بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النازعات — Surah Naziat
آیت نمبر 30
کل آیات: 46
قرآن کریم النازعات آیت 30
آیت نمبر: 30 — سورۃ النازعات islamicurdubooks.com ↗
وَ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِکَ دَحٰىہَا ﴿ؕ۳۰﴾
اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا
اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا
اور اس کے بعد زمین پھیلائی
اس کے بعد زمین کو بچھایا۔
اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

موت و حیات کی سرگزشت ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔ اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ‏‏‏‏۱؎ [36-يس:81] ‏‏‏‏ ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔ آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔ سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی“ } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30تا33) {وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا …:} یہاں ایک سوال ہے کہ اس جگہ آسمان بنانے کے بعد زمین بچھانے کا ذکر فرمایا ہے، جب کہ سورۂ بقرہ کی آیت (۲۹) اور حم سجدہ کی آیات (۹ تا ۱۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے زمین پیدا کی گئی پھر آسمان، ان دونوں کے درمیان تطبیق کیا ہوگی؟ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات ذکر فرمائے ہیں: (1) بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ پہلے زمین بنی پھر آسمان، البتہ زمین کو بچھانے، اس کا پانی اور چارہ نکالنے اور اس میں پہاڑ گاڑنے کا کام بعد میں ہوا۔ گویا زمین کی خلق (پیدائش) آسمان سے پہلے ہے، البتہ {”دَحْوٌ“} (بچھانا) بعد میں ہے۔ طبری نے یہ تفسیر علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کی ہے اور اسے ترجیح دی ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: [ قَوْلُهُ حَيْثُ ذَكَرَ خَلْقَ الْأَرْضِ قَبْلَ السَّمَاءِ، ثُمَّ ذَكَرَ السَّمَاءِ قَبْلَ الْأَرْضِ، وَذٰلِكَ أَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الْأَرْضَ بِأَقْوَاتِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَدْحُوَهَا قَبْلَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَوٰی إِلَی السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ، ثُمَّ دَحَا الْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ، فَذٰلِكَ قَوْلُهُ: «وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» ‏‏‏‏ ] [ طبري: ۲۴ /۹۲، ح: ۳۶۶۳۲ ] ”یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس میں موجود روزیوں سمیت اسے بچھائے بغیر آسمان سے پہلے پیدا کیا، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور انھیں درست کر کے سات آسمان بنا دیا، پھر زمین کو اس کے بعد بچھا دیا، یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: «‏‏‏‏وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا» [ النازعات: ۳۰ ] ”اور زمین کو اس کے بعد بچھا دیا۔“ ابن کثیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے {” وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا “} کی تفسیر بعد والی آیات: «‏‏‏‏اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا …» کے ساتھ فرمائی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ زمین میں پہلے پیدا کر دیا تھا، مگر انھیں آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد زمین سے نکالا۔ (2) بعض مفسرین نے سورۂ نازعات کی زیر تفسیر آیات اور حم سجدہ کی آیات (۹ تا ۱۲) کو ملا کر خلاصہ یوں نکالا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان پیدا کیا، اس حال میں کہ وہ دھوئیں کی مانند تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا، پھر اس پر پہاڑوں کو رکھ دیا، پھر زمین میں سبزیاں اور درخت وغیرہ کی پیدائش کا اندازہ مقرر کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو، جواب تک دھوئیں کی شکل میں تھا، سات آسمانوں میں تبدیل کیا اور آسمان کی چھت کو بلند کیا، پھر زمین کو بچھا دیا، اس میں سے پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑوں کو زمین میں مضبوطی سے گاڑ دیا۔“ (تفسیر قرآن عزیز سورۃ النازعات) (3) تیسری تطبیق یہ ہے کہ یہاں سورئہ نازعات میں زمین و آسمان پیدا کرنے کی ترتیب زمانی بیان کرنا مقصود ہی نہیں، وہ تو وہی ہے جو سورئہ بقرہ اورسورئہ حم سجدہ میں ہے، بلکہ یہاں اللہ تعالیٰ کے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر پہلے آسمان کو ذکر کیا گیا ہے پھر زمین کو۔ واضح رہے کہ بعد کا لفظ ہر جگہ زمانے کی ترتیب کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ترتیب ذکری کے لیے ہوتا ہے، یعنی موقع کی مناسبت سے زیادہ اہم چیز پہلے ذکر ہوتی ہے اور دوسری بعد میں، جیساکہ فرمایا: «عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ القلم: ۱۳] ”سخت مزاج اس کے بعد بدنام۔“ ایسے موقع پر زمانی ترتیب کچھ بھی ہو لفظ بعد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پہلی چیز کے بعد اس کی خبر دی جا رہی ہے، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ایسے موقع پر عموماً بعد کا معنی ”مع“ (ساتھ) ہوتا ہے، یعنی سخت مزاج ہونے کے ساتھ وہ بدنام بھی ہے۔ اسی طرح سورۂ بلد کی آیات (۱۱ تا ۱۷) کی تفسیر بھی دیکھ لیں، جن میں {” فَكُّ رَقَبَةٍ …“} کے بعد فرمایا: «‏‏‏‏ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …» یہاں بھی {” ثُمَّ “} ترتیب زمانی کے لیے نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ گردن چھڑانے اور کھانا کھلانے کے ساتھ ساتھ ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ یہ تطبیق تقریباً تمام مفسرین نے ذکر کی ہے اور سب سے بہتر ہے، کیونکہ پہلی دونوں تطبیقوں میں چھ دن میں زمین و آسمان کی پیدائش کی تفصیل اور ترتیب پوری طرح واضح نہیں ہوتی اور نہ اصل اشکال دور ہوتا ہے۔
← پچھلی آیت (29) پوری سورۃ اگلی آیت (31) →