳۶﴾
اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی
اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ﻇاہر کی جائے گی
اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی
اور (ہر) دیکھنے والے کیلئے دوزخ ظاہر کر دی جائے گی۔
اور جہنم (ہر) اس شخص کے لیے ظاہر کردی جائے گی جو دیکھتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭

«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ ‏‏‏‏ [54-القمر:46] ‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ ‏‏‏‏ [89-الفجر:23] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 36) {وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى:} یعنی گمراہ لوگوں کے لیے جہنم سامنے کر دی جائے گی کہ یہ تمھارا ٹھکانا ہے، البتہ متقی لوگوں کے لیے جنت قریب کی جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (90) وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغٰوِيْنَ» ‏‏‏‏ [الشعراء: 91،90] ” جنت متقی لوگوں کے قریب کر دی جائے گی۔ اور جہنم گمراہوں کے لیے ظاہر کر دی جائے گی۔ “ یہ معنی بھی درست ہے کہ مومن ہو یا کافر جہنم ہر دیکھنے والے کے سامنے ہوگی، مومن اس سے بچائے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے اور کافر شدید حسرت و افسوس میں مبتلا ہوں گے۔ میدان محشر میں جہنم لائے جانے کے متعلق دیکھیے سورۂ فجر (۲۳) کی تفسیر۔
← پچھلی آیت (35) پوری سورۃ اگلی آیت (37) →