بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ لقمان — Surah Luqman
آیت نمبر 31
کل آیات: 34
قرآن کریم لقمان آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ لقمان islamicurdubooks.com ↗
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ الۡفُلۡکَ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمۡ مِّنۡ اٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۳۱﴾
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے؟ در حقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو
کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ دریا میں کشتیاں اللہ کے فضل سے چل رہی ہیں اس لئے کہ وه تمہیں اپنی نشانیاں دکھاوے، یقیناً اس میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والے کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں
کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے تاکہ تمہیں وہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ محض اللہ کے فضل سے سمندر میں کشتی چلتی ہے۔ تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر بہت صبر و شکر کرنے والے کیلئے۔
کیا تونے نہیں دیکھا کہ کشتیاں سمندر میں اللہ کی نعمت سے چلتی ہیں، تاکہ وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بے شک اس میں ہر بڑے صابر، بڑے شاکر کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭

اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہے اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» ۱؎ ‏‏‏‏ [17-الإسراء:67] ‏‏‏‏، ’ دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو ‘۔ اور آیت میں ہے «افَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:65] ‏‏‏‏ ’ ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کر دیا تو تھوڑے سے کافر ہو جاتے ہیں ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-سورةالعنكبوت:65] ‏‏‏‏ لفظی معنی یہ ہیں کہ ’ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ‘ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:32] ‏‏‏‏، ’ ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہئیے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔ «خَتَّار» کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ «خَتْرِ» کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ «كَفُورٌ» کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہو جائے، شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔

📖 احسن البیان

31-1یعنی سمندر میں کشتیوں کا چلنا، یہ بھی اس کے لطف و کرم کا ایک مظہر اور اس کی قدرت تسخیر کا ایک نمونہ ہے، اس نے ہوا اور پانی کو ایسے مناسب انداز سے رکھا کہ سمندر کی سطح پر کشتیاں چل سکیں، ورنہ وہ چاہے تو ہوا کی تندی اور موجوں کی طغیانی سے کشتیوں کا چلنا ناممکن ہوجائے۔ 31-2تکلیفوں میں صبر کرنے والے، راحت اور خوشی میں اللہ کا شکر کرنے والے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31) ➊ {اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ …:} اس سے پہلے اللہ نے{” اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ “} میں اور{” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ …“} میں اپنی بعض نعمتوں کی طرف توجہ دلائی، اب {” اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ “} میں سمندر میں چلنے والے جہازوں کی نعمت کی طرف متوجہ فرمایا۔ یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کشتیاں اور بحری جہاز سمندر میں محض اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے احسان کی بدولت چل رہے ہیں؟ کیونکہ اگر اس کا احسان نہ ہو تو پانی جو ایک سوئی نہیں اٹھاتا بلکہ غرق کر دیتا ہے، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور اونچے جہازوں کو اپنے سینے پر نہ اٹھائے رکھے۔ یہ اسی کا احسان ہے کہ اس نے پانی میں یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ ایک خاص حجم کی چیز کو نیچے نہیں جانے دیتا، کیونکہ پانی میں ہرچیز کا وزن ہوا میں وزن کی نسبت کم ہوتا ہے اور یہ کمی کسی چیز کے حجم کے برابر پانی کے حجم کے برابر ہوتی ہے۔ (تیسیرالقرآن) اگر اللہ تعالیٰ پانی کو اس طرح پیدا نہ فرماتا، پھر انسان کو پانی کی اس خاصیت کا علم عطا نہ فرماتا اور اس کے جد امجد نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا طریقہ نہ سکھاتا تو وہ کبھی اس میں کشتیاں یا جہاز نہ چلا سکتا اور نہ ہی اتنی وزنی چیزیں نہایت آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتا، جو خشکی کے راستے منتقل کرنا اس کے لیے بے حد مشکل تھا۔(دیکھیے یٰس: ۴۱ تا ۴۴) پھر سمندر میں آندھیاں، طوفان اور تلاطم خیز موجیں انسان کو آنکھ جھپکنے میں ہلاکت سے دو چار کر سکتی ہیں اور سمندر میں اتنی عظیم الجثہ مخلوق موجود ہے جو ایک ہی ٹکر میں کشتیوں اور جہازوں کو ڈبو سکتی ہیں۔ پھر سمندر کے اندر پہاڑ ہیں جن سے ٹکرا کر جہاز پاش پاش ہو جاتے ہیں اور مقناطیسی چٹانیں ہیں جو انسان کی ساری کوششوں کے باوجود جہازوں کو کھینچ کر غرقاب کر دیتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص مہربانی ہوتی ہے کہ انسان اکثر اوقات سمندری سفر خیروعافیت سے طے کر لیتا ہے۔ ➋ { لِيُرِيَكُمْ مِّنْ اٰيٰتِهٖ:} یعنی ایسی نشانیاں جن سے پتا چلتا ہے کہ سارے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کیسے ہی مضبوط اور بحری سفر کے لیے موزوں جہاز بنالے اور جہاز رانی کے فن میں کتنا ہی کمال حاصل کر لے، سمندر میں پیش آنے والی ہولناک طاقتوں کے مقابلے میں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہو وہ اکیلا اپنی تدابیر کے بل بوتے پر بخیریت سفر نہیں کر سکتا۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی عظیم اور واضح نشانیوں کے باوجود مشرک ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ فرمایا، ان نشانیوں سے توحید کا سبق ہمیشہ وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جن میں دو وصف ہوں، ایک یہ کہ وہ {” صَبَّارٍ “} (بہت بڑے صبر والے) ہوں، ان کے مزاج میں تلوّن نہ ہو، بلکہ ثابت قدمی ہو، گوارا و ناگوار، سخت اور نرم، اچھے اور برے تمام حالات میں صحیح عقیدے پر قائم رہیں۔ یہ نہیں کہ برا وقت آیا تو اللہ کے سامنے گڑگڑانے لگے اور اچھا وقت آنے پر سب کچھ بھول گئے، یا اس کے برعکس اچھے حالات میں تو اللہ تعالیٰ پر خوش رہے اور اس کی پرستش کرتے رہے اور مصیبت کی ایک چوٹ پڑتے ہی اسے گالیاں دینے لگے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ {” شَكُوْرٍ “} (بہت بڑے شکر کرنے والے) ہوں، نمک حرام اور احسان فراموش نہ ہوں، بلکہ ہمیشہ نعمت دینے والے کے لیے دل میں احسان مندی اور قدردانی کا جذبہ رکھیں اور اپنے قول و عمل سے اس کا شکر ادا کرتے رہیں۔ یہ دونوں وصف صرف مومن میں پائے جاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ ] [ مسلم، الزھد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹، عن صہیب رضی اللہ عنہ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچے، وہ شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہوتی ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے۔“
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →