بیشک (اللہ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو پرہیزگار لوگ ہیں وہ امن و سکون کی جگہ پر ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک متقی لوگ امن والی جگہ میں ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل] پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730] پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837] اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 51) {اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ:} کفار کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسنِ انجام کا ذکر فرمایا۔ {” مَقَامٍ اَمِيْنٍ “} (امن والی جگہ) سے مراد وہ جگہ جہاں نہ موت کا کھٹکا ہے نہ نکالے جانے کی فکر، نہ کوئی غم نہ پریشانی اور نہ محنت نہ مشقت۔ ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُنَادِيْ مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوْا فَلَا تَسْقَمُوْا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوْتُوْا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوْا فَلَا تَهْرَمُوْا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوْا فَلَا تَبْأَسُوْا أَبَدًا ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب في دوام نعیم أھل الجنۃ…: ۲۸۳۷ ] ”(اہلِ جنت کو) ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ تمھیں یہ نعمت حاصل ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے اور تمھیں یہ نعمت حاصل ہے کہ زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے اور تمھیں یہ نعمت حاصل ہے کہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھیں یہ نعمت حاصل ہے کہ خوش حال رہو گے کبھی خستہ حال نہیں ہو گے۔“
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل] پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730] پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837] اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 52) {فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ:} یہ امن والی جگہ کا بیان ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۴۵)۔
باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
پہنیں گے کریب اور قنادیز آمنے سامنے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ سندس و اسبترق (باریک اور دبیز ریشم) کے کپڑے پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ باریک ریشم اور گاڑھے ریشم کا لباس پہنیں گے، اس حال میں کہ آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل] پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730] پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837] اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
53۔ 1 اہل کفر و فسق کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ کا مقام بیان کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنا دامن کفر و فسق اور معاصی سے بچائے رکھا تھا۔ آمین کا مطلب ایسی جگہ، جہاں ہر قسم کے خوف اور اندیشوں سے وہ محفوظ ہونگے۔
(آیت 53){ يَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ:” سُنْدُسٍ “} باریک ریشمی کپڑا۔ {” اِسْتَبْرَقٍ “} گاڑھے دبیز ریشم کا کپڑا۔ {” مُتَقٰبِلِيْنَ “} آمنے سامنے، کسی کی پشت دوسرے کی طرف نہیں ہو گی۔
یہ ہوگی ان کی شان اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں ان سے بیاہ دیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اسی طرح ہے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا نکاح کردیں گے
احمد رضا خان بریلوی
یونہی ہے، اور ہم نے انہیں بیاہ دیا نہایت سیاہ اور روشن بڑی آنکھوں والیوں سے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ بات اسی طرح ہے اور ہم ان کی گوری رنگت اور بڑی آنکھوں والی عورتوں (حوروں) سے شادی کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح ہو گا اور ہم ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کر دیںگے، جو بڑی آنکھوں والی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل] پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730] پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837] اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
54۔ 2 حُورَاَءُ اس لئے کہا جاتا ہے کہ نظریں ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوجائیں گی کشادہ چشم جیسے ہرن کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ ہر جنتی کو کم ازکم دو حوریں ضرور ملیں گی، جو حسن جمال کے اعتبار سے چندے آفتاب و ماہتاب ہوں گی۔ البتہ ترمذی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، جسے صحیح کہا گیا ہے، کہ شہید کو خصوصی طور پر 72 حوریں ملیں گی۔
(آیت 54) ➊ {كَذٰلِكَ: ”أَيْ اَلْأَمْرُ كَذٰلِكَ“} یا {” يَكُوْنُ كَذٰلِكَ“} یعنی ایسے ہی ہو گا، نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ➋ { وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ:” حُوْرٌ “ ”حَوْرَاءُ“} کی جمع ہے، نہایت گوری عورت جس کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہو، جسے دیکھتے ہی بندہ حیران رہ جائے۔ بعض نے معنی کیا، سیاہ آنکھ والی عورت جس کی آنکھ میں سفیدی کا حصہ بہت کم ہو۔ {” عِيْنٍ “ ”عَيْنَاءُ“} کی جمع ہے، بڑی آنکھوں والی عورت۔
وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوؤں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے امن و امان سے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اس میں بڑے امن و سکون کے ساتھ ہر قِسم کے میوے طلب کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں ہر پھل بے خوف ہو کر منگوا رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل] پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730] پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837] اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
55۔ 1 آمِنِیْنَ (بےخوفی کے ساتھ) کا مطلب ان کے ختم ہونے کا اندیشہ ہوگا نہ کے کھانے سے بیماری وغیرہ کا خوف یا موت، تھکاوٹ اور شیطان کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔
(آیت 55) {يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ:} بے خوف ہو کر منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ انھیں یہ فکر ہو گا کہ وہ چیز موجود نہ ہو، نہ یہ کہ قیمت کہاں سے ادا کریں گے، نہ یہ کہ ختم ہو جائے گی، نہ یہ کہ کھانے سے بدہضمی نہ ہو جائے، پھر نہ قبض کا خوف نہ اسہال کا۔ غرض جو چاہیں گے بے فکر ہو کر جنت کے خادموں کو لانے کا حکم دیں گے۔
وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آ چکی سو آ چکی اور اللہ اپنے فضل سے،
مولانا محمد جوناگڑھی
وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا
احمد رضا خان بریلوی
اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہاں پہلے والی موت کے سوا موت کامزہ نہیں چکھیں گے اور اللہ نے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، مگر وہ موت جو پہلی تھی اور وہ انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب سے بچائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭
بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل] پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730] پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837] اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔
56۔ 1 یعنی دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی، اس موت کے بعد انہیں موت کا مزہ نہیں چکھنا پڑے گا جیسے حدیث میں آتا ہے ' کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر دوزخ اور جنت کے درمیاں ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا اے جنتیو! تمہارے لئے جنت کی زندگی دائمی ہے، اب تمہارے لئے موت نہیں۔ اور اے جہنمیوں! تمہارے لئے جہنم کا عذاب دائمی ہے موت نہیں
(آیت 56) ➊ { لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى:} ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُؤْتٰی بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنََ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ وَكُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ، ثُمَّ يُنَادِيْ يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ وَ كُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ، فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُوْلُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ وَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ: «وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» وَهٰؤُلَاء فِيْ غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا «وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ عز وجل: «و أنذرھم یوم الحسرۃ» : ۴۷۳۰ ] ”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: ”اے جنت والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا: ”اے آگ والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، تو اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: ”اے جنت والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» [ مریم: ۳۹ ] ”اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں۔“ یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔“ مزید دیکھیے سورۂ مریم (۳۹)۔ ➋ { وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جو شخص جنت میں داخل ہو گیا اس کا جہنم سے بچنا تو خود بخود ظاہر ہے، پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ انھیں بھڑکتی آگ سے بچا لے گا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ جنت کی قدر پوری طرح اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اس کے پیشِ نظر یہ بات بھی ہو کہ اگر میں جہنم میں ہوتا تو میرا کیا حال ہوتا۔
ان کو جہنم کے عذاب سے بچا دے گا یہی بڑی کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے، یہی ہے بڑی کامیابی
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ سب کچھ آپ کے پروردگار کے فضل و کرم سے ہوگا اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تیرے رب کی طرف سے فضل کی وجہ سے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔ [صحیح بخاری:6467] ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ 58- المجادلة: 21 ] ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [ 40- غافر: 52، 51 ] ، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔
57۔ 1 جس طرح حدیث میں آتا ہے، فرمایا یہ بات جان لو! تم میں کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ! آپ کو بھی؟ فرمایا ' ہاں مجھے بھی، مگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں ڈھانپ لے گا ' (صحیح بخاری)
(آیت 57) {فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} یعنی جنت میں داخلہ کسی کے استحقاق یا اعمال کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ محض اللہ کے فضل سے ہو گا، کیونکہ آدمی جتنے اعمال بھی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کا بدل نہیں ہو سکتے۔ اس سے پہلے آیت (۴۲) کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث گزر چکی ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
اے نبیؐ، ہم نے اِس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان کیا کہ وہ سمجھیں
علامہ محمد حسین نجفی
پس ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان پر بالکل آسان بنا دیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
عبدالسلام بن محمد
سو حقیقت یہی ہے کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کر دیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔ [صحیح بخاری:6467] ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ 58- المجادلة: 21 ] ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [ 40- غافر: 52، 51 ] ، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 58){ فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ:} سورت کی ابتدا قرآن کریم کی عظمت و اہمیت کے بیان سے ہوئی تھی، آخر میں پھر اسی کی طرف توجہ دلائی کہ ہم نے یہ قرآن آپ کی زبان عربی میں آسان کر دیا ہے، تاکہ عرب لوگ اسے اپنی زبان میں ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ سمجھ لیں اور غیر عرب لوگوں کو سمجھائیں۔ مزید دیکھیے سورۂ مریم کی آیت (۹۷) کی تفسیر۔
(اچھا) آپ انتظار کیجئے! یقیناً وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس انتظار کر،بے شک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔ [صحیح بخاری:6467] ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ 58- المجادلة: 21 ] ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [ 40- غافر: 52، 51 ] ، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔
59۔ 1 تو عذاب الٰہی کا انتظار کر، اگر یہ ایمان نہ لائے۔ یہ منتظر ہیں اس بات کے کہ اسلام کے غلبہ و نفوذ سے قبل ہی شاید آپ موت سے ہمکنار ہوجائیں۔
(آیت 59) {فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ:} یعنی اگر قرآن آسان ہونے کے باوجود یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو آپ انتظار کیجیے کہ کب اللہ کی پکڑ ان پر آتی ہے۔ یہ لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں کہ آپ کب زمانے کی کسی گردش میں آتے ہیں اور کب ان کی جان چھوٹتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ (30) قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ» [ الطور: ۳۰، ۳۱ ] ”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟ کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔“