سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
تفسیر احسن البیان
الم 1
(آیت 2،1){ الٓمّٓ (1) تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی پہلی آیت کی تفسیر۔
سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
1-1اس کے آغاز میں بھی یہ حروف مقطعات ہیں جن کے معنی و مراد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ تاہم بعض مفسرین نے اس کے دو فوائد بڑے اہم بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ قرآن اسی قسم کے حروف مقطعات سے ترتیب و تالیف پایا ہے جس کی مثل تالیف پیش کرنے سے عرب عاجز آگئے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے اور جس پیغمبر پر نازل ہوا ہے وہ سچا رسول ہے جو شریعت وہ لے کر آیا ہے، انسان اس کا محتاج ہے اور اس کی اصلاح اور سعادت کی تکمیل اسی شریعت سے ممکن ہے۔ دوسرا یہ کہ مشرکین اپنے ساتھیوں کو اس قرآن کے سننے سے روکتے تھے مبادا وہ اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں کا آغاز ان حروف مقطعات سے فرمایا تاکہ وہ اس کے سننے پر مجبور ہوجائیں کیونکہ یہ انداز بیان نیا اور اچھوتا تھا (ایسر التفاسیر) واللہ اعلم۔
جو (سراپا) ہدایت اور رحمت ان نیکوکار لوگوں کیلئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
نیکی کرنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت یافتہ کتاب ٭٭
سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
3-1محسنین محسن کی جمع ہے اس کے ایک معنی تو یہ ہیں احسان کرنے والا والدین کے ساتھ رشتے داروں کے ساتھ، مستحقین اور ضرورت مندوں کے ساتھ، دوسرے معنی ہیں، نیکیاں کرنے والا، یعنی برائیوں سے مجتنب اور نیکوکار، تیسرے معنی ہیں اللہ کی عبادت نہایت اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ کرنے والا۔ جس طرح حدیث جبرائیل میں ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ۔ قرآن ویسے تو سارے جہان کے لئے ہدایت اور رحمت کا ذریعہ ہے لیکن اس سے اصل فائدہ چونکہ صرف محسنین اور متقین ہی اٹھاتے ہیں، اس لئے یہاں اسطرح فرمایا۔
(آیت 3تا5) {هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیات (۲ تا ۵) کی تفسیر۔
جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر (کامل) یقین رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں اور آخرت پر یقین لائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو پورے اہتمام سے نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (میری راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین بھی وہی رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت یافتہ کتاب ٭٭
سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
4-1نماز زکوٰۃ اور آخرت پر یقین۔ یہ تینوں نہایت اہم ہیں، اس لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا، ورنہ محسنین و متقین تمام فرائض و سنت رسول کے مطابق پابندی سے کرتے ہیں۔
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور انہیں کا کام بنا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی لوگ اپنے پروردگار کی ہدایت پر (قائم) ہیں اور یہی وہ ہیں جو (آخرت میں) فلاح پانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے سراسر ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہدایت یافتہ کتاب ٭٭
سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔
5-1فلاح کے مفہوم کے لئے دیکھئے سورة بقرہ اور مومنون کا آغاز۔
اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بےعلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں، یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ سے غافل کر دینے والا بے ہودہ کلام خریدتا ہے تاکہ بغیر سوچے سمجھے لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکائے اور اس (راہ یا آیتوں) کا مذاق اڑائے۔ ایسے لوگوں کیلئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں ٭٭
اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/20:صحیح] ایک اور جگہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ قسم کھا کر فرمایا کہ ”اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔“ یہی قول سیدنا ابن عباس عنہما، سیدنا جابر رضی اللہ عنہم، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے۔“ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے۔“ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ باطل کی بات کو حق پر پسند کرلے۔ اور نقصان کی چیز کو نفع پر مقدم کر لے۔ ایک اور قول یہ بھی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے۔ چنانچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { گانے والیوں کی خرید و فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3195،قال الشيخ الألباني:حسن] امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن یزید کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مراد اس سے شرک ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ ”ہر وہ کلام جو اللہ سے اور اتباع شرع سے روکے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ اس سے غرض اس کی اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت ہوتی ہے۔“ ایک قرأت میں «لِیَضِلَّ» ہے تو لام لام عاقبت ہو گا یا لام تعلیل ہوگا۔ یعنی امر تقدیری ان کی اس کار گزاری سے ہو کر رہے گا۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنا لیتے ہیں۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہو گی اور خطرناک عذاب میں ذلیل ورسوا ہونگے۔
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بد نصیب جو کھیل تماشوں، باجوں گاجوں، راگ راگنیوں پر ریجھا ہوا ہے، یہ قرآن کی آیتوں سے بھاگتا ہے کان ان سے بہرے کر لیتا ہے یہ اسے اچھی نہیں معلوم ہوتیں۔ سن بھی لیتا ہے تو بے سنی کر دیتا ہے۔ لیکن انکا سننا اسے ناگوار گزرتا ہے کوئی مزہ نہیں آتا۔ وہ اسے فضول کام قرار دیتا ہے چونکہ اس کی کوئی اہمیت اور عزت اس کے دل میں نہیں اس لیے وہ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا وہ تو ان سے محض بے پرواہ ہے۔ یہ یہاں اللہ کی آیتوں سے اکتاتا ہے توقیامت کے دن عذاب بھی وہ ہونگے کہ اکتا اکتا اٹھے۔ یہاں آیات قرانی سن کر اسے دکھ ہوتا ہے وہاں دکھ دینے والے عذاب اسے بھگتنے پڑیں گے ‘۔
6-1اہل سعادت جو کتاب الہی سے راہ یاب اور اس کے سماع سے فیض یاب ہوتے ہیں، ان کے ذکر کے بعد اہل شقاوت کا بیان ہو رہا ہے۔ جو کلام الہی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں۔ البتہ ساز و موسیقی، نغمہ و سرود اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد یہی ہے کہ آلات طرب شوق سے اپنے گھروں میں لاتے اور پھر ان سے لذت اندوز ہوتے ہیں۔ لغوالحدیث سے مراد گانا بجانا، اس کا سازوسامان اور آلات، ساز و موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسانوں کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔ اس میں قصے کہانیاں، افسانے ڈرامے، اور جنسی اور سنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بےحیائی کے پرچار اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات ریڈیو، ٹیوی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں وغیرہ بھی۔ عہد رسالت میں بعض لوگوں نے گانے بجانے والی لونڈیاں بھی اسی مقصد کے لیے خریدی تھیں کہ وہ لوگوں کا دل گانے سنا کر بہلاتی رہیں تاکہ قرآن و اسلام سے وہ دور رہیں۔ اس اعتبار سے اس میں گلو کارائیں بھی آجاتی ہیں جو آج کل فن کار، فلمی ستارہ اور ثقافتی سفیر اور پتہ نہیں کیسے کیسے مہذب خوش نما اور دل فریب ناموں سے پکاری جاتی ہیں۔ 6-2ان تمام چیزوں سے یقینا انسان اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں اور دین کو مذاق کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ 6-2ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرنے والے ارباب حکومت، ادارے، اخبارات کے مالکان، اہل قلم اور فیچر نگار بھی اس عذاب کے مستحق ہوں گے۔
(آیت 7،6) ➊ {وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ …:} محسنین کے اوصاف اور ان کے حسنِ انجام کے ذکر کے بعد ان بدنصیبوں کا ذکر فرمایا جن کے لیے {” عَذَابٌ مُّهِيْنٌ “} یعنی ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ {” لَهْوَ “} کا لفظی معنی ”غافل کر دینا“ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ }» [ المنافقون: ۹ ] ”تمھارے اموال اور تمھاری اولاد تمھیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔“ {” لَهْوَ “} ہر اس بات یا کام کو کہتے ہیں جو انسان کو اس کے مقصد کی چیز سے غافل کر دے۔ شیخ عبدالرحمان السعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: {” وَ مِنَ النَّاسِ “} لوگوں میں سے کوئی ایسا بد نصیب اور بے توفیق بھی ہے، {” مَنْ يَّشْتَرِيْ “} جو اس طرح رغبت رکھتا اور پسند کرتا ہے جیسے قیمت خرچ کر کے حاصل کرنے والا پسند کرتا ہے، {” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “} ان باتوں کو جو دلوں کو غافل کر دینے والی اور عظیم مقصد سے روک دینے والی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس میں ہر حرام کلام، ہر باطل اور ایسے اقوال پر مشتمل ہر ہذیان داخل ہے جو کفر، فسق اور معصیت کی رغبت پیدا کرے، وہ اقوال حق کو رد کرنے والے لوگوں کے ہوں، جو باطل کے ساتھ بحث کر کے حق کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ اور گالی گلوچ کی صورت میں ہوں یا گانے بجانے، شیطان کے باجوں اور غافل کر دینے والی داستانوں اور افسانوں کی صورت میں ہوں، جن کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہو نہ آخرت میں۔ تو لوگوں کی یہ قسم وہ ہے جو ہدایت والی بات چھوڑ کر {” لَهْوَ “} والی بات خریدتی ہے۔“ ➋ میں نے شیخ عبد الرحمن السعدی کا کلام اس لیے نقل کیا ہے کہ عام طور پر اس آیت میں {” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “} سے مراد صرف گانا بجانا لیا جاتا ہے، جب کہ آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے، اگرچہ حرام غنا (ناجائز گانا) بھی اس میں شامل ہے۔ طبری میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو حسن سند کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس سے مراد غنا (گانا) ہے، تو یہ {” لَهْوَ الْحَدِيْثِ “} کی ایک جزئی کا بیان ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس کا مصداق ایسے گانے بجانے والے ہوں گے جو دین سے روکنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق بنانے والے اور انھیں سن کر تکبر سے منہ پھیرنے والے ہوں، کیونکہ ان اوصاف کی ان آیات میں صراحت ہے، اور یہ اوصاف کفار کے ہیں مسلمانوں کے نہیں اور انھی کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ مسلمان کو ہونے والا عذاب تو اسے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہو گا۔ البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلمان کہلانے والے لوگ جو حرام عشقیہ گانے بجانے کو اپنا پیشہ یا شغل بنا لیتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں بدترین نفاق پیدا ہو جاتا ہے اور اللہ کی آیات کو سن کر ان کے ساتھ ان کا رویہ بھی بعینہٖ وہی ہوتا ہے جو ان آیات میں مذکور ہے۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے لیے مولوی کا مذاق اڑاتے اور اسے گالی دیتے ہیں، جب کہ ظاہر ہے کہ مولوی بے چارے کا قصور یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات سناتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف نام کے مسلمان ہونے کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ اللہ کی آیات کے انکار، ان سے استکبار اور ان کو مذاق بنانے کے ساتھ مسلمانی کے دعوے پر اصرار قیامت کے دن ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ افسوس! اس وقت یہ بیماری بری طرح امتِ مسلمہ میں پھیل چکی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل فون، انٹرنیٹ، غرض ہر ذریعے سے کفار اور ان کے نام نہاد مسلم گماشتوں نے اسے اس قدر پھیلا دیا ہے کہ کم ہی کوئی خوش نصیب اس سے بچا ہو گا۔ حالانکہ دین کے کمال و زوال کے علاوہ دنیوی عروج و زوال میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اقبال نے چند لفظو ں میں اس کا نقشہ کھینچا ہے: میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر کوئی شخص اگر حرام گانے بجانے کا عمل گناہ سمجھ کر کرے، اس پر نادم ہو تو پھر بھی معافی کی امید ہے، مگر جب کوئی قوم فنون لطیفہ یا روح کی غذا کا نام دے کر اسے حلال ہی کرلے، تو اس کے لیے اللہ کے عذاب کے کوڑے سے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔ ابو عامر یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيَكُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَالْحَرِيْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ، وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلٰی جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوْحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَّهُمْ، يَأْتِيْهِمْ، يَعْنِي الْفَقِيْرَ، لِحَاجَةٍ فَيَقُوْلُوْا ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا فَيُبَيِّتُهُمُ اللّٰهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ، وَيَمْسَخُ آخَرِيْنَ قِرَدَةً وَخَنَازِيْرَ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر…: ۵۵۹۰ ] ”میری امت میں کئی لوگ ہوں گے جو شرم گاہ (زنا) اور ریشم اور شراب اور باجوں کو حلال کر لیں گے اور کئی لوگ ایک پہاڑ کے پہلو میں اتریں گے، ان کے چرواہے شام کو ان کے چرنے والے مویشی لایا کریں گے، ان کے پاس فقیر اپنی حاجت کے لیے آئے گا، وہ کہیں گے کل آنا۔ تورات ہی کو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب بھیجے گا اور وہ پہاڑ ان پر گرا دے گا اور کئی دوسروں کی شکلیں قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل دے گا۔“ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِّنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّوْنَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُعْزَفُ عَلٰی رُؤُوْسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّيَاتِ يَخْسِفُ اللّٰهُ بِهِمُ الْأَرْضَ وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيْرَ ] [ ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات: ۴۰۲۰، و قال الألباني صحیح ] ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پییں گے، اس کا نام اصل نام کے بجائے اور رکھ لیں گے، ان کے سامنے باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“
اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں، گویا کہ اس کے کان بہرے ہیں اچھا، مژدہ سُنا دو اسے ایک درد ناک عذاب کا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو تکبر کرتا ہوا پھرے جیسے انہیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ٹینٹ (روئی کا پھایا) ہے تو اسے دردناک عذاب کا مژدہ دو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ تکبر سے اس طرح منہ موڑ لیتا ہے کہ گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے کانوں میں گرانی (بہرہ پن) ہے تو اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے، گویا اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے، سو اسے دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لہو و لعب موسیقی اور لغو باتیں ٭٭
اوپر بیان ہوا تھا نیک بختوں کا جو کتاب اللہ سے ہدایت پاتے تھے اور اسے سن کر نفع اٹھاتے تھے۔ تو یہاں بیان ہو رہا ہے ان بدبختوں کا جو کلام الٰہی کو سن کر نفع حاصل کرنے سے باز رہتے ہیں اور بجائے اس کے گانے بجانے باجے گاجے ڈھول تاشے سنتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قسم اللہ کی اس سے مراد گانا اور راگ ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/20:صحیح] ایک اور جگہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ قسم کھا کر فرمایا کہ ”اس سے مقصد گانا اور راگ اور راگنیاں ہیں۔“ یہی قول سیدنا ابن عباس عنہما، سیدنا جابر رضی اللہ عنہم، عکرمہ، سعید بن جیبر، مجاہد مکحول، عمرو بن شعیب، علی بن بذیمہ رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت گانے بجانے باجوں گاجوں کے بارے میں اتری ہے۔“ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس سے مراد صرف وہی نہیں جو اس لہو ولعب میں پیسے خرچے یہاں مراد خرید سے اسے محبوب رکھنا اور پسند کرنا ہے۔“ انسان کو یہی گمراہی کافی ہے کہ باطل کی بات کو حق پر پسند کرلے۔ اور نقصان کی چیز کو نفع پر مقدم کر لے۔ ایک اور قول یہ بھی ہے کہ لغو بات خریدنے سے مراد گانے والی لونڈیوں کی خریداری ہے۔ چنانچہ ابن ابی حاتم وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { گانے والیوں کی خرید و فروخت حلال نہیں اور ان کی قیمت کا کھانا حرام ہے انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3195،قال الشيخ الألباني:حسن] امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے غریب کہا ہے اور اس کے ایک راوی علی بن یزید کو ضعیف کہا ہے۔ میں کہتا ہوں خود علی ان کے استاد اور ان کے تمام شاگرد ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مراد اس سے شرک ہے۔“ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ ”ہر وہ کلام جو اللہ سے اور اتباع شرع سے روکے وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ اس سے غرض اس کی اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت ہوتی ہے۔“ ایک قرأت میں «لِیَضِلَّ» ہے تو لام لام عاقبت ہو گا یا لام تعلیل ہوگا۔ یعنی امر تقدیری ان کی اس کار گزاری سے ہو کر رہے گا۔ ایسے لوگ اللہ کی راہ کو ہنسی بنا لیتے ہیں۔ آیات اللہ کو بھی مذاق میں اڑاتے ہیں۔ اب ان کا انجام بھی سن لو کہ جس طرح انہوں نے اللہ کی راہ کی کتاب اللہ کی اہانت کی قیامت کے دن ان کی اہانت ہو گی اور خطرناک عذاب میں ذلیل ورسوا ہونگے۔
پھر بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بد نصیب جو کھیل تماشوں، باجوں گاجوں، راگ راگنیوں پر ریجھا ہوا ہے، یہ قرآن کی آیتوں سے بھاگتا ہے کان ان سے بہرے کر لیتا ہے یہ اسے اچھی نہیں معلوم ہوتیں۔ سن بھی لیتا ہے تو بے سنی کر دیتا ہے۔ لیکن انکا سننا اسے ناگوار گزرتا ہے کوئی مزہ نہیں آتا۔ وہ اسے فضول کام قرار دیتا ہے چونکہ اس کی کوئی اہمیت اور عزت اس کے دل میں نہیں اس لیے وہ ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا وہ تو ان سے محض بے پرواہ ہے۔ یہ یہاں اللہ کی آیتوں سے اکتاتا ہے توقیامت کے دن عذاب بھی وہ ہونگے کہ اکتا اکتا اٹھے۔ یہاں آیات قرانی سن کر اسے دکھ ہوتا ہے وہاں دکھ دینے والے عذاب اسے بھگتنے پڑیں گے ‘۔
7-1یہ اس شخص کا حال ہے جو مذکورہ لہو و لعب کی چیزوں میں مگن رہتا ہے، وہ آیات قرآنیہ اور اللہ رسول کی باتیں سن کر بہرا بن جاتا ہے حالانکہ وہ بہرا نہیں ہوتا اور اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں، کیونکہ اس کے سننے سے وہ ایذاء محسوس کرتا ہے۔ اس لیے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، وقرا کے معنی ہیں کانوں میں ایسا بوجھ جو اسے سننے سے محروم کردے۔
البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، اُن کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جن لوگوں نےایمان قبول کیا اور کام بھی نیک (مطابق سنت) کیے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے چین کے باغ ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کیلئے نعمت (اور آرام) والی جنتیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے وعدے ٹلتے نہیں ٭٭
نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ جو اللہ پر ایمان لائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں، لذیذ غذائیں، بہترین پوشاکیں، عمدہ عمدہ سواریاں، پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور ان کی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں ‘۔ یہ حتماً اور یقیناً ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرما چکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے، منان ہے، محسن ہے، منعم ہے، جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہرچیز پر قادر ہے، عزیز ہے، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، حکیم ہے، کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ’ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لیے ہادی اور شافی بنایا ہاں بے ایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔ ۱؎ [41-فصلت:44] اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] یعنی ’ جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} لہو الحدیث کے خریدار بد نصیبوں اور ان کی جزا کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والے خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں، جن میں نعمت ہی نعمت ہو گی، کسی قسم کی زحمت یا تکلیف یا رنج و غم نہیں ہو گا، جب کہ دنیا کا کوئی باغ یا کوئی نعمت ایسی نہیں جس کے ساتھ کوئی زحمت یا رنج و غم نہ ہو۔
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعده ہے، وه بہت بڑی عزت وغلبہ واﻻ اور کامل حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہمیشہ ان میں رہیں گے، اللہ کا وعدہ ہے سچا، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا (اور پکا) وعدہ ہے۔ وہ بڑا غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہمیشہ ان میں رہنے والے۔ اللہ کا وعدہ ہے سچا اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے وعدے ٹلتے نہیں ٭٭
نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ جو اللہ پر ایمان لائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں، لذیذ غذائیں، بہترین پوشاکیں، عمدہ عمدہ سواریاں، پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور ان کی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں ‘۔ یہ حتماً اور یقیناً ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرما چکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے، منان ہے، محسن ہے، منعم ہے، جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہرچیز پر قادر ہے، عزیز ہے، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، حکیم ہے، کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ’ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لیے ہادی اور شافی بنایا ہاں بے ایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔ ۱؎ [41-فصلت:44] اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] یعنی ’ جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں ‘۔
9-1یعنی یہ یقینا پورا ہوگا، اس لئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وَاللّٰہُ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔
(آیت 9) ➊ { خٰلِدِيْنَ فِيْهَا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۷، ۱۰۸)۔ ➋ { وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا:} جنت کے وعدے کی ضمانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ذکر فرمایا کہ یہ کسی اَیرے غیرے کا وعدہ نہیں، بلکہ ساری کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ {” حَقًّا “} کے ساتھ مزید یقین دلایا ہو کہ وعدہ بھی ایسا ہے جو بالکل سچا ہے، جس سے زیادہ سچا کوئی وعدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ➌ {وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} اس میں مزید یقین دہانی ہے کہ یہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی قوت اسے وعدہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتی اور وہ کمال حکمت والا ہے۔ اس نے یہ وعدہ اندھا دھند اور بے موقع نہیں فرمایا، بلکہ حکمت کے مطابق فرمایا ہے۔
اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ستونوں کے جو تم کو نظر آئیں اُس نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلا دیے اور آسمان سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگا دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا ہے تم انہیں دیکھ رہے ہو اور اس نے زمین میں پہاڑوں کو ڈال دیا تاکہ وه تمہیں جنبش نہ دے سکے اور ہر طرح کے جاندار زمین میں پھیلا دیئے۔ اور ہم نے آسمان سے پانی برسا کر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگا دیئے
احمد رضا خان بریلوی
اس نے آسمان بنائے بے ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں ڈالے لنگر کہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے، اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا تو زمین میں ہر نفیس جوڑا اگایا
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر پیدا کیا ہے جو تمہیں نظر آئیں اور اس نے زمین میں بھاری پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ وہ تمہیں لے کر (ایک طرف) ڈھلک نہ جائے اور اس میں ہر قسم کے چلنے پھرنے والے (جانور) پھیلا دیئے اور ہم نے آسمانوں (بلندی) سے پانی برسایا اور اس سے زمین میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا، جنھیں تم دیکھتے ہو اور زمین میں پہاڑ رکھ دیے، تاکہ وہ تمھیں ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس میں ہر طرح کی عمدہ قسم اگائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑوں کی میخیں ٭٭
اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ ’ زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بے ستون اونچا رکھا ہے ‘۔ واقع ہی میں کوئی ستون نہیں، گو مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول بھی ہے کہ ستون ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورۃ الرعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لیے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لیے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کر سکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ ’ آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بے ضرر۔ نفع میں بہت بہتر ‘۔ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا، بہرا، بے عقل، بے علم، بے سمجھ، بیوقوف اور کون ہوگا؟
10-1تَرَوْنَھَا، اگر عَمَد کی صفت ہو تو معنی ہونگے ایسے ستونوں کے بغیر جنہیں تم دیکھ سکو۔ یعنی آسمان کے ستون ہیں لیکن ایسے کہ تم انھیں دیکھ نہیں سکتے۔ 10-2رواسی راسیۃ کی جمع ہے جس کے معنی ثابتۃ کے ہیں یعنی پہاڑوں کو زمین پر اس طرح بھاری بوجھ بنا کر رکھ دیا ہے کہ جن سے زمین ثابت رہے یعنی حرکت نہ کرے۔ اسی لیے آگے فرمایا ان تمید بکم یعنی کراھۃ ان تمید (تمیل) بکم او لئلا تمید یعنی اس بات کی ناپسندیدگی سے کہ زمین تمہارے ساتھ ادھر ادھر ڈولے، یا اس لیے کہ زمین ادھر ادھر نہ ڈولے۔ جس طرح ساحل پر کھڑے بحری جہازوں میں بڑے بڑے لنگر ڈال دیے جاتے ہیں تاکہ جہاز نہ ڈولے زمین کے لیے پہاڑوں کی بھی یہی حیثیت ہے۔ 10-3یعنی انواع و اقسام کے جانور زمین میں ہر طرف پھیلا دیئے جنہیں انسان کھاتا بھی ہے، سواری اور بار برداری کے لئے بھی استعمال کرتا ہے اور بطور زینت اور آرائش کے بھی اپنے پاس رکھتا ہے۔ 10-4زوج یہاں صنف کے معنی میں ہے یعنی ہر قسم کے غلے اور میوے پیدا کیے۔ ان کی صفت کریم ان کے حسن لون اور کثرت منافع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
(آیت 10) {خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا …:} اس میں اللہ تعالیٰ کی عزت و حکمت کی چند نشانیوں کا ذکر فرما کر اس کی توحید کو اجاگر فرمایا، جو قرآن مجید کا سب سے بڑا اور اصل موضوع ہے۔ {” بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا “} کی تفسیر سورۂ رعد (۲) میں اور {” وَ اَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ “} کی تفسیر سورۂ حجر (۱۹) اور سورۂ انبیاء (۳۱) میں دیکھیے۔
یہ تو ہے اللہ کی تخلیق، اب ذرا مجھے دکھاؤ، ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے اللہ کی مخلوق اب تم مجھے اس کے سوا دوسرے کسی کی کوئی مخلوق تو دکھاؤ (کچھ نہیں)، بلکہ یہ ﻇالم کھلی گمراہی میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے مجھے وہ دکھاؤ جو اس کے سوا اوروں نے بنایا بلکہ ظالم کھلی گمراہی میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ تو ہے اللہ کی تخلیق! (اور اس کی پیدا کی ہوئی چیزیں)۔ اب تم مجھے دکھاؤ کہ جو اس کے علاوہ (تمہارے شرکاء) ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ بلکہ ظالم لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے اللہ کی مخلوق، تو تم مجھے دکھائو کہ ان لوگوں نے جو اس کے سوا ہیں کیا پیدا کیا ہے؟ بلکہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پہاڑوں کی میخیں ٭٭
اللہ سبحان وتعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ ’ زمین و آسمان اور ساری مخلوق کا خالق صرف وہی ہے۔ آسمان کو اس نے بے ستون اونچا رکھا ہے ‘۔ واقع ہی میں کوئی ستون نہیں، گو مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول بھی ہے کہ ستون ہمیں نظر نہیں آتے۔ اس مسئلہ کا پورا فیصلہ میں سورۃ الرعد کی تفسیر میں لکھ چکا ہوں اس لیے یہاں دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زمین کو مضبوط کرنے کے لیے اور ہلے جلنے سے بچانے کے لیے اس نے اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ وہ تمہیں زلزلے اور جنبش سے بچالے۔ اس قدر قسم قسم کے بھانت بھانت کے جاندار اس خالق حقیقی نے پیدا کئے کہ آج تک ان کا کوئی حصر نہیں کر سکا۔ اپنا خالق اور اخلق ہونا بیان فرما کر اب رازق اور رزاق ہونا بیان فرما رہا ہے کہ ’ آسمان سے بارش اتار کر زمین میں سے طرح طرح کی پیداوار اگادی جو دیکھنے میں خوش منظر کھانے میں بے ضرر۔ نفع میں بہت بہتر ‘۔ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ انسان بھی زمین کی پیداوار ہے جنتی کریم ہیں اور دوزخی لئیم ہیں۔ اللہ کی یہ ساری مخلوق تو تمہارے سامنے ہے اب جنہیں تم اس کے سوا پوجتے ہو ذرا بتاؤ تو ان کی مخلوق کہاں ہے؟ جب نہیں تو وہ خالق نہیں اور جب خالق نہیں تو معبود نہیں پھر ان کی عبادت نرا ظلم اور سخت ناانصافی ہے فی الواقع اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں سے زیادہ اندھا، بہرا، بے عقل، بے علم، بے سمجھ، بیوقوف اور کون ہوگا؟
11-1ھٰذَا (یہ) اشارہ ہے اللہ کی ان پیدا کردہ چیزوں کی طرف جن کا گذشتہ آیات میں ذکر ہوا۔ 11-2یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو اور انھیں مدد کے لیے پکارتے ہو، انہوں نے آسمان و زمین میں کون سی چیز پیدا کی ہے؟ کوئی ایک چیز تو بتلاؤ؟ مطلب یہ ہے کہ جب ہر چیز کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے، تو عبادت کا مستحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کائنات میں کوئی ہستی اس لائق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسے مدد کے لیے پکارا جائے۔
(آیت 11) {هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ …:} یعنی یہ ستونوں کے بغیر بلند آسمان، زمین میں گڑے ہوئے پہاڑ اور اس میں پھیلے ہوئے جانور، آسمان سے اترنے والا پانی اور اس کے ساتھ زمین سے پیدا ہونے والی ہر عمدہ اور نفیس قسم کی چیز، یہ سب کچھ تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ اب مجھے دکھاؤ کہ وہ کون سی چیز ہے جو اس کے سوا کسی اور نے پیدا فرمائی ہے؟ ظاہر ہے ایک بھی نہیں۔ تو پھر مشرکین اس کے سوا کسی اور کی عبادت کیوں کرتے ہیں، کیا ان کے پاس کوئی دلیل ہے؟ فرمایا نہیں، بلکہ اصل یہ ہے کہ مشرک ظالم ہیں اور ظالم بھی ایسے جو واضح گمراہی میں مبتلا ہیں، شرک کی ظلمت اور اندھیرے میں انھیں سیدھا راستہ سوجھتا ہی نہیں، اس لیے وہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو واضح طور پر غلط اور گمراہی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اس بات کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے کہ پیدا کرنے والا صرف وہ ہے، تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں ہو؟ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱، ۲۲)، رعد (۱۶)، نحل (۱۷ تا ۲۱)، حج (۷۳، ۷۴)، فاطر (۴۰) اور احقاف (۴، ۵)۔
ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر گزار ہو جو کوئی شکر کرے اُس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کوئی کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے یقیناً لقمان کو حکمت دی تھی کہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر کر ہر شکر کرنے واﻻ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وه جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کر اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بے پرواہ ہے سب خوبیاں سراہا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے لقمان کو حکمت (و دانائی) عطا کی (اور کہا) کہ خدا کا شکر ادا کرو اور جو شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کیلئے شکر ادا کرتا ہے اور جو کفرانِ نعمت (ناشکری) کرتا ہے (وہ اپنا نقصان کرتا ہے کیونکہ) بے شک اللہ بے نیاز ہے (اور) لائقِ حمد و ثنا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی کہ اللہ کا شکر کر اور جو شکر کرے تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقینا اللہ بہت بے پروا ، بہت تعریفوں والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لقمان نبی تھے یا نہیں؟ ٭٭
اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ”لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے تھے۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی۔“ آپ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا ”اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم رسالت پناہ کے غلام تھے۔ سیدنا مہج رضی اللہ عنہ جو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اور لقمان حکیم جو حبشہ کے نوبہ تھے۔“
حضرت خالد ربعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”لقمان جو حبشی غلام بڑھئی تھے ان سے ایک روز ان کے مالک نے کہا بکری ذبح کرو اور اس کے دو بہترین اور نفیس ٹکڑے گوشت کے میرے پاس لاؤ۔ وہ دل اور زبان لے گئے کچھ دنوں بعد ان کے آقا نے یہی حکم کیا اور کہا آج اس سارے گوشت میں جو بدترین گوشت اور خبیث کے ٹکڑے ہوں وہ لادو۔ آج بھی یہی دو چیزیں لے گئے۔ مالک نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ بہترین ٹکڑے تجھ سے مانگے تو تو یہی دو لایا اور بدترین مانگے تو تو نے یہی لادئیے۔ یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا جب یہ اچھے رہے تو ان سے بہترین جسم کا کوئی عضو نہیں اور جب یہ برے بن جائے تو پھر سب سے بدتر بھی یہی ہیں۔“
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”لقمان نبی نہ تھے نیک بندے تھے۔ سیاہ فام غلام تھے موٹے ہونٹوں والے اور بھرے قدموں والے۔“ اور بزرگ سے بھی یہ مروی ہے کہ ”بنی اسرائیل میں قاضی تھے۔“ ایک اور قول ہے کہ ”آپ داؤد علیہ السلام کے زمانے میں تھے۔ ایک مرتبہ آپ کسی مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ ایک چروا ہے نے آپ کو دیکھ کر کہا کیا تو وہی نہیں ہے جو میرے ساتھ فلاں فلاں جگہ بکریاں چرایا کرتا تھا؟ آپ نے فرمایا ہاں میں وہی ہوں اس نے کہا پھر تجھے یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟ فرمایا سچ بولنے اور بے کار کلام نہ کرنے سے۔“ اور روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی بلندی کی وجہ یہ بیان کی کہ اللہ کا فضل اور امانت ادائیگی اور کلام کی سچائی اور بے نفع کاموں کو چھوڑ دینا۔ الغرض ایسے ہی آثار صاف ہیں کہ آپ نبی نہ تھے۔ بعض روایتیں اور بھی ہیں جن میں گو صراحت نہیں کہ آپ نبی نہ تھے لیکن ان میں بھی آپ کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ نبی نہ تھے کیونکہ غلامی نبوت کے منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہ السلام عالی نسب اور عالی خاندان کے ہوا کرتے تھے۔
اسی لیے جمہور سلف کا قول ہے کہ لقمان نبی نہ تھے۔ ہاں عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نبی تھے لیکن یہ بھی جب کے سند صحیح ثابت ہو جائے لیکن اس کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ کہتے ہیں کہ لقمان حکیم سے ایک شخص نے کہا کیا تو بنی حسحاس کا غلام نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ اس نے کہا تو بکریوں کا چرواہا نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ کہا گیا تو سیاہ رنگ نہیں؟ آپ نے فرمایا ظاہر ہے میں سیاہ رنگ ہوں تم یہ بتاؤ کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا یہی کہ پھر کیا وجہ ہے کہ تیری مجلس پر رہتی ہے لوگ تیرے دروازے پر آتے رہتے ہیں تری باتیں شوق سے سنتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ”سنو! بھائی جو باتیں میں تمہیں کہتا ہوں ان پر عمل کر لو تو تم بھی مجھ جیسے ہوجاؤ گے۔ آنکھیں حرام چیزوں سے بند کرلو۔ زبان بے ہودہ باتوں سے روک لو۔ مال حلال کھایا کرو۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔ زبان سے سچ بات بولا کرو۔ وعدے کو پورا کیا کرو۔ مہمان کی عزت کرو۔ پڑوسی کا خیال رکھو۔ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دو۔ انہی عادتوں کی وجہ سے میں نے بزرگی پائی ہے۔“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں ”لقمان حکیم کسی بڑے گھرانے کے امیر اور بہت زیادہ کنبے قبیلے والے نہ تھے۔ ہاں ان میں بہت سی بھلی عادتیں تھیں۔ وہ خوش اخلاق خاموش غور و فکر کرنے والے گہری نظر والے دن کو نہ سونے والے تھے۔ لوگوں کے سامنے تھوکتے نہ تھے نہ پاخانہ پیشاب اور غسل کرتے تھے لغو کاموں سے دور رہتے ہنستے نہ تھے، جو کلام کرتے تھے حکمت سے خالی نہ ہوتا تھا جس وقت ان کی اولاد فوت ہوئی یہ بالکل نہیں روئے۔ وہ بادشاہوں امیروں کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ غوروفکر اور عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔“ قتادۃ رحمہ اللہ سے ایک عجیب اثر وارد ہے کہ ”لقمان کو حکمت ونبوت کے قبول کرنے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے حکمت قبول فرمائی راتوں رات ان پر حکمت برسادی گئی اور رگ و پے میں حکمت بھر دی گئی۔ صبح کو ان کی باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں۔ آپ سے سوال ہوا کہ آپ نے نبوت کے مقابلے میں حکمت کیسے اختیار کی؟ تو جواب دیا کہ اگر اللہ مجھے نبی بنا دیتا تو اور بات تھی ممکن تھا کہ منصب نبوت کو میں نبھا جاتا۔ لیکن جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نبوت کا بوجھ نہ سہار سکوں۔ اس لیے میں نے حکمت ہی کو پسند کیا۔“ اس روایت کے ایک راوی سعید بن بشیر ہیں جن میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”مراد حکمت سے اسلام کی سمجھ ہے۔ لقمان نہ نبی تھے نہ ان پر وحی آئی تھی پس سمجھ علم اور عبرت مراد ہے۔“ ’ ہم نے انہیں اپنا شکر بجالانے کا حکم فرمایا تھا کہ میں نے تجھے جو علم وعقل دی ہے اور دوسروں پر جو بزرگی عطا فرمائی ہے۔ اس پر تو میری شکر گزاری کر۔ شکر گزار کچھ مجھ پر احسان نہیں کرتا وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:44] ’ نیکی والے اپنے لیے بھی بھلا توشہ تیار کرتے ہیں ‘۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ کو اس کی ناشکری ضرر نہیں پہنچاسکتی وہ اپنے بندوں سے بے پرواہ ہے سب اس کے محتاج ہیں وہ سب سے بے نیاز ہے ‘۔ ساری زمین والے بھی اگر کافر ہو جائیں تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ سب سے غنی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔
12-1حضرت لقمان، اللہ کے نیک بندے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حکمت یعنی عقل فہم اور دینی بصیرت میں ممتاز مقام عطا فرمایا تھا۔ ان سے کسی نے پوچھا تمہیں یہ فہم و شعور کس طرح حاصل ہوا؟ انہوں نے فرمایا، راست بازی، امانت کے اختیار کرنے اور بےفائدہ باتوں سے اجتناب اور خاموشی کی وجہ سے۔ ان کا حکمت و دانش پر مبنی ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ غلام تھے، ان کے آقا نے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بہترین دو حصے لاؤ، چناچہ وہ زبان اور دل نکال کرلے گئے۔ ایک دوسرے موقع پر آقا نے ان سے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بدترین حصے لاؤ، چناچہ وہ زبان اور دل نکال کرلے گئے، پوچھنے پر انہوں نے بتلایا کہ زبان اور دل، اگر صحیح ہوں تو سب سے بہتر ہیں اور اگر یہ بگڑ جائیں تو ان سے بدتر کوئی چیز نہیں۔ (ابن کثیر) 12-2شکر کا مطلب ہے، اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا اور اس کے احکام کی فرماں برداری۔
(آیت 12) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ:} تفاسیر میں لقمان کے متعلق جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں، روح المعانی میں ہے: ”وہب نے کہا، وہ ایوب علیہ السلام کے بھانجے تھے۔ مقاتل نے کہا، ان کے خالہ زاد تھے۔ عبدالرحمن سہیلی نے کہا، وہ عنقا بن سرون کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا، وہ آزر کی اولاد سے تھے، ہزار برس زندہ رہے اور داؤد علیہ السلام کو پایا اور ان سے علم حاصل کیا۔ ان کے مبعوث ہونے سے پہلے فتویٰ دیتے تھے، جب وہ مبعوث ہوئے تو فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا تو فرمانے لگے، جب مجھ سے کفایت کی گئی تو کیا میں اکتفا نہ کروں۔ بعض نے کہا، وہ بنی اسرائیل کے ایک قاضی تھے۔ یہ بات واقدی سے نقل کی گئی ہے، مگر انھوں نے کہا، ان کا زمانہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھا۔ عکرمہ اور شعبی نے کہا، وہ نبی تھے۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام کے زمانہ میں تھے، نبی نہیں تھے اور ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ آزاد تھے یا غلام۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ غلام تھے۔ ایک اختلاف اور ہے، بعض نے کہا، حبشی تھے، یہ ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے اور ابن مردویہ نے یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ مجاہد نے ان کے بارے میں بیان کیا کہ وہ موٹے ہونٹوں اور پاؤں کے سیدھے تلوے والے تھے۔ بعض نے کہا، وہ نُوبی تھے، پھٹے ہوئے پاؤں اور موٹے ہونٹوں والے تھے۔ یہ ابن عباس، ابن مسیب اور مجاہد سے منقول ہے۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا، میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے کہا، آپ کو لقمان کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے؟ انھوں نے فرمایا، وہ چھوٹے قد، چپٹی ناک والے نوبی (حبشی) تھے۔ ابن ابی حاتم، ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے بیان کیا ہے، انھوں نے فرمایا کہ لقمان مصر کے سیاہ فام لوگوں میں سے کالے رنگ والے اور بڑے ہونٹوں والے تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں حکمت عطا کی، مگر نبوت نہیں دی۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان کا پیشہ کیا تھا۔ چنانچہ خالد بن ربیع نے کہا، وہ نجار (راء کے ساتھ) یعنی ترکھان تھے اور معانی الزجاج میں ہے، وہ نجاد تھے (دال کے ساتھ، بروزن کتاب، جو بچھونے اور گدے وغیرہ بناتے اور سیتے ہیں)۔ ابن ابی شیبہ نے اور احمد نے ”الزہد“ میں اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے روایت کی ہے کہ وہ خیاط (کپڑے سینے والے) تھے، جو نجاد سے عام ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ وہ چرواہے تھے۔ بعض نے کہا، وہ ہر روز اپنے مالک کے لیے ایندھن کا گٹھا لاتے تھے۔“ مفسر آلوسی صاحب روح المعانی یہ سب کچھ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: {” وَلَا وُثُوْقَ لِيْ بِشَيْءٍ مِنْ هٰذِهِ الْأَخْبَارِ وَإِنَّمَا نَقَلْتُهَا تَأْسِيًا بِمَنْ نَقَلَهَا مِنَ الْمُفَسِّرِيْنَ الْأَخْيَارِ غَيْرَ أَنِّيْ أَخْتَارُ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا صَالِحًا حَكِيْمًا وَلَمْ يَكُنْ نَبِيًّا“} ”یعنی مجھے ان خبروں میں سے کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے، میں نے تو انھیں صرف اس لیے نقل کیا ہے کہ جید مفسرین نے انھیں نقل کیا ہے۔ میں تو صرف اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ وہ صالح اور حکیم (و دانا) آدمی تھے، نبی نہیں تھے۔“ میں نے بھی یہ سارا کلام یہ دکھانے کے لیے نقل کیا ہے کہ بعض مفسرین کس طرح بلاثبوت باتیں نقل کرتے جاتے ہیں اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ مجاہد، قتادہ، ابن المسیّب وغیرہ حضرات کا ہزاروں برس پہلے گزرے ہوئے لقمان کے ساتھ کوئی میل جول رہا ہے، یا انھوں نے ان تک کوئی سند بیان کی ہے۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب روایت نقل کرتے ہوئے یہ اہتمام کرتے ہیں کہ ثابت شدہ روایت ہی نقل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان کے متعلق اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا اور جسے صاحب روح المعانی نے ترجیح دی ہے۔ ان کے غلام یا حبشی وغیرہ ہونے کی کوئی روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی ان کی حکمت اور دانائی کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور جاہلی شعراء اور خطباء اپنے کلام میں ان کا ذکر کرتے تھے، جیسا کہ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔ ➋ شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ توحید کی بات صرف پیغمبروں ہی کے ذریعے سے نہیں آئی، بلکہ عقل و حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے اور پہلے عاقل اور دانا لوگ بھی یہی بات کہتے چلے آئے ہیں، چنانچہ تمھارا اپنا مشہور حکیم لقمان بھی اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔ ➌ { اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ:} تفسیر قاسمی میں ہے: {”قَالَ فِي الْبَصَائِرِ الشُّكْرُ مَبْنِيٌّ عَلٰي خَمْسَةِ قَوَاعِدَ، خُضُوْعُ الشَّاكِرِ لِلْمَشْكُوْرِ وَ حُبُّهُ لَهُ وَاعْتِرَافُهُ بِنِعْمَتِهِ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ بِهَا وَ أَنْ لَّا يَسْتَعْمِلَهَا فِيْمَا يَكْرَهُ، هٰذَا الْخَمْسَةُ هِيَ أَسَاسُ الشُّكْرِ وَبَنَاءُهُ عَلَيْهَا فَإِنْ عُدِمَ مِنْهَا وَاحِدَةٌ اخْتَلَّتْ قَاعِدَةٌ مِّنْ قَوَاعِدِ الشُّكْرِ وَكُلُ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الشُّكْرِ فَإِنَّ كَلَامَهُ إِلَيْهَا يَرْجِعُ وَ عَلَيْهَا يَدُوْرُ“} ”البصائر میں فرمایا کہ شکر کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، شکر کرنے والے کا اس کے سامنے عاجز ہونا جس کا وہ شکر ادا کر رہا ہے، اس کے ساتھ محبت کرنا، اس کی نعمت کا اعتراف کرنا، اِس پر اُس کی تعریف کرنا اور یہ کہ اس نعمت کو اس جگہ استعمال نہ کرے جہاں نعمت دینے والا پسند نہ کرتا ہو۔ یہ پانچوں چیزیں ہی شکر کی اساس ہیں اور انھی پر اس کی بنیاد ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک کم ہو تو شکر کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد کم ہو جائے گی۔ جس نے بھی شکر کے بارے میں گفتگو کی ہے اس کی گفتگو کا نتیجہ یہی ہے اور وہ اسی پر گھومتی ہے۔ “ ➍ { وَ مَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۷) اور سورۂ نمل (۴۰)۔ ➎ {وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ:} یعنی کسی کے کفر کا اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں، کیونکہ وہ بے نیاز ہے اور وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں، کوئی شکر کرے یا نہ کرے، کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کی ذات محمود ہے اور تمام خوبیوں کا مالک وہی ہے، کسی میں کوئی خوبی ہے تو اس کی اپنی نہیں بلکہ اسی کی عطا کردہ ہے۔
یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے کہا "بیٹا! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے بیٹے! (خبردار کسی کو) اللہ کا شریک نہ بنانا۔ بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا، جب کہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا اے میرے چھوٹے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭
حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ’ انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی ‘۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ { جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:82] اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ’ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں ‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4629]
اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ”ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔“ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] ، یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو ‘۔ عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ۱؎ [2-البقرة:233] الخ، یعنی ’ جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں ‘۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] یعنی ’ مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے ‘۔ اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔ جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:24] ’ ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے ‘۔ یہاں فرمایا ’ تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی“ }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:83/1]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا ‘۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔“
13-1اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی سب سے پہلی وصیت یہ نقل فرمائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع فرمایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی سب سے زیادہ کوشش کریں۔ 13-2یہ بعض کے نزدیک حضرت لقمان ہی کا قول ہے اور بعض نے اسے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں وہ حدیث پیش کی ہے جو (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) 6۔ الانعام:82) کے نزول کے تعلق سے وارد ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہاں ظلم سے مراد ظلم عظیم ہے اور آیت (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان:13) کا حوالہ دیا۔ مگر درحقیقت اس سے اللہ کا قول ہونے کی نہ تائید ہوتی ہے نہ تردید۔
(آیت 13) ➊ {وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ يَعِظُهٗ …: ”وَعَظَ“} کا معنی کسی چیز سے روکنا ہے، جس میں ترغیب کے ساتھ ڈرانا بھی ہو، جیسا کہ اللہ نے نوح علیہ السلام کو بیٹے کے لیے سفارش پر فرمایا: «{ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اِنِّيْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ }» [ ھود: ۴۶ ] ”پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ بے شک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہو جائے۔“ اور جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا }» [ النساء: ۶۳ ] ”سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں نصیحت کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔“ ➋ {يٰبُنَيَّ:”اِبْنٌ“} اصل میں {”بَنْوٌ“} ہے، اس کی تصغیر {” بُنَيْوٌ“} ہے۔ یائے متکلم کی طرف مضاف کرنے سے {”بُنَيْوِيَ“} ہو گیا۔ واؤ کو یاء کرنے سے {”بُنَيْيِيَ“} ہو گیا۔ پھر ایک یاء حذف کرنے اور ادغام سے {”بُنَيَّ“} ہو گیا۔ معنی اس کا ہے ”اے میرے چھوٹے بیٹے۔“ چھوٹے سے مراد پیارا ہے۔ بیٹے پر شفقت اور محبت کے اظہار کے لیے تصغیر اور یائے متکلم کی طرف مضاف کر کے مخاطب فرمایا۔ ➌ اس سے معلوم ہوا کہ وعظ کرتے وقت مخاطب کو نہایت محبت اور شفقت بھرے الفاظ کے ساتھ خطاب کرنا چاہیے، جیسا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو {” يٰبُنَيَّ “} کہہ کر اور ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو {” يٰۤاَبَتِ “} کہہ کر مخاطب فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو {”يَا عَمِّ! قُلْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“} کہہ کر وعظ فرمایا۔ بلکہ عام گفتگو میں بھی اس ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے والد کو {” يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا “} اور والد نے انھیں {” يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ “} کے ساتھ مخاطب کیا۔ ➍ { لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ:} حکمت عطا ہونے کے بعد یہ پہلی نصیحت ہے جو لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کی اور یہی وہ اصل الاصول ہے جس کی وحی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر رسول کو فرمائی، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ }» [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ہر والد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی کوشش کرے۔ اس کوشش میں وعظ کے ساتھ ان کے لیے اللہ سے دعا بھی شامل ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے جب اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا، تو ان کے نگاہوں سے اوجھل ہونے پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی: «{ وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ }» [ إبراہیم: ۳۵ ] ”اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔“ ➎ {اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ: ” اِنَّ “} کا لفظ تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی اس کے ساتھ پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک مت کر، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“ ظلم کا معنی ہے {”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهِ“} کسی چیز کو اس کی جگہ کے بجائے دوسری جگہ رکھ دینا، کسی کا حق دوسرے کو دے دینا۔ کیونکہ ظلم کا اصل معنی اندھیرا ہے اور اندھیرے میں آدمی کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔ موحّد آدمی اپنی پوری زندگی توحید کی روشنی میں بصیرت کے ساتھ گزارتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ }» [ یوسف: ۱۰۸ ] ”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے۔“ جب کہ مشرک ساری عمر شرک کی ظلمتوں میں بھٹکتا رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ }» [ البقرۃ: ۱۷۱ ] ”بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس وہ نہیں سمجھتے۔“ شرک بہت بڑا ظلم اس لیے ہے کہ اس سے بڑھ کر بے انصافی ہو نہیں سکتی کہ بے بس اور عاجز مخلوق کو خالق و مالک اور مختار رب تعالیٰ کے اختیارات کا مالک بنا دیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حق تلفی ہے اور آدمی کا اپنی جان پر بھی بہت بڑا ظلم کہ وہ اپنے آپ کو توحید کے بلند آسمان سے گرا کر شرک کی پستی میں گرا دے اور ہمیشہ کی نعمتوں والی جنت کے بجائے ابد الآباد جہنم کے عذاب کا سزاوار ٹھہرے۔ دیکھیے سورۂ حج (۳۱) اور مائدہ (۷۲) مزید دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۸۲): «{ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ }» کی تفسیر۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اُس کا دودھ چھوٹنے میں لگے (اِسی لیے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں (حسنِ سلوک کرنے کا) تاکیدی حکم دیا (کیونکہ) اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری سہہ کر اسے (پیٹ میں) اٹھائے رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹا (وہ تاکیدی حکم یہ تھا کہ) میرا اور اپنے ماں باپ کا شکریہ ادا کر (آخرکار) میری ہی طرف (تمہاری) بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری کی حالت میں اسے اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے کہ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا ۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭
حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ’ انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی ‘۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ { جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:82] اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ’ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں ‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4629]
اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ”ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔“ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] ، یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو ‘۔ عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ۱؎ [2-البقرة:233] الخ، یعنی ’ جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں ‘۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] یعنی ’ مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے ‘۔ اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔ جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:24] ’ ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے ‘۔ یہاں فرمایا ’ تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی“ }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:83/1]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا ‘۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔“
14-1توحید و عبادت الٰہی کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید سے اس نصیحت کی اہمیت واضح ہے۔ 14-2اس کا مطلب ہے رحم مادر میں بچہ جس حساب سے بڑھتا جاتا ہے، ماں پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے جس سے عورت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ماں کی اس مشقت کے ذکر سے اس طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرتے وقت ماں کو مقدم رکھا جائے، جیسا کہ حدیث میں بھی ہے۔ 14-3اس سے معلوم ہوا کہ مدت رضاعت دو سال ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
(آیت 14) ➊ {وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ:} اللہ عزوجل نے لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو وصیت ذکر فرمائی، جس میں انھوں نے اسے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی تاکید فرمائی، تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے انسان کو ماں باپ کا حق ادا کرنے کی وصیت فرما دی، کیونکہ وہ دنیا میں اس کے آنے اور اس کی پرورش کا ذریعہ بنے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل (۲۳، ۲۴)، عنکبوت (۸) اور انعام (۱۵۱) یہاں {” وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ “} کے بعد اس وصیت کی تفسیر {” اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيْكَ “} کے ساتھ فرمائی ہے، یعنی ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کر۔ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر ماں کا حق زیادہ ہونے کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے باپ سے کہیں زیادہ بچے کی مشقت اٹھائی ہے۔ معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ (دادا بہز بن حکیم) بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: [ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَنْ أَبَرُّ ] ”یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ نیکی اور احسان و سلوک کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أُمَّكَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب في بر الوالدین،: ۵۱۳۹، و قال الألباني حسن صحیح ] ”اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر اپنے سب سے قریب کے ساتھ، پھر اس کے بعد زیادہ قریب کے ساتھ۔“ بعض اہلِ علم نے اس تاکید کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ والدہ کی کمزوری اور طبعی نرمی اور شفقت کی وجہ سے اولاد اس کی پروا نہیں کرتی اور اس کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کرتی ہے، جب کہ باپ کی طبیعت کی وجہ سے اس کا خیال کرنا پڑتا ہے، لہٰذا تاکید کے لیے ماں کا ذکر تین دفعہ فرمایا۔ یہ مطلب نہیں کہ ماں کو تین روپے دو اور باپ کو ایک روپیہ، بلکہ اولاد کو دونوں ہی کا خیال رکھنا چاہیے۔ (واللہ اعلم) ➋ { حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ:” وَهْنًا “} کی ترکیب کئی طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ یہ {” اُمُّهٗ “} سے حال بمعنی اسم فاعل ہے۔{” أَيْ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ وَهْنٍ عَلٰي وَهْنٍ “} یعنی اس کی ماں نے اسے اس حالت میں اٹھائے رکھا کہ وہ کمزوری پر کمزوری والی تھی۔ زمخشری نے فرمایا: {” وَهْنًا “} فعل محذوف{”تَهِنُ“} کا مفعول مطلق ہے، یعنی اس کی ماں نے اسے اس حال میں اٹھایا کہ وہ کمزور پر کمزور ہوتی جاتی تھی، دن بدن اس کا ضعف بڑھتا جاتا تھا، کیونکہ جیسے جیسے اس کا حمل بڑھتا، اس کا بوجھ اور ضعف بڑھتا جاتا تھا۔“ ایک صورت یہ ہے کہ اس سے پہلے حرف جار ”باء“ محذوف ہے، جس کے حذف کرنے سے اس پر نصب آئی ہے: {”أَيْ حَمَلَتْهُ بِضُعْفٍ عَلٰي ضُعْفٍ“} یعنی اس نے اسے کمزوری پر کمزوری کے ساتھ اٹھائے رکھا۔ ➌ { ” وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ “} (کمزوری پر کمزوری) میں دورانِ حمل دن بدن بڑھنے والی کمزوری کے بعد {” وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ “} (اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) کے درمیان کمزوری اور مشقت کے کئی مرحلے ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ جن میں ولادت کا جاں گسل مرحلہ، پھر نفاس کی کمزوری، پھر دن رات بچے کی پرورش، نگہداشت، اسے دودھ پلانا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔ ➍ { وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ:} حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا فرمان {” وَ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ “} (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ہم معنی ہے: «{ وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ }» [ البقرۃ: ۲۳۳ ] ”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔“ اسی سے ابن عباس رضی اللہ عنھما وغیرہ ائمہ نے استنباط فرمایا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے: «{ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا }» [ الأحقاف: ۱۵ ] ”اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے ماں کی پرورش کا، اس کمزوری، تکان اور دن رات بیداری اور مشقت کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بچے کو اس کا احسان یاد دلائے جو اس نے اس پر کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا }» [ بني إسرائیل: ۲۴ ] ”اور کہہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔“ ➎ زمخشری نے فرمایا: ”اگر تم کہو کہ دودھ چھڑانے کی مدت دو سال مقرر کرنے کا کیا مطلب ہے، تو میں کہوں گا کہ یہ مدت مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حد ہے جس سے تجاوز درست نہیں۔ دو سال سے کم میں دودھ چھڑانے کا معاملہ ماں کے اجتہاد پر موقوف ہے۔ اگر وہ سمجھے کہ وہ اس سے پہلے دودھ چھڑانا برداشت کر سکتا ہے تو وہ چھڑا سکتی ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «{ وَ الْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ }» [ البقرۃ: ۲۳۳ ] ”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔“ ➏ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کی کامل مدت دو سال ہے۔ اس عرصے میں دودھ پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت ہو گی، اس کے بعد نہیں۔ بعض لوگوں نے مدت رضاعت اڑھائی سال قرار دی ہے اور اسے احتیاط کا تقاضا قرار دیا ہے۔ مگر صریح آیت کے بعد کسی کو احتیاط یا کسی اور وجہ سے اس کی مخالفت کا کوئی اختیار نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ احقاف (۱۵)۔ ➐ { اِلَيَّ الْمَصِيْرُ: ” اِلَيَّ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا، یعنی میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے کسی اور کی طرف نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ یہ نہیں بتایا کہ کس کا لوٹ کر آنا مراد ہے؟ جواب یہ ہے کہ اسے عام رکھا ہے، تاکہ اس میں سب لوگ شامل ہو جائیں۔ یعنی ہر ایک کو، جن میں تم بھی شامل ہو، میری ہی طرف واپس آنا ہے۔ اس میں ازسر نو اللہ عزوجل اور والدین کے شکر کی وصیت ہے اور وعدہ بھی اور وعید بھی کہ اگر میرے متعلق اور اپنے والدین کے متعلق میری وصیت پر عمل کرو گے تو جزائے خیر پاؤ گے، ورنہ سزا کے لیے تیار رہو۔
لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان دُنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے، اُس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا اور اس کی راه چلنا جو میری طرف جھکا ہوا ہو تمہارا سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے تم جو کچھ کرتے ہو اس سے پھر میں تمہیں خبردار کروں گا
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے تو پھر ان کی اطاعت نہ کر اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کر اور اس شخص کے راستہ کی پیروی کر جو (ہر معاملہ میں) میری طرف رجوع کرے پھر تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے۔ تو (اس وقت) میں تمہیں بتاؤں گا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور دنیا میں اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہ اور اس شخص کے راستے پر چل جو میری طرف رجوع کرتا ہے، پھر میری ہی طرف تمھیں لوٹ کر آنا ہے، تو میں تمھیں بتاؤں گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭
حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ’ انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی ‘۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ ”صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ { جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:82] اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ’ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں ‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4629]
اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ”ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔“ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23] ، یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو ‘۔ عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ۱؎ [2-البقرة:233] الخ، یعنی ’ جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں ‘۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] یعنی ’ مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے ‘۔ اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ ”حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔“ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔ جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:24] ’ ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے ‘۔ یہاں فرمایا ’ تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی“ }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:83/1]
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا ‘۔ طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ”میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔ میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔“
15-1یعنی مومنین کی راہ۔ 15-2یعنی میری طرف رجوع کرنے والوں کی پیروی اس لیے کرو کہ بالآخر تم سب کو میری ہی بارگاہ میں آنا ہے، اور میری ہی طرف سے ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کی جزا ملنی ہے۔ اگر تم میرے راستے کی پیروی کرو گے اور مجھے یاد رکھتے ہوئے زندگی گزارو گے تو امید ہے کہ قیامت والے روز میری عدالت میں سرخرو ہو گے بصورت دیگر میرے عذاب میں گرفتار ہو گے۔ سلسلہ کلام حضرت لقمان کی وصیتوں سے متعلق تھا۔ اب آگے پھر وہی وصیتیں بیان کی جارہی ہیں۔ جو لقمان نے اپنے بیٹے کو کی تھیں۔ درمیان کی دو آیتوں میں اللہ تبارک وتعالی نے جملہ معترضہ کے طور پر ماں باپ کے ساتھ احسان کی تاکید فرمائی۔ جس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ لقمان نے یہ وصیت اپنے بیٹے کو نہیں کی تھی کیونکہ اس میں ان کا اپنا ذاتی مفاد بھی تھا۔ دوسرا یہ واضح ہوجائے کہ اللہ کی توحید و عبادت کے بعد والدین کی خدمت و اطاعت ضروری ہے۔ تیسرا یہ کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ اگر اس کا حکم والدین بھی دیں تو ان کی بات نہیں ماننی چاہیے۔
(آیت 15) ➊ { وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ …:} والدین کے ساتھ حُسن سلوک کی تاکید کے بعد اس میں سے ایک چیز کا استثنا فرمایا کہ اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور دیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے، تو خواہ جتنا زور لگا لیں ان کی بات مت ماننا۔ سورۂ عنکبوت کی آٹھویں آیت میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں {” وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ “} ہے اور یہاں {” عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِيْ “} ہے۔ {” عَلٰۤى “} کے لفظ میں ”لام“ کی بہ نسبت زیادہ قوت پائی جاتی ہے، اس لیے تفسیر میں اس بات کی طرف ”خواہ جتنا زور لگا لیں“ کے الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔ سورۂ عنکبوت میں فتنے کا ذکر ہے، جو والدین کی طرف سے منت و سماجت اور نرمی سے بھی ہو سکتا ہے اور سختی سے بھی، بہلانے پھسلانے یا بے رخی کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور طاقت، قوت اور زبردستی کے ساتھ بھی۔ والدین کی طرف سے شرک پر آمادہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کے باوجود ان کی اطاعت نہ کرنے کا حکم دیا، خواہ معاملہ تلوار یا بندوق تک پہنچ جائے۔ معمولی کوششیں خودبخود اس کے ضمن میں آگئیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کے بعد آدمی کے سب سے بڑے محسنوں کی بات ماننا اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں جائز نہیں، تو پھر کسی اور کی کیا حیثیت ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے؟ خواہ کوئی رشتہ دار ہو یا دوست، پیر ہو یا فقیر، امام ہو یا حاکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ ] [ المعجم الکبیر للطبراني: 60/13، ح: ۱۴۷۹۵ ] ”خالق کی نافرمانی کے معاملہ میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔“ مزید دیکھیے سورۂ عنکبوت (۸) کی تفسیر۔ ➋ { وَ صَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا:} ممکن تھا کہ کوئی شخص اس سے یہ سمجھ لیتا کہ والدین کے مشرک ہونے یا شرک پر آمادہ کرنے کی کوشش کی صورت میں ان سے سرے ہی سے قطع تعلق کر لینا چاہیے۔ اس لیے فرمایا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، ان معاملات میں جو دین کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے، ان کے ساتھ اچھے طریقے کے ساتھ رہو۔ مثلاً ان کے کھانے پینے، پہننے، رہنے اور علاج وغیرہ کی ضروریات کا خیال رکھو، ان کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ بات کرو، ان کے غصے اور تلخی کو برداشت کرتے رہو۔ جب مشرک والدین کے متعلق یہ حکم ہے، تو مومن والدین کا حق کس قدر ہو گا! ➌ { وَ اتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ:} اس جملے میں دوبارہ تاکید فرمائی کہ دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ معروف طریقے سے رہنے کی صورت میں اس بات کا خیال رکھو کہ تم میں مداہنت نہ پیدا ہو جائے کہ دینی معاملات میں بھی تم ان کے پیچھے چل پڑو۔ نہیں، چلنا انھی لوگوں کے راستے پر ہے جن کا رجوع میری طرف ہے اور جو صرف میری ہدایت اور رہنمائی پر چلتے ہیں۔ یہ راستہ صرف ان لوگوں کا ہے جو قرآن و حدیث پر چلتے ہیں، کیونکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ یہی دو چیزیں ہیں۔ کسی ایسے شخص کی رائے یا قیاس پر چلنا، جس پر اللہ کی طرف سے وحی نہیں ہوتی {” سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ “} پر چلنا نہیں، کیونکہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ غیر اللہ کی طرف ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ }» [ الأعراف: ۳ ] ”اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔“ ➍ { ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ:} ”میں تمھیں بتاؤں گا“ میں ڈانٹنے کا جو زور ہے وہ ”میں تمھیں جزا دوں گا“ میں نہیں۔
(اور لقمان نے کہا تھا کہ) "بیٹا، کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا وہ باریک بیں اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے بیٹے برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمان میں یا زمین میں کہیں ہو اللہ اسے لے آئے گا بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے بیٹا! اگر کوئی (نیک یا بد) عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو اور کسی پتھر کے نیچے ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں تو اللہ اسے لے ہی آئے گا بے شک اللہ بڑا باریک بین اور بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے چھوٹے بیٹے! بے شک کوئی چیز اگر رائی کے دانے کے وزن کی ہو ، پس کسی چٹان میں ہو، یا آسمانوں میں، یا زمین میں تو اسے اللہ لے آئے گا ، بلاشبہ اللہ بڑا باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔“ جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ، یعنی ’ قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’ ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا ‘۔ ۱؎ [99-الزلزلة:8-7] خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد } }۔ ۱؎ [مسند احمد:28/3:ضعیف]
پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔“ اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔“ پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔“ حدیث شریف میں ہے کہ { کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔
”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:37] ، یعنی ’ اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو ‘۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔ { حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ { ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے }۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے } }۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔
”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2621] نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3303] ایک روایت میں ہے { رات کو }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ { اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:87/2:صحیح] اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ { تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔“ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا]
تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭
لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے { سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے { تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف]
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے } }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جناب باری کا ارشاد ہے ’ سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو ‘ }، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا { اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ’ کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ ‘ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔“ ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں { انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے }۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔“ ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔“
محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔“ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔“
ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔“ موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔“
اچھے اخلاق کا بیان ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے ۱؎ [صحیح مسلم:5970] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا { سب سے اچھے اخلاق والا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] فرماتے ہیں { اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] فرماتے ہیں { انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی }۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: { دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] { ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: { کہ حسن خلق } }۔ ۱؎ [مسند احمد:278/4:صحیح] فرمایا کہ { نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] فرماتے ہیں { تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3559] فرماتے ہیں { جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ارشاد ہے { تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا }۔ فرماتے ہیں { کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ارشاد ہے { جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا }۔ ارشاد ہے کہ { دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] فرماتے ہیں { بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔“
تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭
{ حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں { وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:39] فرماتے ہیں کہ { جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ارشاد ہے کہ { انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح] امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ۱؎ [28-سورةالقص:19] ’ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے ‘۔
حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔“ ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔“ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔“
فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے
16-1ان تک کا مرجع خطیئۃ ہو تو مطلب گناہ اور اللہ کی نافرمانی والا کام ہے۔ اور اگر اس کا مرجع خصلۃ ہو تو مطلب اچھائی یا برائی کی خصلت ہوگا۔ مطلب یہ کہ انسان اچھا یا برا کام کتنا بھی چھپ کر کرے، اللہ سے چھپا نہیں رہ سکتا، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے حاضر کرلے گا، یعنی اس کی جزا دے گا اچھے عمل کی اچھی جزا، برے عمل کی بری جزا، رائی کے دانے کی مثال اس لئے دی کہ وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ جس کا وزن محسوس ہوتا ہے نہ تول میں ترازو کے پلڑے جھکا سکتا ہے۔ اسی طرح چٹان (آبادی سے دور جنگل، پہاڑ میں) مخفی ترین جگہ ہے یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا ' اگر تم میں سے کوئی شخص بےسوراخ کے پتھر میں بھی عمل کرے گا، جس کا کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر فرما دے گا، چاہے وہ کیسا ہی عمل ہو ' (مسند احمد،-328 اس لیے کہ وہ لطیف و باریک بین ہے۔ اس کا علم مخفی ترین چیز تک محیط ہے اور خبیر ہے اندھیری رات میں چلنے والی چیونٹی کی حرکات و سکنات سے بھی وہ باخبر ہے۔
(آیت 16) ➊ { يٰبُنَيَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ …:} لقمان علیہ السلام کی پہلی وصیت کے بعد دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے بارے میں وصیت فرمائی۔ اب دوبارہ لقمان علیہ السلام کی وصیتوں کا بیان شروع ہوتا ہے۔ پہلی وصیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا رد اور اس کی توحید کا بیان تھا، اس وصیت میں اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کے کمال کا بیان ہے۔ ➋ اکثر مفسرین کے مطابق {” اِنَّهَاۤ “} میں ضمیر {”هَا“} نیکی اور بدی کے اس عمل کی طرف جا رہی ہے جس کا ذکر پچھلی آیت {”بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ “} میں ہے: {” أَيْ إِنَّ الْفِعْلَةَ الْحَسَنَةَ أَوِ السَّيِّئَةَ إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ “} یعنی ”اچھا یا برا عمل اگر رائی کے ایک دانے کے برابر ہو گا …۔“ ابن عاشور نے فرمایا کہ {” تَكُ “} کا اسم مؤنث مقام کی دلالت کے مطابق مقدر مانا جائے گا:{ ” أَيْ إِنْ تَكُ الْكَائِنَةُ “} یعنی اگر ہونے والی کوئی بھی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو گی۔ یہ عام ہے، جس میں نیکی اور بدی بھی شامل ہے۔ ➌ { مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ:} مراد چھوٹی سے چھوٹی چیز ہے، کیونکہ عرب اس کے لیے {”مِثْقَالَ ذَرَّةٍ“} کا لفظ استعمال کرتے ہیں، یا {” مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ “} کا۔ {” مِثْقَالَ “ ”ثَقُلَ“} میں سے آلہ کا وزن ہے، بروزن {”مِفْعَالٌ۔“} ➍ { فَتَكُنْ فِيْ صَخْرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ:} یہ بیان کسی بھی ایسی چیز کی مثال کے طور پر ہے جو زیادہ سے زیادہ مخفی ہو اور جس کا حصول زیادہ سے زیادہ مشکل ہو۔ ➎ { يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ:} اس میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم اور قدرت کا بیان ہے کہ کوئی چیز کہیں بھی ہو، کتنی پوشیدہ سے پوشیدہ اور کتنی بعید سے بعید ہو، اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے اور وہ اسے حاضر کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ جب چاہے گا اسے اپنے پاس لے آئے گا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی عمل نیک ہو یا بد، جتنا بھی چھپ کر کیا جائے اور اس کا کرنے والا کہیں بھی چلا جائے، اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے کرنے والے کو اپنے پاس لے آئے گا اور اس کی جزا دے گا۔ (دیکھیے سورۂ انبیاء: ۴۷) جب اتنی مخفی اور عام رسائی سے باہر چیزوں کے متعلق اس کے علم و قدرت کا یہ عالم ہے، تو ان چیزوں کے بارے میں اس کے علم اور قدرت کا خود ہی اندازہ لگا لو جو اتنی مشکل اور دشوار نہیں ہیں۔ اس وصیت میں حدیثِ جبریل میں مذکور ”احسان“ کی تاکید ہے کہ آدمی ہر وقت یہ خیال رکھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ مجھ پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اس سے انسان اللہ تعالیٰ کی معصیت سے بچ جاتا ہے۔ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ: ”لُطْفٌ“} میں باریک بینی اور نرمی دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔ ابن عاشور نے فرمایا: {”اَللَّطِيْفُ مَنْ يَّعْلَمُ دَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ وَيَسْلُكُ فِيْ إِيْصَالِهَا إِلٰي مَنْ تَصْلُحُ لَهُ مَسْلَكَ الرِّفْقِ“} ”لطیف وہ ہے جو نہایت باریک اشیاء کو جانتا ہو اور جن کے لائق وہ چیزیں ہیں ان تک انھیں پہنچانے میں نرمی کا طریقہ اختیار کرے۔“ مثلاً اس کے لطیف ہونے کا اظہار اس کیڑے کے وجود سے ہوتا ہے جو کسی بہت بڑی چٹان کے اندر ہے، جس تک پہنچنے کا یا خوراک پہنچانے کا کوئی راستہ نہیں۔ اب یہ اس لطیف و خبیر کا کام ہے کہ اس نے اسے وہاں کس طرح پیدا فرمایا، پھر ہر لمحے اس کی ہر ضرورت اسے پہنچائی، پھر جب چاہے چٹان کو توڑ کر یا توڑے بغیر اور اسے ذرہ بھر خراش پہنچائے بغیر جہاں چاہے لے آئے۔ جو رائی کے دانے کے برابر اشیاء کا اتنا علم اور ان پر اتنی دسترس رکھتا ہے، بڑی اشیاء کے متعلق اس کے علم و قدرت کا کیا حال ہو گا!؟ یہاں تک بنیادی صحیح عقیدے کا بیان مکمل ہو گیا۔
بیٹا، نماز قائم کرنے کا حکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے میرے بیٹے! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے بیٹا! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو مصیبت پیش آئے اس پر صبر کر۔ بے شک یہ (صبر) عزم و ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے چھوٹے بیٹے! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور اس (مصیبت) پر صبر کر جو تجھے پہنچے، یقینا یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔“ جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ، یعنی ’ قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’ ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا ‘۔ ۱؎ [99-الزلزلة:8-7] خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد } }۔ ۱؎ [مسند احمد:28/3:ضعیف]
پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔“ اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔“ پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔“ حدیث شریف میں ہے کہ { کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔
”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:37] ، یعنی ’ اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو ‘۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔ { حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ { ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے }۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے } }۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔
”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2621] نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3303] ایک روایت میں ہے { رات کو }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ { اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:87/2:صحیح] اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ { تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔“ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا]
تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭
لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے { سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے { تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف]
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے } }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جناب باری کا ارشاد ہے ’ سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو ‘ }، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا { اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ’ کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ ‘ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔“ ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں { انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے }۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔“ ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔“
محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔“ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔“
ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔“ موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔“
اچھے اخلاق کا بیان ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے ۱؎ [صحیح مسلم:5970] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا { سب سے اچھے اخلاق والا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] فرماتے ہیں { اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] فرماتے ہیں { انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی }۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: { دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] { ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: { کہ حسن خلق } }۔ ۱؎ [مسند احمد:278/4:صحیح] فرمایا کہ { نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] فرماتے ہیں { تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3559] فرماتے ہیں { جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ارشاد ہے { تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا }۔ فرماتے ہیں { کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ارشاد ہے { جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا }۔ ارشاد ہے کہ { دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] فرماتے ہیں { بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔“
تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭
{ حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں { وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:39] فرماتے ہیں کہ { جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ارشاد ہے کہ { انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح] امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ۱؎ [28-سورةالقص:19] ’ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے ‘۔
حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔“ ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔“ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔“
فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے
17-1اقامۃ صلوۃ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور مصائب پر صبر کا اس لئے ذکر کیا کہ یہ تینوں اہم ترین عبادات اور امور خیر کی بنیاد ہیں۔ 17-2یعنی مذکورہ باتیں ان کاموں میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے اور بندوں پر انھیں فرض قرار دیا ہے۔ یا یہ ترغیب ہے عزم و ہمت پیدا کرنے کی کیونکہ عزم و ہمت کے بغیر اطاعت مذکورہ عمل ممکن نہیں۔ بعض مفسرین کے نزدیک ذالِکَ کا مرجع صبر ہے۔ اس سے پہلے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وصیت ہے اور اس راہ میں شدائد و مصائب اور طعن و ملامت ناگزیر ہے، اس لئے اس کے فوراً بعد صبر کی تلقین کرکے واضح کردیا کہ صبر کا دامن تھامے رکھنا کہ یہ عزم و ہمت کے کاموں میں سے ہے اور اہل عزم و ہمت کا ایک بڑا ہتھیار، اس کے بغیر فریضہ تبلیغ کی ادائیگی ممکن نہیں۔
(آیت 17) ➊ { يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ …:} لقمان علیہ السلام نے بنیادی عقائد کی وصیت کے بعد بیٹے کو بنیادی احکام کی وصیت فرمائی۔ جن میں سب سے اول اور سب سے اہم نماز کی اقامت ہے، جس میں اس کو وقت پر صحیح طریقے اور خشوع و اطمینان کے ساتھ باجماعت ادا کرنا سب کچھ شامل ہے۔ دوسری چیز لوگوں کو نیکی کا حکم دینا اور تیسری چیز برائی سے منع کرنا ہے، کیونکہ سب لوگ دنیا میں آخرت کے سفر پر ہیں۔ اگر کوئی شخص ساتھیوں کا خیال نہیں رکھے گا اور انھیں ساتھ لے کر چلنے کی کوشش نہیں کرے گا تو وہ اسے بھی لے بیٹھیں گے اور وہ منزل پر پہنچنے سے محروم رہے گا۔ اسی طرح اس سفر میں سب لوگ ایک جہاز پر سوار ہیں، اگر اس میں سوراخ کرنے والوں کو روکا نہیں جائے گا تو جہاز کے ڈوبنے کے ساتھ سب ڈوب جائیں گے۔ واضح رہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا دو الگ الگ حکم ہیں اور دونوں پر عمل ضروری ہے۔ جس کا بلند ترین درجہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے کوہان کی چوٹی قرار دیا ہے۔ ➋ اقامتِ صلاۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم میں ان تینوں کا علم حاصل کرنا خود بخود شامل ہے، کیونکہ یہ مسلّم قاعدہ ہے: {”مَا لَا يَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِهِ فَهُوَ وَاجِبٌ“} ”جن چیزوں کے بغیر واجب پوری طرح ادا نہیں ہوتا وہ بھی واجب ہیں۔“ معروف و منکر کے صحیح علم کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرتے ہوئے عین ممکن ہے کہ کوئی شخص کتاب و سنت اور معروف کی دعوت کے بجائے شرک و بدعت اور خرافات و منکرات کی اشاعت کرتا پھرے، جیسا کہ آج کل بہت سے لوگوں کا یہی حال ہے۔ اس طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے دعوت کا اسلوب، اس کے لیے ضروری حکمت، موعظہ حسنہ، نرمی اور برداشت سیکھنا اور اختیار کرنا بھی لازم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برائی کو روکنے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری اور اس کے لیے مطلوب قوت، گھوڑے اور سواریاں تیار رکھنا بھی لازم ہے۔ غرض لقمان علیہ السلام کی اس نصیحت میں اگرچہ نمایاں طور پر نماز کا ذکر آیا ہے، کیونکہ ایمان کے بعد وہ سب سے اہم فریضہ ہے، مگر معروف اور منکر کے ضمن میں پورا اسلام، اس کا علم حاصل کرنا اور اسے آگے پہنچانا سب کچھ آگیا ہے۔ ➌ { وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ:} اگرچہ معروف کے ضمن میں اس کا ذکر آ چکا ہے، تاہم اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے الگ بھی ذکر فرمایا۔ اس میں دو چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ اقامت صلاۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض کی ادائیگی میں پیش آنے والی ہر مصیبت پر صبر کرنا۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص بھی یہ کام کرے گا اس پر مصیبتوں نے آنا ہی آنا ہے۔ جنّ و انس کے شیاطین ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جائیں گے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ سو اس پر لازم ہے کہ صبر سے کام لے۔ دوسری چیز یہ کہ دنیا کی زندگی آزمائشوں اور مصیبتوں سے بھری ہوئی ہے، راحت اور آرام صرف جنت میں حاصل ہو گا۔ اس لیے مومن پر لازم ہے کہ اس قید خانے کی ہر تکلیف اور آزمائش پر صبر کرے اور اپنے رب کا شکوہ کرنے کے بجائے اس پر راضی رہے۔ ➍ {اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ: ” عَزْمِ “} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے: {” أَيْ الْأُمُوْرُ الْمَعْزُوْمَةُ“} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ {” عَزْمِ “} کا معنی ”واجب کرنا“ ہے، یعنی یہ چاروں ایسے کاموں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب اور فرض کیے گئے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے: [ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَی رُخَصُهُ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَی عَزَائِمُهُ ] [ صحیح ابن حبان: ۳۵۴، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما و صححہ شعیب الأرنؤوط ] ”اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جس طرح وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے فرائض پر عمل کیا جائے۔“ اشرف الحواشی میں ہے: ”دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا یہ کام بڑے عزم و ہمت کا کام ہے، کم ہمت لوگوں کے بس میں نہیں کہ اس کی سختیاں جھیل سکیں۔ اس لیے اپنے اندر عزم و ہمت پیدا کر۔“
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا
احمد رضا خان بریلوی
اور کسی سے بات کرنے میں اپنا رخسارہ کج نہ کر اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (تکبر سے) اپنا رخسار لوگوں سے نہ پھیر اور زمین پر ناز و انداز سے نہ چل۔ بے شک خدا تکبر کرنے والے (اور) بہت فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لوگوں کے لیے اپنا رخسار نہ پھلا اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔“ جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ، یعنی ’ قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’ ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا ‘۔ ۱؎ [99-الزلزلة:8-7] خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد } }۔ ۱؎ [مسند احمد:28/3:ضعیف]
پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔“ اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔“ پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔“ حدیث شریف میں ہے کہ { کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔
”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:37] ، یعنی ’ اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو ‘۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔ { حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ { ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے }۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے } }۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔
”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2621] نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3303] ایک روایت میں ہے { رات کو }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ { اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:87/2:صحیح] اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ { تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔“ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا]
تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭
لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے { سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے { تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف]
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے } }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جناب باری کا ارشاد ہے ’ سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو ‘ }، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا { اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ’ کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ ‘ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔“ ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں { انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے }۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔“ ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔“
محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔“ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔“
ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔“ موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔“
اچھے اخلاق کا بیان ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے ۱؎ [صحیح مسلم:5970] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا { سب سے اچھے اخلاق والا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] فرماتے ہیں { اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] فرماتے ہیں { انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی }۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: { دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] { ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: { کہ حسن خلق } }۔ ۱؎ [مسند احمد:278/4:صحیح] فرمایا کہ { نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] فرماتے ہیں { تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3559] فرماتے ہیں { جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ارشاد ہے { تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا }۔ فرماتے ہیں { کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ارشاد ہے { جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا }۔ ارشاد ہے کہ { دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] فرماتے ہیں { بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔“
تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭
{ حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں { وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:39] فرماتے ہیں کہ { جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ارشاد ہے کہ { انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح] امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ۱؎ [28-سورةالقص:19] ’ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے ‘۔
حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔“ ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔“ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔“
فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے
18-1یعنی تکبر نہ کر کہ لوگوں کو حقیر سمجھے اور جب وہ تجھ سے ہم کلام ہوں تو ان سے منہ پھیر لے۔ یا گفتگو کے وقت اپنا منہ پھیرے رکھے؛ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹ کے سر یا گردن میں ہوتی ہے، جس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے، یہاں بطور تکبر منہ پھیر لینے کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے (ابن کثیر) 18-2یعنی ایسی چال یا رویہ جس سے مال ودولت یا جاہ و منصب یا قوت و طاقت کی وجہ سے فخر و غرور کا اظہار ہوتا ہو، یہ اللہ کو ناپسند ہے، اس لیے کہ انسان ایک بندہ عاجز وحقیر ہے، اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عاجزی وانکساری ہی اختیار کیے رکھے اس سے تجاوز کر کے بڑائی کا اظہار نہ کرے کہ بڑائی صرف اللہ ہی کے لیے زیبا ہے جو تمام اختیارات کا مالک اور تمام خوبیوں کا منبع ہے۔ اسی لیے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔ جو تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے چلے اللہ اس کی طرف قیامت والے دن نہیں دیکھے گا۔ تاہم تکبر کا اظہار کیے بغیر اللہ کے انعامات کا ذکر یا اچھا لباس اور خوراک وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔
(آیت 18) ➊ {وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: ”صَعَرٌ“} اونٹ کو لگنے والی ایک بیماری، جس سے وہ اپنی گردن ایک طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اس سے باب ”تفعیل“ تکلف کے لیے ہے۔ یعنی تکلف سے ایک طرف منہ پھیرے رکھنا۔ یہ انداز حقارت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عمرو بن حُنَیّ تغلبی نے اپنے بعض بادشاہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: {وَ كُنَّا إِذَا الْجَبَّارُ صَعَّرَ خَدَّهُ أَقَمْنَا لَهُ مِنْ مَيْلِهِ فَتَقَوَّمَا} ”اور ہم ایسے تھے کہ جب کسی جبار نے اپنا رخسار ٹیڑھا کیا، تو ہم نے اس کی ٹیڑھ سیدھی کر دی، سو تو بھی سیدھا ہو جا۔“ ({فَتَقَوَّمَا} امر كا صيغہ ہے (ابو عبید) اور آخر ميں الف اشباع كے ليے ہے) ➋ احکام کی وصیت کے بعد لقمان علیہ السلام نے چند آداب و اخلاق کی وصیت فرمائی، فرمایا لوگوں کے لیے اپنا رخسار ٹیڑھا نہ رکھ، یعنی انھیں حقیر سمجھ کر ایسا نہ کر جیسے متکبر اور مغرور لوگ کرتے ہیں، بلکہ تواضع اور نرمی اختیار کر، جیسا کہ عقل مند لوگوں کا شیوہ ہے۔ تحقیر کے اس انداز سے منع کرنے میں زبان یا ہاتھ کے ساتھ کسی کی تحقیر سے منع کرنا بالاولیٰ شامل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «{فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ}» [ بني إسرائیل: ۲۳ ] ”ماں باپ کو ”اُف“ نہ کہو۔“ مراد کسی بھی طرح تکلیف پہنچانے سے منع کرنا ہے۔ ➌ {وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا:} یہاں ایک سوال ہے کہ چلا زمین ہی پر جاتا ہے، پھر خاص طور پر اس کا ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تمام لوگوں کی طرح اس زمین سے تمھاری پیدائش ہے، اسی میں تم نے دفن ہونا ہے اور دوسرے تمام لوگ بھی اسی زمین پر چل رہے ہیں، پھر تمھارا دوسروں کو حقیر اور اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھنا اور اکڑ کر چلنا تمھیں کس طرح زیب دیتا ہے؟ (واللہ اعلم) سورۂ بنی اسرائیل (۳۷) میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ➍ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۳۶)۔
اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست کر یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر بیشک سب آوازوں میں بری آواز، آواز گدھے کی
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنی رفتار (چال) میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز دھیمی رکھ۔ بے شک سب آوازوں میں سے زیادہ ناگوار آواز گدھوں کی ہوتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے بری یقینا گدھے کی آواز ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا بد پر سزا۔“ جیسے فرمان ہے آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47] ، یعنی ’ قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھ کر ہر ایک کو بدلہ دیں گے کوئی ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ’ ذرے برابر نیکی اور ذرے برابر برائی ہر ایک دیکھ لے گا ‘۔ ۱؎ [99-الزلزلة:8-7] خواہ وہ نیکی یا بدی کسی مکان میں، محل میں، قلعہ میں، پتھر کے سوراخ میں، آسمانوں کے کونوں میں، زمین کی تہہ میں ہو کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ اسے لا کر پیش کرے گا وہ بڑے باریک علم والا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس پر ظاہر ہے اندھیری رات میں چیونٹی جو چل رہی ہو اس کے پاؤں کی آہٹ کا بھی وہ علم رکھتا ہے۔ بعض نے یہ بھی جائز رکھا ہے کہ «اِنَّهَا» میں ضمیر شان کی اور قصہ کی ہے اور اس بناء پر انہوں نے «مِثْقَالُ» کی لام کا پیش پڑھنا بھی جائز رکھا ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ اچھی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ «صَخْرَةٌ» سے مراد وہ پتھر ہے جو ساتویں آسمان اور زمین کے نیچے ہیں۔ اس کی بعض سندیں بھی سدی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں اگر صحیح ثابت ہوجائیں۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہ مروی تو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» بہت ممکن ہے کہ یہ بھی بنی اسرائیل سے منقول ہوں لیکن ان کی کتابوں کی کسی بات کو ہم نہ سچی مان سکیں نہ جھٹلاسکیں۔ بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر رائی کے دانہ کے کوئی عمل حقیر ہو اور ایسا پوشیدہ ہو کہ کسی پتھر کے اندر ہو۔ جیسے مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اگر تم میں سے کوئی شخص کوئی علم عمل کرے کسی بے سوراخ کے پتھر کے اندر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو نہ کھڑکی ہو نہ سوراخ ہو تاہم اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کر دے گا خواہ کچھ ہی عمل ہو نیک ہو یا بد } }۔ ۱؎ [مسند احمد:28/3:ضعیف]
پھر فرماتے ہیں ”بیٹے نماز کا خیال رکھنا۔ اس کے فرائض، اس کے واجبات، ارکان اوقات وغیرہ کی پوری حفاظت کرنا۔ اپنی طاقت کے مطابق پوری کوشش کے ساتھ اللہ کی باتوں کی تبلیغ اپنوں، غیروں میں کرتے رہنا بھلی باتیں کرنے اور بری باتوں سے بچنے کے لیے ہر ایک سے کہنا۔“ اور چونکہ نیکی کا حکم یعنی بدی سے روکنا جو عموماً لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔ اور حق گو شخص سے لوگ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے ساتھ ہی فرمایا کہ ”لوگوں سے جو ایذاء اور مصیبت پہنچے اس پر صبر کرنا درحقیقت اللہ کی راہ میں ننگی شمشیر رہنا اور حق پر مصیبتیں جھیلتے ہوئے پست ہمت نہ ہونا یہ بڑا بھاری اور جوانمردی کا کام ہے۔“ پھر فرماتے ہیں ”اپنا منہ لوگوں سے نہ موڑ انہیں حقیر سمجھ کریا اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر لوگوں سے تکبر نہ کر۔ بلکہ نرمی برت خوش خلقی سے پیش آ۔ خندہ پیشانی سے بات کر۔“ حدیث شریف میں ہے کہ { کسی مسلمان بھائی سے تو کشادہ پیشانی سے ہنس مکھ ہو کر ملے یہ بھی تیری بڑی نیکی ہے۔ تہبند اور پاجامے کو ٹخنے سے نیچا نہ کر یہ تکبرو غرور ہے اور تکبر اور غرور اللہ کو ناپسند ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4084،قال الشيخ الألباني:صحیح] حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تکبر نہ کرنے کی وصیت کی ہے کہ ”ایسا نہ ہو کہ اللہ کے بندوں کو حقیر سمجھ کر تو ان سے منہ موڑ لے اور مسکنیوں سے بات کرنے سے بھی شرمائے۔“ منہ موڑے ہوئے باتیں کرنا بھی غرور میں داخل ہے۔ باچھیں پھاڑ کر لہجہ بدل کر حاکمانہ انداز کے ساتھ گھمنڈ بھرے الفاظ سے بات چیت بھی ممنوع ہے۔
”صعر“ ایک بیماری ہے جو اونٹوں کی گردن میں ظاہر ہوتی ہے یا سر میں اور اس سے گردن ٹیڑھی ہو جاتی ہے، پس متکبر شخص کو اسی ٹیڑھے منہ والے شخص سے ملا دیا گیا۔ عرب عموماً تکبر کے موقعہ پر صعر کا استعمال کرتے ہیں اور یہ استعمال ان کے شعروں میں بھی موجود ہے۔ زمین پر تن کر، اکڑ کر، اترا کر، غرور وتکبر سے نہ چلو یہ چال اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند رکھتا ہے جو خود بین متکبر سرکش اور فخر و غرور کرنے والے ہوں اور آیت میں ہے «وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:37] ، یعنی ’ اکڑ کر زمین پر نہ چلو نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو ‘۔ اس آیت کی تفسیر بھی اس کی جگہ گزر چکی ہے۔ { حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مرتبہ تکبر کا ذکر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ { ایسے خود پسند مغرور لوگوں سے اللہ غصہ ہوتا ہے }۔ اس پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کپڑے دھوتا ہوں اور خوب سفید ہو جاتے ہیں تو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں میں ان سے خوش ہوتا ہوں۔ اسی طرح جوتے میں تسمہ بھلالگتا ہے۔ کوڑے کا خوبصورت غلاف بھلا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ تکبر نہیں ہے تکبر اس کا نام ہے کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو ذلیل خیال کرے } }۔ [طبرانی کبیر:1317:اسناده ضعیف وله شواهد] یہ روایت اور طریق سے بہت لمبی مروی ہے اور اس میں سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال اور ان کی وصیت کا ذکر بھی ہے۔
”اور میانہ روی کی چال چلا کر نہ بہت آہستہ، خراماں خراماں نہ بہت جلدی لمبے ڈگ بھربھر کے۔ کلام میں مبالغہ نہ کرے بے فائدہ چیخ چلا نہیں۔ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ جو پوری طاقت لگا کر بےسود چلاتا ہے۔ باوجودیکہ وہ بھی اللہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔“ پس یہ بھی بری مثال دے کر سمجھا دیا کہ بلاوجہ چیخنا ڈانٹ ڈپٹ کرنا حرام ہے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بری مثالوں کے لائق ہم نہیں۔ اپنی دے دی ہوئی چیز واپس لینے والا ایسا ہے جیسے کتا جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2621] نسائی میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو اور جب گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو۔ اس لیے کہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3303] ایک روایت میں ہے { رات کو }۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5103،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ وصیتیں لقمان حکیم کی نہایت ہی نفع بخش ہیں۔ قرآن حکیم نے اسی لیے بیان فرمائی ہیں۔ آپ سے اور بھی بہت حکیمانہ قول اور وعظ ونصیحت کے کلمات مروی ہیں۔ بطور نمونہ کے اور دستور کے ہم بھی تھوڑے سے بیان کرتے ہیں۔ مسند احمد میں بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقمان حکیم کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ { اللہ کو جب کوئی چیز سونپ دی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:87/2:صحیح] اور حدیث میں آپ کا یہ قول بھی مروی ہے کہ { تصنع سے بچ یہ رات کے وقت ڈراؤنی چیز ہے اور دن کو مذمت وبرائی والی چیز ہے }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:411/2:ضعیف] آپ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”حکمت سے مسکین لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں۔“ آپ کا فرمان ہے کہ ”جب کسی مجلس میں پہنچو پہلے اسلامی طریق کے مطابق سلام کرو پھر مجلس کے ایک طرف بیٹھ جاؤ۔ دوسرے نہ بولیں تو تم بھی خاموش رہو۔ اگر وہ ذکر اللہ کریں تو تم ان میں سب سے پہلے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔ اور اگر وہ گپ شپ کریں تو تم اس مجلس کو چھوڑ دو۔“ مروی ہے کہ آپ اپنے بچے کو نصیحت کرنے کے لیے جب بیٹھے تو رائی کی بھری ہوئی ایک تھیلی اپنے پاس رکھ لی تھی اور ہر ہر نصیحت کے بعد ایک دانہ اس میں سے نکال لیتے یہاں تک کہ تھیلی خالی ہو گئی تو آپ نے فرمایا ”بچے اگر اتنی نصیحت کسی پہاڑ کو کرتا تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔“ چنانچہ آپ کے صاحبزادے کا بھی یہی حال ہوا۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { حبشیوں کودوست رکھا کر ان میں سے تین شخص اہل جنت کے سردار ہیں لقمان حکیم رحمہ اللہ، نجاشی رحمہ اللہ اور بلال موذن رضی اللہ عنہ } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11482:ضعیف و جدا]
تواضع اور فروتنی کا بیان ٭٭
لقمان رحمہ اللہ نے اپنے بچے کو اس کی وصیت کی تھی اور ابن ابی الدنیا نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔ ہم اس میں سے اہم باتیں یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { بہت سے پراگندہ بالوں والے میلے کچیلے کپڑوں والے جو کسی بڑے گھر تک نہیں پہنچ سکتے اللہ کے ہاں اتنے بڑے مرتبہ والے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم لگا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے بھی پوری فرما دے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3854،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے { سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم: 291/3: صحیح] ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے دیکھ کر دریافت فرمایا تو جواب ملا کہ ”صاحب قبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث میں نے سنی ہے جسے یاد کر کے رورہا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے { تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اللہ تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے جو متقی ہیں جو لوگوں میں چھپے چھپائے ہیں جو کسی گنتی میں نہیں آتے اگر وہ کسی مجمع میں نہ ہوں تو کوئی ان کا پرسان حال نہیں اگر آ جائیں تو کوئی آؤ بھگت نہیں لیکن ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر ایک غبار آلود اندھیرے سے بچ کرنور حاصل کر لیتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:3989،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { یہ میلے کچیلے کپڑوں والے جوذلیل گنے جاتے ہیں اللہ کے ہاں ایسے مقرب ہیں کہ اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ پوری کر دے گو انہیں اللہ نے دنیا نہیں دی لیکن ان کی زبان سے پوری جنت کا سوال بھی نکل جائے تو اللہ پورا کر لیتا ہے }۔ ۱؎ [مسند بزار:3628:ضعیف دون الجملة]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر آ کر وہ لوگ ایک دینار ایک درہم بلکہ ایک فلوس بھی مانگیں تو تم نہ دو لیکن اللہ کے ہاں وہ ایسے پیارے ہیں کہ اگر اللہ سے جنت کی جنت مانگیں تو پروردگار دیدے ہاں دنیا نہ تو انہیں دیتا ہے نہ روکتا ہے اس لیے کہ یہ کوئی قابل قدر چیز نہیں۔ یہ میلی کچیلی دو چادروں میں رہتے ہیں اگر کسی موقعہ پر قسم کھا بیٹھیں تو جو قسم انہوں نے کھائی ہو اللہ پوری کرتا ہے } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا فی الاولیاء:9:مرسل و ضعیف]
