بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الدخان — Surah Dukhan
آیت نمبر 21
کل آیات: 59
قرآن کریم الدخان آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ الدخان islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِیۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱﴾
اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو"
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں ﻻتے تو مجھ سے الگ ہی رہو
اور اگر میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو پھر مجھ سے الگ ہی رہو۔
اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قبطیوں کا انجام ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے پہلے مصر کے قبطیوں کو ہم نے جانچا ان کی طرف اپنے بزرگ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے میرا پیغام پہنچایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ کر دو انہیں دکھ نہ دو میں اپنی نبوت پر گواہی دینے والے معجزے اپنے ساتھ لایا ہوں اور ہدایت کے ماننے والے سلامتی سے رہیں گے۔ [20-طه:47] ‏‏‏‏ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کا امانت دار بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے میں تمہیں اس کا پیغام پہنچا رہا ہوں تمہیں رب کی باتوں کے ماننے سے سرکشی نہ کرنی چاہیئے اس کے بیان کردہ دلائل و احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔ اس کی عبادتوں سے جی چرانے والے ذلیل و خوار ہو کر جہنم واصل ہوتے ہیں میں تو تمہارے سامنے کھلی دلیل اور واضح آیت رکھتا ہوں میں تمہاری بدگوئی اور اہتمام سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو صالح رحمہ اللہ تو یہی کہتے ہیں اور حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد پتھراؤ کرنا پتھروں سے مار ڈالنا ہے یعنی زبانی ایذاء سے اور دستی ایذاء سے میں اپنے رب کی جو تمہارا بھی مالک ہے پناہ چاہتا ہوں اچھا اگر تم میری نہیں مانتے مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم میری تکلیف دہی اور ایذاء رسانی سے تو باز رہو۔ اور اس کے منتظر رہو جب کہ خود اللہ ہم میں تم میں فیصلہ کر دے گا پھر جب اللہ کے نبی کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک لمبی مدت ان میں گذاری خوب دل کھول کھول کر تبلیغ کر لی ہر طرح کی خیر خواہی کی ان کی ہدایت کے لیے ہر چند جتن کر لیے اور دیکھا کہ وہ روز بروز اپنے کفر میں بڑھتے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بد دعا کی جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ‏‏‏‏ [ 10-يونس: 88 ] ‏‏‏‏ موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب تو نے فرعون اور اس کے امراء کو دنیوی نمائش اور مال و متاع دے رکھی ہے اے اللہ یہ اس سے دوسروں کو بھی تیری راہ سے بھٹکا رہے ہیں تو ان کا مال غارت کر اور ان کے دل اور سخت کر دے تاکہ درد ناک عذابوں کے معائنہ تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ «قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» [ 10-يونس: 89 ] ‏‏‏‏ اے موسیٰ اور اے ہارون علیہم السلام میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اب تم استقامت پر تل جاؤ۔ [10-يونس:88-89] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

21۔ 1 یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) {وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ فَاعْتَزِلُوْنِ:} یعنی اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، مجھے ایذا نہ پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے سے نہ روکو۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →