اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی، تو اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے واﻻ آیا، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا، گویا جانتے ہی نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب پیٹھ پیچھے پھینک دی گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے -
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ رسول (حضرت محمد(ص)) آیا جو ان کے پاس والی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے تو انہی اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتابِ خدا (توراۃ) کو اس طرح پس پشت ڈال دیا کہ جیسے کہ وہ اسے جانتے ہی نہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول اس کی تصدیق کرنے والا آیا جو ان کے پاس ہے تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے، جنھیں کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، جیسے وہ نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوسری جگہ صاف بیان ہے کہ ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا فرمایا آیت «يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» [ 7۔ الاعراف: 157 ] یعنی یہ لوگ توراۃ وانجیل میں حضور کا ذکر موجود پاتے ہیں یہاں بھی فرمایا ہے کہ جب ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہمارے پیغمبر ان کے پاس آیا تو ان کے ایک فریق نے اللہ رب العزت کی کتاب سے بےپرواہی برت کر اس طرح اسے چھوڑ دیا جیسے کوئی علم ہی نہیں۔
11۔ 1 اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی آیات بیّنات عطا کی ہیں، جن کو دیکھ کر یہود کو بھی ایمان لے آنا چاہیے تھا۔ علاوہ ازیں خود ان کی کتاب تورات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کا ذکر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا عہد موجود ہے، لیکن انہوں نے پہلے بھی کسی عہد کی کب پرواہ کی ہے جو اس عہد کی وہ کریں گے؟ عہد شکنی ان کے گروہ کی ہمیشہ عادت رہی ہے۔ حتٰی کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بھی اس طرح پس پشت ڈال دیا، جیسے وہ اسے جانتے ہی نہیں۔
(آیت 101) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو تورات اور دوسری آسمانی کتب { ”لِمَا مَعَهُمْ“ } میں نبی آخر الزماں کے مذکور تھے۔ اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تورات اور ان کے پاس موجود دوسری آسمانی کتب {”لِمَا مَعَهُمْ“} کے پوری طرح مصداق تھے، مگر یہود کی بدنصیبی کہ جب آپ ان کے پاس آئے تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا کر تورات کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا، گویا انھیں اپنی کتاب کا بھی پتا نہیں۔ (ابن کثیر)
اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیا طین، سلیمانؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمانؑ نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے وہ پیچھے پڑے اُس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ "دیکھ، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو" پھر بھی یہ لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے، جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ظاہر تھا کہ اذنِ الٰہی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے، مگراس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان د ہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا!
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا-
علامہ محمد حسین نجفی
اور (یہ لوگ) ان (بے بنیاد) چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کے عہد سلطنت میں پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا۔ بلکہ ان شیطانوں نے کفر کیا جو لوگوں کو جادو کی تعلیم دیتے تھے (نیز) وہ اس چیز (جادو) کی پیروی کرنے لگے جو بابل کے مقام پر ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں پر اتاری گئی۔ حالانکہ یہ دونوں فرشتے اس وقت تک کسی کو کچھ تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک پہلے یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم محض آزمائش ہیں۔ لہٰذا (اس علم کو غلط استعمال کرکے) کافر نہ ہو جانا (بایں ہمہ) لوگ ان سے وہ کچھ سیکھتے تھے جس سے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ حالانکہ وہ اذنِ خدا کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ الغرض وہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جو ان کو ضرر پہنچاتی تھی اور کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی تھی۔ اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جو شخص (دین کے بدلے) ان چیزوں کو خریدے گا۔ اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور کس قدر برا (معاوضہ) ہے جس پر انہوں نے اپنی جانوں کا سودا کیا۔ کاش انہیں اس کا علم ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان کے عہدحکومت میں پڑھتے تھے اور سلیمان نے کفر نہیں کیا اور لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی، حالانکہ وہ دونوں کسی ایک کو نہیں سکھاتے تھے، یہاں تک کہ کہتے ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، سو تو کفر نہ کر۔ پھر وہ ان دونوں سے وہ چیز سیکھتے جس کے ساتھ وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے اور وہ اس کے ساتھ ہرگز کسی کو نقصان پہنچانے والے نہ تھے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ۔ اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انھیں نقصان پہنچاتی اور انھیں فائدہ نہ دیتی تھی۔ حالانکہ بلاشبہ یقینا وہ جان چکے تھے کہ جس نے اسے خریدا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اور بے شک بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انھوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا۔ کاش! وہ جانتے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلکہ جادو کے پیچھے پڑ گئے اور خود حضور پر جادو کیا جس کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب باری تعالیٰ نے دی اور اس کا اثر زائل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاء ملی۔ توراۃ سے تو حضور کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے اس لیے کہ وہ تو اس کی تصدیق والی تھی تو اسے چھوڑ کر دوسری کتابوں کی پیروی کرنے لگے اور اللہ کی کتاب کو اس طرح چھوڑ دیا کہ گویا کبھی جانتے ہی نہ تھے نفسانی خواہشیں سامنے رکھ لیں اور کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا یہ بھی کہا گیا ہے کہ راگ باجے کھیل تماشے اور اللہ کے ذکر سے روکنے والی ہر چیز آیت «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ» [ 2-البقرہ: 102 ] میں داخل ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس سیدنا فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کے پاس ایک انگوٹھی تھی جب آپ علیہ السلام بیت الخلاء جاتے تو اپنی بیوی جرادہ کو دے جاتے جب سلیمان علیہ السلام کی آزمائش کا وقت آیا اس وقت ایک شیطان جن آپ علیہ السلام کی صورت میں آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کے پاس آیا اور انگوٹھی طلب کی جو دے دی گئی اس نے پہن لی اور تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا تمام جنات وغیرہ حاضر خدمت ہو گئے حکومت کرنے لگا ادھر جب سلیمان علیہ السلام واپس آئے اور انگوٹھی طلب کی تو جواب ملا تو جھوٹا ہے انگوٹھی تو سلیمان لے گئے آپ علیہ السلام نے سجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے ان دنوں میں شیاطین نے جادو، نجوم، کہانت، شعر و اشعار اور غیب کی جھوٹی سچی خبروں کی کتابیں لکھ لکھ کر سلیمان علیہ السلام کی کرسی تلے دفن کرنی شروع کر دیں آپ علیہ السلام کی آزمائش کا یہ زمانہ ختم ہو گیا آپ پھر تخت و تاج کے مالک ہوئے عمر طبعی کو پہنچ کر جب رحلت فرمائی تو شیاطین نے انسانوں سے کہنا شروع کیا کہ سلیمان کا خزانہ اور وہ کتابیں جن کے ذریعہ سے وہ ہواؤں اور جنات پر حکمرانی کرتے تھے ان کی کرسی تلے دفن ہیں چونکہ جنات اس کرسی کے پاس نہیں جا سکتے تھے اس لیے انسانوں نے اسے کھودا تو وہ کتابیں برآمد ہوئیں بس ان کا چرچا ہو گیا اور ہر شخص کی زبان پر چڑھ گیا کہ سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا راز یہی تھا بلکہ لوگ سلیمان علیہ السلام کی نبوت سے منکر ہو گئے اور آپ علیہ السلام کو جادوگر کہنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو عقدہ کشائی کی اور فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ جادوگری کا یہ کفر تو شیاطین کا پھیلایا ہوا ہے سلیمان علیہ السلام اس سے بری الذمہ ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا عراق سے! فرمایا عراق کے کس شہر سے؟ اس نے کہا کوفہ سے! پوچھا وہاں کی کیا خبریں ہیں؟ اس نے کہا وہاں باتیں ہو رہی ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ انتقال نہیں کر گئے بلکہ زندہ روپوش ہیں اور عنقرب آئیں گے آپ کانپ اٹھے اور فرمانے لگے اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کی میراث تقسیم نہ کرتے اور ان کی عورتیں اپنا دوسرا نکاح نہ کرتیں سنو شیاطین آسمانی باتیں چرا لایا کرتے تھے اور ان میں اپنی باتیں ملا کر لوگوں میں پھیلایا کرتے تھے، سلیمان علیہ السلام نے یہ تمام کتابیں جمع کر کے اپنی کرسی تلے دفن کر دیں۔ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد جنات نے وہ پھر نکال لیں وہی کتابیں عراقیوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان ہی کتابوں کی باتیں وہ بیان کرتے اور پھیلاتے رہتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ» [ 2-البقرہ: 102 ] میں ہے۔
اس زمانہ میں یہ بھی مشہور ہو گیا تھا کہ شیاطین علم غیب جانتے ہیں سلیمان علیہ السلام نے ان کتابوں کو صندوق میں بھر کر دفن کر دینے کے بعد یہ حکم جاری کر دیا کہ جو یہ کہے گا اس کی گردن ماری جائے گی بعض روایتوں میں ہے کہ جنات نے ان کتابوں کو سلیمان علیہ السلام کے انتقال کے بعد آپ علیہ السلام کی کرسی تلے دفن کیا تھا اور ان کے شروع صفحہ پر لکھ دیا تھا کہ یہ علمی خزانہ آصف بن برخیا کا جمع کیا ہوا ہے جو سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے وزیر اعظم مشیر خاص اور دلی دوست تھے. یہودیوں میں مشہور تھا کہ سلیمان علیہ السلام نبی نہ تھے بلکہ جادوگر تھے اس بنا پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اللہ کے سچے نبی علیہ السلام نے ایک سچے نبی کی برات کی اور یہودیوں کے اس عقیدے کا ابطال کیا وہ سلیمان علیہ السلام کا نام نبیوں کے زمرے میں سن کر بہت بدکتے تھے اس لیے تفصیل کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کر دیا۔ ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ سلیمان نے تمام موذی جانوروں سے عہد لیا تھا جب انہیں وہ عہد یاد کرایا جاتا تھا تو وہ ستاتے نہ تھے پھر لوگوں نے اپنی طرف سے عبارتیں بنا کر جادو کی قسم کے منتر تنتر بنا کر ان سب کو آپ علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا جس کا بطلان ان آیات کریمہ میں ہے یاد رہے کہ «علی» یہاں پر «فی» کے معنی میں ہے یا «تتلو» متضمن ہے تکذب کا، یہی اولیٰ اور احسن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں جادوگروں کا ہونا قرآن سے ثابت ہے اور سلیمان علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہونا بھی قرآن سے ظاہر ہے۔ داؤد علیہ السلام اور جالوت کے قصے میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» [ البقرہ: 246 ] بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے صالح علیہ السلام کو ان کی قوم نے کہا تھا آیت «قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ» [ 26-الشعرأ: 153 ] یعنی تو جادو کئے گئے لوگوں میں سے ہے۔ پھر فرماتا ہے آیت «وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ» [ البقرہ: 102 ] الخ بعض تو کہتے ہیں یہاں پر «ما» نافیہ ہے یعنی انکار کے معنی میں ہے اور اس کا عطف «ماکفر سلیمان» پر ہے یہودیوں کے اس دوسرے اعتقاد کی کہ جادو فرشتوں پر نازل ہوا ہے اس آیت میں تردید ہے۔
ہاروت، ماروت لفظ شیاطین کا بدل ہے تثنیہ پر بھی جمع کا اطلاق ہوتا ہے جیسے آیت «فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ» [ 4-النساء: 11 ] میں یا اس لیے جمع کیا گیا کہ ان کے ماننے والوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اور ان کا نام ان کی زیادہ سرکشی کی وجہ سے سرفہرست دیا گیا ہے قرطبی تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا یہی ٹھیک مطلب ہے اس کے سوا کسی اور معنی کی طرف التفات بھی نہ کرنا چاہیئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:419/2] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جادو اللہ عزوجل کا نازل کیا ہوا نہیں۔ سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان پر کوئی جادو نہیں اترا۔ [ایضاً] اس بناء پر آیت کا ترجمہ اس طرح پر ہو گا کہ ان یہودیوں نے اس چیز کی تابعداری کی جو سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں شیطان پڑھا کرتے تھے سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا نہ اللہ تعالیٰ نے جادو کو ان دو فرشتوں پر اتارا ہے۔ (جیسے، اے یہودیو! تمہارا خیال جبرائیل علیہ السلام و میکائیل علیہ السلام کی طرف ہے۔) بلکہ یہ کفر شیطانوں کا ہے جو بابل میں لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور ان کے سردار دو آدمی تھے جن کا نام ہاروت و ماروت تھا۔ عبدالرحمٰن بن ابزی رحمہ اللہ اسے اس طرح پڑھتے تھے آیت «وما انزل علی الملکین داود وسلیمان» یعنی داؤد و سلیمان دونوں بادشاہوں پر بھی جادو نہیں اتارا گیا یا یہ کہ وہ اس سے روکتے تھے کیونکہ یہ کفر ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کا زبردست رد کیا ہے وہ فرماتے ہیں «ما» معنی میں «الذی» کے ہے اور ہاروت ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ نے زمین کی طرف اتارا ہے اور اپنے بندوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے انہیں جادو کی تعلیم دی ہے، لہٰذا ہاروت ماروت اس فرمان باری تعالیٰ کو بجا لا رہے ہیں۔
ایک غریب قول یہ بھی ہے کہ یہ جنوں کے دو قبیلے ہیں مَلِکیٗنِ یعنی دو بادشاہوں کی قرأت پر انزال خلق کے معنی میں ہو گا جیسے فرمایا آیت «وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ» [ 39-الزمر: 6 ] اور فرمایا آیت «وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ» [ 57-الحديد: 25 ] اور کہا آیت «وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ رِزْقًا» [ 40۔ غافر: 13 ] یعنی ہم نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا کئے، لوہا بنایا، آسمان سے روزیاں اتاریں۔ حدیث میں ہے دعا «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً» یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی بیماریاں پیدا کی ہیں ان سب کے علاج بھی پیدا کئے ہیں مثل مشہور ہے کہ بھلائی برائی کا نازل کرنے والا اللہ ہے یہاں سب جگہ انزال یعنی پیدائش کے معنی میں ہے ایجاد یعنی لانے اور اتارنے کے معنی میں نہیں اسی طرح اس آیت میں بھی اکثر سلف کا مذہب یہ ہے کہ یہ دونوں فرشتے تھے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ مضمون بسط و طول کے ساتھ ہے جو ابھی بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ فرشتے تو معصوم ہیں وہ گناہ کرتے ہی نہیں چہ جائیکہ لوگوں کو جادو سکھائیں جو کفر ہے اس لیے کہ یہ دونوں بھی عام فرشتوں میں سے خاص ہو جائیں گے۔ جیسے کہ ابلیس کی بابت آپ آیت «وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ» [ البقرہ: 34 ] الخ، کی تفسیر میں پڑھ چکے ہیں۔ سیدنا علی ابن مسعود ابن عباس ابن عمر کعب احبار رضی اللہ عنہم، سدی، کلبی رحمہ اللہ علیہما یہی فرماتے ہیں۔
اب اس حدیث کو سنیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا اور ان کی اولاد پھیلی اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہونے لگی تو فرشتوں نے کہا کہ دیکھو یہ کس قدر برے لوگ ہیں کیسے نافرمان اور سرکش ہیں ہم اگر ان کی جگہ ہوتے تو ہرگز ہرگز اللہ کی نافرمانی نہ کرتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو پسند کر لو میں ان میں انسانی خواہشات پیدا کرتا ہوں اور انہیں انسانوں میں بھیجتا ہوں پھر دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے ہاروت و ماروت کو پیش کیا اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانی طبیعت پیدا کی اور ان سے کہہ دیا کہ دیکھو بنی آدم کو تو میں نبیوں کے ذریعہ اپنے حکم احکام پہنچاتا ہوں لیکن تم سے بلاواسطہ خود کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا زنا نہ کرنا، شراب نہ پینا، اب یہ دونوں زمین پر اترے اور زہرہ کو ان کی آزمائش کے لیے حسین و شکیل عورت کی صورت میں ان کے پاس بھیجا جسے دیکھ کر یہ مفتوں ہو گئے اور اس سے زنا کرنا چاہا اس نے کہا اگر تم شرک کرو تو میں منظور کرتی ہوں انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہم سے نہ ہو سکے گا وہ چلی گئی پھر آئی اور کہنے لگی اچھا اس بچے کو قتل کر ڈالو تو مجھے تمہاری خواہش پوری کرنی منظور ہے انہوں نے اسے بھی نہ مانا وہ پھر آئی اور کہا کہ اچھا یہ شراب پی لو انہوں نے اسے ہلکا گناہ سمجھ کر اسے منظور کر لیا۔ اب نشہ میں مست ہو کر زناکاری بھی کی اور اس بچے کو بھی قتل کر ڈالا جب ہوش حواس درست ہوئے تو اس عورت نے کہا جن جن کاموں کا تم پہلے انکار کرتے تھے سب تم نے کر ڈالے۔ یہ نادم ہوئے انہیں اختیار دیا گیا کہ یا تو عذاب دنیا کو اختیار کرو یا عذاب اخروی کو۔ انہوں نے دنیا کے عذاب پسند کیے۔ صحیح ابن حبان مسند احمد ابن مردویہ ابن جریر عبدالرزاق میں یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ [مسند احمد:134/2:باطل] مسند احمد کی یہ روایت غریب ہے اس میں ایک راوی موسیٰ بن جبیر انصاری سلمی کو ابن ابی حاتم نے مستور الحال لکھا ہے۔
ابن مردویہ کی روایت میں یہی ہے کہ ایک رات کو اثناء سفر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا زہرہ تارا نکلا؟ اس نے کہا نہیں دو تین مرتبہ سوال کے بعد کہا اب زہرہ طلوع ہوا تو فرمانے لگے اس سے نہ خوشی ہو نہ بھلائی ملے۔ حضعر نافع رحمہ اللہ نے کہا ایک ستارہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے طلوع و غروب ہوتا ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے برا کہتے ہیں؟ فرمایا میں وہی کہتا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے پھر اس کے بعد مندرجہ بالا حدیث باختلاف الفاظ سنائی۔ [الموضوعات لابن الجوزی:187/1:باطل] لیکن یہ بھی غریب ہے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ والی روایت مرفوع سے زیادہ صحیح موقوف ہے اور ممکن ہے کہ وہ بنی اسرائیلی روایت ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صحابہ اور تابعین سے بھی اس قسم کی روایتیں بہت کچھ منقول ہیں بعض میں ہے کہ زہرہ ایک عورت تھی اس نے ان فرشتوں سے یہ شرط کی تھی کہ تم مجھے وہ دعا سکھا دو جسے پڑھ کر تم آسمان پر چڑھ جاتے ہو انہوں نے سکھا دی یہ پڑھ کر چڑھ گئی اور وہاں تارے کی شکل میں بنا دی گئی۔ [مستدرک حاکم:265/2] بعض مرفوع روایتوں میں بھی یہ ہے لیکن وہ منکر اور غیر صحیح ہیں۔ ایک اور رویات میں ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو فرشتے صرف ایمان والوں کی بخشش کی دعا مانگتے تھے لیکن اس کے بعد تمام اہل زمین کے لیے دعا شروع کر دی بعض روایتوں میں ہے کہ جب ان دونوں فرشتوں سے یہ نافرمانیاں سرزد ہوئیں تب اور فرشتوں نے اقرار کر لیا کہ بنی آدم جو اللہ تعالیٰ سے دور ہیں اور بن دیکھے ایمان لاتے ہیں جن سے خطاؤں کا سرزد ہو جانا کوئی ایسی انوکھی چیز نہیں ان دونوں فرشتوں سے کہا گیا کہ اب یا تو دنیا کا عذاب پسند کر لو یا آخرت کے عذابوں کو اختیار کر لو۔ انہوں نے دنیا کا عذاب چن لیا چنانچہ انہیں بابل میں عذاب ہو رہا ہے۔
ایک رویات میں ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے تھے ان میں قتل سے اور مال حرام سے ممانعت بھی کی تھی اور یہ حکم بھی تھا کہ حکم عدل کے ساتھ کریں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ تین فرشتے تھے لیکن ایک نے آزمائش سے انکار کر دیا اور واپس چلا گیا پھر دو کی آزمائش ہوئی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ واقعہ سلیمان علیہ السلام کے زمانہ کا ہے۔ یہاں بابل سے مراد بابل دنیاوند ہے اس عورت کا نام عربی میں زہرہ تھا اور نبطی زبان میں اس کا نام بیدخت تھا اور فارسی میں ناہید تھا۔ یہ عورت اپنے خاوند کے خلاف ایک مقدمہ لائی تھی جب انہوں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو اس نے کہا پہلے مجھے میرے خاوند کے خلاف حکم دو تو مجھے منظور ہے انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اس نے کہا مجھے یہ بھی بتا دو کہ تم کیا پڑھ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہو اور کیا پڑھ کر اترتے ہو؟ انہوں نے یہ بھی بتا دیا چنانچہ وہ اسے پڑھ کر آسمان پر چڑھ گئی اترنے کا وظیفہ بھول گئی اور وہیں ستارے کی صورت میں مسخ کر دی گئی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر جب کبھی زہرہ ستارے کو دیکھتے تو لعنت بھیجا کرتے تھے اب ان فرشتوں نے جب چڑھنا چاہا تو نہ چڑھ سکے سمجھ گئے کہ اب ہم ہلاک ہوئے۔
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے پہل چند دنوں تک تو فرشتے ثابت قدم رہے صبح سے شام تک فیصلہ عدل کے ساتھ کرتے رہتے شام کو آسمان پر چڑھ جاتے پھر زہرہ کو دیکھ کر اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے زہرہ ستارے کو ایک خوبصورت عورت کی شکل میں بھیجا الغرض ہاروت ماروت کا یہ قصہ تابعین میں سے بھی اکثر لوگوں نے بیان کیا ہے جیسے مجاہد، سدی، حسن بصری، قتادہ، ابوالعالیہ، زہری، ربیع بن انس، مقتل بن حیان وغیرہ وغیرہ رحم اللہ اجمعین اور متقدمین اور متاخیرن مفسرین نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں اسے نقل کیا ہے لیکن اس کا زیادہ تر دار و مدار بنی اسرائیل کی کتابوں پر ہے کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث اس بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور نہ قرآن کریم میں اس قدر بسط و تفصیل ہے پس ہمارا ایمان ہے کہ جس قدر قرآن میں ہے صحیح اور درست ہے اور حقیقت حال کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے [ قرآن کریم کے ظاہری الفاظ مسند احمد ابن حبان بیہقی وغیرہ کی مرفوع حدیث علی ابن عباس بن مسعود وغیرہ کی موقوف روایات تابعین وغیرہ کی تفاسیر وغیرہ ملا کر اس واقعہ کی بہت کچھ تقویت ہو جاتی ہے نہ اس میں کوئی محال عقلی ہے نہ اس میں کسی اصول اسلامی کا خلاف ہے پھر ظاہر سے بیجا ہٹ اور تکلفات اٹھانے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ واللہ اعلم ] [ فتح البیان ]
ابن جریر میں ایک غریب اثر اور ایک عجیب واقعہ ہے اسے بھی سنیے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دومتہ الجندل کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے تھوڑے ہی زمانہ کے بعد آپ کی تلاش میں آئی اور آپ کے انتقال کی خبر پا کر بے چین ہو کر رونے پیٹنے لگی میں نے اس سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا کہ مجھ میں اور میرے شوہر میں ہمیشہ ناچاقی رہا کرتی تھی ایک مرتبہ وہ مجھے چھوڑ کر لاپتہ کہیں چلا گیا، ایک بڑھیا سے میں نے یہ سب ذکر کیا اس نے کہا جو میں کہوں وہ کر وہ خودبخود تیرے پاس آ جائے گا میں تیار ہو گئی وہ رات کے وقت دو کتے لے کر میرے پاس آئی ایک پر وہ خود سوار ہوئی اور دوسرے پر میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں بابل پہنچ گئیں میں نے دیکھا کہ دو شخص ادھر لٹکے ہوئے ہیں اور لوہے میں جکڑے ہوئے ہیں اس عورت نے مجھ سے کہا ان کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ میں جادو سیکھنے آئی ہوں۔
میں نے ان سے کہا انہوں نے کہا سن ہم تو آزمائش میں ہیں تو جادو نہ سیکھ اس کا سیکھنا کفر ہے میں نے کہا میں تو سیکھوں گی انہوں نے کہا اچھا پھر جا اور اس تنور میں پیشاب کر کے چلی آ میں گئی ارادہ کیا لیکن کچھ دہشت سی طاری ہوئی میں واپس آ گئی اور کہا میں فارغ ہو آئی ہوں انہوں نے پوچھا کیا دیکھا؟ میں نے کہا کچھ نہیں انہوں نے کہا تو غلط کہتی ہے ابھی تو کچھ نہیں بگڑا تیرا ایمان ثابت ہے اب بھی لوٹ جا اور کفر نہ کر میں نے کہا مجھے تو جادو سیکھنا ہے انہوں نے پھر کہا جا اور اس تنور میں پیشاب کر آ میں پھر گئی لیکن اب کی مرتبہ بھی دل نہ مانا واپس آئی پھر اسی طرح سوال جواب ہوئے میں تیسری مرتبہ پھر تنور کے پاس گئی اور دل کڑا کر کے پیشاب کرنے کو بیٹھ گئی میں نے دیکھا کہ ایک گھوڑے سوار منہ پر نقاب ڈالے نکلا اور آسمان پر چڑھ گیا ہے۔ واپس چلی آئی ان سے ذکر کیا انہوں نے کہا ہاں اب کی مرتبہ تو سچ کہتی ہے وہ تیرا ایمان تھا جو تجھ میں سے نکل گیا اب جا چلی جا میں آئی اور اس بڑھیا سے کہا انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں سکھایا اس نے کہا بس تجھے کچھ آ گیا اب تو جو کہے گی ہو جائے گا میں نے آزمائش کے لیے ایک دانہ گیہوں کا لیا اسے زمین پر ڈال کر کہا اگ جا وہ فوراً اگ آیا میں نے کہا تجھ میں بال پیدا ہو جائے چنانچہ ہو گئے میں نے کہا سوکھ جا وہ بال سوکھ گئے میں نے کہا الگ الگ دانہ ہو جا وہ بھی ہو گیا پھر میں نے کہا سوکھ جا تو سوکھ گیا پھر میں نے کہا آٹا بن جا تو آٹا بن گیا میں نے کہا روٹی پک جا تو روٹی پک گئی یہ دیکھتے ہی میرا دل نادم ہونے لگا اور مجھے اپنے بے ایمان ہو جانے کا صدمہ ہونے لگا۔ اے ام المؤمنین قسم اللہ کی نہ میں نے اس جادو سے کوئی کام لیا نہ کسی پر کیا میں یونہی روتی پیٹتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں لیکن افسوس بدقستمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی میں نے نہ پایا اب میں کیا کروں؟ اتنا کہہ کر چپ ہو گئی سب کو اس پر ترس آنے لگا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی متحیر تھے کہ اسے کیا فتویٰ دیں؟ آخر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا اب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ تم اس فعل کو نہ کرو توبہ استغفار کرو اور اپنے ماں باپ کی خدمت گزاری کرتی رہو۔
یہاں یہ بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فتویٰ دینے میں بہت احتیاط کرتے تھے کہ چھوٹی سی بات بتانے میں تامل ہوتا تھا آج ہم بڑی سے بڑی بات بھی اٹکل اور رائے قیاس سے گھڑ گھڑا کر بتانے میں بالکل نہیں رکتے اس کی اسناد بالکل صحیح ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ «عین» چیز جادو کے زور سے پلٹ جاتی ہے اور بعض کہتے ہیں نہیں صرف دیکھنے والے کو ایسا خیال پڑتا ہے اصل چیز جیسی ہوتی ہے ویسی ہی رہتی ہے جیسے قرآن میں ہے آیت «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [ 7-الأعراف: 116 ] یعنی انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور فرمایا آیت «يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [ 20-طه: 66 ] موسیٰ علیہ السلام کی طرف خیال ڈالا جاتا تھا کہ گویا وہ سانپ وغیرہ ان کے جادو کے زور سے چل پھر رہے ہیں۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں لفظ بابل سے مراد بابل عراق ہے بابل دنیاوند نہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما بابل کی زمین میں جا رہے تھے عصر کی نماز کا وقت آ گیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں نماز ادا نہ کی بلکہ اس زمین کی سرحد سے نکل جانے کے بعد نماز پڑھی اور فرمایا میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے اور بابل کی زمین میں نماز پڑھنے سے بھی ممانعت فرمائی ہے یہ زمین ملعون ہے۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث مروی ہے۔ [سنن ابوداود:490، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور امام صاحب نے اس پر کوئی کلام نہیں کیا اور جس حدیث کو امام ابوداؤد اپنی کتاب میں لائیں اور اس کی سند پر خاموشی کریں تو وہ حدیث امام صاحب کے نزدیک حسن ہوتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بابل کی سر زمین میں نماز مکروہ ہے جیسے کہ ثمودیوں میں نہ جاؤ اگر اتفاقاً جانا پڑے تو خوف الٰہ سے روتے ہوئے جاؤ۔ [صحیح بخاری:433] ہئیت دانوں کا قول ہے کہ بابل کی دوری بحر غربی اوقیانوس سے ستر درجہ لمبی اور وسط زمین سے نوب کی جانب بخط استوا سے تئیس درجہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ چونکہ ہاروت ماروت کو اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کفر و ایمان کا علم دے رکھا ہے اس لیے ہر ایک کفر کی طرف جھکنے والے کو نصیحت کرتے ہیں اور ہر طرح روکتے ہیں جب نہیں مانتا تو وہ اسے کہہ دیتے ہیں اس کا نور ایمان جاتا رہتا ہے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے شیطان اس کا رفیق کار بن جاتا ہے ایمان کے نکل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا غضب اس کے روم روم میں گھس جاتا ہے حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں سوائے کافر کے اور کوئی جادو سیکھنے کی جرات نہیں کرتا۔ فتنہ کے معنی یہاں پر بلا آزمائش اور امتحان کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/2] موسیٰ علیہ السلام کا قول قرآن پاک میں مذکور ہے آیت «إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ» [ 7-الاعراف: 155 ] اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جادو سیکھنا کفر ہے حدیث میں بھی ہے جو شخص کسی کاہن یا جادوگر کے پاس جائے اور اس کی بات کو سچ سمجھے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی وحی کے ساتھ کفر کیا [مجمع الزوائد:117/5] یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی تائید میں اور حدیثیں بھی آئی ہیں۔
پھر فرمایا کہ لوگ ہاروت ماروت سے جادو سیکھتے ہیں جس کے ذریعہ برے کام کرتے ہیں عورت مرد کی محبت اور موافقت کو بغض اور مخالفت سے بدل دیتے ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شیطان اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو بہکانے کے واسطے بھیجتا ہے سب سے زیادہ مرتبہ والا اس کے نزدیک وہ ہے جو فتنے میں سب سے بڑھا ہوا ہو۔ یہ جب واپس آتے ہیں تو اپنے بدترین کاموں کا ذکر کرتے ہیں کوئی کہتا ہے میں نے فلاں کو اس طرح گمراہ کر دیا۔ کوئی کہتا ہے میں نے فلاں شخص سے یہ گناہ کرایا۔ شیطان ان سے کہتا ہے۔ کچھ نہیں یہ تو معمولی کام ہے یہاں تک کہ ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کے اور اس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ڈال دیا یہاں تک کہ جدائی ہو گئی شیطان اسے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے ہاں تو نے بڑا کام کیا اسے اپنے پاس بٹھا لیتا ہے اور اس کا مرتبہ بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2813] پس جادوگر بھی اپنے جادو سے وہ کام کرتا ہے جس سے میاں بیوی میں جدائی ہو جائے مثلاً اس کی شکل صورت اسے بری معلوم ہونے لگے یا اس کے عادات و اطوار سے جو غیر شرعی نہ ہوں یہ نفرت کرنے لگے یا دل میں عداوت آ جائے وغیرہ وغیرہ رفتہ رفتہ یہ باتیں بڑھتی جائیں اور آپس میں چھوٹ چھٹاؤ ہو جائے“ مرا“ کہتے ہیں اس کا مذکر مونث اور تثنیہ تو ہے جمع نہیں بنتا پھر فرمایا یہ کسی کو بھی بغیر اللہ کی مرضی کے ایذاء نہیں پہنچا سکتے یعنی اس کے اپنے بس کی بات نہیں اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر اور اس کے ارادے کے ماتحت یہ نقصان بھی پہنچتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:311/1] اگر اللہ نہ چاہے تو اس کا جادو محض بے اثر اور بے فائدہ ہو جاتا ہے یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جادو اس
12۔ 1 یعنی ان یہودیوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے عہد کی کوئی پرواہ نہیں کی، البتہ شیطان کے پیچھے لگ کر نہ صرف جادو ٹونے پر عمل کرتے رہے، بلکہ یہ دعوی کیا کہ حضرت سلیمان ؑ (نعوذ باللہ) اللہ کے پیغمبر نہیں تھے بلکہ ایک جادوگر تھے اور جادو کے زور سے ہی حکومت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت سلیمان ؑ جادو کا عمل نہیں کرتے تھے، کیونکہ جادو سحر تو کفر ہے، اس کفر کا ارتکاب حضرت سلیمان ؑ کیوں کر کرسکتے تھے؟ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کے زمانے میں جادو گری کا سلسلہ بہت عام ہوگیا تھا، حضرت سلیمان ؑ نے اس کے سد باب کے لئے جادو کی کتابیں لے کر اپنی کرسی یا تخت کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان کی وفات کے بعد ان شیاطین اور جادو گروں نے ان کتابوں کو نکال کر نہ صرف لوگوں کو دکھایا، بلکہ لوگوں کو یہ باور کرایا کہ حضرت سلیمان ؑ کی قوت و اقتدار کا راز یہی جادو کا عمل تھا اور اسی بنا پر ان ظالموں نے حضرت سلیمان ؑ کو بھی کافر قرار دیا، جس کی تردید اللہ تعالیٰ نے فرمائی (ابن کثیر وغیرہ) واللہ عالم۔
(آیت 102) ➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر یہودیوں نے جاننے پہچاننے کے باوجود حسد اور عناد کی بنا پر آپ کی پیروی سے انکار کر دیا۔ میدان میں وہ آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ حق پر ہونے کا عقیدہ و عمل ہی قوت کی بنیاد ہوتا ہے، جس سے ان کے ہاتھ خالی تھے۔ چنانچہ وہ ہر اس قوم کی طرح جو عقیدے اور عمل کی قوت سے خالی ہوتی ہے، جادو ٹونے اور عملیات کے پیچھے پڑ گئے اور ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے جن سے کسی مشقت اور جدو جہد کے بغیر سارے کام بن جایا کریں۔ جب اور بس نہ چلا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا۔ یہ جادو کرنے والا لبید بن اعصم یہودی تھا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنگھی اور اس سے نکلنے والے بالوں پر، جو اس نے ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں رکھے تھے، جادو کیا اور اسے ذی اروان نامی کنویں کی تہ میں ایک بڑے پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اس کا اثر آپ پر یہ ہوا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ اپنے اہل کے پاس جاتے ہیں، مگر جا نہیں سکتے تھے۔ (گویا یہ { ”مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ“ } کی ایک صورت تھی) آپ نے بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے ذریعے سے مطلع فرمایا اور آپ نے وہ سب کچھ نکال کر ختم کروا دیا اور کنواں بھی دفن کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرما دی۔ [ بخاری، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «{ إن اللہ یأمر بالعدل … }» : ۶۰۶۳، ۵۷۶۳۔ مسلم: ۲۱۸۹، عن عائشہ رضی اللہ عنھا ] افسوس مسلمان بھی شرک و بدعت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جب ذلت و پستی کے گڑھے میں گرے تو ان کی اکثریت بھی جادو ٹونے اور سفلی علوم کے پیچھے پڑ گئی۔ ➋ {وَ مَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ......:} یہودیوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ سلیمان علیہ السلام (نعوذ باللہ) جادوگر تھے اور ان کی حکومت کا دار و مدار جادو پر تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی اور بتایا کہ جادو تو کفر ہے، سلیمان علیہ السلام صاحب معجزہ پیغمبر تھے، انھوں نے کفر نہیں کیا، بلکہ شیاطین نے ان کے عہد میں کفر کا یہ کام کیا کہ وہ خود بھی جادو کرتے اور لوگوں کو بھی جادو سکھاتے۔ یہود ایک تو اس علم سحر کے پیچھے لگ گئے اور ایک اس علم کے پیچھے لگ گئے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا، جو سحر سے الگ ایک علم تھا اور جسے عمل میں لانا بعض اوقات کفر تھا۔ وہ فرشتے کسی کو بھی وہ علم نہیں سکھاتے تھے جب تک اسے اچھی طرح آگاہ نہ کر دیتے کہ ہم تو محض ایک آزمائش ہیں، لہٰذا تم اس عمل کو کفر کے لیے استعمال نہ کرنا، مگر یہود کی اخلاقی پستی کا یہ حال تھا کہ وہ ان سے وہ علم ضرور سیکھتے اور اس میں سے بھی وہ باتیں سیکھتے جو سراسر نقصان پہچانے والی ہیں اور جنھیں عمل میں لانا کفر ہے اور جن پر شیطان سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے، یعنی ایسے عملیات جن سے وہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دیتے۔ فرشتوں کا آزمائش کے لیے بھیجا جانا کچھ تعجب کی بات نہیں۔ افسوس کہ مسلمان بھی جب پستی کا شکار ہوئے تو جادو کے پیچھے پڑ گئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے قرآن کی آیات مثلاً: «{ وَ اَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ }» وغیرہ کو بھائیوں کے درمیان اور میاں بیوی کے درمیان عداوت ڈالنے کے لیے عمل میں لانا شروع کر دیا، حالانکہ یہودی جانتے تھے اور یہ مسلمان بھی جانتے ہیں کہ یہ فعل کفر ہے اور ایسا کرنے والے کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ➌ استاذ محمد عبدہ الفلاح رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس مقام پر بعض مفسرین نے ہاروت و ماروت سے متعلق عجیب و غریب داستانیں نقل کر دی ہیں، جن میں زہرہ نامی ایک عورت سے ان کا معاشقہ اور پھر زہرہ کے ستارہ بن جانے کا واقعہ بھی داخل ہے۔ علمائے محققین نے ان قصوں کو یہود کی افسانہ طرازی قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض صحابہ اور تابعین سے اس قسم کی روایات منقول ہیں، مگر زیادہ سے زیادہ ہم ان کو نو مسلم یہودی عالم کعب الاحبار کا قول قرار دے سکتے ہیں۔ (ابن کثیر، البدایہ) حافظ منذری (الترغیب و الترہیب: ۲؍۱۰۲) اور علامہ احمد شاکر مصری (تعلیق مسند احمد: ۹؍۳۵) نے بھی اسی کی تائید کی ہے کہ یہ کعب احبار کا قول ہے۔ ➍ احسن البیان میں ہے کہ بعض مفسرین نے {”وَ مَاۤ اُنْزِلَ“} میں { ”مَا“ } نافیہ مراد لیا ہے اور ہاروت و ماروت پر کسی چیز کے اترنے کی نفی کی ہے، لیکن قرآن مجید کا سیاق اس کی تائید نہیں کرتا، اسی لیے ابن جریر وغیرہ نے اس کی تردید کی ہے۔ (ابن کثیر)
اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے، تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا، کاش اُنہیں خبر ہوتی
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر یہ لوگ صاحب ایمان متقی بن جاتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہترین ﺛواب انہیں ملتا، اگر یہ جانتے ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا -
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو خدا کی بارگاہ سے انہیں جو ثواب ملتا وہ (اس سے) بہتر ہوتا کاش انہیں اس کا علم ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر وہ ایمان لاتے اور بچتے تو یقینا اللہ کے پاس سے تھوڑا ثواب بھی بہت بہتر تھا، کاش! وہ جانتے ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بلکہ جادو کے پیچھے پڑ گئے اور خود حضور پر جادو کیا جس کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب باری تعالیٰ نے دی اور اس کا اثر زائل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاء ملی۔ توراۃ سے تو حضور کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے اس لیے کہ وہ تو اس کی تصدیق والی تھی تو اسے چھوڑ کر دوسری کتابوں کی پیروی کرنے لگے اور اللہ کی کتاب کو اس طرح چھوڑ دیا کہ گویا کبھی جانتے ہی نہ تھے نفسانی خواہشیں سامنے رکھ لیں اور کتاب اللہ کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا یہ بھی کہا گیا ہے کہ راگ باجے کھیل تماشے اور اللہ کے ذکر سے روکنے والی ہر چیز آیت «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ» [ 2-البقرہ: 102 ] میں داخل ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس سیدنا فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کے پاس ایک انگوٹھی تھی جب آپ علیہ السلام بیت الخلاء جاتے تو اپنی بیوی جرادہ کو دے جاتے جب سلیمان علیہ السلام کی آزمائش کا وقت آیا اس وقت ایک شیطان جن آپ علیہ السلام کی صورت میں آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کے پاس آیا اور انگوٹھی طلب کی جو دے دی گئی اس نے پہن لی اور تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا تمام جنات وغیرہ حاضر خدمت ہو گئے حکومت کرنے لگا ادھر جب سلیمان علیہ السلام واپس آئے اور انگوٹھی طلب کی تو جواب ملا تو جھوٹا ہے انگوٹھی تو سلیمان لے گئے آپ علیہ السلام نے سجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے ان دنوں میں شیاطین نے جادو، نجوم، کہانت، شعر و اشعار اور غیب کی جھوٹی سچی خبروں کی کتابیں لکھ لکھ کر سلیمان علیہ السلام کی کرسی تلے دفن کرنی شروع کر دیں آپ علیہ السلام کی آزمائش کا یہ زمانہ ختم ہو گیا آپ پھر تخت و تاج کے مالک ہوئے عمر طبعی کو پہنچ کر جب رحلت فرمائی تو شیاطین نے انسانوں سے کہنا شروع کیا کہ سلیمان کا خزانہ اور وہ کتابیں جن کے ذریعہ سے وہ ہواؤں اور جنات پر حکمرانی کرتے تھے ان کی کرسی تلے دفن ہیں چونکہ جنات اس کرسی کے پاس نہیں جا سکتے تھے اس لیے انسانوں نے اسے کھودا تو وہ کتابیں برآمد ہوئیں بس ان کا چرچا ہو گیا اور ہر شخص کی زبان پر چڑھ گیا کہ سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا راز یہی تھا بلکہ لوگ سلیمان علیہ السلام کی نبوت سے منکر ہو گئے اور آپ علیہ السلام کو جادوگر کہنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو عقدہ کشائی کی اور فرمان باری تعالیٰ نازل ہوا کہ جادوگری کا یہ کفر تو شیاطین کا پھیلایا ہوا ہے سلیمان علیہ السلام اس سے بری الذمہ ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا عراق سے! فرمایا عراق کے کس شہر سے؟ اس نے کہا کوفہ سے! پوچھا وہاں کی کیا خبریں ہیں؟ اس نے کہا وہاں باتیں ہو رہی ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ انتقال نہیں کر گئے بلکہ زندہ روپوش ہیں اور عنقرب آئیں گے آپ کانپ اٹھے اور فرمانے لگے اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کی میراث تقسیم نہ کرتے اور ان کی عورتیں اپنا دوسرا نکاح نہ کرتیں سنو شیاطین آسمانی باتیں چرا لایا کرتے تھے اور ان میں اپنی باتیں ملا کر لوگوں میں پھیلایا کرتے تھے، سلیمان علیہ السلام نے یہ تمام کتابیں جمع کر کے اپنی کرسی تلے دفن کر دیں۔ آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد جنات نے وہ پھر نکال لیں وہی کتابیں عراقیوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان ہی کتابوں کی باتیں وہ بیان کرتے اور پھیلاتے رہتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت «وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ» [ 2-البقرہ: 102 ] میں ہے۔
اس زمانہ میں یہ بھی مشہور ہو گیا تھا کہ شیاطین علم غیب جانتے ہیں سلیمان علیہ السلام نے ان کتابوں کو صندوق میں بھر کر دفن کر دینے کے بعد یہ حکم جاری کر دیا کہ جو یہ کہے گا اس کی گردن ماری جائے گی بعض روایتوں میں ہے کہ جنات نے ان کتابوں کو سلیمان علیہ السلام کے انتقال کے بعد آپ علیہ السلام کی کرسی تلے دفن کیا تھا اور ان کے شروع صفحہ پر لکھ دیا تھا کہ یہ علمی خزانہ آصف بن برخیا کا جمع کیا ہوا ہے جو سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے وزیر اعظم مشیر خاص اور دلی دوست تھے. یہودیوں میں مشہور تھا کہ سلیمان علیہ السلام نبی نہ تھے بلکہ جادوگر تھے اس بنا پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور اللہ کے سچے نبی علیہ السلام نے ایک سچے نبی کی برات کی اور یہودیوں کے اس عقیدے کا ابطال کیا وہ سلیمان علیہ السلام کا نام نبیوں کے زمرے میں سن کر بہت بدکتے تھے اس لیے تفصیل کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کر دیا۔ ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ سلیمان نے تمام موذی جانوروں سے عہد لیا تھا جب انہیں وہ عہد یاد کرایا جاتا تھا تو وہ ستاتے نہ تھے پھر لوگوں نے اپنی طرف سے عبارتیں بنا کر جادو کی قسم کے منتر تنتر بنا کر ان سب کو آپ علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا جس کا بطلان ان آیات کریمہ میں ہے یاد رہے کہ «علی» یہاں پر «فی» کے معنی میں ہے یا «تتلو» متضمن ہے تکذب کا، یہی اولیٰ اور احسن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں جادوگروں کا ہونا قرآن سے ثابت ہے اور سلیمان علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہونا بھی قرآن سے ظاہر ہے۔ داؤد علیہ السلام اور جالوت کے قصے میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ» [ البقرہ: 246 ] بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے بھی پہلے صالح علیہ السلام کو ان کی قوم نے کہا تھا آیت «قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ» [ 26-الشعرأ: 153 ] یعنی تو جادو کئے گئے لوگوں میں سے ہے۔ پھر فرماتا ہے آیت «وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ» [ البقرہ: 102 ] الخ بعض تو کہتے ہیں یہاں پر «ما» نافیہ ہے یعنی انکار کے معنی میں ہے اور اس کا عطف «ماکفر سلیمان» پر ہے یہودیوں کے اس دوسرے اعتقاد کی کہ جادو فرشتوں پر نازل ہوا ہے اس آیت میں تردید ہے۔
ہاروت، ماروت لفظ شیاطین کا بدل ہے تثنیہ پر بھی جمع کا اطلاق ہوتا ہے جیسے آیت «فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ» [ 4-النساء: 11 ] میں یا اس لیے جمع کیا گیا کہ ان کے ماننے والوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اور ان کا نام ان کی زیادہ سرکشی کی وجہ سے سرفہرست دیا گیا ہے قرطبی تو کہتے ہیں کہ اس آیت کا یہی ٹھیک مطلب ہے اس کے سوا کسی اور معنی کی طرف التفات بھی نہ کرنا چاہیئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:419/2] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جادو اللہ عزوجل کا نازل کیا ہوا نہیں۔ سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان پر کوئی جادو نہیں اترا۔ [ایضاً] اس بناء پر آیت کا ترجمہ اس طرح پر ہو گا کہ ان یہودیوں نے اس چیز کی تابعداری کی جو سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں شیطان پڑھا کرتے تھے سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا نہ اللہ تعالیٰ نے جادو کو ان دو فرشتوں پر اتارا ہے۔ (جیسے، اے یہودیو! تمہارا خیال جبرائیل علیہ السلام و میکائیل علیہ السلام کی طرف ہے۔) بلکہ یہ کفر شیطانوں کا ہے جو بابل میں لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور ان کے سردار دو آدمی تھے جن کا نام ہاروت و ماروت تھا۔ عبدالرحمٰن بن ابزی رحمہ اللہ اسے اس طرح پڑھتے تھے آیت «وما انزل علی الملکین داود وسلیمان» یعنی داؤد و سلیمان دونوں بادشاہوں پر بھی جادو نہیں اتارا گیا یا یہ کہ وہ اس سے روکتے تھے کیونکہ یہ کفر ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کا زبردست رد کیا ہے وہ فرماتے ہیں «ما» معنی میں «الذی» کے ہے اور ہاروت ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ نے زمین کی طرف اتارا ہے اور اپنے بندوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے انہیں جادو کی تعلیم دی ہے، لہٰذا ہاروت ماروت اس فرمان باری تعالیٰ کو بجا لا رہے ہیں۔
ایک غریب قول یہ بھی ہے کہ یہ جنوں کے دو قبیلے ہیں مَلِکیٗنِ یعنی دو بادشاہوں کی قرأت پر انزال خلق کے معنی میں ہو گا جیسے فرمایا آیت «وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ» [ 39-الزمر: 6 ] اور فرمایا آیت «وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ» [ 57-الحديد: 25 ] اور کہا آیت «وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ السَّمَاءِ رِزْقًا» [ 40۔ غافر: 13 ] یعنی ہم نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا کئے، لوہا بنایا، آسمان سے روزیاں اتاریں۔ حدیث میں ہے دعا «مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً» یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی بیماریاں پیدا کی ہیں ان سب کے علاج بھی پیدا کئے ہیں مثل مشہور ہے کہ بھلائی برائی کا نازل کرنے والا اللہ ہے یہاں سب جگہ انزال یعنی پیدائش کے معنی میں ہے ایجاد یعنی لانے اور اتارنے کے معنی میں نہیں اسی طرح اس آیت میں بھی اکثر سلف کا مذہب یہ ہے کہ یہ دونوں فرشتے تھے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ مضمون بسط و طول کے ساتھ ہے جو ابھی بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ کوئی یہ اعتراض نہ کرے کہ فرشتے تو معصوم ہیں وہ گناہ کرتے ہی نہیں چہ جائیکہ لوگوں کو جادو سکھائیں جو کفر ہے اس لیے کہ یہ دونوں بھی عام فرشتوں میں سے خاص ہو جائیں گے۔ جیسے کہ ابلیس کی بابت آپ آیت «وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ» [ البقرہ: 34 ] الخ، کی تفسیر میں پڑھ چکے ہیں۔ سیدنا علی ابن مسعود ابن عباس ابن عمر کعب احبار رضی اللہ عنہم، سدی، کلبی رحمہ اللہ علیہما یہی فرماتے ہیں۔
اب اس حدیث کو سنیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا اور ان کی اولاد پھیلی اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہونے لگی تو فرشتوں نے کہا کہ دیکھو یہ کس قدر برے لوگ ہیں کیسے نافرمان اور سرکش ہیں ہم اگر ان کی جگہ ہوتے تو ہرگز ہرگز اللہ کی نافرمانی نہ کرتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو پسند کر لو میں ان میں انسانی خواہشات پیدا کرتا ہوں اور انہیں انسانوں میں بھیجتا ہوں پھر دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے ہاروت و ماروت کو پیش کیا اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانی طبیعت پیدا کی اور ان سے کہہ دیا کہ دیکھو بنی آدم کو تو میں نبیوں کے ذریعہ اپنے حکم احکام پہنچاتا ہوں لیکن تم سے بلاواسطہ خود کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا زنا نہ کرنا، شراب نہ پینا، اب یہ دونوں زمین پر اترے اور زہرہ کو ان کی آزمائش کے لیے حسین و شکیل عورت کی صورت میں ان کے پاس بھیجا جسے دیکھ کر یہ مفتوں ہو گئے اور اس سے زنا کرنا چاہا اس نے کہا اگر تم شرک کرو تو میں منظور کرتی ہوں انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہم سے نہ ہو سکے گا وہ چلی گئی پھر آئی اور کہنے لگی اچھا اس بچے کو قتل کر ڈالو تو مجھے تمہاری خواہش پوری کرنی منظور ہے انہوں نے اسے بھی نہ مانا وہ پھر آئی اور کہا کہ اچھا یہ شراب پی لو انہوں نے اسے ہلکا گناہ سمجھ کر اسے منظور کر لیا۔ اب نشہ میں مست ہو کر زناکاری بھی کی اور اس بچے کو بھی قتل کر ڈالا جب ہوش حواس درست ہوئے تو اس عورت نے کہا جن جن کاموں کا تم پہلے انکار کرتے تھے سب تم نے کر ڈالے۔ یہ نادم ہوئے انہیں اختیار دیا گیا کہ یا تو عذاب دنیا کو اختیار کرو یا عذاب اخروی کو۔ انہوں نے دنیا کے عذاب پسند کیے۔ صحیح ابن حبان مسند احمد ابن مردویہ ابن جریر عبدالرزاق میں یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ [مسند احمد:134/2:باطل] مسند احمد کی یہ روایت غریب ہے اس میں ایک راوی موسیٰ بن جبیر انصاری سلمی کو ابن ابی حاتم نے مستور الحال لکھا ہے۔
ابن مردویہ کی روایت میں یہی ہے کہ ایک رات کو اثناء سفر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا زہرہ تارا نکلا؟ اس نے کہا نہیں دو تین مرتبہ سوال کے بعد کہا اب زہرہ طلوع ہوا تو فرمانے لگے اس سے نہ خوشی ہو نہ بھلائی ملے۔ حضعر نافع رحمہ اللہ نے کہا ایک ستارہ جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے طلوع و غروب ہوتا ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے برا کہتے ہیں؟ فرمایا میں وہی کہتا ہوں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے پھر اس کے بعد مندرجہ بالا حدیث باختلاف الفاظ سنائی۔ [الموضوعات لابن الجوزی:187/1:باطل] لیکن یہ بھی غریب ہے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ والی روایت مرفوع سے زیادہ صحیح موقوف ہے اور ممکن ہے کہ وہ بنی اسرائیلی روایت ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ صحابہ اور تابعین سے بھی اس قسم کی روایتیں بہت کچھ منقول ہیں بعض میں ہے کہ زہرہ ایک عورت تھی اس نے ان فرشتوں سے یہ شرط کی تھی کہ تم مجھے وہ دعا سکھا دو جسے پڑھ کر تم آسمان پر چڑھ جاتے ہو انہوں نے سکھا دی یہ پڑھ کر چڑھ گئی اور وہاں تارے کی شکل میں بنا دی گئی۔ [مستدرک حاکم:265/2] بعض مرفوع روایتوں میں بھی یہ ہے لیکن وہ منکر اور غیر صحیح ہیں۔ ایک اور رویات میں ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو فرشتے صرف ایمان والوں کی بخشش کی دعا مانگتے تھے لیکن اس کے بعد تمام اہل زمین کے لیے دعا شروع کر دی بعض روایتوں میں ہے کہ جب ان دونوں فرشتوں سے یہ نافرمانیاں سرزد ہوئیں تب اور فرشتوں نے اقرار کر لیا کہ بنی آدم جو اللہ تعالیٰ سے دور ہیں اور بن دیکھے ایمان لاتے ہیں جن سے خطاؤں کا سرزد ہو جانا کوئی ایسی انوکھی چیز نہیں ان دونوں فرشتوں سے کہا گیا کہ اب یا تو دنیا کا عذاب پسند کر لو یا آخرت کے عذابوں کو اختیار کر لو۔ انہوں نے دنیا کا عذاب چن لیا چنانچہ انہیں بابل میں عذاب ہو رہا ہے۔
ایک رویات میں ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے تھے ان میں قتل سے اور مال حرام سے ممانعت بھی کی تھی اور یہ حکم بھی تھا کہ حکم عدل کے ساتھ کریں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ تین فرشتے تھے لیکن ایک نے آزمائش سے انکار کر دیا اور واپس چلا گیا پھر دو کی آزمائش ہوئی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ واقعہ سلیمان علیہ السلام کے زمانہ کا ہے۔ یہاں بابل سے مراد بابل دنیاوند ہے اس عورت کا نام عربی میں زہرہ تھا اور نبطی زبان میں اس کا نام بیدخت تھا اور فارسی میں ناہید تھا۔ یہ عورت اپنے خاوند کے خلاف ایک مقدمہ لائی تھی جب انہوں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا تو اس نے کہا پہلے مجھے میرے خاوند کے خلاف حکم دو تو مجھے منظور ہے انہوں نے ایسا ہی کیا پھر اس نے کہا مجھے یہ بھی بتا دو کہ تم کیا پڑھ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہو اور کیا پڑھ کر اترتے ہو؟ انہوں نے یہ بھی بتا دیا چنانچہ وہ اسے پڑھ کر آسمان پر چڑھ گئی اترنے کا وظیفہ بھول گئی اور وہیں ستارے کی صورت میں مسخ کر دی گئی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر جب کبھی زہرہ ستارے کو دیکھتے تو لعنت بھیجا کرتے تھے اب ان فرشتوں نے جب چڑھنا چاہا تو نہ چڑھ سکے سمجھ گئے کہ اب ہم ہلاک ہوئے۔
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے پہل چند دنوں تک تو فرشتے ثابت قدم رہے صبح سے شام تک فیصلہ عدل کے ساتھ کرتے رہتے شام کو آسمان پر چڑھ جاتے پھر زہرہ کو دیکھ کر اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے زہرہ ستارے کو ایک خوبصورت عورت کی شکل میں بھیجا الغرض ہاروت ماروت کا یہ قصہ تابعین میں سے بھی اکثر لوگوں نے بیان کیا ہے جیسے مجاہد، سدی، حسن بصری، قتادہ، ابوالعالیہ، زہری، ربیع بن انس، مقتل بن حیان وغیرہ وغیرہ رحم اللہ اجمعین اور متقدمین اور متاخیرن مفسرین نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں اسے نقل کیا ہے لیکن اس کا زیادہ تر دار و مدار بنی اسرائیل کی کتابوں پر ہے کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث اس بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور نہ قرآن کریم میں اس قدر بسط و تفصیل ہے پس ہمارا ایمان ہے کہ جس قدر قرآن میں ہے صحیح اور درست ہے اور حقیقت حال کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے [ قرآن کریم کے ظاہری الفاظ مسند احمد ابن حبان بیہقی وغیرہ کی مرفوع حدیث علی ابن عباس بن مسعود وغیرہ کی موقوف روایات تابعین وغیرہ کی تفاسیر وغیرہ ملا کر اس واقعہ کی بہت کچھ تقویت ہو جاتی ہے نہ اس میں کوئی محال عقلی ہے نہ اس میں کسی اصول اسلامی کا خلاف ہے پھر ظاہر سے بیجا ہٹ اور تکلفات اٹھانے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ واللہ اعلم ] [ فتح البیان ]
ابن جریر میں ایک غریب اثر اور ایک عجیب واقعہ ہے اسے بھی سنیے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دومتہ الجندل کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے تھوڑے ہی زمانہ کے بعد آپ کی تلاش میں آئی اور آپ کے انتقال کی خبر پا کر بے چین ہو کر رونے پیٹنے لگی میں نے اس سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا کہ مجھ میں اور میرے شوہر میں ہمیشہ ناچاقی رہا کرتی تھی ایک مرتبہ وہ مجھے چھوڑ کر لاپتہ کہیں چلا گیا، ایک بڑھیا سے میں نے یہ سب ذکر کیا اس نے کہا جو میں کہوں وہ کر وہ خودبخود تیرے پاس آ جائے گا میں تیار ہو گئی وہ رات کے وقت دو کتے لے کر میرے پاس آئی ایک پر وہ خود سوار ہوئی اور دوسرے پر میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں بابل پہنچ گئیں میں نے دیکھا کہ دو شخص ادھر لٹکے ہوئے ہیں اور لوہے میں جکڑے ہوئے ہیں اس عورت نے مجھ سے کہا ان کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ میں جادو سیکھنے آئی ہوں۔
میں نے ان سے کہا انہوں نے کہا سن ہم تو آزمائش میں ہیں تو جادو نہ سیکھ اس کا سیکھنا کفر ہے میں نے کہا میں تو سیکھوں گی انہوں نے کہا اچھا پھر جا اور اس تنور میں پیشاب کر کے چلی آ میں گئی ارادہ کیا لیکن کچھ دہشت سی طاری ہوئی میں واپس آ گئی اور کہا میں فارغ ہو آئی ہوں انہوں نے پوچھا کیا دیکھا؟ میں نے کہا کچھ نہیں انہوں نے کہا تو غلط کہتی ہے ابھی تو کچھ نہیں بگڑا تیرا ایمان ثابت ہے اب بھی لوٹ جا اور کفر نہ کر میں نے کہا مجھے تو جادو سیکھنا ہے انہوں نے پھر کہا جا اور اس تنور میں پیشاب کر آ میں پھر گئی لیکن اب کی مرتبہ بھی دل نہ مانا واپس آئی پھر اسی طرح سوال جواب ہوئے میں تیسری مرتبہ پھر تنور کے پاس گئی اور دل کڑا کر کے پیشاب کرنے کو بیٹھ گئی میں نے دیکھا کہ ایک گھوڑے سوار منہ پر نقاب ڈالے نکلا اور آسمان پر چڑھ گیا ہے۔ واپس چلی آئی ان سے ذکر کیا انہوں نے کہا ہاں اب کی مرتبہ تو سچ کہتی ہے وہ تیرا ایمان تھا جو تجھ میں سے نکل گیا اب جا چلی جا میں آئی اور اس بڑھیا سے کہا انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں سکھایا اس نے کہا بس تجھے کچھ آ گیا اب تو جو کہے گی ہو جائے گا میں نے آزمائش کے لیے ایک دانہ گیہوں کا لیا اسے زمین پر ڈال کر کہا اگ جا وہ فوراً اگ آیا میں نے کہا تجھ میں بال پیدا ہو جائے چنانچہ ہو گئے میں نے کہا سوکھ جا وہ بال سوکھ گئے میں نے کہا الگ الگ دانہ ہو جا وہ بھی ہو گیا پھر میں نے کہا سوکھ جا تو سوکھ گیا پھر میں نے کہا آٹا بن جا تو آٹا بن گیا میں نے کہا روٹی پک جا تو روٹی پک گئی یہ دیکھتے ہی میرا دل نادم ہونے لگا اور مجھے اپنے بے ایمان ہو جانے کا صدمہ ہونے لگا۔ اے ام المؤمنین قسم اللہ کی نہ میں نے اس جادو سے کوئی کام لیا نہ کسی پر کیا میں یونہی روتی پیٹتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں لیکن افسوس بدقستمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی میں نے نہ پایا اب میں کیا کروں؟ اتنا کہہ کر چپ ہو گئی سب کو اس پر ترس آنے لگا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی متحیر تھے کہ اسے کیا فتویٰ دیں؟ آخر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا اب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ تم اس فعل کو نہ کرو توبہ استغفار کرو اور اپنے ماں باپ کی خدمت گزاری کرتی رہو۔