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جنت کے بادشاہ وہ لوگ ہیں جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والے ہیں غبار آلود اور گرد سے اٹے ہوئے وہ امیروں کے گھر جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہیں ملتی اگر کسی بڑے گھرانے میں نکاح کی مانگ کر ڈالیں تو وہاں کی بیٹی نہیں ملتی۔ ان مسکینوں سے انصاف کے برتاؤ نہیں برتے جاتے۔ ان کی حاجتیں اور ان کی امنگیں اور مرادیں پوری ہونے سے پہلے ہی خود ہی فوت ہو جاتی ہیں اور آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں انہیں قیامت کے دن اس قدر نور ملے گا کہ اگر وہ تقسیم کیا جائے تو تمام دنیا کے لیے کافی ہو جائے } }۔ ۱؎ [بیهقی فی شعب الایمان:10486:منقطع و ضعیف] عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے کہ بہت سے وہ لوگ جو دنیا میں حقیر وذلیل سمجھے جاتے ہیں کل قیامت کے دن تخت وتاراج والے ملک ومنال والے عزت وجلال والے بنے ہوئے ہونگے۔ باغات میں، نہروں میں، نعمتوں میں، راحتوں میں، مشغول ہونگے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جناب باری کا ارشاد ہے ’ سب سے زیادہ میرا پسندیدہ ولی وہ ہے جو مومن ہو، کم مال والا، کم عال وعیال والا، غازی، عبادت واطاعت گزار، پوشیدہ واعلانیہ مطیع ہو، لوگوں میں اس کی عزت اور اس کا وقار نہ ہو، اس کی جانب انگلیاں نہ اٹھتی ہوں، اور وہ اس پر صابر ہو ‘ }، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جھاڑ کر فرمایا { اس کی موت جلدی آ جاتی ہے اس کی میراث بہت کم ہوتی ہے اس کی رونے والیاں تھوڑی ہوتی ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4117،قال الشيخ الألباني:ضعیف] فرماتے ہیں اللہ کے سب سے زیادہ محبوب بندے غرباء ہیں جو اپنے دین کو لیے پھرتے ہیں جہاں دین کے کمزور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے وہاں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں یہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جمع ہونگے۔
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا ’ کیا میں نے تجھ پر انعام واکرام نہیں فرمایا؟ کیا میں نے تجھے دیا نہیں؟ کیا میں نے تیرا جسم نہیں ڈھانپا؟ کیا میں نے تمہیں یہ نہیں دیا؟ کیا وہ نہیں دیا؟ کیا لوگوں میں تجھے عزت نہیں دی تھی؟ ‘ وغیرہ تو جہاں تک ہو سکے ان سوالوں کے جواب دینے کا موقعہ کم ملے اچھا ہے۔ لوگوں کی تعریفوں سے کیا فائدہ اور مذمت کریں تو کیا نقصان ہو گا۔ ہمارے نزدیک تو وہ شخص زیادہ اچھا ہے جسے لوگ برا کہتے ہوں اور وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہو۔“ ابن محیریز رحمہ اللہ تو دعا کرتے تھے کہ ”اللہ میری شہرت نہ ہو۔“ خلیل بن احمد رحمہ اللہ اپنی دعا میں کہتے تھے ”اللہ مجھے اپنی نگاہوں میں تو بلندی عطا فرما اور خود میری نظر میں مجھے بہت حقیر کر دے اور لوگوں کی نگاہوں میں مجھے درمیانہ درجہ کا رکھ“، پھر شہرت کا باب باندھ کر امام صاحب اس حدیث کو لائے ہیں { انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ لوگ اس کی دینداری یادنیاداری کی شہرت دینے لگیں اور اس کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں اشارے ہونے لگیں۔ پس اسی میں آ کر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں مگر جنہیں اللہ بچالے۔ سنو! اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمالوں کو دیکھتا ہے }۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت مرسلاً مروی ہے جب آپ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی تو کسی نے کہا آپ رضی اللہ عنہ کی طرف بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سمجھے نہیں مراد انگلیاں اٹھنے سے دینی بدعت یا دنیوی فسق و فجور ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ”شہرت حاصل کرنا نہ چاہو۔ اپنے آپ کو اونچا نہ کرو کہ لوگوں میں تذکرے ہونے لگیں علم حاصل کرو لیکن چھپاؤ چپ رہو تاکہ سلامت رہو، نیکوں کو خوش رکھو بدکاروں سے تصرف رکھو۔“ ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شہرت کا چاہنے والا اللہ کا ولی نہیں ہوتا۔“ ایوب رحمہ اللہ کا فرمان ہے ”جسے اللہ دوست بنالیتا ہے وہ تو لوگوں سے اپنا درجہ چھپاتا پھرتا ہے۔“
محمد بن علاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کے دوست لوگ اپنے تئیں ظاہر نہیں کرتے۔“ سماک بن سلمہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”عام لوگوں کے میل جول سے اور احباب کی زیادتی سے پرہیز کرو۔“ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر دین کو سالم رکھنا چاہتے ہو تو لوگوں سے کم جان پہچان رکھو۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ کا قاعدہ تھا جب دیکھتے کہ ان کی مجلس میں تین سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر خود چل دیتے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے ساتھ بھیڑ دیکھی تو فرمانے لگے ”طمع کی مکھیاں اور آگ کے پروانے جمع ہوگئے۔“ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو لوگ گھیرے کھڑے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑا تانا اور فرمایا ”اس میں تابع کے لیے ذلت اور متبوع کے لیے فتنہ ہے۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب لوگ چلنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”اگر تم پر میرا باطن ظاہر ہو جائے تو تم میں سے دو بھی میرے ساتھ چلنا پسند نہ کریں۔“ حماد بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جب ہم کسی مجلس کے پاس سے گزرتے اور ہمارے ساتھ ایوب رحمہ اللہ ہوتے تو لوگ سلام کرتے اور وہ سختی سے جواب دیتے۔“ پس یہ ایک نعمت تھی۔ آپ لمبی قمیض پہنتے اس پر لوگوں نے کہا تو آپ نے جواب دیا کہ اگلے زمانے میں شہرت کی چیز تھی۔ لیکن یہ شہرت اس کو اونچا کرنے میں ہے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی ٹوپیاں مسنون رنگ کی رنگوائیں اور کچھ دنوں تک پہن کر اتاردی اور فرمایا ”میں نے دیکھا کہ عام لوگ انہیں نہیں پہنتے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”نہ تو ایسا لباس پہنو کہ لوگوں کی انگلیاں اٹھیں نہ اتنا گھٹیا پہنو کہ لوگ حقارت سے دیکھیں۔“
ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”عام سلف کا یہی معمول تھا کہ نہ بہت بڑھیا کپڑا پہنتے تھے نہ بالکل گھٹیا۔“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص بہت ہی بہترین اور شہرت کا لباس پہنے ہوئے آیا تو آپ نے فرمایا ”اس آواز دینے والے گدھے سے بچو۔“ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض لوگوں نے دلوں میں تو تکبر بھر رکھا ہے اور ظاہر لباس میں تواضع کر رکھی ہے گویا چادر ایک بھاری ہتھوڑا ہے۔“ موسیٰ علیہ السلام کا مقولہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا ”میرے سامنے تو درویشوں کی پوشاک میں آئے حالانکہ تمہارے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔ سنو لباس چاہے بادشاہوں جیسا پہنو مگر دل خوف اللہ سے نرم رکھو۔“
اچھے اخلاق کا بیان ٭٭
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق والے تھے ۱؎ [صحیح مسلم:5970] { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کونسامومن بہتر ہے فرمایا { سب سے اچھے اخلاق والا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4259،قال الشيخ الألباني:حسن] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { باوجود کم اعمال کے صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان بڑے بڑے درجے اور جنت کی اعلی منازل حاصل کر لیتا ہے۔ اور باوجود بہت ساری نیکیوں کے صرف اخلاق کی برائی کی وجہ سے جہنم کے نیچے کے طبقے میں چلا جاتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:168:ضعیف] فرماتے ہیں { اچھے اخلاق ہی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:169:ضعیف] فرماتے ہیں { انسان اپنی خوش اخلاقی کے باعث راتوں کو قیام کرنے والے اور دنوں کو روزے رکھنے والوں کے درجوں کو پالیتا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4898،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ دخول جنت کا موجب عام طور سے کیا ہے؟ فرمایا: { اللہ کا ڈر اور اخلاق کی اچھائی }۔ پوچھا گیا عام طور سے جہنم میں کون سی چیز لے جاتی ہے؟ فرمایا: { دو سوراخ دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2004،قال الشيخ الألباني:حسن] { ایک مرتبہ چند اعراب کے اس سوال پر کہ انسان کو سب سے بہتر عطیہ کیا ملا ہے؟ فرمایا: { کہ حسن خلق } }۔ ۱؎ [مسند احمد:278/4:صحیح] فرمایا کہ { نیکی کی ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ وزنی چیز اور کوئی نہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2202،قال الشيخ الألباني:صحیح] فرماتے ہیں { تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3559] فرماتے ہیں { جس طرح مجاہد کو جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے صبح شام اجر ملتا ہے اسی طرح اچھے اخلاق پر بھی اللہ ثواب عطا فرماتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:176:ضعیف] ارشاد ہے { تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ قریب وہ ہے جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ بغض ونفرت کے قابل اور مجھ سے سب سے دور جنت میں وہ ہو گا جو بدخلق، بدگو، بدکلام، بدزبان ہوگا }۔ فرماتے ہیں { کامل ایماندار اچھے اخلاق والے ہیں جو ہر ایک سے سلوک ومحبت سے ملیں جلیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2018،قال الشيخ الألباني:حسن] ارشاد ہے { جس کی پیدائش اور اخلاق اچھے ہیں اسے اللہ تعالیٰ جہنم کا لقمہ نہیں بنائے گا }۔ ارشاد ہے کہ { دو خصلیتں مومن میں جمع نہیں ہو سکتی بخل اور بداخلاقی }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:180:ضعیف و مرسل] فرماتے ہیں { بدخلقی سے زیادہ بڑا کوئی گناہ نہیں، اس لیے کہ بداخلاقی سے ایک سے ایک بڑے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1962،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے { اللہ کے نزدیک بد اخلاقی سے بڑا کوئی گناہ نہیں۔ اچھے اخلاق سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بداخلاقیاں نیک اعمالوں کو غارت کر دیتی ہیں۔ جیسے شہد کو سرکہ خراب کر دیتا ہے }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:183:ضعیف و مرسل] { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { غلام خریدنے سے غلام نہیں بڑھتے البتہ خوش اخلاقی سے لوگ گرویدہ اور جان نثا رہو جاتے ہیں } }۔ ۱؎ [ابن ابی الدنیا:184:ضعیف] امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اچھا خلق دین کی مدد کرتا ہے۔“
تکبر کی مذمت کا بیان ٭٭
{ حضور صلی اللہ علیہ السلام فرماتے ہیں { وہ جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو، اور وہ جہنمی نہیں جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:39] فرماتے ہیں کہ { جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں جائے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح لغیره] ارشاد ہے کہ { انسان اپنے غرور اور خود پسندی میں بڑھتے بڑھتے اللہ کے ہاں جباروں میں لکھ دیا جاتا ہے، پھر سرکشوں کے عذاب میں پھنس جاتا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:215/2:صحیح] امام مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ایک دن سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے تخت پر بیٹے تھے آپ علیہ السلام کی دربار میں اس وقت دو لاکھ انسان تھے اور دو لاکھ جن تھے۔ آپ علیہ السلام کو آسمان تک پہنچایا گیا یہاں تک کہ فرشتوں کی تسبیح کی آواز کان میں آنے لگی۔ اور پھر زمین تک لایا گیا یہاں تک کہ سمندر کے پانی سے آپ علیہ السلام کے قدم بھیگ گئے۔ پھر ہاتف غیب نے ندادی کہ اگر اس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوتا تو جتنا اونچا گیا تھا اس سے زیادہ نیچے دھنسادیا جاتا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں انسان کی ابتدائی پیدائش کا بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ”یہ دو شخصوں کی پیشاب گاہ سے نکلتا ہے۔“ اس طرح اسے بیان فرمایا کہ سننے والے کراہت کرنے لگے۔ امام شعمی رحمہ اللہ کا قول ہے ”جس نے دو شخصوں کو قتل کر دیا وہ بڑا ہی سرکش اور جبار ہے پھر آپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی «فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ» ۱؎ [28-سورةالقص:19] ’ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے؟ جیسے کہ تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے۔ تیرا ارادہ تو دنیا میں سرکش اور جبار بن کر رہنے کا معلوم ہوتا ہے ‘۔
حضرت حسن رحمہ اللہ کا مقولہ ہے ”وہ انسان جو ہر دن میں دو مرتبہ اپنا پاخانہ اپنے ہاتھ سے دھوتا ہے وہ کس بنا پر تکبر کرتا ہے اور اس کا وصف اپنے میں پیدا کرنا چاہتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔“ ضحاک بن سفیان رحمہ اللہ سے دنیا کی مثال اس چیز سے بھی مروی ہے جو انسان سے نکلتی ہے۔ امام محمد بن حسین بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جس دل میں جتنا تکبر اور گھمنڈ ہوتا ہے اتنی ہی عقل اس کی کم ہو جاتی ہے۔“ یونس بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سجدہ کرنے کے ساتھ تکبر اور توحید کے ساتھ نفاق نہیں ہوا کرتا۔“ بنی امیہ مارمار کر اپنی اولاد کو اکڑا کر چلنا سکھاتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو آپ کی خلافت سے پہلے ایک مرتبہ اٹھلاتی ہوئی چال چلتے ہوئے دیکھ کر طاؤس رحمہ اللہ نے ان کے پہلو میں ایک ٹھونکا مارا اور فرمایا ”یہ چال اس کی جس کے پیٹ میں پاخانہ بھرا ہوا ہے؟“ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بہت شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے ”معاف فرمائیے ہمیں مارمار کر اس چال کی عادت ڈلوائی گئی ہے۔“
فخر و گھمنڈ کی مذمت کا بیان ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص فخر و غرور سے اپنا کپڑا نیچے لٹکا کر گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت سے نہ دیکھے
19-1یعنی چال اتنی سست نہ ہو جیسے کوئی بیمار ہو اور نہ اتنی تیز ہو کہ شرف و وقار کے خلاف ہو۔ اسی کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا (يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا) 25۔ الفرقان:63) اللہ کے بندے زمین پر وقار اور سکونت کے ساتھ چلتے ہیں۔ 19-2یعنی چیخ یا چلا کر بات نہ کر، اس لئے کہ زیادہ اونچی آواز سے بات کرنا پسندیدہ ہوتا تو گدھے کی آواز سب سے اچھی سمجھی جاتی لیکن ایسا نہیں، بلکہ گدھے کی آواز سب سے بدتر اور بری ہے۔ اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ ' گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے پناہ مانگو (بخاری، کتاب بدء الخلق اور مسلم وغیرہ)
(آیت 19) ➊ {وَ اقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ:} اکڑ کر چلنے سے منع کیا تو ممکن تھا کہ اس پر عمل کرتے ہوئے کوئی انتہائی کمزور اور مریل چال اختیار کرتا، اس لیے چال میں میانہ روی کا حکم دیا، جس سے نہ تکبر کا اظہار ہوتا ہو نہ کمزوری کا۔ مزید دیکھیے سورۂ فرقان (۶۳)۔ ➋ { وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ: ” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ” اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت اونچی آواز سے نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ یہ وقار کے خلاف ہے اور چلا کر بولنے سے سننے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔ بولتے وقت اپنی آواز کسی قدر پست رکھنی چاہیے، نہ اتنی کہ سننے والے سن یا سمجھ ہی نہ سکیں۔ ➌ { اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ:} یعنی بلا ضرورت اونچی آواز سے بولنے اور چیخنے کی مثال گدھے کی آواز جیسی ہے اور تمام آوازوں سے بری آواز گدھے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے چیخنے چلانے کی آوازوں کو {” زَفِيْرٌ “} اور {” شَهِيْقٌ “} (گدھے کی آواز) کہا ہے۔ (دیکھیے ہود: ۱۰۶) کفار جب جہنم میں پھینکے جائیں گے تو اس کی خوف ناک آواز جو انھیں سنائی دے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی {” شَهِيْقًا “} فرمایا ہے۔ (دیکھیے ملک: ۷) اس سے گدھے کی آواز کا شدید مکروہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ رازی نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ ہر جانور جب بولتا ہے تو اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ تکان کی وجہ سے بول رہا ہے یا بوجھ سے یا خوف یا مار کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، صرف گدھا ایسا جانور ہے جو کسی ضرورت کی وجہ سے نہیں بولتا، وہ نہ بوجھ کی وجہ سے بولتا ہے نہ مارنے سے، حتیٰ کہ اگر اسے جان سے مار دیا جائے تو بھی نہیں بولتا اور بولتا ہے تو بلاضرورت ہی بولتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے اس کی آواز سب سے زیادہ بری لگنے کی ایک وجہ اس کی کرختگی اور شدت کے علاوہ یہ بھی ہے۔ (الکبیر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کے رینکنے کی وجہ اس کا شیطان کو دیکھنا بیان فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيْقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوْا بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ رَأَی شَيْطَانًا ] [ بخاري، بدء الخلق، باب خیر مال المسلم غنم …: ۳۳۰۳ ] ”جب تم مرغوں کے چیخنے کی آواز سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، کیونکہ انھوں نے کوئی فرشتہ دیکھا ہے اور جب تم گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ اس نے کوئی شیطان دیکھا ہے۔“ یہ مثال دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم گدھے کی مشابہت اختیار مت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الَّذِيْ يَعُوْدُ فِيْ هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِيْ قَيْئِهِ ] [ بخاري، الھبۃ، باب لا یحل لأحد أن یرجع في ھبتہ و صدقتہ: ۲۶۲۲، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] ”بری مثال ہمارے لیے نہیں ہے (ہمیں اس کا مصداق نہیں بننا چاہیے) وہ شخص جو اپنے ہبہ کو واپس لیتا ہے، وہ کتے کی طرح ہے، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔“ ➍ {” الْحَمِيْرِ “ ”حِمَارٌ“} کی جمع ہے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں: ”قرآن مجید میں گدھے کے لیے جمع کا لفظ {” الْحَمِيْرِ “} آیا ہے، حالانکہ لفظ {”صَوْتٌ“} مفرد ہے۔ {”حِمَارٌ“} کا لفظ نہیں فرمایا، کیونکہ جس جمع پر جنس کا الف لام آجائے وہ مفرد و جمع کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ اس لیے کہا جاتاہے کہ جمع پر جنس کا الف لام آجائے تو وہ اس سے جمع ہونے کا مفہوم ختم کر دیتا ہے۔ یہاں {”حِمَارٌ“} کے بجائے {” الْحَمِيْرِ “} کے لفظ کو اس لیے ترجیح دی گئی ہے، کیونکہ {” الْحَمِيْرِ “} کا لفظ آیات کے فواصل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے، جیسا کہ اس سے پہلی اور بعد والی آیات کے فواصل کو دیکھنے سے ظاہر ہے، جو {” خَبِيْرٌ، الْاُمُوْرِ، فَخُوْرٍ، مُنِيْرٍ “} اور {” السَّعِيْرِ “} وغیرہ ہیں۔“ (التحریر والتنویر) ہمارے بھائی حافظ عبد اللہ رفیق صاحب (دار العلوم المحمدیہ لاہور) نے اس کی ایک اور دلچسپ توجیہ فرمائی ہے کہ گدھے اکٹھے مل کر رینکنا شروع کر دیں تو ماحول بہت زیادہ خراب ہو جاتا ہے۔ یہاں لقمان علیہ السلام کی وصیتیں ختم ہو گئیں، آگے پھر توحید کے دلائل اور مشرکین کو ڈانٹ ڈپٹ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جس کے ساتھ سورت کی ابتدا ہوئی تھی۔
کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ اِس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی عِلم ہو، یا ہدایت، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہیں اپنی ﻇاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی اور بعضے آدمی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یوں کہ نہ علم نہ عقل نہ کوئی روشن کتاب
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ تعالیٰ نے سب کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے اور اپنی سب ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو علم، ہدایت اور روشن کتاب کے بغیر خدا کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے تمھاری خاطر مسخر کر دیا اور تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں پوری کر دیں، اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم اور بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انعام و اکرام کی بارش ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ’ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں ‘۔ پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔
اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔
20-1تسخیر کا مطلب ہے انتفاع (فائدہ اٹھانا) جس کو ' یہاں کام سے لگا دیا ' سے تعبیر کیا گیا ہے جیسے آسمانی مخلوقْ، چاند، سورج، ستارے وغیرہ ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسے ضابطوں کا پابند بنادیا ہے کہ یہ انسانوں کے لئے کام کر رہے ہیں اور انسان ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ دوسرا مطلب تسخیر کا تابع بنادینا ہے۔ چناچہ بہت سی زمینی مخلوق کو انسان کے تابع بنادیا گیا ہے جنہیں انسان اپنی حسب منشا استعمال کرتا ہے جیسے زمین اور حیوانات وغیرہ ہیں، گویا تسخیر کا مفہوم یہ ہوا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لئے کام میں لگی ہوئی ہیں، چاہے وہ انسان کے تابع اور اس کے زیر اثر تصرف ہوں یا اس کے تصرف اور تابعیت سے بالا ہوں۔ (فتح القدیر) 20-2ظاہری سے وہ نعمتیں مراد ہیں جن کا ادراک عقل، حواس وغیرہ سے ممکن ہو اور باطنی نعمتیں وہ جن کا ادراک و احساس انسان کو نہیں۔ یہ دونوں قسم کی نعمتیں اتنی ہیں کہ انسان ان کو شمار بھی نہیں کرسکتا۔ 20-3یعنی اس کے باوجود لوگ اللہ کی بابت جھگڑتے ہیں، کوئی اس کے وجود کے بارے میں کوئی اس کے ساتھ شریک گرداننے میں اور کوئی اس کے احکام و شرائع کے بارے میں۔
(آیت 20) ➊ {اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ: ” اَلَمْ تَرَوْا “} کا معنی {”اَلَمْ تَعْلَمُوْا“} (کیا تم نے جانا) ہے، کیونکہ انسان نے آسمان و زمین کی ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے اپنی خاطر مسخر شدہ نہیں دیکھا، مگر اس کے لیے دیکھنے کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ یہ بات اتنی واضح ہے جیسے آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات ہوتی ہے۔ (بقاعی) {” سَخَّرَ لَكُمْ “} میں لام انتفاع کا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمھاری خاطر مسخر کر دیا“ کیونکہ چند چیزیں اگر انسان کے کسی حد تک تابع فرمان ہیں، جیسے چوپائے وغیرہ کہ انسان ان سے جس طرح چاہے فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن پر انسان کا کوئی اختیار نہیں۔ انھیں انسان کی خاطر مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں پابند کر دیا ہے کہ وہ سب اس کے فائدے اور خدمت کے لیے کام کریں، جیسے سورج، چاند، ستارے بلکہ فرشتے بھی جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ موذی جانور بھی آخر کار کسی نہ کسی طرح انسان کے فائدے کے لیے ہیں، حتیٰ کہ ابلیس بھی کہ وہ نہ ہوتا تو نہ آزمائش کا سلسلہ ہوتا، نہ اس میں کامیاب ہو کر انسان ہمیشہ کی جنت کا وارث بن سکتا۔ وہ لوگ اپنی حیثیت سے بہت بڑھ کر بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ آدمی سائنس کے ساتھ کائنات کو مسخر کر سکتا ہے۔ کائنات تو بہت دور کی بات ہے، یہ حضرات اپنے دل کی دھڑکن ہی کو مسخر کر کے دکھائیں، یا بچپن سے جوانی، پھر بڑھاپے کی منزلوں کو تابع فرمان بنا کر دکھائیں، چلیں موت ہی کو مسخر کر لیں۔ فرمایا: «{ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا }» [ الکہف: ۵ ] ”(یہ بات) بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔“ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی دلیل {” خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا …“} بیان فرمائی تھی، اب زمین و آسمان کی ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لیے مسخر کرنے کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا کہ سوچو! اس خلق یا تسخیر میں تمھارے کسی معبود کا ذرہ برابر بھی دخل ہے؟ ➋ {وَ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً:} کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جن کا انسان اپنے حواس سے مشاہدہ کرتا ہے، یا وہ عقل سے معلوم ہوتی ہیں، یا اسے کسی کے بتانے سے معلوم ہوتی ہیں اور چھپی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کے جسم کے اندر یا باہر اس کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں، جن کا اسے شعور تک نہیں کہ اس کے پروردگار نے اس کے رزق، اس کی نشوونما اور حفاظت کے لیے کیا کچھ سامان فراہم کر رکھا ہے۔ مثلاً انسان کھانا کھا کر فارغ ہو جاتا ہے، اسے کچھ خبر نہیں کہ اس کے اندر کتنی مشینیں اسے ہضم کرنے، جزو بدن بنانے اور اس کے فضلے کو خارج کرنے کے لیے پوری مستعدی کے ساتھ مصروف عمل ہو جاتی ہیں۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی جا رہی ہے اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں انسان کے سامنے بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ تو ہوئیں دنیوی اور مادی نعمتیں، دینی اور روحانی نعمتیں جو ظاہر اور پوشیدہ ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں اور ان سے کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ اسلام، قرآن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت وغیرہ۔ رازی نے {” ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً “} کی ایک سادہ سی پُر لطف توجیہ کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”ظاہری نعمتوں سے مراد اعضائے انسانی کا سلامت ہونا ہے اور باطنی نعمتوں سے مراد وہ قوتیں ہیں جو ان اعضا میں ودیعت کی گئی ہیں۔ دیکھیے آنکھ، کان، ناک اور زبان سب چربی، گوشت، ہڈی اور پٹھوں سے بنے ہیں، جو صاف نظر آتے ہیں، مگر ان میں دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور بولنے کی قوتیں باطنی نعمتیں ہیں۔ بعض اوقات باطنی نعمت مثلاً بینائی، شنوائی ختم ہو جاتی ہے، جب کہ ظاہری عضو، مثلاً آنکھ یا کان سلامت رہتا ہے۔ یہی حال ہر عضو کا ہے۔“ ➌ {وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ …:} یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو خلق، تسخیر اور دوسری بے شمار ظاہری و باطنی نعمتوں کے دلائل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہو چکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات میں جھگڑتے اور بحثیں کرتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ موجود بھی ہے یا نہیں؟ اور ہے تو ایک ہے یا اس کے ساتھ دوسرے بھی خدائی میں شریک ہیں؟ اور اس کی صفات کیا ہیں؟ ➍ {بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ:} علم حاصل کرنے کے تین مراتب ہیں، پہلا اپنی جدوجہد اور غوروفکر سے معلوم کرنا، دوسرا کسی علم والے سے رہنمائی حاصل کر لینا اور تیسرا کسی درست کتاب کے مطالعہ سے علم حاصل کر لینا۔ مشرکین کا حال یہ ہے کہ نہ ان کے پاس خود کوئی علم یا سمجھ بوجھ ہے جس کی بنا پر وہ حقیقت کو سمجھ سکیں، نہ انھیں کسی سچے راہ نما کی راہ نمائی حاصل ہے اور نہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کوئی کتاب موجود ہے جس سے انھوں نے یہ عقیدہ اخذ کیا ہو۔ بلکہ علم کے تینوں ذرائع سے محرومی کے بعد ان کی کل کائنات تقلید آباء ہے اور وہ اندھا دھند ان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ ➎ حافظ صاحبان یاد رکھیں کہ{” اَلَمْ تَرَوْا “} قرآن مجید میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں اور دوسرا سورۂ نوح میں: «{ اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا }» [ نوح: ۱۵ ] ان کے علاوہ ہر جگہ واحد کے صیغے کے ساتھ {” اَلَمْ تَرَ“} ہی آیا ہے۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی وحی کی تابعداری کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو جس طریق پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی کی تابعداری کریں گے، اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کےعذاب کی طرف بلاتا ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ (نہیں) بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا (یہ جب بھی انہی کی پیروی کریں گے) اگرچہ شیطان ان (بڑوں) کو بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلا رہا ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اور کیا اگرچہ شیطان انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انعام و اکرام کی بارش ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ’ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں ‘۔ پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔
اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔
21-1یعنی ان کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے، نہ کسی ہادی کی ہدایت اور نہ کسی کتاب آسمانی سے کوئی ثبوت، گویا کہ لڑتے ہیں ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔
(آیت 21) ➊ { وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ …:} یعنی کتاب اللہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مقابلے میں اپنے جاہل اسلاف کو پیش کرتے ہیں، پھر اس سے بڑھ کر گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۷۰)۔ ➋ { اَوَ لَوْ كَانَ الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ:} یعنی کیا اگر شیطان انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف دعوت دے رہا ہو تب بھی یہ ان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں جا کودیں گے اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہ کریں گے کہ وہ انھیں کدھرلے جا رہا ہے؟
جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کر دے اور عملاً وہ نیک ہو، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا، اور سارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی وه نیکو کار یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو جو اپنا منہ اللہ کی طرف جھکادے اور ہو نیکوکار تو بیشک اس نے مضبوط گرہ تھامی، اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کاموں کی انتہا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے (اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے) درآنحالیکہ وہ نیکوکار بھی ہو تو اس نے مضبوط راستہ (سہارا) پکڑ لیا ان (سب) نے ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح پکڑ لیا اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انعام و اکرام کی بارش ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ’ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں ‘۔ پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔
اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔
22-1یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے عمل کرے اس کے حکم کی اطاعت اور اس کی شریعت کی پیروی کرے۔ 22-2یعنی ما مور بہ چیزوں کا اتباع اور منہیات کو ترک کرنے والا۔ 22-3یعنی اللہ سے اس نے مضبوط عہد لے لیا کہ وہ اس کو عذاب نہیں کرے گا۔
(آیت 22) ➊ { وَ مَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ …:} اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں۔ اب ان کے مقابلے میں اس شخص کا ذکر ہے جو اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کے سپرد اور اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اپنا ہر عمل صرف اس کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ جو وہ کہے کرتا ہے، جس سے روک دے رک جاتا ہے۔ نہ اپنی خواہش پر چلتا ہے نہ کسی دوست یا رشتہ دار کے پیچھے چلتا ہے اور نہ آبا و اجداد میں سے کسی کی راہ و رسم اختیار کرتا ہے۔ اس کی نماز، قربانی، زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، فرمایا: «قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [ الأنعام: ۱۶۲ ] ”کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔“ آیت میں چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کا ذکر ہے، مراد پورے وجود کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ کیونکہ چہرہ جسم کا سب سے باشرف حصہ ہے، اس کے تابع ہونے سے پورا وجود تابع ہو جاتا ہے۔ ➋ { وَ هُوَ مُحْسِنٌ:} اور وہ اپنا ہر عمل اس طرح کرتا ہے گویا وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ سو اگر وہ اسے نہیں دیکھتا تو اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے اور وہ ہر عمل میں اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتا ہے۔ ➌ { فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى: ”أَمْسَكَ يُمْسِكُ إِمْسَاكًا“} تھامنا، پکڑنا۔ {” اسْتَمْسَكَ “} میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی ”اچھی طرح پکڑ لیا۔“ {”اَلْعُرْوَةُ“} کڑا یا حلقہ یا رسی کا کنارا جسے لٹکتے ہوئے گرنے سے بچنے کے لیے پکڑ لیا جائے اور {” الْوُثْقٰى “ ”أَوْثَقُ“} کا مؤنث ہے ”سب سے مضبوط۔“ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینے والا یہ وہ شخص ہے جس نے اسلام کی رسی کے مضبوط حلقے کو اچھی طرح تھام لیا ہے۔ اسے بلندی سے پستی میں یا جہنم میں گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اسی حلقے کو تھامے ہوئے آخرکار وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا اور اس کی جنت کا وارث بن جائے گا۔ بخلاف ان لوگوں کے جو کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک گرنے والے کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی ہے، جو انھیں لے کر جہنم کی آگ میں گرنے والا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۰۹)۔ ➍ { وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ: ” اِلَى اللّٰهِ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا کہ تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، کسی اور کی طرف نہیں، وہی ہر کام کی جزا دے گا۔
اب جو کفر کرتا ہے اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے، انہیں پلٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں یقیناً اللہ سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کافروں کے کفر سے آپ رنجیده نہ ہوں، آخر ان سب کو لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جو کفر کرے تو تم اس کے کفر سے غم نہ کھاؤ، انھیں ہماری ہی طرف پھرنا ہے ہم انہیں بتادیں گے جو کرتے تھے بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کوئی کفر اختیار کرے تو (اے رسول(ص)) اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کرے۔ پس (اس وقت) ہم انہیں بتائیں گے کہ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ بے شک اللہ سینوں کے اندر کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر تجھے غم میں نہ ڈالے، ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے، پھر ہم انھیں بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا۔ بے شک اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مضبوط دستاویز ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہو جائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آ جائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے ‘۔ ’ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کفر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہو چکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کر لیں پھر تو ان عذابوں کو بے بسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» الخ ۱؎ [10-یونس:70-69] ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (موت کے بعد) آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی ‘۔
23-1اس لئے کہ ایمان کی سعادت ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ آپ کی کوشش اپنی جگہ بجا اور آپ کی خواہش بھی قابل قدر لیکن اللہ کی تقدیر اور مشیت سب پر غالب ہے۔ 23-2یعنی ان کے عملوں کی جزا دے گا۔ 23-3پس اس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
(آیت 23) ➊ { وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد اسلام کے ہر داعی کو تسلی دی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت اور پیغام پہنچنے کے باوجود کفر پر اصرار کرتا ہے، آپ اس کے کفر کی وجہ سے غم زدہ نہ ہوں، آپ کا کام پیغام پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب انھوں نے ہمارے پاس واپس آنا ہے تو ہم انھیں وہ سب کچھ بتائیں گے جو انھوں نے کیا۔ اس میں کفار کے لیے زبردست وعید ہے۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} کفار کا کفر کچھ علانیہ تھا کچھ دلوں میں پوشیدہ تھا، فرمایا، اللہ تعالیٰ کو سینوں کی بات کا پوری طرح علم ہے، وہ ان کی بھی جزا دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا ہے مگر دل میں کفر رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی خوب علم ہے، وہ خود ہی اس سے نمٹ لے گا۔
ہم تھوڑی مدت انہیں دُنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں، پھر ان کو بے بس کر کے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائده دے دیں لیکن (بالﺂخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہم انہیں کچھ برتنے دیں گے پھر انہیں بے بس کرکے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم انہیں چند روزہ عیش کا موقع دیں گے اور پھر انہیں سخت عذاب کی طرف کشاں کشاں لے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم انھیں تھوڑا سا سامان دیں گے، پھر انھیں ایک بہت سخت عذاب کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مضبوط دستاویز ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہو جائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آ جائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے ‘۔ ’ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کفر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہو چکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کر لیں پھر تو ان عذابوں کو بے بسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» الخ ۱؎ [10-یونس:70-69] ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (موت کے بعد) آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی ‘۔
24-1یعنی دنیا میں آخر کب تک رہیں گے اور اس کی لذتوں اور نعمتوں سے کہاں تک شاد کام ہونگے؟ یہ دنیا اور اسکی لذتیں تو چند روزہ ہیں، اس کے بعد ان کے لئے سخت عذاب ہی عذاب ہے۔
(آیت 24) {نُمَتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ:} یہ سامعین کے ذہن میں پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب ہے کہ اس قدر کفر کے باوجود ان پر عذاب جلدی کیوں نہیں آ جاتا؟ فرمایا، ہم انھیں دنیا میں تھوڑا سا برتنے کا سامان دیں گے، پھر انھیں مجبور اور بے بس کر کے ایک بہت سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے، تو وہ کسی طرح ہماری گرفت سے نکل کر بھاگ نہیں سکیں گے۔ {” غَلِيْظٍ “} اصل میں بھاری اور ضخامت والے جسم کو کہتے ہیں، گویا وہ عذاب ان پر ایک ضخیم (لمبے چوڑے اور بھاری) جسم کی طرح آ گرے گا، جس کے بوجھ کے نیچے وہ ایسے دبے ہوں گے کہ کسی طرف نکل نہیں سکیں گے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۹، ۷۰)۔
اگر تم اِن سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے، تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے کہو الحمدللہ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ، تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے ﻻئق اللہ ہی ہے، لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) اگر آپ ان (مشرکین) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ (جواب میں) ضرور کہیں گے کہ اللہ نے! آپ کہئے! الحمدﷲ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اوربلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاکم اعلی وہ اللہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ان کی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے ‘۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بے علم ہوتے ہیں، زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔
25-1یعنی ان کو اعتراف ہے کہ آسمانوں و زمین کا خالق اللہ ہے نہ کہ وہ معبود جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ 25-2اس لئے کہ ان کے اعتراف سے ان پر حجت قائم ہوگئی۔
(آیت 25) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …:} اس سے پہلے مشرکین کے اللہ تعالیٰ کے متعلق مجادلہ کا ذکر فرمایا، اب ان کے مسکت جواب کا ذکر ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پید اکیا ہے، تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ اب اس اقرار کے بعد ان کے پاس جھگڑنے کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ {”أَلْمَرْءُ يُؤْخَذُ بِإِقْرَارِهِ“} ”آدمی اپنے اقرار کے ساتھ پکڑا جاتا ہے۔“ ➋ {قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ:} آپ فرمائیں کہ جب تم نے مان لیا کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، جس میں تمھارے بنائے معبود بھی شامل ہیں، تو تمام حمد اور ہر خوبی کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ٹھہرا، پھر تم ہر خوبی کے مالک کو چھوڑ کر اس کی عبادت کیوں کرتے ہو جس میں اپنی کوئی خوبی ہے ہی نہیں؟ ➌ {بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یا جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کا مطلب اور نتیجہ کیا ہے، مثلاً جب انھوں نے اعتراف کر لیا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، تو پھر انھیں لازماً ماننا ہوگا کہ مالک بھی وہی ہے، رب بھی وہی ہے، حاکم اور شارع بھی وہی ہے، عبادت اور بندگی کا حق دار بھی وہی ہے، دعا اور فریاد بھی اسی سے کرنی چاہیے۔ یہ علم و عقل سے کتنی بعید بات اور کتنا بڑا تناقض ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو اور معبود اس کی مخلوق میں سے کسی کو بنا لیا جائے۔ ➍ یہ جو فرمایا کہ ”ان کے اکثر نہیں جانتے“ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین میں سے کچھ ایسے بھی تھے اور ہوتے ہیں کہ بات واضح ہونے پر سمجھ لیتے اور مان جاتے ہیں۔ ان کا ذکر آگے {” فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ “} میں آ رہا ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو جانتے ہیں مگر ضد اور عناد کی وجہ سے مانتے نہیں۔
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، بے شک اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وه سب اللہ ہی کا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بڑا بے نیاز اور سزاوار حمد وﺛنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔ بے شک اللہ بے نیاز ہے اور لائقِ حمد و ثنا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ ہی سب سے بے پروا، بے حد خوبیوں والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حاکم اعلی وہ اللہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ان کی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے ‘۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بے علم ہوتے ہیں، زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔
26-1یعنی ان کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی اور مدبر و متصرف کائنات کا محتاج بھی وہی۔ 26-2بےنیاز ہے اپنے ماسوائے یعنی ہر چیز اس کی محتاج ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ 26-3اپنی تمام پیدا کردہ چیزوں میں۔ پس اس نے جو کچھ پیدا کیا اور جو احکام نازل فرمائے، اس پر آسمان و زمین میں سزاوار حمد و ثنا صرف اسی کی ذات ہے۔
(آیت 26){ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یہ پہلی آیت ہی کا نتیجہ ہے کہ جب آسمانوں کا اور زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو ظاہر ہے کہ ان کا مالک بھی وہی ہے، اور جب مالک وہ ہے تو ثابت ہوا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے غنی ہے، کسی کا محتاج نہیں اور ہر حمد کا مالک ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۲)۔
زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
روئے زمین کے (تمام) درختوں کے اگر قلمیں ہو جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے، بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی بیشک اللہ عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جتنے درخت زمین میں ہیں اگر وہ سب قَلمیں بن جائیں اور سمندر (سیاہی بن جائیں) اور اس کے علاوہ سات سمندر اسے سہارا دیں (سیاہی مہیا کریں) تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے بے شک اللہ بڑا غالب (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقینا اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ٭٭
اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی، بڑائی اور بزرگی، جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے۔ اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بے شمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کر سکے نہ ان پر کسی کا احاطہٰ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔ { سید البشر ختم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ!میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کے ساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و صفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہو جائیں سب سیاہیاں پوری ہو جائیں ختم ہو جائیں لیکن اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی تعریفیں ختم نہ ہوں ‘۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر سے زیادہ ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لیے کافی ہو جائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جا سکتا ہے۔ ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے «قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا» ۱؎ [18-الكهف:109] ، یعنی ’ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہو جائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں ‘۔ پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویسا ہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہو جائیں۔“ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کر سکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔ یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں پڑھتے ہیں آیت «وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:85] یعنی ’ تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ‘، اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں سب }۔ انہوں نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے }۔ اس پر آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28/49:ضعیف]
لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہیئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست و عاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جا سکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا ‘۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرما دینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔ ایک فرمان میں قیامت قائم ہو جائے گی ایک ہی آواز کے ساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔
27-1اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی، جلالت شان، اس کے اسمائے حسنٰی اور صفات عالیہ اور اس کی عظمتوں کا بیان ہے کہ وہ اتنے ہیں کہ کسی کے لئے ان کا احاطہ یا ان سے آگاہی یا ان کی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں اگر ان کا شمار کرنا حیطہ تحریر میں لانا چاہے، تو دنیا بھر کے درختوں کے قلم گھس جائیں، سمندروں کے پانی سے بنائی ہوئی سیاہی ختم ہوجائے، لیکن اللہ کی معلومات، اس کی تخلیق و صنعت کے عجائبات اور عظمت و جلالت کے مظاہر کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ سات سمندر بطور مبالغہ ہے، حصر مراد نہیں (ابن کثیر) اس لیے کہ اللہ کی آیات و کلمات کا حصر و احصاء ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی مفہوم کی ایک آیت سورة کہف کے آخر میں گزر چکی ہے۔
(آیت 27) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ …: ” كَلِمٰتُ “ ”كَلِمَةٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی کلام ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا }» [ المؤمنون: ۱۰۰ ] ”یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے۔“ مراد اللہ تعالیٰ کے دوسرے کلام کے ساتھ ساتھ کلمہ {”كُنْ“} بھی ہے۔ یہ اس خیال کا رد ہے جو ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک ہے اور وہ غنی ہے، مگر یہ سب کچھ ختم بھی تو ہو سکتا ہے اور جو غنی ہے وہ محتاج بھی تو ہو سکتا ہے۔ اس خیال کے رد میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں کبھی کمی نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کبھی محتاج ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کلمہ ”کُنْ“ کہنے سے ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہ جو بات چاہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ جس طرح اس کی ذات کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا، اسی طرح اس کے کلمات کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا اور نہ ان کا شمار ہو سکتا ہے۔ پھر جو مالک ایک کلمہ {”كُنْ“} کہنے سے سارے عالم کو فنا کر سکتا ہے اور ایک {”كُنْ“} کہہ کر اس جیسے بلکہ اس سے کہیں بڑے اور اعلیٰ کروڑوں جہاں پیدا کر سکتا ہے اور جس کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں اور نہ وہ کبھی ختم ہو سکتے ہیں، ایسے مالک کے ملک کو کبھی زوال ہو سکتا ہے؟ یا وہ کبھی محتاج ہو سکتا ہے؟ نہیں، وہ ہمیشہ سے غنی و حمید ہے اور عزیزو حکیم ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ➋ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اپنی عظمت، کبریائی، جلال، اپنے اسماء و صفاتِ حسنیٰ اور اپنے کامل کلمات کے متعلق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں، جن کا نہ کوئی احاطہ کر سکتا ہے اور نہ کسی بشر کو ان کی حقیقت اور شمار کا علم ہے، جیسا کہ سیدالبشر اور خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلٰی نَفْسِكَ ] [ مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع و السجود؟: ۴۸۶ ] ”میں تیری ثنا کا شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا کی ہے۔“ چنانچہ فرمایا: «{ وَ لَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ … }» یعنی اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر کو سیاہی بنا دیا جائے اور اس کے ساتھ سات سمندر مزید بڑھا دیے جائیں اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھے جائیں، جو اس کی عظمت، جلال اور اس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں، تو قلم ٹوٹ جائیں گے، سمندروں کا پانی ختم ہو جائے گا، خواہ ان جیسے جتنے بھی اور لے آئیں۔ ”سات سمندروں“ کا ذکر صرف مبالغہ کے لیے ہے، اس سے حصر مراد نہیں، نہ ہی یہ بات ہے کہ کوئی سات سمندر موجود ہیں جو عالم کو گھیرے ہوئے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے جو اسرائیلیات بیان کرتے ہیں، جن کی تصدیق یا تکذیب نہیں ہو سکتی، بلکہ حقیقت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں بیان فرمایا: «{ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا }» [ الکہف: ۱۰۹ ] ”کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔“ چنانچہ اس کی مثل سے مراد اس جیسا ایک اور سمندر نہیں بلکہ اس جیسا، پھر اس جیسا، پھر اس جیسا، اس طرح آگے بڑھاتے جاؤ۔ جتنے بھی سمندر لے آئیں اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے کلمات کا شمار نہیں ہو سکتا۔ حسن بصری نے فرمایا: ”اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر سیاہی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ فرمائے کہ ”میرا یہ حکم ہے اور میرا یہ حکم ہے“ تو سمندر کا پانی ختم ہو جائے گا اور قلم ٹوٹ جائیں گے۔“ (ابن کثیر) ➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور زبردست ہے، وہ جو ارادہ کرے کوئی نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اس سے باز پرس کر سکتا ہے، اور وہ کمال حکمت والا ہے، اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ اس کا ہر کام سراسر حکمت پر مبنی ہے۔
تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلا اُٹھانا تو (اُس کے لیے) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جِلا اٹھانا) حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد جلانا ایسا ہی ہے جیسے ایک جی کا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے واﻻ دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرکے اٹھانا (اللہ کیلئے) ایک شخص کے پیدا کرنے اور دوبارہ اٹھانے کی مانند ہے بے شک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں ہے تمھارا پیدا کرنا اور نہ تمھارا اٹھانا مگر ایک جان کی طرح۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ٭٭
اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی، بڑائی اور بزرگی، جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے۔ اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بے شمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کر سکے نہ ان پر کسی کا احاطہٰ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔ { سید البشر ختم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ!میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486] پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کے ساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و صفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہو جائیں سب سیاہیاں پوری ہو جائیں ختم ہو جائیں لیکن اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی تعریفیں ختم نہ ہوں ‘۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر سے زیادہ ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لیے کافی ہو جائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جا سکتا ہے۔ ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے «قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا» ۱؎ [18-الكهف:109] ، یعنی ’ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہو جائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں ‘۔ پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویسا ہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہو جائیں۔“ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کر سکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔ یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں پڑھتے ہیں آیت «وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:85] یعنی ’ تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ‘، اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں سب }۔ انہوں نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے }۔ اس پر آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28/49:ضعیف]
لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہیئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست و عاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جا سکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا ‘۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرما دینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔ ایک فرمان میں قیامت قائم ہو جائے گی ایک ہی آواز کے ساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔
28-1یعنی اس کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ تم سب کا پیدا کرنا یا قیامت والے دن زندہ کرنے یا پیدا کرنے کی طرح ہے۔ اس لئے وہ جو چاہتا ہے لفظ کُنْ سے پلک جھپکتے میں معرض وجود میں آجاتا ہے۔
