بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ لقمان — Surah Luqman
آیت نمبر 9
کل آیات: 34
قرآن کریم لقمان آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ لقمان islamicurdubooks.com ↗
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۹﴾
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے
جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعده ہے، وه بہت بڑی عزت وغلبہ واﻻ اور کامل حکمت واﻻ ہے
ہمیشہ ان میں رہیں گے، اللہ کا وعدہ ہے سچا، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا (اور پکا) وعدہ ہے۔ وہ بڑا غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
ہمیشہ ان میں رہنے والے۔ اللہ کا وعدہ ہے سچا اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالٰی کے وعدے ٹلتے نہیں ٭٭

نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ جو اللہ پر ایمان لائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں، لذیذ غذائیں، بہترین پوشاکیں، عمدہ عمدہ سواریاں، پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور ان کی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں ‘۔ یہ حتماً اور یقیناً ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرما چکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے، منان ہے، محسن ہے، منعم ہے، جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہرچیز پر قادر ہے، عزیز ہے، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، حکیم ہے، کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔ «قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ‌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ’ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لیے ہادی اور شافی بنایا ہاں بے ایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔ ۱؎ [41-فصلت:44] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82] ‏‏‏‏ یعنی ’ جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

9-1یعنی یہ یقینا پورا ہوگا، اس لئے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ وَاللّٰہُ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ { خٰلِدِيْنَ فِيْهَا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ کہف (۱۰۷، ۱۰۸)۔ ➋ { وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا:} جنت کے وعدے کی ضمانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ذکر فرمایا کہ یہ کسی اَیرے غیرے کا وعدہ نہیں، بلکہ ساری کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ {” حَقًّا “} کے ساتھ مزید یقین دلایا ہو کہ وعدہ بھی ایسا ہے جو بالکل سچا ہے، جس سے زیادہ سچا کوئی وعدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ➌ {وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} اس میں مزید یقین دہانی ہے کہ یہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی قوت اسے وعدہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتی اور وہ کمال حکمت والا ہے۔ اس نے یہ وعدہ اندھا دھند اور بے موقع نہیں فرمایا، بلکہ حکمت کے مطابق فرمایا ہے۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →