بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ لقمان — Surah Luqman
آیت نمبر 22
کل آیات: 34
قرآن کریم لقمان آیت 22
آیت نمبر: 22 — سورۃ لقمان islamicurdubooks.com ↗
وَ مَنۡ یُّسۡلِمۡ وَجۡہَہٗۤ اِلَی اللّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۲۲﴾
جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کر دے اور عملاً وہ نیک ہو، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا، اور سارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے
اور جو (شخص) اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی وه نیکو کار یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا، تمام کاموں کا انجام اللہ کی طرف ہے
تو جو اپنا منہ اللہ کی طرف جھکادے اور ہو نیکوکار تو بیشک اس نے مضبوط گرہ تھامی، اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کاموں کی انتہا،
اور جو کوئی اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے (اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے) درآنحالیکہ وہ نیکوکار بھی ہو تو اس نے مضبوط راستہ (سہارا) پکڑ لیا ان (سب) نے ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو یقینا اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح پکڑ لیا اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انعام و اکرام کی بارش ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ’ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں ‘۔ پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔

اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔

📖 احسن البیان

22-1یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے عمل کرے اس کے حکم کی اطاعت اور اس کی شریعت کی پیروی کرے۔ 22-2یعنی ما مور بہ چیزوں کا اتباع اور منہیات کو ترک کرنے والا۔ 22-3یعنی اللہ سے اس نے مضبوط عہد لے لیا کہ وہ اس کو عذاب نہیں کرے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 22) ➊ { وَ مَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ …:} اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں۔ اب ان کے مقابلے میں اس شخص کا ذکر ہے جو اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کے سپرد اور اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اپنا ہر عمل صرف اس کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ جو وہ کہے کرتا ہے، جس سے روک دے رک جاتا ہے۔ نہ اپنی خواہش پر چلتا ہے نہ کسی دوست یا رشتہ دار کے پیچھے چلتا ہے اور نہ آبا و اجداد میں سے کسی کی راہ و رسم اختیار کرتا ہے۔ اس کی نماز، قربانی، زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَ نُسُكِيْ وَ مَحْيَايَ وَ مَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۱۶۲ ] ”کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔“ آیت میں چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کا ذکر ہے، مراد پورے وجود کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ کیونکہ چہرہ جسم کا سب سے باشرف حصہ ہے، اس کے تابع ہونے سے پورا وجود تابع ہو جاتا ہے۔ ➋ { وَ هُوَ مُحْسِنٌ:} اور وہ اپنا ہر عمل اس طرح کرتا ہے گویا وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ سو اگر وہ اسے نہیں دیکھتا تو اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے اور وہ ہر عمل میں اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتا ہے۔ ➌ { فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى: ”أَمْسَكَ يُمْسِكُ إِمْسَاكًا“} تھامنا، پکڑنا۔ {” اسْتَمْسَكَ “} میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی ”اچھی طرح پکڑ لیا۔“ {”اَلْعُرْوَةُ“} کڑا یا حلقہ یا رسی کا کنارا جسے لٹکتے ہوئے گرنے سے بچنے کے لیے پکڑ لیا جائے اور {” الْوُثْقٰى”أَوْثَقُ“} کا مؤنث ہے ”سب سے مضبوط۔“ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینے والا یہ وہ شخص ہے جس نے اسلام کی رسی کے مضبوط حلقے کو اچھی طرح تھام لیا ہے۔ اسے بلندی سے پستی میں یا جہنم میں گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اسی حلقے کو تھامے ہوئے آخرکار وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا اور اس کی جنت کا وارث بن جائے گا۔ بخلاف ان لوگوں کے جو کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک گرنے والے کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی ہے، جو انھیں لے کر جہنم کی آگ میں گرنے والا ہے۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۰۹)۔ ➍ { وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ:اِلَى اللّٰهِ “} کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا کہ تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، کسی اور کی طرف نہیں، وہی ہر کام کی جزا دے گا۔
← پچھلی آیت (21) پوری سورۃ اگلی آیت (23) →