یہاں یہ بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فتویٰ دینے میں بہت احتیاط کرتے تھے کہ چھوٹی سی بات بتانے میں تامل ہوتا تھا آج ہم بڑی سے بڑی بات بھی اٹکل اور رائے قیاس سے گھڑ گھڑا کر بتانے میں بالکل نہیں رکتے اس کی اسناد بالکل صحیح ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ «عین» چیز جادو کے زور سے پلٹ جاتی ہے اور بعض کہتے ہیں نہیں صرف دیکھنے والے کو ایسا خیال پڑتا ہے اصل چیز جیسی ہوتی ہے ویسی ہی رہتی ہے جیسے قرآن میں ہے آیت «سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ» [ 7-الأعراف: 116 ] یعنی انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور فرمایا آیت «يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ» [ 20-طه: 66 ] موسیٰ علیہ السلام کی طرف خیال ڈالا جاتا تھا کہ گویا وہ سانپ وغیرہ ان کے جادو کے زور سے چل پھر رہے ہیں۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں لفظ بابل سے مراد بابل عراق ہے بابل دنیاوند نہیں۔ ابن ابی حاتم کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما بابل کی زمین میں جا رہے تھے عصر کی نماز کا وقت آ گیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں نماز ادا نہ کی بلکہ اس زمین کی سرحد سے نکل جانے کے بعد نماز پڑھی اور فرمایا میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے اور بابل کی زمین میں نماز پڑھنے سے بھی ممانعت فرمائی ہے یہ زمین ملعون ہے۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث مروی ہے۔ [سنن ابوداود:490، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور امام صاحب نے اس پر کوئی کلام نہیں کیا اور جس حدیث کو امام ابوداؤد اپنی کتاب میں لائیں اور اس کی سند پر خاموشی کریں تو وہ حدیث امام صاحب کے نزدیک حسن ہوتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بابل کی سر زمین میں نماز مکروہ ہے جیسے کہ ثمودیوں میں نہ جاؤ اگر اتفاقاً جانا پڑے تو خوف الٰہ سے روتے ہوئے جاؤ۔ [صحیح بخاری:433] ہئیت دانوں کا قول ہے کہ بابل کی دوری بحر غربی اوقیانوس سے ستر درجہ لمبی اور وسط زمین سے نوب کی جانب بخط استوا سے تئیس درجہ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ چونکہ ہاروت ماروت کو اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کفر و ایمان کا علم دے رکھا ہے اس لیے ہر ایک کفر کی طرف جھکنے والے کو نصیحت کرتے ہیں اور ہر طرح روکتے ہیں جب نہیں مانتا تو وہ اسے کہہ دیتے ہیں اس کا نور ایمان جاتا رہتا ہے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے شیطان اس کا رفیق کار بن جاتا ہے ایمان کے نکل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا غضب اس کے روم روم میں گھس جاتا ہے حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں سوائے کافر کے اور کوئی جادو سیکھنے کی جرات نہیں کرتا۔ فتنہ کے معنی یہاں پر بلا آزمائش اور امتحان کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:443/2] موسیٰ علیہ السلام کا قول قرآن پاک میں مذکور ہے آیت «إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ» [ 7-الاعراف: 155 ] اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جادو سیکھنا کفر ہے حدیث میں بھی ہے جو شخص کسی کاہن یا جادوگر کے پاس جائے اور اس کی بات کو سچ سمجھے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی وحی کے ساتھ کفر کیا [مجمع الزوائد:117/5] یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی تائید میں اور حدیثیں بھی آئی ہیں۔
پھر فرمایا کہ لوگ ہاروت ماروت سے جادو سیکھتے ہیں جس کے ذریعہ برے کام کرتے ہیں عورت مرد کی محبت اور موافقت کو بغض اور مخالفت سے بدل دیتے ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شیطان اپنا عرش پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو بہکانے کے واسطے بھیجتا ہے سب سے زیادہ مرتبہ والا اس کے نزدیک وہ ہے جو فتنے میں سب سے بڑھا ہوا ہو۔ یہ جب واپس آتے ہیں تو اپنے بدترین کاموں کا ذکر کرتے ہیں کوئی کہتا ہے میں نے فلاں کو اس طرح گمراہ کر دیا۔ کوئی کہتا ہے میں نے فلاں شخص سے یہ گناہ کرایا۔ شیطان ان سے کہتا ہے۔ کچھ نہیں یہ تو معمولی کام ہے یہاں تک کہ ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کے اور اس کی بیوی کے درمیان جھگڑا ڈال دیا یہاں تک کہ جدائی ہو گئی شیطان اسے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے ہاں تو نے بڑا کام کیا اسے اپنے پاس بٹھا لیتا ہے اور اس کا مرتبہ بڑھا دیتا ہے۔ [صحیح مسلم:2813] پس جادوگر بھی اپنے جادو سے وہ کام کرتا ہے جس سے میاں بیوی میں جدائی ہو جائے مثلاً اس کی شکل صورت اسے بری معلوم ہونے لگے یا اس کے عادات و اطوار سے جو غیر شرعی نہ ہوں یہ نفرت کرنے لگے یا دل میں عداوت آ جائے وغیرہ وغیرہ رفتہ رفتہ یہ باتیں بڑھتی جائیں اور آپس میں چھوٹ چھٹاؤ ہو جائے“ مرا“ کہتے ہیں اس کا مذکر مونث اور تثنیہ تو ہے جمع نہیں بنتا پھر فرمایا یہ کسی کو بھی بغیر اللہ کی مرضی کے ایذاء نہیں پہنچا سکتے یعنی اس کے اپنے بس کی بات نہیں اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر اور اس کے ارادے کے ماتحت یہ نقصان بھی پہنچتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:311/1] اگر اللہ نہ چاہے تو اس کا جادو محض بے اثر اور بے فائدہ ہو جاتا ہے یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جادو اس
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 103) ➊ {لَمَثُوْبَةٌ:} اس میں تنوین تقلیل کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”تھوڑا ثواب“ کیا گیا ہے۔ ➋ پچھلی آیت میں ہے: «وَ لَقَدْ عَلِمُوْا» یعنی یہود جانتے تھے، یہاں فرمایا: «{ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ }» ”کاش وہ جانتے ہوتے “ اس سے معلوم ہوا کہ علم پر عمل نہ کرنے والا درحقیقت عالم ہی نہیں۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو: رَاعِناَ نہ کہا کرو، بلکہ اُنظرنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو، یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو) “راعنا” نہ کہا کرو، بلکہ “انظرنا” کہو یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے-
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو (پیغمبر (ع) سے) راعنا نہ کہا کرو (بلکہ) انظرنا کہا کرو اور (توجہ سے ان کی بات) سنا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم ’’رَاعِنَا‘‘ (ہماری رعایت کر) مت کہو اور ’’اُنْظُرْنَا‘‘ (ہماری طرف دیکھ) کہو اور سنو۔ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمانوں کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو! ٭٭
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنیے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت «مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ اللَّـهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النساء: 46 ] یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لیے «راعنا» کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنیے اور ہماری طرف توجہ کیجئے تو یہ ان کے لیے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اس میں ایمان بہت ہی کم ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو۔ [صحیح بخاری:6257] ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہو گی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں مقبول نہیں ہو گی۔ [صحیح مسلم:2166] الغرض قول و فعل میں ان سے مشابہت کرنا منع ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے میں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالیٰ نے میرے نیزے تلے لکھی ہے اس کے لیے ذلت اور پستی ہے مگر جو میرے احکام کے خلاف چلے کرے اور جو شخص کسی [ غیر مسلم ] قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ [مسند احمد:50/2:حسن بالشواھد] ابوداؤد میں بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4031، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال وافعال لباس عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لیے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے ایسا کرنے والوں کو شریعت میں عذاب کی دھمکی سخت ڈراوا اور حرمت کی اطلاع دی گئی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن کریم میں آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» سنو تو کان لگا دو اور دل سے متوجہ ہو جایا کرو کیونکہ یا تو کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی برائی سے ممانعت ہو گی خیثمہ فرماتے ہیں توراۃ میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے «يَا أَيّهَا الْمَسَاكِين» فرمایا ہے لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» کے معزز خطاب سے یاد فرمایا ہے «راعنا» کے معنی ہماری طرف کان لگانے کے ہیں بروزن «عاطنا» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:461/2] مجاہد فرماتے ہیں اس کے معنی خلاف کے بھی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1] یعنی خلاف نہ کہا کرو اس سے یہ بھی مروی ہے کہ مطلب یہ کہ آپ ہماری سنئے اور ہم آپ کی سنیں۔ انصار نے بھی یہی لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہنا شروع کر دیا تھا جس سے قرآن پاک نے انہیں روک دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1]
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں «راعن» کہتے ہیں [ راعن مذاق کی بات کو کہتے ہیں ] یعنی تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور اسلام سے مذاق نہ کیا کرو۔ ابو صخررحمہ اللہ کہتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگتے تو جنہیں کوئی بات کہنی ہوتی وہ کہتے اپنا کان ادھر کیجئے اللہ تعالیٰ نے اس بےادبی کے کلمہ سے روک دیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے کی تعلیم فرمائی۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں رفاعہ بن زید یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے ہوئے یہ لفظ کہا کرتا تھا مسلمانوں نے بھی یہ خیال کر کے یہ لفظ ادب کے ہیں یہی لفظ استعمال کرنے شروع کر دیئے جس پر انہیں روک دیا گیا جیسے سورۃ نساء میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کلمہ کو اللہ نے برا جانا اور اس کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا جیسے حدیث میں آیا ہے کہ انگور کو کرم اور غلام کو عبد نہ کہو وغیرہ۔ [صحیح مسلم:2248] اب اللہ تعالیٰ ان بد باطن لوگوں کے حسد و بغض کو بیان فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں جو اس کامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کامل شریعت ملی ہے اس سے یہ تو جل بھن رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمائے وہ بڑے ہی فضل و کرم والا ہے۔
14۔ 1 رَاعِنَا کے معنی ہیں، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی، مثلا وہ کہتے رَعِینَا (اَحمْق) وغیرہ جیسے وہ السلام علیکم کی بجائے السام علیکم (تم پر موت آئے) کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم ـ ' انْظُرْنَا ' کہا کرو۔ اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ کفار کے ساتھ افعال اوراقوال میں مشابہت کرنے سے بچا جائے تاکہ مسلمان (حدیث من تشبہ بقوم فھو منھم، ابوداؤد (جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا) کی وعید میں داخل نہ ہوں۔
(آیت 104) {رَاعِنَا:} { ”رَاعِ“ } یہ باب مفاعلہ(مراعاۃ) سے فعل امر ہے، یعنی ہماری رعایت کیجیے۔ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے، یہودی بھی اس لفظ کے ساتھ آپ کو مخاطب کرتے، مگر زبان کو پیچ دے کر لفظ بدل دیتے، جیسا کہ سورۂ نساء (۴۶) میں ہے، جس سے وہ لفظ گالی بن جاتا۔ مفسرین نے اس کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ {” رَاعِنَا “} کی بجائے { ”رَاعِيْنَا“ } کہتے، جس کا معنی ”ہمارا چرواہا “ ہے۔ دوسری یہ کہ وہ اسے ”رعونت“ سے اسم فاعل قرار دے کر { ”رَاعِنًا“ } کہتے جس کا معنی احمق ہے اور منادیٰ غیر معین کو خطاب کی وجہ سے منصوب ہے، پھر آپس میں جا کر خوش ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے ہی سے منع فرما دیا اور { ”انْظُرْنَا“ } کہنے کا حکم دیا، ساتھ ہی فرمایا کہ غور سے سنو، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ کروانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اس سے یہودیوں کی دشمنی، ان کی طبیعت کی خست اور شرارت صاف واضح ہے۔ مسلمانوں کو ان کے اعمال کے علاوہ ان کے الفاظ و اقوال کی مشابہت سے بھی منع فرمایا گیا، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ] ”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انھی میں سے ہے۔“ [ أبوداوٗد، اللباس، باب فی لبس الشھرۃ: ۴۰۳۱ و حسنہ الألبانی ] اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں بے ادبی یا گستاخی کا شبہ بھی پیدا ہوتا ہو وہ استعمال کرنا درست نہیں۔ یہودیوں کی اسی طرح کی ایک اور کمینگی کا ذکر حدیث میں آیا ہے کہ وہ ”السلام علیکم“ کے بجائے {”اَلسَّامُ عَلَيْكُمْ “} کہتے، جس کا معنی ہے تم پر موت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جواب میں صرف {”عَلَيْكَ “} کہنے کا حکم دیا کہ وہ تمھیں پر ہو۔ [ مسلم، السلام، باب النہی عن ابتداء …: ۲۱۶۴ ]
یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو، مگر اللہ جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے لیے چن لیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ تو اہل کتاب کے کافر اور نہ مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو (ان کے اس حسد سے کیا ہوا) اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ بڑے فضل واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے -
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ کافر ہیں (خواہ) اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے وہ ہرگز پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے کوئی بھلائی نازل ہو۔ حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کر لیتا ہے اور اللہ بڑے فضل و کرم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کفر کیا، نہ وہ پسند کرتے ہیں اور نہ مشرکین کہ تم پر تمھارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی اتاری جائے اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسلمانوں کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو! ٭٭
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنیے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت «مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ اللَّـهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النساء: 46 ] یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لیے «راعنا» کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنیے اور ہماری طرف توجہ کیجئے تو یہ ان کے لیے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اس میں ایمان بہت ہی کم ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو۔ [صحیح بخاری:6257] ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہو گی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں مقبول نہیں ہو گی۔ [صحیح مسلم:2166] الغرض قول و فعل میں ان سے مشابہت کرنا منع ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے میں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالیٰ نے میرے نیزے تلے لکھی ہے اس کے لیے ذلت اور پستی ہے مگر جو میرے احکام کے خلاف چلے کرے اور جو شخص کسی [ غیر مسلم ] قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ [مسند احمد:50/2:حسن بالشواھد] ابوداؤد میں بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4031، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال وافعال لباس عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لیے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے ایسا کرنے والوں کو شریعت میں عذاب کی دھمکی سخت ڈراوا اور حرمت کی اطلاع دی گئی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن کریم میں آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» سنو تو کان لگا دو اور دل سے متوجہ ہو جایا کرو کیونکہ یا تو کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی برائی سے ممانعت ہو گی خیثمہ فرماتے ہیں توراۃ میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے «يَا أَيّهَا الْمَسَاكِين» فرمایا ہے لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» کے معزز خطاب سے یاد فرمایا ہے «راعنا» کے معنی ہماری طرف کان لگانے کے ہیں بروزن «عاطنا» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:461/2] مجاہد فرماتے ہیں اس کے معنی خلاف کے بھی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1] یعنی خلاف نہ کہا کرو اس سے یہ بھی مروی ہے کہ مطلب یہ کہ آپ ہماری سنئے اور ہم آپ کی سنیں۔ انصار نے بھی یہی لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہنا شروع کر دیا تھا جس سے قرآن پاک نے انہیں روک دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1]
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں «راعن» کہتے ہیں [ راعن مذاق کی بات کو کہتے ہیں ] یعنی تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور اسلام سے مذاق نہ کیا کرو۔ ابو صخررحمہ اللہ کہتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگتے تو جنہیں کوئی بات کہنی ہوتی وہ کہتے اپنا کان ادھر کیجئے اللہ تعالیٰ نے اس بےادبی کے کلمہ سے روک دیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے کی تعلیم فرمائی۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں رفاعہ بن زید یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے ہوئے یہ لفظ کہا کرتا تھا مسلمانوں نے بھی یہ خیال کر کے یہ لفظ ادب کے ہیں یہی لفظ استعمال کرنے شروع کر دیئے جس پر انہیں روک دیا گیا جیسے سورۃ نساء میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کلمہ کو اللہ نے برا جانا اور اس کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا جیسے حدیث میں آیا ہے کہ انگور کو کرم اور غلام کو عبد نہ کہو وغیرہ۔ [صحیح مسلم:2248] اب اللہ تعالیٰ ان بد باطن لوگوں کے حسد و بغض کو بیان فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں جو اس کامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کامل شریعت ملی ہے اس سے یہ تو جل بھن رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمائے وہ بڑے ہی فضل و کرم والا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 105) {وَ اللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ......:} مشرکین عرب کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عام آدمی تھے اور وہ اپنے کسی عظیم سردار کے بجائے ایک عام آدمی پر وحی کا نزول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ دیکھیے سورۂ زخرف (۳۱) اور اہل کتاب اللہ کی اس رحمت کو اپنی نسل سے باہر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے خاص کرے۔ یہاں رحمت سے مراد نبوت ہے، جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے، وہ نہ کسی کی عظمت کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ نسل پر اور نہ کسی کے کسب، محنت اور چلہ کشی پر، جیسا کہ قادیانی دجال کا کہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ }» [ الحج: ۷۵ ] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں میں سے بھی۔“
ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بُھلا دیتے ہیں، اس کی جگہ اس سے بہتر لے آتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور ﻻتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے-
علامہ محمد حسین نجفی
ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو بھی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں، یا اسے بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر، یا اس جیسی (اور) لے آتے ہیں، کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبدیلی یا تنسیخ ، اللہ تعالٰی مختار کل ہے ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نسخ کے معنی بدل کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:473/2] حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مٹانے کے معنی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:321/1] جو [ کبھی ] لکھنے میں باقی رہتا ہے اور حکم بدل جاتا ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور ابوالعالیہ اور محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:322/1] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھلا دینے کے معنی ہیں عطا فرماتے ہیں چھوڑ دینے کے معنی ہیں سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اٹھا لینے کے معنی ہیں جیسے «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ» یعنی زانی مرد و عورت کو سنگسار کر دیا کرو۔ [سنن نسائی:7145، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور جیسے «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا» [صحیح بخاری:6440] یعنی ابن آدم کو اگر دو جنگل سونے کے مل جائیں جب بھی وہ تیسرے کی جستجو میں رہے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:324/1] امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احکام میں تبدیلی ہم کر دیا کرتے ہیں حلال کو حرام حرام کو حلال جائز کو ناجائز ناجائز کو جائز وغیرہ امر و نہی روک اور رخصت جائز اور ممنوع کاموں میں نسخ ہوتا ہے ہاں جو خبریں دی گئی ہیں واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں رد و بدل و ناسخ و منسوخ نہیں ہوتا۔
نسخ کے لفظی معنی نقل کرنے کے بھی ہیں جیسے کتاب کے ایک نسخے سے دوسرا نقل کر لینا۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ ایک حکم کے بدلے دوسرا حکم ہوتا ہے اس لیے نسخ کہتے ہیں خواہ وہ حکم کا بدل جانا ہو خواہ الفاظ کا۔ علماء اصول کی عبارتیں اس مسئلہ میں گو مختلف ہیں مگر معنی کے لحاظ سے سب قریب قریب ایک ہی ہیں۔ نسخ کے معنی کسی حکم شرعی کا پچھلی دلیل کی رو سے ہٹ جانا ہے کبھی ہلکی چیز کے بدلے بھاری اور کبھی بھاری کے بدلہ ہلکی اور کبھی کوئی بدل ہی نہیں ہوتا ہے نسخ کے احکام اس کی قسمیں اس کی شرطیں وغیرہ ہیں اس کے لیے اس فن کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے تفصیلات کی بسط کی جگہ نہیں طبرانی میں ایک روایت ہے کہ دو شخصوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سورت یاد کی تھی اسے وہ پڑھتے رہے ایک مرتبہ رات کی نماز میں ہر چند اسے پڑھنا چاہا لیکن یاد نے ساتھ نہ دیا گھبرا کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ منسوخ ہو گئی اور بھلا دی گئی دلوں میں نکال لی گئی تم غم نہ کرو۔ بے فکر ہو جاؤ۔
حضرت زہری رحمہ اللہ نون خفیفہ پیش کے ساتھ پڑھتے تھے اس کے ایک راوی سلیمان بن ارقم ضعیف ہیں۔ [مجمع الذوائد:11592] ابوبکر انباری نے بھی دوسری سند سے اسے مرفوع روایت کیا ہے۔ [تفسیر قرطبی:62/2-619] جیسے قرطبی رحمہ اللہ کا کنا ہے۔ «ننسھا» کو «ننساھا» بھی پڑھا گیا ہے۔ «ننساھا» کے معنی مؤخر کرنے پیچھے ہٹا دینے کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں منسوخ کرتے ہیں ابن کے شاگرد کہتے ہیں یعنی ہم اس کے الفاظ کو باقی رکھتے ہیں لیکن حکم کو بدل دیتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:473/2] عبد بن عمیر، مجاہد، اور عطا رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے ہم اسے مؤخر کرتے ہیں اور ملتوی کرتے ہیں عطیہ عوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ یعنی منسوخ نہیں کرتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/2] سدی اور ربیع رحمہ اللہ علیہما بھی یہی کہتے ہیں ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ناسخ کو منسوخ کے پیچھے رکھتے ہیں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اپنے پاس اسے روک لیتے ہیں عمر نے خطبہ میں «نُنٗسِھَا» پڑھا اور اس کے معنی مؤخر ہونے کے بیان کئے «ننسھا» جب پڑھیں تو یہ مطلب ہو گا کہ ہم اسے بھلا دیں۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو اٹھا لینا چاہتا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلا دیتا تھا اس طرح وہ آیت اٹھ جاتی تھی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ «ننسھا» پڑھتے تھے تو ان سے قسم بن ربیعہ رحمہ اللہ نے کہا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ تو «ننساھا» پڑھتے ہیں تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سعید پر یا سعید کے خاندان پر تو قرآن نہیں اترا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى» [ 87۔ الاعلی: 6 ] ہم تجھے پڑھائیں گے جسے تو نہ بھولے گا اور فرماتا ہے آیت «وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ» [ 18۔ الکہف: 24 ] جب بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں اور ابی رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اچھے قرآن کے قاری ہیں اور ہم ابی رضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ دیتے ہیں اس لیے کہ ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے تو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اسے نہیں چھوڑوں گا اور فرماتے ہیں «مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا» [ البقرہ: 106 ] یعنی ہم جو منسوخ کریں یا بھلا دیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس جیسا [صحیح بخاری:4481] اس سے بہتر ہوتا ہے یعنی بندوں کی سہولت اور ان کے آرام کے لحاظ سے یا اس جیسا ہوتا ہے لیکن مصلحت الٰہی اس سابقہ چیز میں ہوتی ہے۔
مخلوق میں تغیر و تبدل کرنے والا پیدائش اور حکم کا اختیار رکھنے والا۔ ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس طرح جسے چاہتا ہے بناتا ہے جسے چاہے نیک بختی دیتا ہے جسے چاہے بدبختی دیتا ہے جسے چاہے تندرستی جسے چاہے بیماری، جسے چاہے توفیق جسے چاہے بے نصیب کر دے۔ بندوں میں جو حکم چاہے جاری کرے جسے چاہے حلال جسے چاہے حرام فرما دے جسے چاہے رخصت دے جسے چاہے روک دے وہ حاکم مطلق ہے جیسے چاہے احکام جاری فرمائے کوئی اس کے حکم کو رد نہیں کر سکتا جو چاہے کرے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ بندوں کو آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کے کیسے تابعدار ہیں کسی چیز کا کسی مصلحت کی وجہ سے حکم دیا پھر مصلحت کی وجہ سے ہی اس کو ہٹا دیا اب آزمائش ہو جاتی ہے نیک لوگ اس وقت بھی اطاعت کے لیے کمربستہ تھے اور اب بھی ہیں لیکن بدباطن لوگ باتیں بناتے ہیں اور ناک بھوں چڑھاتے ہیں حالانکہ تمام مخلوق کو اپنے خالق کی تمام باتیں ماننی چاہئیں اور ہر حال میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیئے اور جو وہ کہے اسے دل سے سچا ماننا چاہیئے، جو حکم دے بجا لانا چاہیئے جس سے روکے رک جانا چاہیئے۔
اس مقام پر بھی یہودیوں کا زبردست رد ہے اور ان کے کفر کا بیان ہے کہ وہ نسخ کے قائل نہ تھے بعض تو کہتے تھے اس میں عقلی محال لازم آتا ہے اور بعض نقلی محال بھی مانتے تھے اس آیت میں گو خطاب فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے مگر دراصل یہ کلام یہودیوں کو سنانا ہے جو انجیل کو اور قرآن کو اس وجہ سے نہیں مانتے تھے کہ ان میں بعض احکام توراۃ کے منسوخ ہو گئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان نبیوں کی نبوت کے بھی منکر ہو گئے تھے اور صرف عناد و تکبر کی بنا تھی ورنہ عقلاً نسخ محال نہیں اس لیے کہ جس طرح وہ اپنے کاموں میں با اختیار رہے اسی طرح اپنے حکموں میں بھی با اختیار رہے جو چاہے اور جب چاہے پیدا کرے جسے چاہے اور جس طرح چاہے اور جس وقت چاہے رکھے۔ اسی طرح جو چاہے اور جس وقت چاہے حکم دے اس حاکموں کے حاکم کا حاکم کون؟ اسی طرح نقلاً بھی یہ ثابت شدہ امر ہے اگلی کتابوں اور پہلی شریعتوں میں موجود ہے۔
حضرت آدم کی بیٹیاں بیٹے آپس میں بھائی بہن ہوتے تھے لیکن نکاح جائز تھا پھر اسے حرام کر دیا نوح علیہ السلام جب کشتی سے اترتے ہیں تب تمام حیوانات کا کھانا حلال تھا لیکن پھر بعض کی حلت منسوخ ہو گئی دو بہنوں کا نکاح اسرائیل اور ان کی اولاد پر حلال تھا لیکن پھر توراۃ میں اور اس کے بعد حرام ہو گیا ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی کا حکم دیا پھر قربان کرنے سے پہلے ہی منسوخ کر دیا بنو اسرائیل کو حکم دیا جاتا ہے کہ بچھڑا پوجنے میں جو شامل تھے سب اپنی جانوں کو قتل کر ڈالیں لیکن پھر بہت سے باقی تھے کہ یہ حکم منسوخ ہو جاتا ہے اسی طرح کے اور بہت سے واقعات موجود ہیں اور خود یہودیوں کو ان کا اقرار ہے لیکن پھر بھی قرآن اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ کر نہیں مانتے کہ اس سے اللہ کے کلام میں نسخ لازم آتا ہے اور وہ محال ہے۔
بعض لوگ جو اس کے جواب میں لفظی بحثوں میں پڑ جاتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس سے دلالت نہیں بدلتی اور مقصود وہی رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت یہ لوگ اپنی کتابوں میں پاتے تھے آپ کی تابعداری کا حکم بھی دیکھتے تھی یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کی شریعت کے مطابق جو عمل نہ ہو وہ مقبول نہیں ہو گا یہ اور بات ہے کہ کوئی کہے کہ اگلی شریعتیں صرف آپ کے آنے تک ہی تھیں اس لیے یہ شریعت ان کی ناسخ نہیں یا کہے کہ ناسخ ہے بہر صورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کتاب اللہ کے پاس سے ابھی ابھی لے کر آئے ہیں پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نسخ کے جواز کو بیان فرما کر اس ملعون گروہ یہود کا رد کیا۔
سورۃ آل عمران میں بھی جس کے شروع میں بنی اسرائیل کو خطا کیا گیا ہے نسخ کے واقع ہونے کا ذکر موجود ہے فرماتا ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ» [ 3-آل عمران: 93 ] یعنی سبھی کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے مگر جس چیز کو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اس کی مزید تفسیر وہیں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ مسلمان کل کے کل متفق ہیں کہ احکام باری تعالیٰ میں نسخ کا ہونا جائز ہے بلکہ واقع بھی ہے اور پروردگار کی حکمت بالغہ کا دستور بھی یہی ہے ابو مسلم اصبہانی مفسر نے لکھا ہے کہ قرآن میں نسخ واقع نہیں ہوتا لیکن اس کا یہ قول ضعیف اور مردود اور محض غلط اور جھوٹ ہے جہاں نسخ قرآن موجود ہے اس کے جاب میں گو بعض نے بہت محنت سے اس کی تردید کی ہے لیکن محض بےسود دیکھیے پہلے اس عورت کی عدت جس کا خاوند مر جائے ایک سال تھی لیکن پھر چار مہینے دس دن ہوئی اور دونوں آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں قبلہ پہلے بیت المقدس تھا۔ پھر کعبۃ اللہ ہوا اور دوسری آیت صاف اور پہلا حکم بھی ضمناً مذکور ہے پہلے کے مسلمانوں کو حکم تھا کہ ایک ایک مسلمان دس دس کافروں سے لڑے اور ان کے مقابلے سے نہ ہٹے لیکن یہ پھر حکم منسوخ کر کے دو دو کے مقابلہ میں صبر کرنے کا حکم ہوا اور دونوں آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں پہلے حکم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دیا کرو پھر یہ حکم منسوخ ہوا اور دونوں آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں وغیرہ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
17۔ 1 نسخ کے لغوی معنی تو منسوخ کرنے کے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں ایک حکم بدل کر دوسرا حکم نازل کرنے کے ہیں یہ نسخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا جیسے آدم ؑ کے زمانے میں سگے بہن بھائی کا آپس میں نکاح جائز تھا بعد میں اسے حرام کردیا گیا وغیرہ، اسی طرح قرآن میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض احکام منسوخ فرمائے اور ان کی جگہ نیا حکم نازل فرمایا۔ یہودی تورات کو ناقابل نسخ قرار دیتے تھے اور قرآن پر بھی انہوں نے بعض احکام کے منسوخ ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی کہا کہ زمین اور آسمان کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جو مناسب سمجھے کرے، جس وقت جو حکم اس کی مصلحت و حکمت کے مطابق ہو، اسے نافذ کرے اور جسے چاہے منسوخ کر دے، یہ اس کی قدرت ہی کا مظاہرہ ہے۔ بعض قدیم گمراہوں (مثلا ابو مسلم اصفہانی معتزلی) اور آجکل کے بھی بعض متجددین نے یہودیوں کی طرح قرآن میں نسخ ماننے سے انکار کیا۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو مزکورہ سطروں میں بیان کی گئی ہے، سابقہ صالحین کا عقیدہ بھی اثبات نسخ ہی رہا ہے۔
(آیت 107،106) ➊ نسخ کا معنی ہے بعد میں آنے والے حکم کے ساتھ پہلے کسی حکم کو ختم کر دینا، جیسے پہلے بیت المقدس قبلہ مقرر ہوا، پھر بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا اور جیسے ہماری شریعت میں پہلی شریعتوں کے بہت سے احکام منسوخ کر دیے گئے۔ یہودی نسخ کے منکر تھے، اسی لیے انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا کہ انھوں نے تورات کے بعض احکام کیوں منسوخ کیے۔ قرآن پر بھی انھوں نے اعتراض کیا کہ جب پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا تھا اور درست تھا تو وہ منسوخ کیوں ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے کئی جواب دیے، پہلے جواب کی تفصیل یہ ہے کہ پہلا حکم درحقیقت ہوتا ہی اتنی مدت کے لیے ہے، نسخ اس مدت کے ختم ہونے کا اعلان ہے۔ اس وقت تک وہ پہلا حکم عین حکمت تھا، بعدمیں اس جیسے یا اس سے بہتر دوسرے حکم کی ضرورت تھی تو وہ جاری کر دیا گیا۔ کائنات میں ہر وقت اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ نطفہ سے علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، پھر جنین، پھر بچپن، جوانی، بڑھاپا، موت اور قیامت سب نسخ ہی کی صورتیں ہیں۔ مختلف موسم مثلاً سردی، پھر بہار، پھر گرمی، پھر برسات، اسی طرح رات دن کا چکر اس کی مثالیں ہیں۔ طبیب کا مریض کے لیے ایک نسخہ تجویز کرنا، پھر نئی صورت حال کے لیے دوسرا نسخہ تجویز کرنا بھی اس کی مثال ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلا نسخہ غلط تھا۔ ایک جواب اس اعتراض کا یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر اپنا حکم منسوخ نہ کر سکتا ہو تو وہ عاجز ٹھہرا، چنانچہ فرمایا: ”کیا تمھیں معلوم نہیں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ مزید فرمایا: ”کیا تمھیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ ہی کے لیے ہے۔“ وہ بادشاہ ہی کیا ہوا جو پہلے حکم کی جگہ نیا حکم نافذ نہ کر سکے۔ ➋ قرآن کے ساتھ قرآن منسوخ ہو سکتا ہے اور سنت بھی، اسی طرح سنت کے ساتھ سنت منسوخ ہو سکتی ہے اور قرآن بھی، کیونکہ دونوں وحی الٰہی ہیں اور وحی الٰہی کے ساتھ وحی الٰہی منسوخ ہو سکتی ہے۔ قرآن سے قرآن کے نسخ کی مثال: سورۂ نساء (۱۵) میں اللہ تعالیٰ نے زنا کرنے والی عورتوں کی سزا مقرر فرمائی کہ انھیں گھروں میں بند رکھو، یہاں تک کہ انھیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی راستہ بنا دے، پھر سورۂ نور کے شروع میں زانی مرد اور زانیہ عورت کو سو سو کوڑے مارنے کاحکم دیا گیا۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال (66،65) اور مجادلہ(۱۲، ۱۳)۔ قرآن کے ساتھ سنت کے نسخ کی مثال: جیسے شروع شروع میں روزے کی حالت میں مغرب کے بعد سو جانے کے بعد کھانا پینا اور بیوی کے پاس جانا منع تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا …}» [ البقرہ: ۱۸۷ ] قبلہ کی تبدیلی بھی قرآن کے ساتھ سنت کے نسخ کی مثال ہے۔ سنت کے ساتھ سنت منسوخ ہونے کی مثال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا وَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُوْمِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ، فَأَمْسِكُوْا مَا بَدَا لَكُمْ ] ”میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا سو ان کی زیارت کرو اور میں نے تمھیں تین راتوں سے زیادہ قربانیوں کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے منع کیا تھا سو انھیں رکھ لو جب تک تمھاری مرضی ہو۔“ [ مسلم، الأضاحی، باب بیان ما کان من النہی …: ۹۷۷، قبل ح: 1976، عن بریدۃ رضی اللہ عنہ ] سنت صحیحہ کے ساتھ قرآن کے نسخ کی مثال خواہ وہ متواتر نہ ہو: جیسا کہ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے، ان میں دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے، پھر فرمایا: «{ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ }» [ النساء: ۲۴ ] ”ان کے سوا سب عورتوں سے نکاح تمھارے لیے حلال ہے۔“ اس آیت کی رو سے خالہ اور اس کی بھانجی، پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا تو حرام ہو گیا اور اس پر امت متفق ہے۔ تنبیہ! درحقیقت یہ سنت کے ساتھ کتاب اللہ سے زائد حکم کی مثال ہے، بعض لوگ کتاب اللہ پر زیادتی کو نسخ کہتے ہیں، ان کے قول کے مطابق یہ نسخ کی مثال ہے، ورنہ شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سنت کے ساتھ قرآن کے نسخ کی کوئی قابل اطمینان مثال مجھے نہیں ملی۔ ➌ نسخ احکام میں ہوتا ہے خبر میں نہیں، ورنہ ہر جھوٹا شخص، جب اس کی پیشین گوئی یا گزشتہ یا موجود واقعے کی کوئی خبر غلط نکلے کہہ دے گا وہ منسوخ ہو گئی، جیسے مرزا قادیانی کے مریدوں کا حال ہے۔ ➍ بعض آیات و احکام جنھیں باقی رکھنا مقصود نہ تھا اللہ تعالیٰ نے بھلا دیے، جیسا کہ فرمایا: «{ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى(6) اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ }» [ الأعلٰی: ۶، ۷ ] ”ہم ضرور تجھے پڑھائیں گے تو تو نہیں بھولے گا۔ مگر جو اللہ چاہے۔“
کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمیں اور آسمان کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تجھے علم نہیں کہ زمین و آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لئے ہے۔ اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست اور مددگار نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ کے سوا تمھارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبدیلی یا تنسیخ ، اللہ تعالٰی مختار کل ہے ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نسخ کے معنی بدل کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:473/2] حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مٹانے کے معنی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:321/1] جو [ کبھی ] لکھنے میں باقی رہتا ہے اور حکم بدل جاتا ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور ابوالعالیہ اور محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:322/1] ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھلا دینے کے معنی ہیں عطا فرماتے ہیں چھوڑ دینے کے معنی ہیں سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اٹھا لینے کے معنی ہیں جیسے «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ» یعنی زانی مرد و عورت کو سنگسار کر دیا کرو۔ [سنن نسائی:7145، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور جیسے «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا» [صحیح بخاری:6440] یعنی ابن آدم کو اگر دو جنگل سونے کے مل جائیں جب بھی وہ تیسرے کی جستجو میں رہے گا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:324/1] امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احکام میں تبدیلی ہم کر دیا کرتے ہیں حلال کو حرام حرام کو حلال جائز کو ناجائز ناجائز کو جائز وغیرہ امر و نہی روک اور رخصت جائز اور ممنوع کاموں میں نسخ ہوتا ہے ہاں جو خبریں دی گئی ہیں واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں رد و بدل و ناسخ و منسوخ نہیں ہوتا۔
نسخ کے لفظی معنی نقل کرنے کے بھی ہیں جیسے کتاب کے ایک نسخے سے دوسرا نقل کر لینا۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ ایک حکم کے بدلے دوسرا حکم ہوتا ہے اس لیے نسخ کہتے ہیں خواہ وہ حکم کا بدل جانا ہو خواہ الفاظ کا۔ علماء اصول کی عبارتیں اس مسئلہ میں گو مختلف ہیں مگر معنی کے لحاظ سے سب قریب قریب ایک ہی ہیں۔ نسخ کے معنی کسی حکم شرعی کا پچھلی دلیل کی رو سے ہٹ جانا ہے کبھی ہلکی چیز کے بدلے بھاری اور کبھی بھاری کے بدلہ ہلکی اور کبھی کوئی بدل ہی نہیں ہوتا ہے نسخ کے احکام اس کی قسمیں اس کی شرطیں وغیرہ ہیں اس کے لیے اس فن کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے تفصیلات کی بسط کی جگہ نہیں طبرانی میں ایک روایت ہے کہ دو شخصوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سورت یاد کی تھی اسے وہ پڑھتے رہے ایک مرتبہ رات کی نماز میں ہر چند اسے پڑھنا چاہا لیکن یاد نے ساتھ نہ دیا گھبرا کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ منسوخ ہو گئی اور بھلا دی گئی دلوں میں نکال لی گئی تم غم نہ کرو۔ بے فکر ہو جاؤ۔
حضرت زہری رحمہ اللہ نون خفیفہ پیش کے ساتھ پڑھتے تھے اس کے ایک راوی سلیمان بن ارقم ضعیف ہیں۔ [مجمع الذوائد:11592] ابوبکر انباری نے بھی دوسری سند سے اسے مرفوع روایت کیا ہے۔ [تفسیر قرطبی:62/2-619] جیسے قرطبی رحمہ اللہ کا کنا ہے۔ «ننسھا» کو «ننساھا» بھی پڑھا گیا ہے۔ «ننساھا» کے معنی مؤخر کرنے پیچھے ہٹا دینے کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں منسوخ کرتے ہیں ابن کے شاگرد کہتے ہیں یعنی ہم اس کے الفاظ کو باقی رکھتے ہیں لیکن حکم کو بدل دیتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:473/2] عبد بن عمیر، مجاہد، اور عطا رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے ہم اسے مؤخر کرتے ہیں اور ملتوی کرتے ہیں عطیہ عوفی رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ یعنی منسوخ نہیں کرتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:477/2] سدی اور ربیع رحمہ اللہ علیہما بھی یہی کہتے ہیں ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ناسخ کو منسوخ کے پیچھے رکھتے ہیں ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اپنے پاس اسے روک لیتے ہیں عمر نے خطبہ میں «نُنٗسِھَا» پڑھا اور اس کے معنی مؤخر ہونے کے بیان کئے «ننسھا» جب پڑھیں تو یہ مطلب ہو گا کہ ہم اسے بھلا دیں۔ اللہ تعالیٰ جس حکم کو اٹھا لینا چاہتا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلا دیتا تھا اس طرح وہ آیت اٹھ جاتی تھی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ «ننسھا» پڑھتے تھے تو ان سے قسم بن ربیعہ رحمہ اللہ نے کہا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ تو «ننساھا» پڑھتے ہیں تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سعید پر یا سعید کے خاندان پر تو قرآن نہیں اترا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى» [ 87۔ الاعلی: 6 ] ہم تجھے پڑھائیں گے جسے تو نہ بھولے گا اور فرماتا ہے آیت «وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ» [ 18۔ الکہف: 24 ] جب بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں اور ابی رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ اچھے قرآن کے قاری ہیں اور ہم ابی رضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ دیتے ہیں اس لیے کہ ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے تو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اسے نہیں چھوڑوں گا اور فرماتے ہیں «مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا» [ البقرہ: 106 ] یعنی ہم جو منسوخ کریں یا بھلا دیں اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس جیسا [صحیح بخاری:4481] اس سے بہتر ہوتا ہے یعنی بندوں کی سہولت اور ان کے آرام کے لحاظ سے یا اس جیسا ہوتا ہے لیکن مصلحت الٰہی اس سابقہ چیز میں ہوتی ہے۔
مخلوق میں تغیر و تبدل کرنے والا پیدائش اور حکم کا اختیار رکھنے والا۔ ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس طرح جسے چاہتا ہے بناتا ہے جسے چاہے نیک بختی دیتا ہے جسے چاہے بدبختی دیتا ہے جسے چاہے تندرستی جسے چاہے بیماری، جسے چاہے توفیق جسے چاہے بے نصیب کر دے۔ بندوں میں جو حکم چاہے جاری کرے جسے چاہے حلال جسے چاہے حرام فرما دے جسے چاہے رخصت دے جسے چاہے روک دے وہ حاکم مطلق ہے جیسے چاہے احکام جاری فرمائے کوئی اس کے حکم کو رد نہیں کر سکتا جو چاہے کرے کوئی اس سے بازپرس نہیں کر سکتا وہ بندوں کو آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کے کیسے تابعدار ہیں کسی چیز کا کسی مصلحت کی وجہ سے حکم دیا پھر مصلحت کی وجہ سے ہی اس کو ہٹا دیا اب آزمائش ہو جاتی ہے نیک لوگ اس وقت بھی اطاعت کے لیے کمربستہ تھے اور اب بھی ہیں لیکن بدباطن لوگ باتیں بناتے ہیں اور ناک بھوں چڑھاتے ہیں حالانکہ تمام مخلوق کو اپنے خالق کی تمام باتیں ماننی چاہئیں اور ہر حال میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیئے اور جو وہ کہے اسے دل سے سچا ماننا چاہیئے، جو حکم دے بجا لانا چاہیئے جس سے روکے رک جانا چاہیئے۔
اس مقام پر بھی یہودیوں کا زبردست رد ہے اور ان کے کفر کا بیان ہے کہ وہ نسخ کے قائل نہ تھے بعض تو کہتے تھے اس میں عقلی محال لازم آتا ہے اور بعض نقلی محال بھی مانتے تھے اس آیت میں گو خطاب فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے مگر دراصل یہ کلام یہودیوں کو سنانا ہے جو انجیل کو اور قرآن کو اس وجہ سے نہیں مانتے تھے کہ ان میں بعض احکام توراۃ کے منسوخ ہو گئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان نبیوں کی نبوت کے بھی منکر ہو گئے تھے اور صرف عناد و تکبر کی بنا تھی ورنہ عقلاً نسخ محال نہیں اس لیے کہ جس طرح وہ اپنے کاموں میں با اختیار رہے اسی طرح اپنے حکموں میں بھی با اختیار رہے جو چاہے اور جب چاہے پیدا کرے جسے چاہے اور جس طرح چاہے اور جس وقت چاہے رکھے۔ اسی طرح جو چاہے اور جس وقت چاہے حکم دے اس حاکموں کے حاکم کا حاکم کون؟ اسی طرح نقلاً بھی یہ ثابت شدہ امر ہے اگلی کتابوں اور پہلی شریعتوں میں موجود ہے۔
حضرت آدم کی بیٹیاں بیٹے آپس میں بھائی بہن ہوتے تھے لیکن نکاح جائز تھا پھر اسے حرام کر دیا نوح علیہ السلام جب کشتی سے اترتے ہیں تب تمام حیوانات کا کھانا حلال تھا لیکن پھر بعض کی حلت منسوخ ہو گئی دو بہنوں کا نکاح اسرائیل اور ان کی اولاد پر حلال تھا لیکن پھر توراۃ میں اور اس کے بعد حرام ہو گیا ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی کا حکم دیا پھر قربان کرنے سے پہلے ہی منسوخ کر دیا بنو اسرائیل کو حکم دیا جاتا ہے کہ بچھڑا پوجنے میں جو شامل تھے سب اپنی جانوں کو قتل کر ڈالیں لیکن پھر بہت سے باقی تھے کہ یہ حکم منسوخ ہو جاتا ہے اسی طرح کے اور بہت سے واقعات موجود ہیں اور خود یہودیوں کو ان کا اقرار ہے لیکن پھر بھی قرآن اور نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہہ کر نہیں مانتے کہ اس سے اللہ کے کلام میں نسخ لازم آتا ہے اور وہ محال ہے۔
بعض لوگ جو اس کے جواب میں لفظی بحثوں میں پڑ جاتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اس سے دلالت نہیں بدلتی اور مقصود وہی رہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت یہ لوگ اپنی کتابوں میں پاتے تھے آپ کی تابعداری کا حکم بھی دیکھتے تھی یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کی شریعت کے مطابق جو عمل نہ ہو وہ مقبول نہیں ہو گا یہ اور بات ہے کہ کوئی کہے کہ اگلی شریعتیں صرف آپ کے آنے تک ہی تھیں اس لیے یہ شریعت ان کی ناسخ نہیں یا کہے کہ ناسخ ہے بہر صورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کتاب اللہ کے پاس سے ابھی ابھی لے کر آئے ہیں پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نسخ کے جواز کو بیان فرما کر اس ملعون گروہ یہود کا رد کیا۔
سورۃ آل عمران میں بھی جس کے شروع میں بنی اسرائیل کو خطا کیا گیا ہے نسخ کے واقع ہونے کا ذکر موجود ہے فرماتا ہے آیت «كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ» [ 3-آل عمران: 93 ] یعنی سبھی کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے مگر جس چیز کو اسرائیل علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اس کی مزید تفسیر وہیں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ مسلمان کل کے کل متفق ہیں کہ احکام باری تعالیٰ میں نسخ کا ہونا جائز ہے بلکہ واقع بھی ہے اور پروردگار کی حکمت بالغہ کا دستور بھی یہی ہے ابو مسلم اصبہانی مفسر نے لکھا ہے کہ قرآن میں نسخ واقع نہیں ہوتا لیکن اس کا یہ قول ضعیف اور مردود اور محض غلط اور جھوٹ ہے جہاں نسخ قرآن موجود ہے اس کے جاب میں گو بعض نے بہت محنت سے اس کی تردید کی ہے لیکن محض بےسود دیکھیے پہلے اس عورت کی عدت جس کا خاوند مر جائے ایک سال تھی لیکن پھر چار مہینے دس دن ہوئی اور دونوں آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں قبلہ پہلے بیت المقدس تھا۔ پھر کعبۃ اللہ ہوا اور دوسری آیت صاف اور پہلا حکم بھی ضمناً مذکور ہے پہلے کے مسلمانوں کو حکم تھا کہ ایک ایک مسلمان دس دس کافروں سے لڑے اور ان کے مقابلے سے نہ ہٹے لیکن یہ پھر حکم منسوخ کر کے دو دو کے مقابلہ میں صبر کرنے کا حکم ہوا اور دونوں آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں پہلے حکم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دیا کرو پھر یہ حکم منسوخ ہوا اور دونوں آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں وغیرہ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر کیا تم اپنے رسول سے اس قسم کے سوالات اور مطالبہ کرنا چاہتے ہو، جیسے اس سے پہلے موسیٰؑ سے کیے جا چکے ہیں؟ حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا وہ راہ راست سے بھٹک گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم اپنے رسول سے یہی پوچھنا چاہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے پوچھا گیا تھا؟ (سنو) ایمان کو کفر سے بدلنے واﻻ سیدھی راه سے بھٹک جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا اور جو ایمان کے بدلے کفر لے وہ ٹھیک راستہ بہک گیا -
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو) کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسے ہی (احمقانہ) سوال کرو۔ جیسے اس سے پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے؟ اور جس شخص نے ایمان کے عوض کفر اختیار کیا وہ راہِ راست سے بھٹک گیا۔
عبدالسلام بن محمد
یا تم ارادہ رکھتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرو، جس طرح اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر کو لے لے تو بے شک وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کثرت سوال حجت بازی کے مترادف ہے! ٭٭
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روکتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فضول سوال نہ کیا کو۔ یہ کثرت سوال کی عادت بہت بری ہے جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ اَشْيَاءَ» [ 5۔ المائدہ: 101 ] ایمان والو ان چیزوں کا سوال نہ کیا کرو جو اگر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں برا لگے گا اور اگر تم قرآن کے نازل ہونے کے زمانہ میں ایسے سوالوں کا سلسلہ جاری رکھو گے تو یہ باتیں ظاہر کر دی جائیں گی۔ کسی بات کے واقع ہونے سے پہلے اس کی نسبت سوال کرنے میں خوف یہ ہے کہ کہیں اس سوال کی وجہ سے وہ حرام نہ ہو جائیں صحیح حدیث میں ہے کہ مسلمانوں میں سے بڑا مجرم وہ ہے جو اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال سے حرام ہو گئی۔ [صحیح بخاری:7289] ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ کہ ”ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے تو کیا کرے؟ اگر لوگوں کو خبر کرے تو یہ بھی بڑی بے شرمی کی بات ہے اور اگر چپ ہو جائے تو بڑی بے غیرتی کی بات ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سوال بہت برا معلوم ہوا آخر اسی شخص کو ایسا واقعہ پیش آیا اور لعان کا حکم نازل ہوا۔ [صحیح بخاری:5259]
صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضول بکواس، مال کو ضائع کرنے اور زیادہ پوچھ گچھ سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:2408] صحیح مسلم میں ہے میں جب تک کچھ نہ کہوں، تم بھی نہ پوچھو تم سے پہلے لوگوں کو اسی بدخصلت نے ہلاک کر دیا کہ وہ بکثرت سوال کرتے تھے اور اپنے نبیوں کے سامنے اختلاف کرتے تھے۔ جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ اور اگر منع کروں تو رک جایا کرو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب لوگوں کو خبر دی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے تو کسی نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اس نے پھر پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا اس نے تیسری دفعہ پھر یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر سال نہیں لیکن اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور پھر تم کبھی بھی اس حکم کو بجا نہ لا سکتے۔ [صحیح مسلم:1337] پھر آپ نے مندرجہ بالا فرمان ارشاد فرمایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب ہمیں آپ سے سوال کرنے سے روک دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں ہیبت کھاتے تھے چاہتے تھے کہ کوئی بادیہ نشین ناواقف شخص آ جائے وہ پوچھے تو ہم بھی سن لیں۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں کوئی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنا چاہتا تھا تو سال سال بھر گزر جاتا تھا کہ مارے ہیبت کے پوچھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ہم تو خواہش رکھتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر بیٹھے پھر ہم بھی سن لیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی جماعت نہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف بارہ ہی مسئلے پوچھے جو سب سوال مع جواب کے قرآن پاک میں مذکورہ ہیں جیسے شراب وغیرہ کا سوال حرمت والے مہینوں کی بابت کا سوال، یتیموں کی بابت کا سوال وغیرہ وغیرہ۔ یہاں پر «ام» یا تو «بل» کے معنی میں ہے یا اپنے اصلی معنی میں ہے یعنی سوال کے بارے میں جو یہاں پر انکاری ہے یہ حکم مومن کافر سب کو ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سب کی طرف تھی قرآن میں اور جگہ ہے آیت «يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ» [ 4۔ النسآء: 153 ] اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر کوئی آسمانی کتاب اتارے انہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا کہ اللہ کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں جس ظلم کی وجہ سے انہیں ایک تند و تیز آواز سے ہلاک کر دیا گیا۔ رافع بن حرملہ اور وہب بن زید نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی آسمانی کتاب ہم پر نازل کیجئے جسے ہم پڑھیں اور ہمارے شہروں میں دریا جاری کر دیں تو ہم آپ کو مان لیں اس پر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:490/2]
ابو العالیہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بھی اسی طرح ہو جاتا جس طرح بنی اسرائیل کے گناہوں کا کفارہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنتے ہی تین دفعہ جناب باری تعالیٰ میں عرض کی کہ ”نہیں اللہ نہیں“ ہم یہ نہیں چاہتے پھر فرمایا سنو بنو اسرائیل میں سے جہاں کوئی گناہ کرتا اس کے دروازے پر قدرتاً لکھا ہوا پایا جاتا اور ساتھ ہی اس کا کفارہ بھی لکھا ہوا ہوتا تھا اب یا تو دنیا کی رسوائی کو منظور کر کے کفارہ ادا کر دے اور اپنے پوشیدہ گناہوں کو ظاہر کرے یا کفارہ نہ دے اور آخرت کی رسوائی منظور کرے لیکن تم سے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا آیت «وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [ 4۔ النسآء: 110 ] یعنی جس سے کوئی برا کام ہو جائے یا وہ اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر استغفار کرے تو وہ اللہ کو بہت بڑا بخشش اور مہربانی کرنے والا پائے گا۔ اسی طرح ایک نماز دوسری نماز تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے پھر جمعہ دوسرے جمعہ تک کفارہ ہو جاتا ہے۔ [صحیح مسلم:233] سنو جو شخص برائی کا ارادہ کرے لیکن برائی نہ کرے تو برائی لکھی نہیں جاتی اور اگر کر گزرے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور اگر بھلائی کا ارادہ کرے پھر گو نہ کرے لیکن بھلائی لکھ لی جاتی ہے اور اگر کر بھی لے تو دس بھلائیاں لکھی جاتی ہیں اب بتاؤ تم اچھے رہے یا بنی اسرائیل؟ تم بنی اسرائیل سے بہت ہی اچھے ہو ہاں باوجود اتنے کرم اور رحم کے پھر بھی کوئی ہلاک ہو تو سمجھو کہ یہ خود ہلاک ہونے والا ہی تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1786:مرسل و ضعیف]
قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر صفا پہاڑ سونے کا ہو جائے تو ہم ایمان لاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا لیکن پھر مائدہ [ آسمانی دستر خوان ] مانگنے والوں کا جو انجام ہوا وہی تمہارا بھی ہو گا اس پر وہ انکاری ہو گئے اور اپنے سوال کو چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1783:مرسل و ضعیف] مراد یہ ہے کہ تکبر عناد سرکشی کے ساتھ نبیوں سے سوال کرنا نہایت مذموم حرکت ہے جو کفر کو ایمان کے بدلے مول لے اور آسانی کو سختی سے بدلے وہ سیدھی راہ سے ہٹ کر جہالت و ضلالت میں گھر جاتا ہے اسی طرح غیر ضروری سوال کرنے والا بھی جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [ 14-إبراهيم: 28، 29 ] کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جو اللہ کی نعمت کو کفر سے بدلتے ہیں اور اپنی قوم کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور وہ بڑی بری قرار گاہ ہے۔
18۔ 1 مسلمانوں (صحابہ ؓ کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم یہودیوں کی طرح اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہ سرکشی غیر ضروری سوالات مت کیا کرو۔ اس میں اندیشہ کفر ہے۔
(آیت 108) ➊ یہاں اگرچہ بیان نہیں ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام سے کیا سوال کیا گیا، مگر پیچھے گزر چکا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھنے کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ [البقرۃ: ۵۵ ] اہل کتاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ایسی ہی گستاخی کا رویہ اختیار کیا، چنانچہ سورۂ نساء (۱۵۳) میں ہے: ”اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی کتاب اتارے، سو وہ تو موسیٰ سے اس سے بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں، چنانچہ انھوں نے کہا ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھلا۔“ اللہ تعالیٰ نے گستاخی پر مشتمل سوالات کے علاوہ وحی اترنے کے زمانہ میں ایسی چیزوں کے متعلق سوال سے بھی منع فرما دیا جو اگر ظاہر کر دی جائیں تو ناگوارہوں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۰۱) اور اس کا حاشیہ۔ ➋ گستاخانہ سوالات کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرنا قرار دیا ہے۔
اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے اس کے جواب میں تم عفو و در گزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰاپنا حکم ﻻئے۔ یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بہت کتابیوں نے چاہا کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے -
علامہ محمد حسین نجفی