(آیت 28) ➊ { مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ:} اللہ تعالیٰ کے کمال علم و قدرت کے بیان کے بعد کفار کی اس بات کی تردید فرمائی کہ ہم دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے؟ چنانچہ فرمایا، تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کرنے کی طرح ہی ہے، کیونکہ وہ تمام چیزوں کو کلمہ {”كُنْ“} سے موجود کر دیتا ہے، پھر تمھیں دوبارہ زندہ کر دینا اس کے لیے کیا مشکل ہے؟ دیکھیے سورۂ یٰس (۲۲ اور ۷۹)۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ:} ان دو صفات کی مناسبت یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اربوں انسانوں کی پکار بیک وقت سن لیتا ہے۔ ایک انسان کی دعا سننا اسے دوسرے کی دعا سننے سے غافل یا قاصر نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے ایک انسان کی ایک وقت میں دعا سننا اور اربوں انسانوں کی اسی وقت دعا سننا برابر ہے۔ پھر اس کی مخلوق صرف انسان ہی نہیں بلکہ لاکھوں انواع میں اور اربوں کھربوں کی تعداد میں ہے، وہ ان سب کی دعا اور فریاد سنتا ہے اور ایک چیونٹی کی بھی فریاد اسی طرح سنتا ہے جیسے ایک انسان کی۔ پھر معاملہ سننے تک محدود نہیں بلکہ سننے کے ساتھ وہ اپنی ساری مخلوق کو دیکھ بھی رہا ہے۔ ان کے ظاہری اور باطنی حالات سے واقف بھی ہے، انھیں رزق بھی پہنچا رہا ہے اور ان کی جملہ ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔ یہی حال اس کی تخلیق کا ہے، اس کا ایک انسان کو پیدا کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے سب انسانوں کو پیدا کرنا۔ وہ ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں اور اربوں دوسری مخلوق کو اس وقت بھی پیدا کر رہا ہے اور مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ تمام انسانوں کو ایسے ہی ایک وقت میں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کے لیے ایک انسان کے دوبارہ پیدا کرنے اور سب انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ (کیلانی)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں؟ اُس نے سُورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے، سب ایک وقت مقرر تک چلے جا رہے ہیں، اور (کیا تم نہیں جانتے) کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کھپا دیتا ہے، سورج چاند کو اسی نے فرماں بردار کر رکھا ہے ہر ایک مقرره وقت تک چلتا رہے، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے اور یہ کہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک (اپنے مدار میں) چل رہا ہے۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے، ہر ایک ایک مقرر وقت تک چل رہا ہے اور یہ کہ اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پورا باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کے سامنے پر چیز حقیر و پست ہے ٭٭
رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی، گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ { جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ } جواب دیا کہ ”اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ جا کر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3199] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔“ ’ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے ‘ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ’ کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے‘۔ جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12] ’ اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں ‘۔ ’ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو ‘۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔
29-1یعنی رات کا کچھ حصہ لے کر دن میں شامل کردیتا ہے، جس سے دن بڑا اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے جیسے گرمیوں میں ہوتا ہے، اور پھر دن کا کچھ حصہ لے کر رات میں شامل کردیتا ہے، جس سے رات بڑی اور دن چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے سردیوں میں ہوتا ہے۔ 29-2' مقررہ وقت تک ' سے مراد قیامت تک ہے یعنی سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا نظام، جس کا اللہ نے ان کو پابند کیا ہوا ہے قیامت تک یوں ہی قائم رہے گا۔ دوسرا مطلب ہے کہ ایک متعینہ منزل تک، یعنی اللہ نے ان کی گردش کے لیے ایک منزل اور ایک دائرہ متعین کیا ہوا ہے جہاں ان کا سفر ختم ہوتا ہے اور دوسرے روز پھر وہاں سے شروع ہو کر پہلی منزل پر آکر ٹھہر جاتا ہے ایک حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا جانتے ہو، یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ ابوذر ؓ کہتے میں نے کہا اللہ اور کے رسول خوب جانتے ہیں فرمایا اس کی آخری منزل عرش الہی ہے یہ وہاں جاتا ہے اور زیر عرش سجدہ ریز ہوتا ہے پھر وہاں سے نکلنے کی اپنے رب سے اجازت مانگتا ہے ایک وقت آئے گا کہ اس کو کہا جائے تو جہاں سے آیا ہے وہی لوٹ جا۔ تو وہ مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا جیسا کہ قرب قیامت کی علامات میں آتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج رہٹ کی طرح ہے، دن کو آسمان پر اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے، جب غروب ہوجاتا ہے، تو رات کو زمین کے نیچے اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ مشرق سے طلوع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح چاند کا معاملہ ہے۔
(آیت 29) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۷) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک جان کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا۔ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جب دن بڑھنے لگتے ہیں تو ہر روز رات کا ایک حصہ دن میں شامل ہو جاتا ہے، پھر سردیوں کی آمد کے ساتھ دن کا وہی حصہ رات میں شامل ہوتا جاتا ہے۔ دن کو رات اور رات کو دن کا حصہ بنا دینے والے کے لیے تمھاری موت کے بعد حیات بالکل معمولی بات ہے۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ وہ رات کی تاریکی کو دن کی روشنی پر اور دن کی روشنی کو رات کی تاریکی پر لے آتا ہے۔ ➋ { وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ كُلٌّ يَّجْرِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} حافظ صاحبان توجہ فرمائیں کہ پورے قرآن مجید میں {” كُلٌّ يَّجْرِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} اسی مقام پر ہے۔ دوسرے تمام مقامات پر{” كُلٌّ يَّجْرِيْۤ لِأَجَلٍ مُّسَمًّى “} ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کے ممکن ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ یعنی انسان سے کہیں بڑی مخلوق سورج اور چاند کا اس طرح مسخر ہونا کہ مدت ہائے دراز سے اسی طرح چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} (ایک مقرر وقت تک) کے لفظ میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ رات دن کی روزانہ کی گردش میں یہ دونوں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک چلتے ہیں، پھر اسی سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا روزانہ کا یہ سفر مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی طرف رہٹ کی طرح جاری رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ طلوع و غروب کے وقت کے لحاظ سے چاند ایک ماہ میں اپنا سفر پورا کر کے اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے ماہ طلوع ہوا تھا اور سورج سال کے بعد عین اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے سال طلوع ہوا تھا۔ تیسری یہ کہ سورج اور چاند اس وقت تک چل رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردش ختم ہونے کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ (1) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ }» [التکویر: ۱، ۲ ] ”جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔“ آیات کے سیاق کے لحاظ سے یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، اس لیے اکثر مفسرین نے یہاں {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} سے قیامت کا دن ہی مراد لیا ہے۔ ➌ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس مقام پر {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جب کہ دوسرے مقامات پر {” لِاَجَلٍ مُّسَمًّى “} استعمال فرمایا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟ سلیمان الجمل نے فرمایا: ”یہاں اللہ تعالیٰ نے {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} فرمایا ہے، جب کہ سورۂ فاطر اور سورۂ زمر (اور رعد) میں {” لِاَجَلٍ مُّسَمًّى “} فرمایا ہے۔ کیونکہ یہاں یہ لفظ دو ایسی آیات کے درمیان آیا ہے جن میں اس انتہا کا ذکر ہے جب مخلوق ختم ہو گی، چنانچہ اس سے پہلے{” مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ “} ہے اور بعد میں {” اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا يَوْمًا “} ہے، دونوں آیات کائنات کے اس نظام کے خاتمے پر دلالت کر رہی ہیں اور سورۂ فاطر اور زمر میں یہ بات نہیں، کیونکہ سورۂ فاطر میں نہ خلق کی ابتدا کا ذکر ہے نہ انتہا کا اور سورۂ زمر میں ابتدا کا ذکر ہے انتہا کا نہیں، اس لیے وہاں ”لام“ کا لفظ استعمال فرمایا کہ سورج اور چاند جس طرح چلتے دکھائی دے رہے ہیں یہ ایک مقرر وقت پر پہنچنے کے لیے چل رہے ہیں۔ “ ➍ {وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} اس کا عطف {” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ “} پر ہے۔ {” اَلَمْ تَرَ “} کا معنی تھا ”کیا تم نے نہیں جانا؟“ یعنی تم یقینا جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور… یہ بھی جانتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں، اور (اس وجہ سے کہ) اللہ ہی بزرگ و برتر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں واﻻ اور بڑی شان واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جن کو پوجتے ہیں سب باطل ہیں اور اس لیے کہ اللہ ہی بلند بڑائی والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ سب اس لئے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جن چیزوں کو (مشرک) پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور بے شک اللہ بلند (شان والا) ہے اور بزرگ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ اس کے سوا وہ جس کو پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور یہ کہ اللہ ہی بے حد بلند، بے حد بڑا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کے سامنے پر چیز حقیر و پست ہے ٭٭
رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی، گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ { جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ } جواب دیا کہ ”اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ جا کر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3199] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔“ ’ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے ‘ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ’ کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے‘۔ جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12] ’ اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں ‘۔ ’ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو ‘۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔
30-1یعنی یہ انتظامات یا نشانیاں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو کہ کائنات کا نظام چلانے والا صرف ایک اللہ ہے، جس کے حکم اور مشیت سے سب کچھ ہو رہا ہے، اور اس کے سوا سب باطل ہے یعنی کسی کے پاس کوئی بھی اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے محتاج ہیں کیونکہ سب اس کی مخلوق اور اس کے ماتحت ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایک ذرے کو بھی ہلانے کی قدرت نہیں رکھتا ہے (ابن کثیر) 30-2اس سے برتر شان والا کوئی ہے نہ اس سے بڑا کوئی۔ اس کی عظمت شان، علوم مرتبہ اور بڑائی کے سامنے ہر چیز حقیر اور پست ہے۔
(آیت 30) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ:} یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمایا ہے کہ تم جان لو کہ وہی حق ہے جو حقیقی فاعل و مختار ہے، کیونکہ وہ ازلی و ابدی ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اپنے وجود میں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ➋ {وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ:} اور اس کے سوا مشرک جس کی بھی عبادت کرتے ہیں سب باطل ہیں، ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں نہ کوئی لات ہے، نہ منات، نہ داتا، نہ دستگیر، نہ گنج بخش، نہ غریب نواز۔ سب ان مشرکوں کے خیال اور وہم کی تخلیق ہیں اور انھوں نے اپنے پاس سے فرض کر لیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور انھیں مشکل کُشائی اور حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں، حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی بھی نہ خدائی اختیارات کا مالک ہے، نہ کسی کو پکارنا اور اس سے فریاد کرنا حق ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶) اور سورۂ نجم (۱۹ تا۲۳)۔ ➌ ان آیات میں دہریوں کا بھی رد ہے جو اس کائنات کو ازلی اور ابدی سمجھتے ہیں اور مشرکوں کا بھی جو فانی چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔ ➍ { وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ:} یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بلند ہے اور بڑائی میں بھی وہ کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے۔ ان دونوں صفات کا مجموعہ {” ثُمَّ اسْتَوٰي عَلٰي الْعَرْشِ “} میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک واضح اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بلندی اور بڑائی جب اللہ ہی کی شان ہے تو اس کے مقابلے میں ساری مخلوق پست، عاجز اور حقیر ہے، جس کے مفہوم کو لفظ ”عبد“ ادا کرتا ہے، فرمایا: «{ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا }» [ مریم: ۹۳ ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ اس علی و کبیر کے اختیارات اس کی پیدا کردہ ہستیوں کے لیے سمجھ لیے جائیں جو اس کے عباد اور اس کے سامنے بالکل پست، عاجز اور حقیر ہیں!؟
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے؟ در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وه تمہیں اپنی نشانیاں دکھاوے، یقیناً اس میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے تاکہ تمہیں وہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ محض اللہ کے فضل سے سمندر میں کشتی چلتی ہے۔ تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر بہت صبر و شکر کرنے والے کیلئے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تونے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی نعمت سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بے شک اس میں ہر بڑے صابر، بڑے شاکر کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭
اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہے اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» ۱؎ [17-الإسراء:67] ، ’ دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «افَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:65] ’ ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کر دیا تو تھوڑے سے کافر ہو جاتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-سورةالعنكبوت:65] لفظی معنی یہ ہیں کہ ’ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ‘ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ» ۱؎ [35-فاطر:32] ، ’ ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہئیے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔ «خَتَّار» کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ «خَتْرِ» کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ «كَفُورٌ» کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہو جائے، شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔
31-1یعنی سمندر میں کشتیوں کا چلنا، یہ بھی اس کے لطف و کرم کا ایک مظہر اور اس کی قدرت تسخیر کا ایک نمونہ ہے، اس نے ہوا اور پانی کو ایسے مناسب انداز سے رکھا کہ سمندر کی سطح پر کشتیاں چل سکیں، ورنہ وہ چاہے تو ہوا کی تندی اور موجوں کی طغیانی سے کشتیوں کا چلنا ناممکن ہوجائے۔ 31-2تکلیفوں میں صبر کرنے والے، راحت اور خوشی میں اللہ کا شکر کرنے والے۔
(آیت 31) ➊ {اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ …:} اس سے پہلے اللہ نے{” اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ “} میں اور{” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ …“} میں اپنی بعض نعمتوں کی طرف توجہ دلائی، اب {” اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ “} میں سمندر میں چلنے والے جہازوں کی نعمت کی طرف متوجہ فرمایا۔ یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کشتیاں اور بحری جہاز سمندر میں محض اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے احسان کی بدولت چل رہے ہیں؟ کیونکہ اگر اس کا احسان نہ ہو تو پانی جو ایک سوئی نہیں اٹھاتا بلکہ غرق کر دیتا ہے، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور اونچے جہازوں کو اپنے سینے پر نہ اٹھائے رکھے۔ یہ اسی کا احسان ہے کہ اس نے پانی میں یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ ایک خاص حجم کی چیز کو نیچے نہیں جانے دیتا، کیونکہ پانی میں ہرچیز کا وزن ہوا میں وزن کی نسبت کم ہوتا ہے اور یہ کمی کسی چیز کے حجم کے برابر پانی کے حجم کے برابر ہوتی ہے۔ (تیسیرالقرآن) اگر اللہ تعالیٰ پانی کو اس طرح پیدا نہ فرماتا، پھر انسان کو پانی کی اس خاصیت کا علم عطا نہ فرماتا اور اس کے جد امجد نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا طریقہ نہ سکھاتا تو وہ کبھی اس میں کشتیاں یا جہاز نہ چلا سکتا اور نہ ہی اتنی وزنی چیزیں نہایت آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا، جو خشکی کے راستے منتقل کرنا اس کے لیے بے حد مشکل تھا۔(دیکھیے یٰس: ۴۱ تا ۴۴) پھر سمندر میں آندھیاں، طوفان اور تلاطم خیز موجیں انسان کو آنکھ جھپکنے میں ہلاکت سے دو چار کر سکتی ہیں اور سمندر میں اتنی عظیم الجثہ مخلوق موجود ہے جو ایک ہی ٹکر میں کشتیوں اور جہازوں کو ڈبو سکتی ہیں۔ پھر سمندر کے اندر پہاڑ ہیں جن سے ٹکرا کر جہاز پاش پاش ہو جاتے ہیں اور مقناطیسی چٹانیں ہیں جو انسان کی ساری کوششوں کے باوجود جہازوں کو کھینچ کر غرقاب کر دیتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص مہربانی ہوتی ہے کہ انسان اکثر اوقات سمندری سفر خیروعافیت سے طے کر لیتا ہے۔ ➋ { لِيُرِيَكُمْ مِّنْ اٰيٰتِهٖ:} یعنی ایسی نشانیاں جن سے پتا چلتا ہے کہ سارے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کیسے ہی مضبوط اور بحری سفر کے لیے موزوں جہاز بنالے اور جہاز رانی کے فن میں کتنا ہی کمال حاصل کر لے، سمندر میں پیش آنے والی ہولناک طاقتوں کے مقابلے میں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہو وہ اکیلا اپنی تدابیر کے بل بوتے پر بخیریت سفر نہیں کر سکتا۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی عظیم اور واضح نشانیوں کے باوجود مشرک ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ فرمایا، ان نشانیوں سے توحید کا سبق ہمیشہ وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جن میں دو وصف ہوں، ایک یہ کہ وہ {” صَبَّارٍ “} (بہت بڑے صبر والے) ہوں، ان کے مزاج میں تلوّن نہ ہو، بلکہ ثابت قدمی ہو، گوارا و ناگوار، سخت اور نرم، اچھے اور برے تمام حالات میں صحیح عقیدے پر قائم رہیں۔ یہ نہیں کہ برا وقت آیا تو اللہ کے سامنے گڑگڑانے لگے اور اچھا وقت آنے پر سب کچھ بھول گئے، یا اس کے برعکس اچھے حالات میں تو اللہ تعالیٰ پر خوش رہے اور اس کی پرستش کرتے رہے اور مصیبت کی ایک چوٹ پڑتے ہی اسے گالیاں دینے لگے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ {” شَكُوْرٍ “} (بہت بڑے شکر کرنے والے) ہوں، نمک حرام اور احسان فراموش نہ ہوں، بلکہ ہمیشہ نعمت دینے والے کے لیے دل میں احسان مندی اور قدردانی کا جذبہ رکھیں اور اپنے قول و عمل سے اس کا شکر ادا کرتے رہیں۔ یہ دونوں وصف صرف مومن میں پائے جاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ ] [ مسلم، الزھد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹، عن صہیب رضی اللہ عنہ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچے، وہ شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہوتی ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے۔“
اور جب (سمندر میں) اِن لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کر کے، پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے، اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدّار اور ناشکرا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وه (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں۔ پھر جب وه (باری تعالیٰ) انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچاتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان پر آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے پھر جب انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو ان میں کوئی اعتدال پر رہتا ہے اور ہماری آیتوں کا انکار نہ کرے گا مگر ہر بڑا بے وفا ناشکرا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب انہیں ایک موج سائبانوں کی طرح ڈھانپ لیتی ہے تو یہ اپنے دین کو اللہ کیلئے خالص کرکے اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو پھر ان میں سے کچھ تو اعتدال پر رہتے ہیں (اور اکثر انکار کر دیتے ہیں) اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر وہی شخص جو بڑا غدار (بے وفا) اور بڑا ناشکرا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب انھیں سائبانوں جیسی کوئی موج ڈھانپ لیتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ دین کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر قائم رہنے والے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو نہایت عہد توڑنے والا، بے حد ناشکرا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭
اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہے اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» ۱؎ [17-الإسراء:67] ، ’ دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «افَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:65] ’ ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کر دیا تو تھوڑے سے کافر ہو جاتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-سورةالعنكبوت:65] لفظی معنی یہ ہیں کہ ’ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ‘ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ» ۱؎ [35-فاطر:32] ، ’ ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہئیے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔ «خَتَّار» کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ «خَتْرِ» کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ «كَفُورٌ» کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہو جائے، شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔
32-1یعنی جب ان کی کشتیاں ایسی طوفانی موجوں میں گھر جاتی ہیں جو بادلوں اور پہاڑوں کی طرح ہوتی ہیں اور موت کا آہنی پنجہ انھیں اپنی گرفت میں لے لینا نظر آتا ہے تو پھر سارے زمینی معبود ان کے ذہنوں سے نکل جاتے ہیں اور صرف ایک آسمانی اللہ کو پکارتے ہیں جو واقعی اور حقیقی معبود ہے 32-2بعض نے مقتصد کے معنی بیان کیے ہیں عہد کو پورا کرنے والا، یعنی بعض ایمان، توحید اور اطاعت کے اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو موج گرداب میں انہوں نے کیا تھا۔ ان کے نزدیک کلام میں حذف ہے، تقدیر کلام یوں ہوگا۔ فمنھم مقتصد ومنھم کافر۔ پس بعض ان میں سے مومن اور بعض کافر ہوتے ہیں، دوسرے مفسرین کے نزدیک اس کے معنی اعتدال پر رہنے والا اور یہ باب انکار سے ہوگا۔ یعنی اتنے ہولناک حالات اور پھر وہاں رب کی اتنی عظیم آیات کا مشاہدہ کرنے اور اللہ کے اس احسان کے باوجود کہ اس نے وہاں سے نجات دی۔ انسان اب بھی اللہ کی مکمل عبادت و اطاعت نہیں کرتا؟ اور متوسط راستہ اختیار کرتا ہے، جب کہ وہ حالات، جن سے گزر کر آیا ہے مکمل بندگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ نہ کہ اعتدال کا۔ مگر پہلا مفہوم سیاق کے زیادہ قریب ہے۔ 32-3ختار غدار کے معنی میں ہے بد عہدی کرنے والا کفور ناشکری کرنے والا۔
(آیت 32) ➊ { وَ اِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ …:} پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کے ساتھ سمندر میں چلنے والی کشتیوں اور جہازوں کو دیکھ کر ایمان والوں کی حالت کا ذکر فرمایا، جو بہت صبر و شکر کرنے والے ہوتے ہیں کہ ان کے لیے ان کشتیوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی اور اس کے قادر و مختار ہونے کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ اب بتایا کہ مشرکوں کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے، چنانچہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے اور یک لخت پانی کی موجیں سائبانوں کی طرح انھیں ڈھانپ لیتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ معاملہ ختم ہے تو تمام خداؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کو چھوڑ کر اپنے دین یعنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس اکیلے کو پکارتے ہیں۔ ➋ { فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ …: ” خَتَّارٍ “ ”خَتْرٌ“} میں سے ہے، جو بدترین عہد شکنی اور غداری کو کہتے ہیں۔ {” مُقْتَصِدٌ “} کا لفظی معنی سیدھی راہ پر چلنے والا بھی ہے اور میانہ روی اختیار کرنے والا بھی۔ اس جملے کی تین تفسیریں ہو سکتی ہیں اور تینوں درست ہیں، ایک یہ کہ {” مُقْتَصِدٌ “} کا معنی سیدھی راہ پر چلنے والا ہے، کیونکہ تمام راستوں میں سے درمیانہ راستہ ہی سیدھا اور درست ہوتا ہے۔ {” فَمِنْهُمْ “} میں {”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں سائبانوں جیسی ان موجوں سے بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر رہنے والے ہوتے ہیں، جو اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو انھوں نے طوفان کی حالت میں اپنے رب سے کیا تھا، جیسا کہ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ رضی اللہ عنہ تھے، ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا صاف انکار کر دیتے ہیں جن کا مشاہدہ انھوں نے سمندر میں کیا تھا اور اس عہد کو توڑ دیتے ہیں جو انھوں نے طوفان کے وقت اپنے رب سے کیا تھا۔ پھر جو دہریے ہیں وہ اپنے بچ جانے کے لیے مادی اسباب بیان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم فلاں وجہ سے بچ گئے اور جو مشرک ہیں وہ اپنے بچ جانے کو کسی نہ کسی داتا یا دستگیر کی کرم نوازی قرار دینے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی آیات اور اس کی نعمتوں کا اس طرح صاف انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو بدترین عہد توڑنے والا اور نہایت ناشکرا ہو۔ {” خَتَّارٍ “} اور {” كَفُوْرٍ “} مشرک کی صفات ہیں، جو بالترتیب مومن کی صفات {” صَبَّارٍ “} اور {” شَكُوْرٍ “} کے مقابلہ میں آئی ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” مُقْتَصِدٌ “} سے مراد کفر میں میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کفر میں اتنے شدید نہیں رہتے، بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں، جبکہ اکثر اپنے رب کی اس نعمت کا صاف انکار کر کے بدترین عہد شکنی اور ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس صورت میں {” مُقْتَصِدٌ “} سے مراد {” مُقْتَصِدٌ فِي الْكُفْرِ“} ہو گا۔ تیسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ {” اِقْتِصَادٌ “} سے مراد ایمان و اخلاص اور عمل میں میانہ روی ہے: {”أَيْ فَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ فِي الْإِيْمَانِ وَالْعَمَلِ“} یعنی طوفان سے نجات کے بعد جب کچھ وقت گزرتا ہے تو اخلاص اور ایمان کی وہ کیفیت کسی کی بھی باقی نہیں رہتی جو طوفان کے وقت تھی۔ پھر کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اخلاص و ایمان اور عمل کے اعلیٰ درجے سے میانہ روی پر آجاتے ہیں، البتہ اکثر کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ سارے عہد توڑ کر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا صاف انکار کر دیتے ہیں اور پھر اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یعنی جو حال خوف کے وقت تھا وہ تو کسی کا نہیں، مگر بالکل بھول بھی نہ جائے، ایسے بھی کم ہیں۔ نہیں تو اکثر قدرت سے منکر ہوتے ہیں، اپنے بچ نکلنے کو تدبیر پر رکھتے ہیں یا کسی ارواح وغیرہ کی مدد پر۔“ اللہ تعالیٰ کے کلام کا اعجاز ہے کہ آیت کے الفاظ میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے اور کچھ بعید نہیں کہ تینوں مراد ہوں۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۶۷)، عنکبوت (۶۵) اور یونس (۲۱ تا۲۳)۔
