بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الدخان — Surah Dukhan
آیت نمبر 4
کل آیات: 59
قرآن کریم الدخان آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ الدخان islamicurdubooks.com ↗
فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾
یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ
اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے
اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام
اس(رات) میں ہر حکمت والے معاملہ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اسی میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

عظیم الشان قرآن کریم کا نزول اور ماہ شعبان ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس عظیم الشان قرآن کریم کو بابرکت رات یعنی لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ جیسے ارشاد ہے «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» ‏‏‏‏ [ 97- القدر: 1 ] ‏‏‏‏ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ اور یہ رات رمضان المبارک میں ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ» ‏‏‏‏ [ 2- البقرة: 185 ] ‏‏‏‏ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔ سورۃ البقرہ میں اس کی پوری تفسیر گذر چکی ہے اس لیے یہاں دوبارہ نہیں لکھتے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لیلة المبارکہ جس میں قرآن شریف نازل ہوا وہ شعبان کی پندرہویں رات ہے یہ قول سراسر بے دلیل ہے۔ اس لیے کہ نص قرآن سے قرآن کا رمضان میں نازل ہونا ثابت ہے۔ اور جس حدیث میں مروی ہے کہ شعبان میں اگلے شعبان تک کے تمام کام مقرر کر دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ نکاح کا اور اولاد کا اور میت کا ہونا بھی وہ حدیث مرسل ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:222/11:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ اور ایسی احادیث سے نص قرآنی کا معارضہ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو آگاہ کر دینے والے ہیں یعنی انہیں خیر و شر نیکی بدی معلوم کرا دینے والے ہیں تاکہ مخلوق پر حجت ثابت ہو جائے اور لوگ علم شرعی حاصل کر لیں اسی شب ہر محکم کام طے کیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے کاتب فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے تمام سال کے کل اہم کام عمر روزی وغیرہ سب طے کر لی جاتی ہے۔ حکیم کے معنی محکم اور مضبوط کے ہیں جو بدلے نہیں وہ سب ہمارے حکم سے ہوتا ہے ہم رسل کے ارسال کرنے والے ہیں تاکہ وہ اللہ کی آیتیں اللہ کے بندوں کو پڑھ سنائیں جس کی انہیں سخت ضرورت اور پوری حاجت ہے یہ تیرے رب کی رحمت ہے اس رحمت کا کرنے والا قرآن کو اتارنے والا اور رسولوں کو بھیجنے والا وہ اللہ ہے جو آسمان زمین اور کل چیز کا مالک ہے اور سب کا خالق ہے۔ تم اگر یقین کرنے والے ہو تو اس کے باور کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں پھر ارشاد ہوا کہ معبود برحق بھی صرف وہی ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہر ایک کی موت زیست اسی کے ہاتھ ہے تمہارا اور تم سے اگلوں کا سب کا پالنے پوسنے والا وہی ہے اس آیت کا مضمون اس آیت جیسا ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا» ‏‏‏‏ [ 7- الاعراف: 158 ] ‏‏‏‏ الخ، یعنی تو اعلان کر دے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ جس کی بادشاہت ہے آسمان و زمین کی۔ جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو جلاتا اور مارتا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4) {فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ: ”فَرْقٌ“} کا معنی فیصلہ ہے، اسی لیے قرآن کو {”فرقان“} کہا جاتا ہے۔ {” حَكِيْمٍ “} کے مفہوم میں دو باتیں شامل ہیں، ایک یہ کہ وہ حکم حکمت اور دانائی پر مبنی ہوتا ہے، اس میں کسی غلطی یا خامی کا امکان نہیں ہوتا۔ دوسری یہ کہ وہ حکم محکم اور پختہ ہوتا ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ یعنی ہم نے اسے خاص طور پر اس بابرکت رات میں اس لیے نازل کیا کہ یہ قرآن ایک امرِ حکیم ہے اور اسی رات میں ہر امرِ حکیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سورۂ قدر میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: «تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ» [ القدر: ۴ ] ”اس میں فرشتے اور روح (جبریل امین) اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتے ہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ آئندہ سال سے متعلق افراد و اقوام کی قسمتوں کے تمام فیصلے فرشتوں کے حوالے کر دیتے ہیں، مثلاً زندگی، موت، بیماری، رزق، عروج و زوال اور ہدایت و گمراہی وغیرہ، پھر وہ ان پر عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ إِنَّكَ لَتَرَی الرَّجُلَ يَمْشِيْ فِي الْأَسْوَاقِ، وَقَدْ وَقَعَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتٰی، ثُمَّ قَرَأَ: «اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ (3) فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ» [الدخان: ۳، ۴] يَعْنِيْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَفِيْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلٰی مِثْلِهَا مِنْ قَابِلٍ ] [ مستدرک حاکم، تفسیر سورۃ الدخان: 448/2، ح: ۳۶۷۸ ] ”تم آدمی کو بازاروں میں چلتا پھرتا دیکھتے ہو، حالانکہ اس کا نام مُردوں میں درج ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ (3) فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ» ‏‏‏‏ کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے، اس رات میں دنیا کے معاملات کا آئندہ سال کی اسی رات تک فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔“ حاکم اور ذہبی نے اسے صحیح کہا اور بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں اسے حاکم سے روایت کیا ہے اور اس کے محقق نے کہا کہ اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →