بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ لقمان — Surah Luqman
آیت نمبر 23
کل آیات: 34
قرآن کریم لقمان آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ لقمان islamicurdubooks.com ↗
وَ مَنۡ کَفَرَ فَلَا یَحۡزُنۡکَ کُفۡرُہٗ ؕ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ فَنُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۳﴾
اب جو کفر کرتا ہے اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے، انہیں پلٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں یقیناً اللہ سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے
کافروں کے کفر سے آپ رنجیده نہ ہوں، آخر ان سب کو لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے
اور جو کفر کرے تو تم اس کے کفر سے غم نہ کھاؤ، انھیں ہماری ہی طرف پھرنا ہے ہم انہیں بتادیں گے جو کرتے تھے بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
اور جو کوئی کفر اختیار کرے تو (اے رسول(ص)) اس کا کفر آپ کو غمگین نہ کرے۔ پس (اس وقت) ہم انہیں بتائیں گے کہ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ بے شک اللہ سینوں کے اندر کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
اور جس نے کفر کیا تو اس کا کفر تجھے غم میں نہ ڈالے، ہماری ہی طرف ان کا لوٹ کر آنا ہے، پھر ہم انھیں بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا۔ بے شک اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مضبوط دستاویز ٭٭

فرماتا ہے کہ ’ جو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرے جو اللہ کا سچا فرمانبردار بن جائے جو شریعت کا تابعدار ہو جائے اللہ کے حکموں پر عمل کرے اللہ کے منع کردہ کاموں سے باز آ جائے اس نے مضبوط دستاویز حاصل کرلی گویا اللہ کا وعدہ لے لیا کہ عذابوں میں وہ نجات یافتہ ہے ‘۔ ’ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ اے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کفر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین نہ ہوں۔ اللہ کی تحریر یونہی جاری ہو چکی ہے سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے۔ اس وقت اعمال کے بدلے ملیں گے اس اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ دنیا میں مزے کر لیں پھر تو ان عذابوں کو بے بسی سے برداشت کرنا پڑے گا جو بہت سخت اور نہایت گھبراہٹ والے ہیں ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ» الخ ۱؎ ‏‏‏‏ [10-یونس:70-69] ‏‏‏‏ ’ اللہ پر جھوٹ افترا کرنے والے فلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دنیا کا فائدہ تو خیر الگ چیز ہے لیکن ہمارے ہاں (‏‏‏‏موت کے بعد)‏‏‏‏‏‏‏‏ آنے کے بعد تو اپنے کفر کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی ‘۔

📖 احسن البیان

23-1اس لئے کہ ایمان کی سعادت ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ آپ کی کوشش اپنی جگہ بجا اور آپ کی خواہش بھی قابل قدر لیکن اللہ کی تقدیر اور مشیت سب پر غالب ہے۔ 23-2یعنی ان کے عملوں کی جزا دے گا۔ 23-3پس اس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ { وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد اسلام کے ہر داعی کو تسلی دی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت اور پیغام پہنچنے کے باوجود کفر پر اصرار کرتا ہے، آپ اس کے کفر کی وجہ سے غم زدہ نہ ہوں، آپ کا کام پیغام پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب انھوں نے ہمارے پاس واپس آنا ہے تو ہم انھیں وہ سب کچھ بتائیں گے جو انھوں نے کیا۔ اس میں کفار کے لیے زبردست وعید ہے۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} کفار کا کفر کچھ علانیہ تھا کچھ دلوں میں پوشیدہ تھا، فرمایا، اللہ تعالیٰ کو سینوں کی بات کا پوری طرح علم ہے، وہ ان کی بھی جزا دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا ہے مگر دل میں کفر رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی خوب علم ہے، وہ خود ہی اس سے نمٹ لے گا۔
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →