بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الدخان — Surah Dukhan
آیت نمبر 57
کل آیات: 59
قرآن کریم الدخان آیت 57
آیت نمبر: 57 — سورۃ الدخان islamicurdubooks.com ↗
فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۵۷﴾
ان کو جہنم کے عذاب سے بچا دے گا یہی بڑی کامیابی ہے
یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے، یہی ہے بڑی کامیابی
تمہارے رب کے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے،
یہ سب کچھ آپ کے پروردگار کے فضل و کرم سے ہوگا اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
تیرے رب کی طرف سے فضل کی وجہ سے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اسی لیے ساتھ ہی فرمایا کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے تم ٹھیک ٹھاک رہو قریب قریب رہو اور یقین مانو کہ کسی کے اعمال اسے جنت میں نہیں لے جا سکتے لوگوں نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی؟ فرمایا ہاں میرے اعمال بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو۔ [صحیح بخاری:6467] ‏‏‏‏ ہم نے اپنے نازل کردہ اس قرآن کریم کو بہت سہل، بالکل آسان،صاف ظاہر، بہت واضح مدلل اور روشن کر کے تجھ پر تیری زبان میں نازل فرمایا ہے جو بہت فصیح و بلیغ بڑی شیریں اور پختہ ہے تاکہ لوگ بآسانی سمجھ لیں اور بخوشی عمل کریں۔ باوجود اس کے بھی جو لوگ اسے جھٹلائیں نہ مانیں تو انہیں ہوشیار کر دے اور کہ دے کہ اچھا اب تم بھی انتظار کرو میں بھی منتظر ہوں تم دیکھ لو گے کہ اللہ کی طرف سے تائید ہوتی ہے؟ کس کا کلمہ بلند ہوتا ہے؟ کسے دنیا اور آخرت ملتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم تسلی رکھو فتح و ظفر تمہیں ہو گی میری عادت ہے کہ اپنے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کو اونچا کروں جیسے ارشاد ہے «كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ» [ 58- المجادلة: 21 ] ‏‏‏‏، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے اور آیت میں ہے «اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [ 40- غافر: 52، 51 ] ‏‏‏‏، یعنی یقیناً ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوں گے اور ظالموں کو ان کے عذر نفع نہ دیں گے ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا۔

📖 احسن البیان

57۔ 1 جس طرح حدیث میں آتا ہے، فرمایا یہ بات جان لو! تم میں کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ! آپ کو بھی؟ فرمایا ' ہاں مجھے بھی، مگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں ڈھانپ لے گا ' (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 57) {فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} یعنی جنت میں داخلہ کسی کے استحقاق یا اعمال کی وجہ سے نہیں ہو گا بلکہ محض اللہ کے فضل سے ہو گا، کیونکہ آدمی جتنے اعمال بھی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کا بدل نہیں ہو سکتے۔ اس سے پہلے آیت (۴۲) کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث گزر چکی ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (56) پوری سورۃ اگلی آیت (58) →