بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الدخان
سورۃ الدخان — 59 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 44
حٰمٓ ﴿ۚۛ۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ح م
مولانا محمد جوناگڑھی
حٰم
احمد رضا خان بریلوی
حٰمٓ
علامہ محمد حسین نجفی
حا۔ میم۔
عبدالسلام بن محمد
حم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
تفسیر احسن البیان
(آیت 1تا3) ➊ {حٰمٓ (1) وَ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ (2) اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ:} اللہ تعالیٰ نے اس کتابِ مبین کی قسم کھا کر فرمایا کہ یقینا ہم نے ہی اسے نازل فرمایا ہے۔ یعنی یہ کتابِ مبین خود اس بات کی شاہد ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور کی تصنیف نہیں، بلکہ اسے ہم نے ہی نازل کیا ہے۔ اگر کوئی اسے مخلوق کی تصنیف کہتا ہے تو وہ اس کی ایک سورت کی مثل ہی تصنیف کرکے لے آئے۔ ➋ { فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ:} کتاب کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رات بڑی خیر و برکت والی ہے جس میں ہم نے اسے نازل فرمایا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرما دیا کہ وہ مبارک رات لیلۃ القدر ہے، جیسا کہ سورۂ قدر میں ہے: «‏‏‏‏اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» [ القدر: ۱ ] ”بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔“ اور وہ ماہِ رمضان میں ہے، جیسا کہ فرمایا: «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۸۵ ] ” رمضان کا مہینا وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔“ کتاب اتارنے سے مراد اتارنے کی ابتدا ہے جو غارِ حرا میں ماہ رمضان کی اس مبارک رات میں ہوئی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ رات نصف شعبان کی رات ہے، مگر یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ یہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے۔ قاضی ابوبکر بن العربی نے ”احکام القرآن“ میں لکھا ہے کہ نصف شعبان کی رات سے متعلق کوئی روایت قابل اعتماد نہیں، نہ اس کی فضیلت کے بارے میں اور نہ اس بارے میں کہ اس رات قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مفسر شنقیطی نے فرمایا: ”ابن العربی کے علاوہ دوسرے محققین کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ ایسی روایات کی کوئی بنیاد نہیں، نہ ان میں سے کسی کی سند صحیح ہے۔“ ➌ {” لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ “} کی برکات کی تفصیل سورۂ قدر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➍ {اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ:} یعنی ہم نے یہ کتاب اس لیے نازل کی کہ بندوں کو اچھے اور برے کاموں سے آگاہ کر دیا جائے اور نافرمانی کی صورت میں انھیں ان کے انجامِ بد سے ڈرا دیا جائے، تاکہ ان کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمیں خبردار نہیں کیا گیا۔ یہاں صرف ڈرانے کا ذکر فرمایا بشارت کا نہیں، کیونکہ اکثر لوگوں کے حسبِ حال یہی ہوتا ہے۔ ویسے ڈرانے کے ضمن میں بشارت بھی ہوتی ہے، اس شخص کے لیے جو ڈر جائے۔
وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے اِس کتاب مبین کی
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی
احمد رضا خان بریلوی
قسم اس روشن کتاب کی
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے اس کتابِ مبین کی۔
عبدالسلام بن محمد
اس بیان کرنے والی کتاب کی قسم!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈرانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے اس (کتاب) کو ایک بابرکت رات (شبِ قدر) میں نازل کیا ہے بےشک ہم (عذاب سے) ڈرانے والے رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے اسے ایک بہت برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈرانے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
3۔ 1 بابرکت رات (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ) سے مراد شب قدر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر صراحت ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) 2۔ البقرۃ:185) رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا، یہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں سے ہی کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ یہاں قدر کی رات اس رات کو بابرکت رات قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بابرکت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا دوسرے، اس میں فرشتوں اور روح الامین کا نزول ہوتا ہے تیسرے اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے (جیسا کہ آگے آرہا ہے) چوتھے اس رات کی عبادت ہزار مہینے (83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے شب قدر یا لیلہ مبارکہ میں قرآن کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ اسی رات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ یعنی پہلے پہل اس رات آپ پر قرآن نازل ہوا، یا یہ مطلب ہے لوح محفوظ سے اسی رات قرآن بیت العزت میں اتارا گیا جو آ ّسمان دنیا پر ہے۔ پھر وہاں سے ضرورت و مصلحت 33 سالوں تک مختلف اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا رہا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام
علامہ محمد حسین نجفی
اس(رات) میں ہر حکمت والے معاملہ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4) {فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ: ”فَرْقٌ“} کا معنی فیصلہ ہے، اسی لیے قرآن کو {”فرقان“} کہا جاتا ہے۔ {” حَكِيْمٍ “} کے مفہوم میں دو باتیں شامل ہیں، ایک یہ کہ وہ حکم حکمت اور دانائی پر مبنی ہوتا ہے، اس میں کسی غلطی یا خامی کا امکان نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ وہ حکم محکم اور پختہ ہوتا ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ یعنی ہم نے اسے خاص طور پر اس بابرکت رات میں اس لیے نازل کیا کہ یہ قرآن ایک امرِ حکیم ہے اور اسی رات میں ہر امرِ حکیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سورۂ قدر میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: «تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ» [ القدر: ۴ ] ”اس میں فرشتے اور روح (جبریل امین) اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ آئندہ سال سے متعلق افراد و اقوام کی قسمتوں کے تمام فیصلے فرشتوں کے حوالے کر دیتے ہیں، مثلاً زندگی، موت، بیماری، رزق، عروج و زوال اور ہدایت و گمراہی وغیرہ، پھر وہ ان پر عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ إِنَّكَ لَتَرَی الرَّجُلَ يَمْشِيْ فِي الْأَسْوَاقِ، وَقَدْ وَقَعَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتٰی، ثُمَّ قَرَأَ: «اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ (3) فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ» [الدخان: ۳، ۴] يَعْنِيْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَفِيْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلٰی مِثْلِهَا مِنْ قَابِلٍ ] [ مستدرک حاکم، تفسیر سورۃ الدخان: 448/2، ح: ۳۶۷۸ ] ”تم آدمی کو بازاروں میں چلتا پھرتا دیکھتے ہو، حالانکہ اس کا نام مُردوں میں درج ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ (3) فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ» ‏‏‏‏ کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، اس رات میں دنیا کے معاملات کا آئندہ سال کی اسی رات تک فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔“ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا اور بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں اسے حاکم سے روایت کیا ہے اور اس کے محقق نے کہا کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں۔
اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ اِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ ۚ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہمارے پاس سے حکم ہوکر، ہم ہی ہیں رسول بناکر بھیجنے والے
احمد رضا خان بریلوی
ہمارے پاس کے حکم سے، بیشک ہم بھیجنے والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہمارے(خاص) حکم سے بےشک ہم ہی (ہر کتاب اور رسول(ع) کے) بھیجنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ہماری طرف سے حکم کی وجہ سے۔ بے شک ہم ہی بھیجنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
5۔ 1 یعنی سارے فیصلے ہمارے حکم و اذن اور ہماری تقدیر و مشیت سے ہوتے ہیں۔
(آیت 5) ➊ { اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا:} یعنی یہ سارے فیصلے ہمارے حکم سے ہوتے ہیں۔ مراد ان فیصلوں کی اہمیت اور عظمت پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کسی معمولی ہستی کے نہیں ہوتے، بلکہ کائنات کے مالک کی طرف سے صادر ہوتے ہیں۔ ➋ { اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ:} یعنی ہم یہ کتاب نازل کرتے وقت رسول کو بھیجنے والے تھے۔
رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تیرے رب کی رحمت کے طور پر یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کے رب کی مہربانی سے۔ وه ہی ہے سننے واﻻ جاننے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے رب کی طرف سے رحمت، بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
خاص تمہارے پروردگار کی رحمت سے یقیناً وہ بڑا سننے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تیرے رب کی رحمت کے باعث، یقینا وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
6۔ 1 یعنی انزال کتب کے ساتھ (رسولوں کا بھیجنا) یہ بھی ہماری رحمت ہی کا ایک حصہ ہے تاکہ وہ ہماری نازل کردہ کتابوں کو کھول کر بیان کریں اور ہمارے احکام لوگوں تک پہنچائیں۔ اس طرح مادی ضرورتوں کی فراہمی کے ساتھ ہم نے اپنی رحمت سے لوگوں کے روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی سامان مہیا کردیا۔
(آیت 6) ➊ {رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ:} یہ{” مُرْسِلِيْنَ “} کا مفعول لہ ہے۔ یعنی ہم تیرے رب کی رحمت کی وجہ سے رسول کو بھیجنے والے اور کتاب کو نازل کرنے والے تھے۔ ”اپنی رحمت“ کے بجائے ”تیرے رب کی رحمت“ کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کے اظہار کے لیے ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا نہیں بلکہ کل کائنات کا رب ہے، جیسا کہ آگے یہ بات آ بھی رہی ہے: «‏‏‏‏رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ» ‏‏‏‏ ”آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہیں، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔“ {” رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ “} میں لفظ {”رَبٌّ“} کا مطلب یہ ہے کہ بندوں پر یہ رحمت ہمارے رب ہونے کا تقاضا ہے، کیونکہ {”رَبٌّ“} کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے جسم کی پرورش کا انتظام کیا جائے اور ان کی روحانی پرورش کا انتظام نہ کیا جائے، بلکہ انھیں گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیا جائے۔ ➋ { اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ: ”إِنَّ“} پہلے جملے کی علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، یعنی ہم نے رسول اس لیے بھیجا کہ تیرا رب خوب سننے اور جاننے والا تھا کہ کس طرح مشرکین بتوں اور باطل معبودوں کی پرستش کر رہے ہیں، کفر کے امام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور طاقتور کمزوروں پر ظلم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کے تمام اقوال و افعال اور نیتوں کو جانتا تھا اور سن رہا تھا، اس لیے اس نے ان کی اصلاح کے لیے رسولوں کو بھیجا۔
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۘ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اُس چیز کا رب جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جو رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اگر تمہیں یقین ہو
علامہ محمد حسین نجفی
جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہیں، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7){ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا …:} پچھلی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب تھا۔ کفارِ مکہ یہ اقرار کرتے تھے کہ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اب ان سے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمھیں اس بات کا یقین ہے کہ کائنات میں موجود ساری مخلوق کی ربوبیت اور پرورش کی ذمہ دار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو پھر تمھیں یہ بھی یقین کر لینا چاہیے کہ یہ رسول فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی نے تمھاری ہدایت کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ وہ صرف تمھاری جسمانی پرورش ہی کا ذمہ دار نہیں بلکہ تمھاری روحانی پرورش اور تمھیں سیدھا راستہ بتانا بھی اسی کے ذمے ہے۔
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ رَبُّکُمۡ وَ رَبُّ اٰبَآئِکُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کوئی معبود اُس کے سوا نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تمہارا رب اور تمہارے اُن اسلاف کا رب جو پہلے گزر چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کوئی معبود نہیں اس کے سوا وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا
احمد رضا خان بریلوی
اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جِلائے اور مارے، تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے سوا کوئی الٰہ (خدا) نہیں ہے وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا بھی پروردگار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 8) ➊ {لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} یہ پچھلی آیت کا نتیجہ ہے کہ جب آسمان و زمین اور ساری کائنات کا مالک اور رب اللہ تعالیٰ ہے تو پھر معبود بھی وہی ہے۔ ➋ { يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ:} یہ دونوں جملے اللہ تعالیٰ کے معبود واحد ہونے کی مزید تاکید کے لیے بیان فرمائے کہ معبود اسی کو مانو جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور جو تمھارا اور تمھارے پہلے آباء کا رب ہے۔
بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے) بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ وه شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ لوگ تو شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دھواں ہی دھواں اور کفار ٭٭

فرماتا ہے کہ حق آ چکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہو جائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ لیٹے لیٹے بیتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بد دعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آ پڑے۔ چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31043] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام [صحیح بخاری:2798] ‏‏‏‏ یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لیے دل میں آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ [ 44- الدخان: 10 ] ‏‏‏‏ چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا [ دخ ] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ [صحیح بخاری:1354] ‏‏‏‏ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابة الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن رحمہ اللہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے حضرت ابن ابی ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور [ حبرالامتہ ] ‏‏‏‏ ترجمان القرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعینرحمہ اللہ علیہم بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہو جاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت «دخان مبین» ‏‏‏‏ کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» ‏‏‏‏ [ 52- الطور: 14-13 ] ‏‏‏‏، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [ 6- الانعام: 27 ] ‏‏‏‏، یعنی کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے۔
9۔ 1 یعنی حق اور اس کے دلائل کے سامنے آگئے۔ لیکن وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے شک میں مبتلا ہیں اور اس شک کے ساتھ استہزاء اور کھیل کود میں پڑے ہیں۔
(آیت 9) {بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ:} اس مختصر سے فقرے میں ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دہریے ہوں یا مشرکین، ان سب پر وقتاً فوقتاً ایسی ساعتیں آتی رہتی ہیں جب ان کا دل اندر سے کہتا ہے کہ جو کچھ تم سمجھے بیٹھے ہو اس میں کہیں نہ کہیں جھول موجود ہے۔ دہریہ اپنے انکارِ خدا میں بظاہر کتنا ہی سخت ہو، کسی نہ کسی وقت اس کا دل یہ شہادت دے گزرتا ہے کہ خاک کے ایک ذرے سے لے کر کہکشاؤں تک اور گھاس کی ایک پتی سے لے کر انسان کی تخلیق تک، یہ حیرت انگیز اور حکمت سے لبریز نظام کسی صانع حکیم کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ اسی طرح ایک مشرک انسان اپنے شرک میں خواہ کتنا ہی گہرا ڈوبا ہوا ہو، کبھی نہ کبھی اس کا دل بھی پکار اٹھتا ہے کہ جنھیں میں معبود بنائے بیٹھا ہوں یہ خدا نہیں ہو سکتے۔ لیکن اس قلبی شہادت کا نتیجہ نہ تو یہ ہوتا ہے کہ انھیں خدا کے وجود اور اس کی توحید کا یقین حاصل ہو جائے اور نہ یہی ہوتا ہے کہ انھیں اپنے شرک اور اپنی دہریت میں کامل یقین اور اطمینان حاصل رہے۔ اس کے بجائے اس کا دین درحقیقت شک پر قائم ہوتا ہے، خواہ اس میں یقین کی کتنی ہی شدت وہ دکھا رہے ہوں۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر وہ سنجیدگی کے ساتھ حقیقت کی جستجو کیوں نہیں کرتے کہ شک کی بے چینی سے نکل کر یقین و اطمینان کے سکون سے بہرہ ور ہو سکیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کے معاملے میں سنجیدگی ہی سے تو وہ محروم ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں اصل اہمیت صرف دنیا کی کمائی اور اس کے عیش کی ہوتی ہے، جس کی فکر میں وہ اپنے دل و دماغ اور جسم کی ساری طاقتیں خرچ کر ڈالتے ہیں۔ رہے دین کے مسائل، تو وہ حقیقت میں ان کے لیے ایک کھیل، ایک تفریح اور ایک ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں ہوتے، جن پر وہ سنجیدگی کے ساتھ چند لمحے بھی صرف نہیں کر سکتے۔ مذہبی مراسم ہیں تو تفریح کے طور پر ادا کیے جا رہے ہیں، انکار و دہریت کی بحثیں ہیں تو تفریح کے طور پر کی جا رہی ہیں۔ دنیا کے مشاغل سے اتنی فرصت کسے ہے کہ بیٹھ کر یہ سوچے کہ کہیں ہم حق سے منحرف تو نہیں ہیں اور اگر حق سے منحرف ہیں تو اس کا انجام کیا ہے۔ (تفہیم القرآن بادنیٰ تصرف)
فَارۡتَقِبۡ یَوۡمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک کھلے ہوئے دھویں کے ساتھ آئے گا۔
عبدالسلام بن محمد
سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دھواں ہی دھواں اور کفار ٭٭

فرماتا ہے کہ حق آ چکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہو جائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ لیٹے لیٹے بیتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بد دعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آ پڑے۔ چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31043] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام [صحیح بخاری:2798] ‏‏‏‏ یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لیے دل میں آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ [ 44- الدخان: 10 ] ‏‏‏‏ چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا [ دخ ] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ [صحیح بخاری:1354] ‏‏‏‏ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابة الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن رحمہ اللہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے حضرت ابن ابی ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور [ حبرالامتہ ] ‏‏‏‏ ترجمان القرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعینرحمہ اللہ علیہم بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہو جاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت «دخان مبین» ‏‏‏‏ کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» ‏‏‏‏ [ 52- الطور: 14-13 ] ‏‏‏‏، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [ 6- الانعام: 27 ] ‏‏‏‏، یعنی کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے۔
10۔ 1 یہ کافروں کے لئے تہدید ہے کہ اچھا آپ اس دن کا انتظار فرمائیں جب آسمان پر دھوئیں کا ظہور ہوگا۔
(آیت 11،10) {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان نہ ہوں، بلکہ اس دن کا انتظار کریں جس میں آسمان کی جانب سے ایک واضح دھواں ان لوگوں کو ڈھانپ لے گا جو نہایت تکلیف دہ عذاب ہو گا۔ واضح ہونے اور ڈھانپ لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خیالی دھواں نہیں ہو گا بلکہ حقیقی ہو گا اور سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ {” يَوْمَ “} سے مراد وہ وقت ہے جس میں دھواں رہا، کیونکہ وہ دھواں ایک دن تو نہیں رہا، بلکہ کئی دن اور مہینے رہا۔ اس دھویں سے کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے اس سے قیامت کے دن کا دھواں مراد نہیں ہو سکتا، کیونکہ ان آیات میں کفار کو اسے دور کرنے کی دعا کے بعد اسے کچھ دور کرنے اور ان کے دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کا ذکر ہے، جب کہ قیامت کے دن کا عذاب کسی صورت دور ہونے والا نہیں۔ اس لیے اس سے مراد ایسا دھواں ہے جو جلد ہی دنیا میں انھیں ڈھانپنے والا ہے۔ اس دھویں کے متعلق دو قول ہیں، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہایت جزم کے ساتھ اسے اس قحط کے نتیجے میں پھیلنے والا دھواں قرار دیتے ہیں جو ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے مکہ میں واقع ہوا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: [ إِنَّمَا كَانَ هٰذَا لِأَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِيْنَ كَسِنِيْ يُوْسُفَ، فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتّٰی أَكَلُوا الْعِظَامَ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَی السَّمَاءِ فَيَرٰی مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجَهْدِ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10) يَّغْشَى النَّاسَ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ‏‏‏‏ قَالَ فَأُتِيَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اسْتَسْقِ اللّٰهَ لِمُضَرَ، فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ، قَالَ لِمُضَرَ؟ إِنَّكَ لَجَرِيْءٌ، فَاسْتَسْقٰی فَسُقُوْا فَنَزَلَتْ: «اِنَّكُمْ عَآىِٕدُوْنَ» ‏‏‏‏ فَلَمَّا أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ عَادُوْا إِلٰی حَالِهِمْ، حِيْنَ أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: «‏‏‏‏يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ» ‏‏‏‏ قَالَ يَعْنِيْ يَوْمَ بَدْرٍ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ الدخان: ۴۸۲۱ ] ”اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت سرکشی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قحط سالیوں کی بددعا کی، جیسے یوسف علیہ السلام کے قحط کے سال تھے۔ تو انھیں قحط اور بھوک نے آ لیا، حتیٰ کہ وہ ہڈیاں کھا گئے۔ آدمی آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی وجہ سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں سا نظر آتا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «‏‏‏‏فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10) يَّغْشَى النَّاسَ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [ الدخان: ۱۰،۱۱ ] ”سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہے۔“ تو ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کہا: ”یا رسول اللہ! مضر (قبیلے) کے لیے بارش کی دعا کریں، کیونکہ وہ تو ہلاک ہو گئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مضر کے لیے (وہ تو سخت کافر و مشرک ہیں)؟ تو بڑا جرأت والا ہے۔“ خیر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کر دی اور ان پر بارش ہو گئی تو یہ آیت اتری: «‏‏‏‏اِنَّكُمْ عَآىِٕدُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الدخان: ۱۵ ] ”بے شک تم دوبارہ وہی کچھ کرنے والے ہو۔“ پھر جب انھیں خوش حالی ملی تو وہ اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الدخان: ۱۶ ] ”جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے، بے شک ہم انتقام لینے والے ہیں۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس سے مراد یومِ بدر ہے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر کو امام طبری اور بہت سے مفسرین نے راجح قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق یہ عذاب گزر چکا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے قریب نکلے گا۔ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں کسی بات کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا تَذَاكَرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَ نُزُوْلَ عِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ يَأْجُوْجَ وَ مَأْجُوْجَ وَ ثَلَاثَةَ خُسُوْفٍ، خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذٰلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰی مَحْشَرِهِمْ ] [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في الآیات التي تکون قبل الساعۃ: ۲۹۰۱ ] ”تم کس بات کا ذکر کر رہے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس وقت تک قائم نہیں ہو گی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نشانیوں کا ذکر فرمایا، (جو یہ ہیں) دھواں، دجال، دابہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول، یاجوج و ماجوج، تین خسف (زمین میں دھنس جانا) ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے حشر کے مقام کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا، طُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا أَوِ الدُّخَانَ أَوِ الدَّجَّالَ أَوِ الدَّابَّةَ أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ ] [ مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب في بقیۃ من أحادیث الدجال: ۲۹۴۷ ] ”چھ چیزیں ظاہر ہونے سے پہلے اعمال میں جلدی کر لو، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا دھواں یا دجال یا دابہ یا تم میں سے کسی پر انفرادی عذاب یا سب پر اجتماعی عذاب۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس دوسرے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس دخان سے مراد قیامت کے قریب نمودار ہونے والا دھواں ہے، جس کا ابھی انتظار ہے، مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات ہی صحیح ہے، کیونکہ آیات میں اُس دھوئیں کا ذکر ہے جو تھوڑا سا دور کیا جائے گا اور اس میں کفار کے لیے ایمان لانے کا موقع ہو گا، جب کہ قیامت کے قریب والی نشانیوں کے بعد ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْۤ اِيْمَانِهَا خَيْرًا» [ الأنعام: ۱۵۸ ] ”جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔“ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بطورِ دلیل پیش فرمائی کہ بھلا قیامت کا عذاب بھی دور ہو سکتا ہے!؟
یَّغۡشَی النَّاسَ ؕ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے درد ناک سزا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگوں کو گھیر لے گا، یہ دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے دردناک عذاب،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ ایک دردناک عذاب ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دھواں ہی دھواں اور کفار ٭٭