لوگو، بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے
مولانا محمد جوناگڑھی
لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے واﻻ ہوگا (یاد رکھو) اللہ کا وعده سچا ہے (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے
احمد رضا خان بریلوی
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا، اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی
علامہ محمد حسین نجفی
اے لوگو! اپنے پروردگار (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور اس دن کا خوف کرو۔ جب نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کو فائدہ پہنچا سکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکے گا۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو تمہیں دنیا کی (عارضی) زندگی دھوکہ نہ دے اور نہ ہی کوئی دھوکہ باز (شیطان وغیرہ) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو کہ نہ باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی ایسا ہوگا جو اپنے باپ کے کسی کام آنے والا ہو۔ یقینا اللہ کا وعدہ سچ ہے، تو کہیں دنیا کی زندگی تمھیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور کہیں وہ دغا باز اللہ کے بارے میں تمھیں دھوکا نہ دے جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے روبرو کیا ہو گا ٭٭
اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈرا رہا ہے اور اپنے تقوے کا حکم فرما رہا ہے۔ ارشاد ہے ’ اس دن باپ اپنے بچے کو یا بچہ اپنے باپ کو کچھ کام نہ آئے گا۔ ایک دوسرے کا فدیہ نہ ہو سکے گا۔ تم دنیا پر اعتماد کرنے والو آخرت کو فراموش نہ کر جاؤ، شیطان کے فریب میں نہ آ جاؤ، وہ تو صرف پردہ کی آڑ میں شکار کھیلنا جانتا ہے ‘۔ ابن ابی حاتم میں ہے عزیر علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی تکلیف ملاحظہ کی اور غم ورنج بہت بڑھ گیا نیند اچاٹ ہو گئی تو اپنے رب کی طرف جھک پڑے۔ فرماتے ہیں میں نے نہایت تضرع و زاری کی، خوب رویا گڑگڑایا نمازیں پڑھیں روزے رکھے دعائیں مانگیں۔ ایک مرتبہ رو رو کر تضرع کر رہا تھا کہ میرے سامنے ایک فرشتہ آ گیا میں نے اس سے پوچھا کیا نیک لوگ بروں کی شفاعت کریں گے؟ یا باپ بیٹوں کے کام آئیں گے؟
اس نے فرمایا کہ ”قیامت کا دن جھگڑوں کے فیصلوں کا دن ہے اس دن اللہ خود سامنے ہو گا کوئی بغیر اس کی اجازت کے لب نہ ہلا سکے گا کسی کو دوسرے کے بدلے نہ پکڑا جائے گا نہ باپ بیٹے کے بدلے نہ بیٹا باپ کے بدلے نہ بھائی بھائی کے بدلے نہ غلام آقا کے بدلے نہ کوئی کسی کا غم ورنج کرے گا نہ کسی کی طرف سے کسی کو خیال ہو گا نہ کسی پر رحم کرے گا نہ کسی کو کسی سے شفقت ومحبت ہو گی۔ نہ ایک دوسرے کی طرف پکڑا جائے گا۔ ہر شخص نفسانفسی میں ہو گا ہر ایک اپنی فکر میں ہو گا ہر ایک کو اپنا رونا پڑا ہو گا ہر ایک اپنابوجھ اٹھائے ہوئے ہو گا کسی اور کا نہیں۔“
33-1جاز اسم فاعل ہے جَزْی یَجْزِی سے، بدلہ دینا، مطلب یہ ہے کہ اگر باپ چاہے کہ بیٹے کو بچانے کے لئے اپنی جان کا بدلہ، یا بیٹا باپ کے بدلے اپنی جان بطور معاوضہ پیش کر دے، تو وہاں ممکن نہیں ہوگا، ہر شخص کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہوگی۔ جب باپ بیٹا ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے تو دیگر رشتے داروں کی کیا حیثیت ہوگی، اور وہ کیوں کر ایک دوسرے کو نفع پہنچا سکیں گے۔
(آیت 33) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ …:} مختلف طریقوں سے توحید اور آخرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا، جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اسی سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ اگر باز پرس کا خوف نہ ہو تو کوئی چیز آدمی کو تقویٰ پر آمادہ نہیں کر سکتی۔ ➋ { وَ اخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ:} یعنی دنیا میں سب سے قریب باہمی تعلق والدین اور اولاد کا ہے، جب وہ ایک دوسرے کے کام نہ آسکے تو کوئی اور رشتے دار، دوست، لیڈر یا پیر فقیر کیا کام آسکے گا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸)، عبس(۳۴ تا ۳۷)، اور معارج (۸ تا ۱۴) والد کے کام نہ آسکنے کی مثال نوح علیہ السلام اور ان کا بیٹا ہیں۔ ➌ {وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْـًٔا: ” جَازٍ “ ”جَزٰي يَجْزِيْ“} سے اسم فاعل ہے۔ اولاد کے کام نہ آسکنے کی مثال ابراہیم علیہ السلام اور ان کا باپ ہیں۔ ➍ { اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} اللہ کے وعدے سے مراد قیامت قائم ہونا ہے، وہ ہر حال میں ہو کر رہے گی۔ ➎ { فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا:} دنیا کی زندگی انسانوں کو کئی طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ زندگی بس دنیا ہی کی زندگی ہے، جینا مرنا سب کچھ یہیں ہے، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں، لہٰذا جو کچھ کرنا ہے یہیں پر کر لو۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۹)، مومنون (۳۷) اور جاثیہ (۲۴) کوئی کہتا ہے کہ دنیوی خوشی یا بدحالی ہی حق و باطل کا اور اللہ تعالیٰ کے راضی یا ناراض ہونے کا معیار ہے، اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی وہی خوش حال ہوں گے جو یہاں خوش حال ہیں۔ دیکھیے سورۂ مریم (۷۷) کوئی آخرت پر ایمان کے باوجود دنیا کی خواہشات کی محبت میں کھو کر اس دن کی یاد ہی بھلا بیٹھتا ہے۔ دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴) غرض دنیا کی زندگی آدمی کو طرح طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔ ➏ {وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ: ” الْغَرُوْرُ “} ”غین“ کے فتح کے ساتھ صفت مشبہ {”فَعُوْلٌ“} بمعنی فاعل ہے، دھوکا دینے والا، جیسے: «{ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا }» [ بني إسرائیل: ۳ ] اور ”غین“ کے ضمہ کے ساتھ مصدر ہے، جیسے: «{ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا }» [الأنعام: ۱۱۲ ] اور: «{ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا }» [ الدھر: ۹ ] دھوکا دینے والے سے مراد شیطان ہے، وہ ابلیس اور اس کی اولاد سے ہو یا انسانوں میں سے۔ لفظ کو عام رکھیں تو آدمی کا نفس بھی اسے دھوکا دیتا ہے اور دنیا بھی دھوکا دیتی ہے، اس لیے کئی مفسرین نے یہاں {” الْغَرُوْرُ “} کی تفسیر ”دنیا“ فرمائی ہے۔ ➐ اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکا کئی طرح سے ہوتا ہے۔ یہ کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے ہی نہیں، کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے، گناہ کر لو، بعد میں توبہ کر لینا۔ کسی سے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر کا اس پر بڑا زور ہے، وہ سفارش کر کے تمھیں اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ غرض وہ مختلف طریقوں سے انسان کو دنیا کی طرف مائل کر کے اللہ تعالیٰ سے غافل کر دیتا ہے۔
اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ مائوں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
غیب کی پانچ باتیں ٭٭
یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں۔ مگر اس کے بعد کہ اللہ اسے علم عطا فرمائے۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانے نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے ہاں جب جناب باری تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اسی کام پر مقرر ہیں تب انہیں پتا چلتا ہے کہ نر ہو گا یا مادہ، لڑکا ہو گا یا لڑکی، نیک ہو گا یا بد؟ اسی طرح کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا؟ نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کہاں مرے گا؟ اور آیت میں ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ» ۱؎ [6-الانعام:59] ’ غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا ‘۔ اور حدیث میں ہے کہ { غیب کی کنجیاں یہاں پانچ چیزیں ہیں جن کا بیان آیت «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] میں ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/5:صحیح] مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی } }۔ بخاری کی حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ { یہ پانچ غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا }۔۱؎ [صحیح بخاری:1039]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { مجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئی ہیں سوائے پانچ کے پھر یہی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:85/2:صحیح] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے اور پوچھنے لگے ایمان کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ کو، فرشتوں کو،کتابوں کو، رسولوں کو، آخرت کو، مرنے کے بعد جی اٹھنے کو مان لینا }۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ فرمایا: { ایک اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا نمازیں پڑھنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا }۔ اس نے دریافت کیا احسان کیا ہے؟ فرمایا: { تیرا اس طرح اللہ کی عبادت کرنا کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے }۔ اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کب ہے؟ فرمایا: { اس کا علم نہ مجھے اور نہ تجھے ہاں اس کی کچھ نشانیاں میں تمہیں بتادیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے سردار کو جنے اور جب ننگے پیروں اور ننگے بدنوں والے لوگوں کے سردار بن جائیں۔ علم قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وہ شخص واپس چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جاؤ اسے لوٹا لاؤ } لوگ دوڑ پڑے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { یہ جبرائیل علیہ السلام تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4777] ہم نے اس حدیث کا مطلب شرح صحیح بخاری میں خوب بیان کیا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ہتھیلیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ کر یہ سوالات کیے تھے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ { تو اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دے اور اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کی گواہی دے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد و رسول ہونے کی۔ جب تو یہ کر لے تو تو مسلمان ہو گیا }۔ پوچھا، اچھا ایمان کس کا نام ہے؟ فرمایا: { اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر، کتابوں پر، نبیوں پر عقیدہ رکھنا۔ موت اور موت کے بعد کی زندگی کو ماننا، جنت دوزخ، حساب، میزان، اور تقدیر کی بھلائی برائی پر ایمان رکھنا }۔ پوچھا جب میں ایسا کر لوں تو مومن ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں }۔ پھر احسان کیا پوچھا اور جواب پایا جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ پھر قیامت کا پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سبحان اللہ! یہ ان پانچ چیزوں میں ہے جنہیں صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت کی }۔ پھر نشانیوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ { لوگ لمبی چوڑی عمارتیں بنانے لگیں گے }۔ ۱؎ [مسند احمد:319/1:حسن بالشواهد]
ایک صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں مروی ہے کہ { بنو عامر قبیلے کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا میں آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم کو بھیجا کہ { جا کر انہیں ادب سکھاؤ یہ اجازت مانگنا نہیں جانتے۔ ان سے کہو پہلے سلام کرو پھر دریافت کرو کہ میں آسکتا ہوں؟ } انہوں نے سن لیا اور اسی طرح سلام کیا اور اجازت چاہی یہ گئے اور جا کر کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بھلائی ہی بھلائی۔ سنو! تم ایک اللہ کی عبادت کرو لات وعزیٰ کو چھوڑ دو، دن رات میں پانچ نمازیں پڑھاکرو سال بھر میں ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کر کے اپنے فقیروں پر تقسیم کرو }۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا علم میں سے کچھ ایساباقی ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ جانتے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں ایسا علم بھی ہے جسے بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی }۔ ۱؎ [مسند احمد:369/5:قال الشيخ الألباني:صحیح]
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ میری عورت حمل سے ہے بتلائے کیا بچہ ہوگا؟ ہمارے شہر میں قحط ہے فرمائیے بارش کب ہوگی؟ یہ تو میں نہیں جانتا کہ میں کب پیدا ہوا لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معلوم کرادیجئیے کہ کب مرونگا؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ ’ مجھے ان چیزوں کا مطلق علم نہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی غیب کی کنجیاں ہیں جن کے بارے میں فرمان باری ہے کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28173:مرسل] سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”جو تم سے کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات کا جانتے تھے تو سمجھ لینا کہ وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا۔“ قتادۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا نہ نبی کو نہ فرشتہ کو اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کس سال کس مہینے کس دن یا کس رات میں وہ آئے گی۔ اسی طرح بارش کا علم بھی اس کے سوا کسی کو نہیں کہ کب آئے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ نر ہو گا یا مادہ سرخ ہو گا یا سیاہ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ نیکی کرے گا یا بدی کرے گا؟ مرے گا یا جئے گا بہت ممکن ہے کل موت یا آفت آ جائے۔ نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس زمین میں وہ دبایا جائے گا یا سمندر میں بہایا جائے گا یا جنگل میں مرے گا یا نرم یاسخت زمین میں جائے گا۔“ حدیث شریف میں ہے { جب کسی کو موت دوسری زمین میں ہوتی ہے تو اس کا وہیں کا کوئی کام نکل آتا ہے اور وہیں موت آ جاتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2146،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور روایت میں ہے کہ { یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی }۔ اعشی ہمدان کے شعر ہیں جن میں اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ یہ ہیں تیری امانتیں جو تو نے مجھے سونپ رکھی تھیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4263،قال الشيخ الألباني:صحیح] طبرانی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ لقمان کی تفسیر ختم ہوئی۔
34-1حدیث میں آتا ہے کہ پانچ چیزیں مفاتیح الغیب ہیں، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قرب قیامت کی علامات تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں ہیں لیکن قیامت کے وقوع کا یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، کسی فرشتے کو، نہ کسی نبی مرسل کو، بارش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آثار و علائم سے تخمینہ تو لگایا جاتا اور لگایا جاسکتا ہے لیکن یہ بات ہر شخص کے تجربہ و مشاہدے کا حصہ ہے کہ یہ تخمینے کبھی صحیح نکلتے ہیں اور کبھی غلط۔ حتی کہ محکمہ موسمیات کے اعلانات بھی بعض دفعہ صحیح ثابت نہیں ہوتے۔ جس سے صاف واضح ہے کہ بارش کا بھی یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ رحم مادر میں مشینی ذرائع سے جنسیت کا ناقص اندازہ تو شاید ممکن ہے کہ بچہ ہے یا بچی؟ لیکن ماں کے پیٹ میں نشوونما پانے والا یہ بچہ نیک بخت ہے یا بدبخت ناقص ہوگا یا کامل، خوب رو ہوگا یا بد شکل، کالا ہوگا یا گورا، وغیرہ باتوں کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ انسان کل کیا کرے گا؟ وہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا؟ کسی کو آنے والے کل کے بارے میں علم نہیں کہ وہ اس کی زندگی میں آئے گا بھی یا نہیں؟ اور اگر آئے گا تو وہ اس میں کیا کچھ کرے گا؟ موت کہاں آئے گی؟ گھر میں یا گھر سے باہر اپنے وطن میں یا دیار غیر میں جوانی میں آئے گی یا بڑھاپے میں اپنی آرزوؤں اور خواہشات کی تکمیل کے بعد آئے گی یا اس سے پہلے؟ کسی کو معلوم نہیں۔
(آیت 34) ➊ { اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ:} قیامت کے ذکر پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کب آئے گی؟ اور یہی سوال کفار بار بار کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسے مخفی رکھنا اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت ہے، تاکہ ہر شخص اس کے لیے ہر وقت تیار رہے اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۱۵) {” عِنْدَهٗ “} کو پہلے لانے سے تخصیص کا معنی پیدا ہوا کہ قیامت کا علم صرف اس کے پاس ہے، کسی اور کے پاس نہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۷)، احزاب (۶۳) اور نازعات (۴۲ تا ۴۴) حدیث جبریل میں جبریل علیہ السلام کے سوال {”مَتَي السَّاعَةُ؟“} (قیامت کب ہے؟) کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ] ”جس سے پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“… پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فِيْ خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللّٰهُ: «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إن اللہ عندہ علم الساعۃ» : ۴۷۷۷ ] ”قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ» [ لقمان: ۳۴ ] ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَفَاتِيْحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ، ثُمَّ قَرَأَ: «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إن اللہ عندہ علم الساعۃ» : ۴۷۷۸ ] ”غیب کی چابیاں پانچ ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ» [ لقمان: ۳۴ ] ➋ { وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ:} اس کا عطف {” عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ “} پرہے، گویا عبارت یوں ہے {”وَ إِنَّ اللّٰهَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ“} یعنی اللہ تعالیٰ ہی بارش اتارتا ہے، اور جو اتارتا ہے وہی جانتا ہے کہ کہاں اتارنی ہے، کب اتارنی ہے اور کتنی اتارنی ہے، اس کے سوا کسی کو یہ بات معلوم نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ{” وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ “} دونوں جملوں میں حصر پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ نہیں، جس کا ترجمہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی یہ کام کرتا ہے۔ اس کا سب سے قوی جواب تو وہ ہے جو شنقیطی نے دیا ہے کہ یہ بات کہ یہاں حصر مراد ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گزرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر قرآن مجید اور لغت عرب کو جاننے والا کوئی نہیں۔ ویسے علمائے عربیت نے کئی طرح سے یہاں حصر ثابت فرمایا ہے جن میں سے ایک جواب یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیے کہ اگر کہا جاتا کہ{”إِنَّ عِلْمَ السَّاعَةِ عِنْدَ اللّٰهِ“} تو جملہ مختصر بھی ہوتا اور بات بھی ادا ہو جاتی، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {” اِنَّ اللّٰهَ “} اور اس کی خبر {” عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ “} بیان فرمائی۔ اس میں دو طرح سے حصر ہے، لفظ {” اللّٰهَ “} کو زیادہ صراحت کے ساتھ پہلے لانا، پھر خبر کے جملہ میں {” عِنْدَهٗ “} کو مقدم کرنا، جس سے تخصیص پیدا ہوئی۔ گویا جملے کی ابتدا جو حصر کے ساتھ ہوئی، وہی حصر {” وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ “} میں بھی ملحوظ ہے، کیونکہ ان دونوں کا عطف جملہ {” عِلْمُ السَّاعَةِ “} پر ہے۔ بعض اوقات عامۃ الناس کی طرف سے ایک سوال آتا ہے کہ آج کل سائنس اتنی ترقی کر گئی ہے کہ محکمہ موسمیات والے پہلے ہی پیش گوئی کر دیتے ہیں کہ فلاں دن بارش ہو گی، اگر یہ مفاتیح الغیب سے ہے، جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، تو وہ کیسے بتا دیتے ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ علم یقین کا نام ہے، ظن و تخمین اور گمان کو علم نہیں کہتے۔ محکمہ موسمیات والے اپنے تجربے کے مطابق ہوا کے دباؤ اور فضا میں موجود نمی وغیرہ کو دیکھ کر بارش ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں، مگر کبھی ان کی بات درست ثابت ہوتی ہے کبھی نادرست۔ بعض اوقات تجربے کے مطابق بارش ہونے کے تمام اسباب ہوتے ہیں مگر بادل ایک بوند برسائے بغیر گزر جاتے ہیں اور بعض اوقات بارش کے اسباب میں سے کچھ بھی موجود نہیں ہوتا کہ یکایک تمام اسباب پیدا ہو کر بارش شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی دلیل کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب، کہاں اور کتنی ہو گی محکمہ موسمیات والوں کا یہ اعلان بھی ہے کہ آج بارش کا امکان ہے۔ سوفیصد علم نہ ان کے پاس ہے نہ ان کا دعویٰ ہے۔ آیت پر اعتراض کرنے والوں کا حال ” مدعی سست گواہ چست“ والا ہے۔ ➌ { وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ:} اس کا عطف بھی {” عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ “} پر ہے: {” أَيْ إِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ“} یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا ہے۔ یہاں بھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آج کل الٹراساؤنڈ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی۔ اس کے جواب میں عموماً علمائے اسلام فرماتے ہیں کہ آیت کے الفاظ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں لڑکا ہے یا لڑکی، بلکہ فرمایا {” مَا فِي الْاَرْحَامِ “} کہ جو کچھ پیٹوں میں ہے، ضروری نہیں کہ اس سے مراد لڑکا یا لڑکی ہی لیا جائے، بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنین زندہ رہنے والا ہے یا ضائع ہو جانے والا، طویل عمر والا ہے یا تھوڑی عمر والا، خوش بخت ہے یا بد نصیب، تندرست رہے گا یا بیمار ہو گا۔ سو اگر اس کی جنس معلوم ہو بھی جائے کہ لڑکا ہے یا لڑکی، تب بھی قرآن کے بیان پر کوئی حرف نہیں آتا۔ یقینا یہ جواب بہت عمدہ ہے، مگر ابھی تک یہ دعویٰ کہ الٹراساؤنڈ سے لڑکے یا لڑکی کی جنس معلوم ہو جاتی ہے، سوفیصد درست ثابت نہیں ہوا۔ خود ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ جنین کی وضع پیٹ میں ایسی ہوتی ہے کہ اس کے اعضائے تناسل اس کے سر کے نیچے چھپے ہوتے ہیں اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے سے اندازے ہی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے جو اکثر صحیح ہوتا ہے اور کبھی غلط بھی نکلتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ الٹراساؤنڈ سے جنس معلوم ہو جاتی ہے، سوفیصد درست نہیں۔ الٹرا ساؤنڈ کی شہرت کے باوجود میں نے اپنی زندگی میں دو دفعہ الٹرا ساؤنڈ کی پیش گوئی تمام دنیا کے سامنے غلط ثابت ہوتی ہوئی دیکھی ہے، ایک دفعہ برطانیہ کے ولی عہد کی بیوی لیڈی ڈیانا کے ہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ لڑکی پیدا ہو گی، مگر ان کے اعلان کے برعکس لڑکا پیدا ہوا۔ دوسرا پاکستان کی سابقہ وزیراعظم بے نظیر کے ڈاکٹر نے اعلان کیا کہ لڑکا پیدا ہو گا، مگر لڑکی پیدا ہوئی۔ اب آپ سوچیں کہ برطانیہ اور پاکستان کے ان اونچے مناصب پر فائز لوگوں کے پاس الٹراساؤنڈ کے ماہرین کی کیا کمی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر الٹراساؤنڈ کے ذریعے سے ایک ہزار بچوں کے متعلق پیش گوئی کی جائے، جن میں سے نوسو ننانوے درست اور ایک غلط نکلے تو بھی اسے علم نہیں کہہ سکتے، کیونکہ علم وہ ہے جو یقینی ہو، کبھی غلط نہ نکلے۔ البتہ اگر کوئی آپریشن کرکے آنکھوں سے بچے کی جنس دیکھ لے تو قرآن کی بات پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ بات کہ بچہ دانیوں میں کیا ہے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، کیونکہ ”کیا ہے“ میں لڑکے لڑکی کی جنس کے علاوہ بے شمار باتیں داخل ہیں۔ ➍ { وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا:} مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا: ”اماں جان! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟“ انھوں نے فرمایا: ”تم نے جو بات کہی اس سے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جنھیں جو بھی تمھیں بیان کرے وہ جھوٹ کہے گا۔“ پھر فرمایا: [ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ رَأَی رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [الأنعام: ۱۰۳] ، «وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ» [الشورٰي: ۵۱] وَ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ فَقَدْ كَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ: «وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ» [لقمان: ۳۴] وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَتَمَ فَقَدْ كَذَبَ، ثُمَّ قَرَأَتْ: «يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [المائدة: ۶۷] ، وَ لٰكِنَّهُ رَأٰی جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِيْ صُوْرَتِهِ مَرَّتَيْنِ ] [ بخاري، التفسیر، باب: ۴۸۵۵۔ مسلم: ۱۷۷ ] ”جو شخص تمھیں بیان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے یقینا جھوٹ کہا، پھر ام المومنین رضی اللہ عنھا نے یہ آیت پڑھی: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [ الأنعام: ۱۰۳ ] ”اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔“ اور یہ آیت: «وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ» [ الشورٰی: ۵۱ ] ”اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے۔“ ”اور جو شخص تمھیں بیان کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ جانتے ہیں جو کل ہو گا تو اس نے یقینا جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: «وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا» [ لقمان: ۳۴ ] ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا۔“ ”اور جو شخص تمھیں بیان کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وحی کی بات کو) چھپایا ہے، اس نے یقینا جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: «اَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ» [ المائدۃ: ۶۷ ] ”اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ ”لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔“ {رُبَيِّع بنت مُعوّذ} رضی اللہ عنھما بیان کرتی ہیں: ”جس رات میری رخصتی ہوئی اس کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے بستر پر بیٹھ گئے، جہاں تم بیٹھے ہو اور کچھ چھوٹی لڑکیاں دف بجا کر اپنے آباء کے متعلق شعر پڑھ رہی تھیں جو بدر میں شہید ہوئے، یہاں تک کہ ایک لڑکی نے کہا: [ وَفِيْنَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ ] ”اور ہم میں وہ نبی ہے جو کل ہونے والی بات جانتا ہے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ تَقُوْلِيْ هٰكَذَا، وَقُوْلِيْ مَا كُنْتِ تَقُوْلِيْنَ ] ”اس طرح مت کہو اور وہ کہتی جاؤ جو کہہ رہی تھی۔“ [ بخاري، المغازي، باب: ۴۰۰۱ ] ➎ { وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ:} یعنی کوئی انسان نہیں جانتا کہ اسے موت کہاں آئے گی، خشکی پر یا سمندر میں یا پہاڑ پر۔ جب اسے اپنی موت کی جگہ کا علم نہیں تو وقت کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضٍ أَوْثَبَتْهُ إِلَيْهَا الْحَاجَةُ، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصٰی أَثَرِهِ، قَبَضَهُ اللّٰهُ سُبْحَانَهُ، فَتَقُوْلُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَبِّ! هٰذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِيْ ] [ ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الموت والاستعداد: ۴۲۶۳، وقال البوصیري و الألباني صحیح ] ”جب تم میں سے کسی شخص کی موت کسی زمین میں طے ہو، تو کوئی ضرورت اسے چھلانگ لگوا کر وہاں پہنچا دیتی ہے۔ پھر جب وہ اس جگہ پہنچتا ہے جہاں اس کے قدم کا آخری نشان ہوتا ہے، تو اللہ سبحانہ اسے قبض کر لیتے ہیں۔ چنانچہ زمین قیامت کے دن کہے گی: ”اے میرے رب! یہ ہے وہ امانت جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“ ➏ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ان پانچ چیزوں کے ساتھ ہی خاص نہیں، بلکہ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اور ان کے ظاہر و باطن کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