بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الدخان — Surah Dukhan
آیت نمبر 56
کل آیات: 59
قرآن کریم الدخان آیت 56
آیت نمبر: 56 — سورۃ الدخان islamicurdubooks.com ↗
لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَۃَ الۡاُوۡلٰی ۚ وَ وَقٰہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۵۶﴾
وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آ چکی سو آ چکی اور اللہ اپنے فضل سے،
وہاں وه موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت (جو وه مر چکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا
اس میں پہلی موت کے سوا پھر موت نہ چکھیں گے اور اللہ نے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا،
وہ وہاں پہلے والی موت کے سوا موت کامزہ نہیں چکھیں گے اور اللہ نے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا ہے۔
وہ اس میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، مگر وہ موت جو پہلی تھی اور وہ انھیں بھڑکتی آگ کے عذاب سے بچائے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جب موت کو ذبح کرایا جائے گا ٭٭

بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن و امان سے ہوں گے۔ موت سے، وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بے فکر مطمئن اور بے اندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہو گا اور دبیز چمکیلا بھی ہو گا۔ یہ تختوں پر بڑے طمطراق سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے اور کسی کی کسی کی طرف پیٹھ نہ ہو گی بلکہ سب ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس عطا کے ساتھ ہی انہیں حوریں دی جائیں گی جو گورے چٹے پنڈے کی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی ہوں گی جن کے پاک جسم کو ان سے پہلے کسی نے چھوا بھی نہ ہو گا۔ وہ یاقوت و مرجان کی طرح ہوں گی۔ اور کیوں نہ ہو جب انہوں نے اللہ کا ڈر دل میں رکھا اور دنیا کی خواہشوں کی چیزوں سے محض فرمان اللہ کو مدنظر رکھ کر بچے رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ یہ بہترین سلوک کیوں نہ کرتا؟ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اگر ان حوروں میں سے کوئی کھاری سمندر میں تھوک دے تو اس کا سارا پانی میٹھا ہو جائے۔ [ابو نعیم فی صفة الجنة:386،ضعیف و باطل] ‏‏‏‏ پھر وہاں یہ جس میوے کی طلب کریں گے موجود ہو گا جو مانگیں گے ملے گا ادھر ارادہ کیا ادھر موجود ہوا، خواہش ہوئی اور حاضر ہوا پھر نہایت بے فکری سے کمی کا خوف نہیں ہو گا ختم ہو جانے کا کھٹکا نہیں ہو گا پھر فرمایا وہاں انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ [صحیح بخاری:4730] ‏‏‏‏ پھر استثناء منقطع لا کر اس کی تاکید کر دی۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ موت کو بھیڑیئے کی صورت میں لا کر جنت دوزخ کے درمیان ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ جنتیو! اب ہمیشگی ہے کبھی موت نہیں۔ اور اے جہنمیو! تمہارے لیے بھی ہمیشہ رہنا ہے کبھی موت نہ آئے گی۔ سورۃ مریم کی تفسیر میں بھی یہ حدیث گذر چکی ہے۔ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ جنتیوں سے کہہ دیا جائے گا کہ تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی مرو گے نہیں اور ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی کمی نہ ہو گی اور ہمیشہ جوان بنے رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے [صحیح مسلم:2837] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے جو اللہ سے ڈرتا رہے گا جنت میں جائے گا جہاں نعمتیں پائے گا کبھی محتاج نہ ہو گا جئے گا کبھی مرے گا نہیں جہاں کپڑے میلے نہ ہوں گے اور جوانی فنا نہ ہو گی۔ [طبرانی اوسط:4895:ضعیف] ‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ کیا جنتی سوئیں گے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیند موت کی بہن ہے جنتی سوئیں گے نہیں ہر وقت راحت و لذت میں مشغول رہیں گے۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1087،حسن] ‏‏‏‏ یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے اور اس سے پہلے سندوں کا خلاف گذر چکا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس راحت و نعمت کے ساتھ یہ بھی بڑی نعمت ہے کہ انہیں پروردگار عالم نے عذاب جہنم سے نجات دے دی ہے۔ تو مطلوب حاصل ہے اور خوف زائل ہے۔

📖 احسن البیان

56۔ 1 یعنی دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی، اس موت کے بعد انہیں موت کا مزہ نہیں چکھنا پڑے گا جیسے حدیث میں آتا ہے ' کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر دوزخ اور جنت کے درمیاں ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا اے جنتیو! تمہارے لئے جنت کی زندگی دائمی ہے، اب تمہارے لئے موت نہیں۔ اور اے جہنمیوں! تمہارے لئے جہنم کا عذاب دائمی ہے موت نہیں

📖 القرآن الکریم

(آیت 56) ➊ { لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى:} ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُؤْتٰی بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنََ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ وَكُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ، ثُمَّ يُنَادِيْ يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ وَ كُلُّهُمْ قَدْ رَاٰهُ، فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُوْلُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ وَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ: «‏‏‏‏وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» وَهٰؤُلَاء فِيْ غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا «‏‏‏‏وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ عز وجل: «‏‏‏‏و أنذرھم یوم الحسرۃ» : ۴۷۳۰ ] ”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: ”اے جنت والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا: ”اے آگ والو!“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، تو اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: ”اے جنت والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» ‏‏‏‏ [ مریم: ۳۹ ] ”اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں۔“ یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔“ مزید دیکھیے سورۂ مریم (۳۹)۔ ➋ { وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ:} یہاں ایک سوال ہے کہ جو شخص جنت میں داخل ہو گیا اس کا جہنم سے بچنا تو خود بخود ظاہر ہے، پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ انھیں بھڑکتی آگ سے بچا لے گا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ جنت کی قدر پوری طرح اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اس کے پیشِ نظر یہ بات بھی ہو کہ اگر میں جہنم میں ہوتا تو میرا کیا حال ہوتا۔
← پچھلی آیت (55) پوری سورۃ اگلی آیت (57) →