بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ لقمان — Surah Luqman
آیت نمبر 25
کل آیات: 34
قرآن کریم لقمان آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ لقمان islamicurdubooks.com ↗
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾
اگر تم اِن سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے، تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے کہو الحمدللہ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ، تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے ﻻئق اللہ ہی ہے، لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں،
(اے رسول(ص)) اگر آپ ان (مشرکین) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ (جواب میں) ضرور کہیں گے کہ اللہ نے! آپ کہئے! الحمدﷲ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
اوربلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حاکم اعلی وہ اللہ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ان کی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے ‘۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بے علم ہوتے ہیں، زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔

📖 احسن البیان

25-1یعنی ان کو اعتراف ہے کہ آسمانوں و زمین کا خالق اللہ ہے نہ کہ وہ معبود جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ 25-2اس لئے کہ ان کے اعتراف سے ان پر حجت قائم ہوگئی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …:} اس سے پہلے مشرکین کے اللہ تعالیٰ کے متعلق مجادلہ کا ذکر فرمایا، اب ان کے مسکت جواب کا ذکر ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پید اکیا ہے، تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ اب اس اقرار کے بعد ان کے پاس جھگڑنے کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ {”أَلْمَرْءُ يُؤْخَذُ بِإِقْرَارِهِ“} ”آدمی اپنے اقرار کے ساتھ پکڑا جاتا ہے۔“ ➋ {قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ:} آپ فرمائیں کہ جب تم نے مان لیا کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، جس میں تمھارے بنائے معبود بھی شامل ہیں، تو تمام حمد اور ہر خوبی کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ٹھہرا، پھر تم ہر خوبی کے مالک کو چھوڑ کر اس کی عبادت کیوں کرتے ہو جس میں اپنی کوئی خوبی ہے ہی نہیں؟ ➌ {بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یا جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کا مطلب اور نتیجہ کیا ہے، مثلاً جب انھوں نے اعتراف کر لیا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، تو پھر انھیں لازماً ماننا ہوگا کہ مالک بھی وہی ہے، رب بھی وہی ہے، حاکم اور شارع بھی وہی ہے، عبادت اور بندگی کا حق دار بھی وہی ہے، دعا اور فریاد بھی اسی سے کرنی چاہیے۔ یہ علم و عقل سے کتنی بعید بات اور کتنا بڑا تناقض ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو اور معبود اس کی مخلوق میں سے کسی کو بنا لیا جائے۔ ➍ یہ جو فرمایا کہ ”ان کے اکثر نہیں جانتے“ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین میں سے کچھ ایسے بھی تھے اور ہوتے ہیں کہ بات واضح ہونے پر سمجھ لیتے اور مان جاتے ہیں۔ ان کا ذکر آگے {” فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ “} میں آ رہا ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو جانتے ہیں مگر ضد اور عناد کی وجہ سے مانتے نہیں۔
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →