بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النازعات — Surah Naziat
آیت نمبر 46
کل آیات: 46
قرآن کریم النازعات آیت 46
آیت نمبر: 46 — سورۃ النازعات islamicurdubooks.com ↗
کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَہَا لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوۡ ضُحٰہَا ﴿٪۴۶﴾
جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (یہ دنیا میں یا حالت موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھیرے ہیں
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں
گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،
جس دن یہ لوگ اس (قیامت) کو دیکھیں گے تو (انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ) وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے تھے۔ مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح۔
گویا وہ جس دن اسے دیکھیں گے وہ (دنیا میں) نہیں ٹھہرے، مگر دن کا ایک پچھلا حصہ، یا اس کا پہلا حصہ ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اس دن سرکشی کرنے والوں اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا، ان کی خوراک زقوم ہو گا، اور ان کا پانی حمیم ہو گا، ہاں ہمارے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہنے والوں اور اپنے آپ کو نفسانی خواہشوں سے بچاتے رہنے والوں، خوف اللہ دل میں رکھنے والوں اور برائیوں سے باز رہنے والوں کا ٹھکانا جنت ہے اور وہاں کی تمام نعمتوں کے حصہ دار یہی ہیں۔

پھر فرمایا کہ ’ قیامت کے بارے میں تم سے سوال ہو رہے ہیں تم کہہ دو کہ نہ مجھے اس کا علم ہے نہ مخلوق میں سے کسی اور کو صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی ‘۔ اس کا صحیح وقت کسی کو معلوم نہیں وہ زمین و آسمان پر بھاری پڑ رہی ہے، حالانکہ دراصل اس کا علم سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور کسی کو نہیں۔ { سیدنا جبرائیل علیہ السلام بھی جس وقت انسانی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ سوالات کئے جن کے جوابات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے پھر یہی قیامت کے دن کے تعیین کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو، نہ وہ اسے جانتا ہے نہ خود پوچھنے والے کو اس کا علم ہے“ } ۱؎ [صحیح بخاری:50] ‏‏‏‏ پھر فرمایا کہ ’ اے نبی! تم تو صرف لوگوں کے ڈرانے والے ہو، اور اس سے نفع انہیں کو پہنچے گا جو اس خوفناک دن کا ڈر رکھتے ہیں اور تیاری کر لیں گے اور اس دن کے خطرے سے بچ جائیں گے، باقی جو لوگ ہیں وہ آپ کے فرمان سے عبرت حاصل نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس دن بدترین نقصان اور مہلک عذابوں میں گرفتار ہوں گے ‘۔ لوگ جب اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں جمع ہوں گے، اس وقت اپنی دنیا کی زندگی انہیں بہت ہی تھوڑی نظر آئے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ صرف صبح کا یا صرف شام کا حصہ دنیا میں گزارا ہے۔ ظہر سے لے کر آفتاب کے غروب ہونے کے وقت کو «عَشِيَّةً» کہتے ہیں اور سورج نکلنے سے لے کر آدھے دن تک کے وقت کو «ضُحٰہَا» کہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ آخرت کو دیکھ کر دنیا کی لمبی عمر بھی اتنی کم محسوس ہونے لگی۔ سورۃ النازعات کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه رَبِّ الْعَالَمِينَ»

📖 احسن البیان

46۔ 1 یعنی دنیا میں پورا ایک دن بھی نہ رہے، دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 46){ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا …:} یعنی وہ قیامت جسے یہ بہت دور سمجھ رہے ہیں جب آئے گی تو انھیں ایسے معلوم ہوگا جیسے وہ دنیا میں صرف دن کا پچھلا حصہ یا پہلا حصہ ہی رہے ہیں، پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ مثال سمجھنے کے لیے اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔
← پچھلی آیت (45) پوری سورۃ اگلی آیت →