بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الدخان — Surah Dukhan
آیت نمبر 19
کل آیات: 59
قرآن کریم الدخان آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الدخان islamicurdubooks.com ↗
وَّ اَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ ۚ اِنِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۱۹﴾
اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے (اپنی ماموریت کی) صریح سند پیش کرتا ہوں
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس کھلی دلیل ﻻنے واﻻ ہوں
اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں
اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس واضح دلیل (سند) پیش کرتا ہوں۔
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، بے شک میں تمھارے پاس واضح دلیل لانے والا ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

19۔ 1 یعنی اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کر کے اللہ کے سامنے اپنی بڑائی اور سرکشی کا اظہار نہ کرو۔ 19۔ 2 یہ ما قبل کی علت ہے کہ میں ایسی حجت واضح ساتھ لایا ہوں جس کے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { وَ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ:} اور اللہ کے سامنے اونچے مت بنو، اس کے مقابلے میں سرکشی مت کرو۔ یعنی تمھارا مجھ پر ایمان نہ لانا دراصل اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی ہے، کیونکہ مجھے بھیجنے والا وہ ہے اور جو کچھ میں نے تمھیں کہا ہے وہ میری بات نہیں بلکہ اللہ کی بات ہے جو میں پوری امانت کے ساتھ تمھیں پہنچا رہا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ کسی دوسرے کے غلام کو اپنا غلام بنا لینا بہت بڑی سرکشی ہے جو تم نے اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا کر اس کے مقابلے میں اختیار کر رکھی ہے، اس لیے یہ سرکشی چھوڑ کر انھیں آزاد کر دو۔ ➋ { اِنِّيْۤ اٰتِيْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ:} یعنی اگر تمھیں شک ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نہیں بھیجا تو میں اللہ کی طرف سے اپنے رسول ہونے کی واضح دلیل پیش کرنے والا ہوں جس سے تمھیں میری رسالت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا۔ {” بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ “} اگرچہ نکرہ ہے مگر اسم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مراد صرف ایک دلیل نہیں بلکہ عصائے موسیٰ سے لے کر وہ تمام معجزے ہیں جو موسیٰ علیہ السلام پہلی مرتبہ فرعون کے پاس آنے سے لے کر مصر میں قیام کے آخری وقت تک دکھاتے رہے۔
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →