بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الدخان — Surah Dukhan
آیت نمبر 42
کل آیات: 59
قرآن کریم الدخان آیت 42
آیت نمبر: 42 — سورۃ الدخان islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۴۲﴾
سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے
مگر جس پر اللہ کی مہربانی ہوجائے وه زبردست اور رحم کرنے واﻻ ہے
مگر جس پر اللہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،
مگر وہ جس پر اللہ رحم کرے بےشک وہ بڑا غالب (اور) بڑا رحم کرنے والا ہے۔
مگر جس پر اللہ نے رحم کیا، بے شک وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صور پھونکنے کے بعد ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے عدل کا بیان فرما رہا ہے اور بے فائدہ لغو اور عبث کاموں سے اپنی پاکیزگی کا اظہار فرماتا ہے جیسے اور آیت میں ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی مخلوق کو باطل پیدا نہیں کیا ایسا گمان ہماری نسبت صرف ان کا ہے جو کفار ہیں اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے [38-ص:27] ‏‏‏‏ اور ارشاد ہے آیت «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» [ 23-سورة المؤمنون: 116، 115 ] ‏‏‏‏، یعنی کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار و عبث پیدا کیا ہے اور تم لوٹ کر ہماری طرف آنے ہی کے نہیں؟ اللہ حق مالک بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ عرش کریم کا رب ہے فیصلوں کا دن یعنی قیامت کا دن جس دن باری تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان حق فیصلے کرے گا کافروں کو سزا اور مومنوں کو جزا ملے گی۔ اس دن تمام اگلے پچھلے اللہ کے سامنے جمع ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائے گا رشتے دار رشتے دار کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا جیسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے «فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ 23- المؤمنون: 101 ] ‏‏‏‏، یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو نہ تو کوئی نسب باقی رہے گا نہ پوچھ گچھ۔ اور آیت میں ہے «وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ» [ 70-المعارج: 10، 11 ] ‏‏‏‏ کوئی دوست اس دن اپنے دوست کو پریشان حالی میں دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہ پوچھے گا اور نہ کوئی اس دن کسی کی کسی طرح کی مدد کرے گا نہ اور کوئی بیرونی مدد آئے گی مگر ہاں اللہ کی رحمت جو مخلوق پر شامل ہے وہ بڑا غالب اور وسیع رحمت والا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 42) ➊ { اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ:} یعنی جس پر اللہ نے رحم فرما دیا وہی بچے گا، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَنْ يُنَجِّيَ أَحَدًا مِّنْكُمْ عَمَلُهُ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ وَ لَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ] [ بخاري، الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل: ۶۴۶۳ ] ”تم میں کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔“ صحابہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ کو بھی نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“ ➋ {اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ:} یہ اس بات کا جواب ہے کہ کوئی کسی کی مدد کیوں نہیں کر سکے گا؟ فرمایا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب پر غالب ہے، وہ جو فیصلہ کر دے گا وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ کسی میں اسے رد کرنے یا بدلنے کی یا اس کی مرضی کے بغیر سفارش کرنے کی جرأت نہیں ہو گی۔ {” الرَّحِيْمُ “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب پر غالب ہونے کے باوجود بے حد مہربان ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ وہ چاہے تو قصور وار کی سزا معاف کر دے یا اس میں کمی کر دے یا کسی کو اس عمل سے بہت زیادہ جزا دے دے، مگر وہ جرم کے بغیر کسی کو سزا نہیں دیتا۔
← پچھلی آیت (41) پوری سورۃ اگلی آیت (43) →