فرماتا ہے کہ حق آ چکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہو جائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ رضی اللہ عنہ لیٹے لیٹے بیتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے میں تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں چاہتا اور میں تکلف کرنے والوں میں نہیں ہوں۔ یہ بھی علم ہے کہ انسان جس چیز کو نہ جانتا ہو کہہ دے کہ اللہ جانے سنو میں تمہیں اس آیت کا صحیح مطلب سناؤں جب کہ قریشیوں نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ستانے لگے تو آپ نے ان پر بد دعا کی کہ یوسف کے زمانے جیسا قحط ان پر آ پڑے۔ چنانچہ وہ دعا قبول ہوئی اور ایسی خشک سالی آئی کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار چبانا شروع کیا۔ اور آسمان کی طرف نگاہیں ڈالتے تھے تو دھویں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31043] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ بوجہ بھوک کے ان کی آنکھوں میں چکر آنے لگے جب آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو درمیان میں ایک دھواں نظر آتا۔ اسی کا بیان ان دو آیتوں میں ہے۔ لیکن پھر اس کے بعد لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ہلاکت کی شکایت کی۔ آپ کو رحم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری تعالیٰ میں التجا کی چنانچہ بارش برسی اسی کا بیان اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ عذاب کے ہٹتے ہی پھر کفر کرنے لگیں گے۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ یہ دنیا کا عذاب ہے کیونکہ آخرت کے عذاب تو ہٹتے کھلتے اور دور ہوتے نہیں۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ پانچ چیزیں گذر چکیں۔ دخان، روم، قمر، بطشہ، اور لزام [صحیح بخاری:2798] ‏‏‏‏ یعنی آسمان سے دھوئیں کا آنا۔ رومیوں کا اپنی شکست کے بعد غلبہ پانا۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونا بدر کی لڑائی میں کفار کا پکڑا جانا اور ہارنا۔ اور چمٹ جانے والا عذاب بڑی سخت پکڑ سے مراد بدر کے دن لڑائی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت نخعی، ضحاک، عطیہ، عوفی رحمہ اللہ علیہم، وغیرہ کا ہے اور اسی کو ابن جریر بھی ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن اعرج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ کے دن ہوا۔ یہ قول بالکل غریب بلکہ منکر ہے۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں یہ گذر نہیں گیا بلکہ قرب قیامت کے آئے گا۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک دس نشانات تم نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی سورج کا مغرب سے نکلنا، دھواں، یاجوج ماجوج کا آنا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسایا جانا، آگ کا عدن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر ایکجا کرنا۔ جہاں یہ رات گذاریں گے آگ بھی گذارے گی اور جہاں یہ دوپہر کو سوئیں گے آگ بھی قیلولہ کرے گی۔ [صحیح مسلم:2901] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لیے دل میں آیت «فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ» ‏‏‏‏ [ 44- الدخان: 10 ] ‏‏‏‏ چھپا کر اس سے پوچھا کہ بتا میں نے اپنے دل میں کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا [ دخ ] ‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس برباد ہو اس سے آگے تیری نہیں چلنے کی۔ [صحیح بخاری:1354] ‏‏‏‏ اس میں بھی ایک قسم کا اشارہ ہے کہ ابھی اس کا انتظار باقی ہے اور یہ کوئی آنے والی چیز ہے چونکہ ابن صیاد بطور کاہنوں کے بعض باتیں دل کی زبان سے بتانے کا مدعی تھا اس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا اور جب وہ پورا نہ بتا سکا تو آپ نے لوگوں کو اس کی حالت سے واقف کر دیا کہ اس کے ساتھ شیطان ہے کلام صرف چرا لیتا ہے اور یہ اس سے زیادہ پر قدرت نہیں پانے کا۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے اولین نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا آنا اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا اور آگ کا بیچ عدن سے نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی قیلولے کے وقت اور رات کی نیند کے وقت بھی ان کے ساتھ رہے گی اور دھویں کا آنا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم دھواں کیسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ دھواں چالیس دن تک گھٹا رہے گا جس سے مسلمانوں کو تو مثل نزلے کے ہو جائے گا اور کافر بے ہوش و بدمست ہو جائے گا اس کے نتھنوں سے کانوں سے اور دوسری جگہ سے دھواں نکلتا رہے گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:228/11:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو پھر دخان کے معنی مقرر ہو جانے میں کوئی بات باقی نہ رہتی۔ لیکن اس کی صحت کی گواہی نہیں دی جا سکتی اس کے راوی رواد سے محمد بن خلف عسقلانی نے سوال کیا کہ کیا حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے تو نے خود یہ حدیث سنی ہے؟ اس نے انکار کیا پوچھا کیا تو نے پڑھی اور اس نے سنی ہے؟ کہا نہیں۔ پوچھا اچھا تمہاری موجودگی میں اس کے سامنے یہ حدیث پڑھی گئی؟ کہا نہیں کہا پھر تم اس حدیث کو کیسے بیان کرتے ہو؟ کہا میں نے تو بیان نہیں کی میرے پاس کچھ لوگ آئے اس روایت کو پیش کی پھر جا کر میرے نام سے اسے بیان کرنی شروع کر دی بات بھی یہی ہے یہ حدیث بالکل موضوع ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ اسے کئی جگہ لائے ہیں اور اس میں بہت سی منکرات ہیں خصوصًا مسجد الاقصیٰ کے بیان میں جو سورۃ بنی اسرائیل کے شروع میں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اور حدیث میں ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا، دھواں جو مومن کو زکام کر دے گا اور کافر کا تو سارا جسم پھلا دے گا۔ روئیں روئیں سے دھواں اٹھے گا دابة الارض اور دجال۔ اس کی سند بہت عمدہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دھواں پھیل جائے گا مومن کو تو مثل زکام کے لگے گا اور کافر کے جوڑ جوڑ سے نکلے گا یہ حدیث سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی مروی ہے اور حضرت حسن رحمہ اللہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دخان گذر نہیں گیا بلکہ اب آئے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دھویں کی بابت اوپر کی حدیث کی طرح روایت ہے حضرت ابن ابی ملکیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح کے وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے رات کو میں بالکل نہیں سویا میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا اس لیے کہ لوگوں سے سنا کہ دم دار ستارہ نکلا ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہی دخان نہ ہو پس صبح تک میں نے آنکھ سے آنکھ نہیں ملائی۔ اس کی سند صحیح ہے اور [ حبرالامتہ ] ‏‏‏‏ ترجمان القرآن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعینرحمہ اللہ علیہم بھی ہیں اور مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ جن میں صحیح حسن اور ہر طرح کی ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ دخان ایک علامت قیامت ہے جو آنے والی ہے ظاہری الفاظ قرآن بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے واضح اور ظاہر دھواں کہا ہے جسے ہر شخص دیکھ سکے اور بھوک کے دھوئیں سے اسے تعبیر کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ وہ تو ایک خیالی چیز ہے بھوک پیاس کی سختی کی وجہ سے دھواں سا آنکھوں کے آگے نمودار ہو جاتا ہے جو دراصل دھواں نہیں اور قرآن کے الفاظ ہیں آیت «دخان مبین» ‏‏‏‏ کے۔ پھر یہ فرمان کہ وہ لوگوں کو ڈھانک لے گی یہ بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر کی تائید کرتا ہے کیونکہ بھوک کے اس دھوئیں نے صرف اہل مکہ کو ڈھانپا تھا نہ کہ تمام لوگوں کو پھر فرماتا ہے کہ یہ ہے المناک عذاب یعنی ان سے یوں کہا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» ‏‏‏‏ [ 52- الطور: 14-13 ] ‏‏‏‏، جس دن انہیں جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا کہ یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلا رہے تھے یا یہ مطلب کہ وہ خود ایک دوسرے سے یوں کہیں گے کافر جب اس عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا کریں گے جیسے کہ اس آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [ 6- الانعام: 27 ] ‏‏‏‏، یعنی کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب یہ آگ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش کے ہم لوٹائے جاتے تو ہم اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور باایمان بن کر رہتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
رَبَّنَا اکۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اب کہتے ہیں کہ) " پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اس دن کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت کفار بھی کہیں گے) اے ہمارے پروردگار! ہم سے یہ عذاب دور فرما۔ ہم ایمان لاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! ہم سے یہ عذاب دور کر دے، بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏‏‏‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏‏‏‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏‏‏‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏‏‏‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏‏‏‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏‏‏‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏‏‏‏ بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏‏‏‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
12۔ 1 پہلی تفسیر کی رو سے یہ کفار مکہ نے کہا اور دوسری تفسیر کی رو سے قیامت کے قریب کافر کہیں گے۔
(آیت 12){ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ:} یعنی کفار عذاب دیکھ کر یہ بات کہیں گے، جیسا کہ فرعون کی قوم ہر عذاب آنے پر یہی وعدہ کرتی رہی۔
اَنّٰی لَہُمُ الذِّکۡرٰی وَ قَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے؟ اِن کا حال تو یہ ہے کہ اِن کے پاس رسول مبین آ گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے
احمد رضا خان بریلوی
کہاں سے ہو انہیں نصیحت ماننا حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا
علامہ محمد حسین نجفی
اب ان کو کہاں سے نصیحت حاصل ہوگی؟ جبکہ ان کے پاس کھول کر بیان کرنے والا رسول(ع) آچکا۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے نصیحت کہاں ؟حالانکہ یقینا ان کے پاس بیان کرنے والا رسول آ چکا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏‏‏‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏‏‏‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏‏‏‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏‏‏‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏‏‏‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏‏‏‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏‏‏‏ بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏‏‏‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 14،13){ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ …:} یعنی انھیں دھوئیں کے عذاب کی دلیل سے نصیحت کیسے ہو گی جب کہ ان کے پاس اس سے بہت ہی بڑی دلیل پہلے آ چکی اور وہ ہے رسول مبین، جس کا رسول ہونا بالکل واضح ہے اور جس نے ہر بات کھول کر بیان کر دی ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے منہ موڑ لیا اور کہنے لگے کہ یہ کسی کا سکھایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔{ ” ثُمَّ “ } (پھر) کا لفظ ان کے حال پر تعجب کے اظہار کے لیے ہے کہ رسول مبین کا آنا اس قدر واضح اور روشن نشانی تھی کہ اسے نہ ماننے کی گنجائش ہی نہ تھی، پھر بھی انھوں نے اس پر معلَّم اور مجنون کا بہتان لگا کر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام مختصر کر دیا ہے، ورنہ یہ ایک شخص یا ایک مجلس کی بات نہیں بلکہ کسی شخص نے معلَّم کہا اور کسی نے مجنون، کسی مجلس میں ایک تہمت جڑی گئی تو کسی میں دوسری۔ کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ تہمت لگاتے تھے کہ کوئی آدمی آپ کو یہ قرآن سکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا ردّ فرمایا۔ (دیکھیے نحل: ۱۰۳۔ فرقان: ۴ تا ۶) انھیں اس شخص کو دیوانہ کہتے ہوئے حیا نہیں آتی تھی جو اس سے پہلے چالیس برس ان میں رہا اور وہ اسے صادق اور امین کہتے رہے۔ پھر وہ ایسی کتاب لے کر آیا جس کی چھوٹی سے چھوٹی سورت کا جواب لانے سے بھی وہ عاجز رہے اور رہیں گے۔ بھلا دیوانے ایسے ہوتے ہیں!؟
ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ قَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر بھی یہ اُس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا کہ "یہ تو سکھایا پڑھایا باولا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس سے روگرداں ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
پھر انہوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا کہ یہ تو سکھایا ہوا ایک دیوانہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر انھوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور انھوں نے کہا سکھلایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏‏‏‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏‏‏‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏‏‏‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏‏‏‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏‏‏‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏‏‏‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏‏‏‏ بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏‏‏‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّا کَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِیۡلًا اِنَّکُمۡ عَآئِدُوۡنَ ﴿ۘ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم عذاب کو تھوڑا دور کردیں گے تو تم پھر اپنی اسی حالت پر آجاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک (اگر) ہم کچھ وقت کیلئے یہ عذاب ہٹا بھی دیں تو تم لوگ لوٹ کر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم یہ عذاب تھوڑی دیر کے لیے دور کرنے والے ہیں، بے شک تم دوبارہ وہی کچھ کرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏‏‏‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏‏‏‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏‏‏‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏‏‏‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏‏‏‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏‏‏‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏‏‏‏ بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏‏‏‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) {اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيْلًا …:} یعنی ہم تمھارے رسول کی دعا سے عذاب کو تھوڑی مدت کے لیے ہٹانے والے ہیں، تاکہ تمھارے ایمان لانے کے وعدے کی حقیقت سامنے آ جائے اور تم پر حجت پوری ہو جائے، اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ عذاب ہٹنے پر تم دوبارہ وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے تھے۔
یَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَۃَ الۡکُبۡرٰی ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن ہم سخت پکڑ پکڑیں گے اس دن ہم پورا بدلہ لیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے، بے شک ہم انتقام لینے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
روز آخرت توبہ نہیں ٭٭

اور آیت میں ہے «وَأَنذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ» [ 14-إبراهيم: 44 ] ‏‏‏‏ لوگوں کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا اس دن گنہگار کہیں گے پروردگار ہمیں تھوڑے سے وقت تک اور ڈھیل دیدے تو ہم تیری پکار پر لبیک کہہ لیں اور تیرے رسولوں کی فرمانبرداری کر لیں۔پس یہاں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں؟ ان کے پاس میرے پیغمبر آچکے انہوں نے ان کے سامنے میرے احکام واضح طور پر رکھ دئیے لیکن ماننا تو کجا انہوں نے پرواہ تک نہ کی بلکہ انہیں جھوٹا کہا، ان کی تعلیم کو غلط کہا اور صاف کہہ دیا کہ یہ تو سکھائے پڑھائے ہیں، انہیں جنوں ہو گیا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا لیکن اب اس کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ اور جگہ فرمایا ہے «وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ» [ 34- سبأ: 52 ] ‏‏‏‏، یعنی اس دن عذابوں کو دیکھ کر ایمان لانا سراسر بےسود ہے پھر جو ارشاد ہوتا ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اگر بالفرض ہم عذاب ہٹا لیں اور تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں تو بھی تم پھر وہاں جا کر یہی کرو گے جو اس سے پہلے کر کے آئے ہو جیسے فرمایا «‏‏‏‏وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّـــلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» [ 23- المؤمنون: 75 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر ہم ان پر رحم کریں اور برائی ان سے ہٹا لیں تو پھر یہ اپنی سرکشی میں آنکھیں بند کر کے منہمک ہو جائیں گے اور جیسے فرمایا «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6- الانعام: 28 ] ‏‏‏‏، یعنی اگر یہ لوٹائے جائیں تو قطعًا دوبارہ پھر ہماری نافرمانیاں کرنے لگیں گے اور محض جھوٹے ثابت ہوں گے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر عذاب کے اسباب قائم ہو چکنے اور عذاب آ جانے کے بعد بھی گو ہم اسے کچھ دیر ٹھہرا لیں تاہم یہ اپنی بد باطنی اور خباثت سے باز نہیں آنے کے۔ اس سے یہ لازم آتا کہ عذاب انہیں پہنچا اور پھر ہٹ گیا جیسے قوم یونس کی حق تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ «إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 98 ] ‏‏‏‏ قوم یونس جب ایمان لائی ہم نے ان سے عذاب ہٹا لیا۔ گویا عذاب انہیں ہونا شروع نہیں ہوا تھا ہاں اس کے اسباب موجود و فراہم ہو چکے تھے ان تک اللہ کا عذاب پہنچ چکا تھا اور اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے کفر سے ہٹ گئے تھے پھر اس کی طرف لوٹ گئے۔

«قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّـهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ» ‏‏‏‏ [ 7-الأعراف: 88، 89 ] ‏‏‏‏ چنانچہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں سے جب قوم نے کہا کہ یا تو تم ہماری بستی چھوڑ دو یا ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ تو جواب میں اللہ کے رسول علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ہم اسے برا جانتے ہوں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے رکھی ہے پھر بھی اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں تو ہم سے بڑھ کر جھوٹا اور اللہ کے ذمے بہتان باندھنے والا اور کون ہو گا؟ ظاہر ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اس سے پہلے بھی کبھی کفر میں قدم نہیں رکھا تھا اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم لوٹنے والے ہو۔ اس سے مطلب اللہ کے عذاب کی طرف لوٹنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:229/11:] ‏‏‏‏ بڑی اور سخت پکڑ سے مراد جنگ بدر ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی وہ جماعت جو دخان کو ہو چکا مانتی ہے وہ تو [ بطشہ ] ‏‏‏‏ کے معنی یہی کرتی ہے بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ایک اور جماعت سے یہی منقول ہے گو یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے گو بدر کا دن بھی پکڑ کا اور کفار پر سخت دن تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے بدر کا دن بتاتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کی اسناد صحیح ہے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے بھی دونوں روایتوں میں زیادہ صحیح روایت یہی ہے واللہ اعلم۔
16۔ 1 اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنا لئے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہوگی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے، اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہوگی، ہر نافرمان اس میں شامل ہوگا۔
(آیت 16) {يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ: ”إِنَّ“} علت بیان کرنے کے لیے ہے۔ یعنی یہ قحط کا عذاب تو ہم نے ہٹا لیا مگر قیامت کے دن جب ہم تمھیں بڑی گرفت میں پکڑیں گے تو وہ کسی صورت دور نہیں ہو گی، کیونکہ ہم انتقام لے رہے ہوں گے۔ دنیا کی گرفت تمھیں کفر سے واپس لانے کے لیے تھی، اس لیے اس کے بعد تمھیں رجوع کا موقع ملتا تھا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ السجدۃ: ۲۱ ] ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ لیکن قیامت کے دن کی بڑی گرفت انتقام کے لیے ہو گی، اس کے بعد تمھیں مہلت نہیں ملے گی۔ طبری نے اپنی سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍالْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى“ يَوْمُ بَدْرٍ، وَ أَنَا أَقُوْلُ هِيَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ] [ الطبري: ۲۱ /۲۷، ح: ۳۱۳۳۸ ] ”ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ {” الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى“} (بڑی پکڑ) یومِ بدر ہے اور میں کہتا ہوں کہ وہ قیامت کا دن ہے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس قول کی سند کو صحیح کہا ہے۔ ان کی تفسیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے بھی اس قول کی سند کو صحیح کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ابن عباس رضی اللہ عنھما کی بات قوی ہے۔
وَ لَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَہُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسول آیا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو جانچا اور ان کے پاس ایک معزز رسول تشریف لایا
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا تھا اور ان کے پاس ایک معزز رسول(ع)ایا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا اور ان کے پاس ایک بہت باعزت رسول آیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏
17۔ 1 آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انہیں دنیاوی خوشی، خوشحالی و فراغت سے نوازا اور پھر اپنا جلیل القدر پیغمبر بھی ان کی طرف ارسال کیا لیکن انہوں نے رب کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور نہ پیغمبر پر ایمان لائے۔
(آیت 17) ➊ { وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ:} یعنی ان کفارِ مکہ سے پہلے ہم نے فرعون کی قوم کو آزمایا، کبھی وسعت اور فراخی دے کر اور کبھی کوئی عذاب بھیج کر۔ ان کا بھی یہی حال تھا کہ جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے، یہ ہمارے ہنر کا کمال ہے اور جب ان پر عذاب آتا تو اسے موسیٰ علیہ السلام کی نحوست قرار دیتے، مگر پھر انھی سے درخواست کرتے کہ اپنے رب سے دعا کر، اگر اس نے یہ عذاب ہم سے ہٹا دیا تو ہم تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ مگر جب ان کی دعا سے وہ عذاب دور ہوتا تو فوراً عہد توڑ ڈالتے۔ آخر انجام ان کا یہ ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے ہم نے انھیں سمندر میں غرق کر دیا۔ (دیکھیے اعراف: ۱۳۰ تا ۱۳۶) مقصود ان آیات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور کفار کو عبرت دلانا ہے۔ ➋ {وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ:كَرِيْمٌ “} کا لفظ کسی بھی چیز میں سے اعلیٰ درجے کی چیز پر بولا جاتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو کریم اس لیے فرمایا کہ وہ حسب نسب میں ان سب سے اونچے اور اخلاق و صفات میں نہایت بلند تھے اور اللہ کے ہاں اتنے عالی مرتبے والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان سے کلام فرمایا۔
اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿ۙ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اس نے کہا "اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سپرد کردو بیشک میں تمہارے لیے امانت والا رسول ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اوران سے کہاتھا کہ) اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو میں ایک امانت دار رسول(ع) ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏
18۔ 1 عِبَاد اللّٰہِ سے مراد یہاں موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنا رکھا تھا حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ 18۔ 2 اللہ کا پیغام پہنچانے میں امانت دار ہوں۔
(آیت 18) ➊ { اَنْ اَدُّوْۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ …:} یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ موسیٰ علیہ السلام کے جو اقوال یہاں نقل ہوئے ہیں وہ ایک وقت کے نہیں بلکہ کئی سالوں میں مختلف مواقع پر انھوں نے فرعون اور اس کے درباریوں سے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا گیا ہے۔ ➋ { اَنْ اَدُّوْۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ:} اس جملے کی تفسیر دو طرح سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ {” عِبَادَ اللّٰهِ “} کا لفظ {” اَدُّوْۤا اِلَيَّ “} کا مفعول بہ ہے، یعنی موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔ {” عِبَادَ اللّٰهِ “} (اللہ کے بندوں) سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جنھیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلانا بھی تھا۔ اس تفسیر کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: «‏‏‏‏فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۴۷ ] ”تو اس کے پاس جاؤ اور کہو بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، پس تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے۔“ یہاں بنی اسرائیل کو {” عِبَادَ اللّٰهِ “} کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور غلام ہیں، تمھیں کوئی حق نہیں کہ انھیں غلام بنا کر رکھو۔ یہی بات جنگ قادسیہ کے موقع پر ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایرانیوں کے سردار رستم سے کہی تھی، جب اس نے ان سے پوچھا: [ مَا جَاءَ بِكُمْ؟ ] ”تمھیں کیا چیز لے کر آئی ہے؟“ تو انھوں نے جواب میں جو تقریر کی اس کے چند جملے یہ ہیں: [ اَللّٰهُ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلٰی عِبَادَةِ اللّٰهِ وَ مِنْ ضِيْقِ الدُّنْيَا إِلٰی سَعَتِهَا وَمِنْ جَوْرِ الْأَدْيَانِ إِلٰی عَدْلِ الْإِسْلَامِ ] [ البدایۃ والنہایۃ: 47/7، سن ۱۴ ہجري کے واقعات ] ”اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا ہے تاکہ ہم جسے وہ چاہے اسے بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی کی طرف اور دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی وسعت کی طرف اور تمام دینوں کے ظلم و جور سے نکال کر اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔“ دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” عِبَادَ اللّٰهِ “} سے پہلے حرفِ ندا {”يَا“} محذوف ہے اور وہ منادیٰ مضاف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور {” اَدُّوْۤا اِلَيَّ “} کا مفعول محذوف ہے: {” أَيْ أَدُّوْا إِلَيَّ مَا وَجَبَ عَلَيْكُمْ يَا عِبَادَ اللّٰهِ! “} ”یعنی اے اللہ کے بندو! جو حقوق تم پر واجب ہیں وہ مجھے ادا کرو۔“ یعنی مجھ پر ایمان لاؤ اور میری اطاعت کرو۔ اس تفسیر کے مطابق {” عِبَادَ اللّٰهِ “} سے مراد قبطی ہیں۔ یہ تفسیر بھی درست ہے، بعد کا جملہ {” اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ “} اس تفسیر سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ حرف ندا کا حذف کلامِ عرب میں عام ہے، جیسا کہ عزیزِ مصر نے کہا تھا: «‏‏‏‏يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا» ‏‏‏‏ [ یوسف: ۲۹ ] {” أَيْ يَا يُوْسُفُ! أَعْرِضْ عَنْ هٰذَا “} یعنی اے یوسف! اس معاملے سے درگزر کر۔ ➌ { اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ:} یہ پہلے جملے کی علت ہے، یعنی میرے حقوق جو تم پر واجب ہیں ادا کرو، کیونکہ میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں، تمھیں اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پہنچاتا ہوں۔ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب موسیٰ علیہ السلام نے شروع میں اپنی دعوت پیش فرمائی۔
وَّ اَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ ۚ اِنِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے (اپنی ماموریت کی) صریح سند پیش کرتا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس واضح دلیل (سند) پیش کرتا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، بے شک میں تمھارے پاس واضح دلیل لانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏
19۔ 1 یعنی اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کر کے اللہ کے سامنے اپنی بڑائی اور سرکشی کا اظہار نہ کرو۔ 19۔ 2 یہ ما قبل کی علت ہے کہ میں ایسی حجت واضح ساتھ لایا ہوں جس کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
(آیت 19) ➊ { وَ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ:} اور اللہ کے سامنے اونچے مت بنو، اس کے مقابلے میں سرکشی مت کرو۔ یعنی تمھارا مجھ پر ایمان نہ لانا دراصل اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی ہے، کیونکہ مجھے بھیجنے والا وہ ہے اور جو کچھ میں نے تمھیں کہا ہے وہ میری بات نہیں بلکہ اللہ کی بات ہے جو میں پوری امانت کے ساتھ تمھیں پہنچا رہا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ کسی دوسرے کے غلام کو اپنا غلام بنا لینا بہت بڑی سرکشی ہے جو تم نے اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا کر اس کے مقابلے میں اختیار کر رکھی ہے، اس لیے یہ سرکشی چھوڑ کر انھیں آزاد کر دو۔ ➋ { اِنِّيْۤ اٰتِيْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ:} یعنی اگر تمھیں شک ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نہیں بھیجا تو میں اللہ کی طرف سے اپنے رسول ہونے کی واضح دلیل پیش کرنے والا ہوں جس سے تمھیں میری رسالت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا۔ {” بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “} اگرچہ نکرہ ہے مگر اسم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مراد صرف ایک دلیل نہیں بلکہ عصائے موسیٰ سے لے کر وہ تمام معجزے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام پہلی مرتبہ فرعون کے پاس آنے سے لے کر مصر میں قیام کے آخری وقت تک دکھاتے رہے۔
وَ اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ ﴿۫۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اِس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کردو
احمد رضا خان بریلوی
اور میں پناہ لیتا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو
علامہ محمد حسین نجفی
اور میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار سے پناہ مانگ لی ہے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک میں اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں، اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏
20۔ 1 اس دعوت و تبلیغ کے جواب میں فرعون نے موسیٰ ؑ کو قتل کی دھمکی دی، جس پر انہوں نے اپنے رب سے پناہ طلب کی۔
(آیت 20) {وَ اِنِّيْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ:} یہ اس وقت کی بات ہے جب موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اندر ہی اندر دور تک پھیل گئی، حتیٰ کہ فرعون کی قوم کے کئی آدمی بھی پوشیدہ طور پر ان پر ایمان لے آئے، اس وقت فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ فرعونیوں کا ارادہ انھیں سنگسار کرکے بدترین طریقے سے قتل کرنے کا ہے، تو اس وقت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو، کیونکہ وہ میرا ہی نہیں تمھارا بھی مالک ہے، تم اس سے زبردست ہو کر مجھے رجم نہیں کر سکتے۔ سورۂ مومن (۲۶، ۲۷) میں فرعون کے قتل کے اعلان اور موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور اللہ کی پناہ میں جانے کا مفصل ذکر ہے۔
وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِیۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو پھر مجھ سے الگ ہی رہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏
21۔ 1 یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔
(آیت 21) {وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ فَاعْتَزِلُوْنِ:} یعنی اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے سے نہ روکو۔
فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿ؓ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس (رسول) نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ یہ بڑے مجرم لوگ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
آخر اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏
22۔ 1 یعنی جب انہوں دیکھا کہ دعوت کا اثر قبول کرنے کی بجائے، اس کا کفر وعناد بڑھ گیا تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ پھیلا دیئے۔
(آیت 22){ فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ:} یہاں ایک لمبا قصہ حذف کر دیا گیا ہے جو کئی سال تک موسیٰ علیہ السلام کی دعوت، ہر طرح کی آزمائشوں کے باوجود فرعون کی سرکشی، بنی اسرائیل پر بے پناہ مظالم اور ان کے بے مثال صبر پر مشتمل ہے۔ {” فَدَعَا رَبَّهٗۤ “} کے ساتھ اس قصے کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ جب انھوں نے تمام معجزے دیکھنے، ہر بار ایمان لانے کا عہد کرنے اور اسے توڑ دینے کے بعد صاف لفظوں میں کہہ دیا: «مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [الأعراف: ۱۳۲ ] ”تو ہمارے پاس جو نشانی بھی لے آئے، تاکہ ہم پر اس کے ساتھ جادو کرے تو ہم تیری بات ہرگز ماننے والے نہیں۔“ تو ان کے ایمان لانے سے پوری طرح مایوس ہونے کے بعد نوح علیہ السلام کی طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان کے خلاف اپنے رب سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں، کسی طرح ماننے والے نہیں۔ سورۂ یونس میں ہے: «‏‏‏‏وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِيْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۸۸ ] ”اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب! بے شک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کیے ہیں، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے گمراہ کریں، اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“
فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا پیچھا کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
(ارشاد ہوا) تم میرے بندوں کو ہمراہلے کر راتوں رات نکل جاؤ کیونکہ تمہاراتعاقب کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پس میرے بندوں کو رات کے کسی حصے میں لے جا،بے شک تم پیچھا کیے جانے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏‏‏‏ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏‏‏‏
23۔ 1 چناچہ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات لے کر یہاں سے نکل جاؤ اور دیکھو! گھبرانا نہیں، تمہارا پیچھا بھی ہوگا۔
(آیت 23) ➊ {فَاَسْرِ بِعِبَادِيْ لَيْلًا …:} موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جاؤ، تاکہ فرعون کو فوری خبر نہ ہو سکے اور یاد رکھو! تمھارا تعاقب کیا جائے گا، اس لیے تمھیں ہجرت کا یہ سفر پوری احتیاط کے ساتھ ہوشیار رہ کر کرنا ہو گا۔ ➋ {” بِعِبَادِيْ “} (میرے بندوں) سے مراد بنی اسرائیل ہیں اور ان کے ساتھ قبطیوں کے وہ لوگ بھی جو ایمان لا چکے تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شعراء (۵۲ تا ۶۸)، یونس (۸۸ تا ۹۲) اور سورۂ طٰہٰ (۷۷)۔
وَ اتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سمندر کو اُس کے حال پر کھلا چھوڑ دے یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے چھوڑ دے بیشک وہ لشکر ڈبو دیا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور تم سمندر کو اس کے حال (سکون) پہ چھوڑ دو۔ بیشک وہ (دشمن) ایسا لشکر ہے جو غرق ہو نے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور سمندر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے، بے شک وہ ایسا لشکر ہیں جو غرق کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏‏‏‏ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏‏‏‏
24۔ 1 رَھْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہوجائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے بعد اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا تاکہ فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا کو پار کرنے کی غرض سے اس میں داخل ہوجائے اور ہم اسے وہیں غرق کردیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
(آیت 24) {وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا …: ”رَهَا، يَرْهُوْ رَهْوًا“} (ن) {” الْبَحْرُ “} سمندر کا ساکن ہونا۔ {”رَهَا الرَّجُلُ رَهْوًا“} جب آدمی دونوں ٹانگیں کھول لے اور انھیں الگ الگ کر لے۔ یہاں اس قصے کا وہ حصہ حذف کر دیا ہے جس میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل سمندر پر پہنچے تو پیچھے سے فرعون بھی پہنچ گیا، بنی اسرائیل سخت خوف زدہ ہو گئے کہ اب دوبارہ پکڑے جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار۔ انھوں نے ایسا کیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ اپنی جگہ ایک بڑے پہاڑ کی شکل میں کھڑا ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل خیریت سے گزر گئے تو موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا: «وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا» ‏‏‏‏ ”اور سمندر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے۔“ دیکھیے سورۂ شعراء (۵۲ تا ۶۸) سمندر سے پار ہونے پر موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ سمندر کو اسی حالت میں ٹھہرا ہوا چھوڑ دیں کہ اس میں الگ الگ راستے کھلے ہوں، تعاقب کی فکر مت کریں، اس لشکر کو اسی سمندرمیں غرق کیا جانا ہے۔
کَمۡ تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
" کتنے ہی باغ اور چشمے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے
احمد رضا خان بریلوی
کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کتنے باغ اور چشمے چھوڑ گئے۔
عبدالسلام بن محمد
کتنے ہی وہ چھوڑ گئے باغات اور چشمے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏‏‏‏ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25تا28) {كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ …:} ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شعراء کی آیات کی (۵۵ تا ۵۹) کی تفسیر۔
وَّ زُرُوۡعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کھیتیاں اور راحت بخش ٹھکانے
احمد رضا خان بریلوی
او رکھیت اور عمدہ مکانات
علامہ محمد حسین نجفی
اور کھیتیاں اور عمدہ مقامات۔
عبدالسلام بن محمد
اور کھیتیاں اور عمدہ مقام۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏‏‏‏ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ نَعۡمَۃٍ کَانُوۡا فِیۡہَا فٰکِہِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کتنے ہی عیش کے سر و سامان، جن میں وہ مزے کر رہے تھے اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه آرام کی چیزیں جن میں عیش کررہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور نعمتیں جن میں فارغ البال تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور آرام و راحت کا ساز و سامان جس میں وہ خوش و خرم رہتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور خوش حالی، جن میں وہ مزے اڑانے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏‏‏‏ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَذٰلِکَ ۟ وَ اَوۡرَثۡنٰہَا قَوۡمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ہوا اُن کا انجام، اور ہم نے دوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح ہوگیا اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنادیا
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کردیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان چیزوں کا وارث ایک قوم کو بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح ہوا اور ہم نے ان کا وارث اور لوگوں کو بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏‏‏‏ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏‏‏‏
28۔ 1 بعض کے نزدیک اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک بنی اسرائیل کا دوبارہ مصر آنا تاریخی طور پر ثابت نہیں، اس لئے ملک مصر کی وارث کوئی اور قوم بنی، بنی اسرائیل نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَمَا بَکَتۡ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَا کَانُوۡا مُنۡظَرِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین، اور ذرا سی مہلت بھی ان کو نہ دی گئی
مولانا محمد جوناگڑھی
سو ان پر نہ تو آسمان وزمین روئے اور نہ انہیں مہلت ملی
احمد رضا خان بریلوی
تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مہلت نہ دی گئی
علامہ محمد حسین نجفی
پس ان کی بربادی پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ہی ان کو مہلت دی گئی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر نہ ان پر آسمان وزمین روئے اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں فرماتا ہے کہ «وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» [ 20-طه: 77 ] ‏‏‏‏ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات فرعون اور فرعونیوں کی بے خبری میں یہاں سے لے کر چلے جاؤ۔ یہ کفار تمہارا پیچھا کریں گے لیکن تم بے خوف و خطر چلے جاؤ میں تمہارے لیے دریا کو خشک کر دوں گا اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے فرعونی لشکر مع فرعون کے ان کے پکڑنے کو چلا بیچ میں دریا حائل ہوا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس میں اتر گئے دریا کا پانی سوکھ گیا اور آپ اپنے ساتھیوں سمیت پار ہو گئے تو چاہا کہ دریا پر لکڑی مار کر اسے کہدیں کہ اب تو اپنی روانی پر آ جا تاکہ فرعون اس سے گزر نہ سکے وہیں اللہ نے وحی بھیجی کہ اسے اسی حال میں سکون کے ساتھ ہی رہنے دو ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی کہ یہ سب اسی میں ڈوب مریں گے۔ پھر تو تم سب بالکل ہی مطمئن اور بے خوف ہو جاؤ گے غرض حکم ہوا تھا کہ دریا کو خشک چھوڑ کر چل دیں۔

«رھواً» کے معنی سوکھا راستہ جو اصلی حالت پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ پار ہو کہ دریا کو روانی کا حکم نہ دینا یہاں تک کہ دشمنوں میں سے ایک ایک اس میں آ نہ جائے اب اسے جاری ہونے کا حکم ملتے ہی سب کو غرق کر دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو کیسے غارت ہوئے۔ باغات کھتیاں نہریں مکانات اور بیٹھکیں سب چھوڑ کر فنا ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مصر کا دریائے نیل مشرق مغرب کے دریاؤں کا سردار ہے اور سب نہریں اس کے ماتحت ہیں جب اس کی روانی اللہ کو منظور ہوتی ہیں تو تمام نہروں کو اس میں پانی پہنچانے کا حکم ہوتا ہے جہاں تک رب کو منظور ہو اس میں پانی آ جاتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اور نہروں کو روک دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ اب اپنی اپنی جگہ چلی جاؤ اور فرعونیوں کے یہ باغات دریائے نیل کے دونوں کناروں پر مسلسل چلے گئے تھے رسواں سے لے کر رشید تک اس کا سلسلہ تھا اور اس کی نو خلیجیں تھیں۔ خلیج اسکندریہ، دمیاط، خلیج سردوس، خلیج منصف، خلیج فیوم،خلیج منہی اور ان سب میں اتصال تھا ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ اور پہاڑوں کے دامن میں ان کی کھیتیاں تھیں جو مصر سے لے کر دریا تک برابر چلی آتی تھیں ان تمام کو بھی دریا سیراب کرتا تھا بڑے امن چین کی زندگی گذار رہے تھے لیکن مغرور ہو گئے اور آخر ساری نعمتیں یونہی چھوڑ کر تباہ کر دئیے گئے۔ مال اولاد جاہ و مال سلطنت و عزت ایک ہی رات میں چھوڑ گئے اور بھس کی طرح اڑا دئیے گئے اور گذشتہ کل کی طرح بے نشان کر دئیے گئے ایسے ڈبوئے گئے کہ ابھر نہ سکے جہنم واصل ہو گئے اور بدترین جگہ پہنچ گئے «كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ» ‏‏‏‏ [ 26-الشعراء: 59 ] ‏‏‏‏ ان کی یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دے دیں۔

جیسے اور آیت میں فرمایا ہے کہ «وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ» [ 7-الأعراف: 137 ] ‏‏‏‏ ہم نے ان کمزوروں کو ان کے صبر کے بدلے اس سرکش قوم کی کل نعمتیں عطا فرما دیں اور بے ایمانوں کا بھرکس نکال ڈالا یہاں بھی دوسری قوم جسے وارث بنایا اس سے مراد بھی بنی اسرائیل ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان پر زمین و آسمان نہ روئے کیونکہ ان پاپیوں کے نیک اعمال تھے ہی نہیں جو آسمانوں پر چڑھتے ہوں اور اب ان کے نہ چڑھنے کی وجہ سے وہ افسوس کریں نہ زمین میں ان کی جگہیں ایسی تھیں کہ جہاں بیٹھ کر یہ اللہ کی عبادت کرتے ہوں اور آج انہیں نہ پا کر زمین کی وہ جگہ ان کا ماتم کرے انہیں مہلت نہ دی گئی۔ مسند ابو یعلیٰ موصلی میں ہے ہر بندے کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک سے اس کی روزی اترتی ہے دوسرے سے اس کے اعمال اور اس کے کلام چڑھتے ہیں۔ جب یہ مر جاتا ہے اور وہ عمل و رزق کو گمشدہ پاتے ہیں تو روتے ہیں پھر اسی آیت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی۔ [سنن ترمذي:3255،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏۔

ابن ابی حاتم میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اسلام غربت سے شروع ہوا اور پھر غربت پر آ جائے گا یاد رکھو مومن کہیں انجام مسافر کی طرح نہیں مومن جہاں کہیں سفر میں ہوتا ہے جہاں اس کا کوئی رونے والا نہ ہو وہاں بھی اس کے رونے والے آسمان و زمین موجود ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا یہ دونوں کفار پر روتے نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:238/11] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آسمان و زمین کبھی کسی پر روئے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا آج تو نے وہ بات دریافت کی ہے کہ تجھ سے پہلے مجھ سے اس کا سوال کسی نے نہیں کیا۔ سنو ہر بندے کے لیے زمین میں ایک نماز کی جگہ ہوتی ہے اور ایک جگہ آسمان میں اس کے عمل کے چڑھنے کی ہوتی ہے اور آل فرعون کے نیک اعمال ہی نہ تھے اس وجہ سے نہ زمین ان پر روئی نہ آسمان کو ان پر رونا آیا اور نہ انہیں ڈھیل دی گئی کہ کوئی نیکی بجا لاسکیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی قریب قریب یہی جواب دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/11] ‏‏‏‏ بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چالیس دن تک زمین مومن پر روتی رہتی ہے۔

حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے جب یہ بیان فرمایا تو کسی نے اس پر تعجب کا اظہار کیا آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے جو بندہ زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا جس بندے کی تکبیر و تسبیح کی آوازیں آسمان برابر سنتا رہا تھا بھلا یہ دونوں اس عابد اللہ پر روئیں گے نہیں؟ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرعونیوں جیسے ذلیل و خوار لوگوں پر یہ کیوں روتے؟ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں دنیا جب سے رچائی گئی ہے تب سے آسمان صرف دو شخصوں پر رویا ہے ان کے شاگرد سے سوال ہوا کہ کیا آسمان و زمین ہر ایماندار پر روتے نہیں؟ فرمایا صرف اتنا حصہ جس حصے سے اس کا نیک عمل چڑھتا تھا سنو آسمان کا رونا اس کا سرخ ہونا اور مثل نری کے گلابی ہو جانا ہے سو یہ حال صرف دو شخصوں کی شہادت پر ہوا ہے۔ حضرت یحییٰ کے قتل کے موقعے پر تو آسمان سرخ ہو گیا اور خون برسانے لگا اور دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر بھی آسمان کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏

یزید ابن ابو زیاد کا قول ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے چار ماہ تک آسمان کے کنارے سرخ رہے اور یہی سرخی اس کا رونا ہے حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے کناروں کا سرخ ہو جانا اس کا رونا ہے یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دن جس پتھر کو الٹا جاتا تھا اس کے نیچے سے منجمد خون نکلتا تھا۔ اس دن سورج کو بھی گہن لگا ہوا تھا آسمان کے کنارے بھی سرخ تھے اور پتھر گرے تھے۔ لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں اور شیعوں کے گھڑے ہوئے افسانے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا واقعہ نہایت درد انگیز اور حسرت و افسوس والا ہے لیکن اس پر شیعوں نے جو حاشیہ چڑھایا ہے اور گھڑ گھڑا کر جو باتیں پھیلا دی ہیں وہ محض جھوٹ اور بالکل گپ ہیں۔ خیال تو فرمائیے کہ اس سے بہت زیادہ اہم واقعات ہوئے اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بہت بڑی وارداتیں ہوئیں لیکن ان کے ہونے پر بھی آسمان و زمین وغیرہ میں یہ انقلاب نہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہی کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی قتل کئے گئے جو بالاجماع آپ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے لیکن نہ تو پتھروں تلے سے خون نکلا نہ اور کچھ ہوا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا جاتا ہے اور نہایت بیدردی سے بلاوجہ ظلم و ستم کے ساتھ انہیں قتل کیا جاتا ہے فاروق اعظم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے نماز کی جگہ ہی قتل کیا جاتا ہے یہ وہ زبردست مصیبت تھی کہ اس سے پہلے مسلمان کبھی ایسی مصیبت نہیں پہنچائے گئے تھے لیکن ان واقعات میں سے کسی واقعہ کے وقت اب میں سے ایک بھی بات نہیں جو شیعوں نے مقتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت مشہور کر رکھی ہے۔ ان سب کو بھی جانے دیجئیے تمام انسانوں کے دینی اور دنیوی سردار سید البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیجئے جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحلت فرماتے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا اور سنئے جس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوتا ہے اتفاقاً اسی روز سورج گہن ہوتا ہے اور کوئی کہہ دیتا ہے کہ ابراہیم کے انتقال کی وجہ سورج کو گہن لگا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گہن کی نماز ادا کر کے فوراً خطبے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور فرماتے ہیں سورج چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں کسی کی موت زندگی کی وجہ سے انہیں گہن نہیں لگتا۔ [صحیح بخاری:1043] ‏‏‏‏
29۔ 1 یعنی ان فرعونیوں کے نیک اعمال ہی نہیں تھے جو آسمان پر چڑھتے اور ان کا سلسلہ منقطع ہونے پر آسمان روتے، نہ زمین پر ہی وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے کہ اس سے محرومی پر زمین روتی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں کوئی بھی ان کی ہلاکت پر رونے والا نہیں تھا (فتح القدیر)
(آیت 29) ➊ {فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ:} اس آیت کی تفسیر میں تین قول ہیں، تینوں میں سے جو بھی مراد لے لیں درست ہے۔ ایک یہ کہ {” السَّمَآءُ “} سے پہلے لفظ {”أَهْلٌ“} محذوف ہے، جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے والد کو جا کر بتایا کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، جس کی وجہ سے عزیز مصر نے اسے اپنے پاس روک لیا ہے۔ پھر یقین دلانے کے لیے کہا: «‏‏‏‏وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا» [ یوسف: ۸۲ ] ”اور آپ اس بستی سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں۔“ مطلب یہ ہے کہ اس بستی والوں سے پوچھ لیں۔ اسی طرح یہاں مطلب یہ ہے کہ نہ ان پر آسمان والے روئے اور نہ زمین والے، بلکہ ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا اور ہر ظالم حکمران ٹولے کا یہی حشر ہوتا ہے۔ دوسرا قول یہ کہ اس سے مراد ان کی تحقیر اور ان کا مذاق اڑانا ہے۔ عرب کے ہاں جب کوئی بڑا آدمی فوت ہوتا تو وہ اس کی موت کو بہت بڑا حادثہ بتانے کے لیے کہتے کہ اس پر آسمان رویا، زمین روئی اور پہاڑ لرز اٹھے۔ مطلب یہ کہ اتنی شان و شوکت والے اور خدائی کا ڈنکا بجانے والے مرے تو ان لوگوں کی طرح جن کی نہ کوئی حیثیت ہوتی ہے اور نہ کسی کو ان کے مرنے کی پروا ہوتی ہے۔ تیسرا قول یہ کہ آیت کے ظاہر الفاظ کے مطابق آسمان و زمین نیک لوگوں کے مرنے پر روتے ہیں، مگر ان کے مرنے پر نہ آسمان رویا نہ زمین۔ یہ معنی بھی کچھ بعید نہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے ڈر سے پتھروں سے نہریں پھوٹنے، ان کے پھٹ جانے اور اللہ کے خوف سے گر پڑنے کا ذکر فرمایا ہے (دیکھیے بقرہ: ۷۴) اور جس طرح کھجور کے درخت کا تنا (حنانہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسے چھوڑ کر منبر پر خطبہ دینے کے وقت رویا تھا۔ ➋ { وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ:} اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوئے کہ توبہ کر لیتے، بلکہ آن کی آن میں ڈبو دیے گئے۔
وَ لَقَدۡ نَجَّیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ۙ۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلت کے عذاب
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بےشک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات بخشی
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات دی۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ‏‏‏‏ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] ‏‏‏‏ فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔

جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] ‏‏‏‏ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89] ‏‏‏‏ پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30) {وَ لَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ:} موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں فرعون اور آل فرعون کو غرق کرنے کا ذکر کرنے کے بعد بنی اسرائیل پر اپنے انعامات کا ذکر فرمایا۔ اس میں قریش کے جباروں کو فرعون اور آلِ فرعون کے انجام سے ڈرایا گیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ نہ کفر کے یہ سردار فرعون جیسی قوت و شوکت کے مالک ہیں نہ مسلمان بنی اسرائیل جتنے مظلوم اور بے بس۔ تو جب فرعون کی قوت و شوکت کا یہ حال ہوا تو یہ بے چارے کیا حیثیت رکھتے ہیں اور جب بنی اسرائیل جیسے بے بس اور مظلوم ظلم سے نجات پا سکتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی اس کی امید رکھنی چاہیے۔ ”لام“ اور {”قَدْ“} تاکید کے لیے قسم کا مفہوم رکھتے ہیں۔ یقین دلانے کے لیے قسم کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کسی بات کا منکر ہو، یہاں یہ بات اتنی تاکید کے ساتھ اس لیے فرمائی کہ ماننے میں نہیں آتا کہ ظلم میں اس قدر جکڑی ہوئی قوم، جن کے لڑکے ذبح کیے جا رہے ہوں، لڑکیوں کو زندہ رکھ کر ان سے ہر خدمت لی جا رہی ہو اور وہ اف تک نہ کر سکتے ہوں اور دنیا میں کہیں سے انھیں مدد مل سکتی ہو نہ کوئی ان کے حق میں آواز اٹھانے والا ہو، انھیں بھی اتنی ذلت سے نجات مل سکتی ہے؟ فرمایا، ہاں، ہاں! ایسا ہوا ہے اور یقینا ہوا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔
مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فیالواقع وه سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا
احمد رضا خان بریلوی
فرعون سے، بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں سے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو فرعون کی طرف سے تھا بےشک وہ سرکش اور حد سے نکل جا نے والوں میں سے تھا۔
عبدالسلام بن محمد
فرعون سے، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں میںسے ایک سرکش شخص تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ‏‏‏‏ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] ‏‏‏‏ فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔

جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] ‏‏‏‏ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89] ‏‏‏‏ پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 31) ➊ {مِنْ فِرْعَوْنَ:} وہ عذاب کیا تھا؟ وہ فرعون تھا، اس کی ذات ہی بنی اسرائیل کے لیے مجسمۂ عذاب تھی۔ ➋ {اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِيْنَ:} اس کی سرکشی اور زیادتی کے لیے دیکھیے سورۂ قصص کی آیت (۴) کی تفسیر۔
وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کی حالت جانتے ہوئے، اُن کو دنیا کی دوسری قوموں پر ترجیح دی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے انہیں دانستہ چن لیا اس زمانے والوں سے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے جان بوجھ کر ان کو تمام جہانوں والوں پر ترجیح دی۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انھیں علم کی بنا پر جہانوں سے چن لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ‏‏‏‏ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] ‏‏‏‏ فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔

جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] ‏‏‏‏ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89] ‏‏‏‏ پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔
32۔ 1 اس جہان سے مراد بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے کل جہان نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہان والوں پر فضیلت رکھتے تھے ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔
(آیت 32) ➊ { وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ:”اِخْتَرْنَا“ ”اِخْتَارَ يَخْتَارُ اِخْتِيَارًا“} (افتعال) سے جمع متکلم ماضی معلوم ہے۔ یہاں بھی {” لَقَدْ “} لانے کا مقصد یہی ہے کہ اتنی پسی ہوئی قوم کو یکایک تمام دنیا پر برتری کیسے مل سکتی ہے؟ فرمایا قسم ہے کہ ہم نے انھیں تمام جہانوں پر چن لیا، پھر ہمارے چنے ہوؤں کو برتری کیوں حاصل نہ ہو گی۔ ➋ { عَلٰى عِلْمٍ:} یعنی ہم نے بلاوجہ ان کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ہمیں ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا علم تھا اور ہم ان کی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی واقف تھے۔ اس علم ہی کی بنا پر ہم نے ان کے زمانے کی تمام قوموں میں سے ان کا انتخاب کیا۔ ➌ {عَلَى الْعٰلَمِيْنَ:الْعٰلَمِيْنَ “} سے مراد ان کے زمانے کے جہان ہیں، کل جہان نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو: «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۱۰ ] کہہ کر تمام امتوں سے بہتر قرار دیا ہے، کیونکہ {” كَانَ “} استمرار پر دلالت کر رہا ہے۔ ہاں بعض جزوی فضائل بنی اسرائیل میں ایسے ہیں جو انھی کی خصوصیت ہیں، مثلاً اتنے انبیاء کا ان میں معبوث ہونا، مگر مجموعی اور کلی لحاظ سے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہے۔
وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ ﴿۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے انہیں وہ نشانیاں عطا فرمائیں جن میں صریح انعام تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں عطا کیں جن میں کھلی ہوئی آزمائش تھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں دیں جن میں واضح آزمائش تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس کے بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنا احسان جتاتا ہے کہ «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [ 28-القص: 4 ] ‏‏‏‏ ہم نے انہیں فرعون جیسے متکبر حدود شکن کے ذلیل عذابوں سے نجات دی اس نے بنی اسرائیل کو پست و خوار کر رکھا تھا ذلیل خدمتیں ان سے لیتا تھا اور اپنے نفس کو تولتا رہتا تھا خودی اور خود بینی میں لگا ہوا تھا بیوقوفی سے کسی چیز کی حد بندی کا خیال نہیں کرتا تھا اللہ کی زمین میں سرکشی کئے ہوئے تھا۔ اور ان بدکاریوں میں اس کی قوم بھی اس کے ساتھ تھی پھر بنی اسرائیل پر ایک اور مہربانی کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس زمانے کے تمام لوگوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ہر زمانے کو عالم کہا جاتا ہے یہ مراد نہیں کہ تمام اگلوں پچھلوں پر انہیں بزرگی دی یہ آیت بھی اس آیت کی طرح ہے جس میں فرمان ہے «قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ» [ 7- الاعراف: 144 ] ‏‏‏‏ فرمایا "اے موسیٰ علیہ السلام، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"۔

جیسے مریم علیہا السلام کے لیے فرمایا «وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» [ سورة آل عمران 3: 42 ] ‏‏‏‏ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس زمانے کی تمام عورتوں پر آپ کو فضیلت ہے اس لیے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ان سے یقیناً افضل ہیں یا کم ازکم برابر۔ اسی طرح آسیہ بنت مزاحم جو فرعون کی بیوی تھیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت شوربے میں بھگوئی روٹی کی اور کھانوں پر۔ [صحیح مسلم:70-89] ‏‏‏‏ پھر بنی اسرائیل پر ایک اور احسان بیان ہو رہا ہے کہ ہم نے انہیں وہ حجت و برہان دلیل و نشان اور معجزات و کرامات عطا فرمائے جن میں ہدایت کی تلاش کرنے والوں کے لیے صاف صاف امتحان تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 33) {وَ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰيٰتِ …: ” بَلٰٓؤٌا “} کا معنی آزمائش ہے، یہ لفظ مصیبت اور انعام دونوں معنوں میں آتا ہے، کیونکہ آزمائش دونوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہاں مراد ان پر کیے جانے والے احسانات ہیں، جن میں آزادی، صحرا میں کھانے پینے اور دھوپ سے بچنے کی تمام ضرورتوں کا انتظام اور پھر ارضِ مقدس کی تولیت کا شرف سب چیزیں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۹)۔
اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ کہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ کہتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک یہ لوگ کہتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک یہ لوگ یقینا کہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭

یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔

پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] ‏‏‏‏ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں «شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم» ‏‏‏‏

یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ‏‏‏‏۔
34۔ 1 یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے۔ اس لئے کہ سلسلہ کلام ان ہی سے متعلق ہے۔ درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 34) {اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَيَقُوْلُوْنَ:} یہاں موسیٰ علیہ السلام کا قصہ ختم ہوا جو جملہ معترضہ کے طور پر درمیان میں آ گیا تھا اور دوبارہ سلسلۂ کلام کفارِ قریش کے ساتھ جوڑ دیا گیا، جو پہلے سے چلا آ رہا تھا اور کفار سے فرمایا تھا: «‏‏‏‏لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ (8) بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الدخان: ۸، ۹ ] ” اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔ بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے زندگی بخشنے اور موت دینے کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ کفار شک ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ فرعون کی سرکشی اور غرقابی کے ذکر کے بعد کفارِ قریش کا ذکر {” هٰۤؤُلَآءِ “} (یہ لوگ) کہہ کر حقارت کے ساتھ فرمایا کہ فرعون جیسے قوت و شوکت اور رعب و دبدبے والے منکروں کا انجام سن چکے، اب ان لوگوں کی بات سنو جو اس کے مقابلے میں کچھ قوت نہیں رکھتے، یہ بھی ہمارے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کو ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ کہتے ہیں۔
اِنۡ ہِیَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰی وَ مَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِیۡنَ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
"ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں اُس کے بعد ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ (آخری چیز) یہی ہماری پہلی بار (دنیا سے) مرجانا ہے اور ہم دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہیں مگر ہمارا ایک دفعہ کا مرنا اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
کہ بس ہماری یہی پہلی موت ہی ہے اس کے بعد ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ ہماری اس پہلی موت کے سوا کوئی (موت) نہیں اور نہ ہم کبھی دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭

یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔

پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] ‏‏‏‏ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں «شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم» ‏‏‏‏

یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ‏‏‏‏۔
35۔ 1 یعنی یہ دنیا کی زندگی ہی بس آخری زندگی ہے اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب ہونا ممکن نہیں ہے۔
(آیت 35) {اِنْ هِيَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِيْنَ:} کہتے یہ ہیں کہ پہلی دفعہ ہم مریں گے تو قصہ ختم، پھر کوئی زندگی نہیں اور نہ ہمیں اٹھایا جائے گا۔
فَاۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر تم سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو"
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ
احمد رضا خان بریلوی
تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ داداؤں کو لاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭

یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔

پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] ‏‏‏‏ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں «شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم» ‏‏‏‏

یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ‏‏‏‏۔
36۔ 1 یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو کافروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ واضح اور صحیح ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھا دو یہ ان کی کٹ حجتی تھی کیونکہ دوبارہ زندہ کرنے کا عقیدہ قیامت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت سے پہلے ہی دنیا میں زندہ ہوجانا یا کردینا۔
(آیت 36){ فَاْتُوْا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ:} یعنی ہم نے آج تک کسی فوت شدہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا، اگر تمھارا دعویٰ ہے کہ دوسری زندگی ہے تو ہمارے آبا و اجداد کو قبروں سے اٹھا لاؤ، اگر تم سچے ہو، ورنہ ہم تمھیں جھوٹا سمجھیں گے۔ وہ اپنی اس دلیل کو بہت مضبوط سمجھتے تھے! حالانکہ یہ کئی وجہوں سے بالکل فضول ہے، کیونکہ انھیں یہ کس نے کہا کہ وہ اسی دنیا میں آئے گی؟ وہ تو ایک نئی دنیا ہو گی جس میں تمام مردے بیک وقت اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر انھیں یہ کس نے کہا ہے کہ مردوں کا زندہ کرنا پیغمبر کے اختیار میں ہے؟ اس کا کام تو صرف پیغام پہنچانا ہے، مردے زندہ کرنا یا معجزوں کے مطالبے پورے کرنا نہیں اور تیسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کا ایک وقت مقرر ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، وہ اسی وقت آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔ اب قیامت سے پہلے قیامت کا مطالبہ کون سی دانش مندی ہے؟ اگر کسی کو آئندہ ہونے والے کسی کام کی اطلاع دی جائے تو کیا یہ کہہ کر اسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ یہ کام فوراً کرکے دکھاؤ، اگر ابھی نہیں ہوتا توکبھی بھی نہیں ہو گا۔ ظاہر ہے یہ نہایت بے عقلی کی بات ہے۔
اَہُمۡ خَیۡرٌ اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ ۙ وَّ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ ۫ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا یقیناً وه گنہ گار تھے
احمد رضا خان بریلوی
کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور جو ان سے پہلے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے
علامہ محمد حسین نجفی
(قوت کے لحاظ سے) یہ بہتر ہیں یا قومِ تبع اور ان سے پہلے ہم نے ان کو ہلاک کر دیا کہ وہ مجرم تھے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا یہ لوگ بہتر ہیں، یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جوان سے پہلے تھے؟ ہم نے انھیں ہلاک کردیا، بے شک وہ مجرم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شہنشاہ تبع کی کہانی ٭٭

یہاں مشرکین کا انکار قیامت اور اس کی دلیل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس کی تردید کرتا ہے ان کا خیال تھا کہ قیامت آنی نہیں مرنے کے بعد جینا نہیں۔ حشر اور نشر سب غلط ہے دلیل یہ پیش کرتے تھے کہ ہمارے باپ دادا مر گئے وہ کیوں دوبارہ جی کر نہیں آئے؟ خیال کیجئے یہ کس قدر بودی اور بے ہودہ دلیل ہے دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا مرنے کے بعد جینا قیامت کو ہو گا نہ کہ دنیا میں پھر لوٹ کر آئیں گے۔ اس دن یہ ظالم جہنم کا ایندھن بنیں گے اس وقت یہ امت اگلی امتوں پر گواہی دے گی اور ان پر ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں ڈرا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے جو عذاب اسی جرم پر اگلی قوموں پر آئے وہ تم پر بھی آ جائیں اور ان کی طرح بے نام و نشان کر دئیے جاؤ۔ ان کے واقعات سورۃ سبا میں گذر چکے ہیں وہ لوگ بھی قحطان کے عرب تھے جیسے یہ عدنان کے عرب ہیں حمیر جو سبا کے تھے وہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے جیسے فارس کے بادشاہ کو کسریٰ اور روم کے ہر بادشاہ کو قیصر اور مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون اور حبشہ کے ہر بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک تبع یمن سے نکلا اور زمین پھرتا رہا سمرقند پہنچ گیا ہر جگہ کے بادشاہوں کو شکست دیتا رہا اور اپنا بہت بڑا ملک کر لیا زبردست لشکر اور بےشمار رعایا اس کے ماتحت تھی اس نے حیرہ نامی بستی بسائی یہ اپنے زمانے میں مدینے میں بھی آیا تھا اور یہاں کے باشندوں سے بھی لڑا لیکن اسے لوگوں نے اس سے روکا خود اہل مدینہ کا بھی اس سے یہ سلوک رہا کہ دن کو تو لڑتے تھے اور رات کو ان کی مہمان داری کرتے تھے آخر اس کو بھی لحاظ آ گیا اور لڑائی بند کر دی اس کے ساتھ یہاں کے دو یہودی عالم ہو گئے تھے جو موسیٰ کے سچے دین کے عامل بھی تھے وہ اسے ہر وقت بھلائی برائی سمجھاتے رہتے تھے انہوں نے کہا کہ آپ مدینے کو تاخت وتاراج نہیں کر سکتے کیونکہ یہ آخر زمانے کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی جگہ ہے۔

پس یہاں سے لوٹ گیا اور ان دونوں عالموں کو اپنے ساتھ لیتا چلا جب یہ مکے پہنچا تو اس نے بیت اللہ کو گرانا چاہا لیکن ان دونوں عالموں نے اسے روکا اور اس پاک گھر کی عظمت و حرمت بیان کی اور کہا کہ اس کے بانی خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور اس نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پھر اس کی اصلی عظمت آشکارا ہو جائے گی۔ چنانچہ یہ اپنے ارادے سے باز آیا بلکہ بیت اللہ کی بڑی تعظیم و تکریم کی طواف کیا غلاف چڑھایا اور یہاں سے یمن واپس چلا گیا۔ خود موسیٰ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوا اور تمام یمن میں یہی دین پھیلایا اس وقت تک مسیح علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور اس زمانے والوں کے لیے یہی سچا دین تھا۔ اس طرح کے واقعات بہت تفصیل سے سیرۃ ابن اسحاق رحمہ اللہ میں موجود ہیں۔ اور حافظ ابن عساکر بھی اپنی کتاب میں بہت تفصیل کے ساتھ لائے ہیں اس میں ہے کہ اس کا پائے تخت دمشق میں تھا اس کے لشکروں کی صفیں دمشق سے لے کر یمن تک پہنچتی تھیں۔ ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میں نہیں جان سکا کہ حد لگنے سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تبع ملعون تھا یا نہیں؟ اور نہ مجھے یہ خبر ہے کہ ذوالقرنین نبی تھے یا بادشاہ اور روایت میں ہے کہ یہ بھی فرمایا عزیر پیغمبر تھے یا نہیں؟ [سنن ابوداود:4674،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ [ ابن ابی حاتم ] ‏‏‏‏ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کی روایت صرف عبدالرزاق سے ہی ہے اور سند سے مروی ہے کہ عزیر کا نبی ہونا مجھے معلوم نہیں نہ میں یہ جانتا ہوں کہ تبع پر لعنت کروں یا نہیں؟ [تاریخ دمشق501/3] ‏‏‏‏ اسے وارد کرنے کے بعد حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے وہ روایتیں درج کی ہیں جن میں تبع کو گالی دینے اور لعنت کرنے سے ممانعت آئی ہے جیسے کہ ہم بھی وارد کریں گے ان شاءاللہ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہو گئے یعنی موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دین میں داخل ہوئے اور اس زمانے کے علماء کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا۔ بعثت مسیح علیہ السلام سے پہلے کا یہ واقعہ ہے جرہم کے زمانے میں بیت اللہ کا حج بھی کیا غلاف بھی چڑھایا اور بڑی تعظیم و تکریم کی چھ ہزار اونٹ نام اللہ قربان کئے اور بھی بہت بڑا طویل واقعہ ہے جو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور اصل قصہ کا دارومدار سیدنا کعب احبار اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما پر ہے۔ وہب بن منبہ نے بھی اس قصہ کو وارد کیا ہے۔ حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اس تبع کے قصے کے ساتھ دوسرے تبع کے قصے کو بھی ملا دیا ہے جو ان کے بہت بعد تھا اس کی قوم تو اس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئی تھی پھر ان کے انتقال کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ گئی۔ اور دوبارہ آگ اور بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ جیسے کہ سورۃ سباء میں مذکور ہے اسی کی تفسیر میں ہم نے بھی وہاں اس کی پوری تفصیل لکھ دی ہے فالحمدللہ۔

حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس تبع نے کعبے پر غلاف چڑھایا تھا آپ لوگوں کو منع کرتے تھے کہ اس تبع کو برا نہ کہو یہ درمیان کا تبع ہے اس کا نام اسعد ابو کرب بن ملکیرب یمانی ہے۔ اس کی سلطنت تین سو چھبیس سال تک رہی اس سے زیادہ لمبی مدت ان بادشاہوں میں سے کسی نے نہیں پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریبًا سات سو سال پہلے اس کا انتقال ہوا ہے مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان دونوں موسوی عالموں نے جو مدینے کے تھے انہوں نے جب تبع بادشاہ کو یقین دلایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت گاہ ہے تو اس نے ایک قصیدہ کہا تھا اور اہل مدینہ کو بطور امانت دے گیا تھا جو ان کے پاس ہی رہا اور بطور میراث ایک دوسرے کے ہاتھ لگتا رہا اور اس کی روایت سند کے ساتھ برابر چلی آتی رہی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اس کے حافظ ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ تھے اور اتفاق سے بلکہ بہ حکم اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول جلال بھی یہیں ہوا تھا۔ اس قصیدے کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں «شھدت علی احمد انہ *** رسول من اللہ باری النسیم فلو مد عمری الی عمرہ *** لکنت وزیر الہ و ابن عم وجاھدت بالسیف اعداء ہ *** وفرجت عن صدرہ کل غم» ‏‏‏‏

یعنی میری تہ دل سے گواہی ہے کہ احمد مجتبیٰ [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏‏‏‏ اس اللہ کے سچے رسول ہیں جو تمام جانداروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اگر میں اس کے زمانے تک زندہ رہا تو قسم اللہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاون بن کر رہوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کروں گا اور کسی کھٹکے اور غم کو آپ کے پاس تک پھٹکنے نہ دوں گا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ دور اسلام میں صفا شہر میں اتفاق سے قبر کھد گئی تو دیکھا گیا کہ دو عورتیں مدفون ہیں جن کے جسم بالکل سالم ہیں اور سرہانے پر چاندی کی ایک تختی لگی ہوئی ہے جس میں سونے کے حروف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ قبر حی اور لمیس کی ہے اور ایک روایت میں ان کے نام حبی اور تماخر ہیں یہ دونوں تبع کی بہنیں ہیں یہ دونوں مرتے وقت تک اس بات کی شہادت دیتی رہیں کہ لائق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ دونوں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی تھیں۔ ان سے پہلے کے تمام نیک صالح لوگ بھی اسی شہادت کے ادا کرتے ہوئے انتقال فرماتے رہے ہیں۔ سورۃ سباء میں ہم نے اس واقعہ کے متعلق سبا کے اشعار بھی نقل کر دئیے ہیں۔ ضرت کعب رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ تبع کی تعریف قرآن سے اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی مذمت کی ان کی نہیں کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ تبع کو برا نہ کہو وہ صالح شخص تھا ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبع کو گالی نہ دو وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:241/11:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی اور مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے عبدالرزاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلوم نہیں تبع نبی تھا یا نہ تھا؟ اور روایت میں جو اس سے پہلے گذر چکی کہ میں نہیں جانتا تبع ملعون تھا یا نہیں؟ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے عطاء بن ابو رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں تبع کو گالی نہ دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں برا کہنا منع فرمایا ہے۔ «واللہ تعالیٰ اعلم» ‏‏‏‏۔
37۔ 1 یعنی یہ کفار مکہ اور ان سے پہلے کی قومیں، عاد وثمود وغیرہ سے زیادہ طاقتور اور بہتر ہیں، جب ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں، ان سے زیادہ قوت و طاقت رکھنے کے باوجود ہلاک کردیا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں۔
(آیت 37) ➊ { اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ:} تبع یمن کے قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا، جیسے کسریٰ ایران کے بادشاہوں کا، قیصر روم کے بادشاہوں کا، فرعون مصر کے بادشاہوں کا اور نجاشی حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا۔ یہ حمیر کا بادشاہ تبع مومن تھا اور اس کی قوم کافر تھی، اس لیے اس کی قوم کی مذمت کی ہے، اس کی نہیں۔ ➋ {وَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} پہلے لوگوں سے مراد عاد و ثمود، قومِ ابراہیم، قومِ لوط، اصحابِ مدین اور قومِ فرعون وغیرہ ہیں۔ ➌ { اَهْلَكْنٰهُمْ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ:} یہ کفار کے اعتراض کا تاریخ سے جواب ہے کہ جو شخص یا قوم آخرت کا انکار کرے گی اسے کوئی چیز مجرم بننے سے روک نہیں سکتی، کیونکہ اسے بازپرس کی فکر ہی نہیں ہوتی، وہ اپنی خواہشات کے پیچھے بے لگام دوڑے چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کی سرکشی، ظلم و زیادتی اور حد سے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ”یہ لوگ بہتر ہیں یا قومِ تبع اور اس سے پہلے کے لوگ“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کفارِ مکہ تو اس خوش حالی اور قوت و شوکت کو پہنچ ہی نہیں سکے جو تبع کی قوم اور اس سے پہلے کی اقوام کو حاصل رہی ہے، جب ان کی خوش حالی انھیں اس زوال سے نہیں بچا سکی جو قیامت کے انکار کی وجہ سے ان پر آیا تو ان بے چاروں کی کیا حیثیت ہے۔
وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ آسمان و زمین اور اِن کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے آسمانوں کو، زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو کھیل کے طور پر پیدانہیں کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیلتے ہو ئے نہیں بنایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور پھونکنے کے بعد ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] ‏‏‏‏ اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ‏‏‏‏، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 23- المؤمنون: 101 ] ‏‏‏‏، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] ‏‏‏‏ کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
38۔ 1 یہی مضمون اس سے قبل (وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ۭ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ فَوَيْلٌ لِّــلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِ 27؀ۭ) 38۔ ص:27) (اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 115؁ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ 116؁) 23۔ المؤمنون:116-115) (وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ ۭ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ 85؀) 15۔ الحجر:85) و غیرہا میں بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 39،38) {وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …:} یہ منکرین قیامت کے اعتراض کا عقلی جواب ہے کہ اگر سب لوگوں کو زندہ کرکے ان سے باز پرس کا اور نیک و بد کی جزا و سزا کا کوئی دن نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی عظیم کائنات محض کھیلنے کے لیے بنائی ہے، اس کا کوئی مقصد نہیں، اس کے ہاں نیک و بد اور ظالم و مظلوم برابر ہیں، نہ اس کے ہاں عدل ہے نہ حکمت۔ فرمایا ایسا نہیں ہے، ہم نے آسمان و زمین کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور قیامت قائم کرنا ہماری حکمت اور عدل کا تقاضا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے، اس لیے آخرت کی تیاری سے غافل ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، دیکھیے سورۂ انبیاء (۱۶ تا ۱۸)، مومنون (۱۱۵، ۱۱۶) اور قیامہ (۳۶ تا ۴۰)۔
مَا خَلَقۡنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے انہیں نہ بنایا مگر حق کے ساتھ لیکن ان میں اکثر جانتے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان کو پیدا نہیں کیا مگر حق (و حکمت) کے ساتھ مگر ان کے اکثر لوگ (یہ حقیقت) نہیں جانتے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم نے ان دونوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور پھونکنے کے بعد ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] ‏‏‏‏ اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ‏‏‏‏، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 23- المؤمنون: 101 ] ‏‏‏‏، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] ‏‏‏‏ کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
39۔ 1 یعنی وہ اس مقصد سے غافل اور بیخبر ہیں۔ اسی لئے آخرت کی تیاری سے لا پروا ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ مِیۡقَاتُہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شده وقت ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک فیصلہ کا دن ان سب کی میعاد ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک فیصلہ کا دن (قیامت) ان سب کا طے شدہ وقت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا فیصلے کا دن ان سب کا مقرر وقت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور پھونکنے کے بعد ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] ‏‏‏‏ اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ‏‏‏‏، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 23- المؤمنون: 101 ] ‏‏‏‏، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] ‏‏‏‏ کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
40۔ 1 یعنی وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے انسانوں کو پیدا کیا گیا اور آسمان و زمین کی تخلیق کی گئی ہے۔
(آیت 40){ اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَ:} یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ”ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔“ فرمایا، موت کے بعد زندگی کوئی کھیل نہیں کہ جب کوئی اس کا مطالبہ کرے اسے کوئی مردہ زندہ کرکے دکھا دیا جائے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے جس میں وہ سب کو جمع کرکے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ مَوۡلًی عَنۡ مَّوۡلًی شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن کوئی دوست کسی دوست کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاسکے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور پھونکنے کے بعد ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] ‏‏‏‏ اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ‏‏‏‏، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 23- المؤمنون: 101 ] ‏‏‏‏، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] ‏‏‏‏ کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 41) ➊ { يَوْمَ لَا يُغْنِيْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْـًٔا:مَوْلًى “} کا معنی دوست بھی ہے، قریبی رشتہ دار بھی، غلام بھی اور غلام کا مالک بھی۔ یعنی قیامت کے دن کوئی شخص کسی ایسے شخص کے کام نہیں آ سکے گا جس سے اس کی دوستی یا رشتہ داری یا اس کی حمایت حاصل کرنے کا کوئی تعلق ہو۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۱۰۱) اور سورۂ معارج (۱۰، ۱۱)۔ ➋ { وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ:} اور نہ کسی اور طرف سے مدد مل سکے گی۔
اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جس پر اللہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ جس پر اللہ رحم کرے بےشک وہ بڑا غالب (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جس پر اللہ نے رحم کیا، بے شک وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صور پھونکنے کے بعد ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] ‏‏‏‏ اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ‏‏‏‏، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 23- المؤمنون: 101 ] ‏‏‏‏، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] ‏‏‏‏ کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42) ➊ { اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ:} یعنی جس پر اللہ نے رحم فرما دیا وہی بچے گا، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِّنْكُمْ عَمَلُهُ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ وَ لَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ] [ بخاري، الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل: ۶۴۶۳ ] ”تم میں کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔“ صحابہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ کو بھی نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“ ➋ {اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ:} یہ اس بات کا جواب ہے کہ کوئی کسی کی مدد کیوں نہیں کر سکے گا؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب پر غالب ہے، وہ جو فیصلہ کر دے گا وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ کسی میں اسے رد کرنے یا بدلنے کی یا اس کی مرضی کے بغیر سفارش کرنے کی جرأت نہیں ہو گی۔ {” الرَّحِيْمُ “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب پر غالب ہونے کے باوجود بے حد مہربان ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ وہ چاہے تو قصور وار کی سزا معاف کر دے یا اس میں کمی کر دے یا کسی کو اس عمل سے بہت زیادہ جزا دے دے، مگر وہ جرم کے بغیر کسی کو سزا نہیں دیتا۔
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ ﴿ۙ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زقوم کا درخت
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک زقوم (تھوہر) کا درخت
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تھوہڑ کا پیڑ
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک زقوم کا درخت۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک زقوم کا درخت۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43){ اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ:الزَّقُّوْمِ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۲ تا۶۵)۔
طَعَامُ الۡاَثِیۡمِ ﴿ۖۛۚ۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
گناہ گار کا کھاجا ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
گناه گار کا کھانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
گنہگاروں کی خوراک ہے
علامہ محمد حسین نجفی
گنہگار کی غذا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
گناہ گار کا کھانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 44){ طَعَامُ الْاَثِيْمِ:الْاَثِيْمِ “} سے مراد یہاں کافر و مشرک اور قیامت کا منکر ہے، کیونکہ پیچھے انھی کا ذکر آ رہا ہے اور آگے آیت (۵۰): «‏‏‏‏اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ» ‏‏‏‏ (یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے) سے بھی ظاہر ہے کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوں گے، کیونکہ ایمان تو یقین کا نام ہے۔ سورۂ قلم میں بھی {”اثيم“} کا لفظ کافر کے متعلق آیا ہے، فرمایا: «مَنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ القلم: ۱۲ ] ” خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہ گار ہے۔“ سورۂ جاثیہ میں فرمایا: «‏‏‏‏وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ» [ الجاثیۃ: ۷ ] ”بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہ گار کے لیے۔“
کَالۡمُہۡلِ ۚۛ یَغۡلِیۡ فِی الۡبُطُوۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تیل کی تلچھٹ جیسا، پیٹ میں اِس طرح جوش کھائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو مثل تلچھٹ کے ہے اور پیٹ میں کھولتا رہتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پگھلے ہوئے تانبےکی طرح پیٹوں میں جوش کھائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، پیٹوں میں کھولتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
45۔ 1 پگھلا ہوا تانبہ، آگ میں پگھلی ہوئی چیز یا تلچھٹ تیل وغیرہ کے آخر میں جو گدلی سی مٹی کی تہ رہ جاتی ہے۔
(آیت 45) {كَالْمُهْلِ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ: ”اَلْمُهْلُ“} کے کئی معنی ہیں، پگھلا ہوا تانبا، لوہا یا کوئی دھات، گرم تیل کی تلچھٹ، پیپ اور لہو۔ مزید دیکھیے سورۂ کہف (۲۹)۔
کَغَلۡیِ الۡحَمِیۡمِ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مثل تیز گرم پانی کے
احمد رضا خان بریلوی
جیسا کھولتا پانی جوش مارے
علامہ محمد حسین نجفی
جس طرح گرم کھولتا ہوا پانی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
46۔ 1 وہ زقوم کی خوراک، کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹ میں کھولے گی۔
(آیت 46) {كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ:الْحَمِيْمِ “} نہایت گرم پانی۔
خُذُوۡہُ فَاعۡتِلُوۡہُ اِلٰی سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ ﴿٭ۖ۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
" پکڑو اِسے اور رگیدتے ہوئے لے جاؤ اِس کو جہنم کے بیچوں بیچ
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اسے پکڑو ٹھیک بھڑکتی آگ کی طرف بزور گھسیٹتے لے جاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کو پکڑو۔اور اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم کے وسط تکلے جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اسے پکڑو، پھر اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک دھکیل کر لے جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
47۔ 1 یہ جہنم پر مقرر فرشتوں سے کہا جائے گا۔
(آیت 47) {خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِيْمِ: ”عَتَلَ يَعْتِلُ“} (ض، ن) سختی سے گھسیٹ کر لے جانا۔ {” سَوَآءِ “} کا معنی درمیان ہے، کیونکہ درمیان کی چیز ہر طرف سے برابر ہوتی ہے۔
ثُمَّ صُبُّوۡا فَوۡقَ رَاۡسِہٖ مِنۡ عَذَابِ الۡحَمِیۡمِ ﴿ؕ۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور انڈیل دو اِس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس کے سر پر سخت گرم پانی کا عذاب بہاؤ
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو
علامہ محمد حسین نجفی
اور پھر اس کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیل دو۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کھولتے پانی کا کچھ عذاب اس کے سر پر انڈیلو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 48) {ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۱۹، ۲۰) کی تفسیر۔
ذُقۡ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡکَرِیۡمُ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تُو
مولانا محمد جوناگڑھی
(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا
احمد رضا خان بریلوی
چکھ، ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
مزا چکھ تُو تو بڑا معزز اور مکرم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
چکھ، بے شک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
49۔ 1 یعنی دنیا میں اپنے طور پر تو بڑا ذی عزت اور صاحب اکرام بنا پھرتا تھا اور اہل ایمان کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔
(آیت 49) {ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ:ذُقْ”ذَاقَ يَذُوْقُ ذَوْقًا“} (ن) سے امر ہے، چکھو۔ یہ بات ان سے طنز اور مذاق کے طور پر کہی جائے گی، کیونکہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے اور باور کرواتے تھے۔ جملے کی خبر {” الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ “} پر الف لام اور ضمیرِ فصل {” اَنْتَ “} سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ تو ہی وہ شخص ہے جو عزیز و کریم ہے۔
اِنَّ ہٰذَا مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه چیز ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک یہ ہے وہ جس میں تم شبہہ کرتے تھے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہی ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
زقوم ابوجہل کی خوراک ہو گا ٭٭

منکرین قیامت کو جو سزا وہاں دی جائے گی اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان مجرموں کو جو اپنے قول اور فعل کو نافرمانی سے ملوث کئے ہوئے تھے آج زقوم کا درخت کھلایا جائے گا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد ابوجہل ہے۔ گو دراصل وہ بھی اس آیت کی وعید میں داخل ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ آیت صرف اسی کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ایک شخص کو یہ آیت پڑھا رہے تھے مگر اس کی زبان سے لفظ «اَثِیْم» ادا نہیں ہوتا تھا اور وہ بجائے اس کے یتیم کہہ دیا کرتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے «طَعَامُ الْفَاجِر“» ‏‏‏‏ پڑھوایا یعنی اسے اس کے سوا کھانے کو اور کچھ نہ دیا جائے گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین میں ٹپک جائے تو تمام زمین والوں کی معاش خراب کر دے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے، یہ مثل تلچھٹ کے ہو گا۔ اپنی حرارت بدمزگی اور نقصان کے باعث پیٹ میں جوش مارتا رہے گا اللہ تعالیٰ جہنم کے داروغوں سے فرمائے گا کہ اس کافر کو پکڑ لو وہیں ستر ہزار فرشتے دوڑیں گے اسے اندھا کر کے منہ کے بل گھسیٹ لے جاؤ اور بیچ جہنم میں ڈال دو پھر اس کے سر پر جوش مارتا گرم پانی ڈالو۔ جیسے فرمایا «يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ» ‏‏‏‏ [ 22- الحج: 20، 19 ] ‏‏‏‏، یعنی ان کے سروں پر جہنم کا جوش مارتا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں سوخت ہو جائیں گی اور یہ بھی ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ فرشتے انہیں لوہے کے ہتھوڑے ماریں گے جن سے ان کا دماغ پاش پاش ہو جائیں گے پھر اوپر سے یہ حمیم ان پر ڈالا جائے گا یہ جہاں جہاں پہنچے گا ہڈی کو کھال سے جدا کر دے گا یہاں تک کہ اس کی آنتیں کاٹتا ہوا پنڈلیوں تک پہنچ جائے گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے پھر انہیں شرمسار کرنے کے لیے اور زیادہ پشیمان بنانے کے لیے کہا جائے گا کہ لو مزہ چکھو تم ہماری نگاہوں میں نہ عزت والے ہو نہ بزرگی والے۔

مغازی اموی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل ملعون سے کہا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ تجھ سے کہدوں «أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ“ ”ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ» [ 75- القيامة: 34، 35 ] ‏‏‏‏» ‏‏‏‏ تیرے لیے ویل ہے تجھ پر افسوس ہے پھر مکرر کہتا ہوں کہ تیرے لیے خرابی اور افسوس ہے۔ اس پاجی نے اپنا کپڑا آپ کے ہاتھ سے گھسیٹتے ہوئے کہا جا تو اور تیرا رب میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟ اس تمام وادی میں سب سے زیادہ عزت و تکریم والا میں ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر والے دن قتل کرایا اور اسے ذلیل کیا اور اس سے کہا جائے گا کہ لے اب اپنی عزت کا اور اپنی تکریم کا اور اپنی بزرگی اور بڑائی کا لطف اٹھا اور ان کافروں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے جس میں ہمیشہ شک شبہ کرتے رہے۔ جیسے اور آیتوں میں ہے کہ «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏ جس دن انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ دوزخ ہے جسے تم جھٹلاتے رہے کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے؟ اسی کو یہاں بھی فرمایا ہے کہ یہ ہے جس میں تم شک کر رہے تھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 50) {اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ:} یعنی یہ ہے وہ جہنم جس کا تمھیں یقین نہیں تھا۔ فرشتے انھیں جہنم کی مار دے دے کر جتلائیں گے کہ یہ وہ آگ ہے جس میں تم شک کرتے تھے اور جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ دیکھیے سورۂ طور (۱۳ تا ۱۵)۔