(اے مسلمانو!) بہت سے اہل کتاب اپنے ذاتی حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد تمہیں پھر کافر بنا دیں باوجودیکہ ان پر حق واضح ہو چکا ہے سو تم عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ ان کے بارے میں اپنا حکم بھیجے یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کاش! وہ تمھیں تمھارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق خوب واضح ہو چکا۔ سو تم معاف کرو اور درگزر کرو، یہاںتک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابویاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ بھی یہودی تھا اور اپنے شعروں میں صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:331/1] گو ان کی کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق موجود تھی اور یہ بخوبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح پہچانتے تھے پھر یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ قرآن ان کی کتاب کی تصدیق کر رہا ہے ایک امی اور ان پڑھ وہ کتاب پڑھتا ہے جو سراسر معجزہ ہے لیکن صرف حسد کی بنا پر کہ یہ عرب میں آپ کیوں مبعوث ہوئے کفر و افکار پر آمادہ ہو گئے بلکہ اور لوگوں کو بھی بہکانا شروع کر دیا پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ تم درگزر کرتے رہو اور اللہ کے حکم کا اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو۔ جیسے اور جگہ فرمایا تمہیں مشرکوں اور اہل کتاب سے بہت کڑوی باتیں سننی پڑیں گی مگر بعد میں حکم نازل فرما دیا کہ ان مشرکین سے اب دب کر نہ رہو ان سے لڑائی کرنے کی تمہیں اجازت ہے۔ [9-التوبة:5] سیدنا اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے اور ان کی ایذاء اور تکلیف سہتے تھی اور اس آیت پر عمل پیرا تھے یہاں تک کہ دوسری آیتیں اتریں اور یہ حکم ہٹ گیا اب ان سے بدلہ لینے اور اپنا بچاؤ کرنے کا حکم ملا اور پہلی ہی لڑائی جو بدر کے میدان میں ہوئی اس میں کفار کو شکست فاش ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں میدان میں بچھ گئیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:333/1] پھر مومنوں کو رغبت دلائی جاتی ہے کہ تم نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کی حفاظت کرو یہ تمہیں آخرت کے عذابوں سے بچانے کے علاوہ دنیا میں بھی غلبہ اور نصرت دے گی پھر فرمایا کہ اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہر نیک و بدعمل کا بدلہ دونوں جہاں میں دے گا اس سے کوئی چھوٹا، بڑا، چھپا، کھلا، اچھا، برا، عمل پوشیدہ نہیں یہ اس لیے فرمایا کہ لوگ اطاعت کی طرف توجہ دیں اور نافرمانی سے بچیں «مبصر» کے بدلے «بصیر» کہا جیسے «مبدع» کے بدلے «بدیع» اور «مولم» کے بدلے «الیم» ۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت میں «سَمِيعٌ بَصِيرٌ» پڑھتے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:336/1]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 109) ➊ { كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ......:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اہل کتاب شامل ہیں اور بعد میں آنے والے تمام زمانوں کے یہود و نصاریٰ بھی، جیسا کہ ہمارے دور میں ان کی طرف سے علم و تحقیق کے نام پر اسلام کے عقائد و احکام کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا ہے اور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ مسلمان اگر یہودی یا نصرانی نہ بنیں تو کم از کم اپنے دین سے ضرور بدگمان ہو جائیں۔ ➋ { حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ......: } حق کو پہچاننے کے باوجود ان کی یہ خواہش محض حسد کی وجہ سے ہے اور حسد بھی کسی دینی جذبے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے دلوں کے بغض و عناد کی وجہ سے ہے۔ اس سے حسد کی قباحت ظاہر ہوئی کہ خود بھی ایمان سے محروم رہے اور دوسروں کے پاس یہ نعمت دیکھنا بھی برداشت نہیں۔ ابلیس کا سجدے سے انکار، قابیل کا اپنے بھائی کو قتل کرنا، برادران یوسف کا اپنے بھائی پر ظلم اور اہل کتاب کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کے باوجود انکار اور دشمنی کا باعث یہی حسد تھا۔ ➌ {فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا:} یعنی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ لڑائی کا حکم نہ آ جائے اس وقت تک عفو و درگزر سے کام لو، ان کے اوچھے حملوں اور حسد و بغض کی وجہ سے بے قابو نہ ہونا۔ پھر لڑائی کا حکم آنے پر بنو نضیر اور بنو قینقاع کو جلا وطن ہونا پڑا اور بنو قریظہ قتل ہوئے۔
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے-
علامہ محمد حسین نجفی
اور نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور جو کچھ نیکی اور بھلائی اپنے لئے (زادِ راہ کے طور پر) آگے بھیج دوگے اسے اللہ کے یہاں موجود پاؤگے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور جو بھی نیکی تم اپنی جانوں کے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس پا لو گے۔ بے شک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اسے خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابویاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ بھی یہودی تھا اور اپنے شعروں میں صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:331/1] گو ان کی کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق موجود تھی اور یہ بخوبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح پہچانتے تھے پھر یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ قرآن ان کی کتاب کی تصدیق کر رہا ہے ایک امی اور ان پڑھ وہ کتاب پڑھتا ہے جو سراسر معجزہ ہے لیکن صرف حسد کی بنا پر کہ یہ عرب میں آپ کیوں مبعوث ہوئے کفر و افکار پر آمادہ ہو گئے بلکہ اور لوگوں کو بھی بہکانا شروع کر دیا پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم دیا کہ تم درگزر کرتے رہو اور اللہ کے حکم کا اور اس کے فیصلے کا انتظار کرو۔ جیسے اور جگہ فرمایا تمہیں مشرکوں اور اہل کتاب سے بہت کڑوی باتیں سننی پڑیں گی مگر بعد میں حکم نازل فرما دیا کہ ان مشرکین سے اب دب کر نہ رہو ان سے لڑائی کرنے کی تمہیں اجازت ہے۔ [9-التوبة:5] سیدنا اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے اور ان کی ایذاء اور تکلیف سہتے تھی اور اس آیت پر عمل پیرا تھے یہاں تک کہ دوسری آیتیں اتریں اور یہ حکم ہٹ گیا اب ان سے بدلہ لینے اور اپنا بچاؤ کرنے کا حکم ملا اور پہلی ہی لڑائی جو بدر کے میدان میں ہوئی اس میں کفار کو شکست فاش ہوئی اور ان کے بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں میدان میں بچھ گئیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:333/1] پھر مومنوں کو رغبت دلائی جاتی ہے کہ تم نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کی حفاظت کرو یہ تمہیں آخرت کے عذابوں سے بچانے کے علاوہ دنیا میں بھی غلبہ اور نصرت دے گی پھر فرمایا کہ اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہر نیک و بدعمل کا بدلہ دونوں جہاں میں دے گا اس سے کوئی چھوٹا، بڑا، چھپا، کھلا، اچھا، برا، عمل پوشیدہ نہیں یہ اس لیے فرمایا کہ لوگ اطاعت کی طرف توجہ دیں اور نافرمانی سے بچیں «مبصر» کے بدلے «بصیر» کہا جیسے «مبدع» کے بدلے «بدیع» اور «مولم» کے بدلے «الیم» ۔ ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت میں «سَمِيعٌ بَصِيرٌ» پڑھتے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:336/1]
یہودیوں کو اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حسد اور عناد تھا اس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیرنے کی مذموم سعی کرتے رہتے تھے۔ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ تم صبر اور درگزر سے کام لیتے ہوئے ان احکام و فرائض اسلام کو بجا لاتے رہو۔ جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو (یا عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو یہ ان کی تمنائیں ہیں ان سے کہو، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود ونصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو
احمد رضا خان بریلوی
اور اہل کتاب بولے، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو-
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (یہود و نصاریٰ) کہتے ہیں کہ کوئی ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر وہی جو یہودی و نصرانی ہوگا۔ یہ ان کی خیال بندیاں اور خالی تمنائیں ہیں۔ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل پیش کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا جنت میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے یا نصاریٰ۔ یہ ان کی آرزوئیں ہی ہیں، کہہ دے لائو اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان صفت مغرور یہودی ٭٭
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورۃ المائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ «نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ» [ 5-المائدہ: 18 ] ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں، [5-المائدة:18] جس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ پھر تم پر قیامت کے دن عذاب کیوں ہو گا؟ اسی طرح کے مفہوم کا بیان پہلے بھی گزرا ہے کہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہم چند دن جہنم میں رہیں گے جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا کہ یہ دعویٰ بھی محض بے دلیل ہے اسی طرح یہاں ان کے ایک دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ لاؤ دلیل پیش کرو، انہیں عاجز ثابت کر کے پھر فرمایا کہ ہاں جو کوئی بھی اللہ کا فرمانبردار ہو جائے اور خلوص و توحید کے ساتھ نیک عمل کرے اسے پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّـهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3-آل عمران: 20 ] یہ اگر جھگڑیں تو ان سے کہ دو کہ میں اور میرے ماننے والوں نے اپنے چہرے اللہ کے سامنے متوجہ کر دیئے ہیں۔ [3-آل عمران:20] غرض یہ ہے کہ اخلاص اور مطابقت سنت ہر عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے تو «أَسْلَمَ وَجْهَه» سے مراد خلوص [تفسیر ابن ابی حاتم:3371/1] اور «وَهُوَ مُحْسِنٌ» سے مراد اتباع سنت ہے نرا خلوص بھی عمل کو مقبول نہیں کرا سکتا جب تک سنت کی تابعداری نہ ہو حدیث شریف میں ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے۔ [صحیح مسلم:1718]
پس رہبانیت کا عمل گو خلوص پر مبنی ہو لیکن تاہم اتباع سنت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردود ہے ایسے ہی اعمال کی نسبت قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25۔ الفرقان: 23 ] یعنی انہوں نے جو اعمال کئے تھے ہم نے سب رد کر دیئے دوسری جگہ فرمایا کافروں کے اعمال ریت کے چمکیلے تودوں کی طرح ہیں جنہیں پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا۔ [24-النور:39] اور جگہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سے چہروں پر ذلت برستی ہو گی جو عمل کرنے والے تکلیفیں اٹھانے والے ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور گرم کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔ [88-الغاشية:2-5] امیر المؤمنین عمر بن خطاب نے اس آیت کی تفسیر میں مراد یہود و نصاریٰ کے علماء اور عابد لیے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ کوئی عمل گو بظاہر سنت کے مطابق ہو لیکن عمل میں اخلاص نہ ہو مقصود اللہ کی خوشنودی نہ ہو تو وہ عمل بھی مردود ہے ریا کار اور منافق لوگوں کے اعمال کا بھی یہی حال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النسأ: 142 ] منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں دھوکہ دیتا ہے اور نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں اور فرمایا آیت «فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ» [ 107-الماعون: 4، 7 ] ان نمازیوں کے لیے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی روکتے پھرتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا» [ 18۔ الکہف: 110 ] جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا آرزو مند ہو اسے نیک عمل کرنا چاہیئے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا چاہیئے۔ پھر فرمایا انہیں ان کا رب اجر دے گا اور ڈر خوف سے بچائے گا آخرت میں انہیں ڈر نہیں اور دنیا کے چھوڑنے کا ملال نہیں۔ پھر یہود و نصاریٰ کی آپس کی بغض و عداوت کا ذکر فرمایا، نجران کے نصرانیوں کا وفد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو ان کے پاس یہودیوں کے علماء بھی آئے اس وقت ان لوگوں نے انہیں اور انہوں نے ان کو گمراہ بتایا حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں توراۃ میں انجیل کی تصدیق اور انجیل میں توراۃ کی تصدیق موجود ہے پھر ان کا یہ قول کس قدر لغو ہے، اگلے یہود و نصاریٰ دین حق پر قائم تھے لیکن پھر بدعتوں اور فتنہ پردازیوں کی وجہ سے دین ان سے چھن گیا اب نہ یہود ہدایت پر تھے نہ نصرانی۔ پھر فرمایا کہ نہ جاننے والوں نے بھی اسی طرح کہا اس میں بھی اشارہ انہی کی طرف ہے اور بعض نے کہا مراد اس سے یہود و نصاریٰ سے پہلے کے لوگ ہیں۔ بعض کہتے ہیں عرب لوگ مراد ہیں۔ امام ابن جریر اس سے عام لوگ مراد لیتے ہیں گویا سب شامل ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کو خود اللہ تعالیٰ کرے گا جس دن کوئی ظلم و زور نہیں ہو گا اور یہی مضمون دوسری جگہ بھی آیا ہے سورۃ الحج میں ارشاد ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ 22۔ الحج: 17 ] یعنی مومنوں اور یہودیوں اور صابیوں اور نصرانیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن اللہ فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ اور موجود ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» [ 34۔ سبأ: 26 ] کہہ دے کر ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ وہ باخبر فیصلے کرنے والا ہے۔
111۔ 1 یہاں اہل کتاب کے اس غرور اور فریب نفس کو پھر بیان کیا جا رہا ہے جس میں وہ مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں جن کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
(آیت 111) ➊ آیت میں ایک لمبی بات مختصر کر دی گئی ہے، یعنی یہودیوں نے کہا جنت میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے مگر جو یہودی ہوں گے اور نصاریٰ نے کہا کہ جنت میں ہر گز داخل نہیں ہوں گے مگر جو نصاریٰ ہوں گے، کیونکہ ان میں سے کوئی فریق بھی دوسرے کے جنت میں جانے کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا۔ فرمایا، یہ ان کی آرزوئیں ہی ہیں، حقیقت سے ان کا کچھ تعلق نہیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو اپنی دلیل پیش کریں۔ رازی رحمہ اللہ نے فرمایا، اس آیت سے ثابت ہوا کہ کوئی بھی دعویٰ کرنے والا، خواہ نفی کا دعویٰ کرے یا اثبات کا، اس پر دلیل اور برہان پیش کرنا لازم ہے اور یہ تقلیداً کہی ہوئی بات کے باطل ہونے کی سب سے سچی اور پکی دلیل ہے (کیونکہ تقلید نام ہی کسی بات کو بلا دلیل قبول کرنے کا ہے)۔ ➋ { اَمَانِيُّهُمْ:} خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے ترجمے میں ”ہی“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ آج کل مسلمان بھی محض آرزوؤں اور خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں، حالانکہ نام کا اسلام نہ دنیا میں عزت کا ضامن ہے نہ آخرت میں۔
دراصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے، نہ کسی اور کی حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اُس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
سنو! جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی
احمد رضا خان بریلوی
ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں۔ (کسی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے) جو شخص (حق سن کر) اپنا سر تسلیم خدا کے سامنے خم کر دے اور (مقام عمل میں) نیکوکار بھی ہو تو اس کے پروردگار کے پاس اس کا اجر و ثواب ہے اور (قیامت کے دن) ایسے لوگوں کو کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کیوں نہیں، جس نے اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دیا اور وہ نیکی کرنے والا ہو تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان صفت مغرور یہودی ٭٭
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورۃ المائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ «نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ» [ 5-المائدہ: 18 ] ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں، [5-المائدة:18] جس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ پھر تم پر قیامت کے دن عذاب کیوں ہو گا؟ اسی طرح کے مفہوم کا بیان پہلے بھی گزرا ہے کہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہم چند دن جہنم میں رہیں گے جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا کہ یہ دعویٰ بھی محض بے دلیل ہے اسی طرح یہاں ان کے ایک دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ لاؤ دلیل پیش کرو، انہیں عاجز ثابت کر کے پھر فرمایا کہ ہاں جو کوئی بھی اللہ کا فرمانبردار ہو جائے اور خلوص و توحید کے ساتھ نیک عمل کرے اسے پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّـهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3-آل عمران: 20 ] یہ اگر جھگڑیں تو ان سے کہ دو کہ میں اور میرے ماننے والوں نے اپنے چہرے اللہ کے سامنے متوجہ کر دیئے ہیں۔ [3-آل عمران:20] غرض یہ ہے کہ اخلاص اور مطابقت سنت ہر عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے تو «أَسْلَمَ وَجْهَه» سے مراد خلوص [تفسیر ابن ابی حاتم:3371/1] اور «وَهُوَ مُحْسِنٌ» سے مراد اتباع سنت ہے نرا خلوص بھی عمل کو مقبول نہیں کرا سکتا جب تک سنت کی تابعداری نہ ہو حدیث شریف میں ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے۔ [صحیح مسلم:1718]
پس رہبانیت کا عمل گو خلوص پر مبنی ہو لیکن تاہم اتباع سنت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردود ہے ایسے ہی اعمال کی نسبت قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25۔ الفرقان: 23 ] یعنی انہوں نے جو اعمال کئے تھے ہم نے سب رد کر دیئے دوسری جگہ فرمایا کافروں کے اعمال ریت کے چمکیلے تودوں کی طرح ہیں جنہیں پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا۔ [24-النور:39] اور جگہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سے چہروں پر ذلت برستی ہو گی جو عمل کرنے والے تکلیفیں اٹھانے والے ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور گرم کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔ [88-الغاشية:2-5] امیر المؤمنین عمر بن خطاب نے اس آیت کی تفسیر میں مراد یہود و نصاریٰ کے علماء اور عابد لیے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ کوئی عمل گو بظاہر سنت کے مطابق ہو لیکن عمل میں اخلاص نہ ہو مقصود اللہ کی خوشنودی نہ ہو تو وہ عمل بھی مردود ہے ریا کار اور منافق لوگوں کے اعمال کا بھی یہی حال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النسأ: 142 ] منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں دھوکہ دیتا ہے اور نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں اور فرمایا آیت «فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ» [ 107-الماعون: 4، 7 ] ان نمازیوں کے لیے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی روکتے پھرتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا» [ 18۔ الکہف: 110 ] جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا آرزو مند ہو اسے نیک عمل کرنا چاہیئے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا چاہیئے۔ پھر فرمایا انہیں ان کا رب اجر دے گا اور ڈر خوف سے بچائے گا آخرت میں انہیں ڈر نہیں اور دنیا کے چھوڑنے کا ملال نہیں۔ پھر یہود و نصاریٰ کی آپس کی بغض و عداوت کا ذکر فرمایا، نجران کے نصرانیوں کا وفد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو ان کے پاس یہودیوں کے علماء بھی آئے اس وقت ان لوگوں نے انہیں اور انہوں نے ان کو گمراہ بتایا حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں توراۃ میں انجیل کی تصدیق اور انجیل میں توراۃ کی تصدیق موجود ہے پھر ان کا یہ قول کس قدر لغو ہے، اگلے یہود و نصاریٰ دین حق پر قائم تھے لیکن پھر بدعتوں اور فتنہ پردازیوں کی وجہ سے دین ان سے چھن گیا اب نہ یہود ہدایت پر تھے نہ نصرانی۔ پھر فرمایا کہ نہ جاننے والوں نے بھی اسی طرح کہا اس میں بھی اشارہ انہی کی طرف ہے اور بعض نے کہا مراد اس سے یہود و نصاریٰ سے پہلے کے لوگ ہیں۔ بعض کہتے ہیں عرب لوگ مراد ہیں۔ امام ابن جریر اس سے عام لوگ مراد لیتے ہیں گویا سب شامل ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کو خود اللہ تعالیٰ کرے گا جس دن کوئی ظلم و زور نہیں ہو گا اور یہی مضمون دوسری جگہ بھی آیا ہے سورۃ الحج میں ارشاد ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ 22۔ الحج: 17 ] یعنی مومنوں اور یہودیوں اور صابیوں اور نصرانیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن اللہ فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ اور موجود ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» [ 34۔ سبأ: 26 ] کہہ دے کر ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ وہ باخبر فیصلے کرنے والا ہے۔
112۔ 1 (اَسْلَمَ وَ جْھَہ لِلّٰہِ) 2:112 کا مطلب ہے محض اللہ کی رضا کے لئے کام کرے اور (وَ ھُوَ مُحْسِنُ) کا مطلب ہے اخلاص کے ساتھ پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق۔ قبولیت عمل کے لئے یہ دو بنیادی اصول ہیں اور نجات اخروی انہی اصولوں کے مطابق کئے گئے اعمال صالحہ پر مبنی ہے نہ کہ محض آرزو وں پر۔
(آیت 112) یعنی جنت میں جانے کے لیے کسی گروہ کا فرد ہونا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے دو شرطیں ہیں، ایک یہ کہ اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دے، چہرہ تابع ہو گیا تو پورا جسم تابع ہو گیا، پھر جو عمل کرے اسی کے لیے کرے، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہ ہو۔ دوسری یہ کہ وہ عمل حسن (یعنی نیک) ہو، اس کی طرف اشارہ {”وَ هُوَ مُحْسِنٌ“} کے ساتھ ہے۔ نیک عمل وہی ہے جو قرآن وسنت کے مطابق ہو۔ پہلی شرط نہ ہو گی تو منافقت اور ریا کاری ہے، دوسری نہ ہو گی تو بدعت اور گمراہی ہے۔
یہودی کہتے ہیں: عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں عیسائی کہتے ہیں: یہودیوں کے پاس کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں اور اسی قسم کے دعوے ان لوگوں کے بھی ہیں، جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں، ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں، حاﻻنکہ یہ سب لوگ تورات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بےعلم بھی کہتے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کردے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں-
علامہ محمد حسین نجفی
یہودی کہتے ہیں کہ نصرانی کسی چیز (راہ راست) پر نہیں اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی کسی چیز (راہ راست) پر نہیں حالانکہ یہ سب (آسمانی) کتاب کے پڑھنے والے ہیں اسی طرح (بے بنیاد) باتیں ان لوگوں (کفار و مشرکین) نے بھی کی ہیں جو کچھ بھی علم نہیں رکھتے۔ پس جن باتوں میں یہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے ہیں قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہودیوں نے کہا نصاریٰ کسی چیز پر نہیں ہیں اور نصاریٰ نے کہا یہودی کسی چیز پر نہیں ہیں، حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، اسی طرح ان لوگوں نے بھی جو کچھ علم نہیں رکھتے، ان کی بات جیسی بات کہی، اب اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان صفت مغرور یہودی ٭٭
یہاں پر یہودیوں اور نصرانیوں کے غرور کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے اور صاف کہتے ہیں کہ ہمارے سوا جنت میں کوئی نہیں جائے گا سورۃ المائدہ میں ان کا ایک قول یہ بھی بیان ہوا ہے کہ «نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ» [ 5-المائدہ: 18 ] ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں، [5-المائدة:18] جس کے جواب میں قرآن نے کہا کہ پھر تم پر قیامت کے دن عذاب کیوں ہو گا؟ اسی طرح کے مفہوم کا بیان پہلے بھی گزرا ہے کہ ان کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ ہم چند دن جہنم میں رہیں گے جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا کہ یہ دعویٰ بھی محض بے دلیل ہے اسی طرح یہاں ان کے ایک دعویٰ کی تردید کی اور کہا کہ لاؤ دلیل پیش کرو، انہیں عاجز ثابت کر کے پھر فرمایا کہ ہاں جو کوئی بھی اللہ کا فرمانبردار ہو جائے اور خلوص و توحید کے ساتھ نیک عمل کرے اسے پورا پورا اجر و ثواب ملے گا، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّـهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3-آل عمران: 20 ] یہ اگر جھگڑیں تو ان سے کہ دو کہ میں اور میرے ماننے والوں نے اپنے چہرے اللہ کے سامنے متوجہ کر دیئے ہیں۔ [3-آل عمران:20] غرض یہ ہے کہ اخلاص اور مطابقت سنت ہر عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے تو «أَسْلَمَ وَجْهَه» سے مراد خلوص [تفسیر ابن ابی حاتم:3371/1] اور «وَهُوَ مُحْسِنٌ» سے مراد اتباع سنت ہے نرا خلوص بھی عمل کو مقبول نہیں کرا سکتا جب تک سنت کی تابعداری نہ ہو حدیث شریف میں ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے۔ [صحیح مسلم:1718]
پس رہبانیت کا عمل گو خلوص پر مبنی ہو لیکن تاہم اتباع سنت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردود ہے ایسے ہی اعمال کی نسبت قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25۔ الفرقان: 23 ] یعنی انہوں نے جو اعمال کئے تھے ہم نے سب رد کر دیئے دوسری جگہ فرمایا کافروں کے اعمال ریت کے چمکیلے تودوں کی طرح ہیں جنہیں پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس جاتا ہے تو کچھ نہیں پاتا۔ [24-النور:39] اور جگہ ہے کہ قیامت کے دن بہت سے چہروں پر ذلت برستی ہو گی جو عمل کرنے والے تکلیفیں اٹھانے والے ہوں گے اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور گرم کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔ [88-الغاشية:2-5] امیر المؤمنین عمر بن خطاب نے اس آیت کی تفسیر میں مراد یہود و نصاریٰ کے علماء اور عابد لیے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ کوئی عمل گو بظاہر سنت کے مطابق ہو لیکن عمل میں اخلاص نہ ہو مقصود اللہ کی خوشنودی نہ ہو تو وہ عمل بھی مردود ہے ریا کار اور منافق لوگوں کے اعمال کا بھی یہی حال ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النسأ: 142 ] منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ انہیں دھوکہ دیتا ہے اور نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرتے ہیں اور اللہ کا ذکر بہت ہی کم کرتے ہیں اور فرمایا آیت «فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ» [ 107-الماعون: 4، 7 ] ان نمازیوں کے لیے ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی روکتے پھرتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖٓ اَحَدًا» [ 18۔ الکہف: 110 ] جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا آرزو مند ہو اسے نیک عمل کرنا چاہیئے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا چاہیئے۔ پھر فرمایا انہیں ان کا رب اجر دے گا اور ڈر خوف سے بچائے گا آخرت میں انہیں ڈر نہیں اور دنیا کے چھوڑنے کا ملال نہیں۔ پھر یہود و نصاریٰ کی آپس کی بغض و عداوت کا ذکر فرمایا، نجران کے نصرانیوں کا وفد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو ان کے پاس یہودیوں کے علماء بھی آئے اس وقت ان لوگوں نے انہیں اور انہوں نے ان کو گمراہ بتایا حالانکہ دونوں اہل کتاب ہیں توراۃ میں انجیل کی تصدیق اور انجیل میں توراۃ کی تصدیق موجود ہے پھر ان کا یہ قول کس قدر لغو ہے، اگلے یہود و نصاریٰ دین حق پر قائم تھے لیکن پھر بدعتوں اور فتنہ پردازیوں کی وجہ سے دین ان سے چھن گیا اب نہ یہود ہدایت پر تھے نہ نصرانی۔ پھر فرمایا کہ نہ جاننے والوں نے بھی اسی طرح کہا اس میں بھی اشارہ انہی کی طرف ہے اور بعض نے کہا مراد اس سے یہود و نصاریٰ سے پہلے کے لوگ ہیں۔ بعض کہتے ہیں عرب لوگ مراد ہیں۔ امام ابن جریر اس سے عام لوگ مراد لیتے ہیں گویا سب شامل ہیں اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر فرمایا کہ اختلاف کا فیصلہ قیامت کو خود اللہ تعالیٰ کرے گا جس دن کوئی ظلم و زور نہیں ہو گا اور یہی مضمون دوسری جگہ بھی آیا ہے سورۃ الحج میں ارشاد ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [ 22۔ الحج: 17 ] یعنی مومنوں اور یہودیوں اور صابیوں اور نصرانیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن اللہ فیصلہ فرمائے گا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ اور موجود ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» [ 34۔ سبأ: 26 ] کہہ دے کر ہمارا رب ہمیں جمع کرے گا پھر حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ وہ باخبر فیصلے کرنے والا ہے۔
113۔ 1 یہودی تورات پڑھتے ہیں جس میں حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے حضرت عیسیٰ ؑ کی تصدیق موجود ہے، لیکن اس کے باوجود یہودی حضرت عیسیٰ ؑ کی تکفیر کرتے تھے۔ عیسائیوں کے پاس انجیل موجود ہے جس میں حضرت موسیٰ ؑ اور تورات کے مِنْ عِنْد اللہ ہونے کی تصدیق ہے اس کے باوجود یہ یہودیوں کی تکفیر کرتے ہیں، یہ گویا اہل کتاب کے دونوں فرقوں کے کفر وعناد اور اپنے اپنے بارے میں خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 113۔ 2 اہل کتاب کے مقابلے میں عرب کے مشرکین ان پڑھ تھے، اس لئے انہیں بےعلم کہا گیا، لیکن وہ بھی مشرک ہونے کے باوجود یہود اور نصاریٰ کی طرح، اس باطل میں مبتلا تھے کہ وہ یہ حق پر ہیں۔ اسی لئے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صابی یعنی بےدین کہا کرتے تھے۔
(آیت 113) ➊ تورات میں مسیح علیہ السلام کی نبوت کا ذکر موجود تھا اور یہودی اسے پڑھتے اور جانتے تھے، اسی طرح انجیل میں موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا ذکر اور تورات پر عمل کا حکم موجود تھا اور نصاریٰ اسے پڑھتے اور جانتے تھے، مگر تعصب اور ضد میں آ کر ہر ایک نے دوسرے کے بارے میں کہا کہ وہ سرے سے کسی بھی چیز پر نہیں۔ افسوس! مسلمان بھی جب فرقوں میں تقسیم ہوئے تو ہر ایک نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ دوسرے فرقے کی بات قرآن وسنت کے مطابق ہے، اسے غلط اور اپنے فرقے کی بات کو غلط جانتے ہوئے بھی درست قرار دیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ➋ {لَا يَعْلَمُوْنَ:} علم سے مراد وحی کا علم ہے اور اس سے مراد مشرکین عرب ہیں جو وحی الٰہی کا کچھ علم نہیں رکھتے تھے، ان کے علاوہ وہ تمام لوگ جو آسمانی ہدایت سے بے بہرہ ہیں، اس میں شامل ہیں، مثلاً دہریے اور بت پرست وغیرہ، ان سب نے بھی یہود و نصاریٰ کی طرح اپنے سوا سب کو سرے ہی سے غلط قرار دیا۔ فرمایا، اب ان کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔
اوراس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے درپے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان کی عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی، تو ڈرتے ہوئے جائیں ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم
مولانا محمد جوناگڑھی
اس شخص سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے، ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے اس میں جانا چاہیئے، ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب -
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے ذکر سے (اللہ کے بندوں کو) روکے اور ان کی ویرانی و بربادی کی کوشش کرے حالانکہ (روکنے والوں) کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجدوں میں داخل ہوں مگر ڈرتے ڈرتے۔ ان لوگوں کے لئے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے منع کرے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے؟ یہ لوگ، ان کا حق نہ تھا کہ ان میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ایک رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نصاریٰ اور یہودی مکافات عمل کا شکار! ٭٭
اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد نصاریٰ ہیں دوسرا یہ کہ اس سے مراد مشرکین ہیں نصرانی بھی بیت المقدس کی مسجد میں پلیدی ڈال دیتے تھے اور لوگوں کو اس میں نماز ادا کرنے سے روکتے تھے، بخت نصر نے جب بیت المقدس کی بربادی کے لیے چڑھائی کے تھی تو ان نصرانیوں نے اس کا ساتھ دیا تھا اور مدد کی تھی، بخت نصر بابل کا رہنے والا مجوسی تھا اور یہودیوں کی دشمنی پر نصرانیوں نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا اور اس لیے بھی کہ بنی اسرائیل نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو قتل کر ڈالا تھا اور مشرکین نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حدیبیہ والے سال کعبۃ اللہ سے روکا تھا یہاں تک کہ ذی طویٰ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانیاں دینا پڑیں اور مشرکین سے صلح کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں سے واپس آ گئے حالانکہ یہ امن کی جگہ تھی باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی یہاں کوئی نہیں چھیڑتا تھا اور ان کی کوشش یہی تھی کہ ذکر اللہ اور حج و عمرہ کرنے والی مسلم جماعت کو روک دیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:521/2] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے ابن جریر رحمہ اللہ نے پہلے قول کو پسند فرمایا ہے اور کہا ہے کہ مشرکین کعبۃ اللہ کو برباد کرنے کی سعی نہیں کرتے تھے یہ سعی نصاری کی تھی کہ وہ بیت المقدس کی ویرانی کے درپے ہو گئے تھے۔ لیکن حقیقت میں دوسرا قول زیادہ صحیح ہے، ابن زید رحمہ اللہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے اور اس بات کو بھی نہ بھولنا چاہیئے کہ جب نصرانیوں نے یہودیوں کو بیت المقدس سے روکا تھا اس وقت یہودی بھی محض بےدین ہو چکے تھے ان پر تو داؤد اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کی زبانی لعنتیں نازل ہو چکی تھیں وہ نافرمان اور حد سے متجاوز ہو چکے تھے اور نصرانی مسیح کے دین پر تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد مشرکین مکہ ہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اوپر یہود و نصاریٰ کی مذمت بیان ہوئی تھی اور یہاں مشرکین عرب کی اس بدخصلت کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کو مسجد الحرام سے روکا مکہ سے نکالا پھر حج وغیرہ سے بھی روک دیا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کا یہ فرمان کہ مکہ والے بیت اللہ کی ویرانی میں کوشاں نہ تھے اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو وہاں سے روکنے اور نکال دینے اور بیت اللہ میں بت بٹھا دینے سے بڑھ کر اس کی ویرانی کیا ہو سکتی ہے؟ خود قرآن میں موجود ہے آیت «وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [ 8۔ الانفال: 34 ] اور جگہ فرمایا آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» [ التوبة: 17، 18 ] یعنی یہ لوگ مسجد الحرام سے روکتے ہیں مشرکوں سے اللہ کی مسجدیں آباد نہیں ہو سکتیں جو اپنے کفر کے خود گواہ ہیں جن کے اعمال غارت ہیں اور جو ہمیشہ کے لیے جہنمی ہیں مسجدوں کی آبادی ان لوگوں سے ہوتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے اور نماز و زکوٰۃ کے پابند اور صرف اللہ ہی سے ڈرنے والے ہیں یہی لوگ راہ راست والے ہیں اور جگہ فرمایا آیت «هُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ» [ 48۔ الفتح: 25 ] ان لوگوں نے بھی کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے بھی روکا اور قربانیوں کو ان کے ذبح ہونے کی جگہ تک نہ پہنچنے دیا اگر ہمیں ان مومن مردوں عورتوں کا خیال نہ ہوتا جو اپنی ضعیفی اور کم قوتی کے باعث مکہ سے نہیں نکل سکے۔ جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو تو ہم تمہیں ان سے لڑ کر ان کے غارت کر دینے کا حکم دیتے لیکن یہ بےگناہ مسلمان پیس نہ دیئے جائیں اس لیے ہم نے سردست یہ حکم نہیں دیا لیکن یہ کفار اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں جب ان پر ہمارے درد ناک عذاب برس پڑیں۔ پس جب وہ مسلمان ہستیں جن سے مسجدوں کی آبادی حقیقی معنی میں ہے وہ ہی روک دیئے گئے تو مسجدوں کے اجاڑنے میں کون سی کمی رہ گئی؟ مسجدوں کی آبادی صرف ظاہری زیب و زینت رنگ و روغن سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں ذکر اللہ ہونا اس میں شریعت کا قائم رہنا اور شرک اور ظاہری میل کچیل سے پاک رکھنا یہ ان کی حقیقی آبادی ہے پھر فرمایا کہ انہیں لائق نہیں کہ بے خوف ہو کر یہ مسجد میں آئیں۔ مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو انہیں بے خوفی اور بے باکی کے ساتھ بیت اللہ میں آنے دو ہم تمھیں غالب کر دیں گے اس وقت یہی کرنا چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا اگلے سال ۹ہجری اعلان کرا دیا کہ اس سال کے بعد حج میں کوئی مشرک نہ آنے پائے اور بیت اللہ شریف کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے جن لوگوں کے درمیان صلح کی کوئی مدت مقرر ہوئی ہے وہ قائم ہے۔ [صحیح بخاری:365] یہ حکم دراصل تصدیق اور عمل ہے اس آیت پر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا» [ 9۔ التوبہ: 28 ] یعنی مشرک لوگ نجس ہیں اس سال کے بعد انہیں مسجد الحرام میں نہ آنے دو اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ چاہیئے تو یہ تھا کہ یہ مشرک کانپتے ہوئے اور خوف زدہ مسجد میں آئیں لیکن برخلاف اس کے الٹے یہ مسلمانوں کو روک رہے ہیں یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو بشارت دیتا ہے کہ عنقریب میں تمہیں غلبہ دوں گا اور یہ مشرک اس مسجد کی طرف رخ کرنے سے بھی کپکپانے لگیں گے چنانچہ یہی ہوا اور حضور علیہ السلام نے وصیت کی کہ جزیرہ عرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں اور یہود و نصاریٰ کو وہاں سے نکال دیا جائے۔ [مؤطا:کتاب الجامع892/2:مرسل]
الحمداللہ کہ اس امت کے بزرگوں نے اس وصیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل بھی کر دکھایا اس سے مسجدوں کی فضیلت اور بزرگی بھی ثابت ہوئی بالخصوص اس جگہ کی اور مسجد کی جہاں سب سے بڑے اور کل جن و انس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے تھے۔ ان کافر پر دنیا کی رسوائی بھی آئی، جس طرح انہوں نے مسلمانوں کو روکا جلا وطن کیا ٹھیک اس کا پورا بدلہ انہیں ملا یہ بھی روکے گئے، جلا وطن کئے گئے اور ابھی اخروی عذاب باقی ہیں کیونکہ انہوں نے بیت اللہ شریف کی حرمت توڑی وہاں بت بٹھائے غیر اللہ سے دعائیں اور مناجاتیں شروع کر دیں۔ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا وغیرہ اور اگر اس سے مراد نصرانی لیے جائیں تو بھی ظاہر ہے کہ انہوں نے بھی بیت المقدس کی بے حرمتی کی تھی، بالخصوص اس صخرہ [ پتھر ] کی جس کی طرف یہود نماز پڑھتے تھے، اسی طرح جب یہودیوں نے بھی نصرانیوں سے بہت زیادہ ہتک کی اور تو ان پر ذلت بھی اس وجہ سے زیادہ نازل ہوئی دنیا کی رسوائی سے مراد امام مہدی کے زمانہ کی رسوائی بھی ہے اور جزیہ کی ادائیگی بھی ہے حدیث شریف میں ایک دعا وارد ہوئی ہے۔ دعا «اَللّٰھُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِیْ الْاُمُوْرِ کُلِّھَا وَاَجِرْ نَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ» اے اللہ تو ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات دے۔ [مسند احمد:181/4:ضعیف] یہ حدیث حسن ہے مسند احمد میں موجود ہے صحاح ستہ میں نہیں اس کے راوی بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ بن ارطاۃ صحابی ہیں۔ ان سے ایک تو یہ حدیث مروی ہے دوسری وہ حدیث مروی ہے جس میں ہے کہ غزوے اور جنگ کے موقعہ پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔ [سنن ابوداود:4408، قال الشيخ الألباني:صحیح]
114۔ 1 جن لوگوں نے مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکا، یہ کون ہیں؟ ان کے بارے میں مفسرین کی دو رائے ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ اس سے مراد عیسائی ہیں، جنہوں نے بادشاہ روم کے ساتھ ملکر بیت المقدس میں یہودیوں کو نماز پڑھنے سے روکا اور اس کی تخریب میں حصہ لیا، لیکن حافظ ابن کثیر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے اس کا مصداق مشرکین مکہ کو قرار دیا، جنہوں نے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مکہ سے نکلنے پر مجبور کردیا اور یوں خانہ کعبہ میں مسلمانوں کو عبادت سے روکا۔ پھر صلح حدیبیہ کے موقعے پر بھی یہی کردار دہرایا اور کہا کہ ہم اپنے آباو اجداد کے قاتلوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، حالانکہ خانہ کعبہ میں کسی کو عبادت سے روکنے کی اجازت اور روایت نہیں تھی۔ 114۔ 2 تخریب اور بربادی صرف یہی نہیں ہے اسے گرا دیا جائے اور عمارت کو نقصان پہنچایا جائے، بلکہ ان میں اللہ کی عبادت اور ذکر سے روکنا، اقامت شریعت اور مظاہر شرک سے پاک کرنے سے منع کرنا بھی تخریب اور اللہ کے گھروں کو برباد کرنا ہے۔ 114۔ 3 یہ الفاظ خبر کے ہیں، لیکن مراد اس سے یہ خواہش ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں ہمت اور غلبہ عطا فرمائے تو تم ان مشرکین کو اس میں صلح اور جزیے کے بغیر رہنے کی اجازت نہ دینا۔ چناچہ جب 8 ہجری میں مکہ فتح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا آئندہ سال کعبہ میں کسی مشرک کو حج کرنے کی اور ننگا طواف کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور جس سے جو معاہدہ ہے، معاہدہ کی مدت تک اسے یہاں رہنے کی اجازت ہے، بعض نے کہا کہ یہ خوشخبری ہے اور پیش گوئی ہے کہ عنقریب مسلمانوں کو غلبہ ہوجائے گا اور یہ مشرکین خانہ کعبہ میں ڈرتے ہوئے داخل ہونگے کہ ہم نے جو مسلمانوں پر زیادتیاں کی ہیں انکے بدلے میں ہمیں سزا سے دو چار یا قتل کردیا جائے۔ چناچہ جلد ہی یہ خوشخبری پوری ہوگئی۔
(آیت 114) ➊ اپنے گروہ کو حق پر اور اپنے سوا سب کو غلط قرار دینے والے یہ سب لوگ غور کریں کہ ظلم کے ناجائز ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں سے منع کرے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش کرے۔ یہ کام مشرکین مکہ نے کیا کہ مسلمانوں کو پہلے مکہ سے نکالا، پھر ان کا مکہ میں داخلہ حتیٰ کہ حج و عمرہ کے لیے آنا بند کردیا۔ ان سے پہلے نصاریٰ کا ٹائٹس کے زمانے میں بیت المقدس پر قبضہ ہوا تو انھوں نے یہودیوں کا داخلہ بیت المقدس میں بند کر دیا، یہ کیسی حق پرستی ہے؟ ➋ { اِلَّا خَآئِفِيْنَ:} یعنی ایسے ظالم لوگوں کا اللہ کی مساجد کا متولی ہونا تو درکنار ان کا تو داخلہ بھی ڈرتے ہوئے ہونا چاہیے کہ انھوں نے کوئی شرارت کی تو سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ ان کے لیے دنیا ہی میں ایک رسوائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سچ ثابت ہوا، یہودو نصاریٰ اور مشرکین تینوں نے اپنے کیے کی سزا پائی، کعبہ اور بیت المقدس کی تولیت مسلمانوں کے قبضے میں آ گئی۔ چونکہ مسجدیں اللہ کی ہیں اور حق یہ ہے کہ ان میں صرف اللہ کا نام لیا جائے، اس لیے تمام مشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے روک دیا گیا، خواہ وہ بت پرست ہوں یا عزیر و مسیح پرست، کیونکہ وہ اکیلے اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ اب مسلمانوں میں وہی پہلی قوموں والے مشرکانہ عقائد و اعمال پھیل گئے اور وہ بدعمل ہو کر جہاد چھوڑ بیٹھے، تو بیت المقدس پھر ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دوبارہ توحید و سنت اور جہاد فی سبیل اللہ پر گامزن فرمائے اور بیت المقدس کی تولیت کا شرف عطا فرمائے۔
مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں جس طرف بھی تم رخ کرو گے، اسی طرف اللہ کا رخ ہے اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے، اللہ تعالیٰ کشادگی اور وسعت واﻻ اور بڑے علم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور مشرق و مغرب (پورب و پچھم) سب اللہ کے ہی ہیں سو تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی ذات موجود ہے یقینا اللہ بڑی وسعت والا، بڑا علم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، تو تم جس طرف رخ کرو، سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔ بے شک اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کعبہ صرف علامت وحدت و سمت ہے اللہ کا جمال و جلال غیر محدود ہے ٭٭
اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب رضی اللہ عنہم کو تسلی دی جاری ہے جو مکہ سے نکالے گئے اور اپنی مسجد سے روکے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف میں نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھتے تو کعبۃ اللہ بھی سامنے ہی ہوتا تھا جب مدینہ تشریف لائے تو سولہ سترہ ماہ تک تو ادھر ہی نماز پڑھتے رہے مگر پھر اللہ تعالیٰ نے کعبۃ اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دیا۔ [صحیح بخاری:399] امام ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ناسخ منسوخ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے روایت کی ہے کہ قرآن میں سب سے پہلا منسوخ حکم یہی قبلہ کا حکم ہے «وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ» والی آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے لگے پھر آیت «وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [ 2۔ البقرہ: 149 ] نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا کرنی شروع کی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:346/1]
مدینہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے لگے تو یہود بہت خوش ہوئے لیکن جب یہ حکم چند ماہ کے بعد منسوخ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی چاہت، دعا اور انتظار کے مطابق کعبۃ اللہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا تو ان یہودیوں نے طعنے دینے شروع کر دیئے کہ اب اس قبلہ سے کیوں ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ مشرق و مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر یہ اعتراض کیا؟ جدھر اس کا حکم ہو پھر جانا چاہیئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1835:ضعیف و منقطع] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ مشرق مغرب میں جہاں کہیں بھی ہو منہ کعبہ کی طرف کرو، بعض بزرگوں کا بیان ہے کہ یہ آیت کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کے حکم سے پہلے اتری ہے اور مطلب یہ ہے کہ مشرق مغرب جدھر چاہو منہ پھیرو سب جہتیں اللہ کی ہیں اور سب طرف اللہ موجود ہے اس سے کوئی جگہ خالی نہیں جیسے فرمایا آیت «وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا» [ 58۔ المجادلہ: 7 ] تھوڑے بہت جو بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہے۔
پھر یہ حکم منسوخ ہو کر کعبۃ اللہ کی طرف متوجہ ہونا فرض ہوا۔ اس قول میں جو یہ لفظ ہیں کہ اللہ سے کوئی جگہ خالی نہیں اگر اس سے مراد علم اللہ ہو تو صحیح ہے کوئی مکان اللہ کے علم سے خالی نہیں اور اگر ذات باری مراد ہو تو ٹھیک نہیں اللہ تعالیٰ کی پاک ذات اس سے بہت بلند و بالا ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز میں محصور ہو ایک مطلب آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت سفر اور راہ روی اور خوف کے وقت کے لیے ہے کہ ان وقتوں میں نفل نماز کو جس طرف منہ ہو ادا کر لیا کرو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی اونٹنی کا منہ جس طرح ہوتا تھا نماز پڑھ لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہی تھا اور اس آیت کا مطلب بھی یہی ہے آیت کا ذکر کئے بغیر یہ حدیث مسلم ترمذی نسائی ابن ابی حاتم ابن مردویہ وغیرہ میں مروی ہے اور اصل اس کی صحیح بخاری صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔ [صحیح بخاری:1096] صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جب نماز خوف کے بارے میں پوچھا جاتا تو نماز خوف کو بیان فرماتے اور کہتے کہ جب اس سے بھی زیادہ خوف ہو تو پیدل اور سوار کھڑے پڑھ لیا کرو منہ خواہ قبلہ کی جانب ہو خواہ نہ ہو نافع رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے خیال سے اسے مرفوع بیان کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4535] امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور فرمان اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سفر خواہ پر امن ہو خواہ خوف ڈر اور لڑائی کا ہو سواری پر نفل ادا کر لینے جائز ہیں امام مالک رحمہ اللہ اور آپ رحمہ اللہ کی جماعت اس کے خلاف ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور ابوسعید اصطخری بغیر سفر کے بھی اسے جائز کہتے ہیں۔ سیدنا انس سے بھی یہ روایت ہے امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ بھی اسے پسند فرماتے ہیں یہاں تک کہ وہ تو پیدل چلنے والے کو بھی رخصت دیتے ہیں۔
بعض اور مفسرین کے نزدیک یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں قبلہ معلوم نہ ہو سکا اور انہوں نے قیاس سے مختلف جہتوں کی طرف نماز پڑھی جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کی وہ نماز ادا شدہ بتائی گئی سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ایک منزل پر اترے رات اندھیری تھی لوگوں نے پتھر لے لے کر بطور نشان کے قبلہ رخ رکھ کر نماز پڑھنی شروع کر دی صبح اٹھ کر روشنی میں دیکھا تو نماز قبلہ کی طرف ادا نہیں ہوئی تھی، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یہ حدیث ترمذی شریف میں ہے۔ [سنن ترمذي:345،قال الشيخ الألباني:حسن] امام صاحب نے اسے حسن کہا ہے اس کے دو راوی ضعیف ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ہم نے نماز پڑھ کر اپنے اپنے سامنے خط کھینچ دیئے تھے تاکہ صبح روشنی میں معلوم ہو جائے کہ نماز قبلہ کی طرف ادا ہوئی یا نہیں؟ صبح معلوم ہوا کہ قبلہ جاننے میں ہم نے غلطی کی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وہ نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا اور یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کے بھی دو راوی ضعیف ہیں یہ روایت دارقطنی وغیرہ میں موجود ہے۔ [دار قطنی:271/1:ضعیف] ایک روایت میں ہے کہ ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ تھے یہ بھی سنداً ضعیف ہے ایسی نماز کے لوٹانے کے بارے میں علماء کے دو قول میں سے ٹھیک قول یہی ہے کہ دوہرائی نہ جائے اور اسی قول کی تائید کرنے والی یہ حدیثیں ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کے نازل ہونے کا باعث نجاشی ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی موت کی خبر دی اور کہا ان کے جنازہ کی غائبانہ نماز پڑھو تو بعض نے کہا کہ وہ تو مسلمان نہ تھا نصرانی تھا اس پر آیت نازل ہوئی کہ آیت «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا» [ 3-آل عمران: 199 ] یعنی بعض اہل کتاب اللہ تعالیٰ پر اور اس چیز پر جو اے مسلمانو تمہاری طرف نازل ہوئی اور اس چیز پر جو ان پر نازل کی گئی ایمان لاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں [تفسیر ابن جریر الطبری:1846:ضعیف و مرسل] صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ قبلہ کی طرف تو نماز نہیں پڑھتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن یہ روایت غریب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ بیت المقدس کی طرف اس لیے نمازیں پڑھتے رہے کہ انہیں اس کے منسوخ ہو جانے کا علم نہیں ہوا تھا، قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے جنازے کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی اور یہ دلیل ہے کہ جنازے کی نماز غائبانہ ادا کرنی چاہیئے۔ اور اس کے نہ ماننے والے اس حکم کو مخصوص جانتے ہیں اور اس کی تین تاویلیں کرتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے اس کے جنازے کو دیکھ لیا زمین آپ کے لیے سمیٹ لی گئی تھی، دوسری یہ کہ چونکہ وہاں ان کے پاس ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے والا اور کوئی نہ تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں غائبانہ ادا کی ابن عربی اسی جواب کو پسند کرتے ہیں قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ ایک بادشاہ مسلمان ہو اور اس کی قوم کا کوئی شخص اس کے پاس مسلمان نہ ہو، ابن عربی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ شاید ان کے نزدیک جنازے کی نماز ان کی شریعت میں نہ ہو، یہ جواب بہت اچھا ہے، تیسری یہ کہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ادا کی کہ دوسرے لوگوں کی رغبت کا سبب ہو اور اس جیسے دوسرے بادشاہ بھی دین اسلام کی طرف مائل ہوں۔
[ لیکن یہ تینوں تاویلیں ظاہر کے خلاف ہونے کے علاوہ صرف احتمالات کی بنا پر ہیں اور انہیں مان لینے کے بعد بھی مسئلہ وہیں رہتا ہے کیا جنازہ غائبانہ پڑھنا چاہیئے کیونکہ گو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنازے کا مشاہدہ کر لیا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کی نماز تو غائبانہ ہی رہی۔ اگر ہم دوسرا جواب مان لیں تو بھی جنازہ تو غائبانہ نہ ہی ہوا جو لوگ سرے سے نماز جنازہ غائبانہ کے قائل ہی نہیں وہ تو اس صورت میں بھی قائل نہیں ہیں اور یہ بات تو دل کو لگتی ہی نہیں کہ ان کے نزدیک نماز جنازہ شروع نہ ہو شریعت ان کی بھی اسلام ہی تھی نہ کہ کوئی اور تیسرا جواب بھی کچھ ایسا ہی ہے اور برتقدیر تسلیم اب بھی وہ وجہ باقی ہے کہ جنازہ غائبانہ ادا کیا کریں تاکہ دوسرے لوگوں کی رغبت اسلام کا باعث ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ مترجم ]
ابن مردویہ میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اہل مدینہ اہل شام اہل عراق کا قبلہ مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔ [سنن ترمذي:342، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ روایت ترمذی میں بھی دوسرے الفاظ سے مروی ہے اور اس کے ایک راوی ابومعشر کے حافظہ پر بعض اہل علم نے کلام کیا ہے امام ترمذی نے اسے ایک اور سند سے بھی وارد کیا ہے اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔ [سنن ترمذي:344، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابن ابوطالب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تو مغرب کو اپنی دائیں جانب اور مشرق کو بائیں جانب کر لے تو تیرے سامنے کی جہت قبلہ ہو جائے گا عمر سے بھی اوپر کی طرح حدیث مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے [سنن ترمذي:344] ملاحظہ ہو دارقطنی بیہقی وغیرہ [دار قطنی:270/1] امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مطلب بھی اس آیت کا ہو سکتا ہے کہ تم مجھ سے دعائیں مانگنے میں اپنا منہ جس طرف بھی کرو میرا منہ بھی اسی طرف پاؤ گے اور میں تمہاری دعاؤں کو قبول فرماؤں گا، مجاہد سے مروی ہے کہ جب یہ آیت «ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ» [ 40۔ غافر: 60 ] مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اتری تو لوگوں نے کہا کس طرف رخ کر کے دعا کریں اس کے جواب میں آیت «فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ» [ 2۔ البقرہ: 115 ] نازل ہوئی پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام وسعتوں پر غالب، گنجائش والا اور علم والا ہے جس کی کفایت سخاوت اور فضل و کرم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر کھا ہے وہ سب چیزوں کو جانتا بھی ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے علم سے باہر نہیں بلکہ وہ تمام چیزوں کا عالم ہے۔
115۔ ہجرت کے بعد جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے تو مسلمانوں کو اس کا رنج تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جب بیت المقدس سے پھر خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہودیوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں، بعض کے نزدیک اس کے نزول کا سبب سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنے کی اجازت ہے کہ سواری کا منہ کدھر بھی ہو، نماز پڑھ سکتے ہو۔ کبھی چند اسباب جمع ہوجاتے ہیں اور ان سب کے حکم کے لئے ایک ہی آیت نازل ہوجاتی ہے۔ ایسی آیتوں کی شان نزول میں متعدد روایات مروی ہوتی ہیں، کسی روایت میں ایک سبب نزول کا بیان ہوتا ہے اور کسی میں دوسرے کا۔ یہ آیت بھی اسی قسم کی ہے۔
(آیت 115) اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری نہیں، بلکہ مراد خاص صورتوں میں قبلہ کی پابندی ختم کرنا ہے، کیونکہ اس سے پہلے ان ظالموں کا ذکر ہے جو اللہ کی مسجدوں سے روکتے ہیں، یعنی ان ظالموں کی اللہ کی مسجدوں سے روکنے اور انھیں ویران کرنے کی کوشش اللہ تعالیٰ کی عبادت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے، سو انسان کو قبلہ کی طرف رخ کرنے میں اگر کوئی دشواری ہو، دشمن کا خوف ہو یا قبلہ معلوم نہ ہو سکے تو جس طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے درست ہے۔ سنن ابی داؤد {” كِتَابُ صَلٰوةِ السَّفَرِ:۱۲۴۹“} میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ خالد بن سفیان کو قتل کر دیں، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے فوج جمع کر رہا تھا۔ وہ انھیں عرنہ یا عرفات میں نظر آ گیا (جہاں عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا چہرہ کعبہ کی مخالف سمت تھا)، ادھر عصر کا وقت ہو گیا تو انھوں نے نماز فوت ہونے کے خدشے کے پیش نظر دشمن کی طرف چلتے چلتے نماز پڑھ لی، پھر جا کر اسے قتل کر دیا۔ سفر کی حالت میں نفل نماز کے متعلق اجازت ہے کہ وہ سواری پر پڑھ لی جائے، خواہ رخ کسی بھی جانب ہو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ کی طرف آتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر (نفل) نماز پڑھتے رہتے تھے، اس کا رخ جدھر بھی ہوتا۔ فرماتے ہیں، اسی کے بارے میں یہ آیت اتری: «{ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ }» [ مسلم، صلوۃ المسافرین، باب جواز النافلۃ: ۳۳؍۷۰۰ ] { ”فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا“ } کا ایک معنی {”حَيْثُمَا تُوَلُّوْا“ } (جہاں بھی تم رخ کر لو) بھی کیا گیا ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ (طبری) اس صورت میں بھی اس کا تعلق پہلی آیت سے ہے، یعنی اگر تمھیں اللہ کی مسجدوں سے روک دیا جائے تو تم جس جگہ بھی ہو نمازپڑھ لو۔ (التسہیل)
ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اللہ پاک ہے ان باتوں سے اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں، سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اوﻻد ہے، (نہیں بلکہ) وه پاک ہے زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کافرمانبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (اہل کتاب) کہتے ہیں کہ اللہ نے کوئی بیٹا بنا لیا ہے۔ وہ (ایسی باتوں سے) پاک ہے۔ بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کچھ اسی کا ہے سب اسی کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے، وہ پاک ہے، بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ ہی مقتدر اعلیٰ ہے کے دلائل ٭٭
یہ اور اس کے ساتھ کی آیت نصرانیوں کے رد میں ہے اور اس طرح ان جیسے یہود و مشرکین کی تردید میں ہے جو اللہ کی اولاد بتاتے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین و آسمان وغیرہ تمام چیزوں کا تو اللہ مالک ہے ان کا پیدا کرنے والا انہیں روزیاں دینے والا ان کے اندازے مقرر کرنے والا انہیں قبضہ میں رکھنے والا ان میں ہر تغیر و تبدل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھلا اس مخلوق میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ عزیر اور نہ ہی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے بن سکتے ہیں جیسے کہ یہود و نصاریٰ کا خیال تھا نہ فرشتے اس کی بیٹیاں بن سکتے ہیں جیسے کہ مشرکین عرب کا خیال تھا۔ اس لیے دو برابر کی مناسبت رکھنے والے ہم جنس سے اولاد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی نظیر نہ اس کی عظمت و کبریائی میں اس کا کوئی شریک نہ اس کی جنس کا کوئی اور «بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [ 6-الانعام: 101 ] وہ تو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی کوئی بیوی بھی نہیں وہ ہر چیز کا خالق اور ہر چیز کا عالم ہے۔
«وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [ 19-مريم: 88 - 95 ] یہ لوگ رحمن کی اولاد بتاتے ہیں یہ کتنی بے معنی اور بے ہودہ بے تکی بات تم کہتے ہو؟ اتنی بری بات زبان سے نکالتے ہو کہ اس سے آسمانوں کا پھٹ جانا اور زمین کا شق ہو جانا اور پہاڑوں کا ریزہ ریز ہو جانا ممکن ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اللہ کی اولاد تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس کے سوا جو بھی ہے سب اس کی ہی ملکیت ہے زمین و آسمان کی تمام ہستیاں اس کی غلامی میں ظاہر ہونے والی ہیں جنہیں ایک ایک کر کے اس نے گھیر رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے ان میں سے ہر ایک اس کے پاس قیامت والے دن تنہا تنہا پیش ہونے والی ہے۔ پس غلام اولاد نہیں بن سکتا ملکیت اور ولدیت دو مختلف اور متضاد حیثیتیں ہیں دوسری جگہ پوری سورت میں اس کی نفی فرمائی ارشاد ہوا آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [ 112-الاخلاص: 1-4 ] کہ دو کہ اللہ ایک ہی ہے اللہ بے نیاز ہے اس کی نہ اولاد ہے نہ ماں باپ اس کا ہم جنس کوئی نہیں۔ ان آیتوں اور ان جیسی اور آیتوں میں اس خالق کائنات نے اپنی تسیح و تقدیس بیان کی اور اپنا بے نظیر بے مثل اور لا شریک ہونا ثابت کیا اور ان مشرکین کے اس گندے عقیدے کو باطل قرار دیا اور بتایا کہ وہ تو سب کا خالق و رب ہے پھر اس کی اولاد بیٹے بیٹیاں کہاں سے ہوں گی؟
سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف کی ایک قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اسے یہ لائق نہ تھا مجھے وہ گالیاں دیتا ہے اسے یہ نہیں چاہیئے تھا اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ خیال کر بیٹھتا ہے کہ میں اسے مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ میری اولاد بتاتا ہے حالانکہ میں پاک ہوں اور میری اولاد اور بیوی ہو, [صحیح بخاری:4482] اس سے بہت بلند و بالا ہوں یہی حدیث دوسری سندوں سے اور کتابوں میں بھی با اختلاف الفاظ مروی ہے صحیین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بری باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی کامل نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتائیں اور وہ انہیں رزق و عافیت دیتا رہے, [صحیح بخاری:6099] پھر فرمایا ہر چیز اس کی اطاعت گزار ہے اس کی غلامی کا اقرار کئے ہوئے ہے اس کے لیے مخلص۔ اس کی سرکار میں قیامت کے روز دست بستہ کھڑی ہونے والی اور دنیا میں بھی عبادت گزار ہے جس کو کہے یوں ہو جاؤ یا اس طرح بن۔ فوراً وہ اسی طرح ہو جاتی اور بن جاتی ہے۔ اس طرح ہر ایک اس کے سامنے پست و مطیع ہے کفار نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے مطیع ہیں ہر موجود کے سائے اللہ کے سامنے جھکتے رہتے ہیں، قرآن نے اور جگہ فرمایا آیت «وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ» [ 13-سورة الرعد: 15 ] آسمان و زمین کی کل چیزیں خوشی ناخوشی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں ان کے سائے صبح شام جھکتے رہتے ہیں۔ ایک حدیث میں مروی ہے کہ جہاں کہیں قرآن میں «قنوت» کا لفظ ہے وہاں مراد اطاعت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1135:ضعیف] لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ممکن ہے صحابی کا یا اور کسی کا کلام ہو اس سند سے اور آیتوں کی تفسیر بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ ضعیف ہے کوئی شخص اس سے دھوکہ میں نہ پڑے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمایا وہ آسمان و زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونہ کے پہلی ہی بار کی پیدائش میں پیدا کرنے والا ہے لغت میں بدعت کے معنی نو پیدا کرنے نیا بنانے کے ہیں حدیث میں ہے ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ [سنن ابوداود:4607، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ تو شرعی بدعت ہے کبھی بدعت کا اطلاق صرف لغتہً ہوتا ہے شرعاً مراد نہیں ہوتی۔ جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کیا اور پھر اسے اسی طرح جاری دیکھ کر فرمایا تھا اچھی بدعت ہے۔ [صحیح بخاری:2010] بدیع کا مبدع سے تصرف کیا گیا ہے جیسے «مولم» سے «الیم» اور «مسمع» سے «سمیع» معنی مبدع کے انشا اور نو پیدا کرنے والے کے ہیں بغیر مثال بغیر نمونہ اور بغیر پہلی پیدائش کے پیدا کرنے والے بدعتی کو اس لیے بدعتی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کے دین میں وہ کام یا وہ طریقہ ایجاد کرتا ہے جو اس سے پہلے شریعت میں نہ ہو اسی طرح کسی نئی بات کے پیدا کرنے والے کو عرب مبتدع کہتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے وہ آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے ہر چیز اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ہر چیز اس کی اطاعت گزاری کا اقرار کرتی ہے۔ سب کا پیدا کرنے والا، بنانے والا، موجود کرنے والا، بغیر اصل اور مثال کے انہیں وجود میں لانے والا، ایک وہی رب العالمین ہے اس کی گواہی ہر چیز دیتی ہے خود مسیح علیہ السلام بھی اس کے گواہ اور بیان کرنے والے ہیں جس رب نے ان تمام چیزوں کو بغیر نمونے کے اور بغیر مادے اور اصل کے پیدا کیا اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بے باپ پیدا کر دیا پھر کوئی وجہ نہیں کہ انہیں تم خواہ مخواہ اللہ کا بیٹا مان لو پھر فرمایا اس اللہ کی قدرت سلطنت سطوت و شوکت ایسی ہے کہ جس چیز کو جس طرح کی بنانا اور پیدا کرنا چاہیئے اسے کہہ دیتا ہے کہ اس طرح کی اور ایسی ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے جیسے فرمایا آیت «اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ 36۔ یس: 82 ] دوسری جگہ فرمایا آیت «اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ 16۔ النحل: 40 ] اور ارشاد ہوتا ہے آیت «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [ 54۔ القمر: 50 ] شاعر کہتا ہے۔ «ذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولہ فیکون» مطلب اس کا ہے کہ ادھر کسی چیز کا اللہ نے ارادہ فرمایا اس نے کہا ہو جا وہیں وہ ہو گیا اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ پس مندرجہ بالا آیت میں عیسائیوں کو نہایت لطیف پیرایہ میں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں دسری جگہ صاف صاف فرما دیا آیت «اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ 3۔ آل عمران: 59 ] یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم جیسی ہے جنہیں مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا وہ ہو گئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 116) اللہ کی مسجدوں سے روکنے والوں کا یہ ایک اور ظلم بیان فرمایا کہ انھوں نے کہا، اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ چنانچہ یہود نے عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قراردیا، اسی طرح مشرکین عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اس کا رد فرمایا، پہلے {” سُبْحٰنَهٗ “} کے ساتھ کہ اولاد تو محتاجی کی دلیل ہے اور اللہ اس سے پاک ہے۔ (دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل: ۱۱۱) دوسرے یہ کہ اللہ آسمان و زمین کا مالک ہے، جس میں عزیر علیہ السلام، مسیح علیہ السلام اور فرشتے سب شامل ہیں۔ مالک اور مملوک باپ بیٹا کیسے ہو سکتے ہیں! بیٹا تو باپ کا مملوک بن بھی جائے تو خود بخود آزاد ہو جاتا ہے۔ تیسرا یہ کہ بیٹا سرکشی بھی کر سکتا ہے، جب کہ آسمان و زمین میں رہنے والے سب اللہ کے فرمان کے تابع ہیں، ان کا سانس بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں چلتا۔
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ "ہو جا" اور وہ ہو جاتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-
علامہ محمد حسین نجفی
(وہی) آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ تو اسے بس اتنا ہی کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے بس یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ ہی مقتدر اعلیٰ ہے کے دلائل ٭٭
یہ اور اس کے ساتھ کی آیت نصرانیوں کے رد میں ہے اور اس طرح ان جیسے یہود و مشرکین کی تردید میں ہے جو اللہ کی اولاد بتاتے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین و آسمان وغیرہ تمام چیزوں کا تو اللہ مالک ہے ان کا پیدا کرنے والا انہیں روزیاں دینے والا ان کے اندازے مقرر کرنے والا انہیں قبضہ میں رکھنے والا ان میں ہر تغیر و تبدل کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھلا اس مخلوق میں سے کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ عزیر اور نہ ہی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے بن سکتے ہیں جیسے کہ یہود و نصاریٰ کا خیال تھا نہ فرشتے اس کی بیٹیاں بن سکتے ہیں جیسے کہ مشرکین عرب کا خیال تھا۔ اس لیے دو برابر کی مناسبت رکھنے والے ہم جنس سے اولاد ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی نظیر نہ اس کی عظمت و کبریائی میں اس کا کوئی شریک نہ اس کی جنس کا کوئی اور «بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [ 6-الانعام: 101 ] وہ تو آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے اس کی اولاد کیسے ہو گی؟ اس کی کوئی بیوی بھی نہیں وہ ہر چیز کا خالق اور ہر چیز کا عالم ہے۔
«وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» [ 19-مريم: 88 - 95 ] یہ لوگ رحمن کی اولاد بتاتے ہیں یہ کتنی بے معنی اور بے ہودہ بے تکی بات تم کہتے ہو؟ اتنی بری بات زبان سے نکالتے ہو کہ اس سے آسمانوں کا پھٹ جانا اور زمین کا شق ہو جانا اور پہاڑوں کا ریزہ ریز ہو جانا ممکن ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے اللہ کی اولاد تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس کے سوا جو بھی ہے سب اس کی ہی ملکیت ہے زمین و آسمان کی تمام ہستیاں اس کی غلامی میں ظاہر ہونے والی ہیں جنہیں ایک ایک کر کے اس نے گھیر رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے ان میں سے ہر ایک اس کے پاس قیامت والے دن تنہا تنہا پیش ہونے والی ہے۔ پس غلام اولاد نہیں بن سکتا ملکیت اور ولدیت دو مختلف اور متضاد حیثیتیں ہیں دوسری جگہ پوری سورت میں اس کی نفی فرمائی ارشاد ہوا آیت «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» [ 112-الاخلاص: 1-4 ] کہ دو کہ اللہ ایک ہی ہے اللہ بے نیاز ہے اس کی نہ اولاد ہے نہ ماں باپ اس کا ہم جنس کوئی نہیں۔ ان آیتوں اور ان جیسی اور آیتوں میں اس خالق کائنات نے اپنی تسیح و تقدیس بیان کی اور اپنا بے نظیر بے مثل اور لا شریک ہونا ثابت کیا اور ان مشرکین کے اس گندے عقیدے کو باطل قرار دیا اور بتایا کہ وہ تو سب کا خالق و رب ہے پھر اس کی اولاد بیٹے بیٹیاں کہاں سے ہوں گی؟
سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف کی ایک قدسی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اسے یہ لائق نہ تھا مجھے وہ گالیاں دیتا ہے اسے یہ نہیں چاہیئے تھا اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ خیال کر بیٹھتا ہے کہ میں اسے مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا گالیاں دینا یہ ہے کہ وہ میری اولاد بتاتا ہے حالانکہ میں پاک ہوں اور میری اولاد اور بیوی ہو, [صحیح بخاری:4482] اس سے بہت بلند و بالا ہوں یہی حدیث دوسری سندوں سے اور کتابوں میں بھی با اختلاف الفاظ مروی ہے صحیین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بری باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی کامل نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتائیں اور وہ انہیں رزق و عافیت دیتا رہے, [صحیح بخاری:6099] پھر فرمایا ہر چیز اس کی اطاعت گزار ہے اس کی غلامی کا اقرار کئے ہوئے ہے اس کے لیے مخلص۔ اس کی سرکار میں قیامت کے روز دست بستہ کھڑی ہونے والی اور دنیا میں بھی عبادت گزار ہے جس کو کہے یوں ہو جاؤ یا اس طرح بن۔ فوراً وہ اسی طرح ہو جاتی اور بن جاتی ہے۔ اس طرح ہر ایک اس کے سامنے پست و مطیع ہے کفار نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے مطیع ہیں ہر موجود کے سائے اللہ کے سامنے جھکتے رہتے ہیں، قرآن نے اور جگہ فرمایا آیت «وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ» [ 13-سورة الرعد: 15 ] آسمان و زمین کی کل چیزیں خوشی ناخوشی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں ان کے سائے صبح شام جھکتے رہتے ہیں۔ ایک حدیث میں مروی ہے کہ جہاں کہیں قرآن میں «قنوت» کا لفظ ہے وہاں مراد اطاعت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1135:ضعیف] لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ممکن ہے صحابی کا یا اور کسی کا کلام ہو اس سند سے اور آیتوں کی تفسیر بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ ضعیف ہے کوئی شخص اس سے دھوکہ میں نہ پڑے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمایا وہ آسمان و زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونہ کے پہلی ہی بار کی پیدائش میں پیدا کرنے والا ہے لغت میں بدعت کے معنی نو پیدا کرنے نیا بنانے کے ہیں حدیث میں ہے ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ [سنن ابوداود:4607، قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ تو شرعی بدعت ہے کبھی بدعت کا اطلاق صرف لغتہً ہوتا ہے شرعاً مراد نہیں ہوتی۔ جیسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کیا اور پھر اسے اسی طرح جاری دیکھ کر فرمایا تھا اچھی بدعت ہے۔ [صحیح بخاری:2010] بدیع کا مبدع سے تصرف کیا گیا ہے جیسے «مولم» سے «الیم» اور «مسمع» سے «سمیع» معنی مبدع کے انشا اور نو پیدا کرنے والے کے ہیں بغیر مثال بغیر نمونہ اور بغیر پہلی پیدائش کے پیدا کرنے والے بدعتی کو اس لیے بدعتی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کے دین میں وہ کام یا وہ طریقہ ایجاد کرتا ہے جو اس سے پہلے شریعت میں نہ ہو اسی طرح کسی نئی بات کے پیدا کرنے والے کو عرب مبتدع کہتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے وہ آسمان و زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے ہر چیز اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ہر چیز اس کی اطاعت گزاری کا اقرار کرتی ہے۔ سب کا پیدا کرنے والا، بنانے والا، موجود کرنے والا، بغیر اصل اور مثال کے انہیں وجود میں لانے والا، ایک وہی رب العالمین ہے اس کی گواہی ہر چیز دیتی ہے خود مسیح علیہ السلام بھی اس کے گواہ اور بیان کرنے والے ہیں جس رب نے ان تمام چیزوں کو بغیر نمونے کے اور بغیر مادے اور اصل کے پیدا کیا اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بے باپ پیدا کر دیا پھر کوئی وجہ نہیں کہ انہیں تم خواہ مخواہ اللہ کا بیٹا مان لو پھر فرمایا اس اللہ کی قدرت سلطنت سطوت و شوکت ایسی ہے کہ جس چیز کو جس طرح کی بنانا اور پیدا کرنا چاہیئے اسے کہہ دیتا ہے کہ اس طرح کی اور ایسی ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے جیسے فرمایا آیت «اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ 36۔ یس: 82 ] دوسری جگہ فرمایا آیت «اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ 16۔ النحل: 40 ] اور ارشاد ہوتا ہے آیت «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [ 54۔ القمر: 50 ] شاعر کہتا ہے۔ «ذا ما اراد اللہ امرا فانما یقول لہ کن قولہ فیکون» مطلب اس کا ہے کہ ادھر کسی چیز کا اللہ نے ارادہ فرمایا اس نے کہا ہو جا وہیں وہ ہو گیا اس کے ارادے سے مراد جدا نہیں۔ پس مندرجہ بالا آیت میں عیسائیوں کو نہایت لطیف پیرایہ میں یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی اسی کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں دسری جگہ صاف صاف فرما دیا آیت «اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [ 3۔ آل عمران: 59 ] یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم جیسی ہے جنہیں مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا وہ ہو گئے۔
117۔ 1 یعنی وہ اللہ تو ہے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک ہے، ہر چیز اس کی فرمانبردار ہے، بلکہ آسمان کا بغیر کسی نمونے کے بنانے والا بھی وہی ہے۔ علاوہ ازیں وہ جو کام کرنا چاہے اس کے لئے اسے صرف لفظ کن کافی ہے۔ ایسی ذات کو بھلا اولاد کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے۔
(آیت 117) { ”بَدِيْعُ“ } بمعنی {” مُبْدِعٌ “} یعنی آسمان و زمین کو بغیر کسی مادے یا کسی نمونے کے پیدا کرنے والا، یہ چوتھی دلیل ہے، کیونکہ بیٹا باپ کانمونہ ہوتا ہے، جب کہ اللہ نے ہر چیز کو نمونے کے بغیر پیدا کیا ہے۔ پانچویں دلیل کہ جس کے {”كُنْ“} کہنے سے سب کچھ ہو جاتا ہے اسے اولاد کی کیا محتاجی ہے؟ تنبیہ: بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کچھ اور لوگوں کو اللہ کے نور کا ٹکڑا قرار دیا، یہ اولاد قرار دینے سے بھی بڑا ظلم ہے، دیکھیے سورۂ اخلاص۔
نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ ایسی ہی باتیں اِن سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے اِن سب (اگلے پچھلے گمراہوں) کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں یقین لانے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح بے علم لوگوں نے بھی کہا کہ خود اللہ تعالیٰ ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ اسی طرح ایسی ہی بات ان کے اگلوں نے بھی کہی تھی، ان کے اور ان کے دل یکساں ہوگئے ہم نے تو یقین والوں کے لئے نشانیاں بیان کردیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جاہل بولے اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا یا ہمیں کوئی نشانی ملے ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -
علامہ محمد حسین نجفی
جاہل و ناداں کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے (براہ راست) کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس (اس کی) کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی طرح کی (بے پرکی) باتیں کیا کرتے تھے ان سب کے دل (اور ذہن) ملتے جلتے ہیں۔ بے شک ہم نے یقین کرنے والے لوگوں کے لئے (اپنی نشانیاں) کھول کر بیان کر دی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان لوگوں نے کہا جو نہیں جانتے ہم سے اللہ کلام کیوں نہیں کرتا؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ ایسے ہی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، ان کی بات جیسی بات کہی، ان کے دل ایک دوسرے جیسے ہوگئے ہیں۔ بے شک ہم نے ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں جو یقین کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طلب نظارہ ، ایک حماقت ٭٭
رافع بن حریملہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا؟ ہم بھی تو خود اس سے اس کا کلام سنیں، اس پر یہ آیت اتری [تفسیر ابن ابی حاتم:352/1:] مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بات نصرانیوں نے کہی تھی، ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی ٹھیک بھی معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ آیت انہی سے متعلق بیان کے دوران میں ہے لیکن یہ قول سوچنے کے قابل ہے قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی اطلاع خود جناب باری ہمیں کیوں نہیں دیتا؟ یہی بات ٹھیک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بعض اور مفسر کہتے ہں یہ قول کفار عرب کا تھا اسی طرح بےعلم لوگوں نے بھی کہا تھا ان سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:353/1] قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ ۘ اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّـهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ» [ 6۔ الانعام: 124 ] ان کے پاس جب کبھی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو نہیں مانیں گے جب تک ہم کو بھی وہ نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا اور جگہ فرمایا آیت «وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْبُوْعًا» [ 17۔ الاسرآء: 90 ] یعنی انہوں نے کہا کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ آپ ہمارے لیے ان زمینوں میں چشمے جاری نہیں کر دیں اور جگہ فرمایا آیت «وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاءَنَا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰىِٕكَةُ اَوْ نَرٰي رَبَّنَا» [ 25۔ الفرقان: 21 ] یعنی ہماری ملاقات کے منکر کہتے ہیں ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے اللہ تعالیٰ ہمارے سامنے کیوں نہیں آتا اور جگہ فرمایا آیت «بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً» [ 74۔ المدثر: 52 ] ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے وغیرہ وغیرہ۔
آیتیں جو صاف بتاتی ہیں کہ مشرکین عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف تکبر و عناد کی بنا پر ایسی ایسی چیزیں طلب کیں اسی طرح یہ مطالبہ بھی انہی مشرکین کا تھا، ان سے پہلے اہل کتاب نے بھی ایسے ہی بے معنی سوالات کئے تھے ارشاد ہوتا ہے آیت «يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ» [ 4۔ النسآء: 153 ] اہل کتاب تم سے چاہتے ہیں کہ تم ان پر کوئی آسمانی کتاب اتارو اور موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بھی بڑا سوال کیا تھا ان سے تو کہا تھا کہ ہمیں اللہ کو ہماری آنکھوں سے دکھا اور جگہ فرمان ہے کہ «وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّـهَ جَهْرَةً» [ البقرة: 55 ] جب تم نے کہا اے موسیٰ علیہ السلام ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں پھر فرمایا ان کے اور ان کے دل یکساں اور مشابہ ہو گئے یعنی ان مشرکین کے دل سابقہ کفار جیسے ہو گئے اور جگہ فرمایا ہے کہ «كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ» [ 53-الذاريات: 52 ] پہلے گزرنے والوں نے بھی اپنے انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ کہا تھا انہوں نے بھی ان ہی باتوں کو دہرایا تھا۔ پھر فرمایا ہم نے یقین والوں کے لیے اپنی آیتیں اسی طرح بیان کر دیں ہیں جن سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق عیاں ہے کسی اور چیز کی وضاحت باقی نہیں رہی یہی نشانیاں ایمان لانے کے لیے کافی ہیں ہاں جن کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہو انہیں کسی آیت سے کوئی فائدہ نہ ہو گا جیسے فرمایا آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے گو ان کے پاس تمام آیتیں آ جائیں جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
118۔ 1 اس سے مراد مشرکین عرب ہیں جنہوں نے یہودیوں کی طرح مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے براہ راست گفتگو کیوں نہیں کرتا، یا کوئی بڑی نشانی نہیں دکھا دیتا؟ جسے دیکھ کر ہم مسلمان ہوجائیں جس طرح کہ (وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا 90 ۙ اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا 91 ۙ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92 ۙ اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93ۧ)، 93 17:90، میں اور دیگر مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔
(آیت 118) اس سے مراد کفارِ عرب ہیں جنھوں نے اپنے سے پہلے لوگوں یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح یہ مطالبہ کیا۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۹۰ تا ۹۳)، فرقان (۲۱) اور سورۂ مدثر(۵۲) { ”تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ“ } یعنی ان سب کی سوچ ایک جیسی ہے اور فرمایا کہ قرآنِ کریم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدق واضح ہے، اگر یہ لوگ اہل یقین ہوتے تو یہی دلائل کافی تھے۔ (المنار)
(اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہوگی کہ) ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا ور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور جہنمیوں کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) بے شک ہم نے آپ کو برحق بشیر و نذیر (خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ہے۔ اور (اس اتمام حجت کے بعد) دوزخ میں جانے والوں کے بارے میں آپ سے بازپرس نہیں کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور تجھ سے جہنم والوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کی حد تک مسؤل ہیں ٭٭
حدیث میں ہے خوشخبری جنت کی اور ڈراوا جہنم سے [تفسیر ابن ابی حاتم:354/1] «لا تسئل» کی دوسری قرأت ما تسئل بھی ہے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «لن تسئل» بھی ہے یعنی تجھ سے کفار کی بابت سوال نہیں کیا جائے گا جیسے فرمایا آیت «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» [ 13-الرعد: 40 ] یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمہ ہے اور فرمایا آیت «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» 88۔ الغاشیہ: 22، 21 ] تو نصیحت کرتا رہ تو صرف نصیحت کرنے والا ہے ان پر داروغہ نہیں اور جگہ فرمایا آیت «نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ» [ 50-ق: 45 ] ہم ان کی باتیں بخوبی جانتے ہیں تم ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو تو قرآن کی نصیحتیں انہیں سنا دو جو قیامت سے ڈرتے ہوں اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں ایک قرأت اس کی «ولا تسائل» بھی ہے یعنی ان جہنمیوں کے بارے میں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے کچھ نہ پوچھو۔ عبدالرزاق میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا، کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا، کاش کہ میں اپنے ماں باپ کا حال جان لیتا۔ اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1877:ضعیف و مرسل] پھر آخری دم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کا ذکر نہ فرمایا ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسے بروایت موسیٰ بن عبیدہ وارد کیا ہے لیکن اس راوی پر کلام ہے قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جہنمیوں کا حال اتنا بد اور برا ہے کہ تم کچھ نہ پوچھو، تذکرہ میں قرطبی رحمہ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین زندہ کئے گئے اور ایمان لے آئے اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے سوال پر فرمایا ہے کہ میرا باپ اور تیرا باپ آگ میں ہیں۔ [صحیح مسلم:203] ان کا جواب بھی وہاں ہے لیکن یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماں باپ کے زندہ ہونے کی روایت کتب صحاح ستہ وغیرہ میں نہیں اور اس کی اسناد ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن پوچھا کہ میرے باپ کہاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر الطبری:1879:مرسل و ضعیف] ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ محال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماں باپ کے بارے میں شک کریں پہلی ہی قرأت ٹھیک ہے لیکن ہمیں امام ہمام پر تعجب آتا ہے کہ انہوں نے اسے محال کیسے کہہ دیا؟ ممکن ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہو جب آپ اپنے ماں باپ کے لیے استفسار کرتے تھے اور انجام معلوم نہ تھا پھر جب ان دونوں کی حالت معلوم ہو گئی تو آپ اس سے ہٹ گئے اور بیزاری ظاہری فرمائی اور صاف بتا دیا کہ وہ دونوں جہنمی ہیں جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہو چکا ہے اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصی رضی اللہ عنہما سے عطا بن یسار رحمہ اللہ نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا توراۃ میں کیا ہے تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں وہی توراۃ میں بھی ہیں، توراۃ میں بھی ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تجھے گواہ اور خوشخبریاں دینے والا اور ڈرانے والا اور ان پڑھوں کا بچاؤ بنا کر بھیجا ہے تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو نہ بدزبان ہے نہ سخت گو نہ بدخلق نہ بازاروں میں شور غل کرنے والا ہے نہ تو برائی کے بدلے برائی کرنے والا ہے بلکہ معاف اور درگزر کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا سے نہ اٹھائے گا جب تک کہ تیرے دین کو تیری وجہ سے بالکل ٹھیک اور درست نہ کر دے اور لوگ «لا الہ الہ اللہ» کا اقرار نہ کر لیں اور ان کی اندھی آنکھیں کھل نہ جائیں اور ان کے بہرے کان سننے نہ لگ جائیں اور ان کے زنگ آلود دل صاف نہ ہو جائیں۔ [مسند احمد:174/2:صحیح] بخاری کی کتاب البیوع میں بھی یہ حدیث ہے اور کتاب التفسیر میں بھی ابن مردویہ میں اس روایت کے بعد مزید یہ ہے کہ میں نے پھر جا کر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی ٹھیک یہی جواب دیا۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:373/1-374]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 119) یعنی آپ کا کام حق پہنچاتے ہوئے خوش خبری دینا اور ڈرانا ہے، آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ مسلمان کیوں نہیں ہوئے۔
یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو صاف کہہ دوکہ راستہ بس وہی ہے، جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اگراُس علم کے بعد، جو تمہارے پاس آ چکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے یہود ونصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں، آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آجانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اورنہ مددگار
احمد رضا خان بریلوی
اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار
علامہ محمد حسین نجفی
اے رسول یہود و نصاریٰ اس وقت تک آپ سے راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے دین و مذہب کے پیرو نہ ہو جائیں۔ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے (جو اس نے بتائی ہے) اور اگر آپ نے (اللہ کی طرف سے) علم آجانے کے بعد بھی ان لوگوں کی خواہشات و خیالات کی پیروی کی۔ تو پھر اللہ (کی گرفت) سے آپ کو بچانے والا نہ کوئی سرپرست ہوگا اور نہ کوئی یار و مددگار
عبدالسلام بن محمد
اور تجھ سے یہودی ہرگز راضی نہ ہوں گے اور نہ نصاریٰ، یہاں تک کہ تو ان کی ملت کی پیروی کرے۔ کہہ دے بے شک اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ اور اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو تیرے لیے اللہ سے (چھڑانے میں) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دین حق کا باطل سے سمجھوتہ جرم عظیم ہے ٭٭
آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تجھ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے لہٰذا تو بھی انہیں چھوڑ اور رب کی رضا کے پیچھے لگ جا تو نے انہیں دعوت رسالت پہنچا دیں۔ دین حق وہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے تو اس پر جم جا۔ حدیث شریف میں ہے میری امت کی ایک جماعت حق پر جم کر دوسروں کے مقابلہ میں رہے گی اور غلبہ کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ قیامت آئے۔ [صحیح مسلم:156] پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے دھمکایا کہ ہرگز ان کی رضا مندی اور ان سے صلح جوئی کے لیے اپنے دین میں سست نہ ہونا ان کی طرف نہ جھکنا ان کی نہ ماننا فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی مذہب ہے خواہ وہ یہود ہوں نصرانی ہوں یا کوئی اور ہوں اس لیے کہ ملت کا لفظ یہاں مفرد ہی رکھا جیسے اور جگہ ہے آیت «لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ» [ 109-الکافرون: 6 ] تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے اس استدلال پر اس مسئلہ کی بنا ڈالی ہے کہ مسلمان اور کفار آپس میں وارث نہیں ہو سکتے اور کفر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں گو وہ دونوں ایک ہی قسم کے کافر ہوں یا دو الگ الگ کفروں کے کافر ہوں، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہما کا یہی مذہب ہے اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے اور دوسری روایت میں امام احمد رحمہ اللہ کا اور امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول مروی ہے کہ دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں ایک صحیح حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [سنن ابن ماجه:2731قال الشيخ الألباني:صحیح]
حق تلاوت سے کیا مراد ہے؟ ٭٭
پھر فرمایا کہ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ حق تلاوت ادا کرتے ہوئے پڑھتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد یہود نصاریٰ ہیں اور روایت میں ہے کہ اس سے مراد اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حق تلاوت یہ ہے کہ جنت کے ذکر کے وقت جنت کا سوال کیا جائے اور جہنم کے ذکر کے وقت اس سے پناہ مانگی جائے [تفسیر قرطبی:95/2] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حلال و حرام کو جاننا کلمات کو ان کی جگہ رکھنا تغیر و تبدل نہ کرنا وغیرہ یہی تلاوت کا حق ادا کرنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:567/2] حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کھلی آیتوں پر عمل کرنا متشابہ آیتوں پر ایمان لانا مشکلات کو علماء کے سامنے پیش کرنا حق تلاوت کے ساتھ پڑھنا ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب حق اتباع بجا لانا بھی مروی ہے پس تلاوت بمعنی اتباع ہے جیسے آیت «وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا» [ 91۔ الشمس: 2 ] میں ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے یہی معنی مروی ہیں لیکن اس کے بعض راوی مجہول ہیں گو معنی ٹھیک ہے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قرآن کی اتباع کرنے والا جنت کے باغیچوں میں اترنے والا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی رحمت کے ذکر کی آیت پڑھتے تو ٹھہر جاتے اور اللہ سے رحمت طلب کرتے اور جب کبھی کسی عذاب کی آیت تلاوت فرماتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب فرماتے۔ [صحیح مسلم:772 ] پھر فرمایا اس پر ایمان یہی لوگ رکھتے ہیں یعنی جو اہل کتاب اپنی کتاب کی سوچ سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں وہ قرآن پر ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جیسے اور جگہ آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ» [ 5۔ المائدہ: 66 ] اگر یہ توراۃ انجیل پر اور اللہ کی ان کی طرف نازل کردہ چیز پر قائم رہتے تو ان کے اوپر سے اور پیروں تلے سے انہیں کھانا ملتا اور فرمایا «قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ» [ 5-المائدة: 68 ] اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ و انجیل کو اور جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اترا اس کو قائم نہ کر لو تب تک تم کسی چیز پر نہیں ہو۔ ان کا قائم کرنا مستلزم ہے کہ تم اس میں جو ہے اسے سچا جانو اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا حکم آپ کی اتباع کی رغبت سب کچھ موجود ہے۔
اور جگہ «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» [ 7-الأعراف: 157 ] فرمایا جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امی کی تابعداری کرتے ہیں جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور تصدیق اپنی کتاب توراۃ و انجیل میں بھی لکھا دیکھتے ہیں اور جگہ فرمایا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [ 17۔ الاسرآء: 108، 107 ] یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان پر جب اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [ 28-القص: 52 - 54 ] جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہے تو اپنے ایمان کا اقرار کر کے کہتے ہیں ہم تو پہلے ہی سے ماننے والوں میں ہیں انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کو بھلائی سے ہٹاتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دوسروں کو دیتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا» [ 3۔ آل عمران: 20 ] یعنی پڑھے لکھے اور بے پڑھے لوگوں سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر مان لیں تو راہ پر ہیں اور اگر نہ مانیں تو تجھ پر صرف تبلیغ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اسی لیے یہاں فرمایا کہ ساتھ کفر کرنے والے خسارے والے ہیں، جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [ 11۔ ہود: 17 ] جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کے وعدے کی جگہ آگ ہے صحیح حدیث میں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جو بھی مجھے سنے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنم میں جائے گا۔ [صحیح مسلم:153]
120۔ 1 یعنی یہودیت یا نصرانیت اختیار کرلے۔ 120۔ 2 جو اب اسلام کی صورت میں ہے، جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دے رہے ہیں، نہ کہ تحریف شدہ یہودیت و نصرانیت۔ 120۔ 3 یہ اس بات پر وعید ہے کہ علم آجانے کے بعد بھی اگر محض ان پر خود غلط لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ان کی پیروی کی تو تیرا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ یہ دراصل امت محمدیہ کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ اہل بدعت اور گمراہوں کی خوشنودی کے لئے وہ بھی ایسا کام نہ کریں، نہ دین میں مداخلت اور بےجا دخل کا ارتکاب کریں۔
(آیت 120) اس آیت میں سخت وعید ہے کہ یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے بالفرض اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی خواہش کے پیچھے لگ جائیں تو ان کے بچنے کی بھی کوئی صورت نہیں۔ اس آیت کے مخاطب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر سمجھایا امت کو گیا ہے: {”أَهْوَاءٌ“ ”هَوًي“} کی جمع ہے، یعنی خواہش۔ یعنی اصل ہدایت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ قرآن و سنت ہے، ان لوگوں کے پاس اصل ہدایت نہیں، صرف حسبِ خواہش بنایا ہوا دین ہے۔ بدعت کو بھی {”هَوٰي“} کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی دین میں اپنی خواہش کے مطابق بنا کر داخل کی جاتی ہے، جس طرح یہود و نصاریٰ کو خوش کرنے کے لیے ان کی اہواء و بدعات کی پیروی باعث ہلاکت ہے، اسی طرح کسی بھی بدعتی طبقے کو خوش کرنے کے لیے ان کی اہواء و بدعات کی پیروی بھی باعث ہلاکت ہے۔
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جواس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وه اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، وه اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وه نقصان واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح پڑھنے کا حق ہے وہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کا انکار کرتے ہیں تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، اسے پڑھتے ہیں جیسے اسے پڑھنے کا حق ہے، یہ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کوئی اس کے ساتھ کفر کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دین حق کا باطل سے سمجھوتہ جرم عظیم ہے ٭٭
آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تجھ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے لہٰذا تو بھی انہیں چھوڑ اور رب کی رضا کے پیچھے لگ جا تو نے انہیں دعوت رسالت پہنچا دیں۔ دین حق وہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے تو اس پر جم جا۔ حدیث شریف میں ہے میری امت کی ایک جماعت حق پر جم کر دوسروں کے مقابلہ میں رہے گی اور غلبہ کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ قیامت آئے۔ [صحیح مسلم:156] پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے دھمکایا کہ ہرگز ان کی رضا مندی اور ان سے صلح جوئی کے لیے اپنے دین میں سست نہ ہونا ان کی طرف نہ جھکنا ان کی نہ ماننا فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی مذہب ہے خواہ وہ یہود ہوں نصرانی ہوں یا کوئی اور ہوں اس لیے کہ ملت کا لفظ یہاں مفرد ہی رکھا جیسے اور جگہ ہے آیت «لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ» [ 109-الکافرون: 6 ] تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے اس استدلال پر اس مسئلہ کی بنا ڈالی ہے کہ مسلمان اور کفار آپس میں وارث نہیں ہو سکتے اور کفر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں گو وہ دونوں ایک ہی قسم کے کافر ہوں یا دو الگ الگ کفروں کے کافر ہوں، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہما کا یہی مذہب ہے اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے اور دوسری روایت میں امام احمد رحمہ اللہ کا اور امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول مروی ہے کہ دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں ایک صحیح حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [سنن ابن ماجه:2731قال الشيخ الألباني:صحیح]
حق تلاوت سے کیا مراد ہے؟ ٭٭
پھر فرمایا کہ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ حق تلاوت ادا کرتے ہوئے پڑھتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد یہود نصاریٰ ہیں اور روایت میں ہے کہ اس سے مراد اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حق تلاوت یہ ہے کہ جنت کے ذکر کے وقت جنت کا سوال کیا جائے اور جہنم کے ذکر کے وقت اس سے پناہ مانگی جائے [تفسیر قرطبی:95/2] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حلال و حرام کو جاننا کلمات کو ان کی جگہ رکھنا تغیر و تبدل نہ کرنا وغیرہ یہی تلاوت کا حق ادا کرنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:567/2] حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کھلی آیتوں پر عمل کرنا متشابہ آیتوں پر ایمان لانا مشکلات کو علماء کے سامنے پیش کرنا حق تلاوت کے ساتھ پڑھنا ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب حق اتباع بجا لانا بھی مروی ہے پس تلاوت بمعنی اتباع ہے جیسے آیت «وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا» [ 91۔ الشمس: 2 ] میں ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے یہی معنی مروی ہیں لیکن اس کے بعض راوی مجہول ہیں گو معنی ٹھیک ہے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قرآن کی اتباع کرنے والا جنت کے باغیچوں میں اترنے والا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی رحمت کے ذکر کی آیت پڑھتے تو ٹھہر جاتے اور اللہ سے رحمت طلب کرتے اور جب کبھی کسی عذاب کی آیت تلاوت فرماتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب فرماتے۔ [صحیح مسلم:772 ] پھر فرمایا اس پر ایمان یہی لوگ رکھتے ہیں یعنی جو اہل کتاب اپنی کتاب کی سوچ سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں وہ قرآن پر ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جیسے اور جگہ آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ» [ 5۔ المائدہ: 66 ] اگر یہ توراۃ انجیل پر اور اللہ کی ان کی طرف نازل کردہ چیز پر قائم رہتے تو ان کے اوپر سے اور پیروں تلے سے انہیں کھانا ملتا اور فرمایا «قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ» [ 5-المائدة: 68 ] اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ و انجیل کو اور جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اترا اس کو قائم نہ کر لو تب تک تم کسی چیز پر نہیں ہو۔ ان کا قائم کرنا مستلزم ہے کہ تم اس میں جو ہے اسے سچا جانو اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا حکم آپ کی اتباع کی رغبت سب کچھ موجود ہے۔
اور جگہ «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» [ 7-الأعراف: 157 ] فرمایا جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امی کی تابعداری کرتے ہیں جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور تصدیق اپنی کتاب توراۃ و انجیل میں بھی لکھا دیکھتے ہیں اور جگہ فرمایا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [ 17۔ الاسرآء: 108، 107 ] یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان پر جب اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [ 28-القص: 52 - 54 ] جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہے تو اپنے ایمان کا اقرار کر کے کہتے ہیں ہم تو پہلے ہی سے ماننے والوں میں ہیں انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کو بھلائی سے ہٹاتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دوسروں کو دیتے ہیں اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا» [ 3۔ آل عمران: 20 ] یعنی پڑھے لکھے اور بے پڑھے لوگوں سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر مان لیں تو راہ پر ہیں اور اگر نہ مانیں تو تجھ پر صرف تبلیغ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اسی لیے یہاں فرمایا کہ ساتھ کفر کرنے والے خسارے والے ہیں، جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [ 11۔ ہود: 17 ] جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کے وعدے کی جگہ آگ ہے صحیح حدیث میں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جو بھی مجھے سنے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنم میں جائے گا۔ [صحیح مسلم:153]
121۔ 1 اہل کتاب کے لوگوں کے اخلاق و کردار کی ضروری تفصیل کے بعد ان میں جو کچھ لوگ صالح اور اچھے کردار کے تھے، اس آیت میں ان کی خوبیاں، اور ان کے مومن ہونے کی خبر دی جا رہی ہے۔ ان میں عبد اللہ بن سلام اور ان جیسے دیگر افراد ہیں، جن کو یہودیوں میں سے قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوئی۔ 121۔ 2 وہ اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح پڑھنے کا حق ہے کہ کئی مطلب بیان کئے گئے مثلا (1) خوب توجہ اور غور سے پڑھتے ہیں۔ جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے ہیں اور جہنم کا ذکر آتا ہے تو اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ (2) اس کے حلال کو حلال، حرام کو حرام سمجھتے اور کلام الٰہی میں تحریف نہیں کرتے (جیسے دوسرے یہودی کرتے تھے (3) اس میں جو کچھ تحریر ہے، لوگوں کو بتلاتے ہیں اس کی کوئی بات چھپاتے نہیں (4) اس کی محکم باتوں پر عمل کرتے اور متشابہات پر ایمان رکھتے اور جو باتیں سمجھ میں نہیں آتیں انہیں علماء سے حل کراتے ہیں (5) اس کی ایک ایک بات کی پیروی کرتے ہیں (فتح القدیر) واقعہ یہ ہے کہ حق کی تلاوت میں سارے ہی مفہوم داخل ہیں اور ہدایت ایسے لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو مزکورہ باتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ 121۔ 3 اہل کتاب میں سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان نہیں لائے گا وہ جہنم جائے گا (ابن کثیر)
(آیت 121) اہل کتاب کے اعمالِ بد کا ذکر کرنے کے بعد اب ان میں سے نیک اور اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ کتاب کو اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ اس کی ہم معنی آیات دیکھیے سورۃ القصص (۵۲ تا ۵۴) میں۔ مراد اس سے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ہیں۔ معلوم ہوا کہ حقِ تلاوت یہ ہے کہ اس میں تحریف نہ کی جائے، اس کے احکام پر عمل کیا جائے۔ قرآن کی تلاوت کا حق بھی یہی ہے۔ بعض لوگ حق سے مراد صرف حروف کو ان کے مخارج سے ادا کرنا لیتے ہیں، مگر یہ کافی نہیں۔
اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری وہ نعمت، جس سے میں نے تمہیں نواز ا تھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اوﻻد یعقوب! میں نے جو نعمتیں تم پر انعام کی ہیں انہیں یاد کرو اور میں نے تو تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دے رکھی تھی
احمد رضا خان بریلوی
اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی -
علامہ محمد حسین نجفی
اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جس سے میں نے تمہیں نوازا۔ اور یہ بھی کہ تمہیں دنیا و جہان والوں پر فضیلت دی۔
عبدالسلام بن محمد
اے بنی اسرائیل! میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور یہ کہ بلاشبہ میں نے ہی تمھیں جہانوں پر فضیلت بخشی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتباہ ٭٭
پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 123،122) بنی اسرائیل سے خطاب کی ابتدا اللہ کی نعمتیں یاد دلانے اور قیامت اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرانے سے ہوئی۔مسلسل چوراسی (84) آیات میں ان پر اللہ کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی نافرمانیوں کا ذکر بھی فرمایا گیا۔ آخر میں دوبارہ انھیں اللہ کی نعمتیں یاد دلائی گئیں اور آخرت کے دن سے ڈرایا گیا اور متنبہ کیا گیا کہ اوپر بیان کی ہوئی بدکرداریوں کی وجہ سے تم ظالم ٹھہرے، سو اب امامت و قیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل ہو رہی ہے، جن میں ایک پیغمبر مبعوث کرنے کی دعا ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی۔ ان آیات اور پچھلی تمام آیات کا مقصود اہل کتاب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کرنے پر ابھارنا ہے۔
اور ڈرو اُس دن سے، جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی، اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن سے ڈرو جس دن کوئی نفس کسی نفس کو کچھ فائده نہ پہنچا سکے گا، نہ کسی شخص سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے گی، نہ ان کی مدد کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے اور نہ ان کی مدد ہو -
علامہ محمد حسین نجفی
اور (قیامت کے) اس دن سے ڈرو۔ جب کوئی کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا اور نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا۔ اور نہ ہی سفارش کسی کو کچھ فائدہ پہنچا سکے گی اور نہ ہی (کسی اور طریقہ سے) ان کی امداد کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس دن سے بچو جب نہ کوئی جان کسی جان کے کچھ کام آئے گی اور نہ اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے کوئی سفارش نفع دے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انتباہ ٭٭
پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزما یا اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا: "میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں" ابراہیمؑ نے عرض کیا: "اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟" اس نے جواب دیا: "میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے: اور میری اوﻻد کو، فرمایا میرا وعده ﻇالموں سے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-
علامہ محمد حسین نجفی
(اور وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کا ان کے پروردگار نے چند باتوں کے ساتھ امتحان لیا۔ اور جب انہوں نے پوری کر دکھائیں ارشاد ہوا۔ میں تمہیں تمام انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا اور میری اولاد (میں سے بھی(؟ ارشاد ہوا: میرا عہدہ (امامت) ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ساتھ آزمایا تو اس نے انھیں پورا کر دیا۔ فرمایا بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ کہا اور میری اولاد میں سے بھی؟ فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امام توحید ٭٭
اس آیت میں خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی کا بیان ہو رہا ہے جو توحید میں دنیا کے امام ہیں انہوں نے تکالیف پر صبر کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری میں ثابت قدمی اور جوان مردی دکھائی. فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکین اور اہل کتاب کو جو ملت ابراہیم کے دعویدار ہیں ذرا ابراہیم علیہ السلام کی فرماں برداری اور اطاعت گزاری کے واقعات تو سناؤ تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ دین حنیف پر اسوۂٕٕ ابراہیمی پر کون قائم ہے وہ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم؟ قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت «وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ» [ 53۔ النجم: 37 ] ابراہیم وہ ہیں انہوں نے پوری وفاداری دکھائی اور فرمایا آیت «اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 16-النحل: 120، 123 ] ابراہیم لوگوں کے پیشوا اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار مخلص اور نعمت کے شکر گزار تھے جنہیں اللہ عزوجل نے پسند فرما کر راہ راست پر لگا دیا تھا جنہیں ہم نے دنیا میں بھلائی دی تھی اور آخرت میں بھی صالح اور نیک انجام کار بنایا تھا۔ «قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6-الانعام: 161 ] پھر ہم نے تیری طرف اے نبی وحی کی کہ تو بھی ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کر جو مشرکین میں سے نہ تھے۔ اور جگہ ارشاد ہے کہ «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے نہ مشرک تھے بلکہ خالص مسلمان تھے ان سے قربت اور نزدیکی والا وہ شخص ہے جو ان کی تعلیم کا تابع ہو اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والے ان ایمان والوں کا دوست اللہ تعالیٰ خود ہے۔ ابتلاء کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ کلمات سے مراد شریعت حکم اور ممانعت وغیرہ ہے کلمات سے مراد کلمات تقدیریہ بھی ہوتی ہے جیسے مریم علیہما السلام کی بابت ارشاد ہے صدقت بکلمات ربھا یعنی انہوں نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی۔ کلمات سے مراد کلمات شرعیہ بھی ہوتی ہے۔ آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ 6۔ الانعام: 115 ] یعنی اللہ تعالیٰ کے شرعی کلمات سے سچائی اور عدل کے ساتھ پورے ہوئے یہ کلمات یا تو سچی خبریں ہیں یا طلب عدل ہے غرض ان کلمات کو پورا کرنے کی جزا میں انہیں امامت کا درجہ ملا، ان کلمات کی نسبت بہت سے اقوال ہیں مثلاً احکام حج، مونچھوں کو کم کرنا، کلی کرنا، ناک صاف کرنا، مسواک کرنا، سر کے بال منڈوانا یا رکھوانا تو مانگ نکالنا، ناخن کاٹنا، زیر ناف کے بال کاٹنا، ختنہ کرانا، بغل کے بال کاٹنا، پیشاب پاخانہ کے بعد استنجاء کرنا، جمعہ کے دن غسل کرنا، طواف کرنا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا، رمی جمار کرنا، طواف افاضہ کرنا۔
مکمل اسلام ٭٭
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد پورا اسلام ہے جس کے تیس حصے ہیں دس کا بیان سورہ براءت میں ہے «التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّـهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ» [9-التوبة:112] یعنی ’ توبہ کرنا، عبادت کرنا، حمد کرنا، اللہ کی راہ میں پھرنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا، ایمان لانا ‘۔ دس کا بیان «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» * «الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ» * «إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ» * «فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» * «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ» [23-سورةالمؤمنون:1-10] «يُحَافِظُونَ» تک ہے۔ اور سورۃ المعارج میں ہے یعنی نماز کو خشوع خضوع سے ادا کرنا لغو اور فضول باتوں اور کاموں سے منہ پھیر لینا، زکوٰۃ دیتے رہا کرنا، شرمگاہ کی حفاظت کرنا، امانت داری کرنا، وعدہ وفائی کرنا، نماز پر ہمیشگی اور حفاظت کرنا قیامت کو سچا جاننا، عذابوں سے ڈرتے رہنا سچی شہادت پر قائم رہنا۔ اور دس کا بیان سورۃ الاحزاب میں آیت «إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلْخَٰشِعِينَ وَٱلْخَٰشِعَٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلْحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا» [33۔الاحزاب:35] تک ہے یعنی اسلام لانا، ایمان رکھنا، قرآن پڑھنا، سچ بولنا، صبر کرنا، عاجزی کرنا، خیرات دینا، روزہ رکھنا، بدکاری سے بچنا، اللہ تعالیٰ کا ہر وقت بکثرت ذکر کرنا، ان تینوں احکام کا جو عامل ہو وہ پورے اسلام کا پابند ہے اور اللہ کے عذابوں سے بری ہے۔
کلمات ابراہیمی میں اپنی قوم سے علیحدگی کرنا بادشاہ وقت سے نڈر ہو کر اسے بھی تبلیغ کرنا پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنا سہنا پھر وطن اور گھربار کو اللہ کی راہ میں چھوڑ کر ہجرت کرنا مہمانداری کرنا اللہ کی راہ میں جانی اور مالی مصیبت راہ اللہ برداشت کرنا یہاں تک کہ بچہ کو اللہ کی راہ قربان کرنا اور وہ بھی اپنے ہی ہاتھ سے یہ کل احکام خلیل الرحمن علیہ السلام بجا لائے۔ سورج چاند اور ستاروں سے بھی آپ علیہ السلام کی آزمائش ہوئی امامت کے ساتھ بیت اللہ بنانے کے حکم کے ساتھ حج کے حکم اور مقام ابراہیم کے ساتھ بیت اللہ کے رہنے والوں کی روزیوں کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ علیہ السلام کے دین پر بھیجنے کے ساتھ بھی آزمائش ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے خلیل میں تمہیں آزماتا ہوں دیکھتا ہوں تم کیا ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھے لوگوں کا امام بنا دے، اس کعبہ کو لوگوں کے ثواب اور اجتماع کا مرکز بنا دے، یہاں والوں کو پھلوں کی روزیاں دے یہ تمام باتیں اللہ عزوجل نے پوری کر دیں اور یہ سب نعمتیں آپ علیہ السلام کو عطا ہوئیں صرف ایک آرزو پوری نہ ہوئی وہ یہ کہ میری اولاد کو بھی امامت ملے تو جواب ملا ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچتا کلمات سے مراد اس کے ساتھ کی آیتیں بھی ہیں۔
موطا وغیرہ میں ہے کہ سب سے پہلے ختنہ کرانے والے سب سے پہلے مہمان نوازی کرنے والے سب سے پہلے ناخن کٹوانے والے سب سے پہلے مونچھیں پست کرنے والے سب سے پہلے سفید بال دیکھنے والے ابراہیم ہی ہیں علیہ السلام سفید بال دیکھ کر پوچھا کہ اے اللہ یہ کیا ہے؟ جواب ملا وقار و عزت ہے کہنے لگے پھر تو اے اللہ اسے اور زیادہ کر۔ [مؤطا:کتاب صفة النبی922/2:مقطوع] سب سے پہل منبر پر خطبہ کہنے والے، سب سے پہلے قاصد، بھیجنے والے، سب سے پہلے تلوار چلانے والے، سب سے پہلے مسواک کرنے والے سب سے پہلے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے والے، سب سے پہلے پاجامہ پہننے والے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں۔ ایک غیر ثابت حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں منبر بناؤں تو میرے باپ ابراہیم علیہ السلام نے بھی بنایا تھا اور اگر میں لکڑی ہاتھ میں رکھوں تو یہ بھی میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ [بزار:633:منکر و ضعیف] مختلف بزرگوں سے کلمات کی تفسیر میں جو کچھ ہم نے نقل کر دیا اور ٹھیک بھی یہی ہے کہ یہ سب باتیں ان کلمات میں تھیں کسی خاص تخصیص کی کوئی وجہ ہمیں نہیں ملی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح مسلم شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دس باتیں فطرت کی اور اصل دین کی ہیں مونچھیں کم کرنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی دینا، ناخن لینا، پوریان دھونی، بغل کے بال لینا، زیر ناف کے بال لینا، استنجاء کرنا راوی کہتا ہے میں دسویں بات بھول گیا شاید کلی کرنا تھی۔ [صحیح مسلم:261]
صحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پانچ باتیں فطرت کی ہیں ختنہ کرانا، موئے [ بال ] زہار لینا، مونچھیں کم کرنا، ناخن لینا، بغل کے بال لینا۔ [صحیح بخاری:5889] ایک حدیث میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو وفا کرنے والا اس لیے فرمایا ہے کہ وہ ہر صبح کے وقت پڑھتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ يُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ وَيُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ» [ 30۔ الروم: 17 ] ایک اور روایت میں ہے کہ ہر دن چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15/3:ضعیف جدا] لیکن یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں اور ان میں کئی کئی راوی ضعیف ہیں اور ضعف کی بہت سی وجوہات ہیں بلکہ ان کا بیان بھی بیبیان ضعف جائز نہیں متن بھی ضعف پر دلالت کرتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی امت کی خوشخبری سن کر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے تھے جو قبول تو کی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی خبر کر دی جاتی ہے کہ آپ کی اولاد میں ظالم بھی ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ کا عہد نہ پہنچے گا وہ امام نہ بنائے جائیں گے نہ ان کی اقتدار اور پیروی کی جائے گی سورۃ العنکبوت کی آیت میں اس مطلب کو واضح کر دیا گیا ہے کہ خلیل اللہ کی یہ دعا بھی قبول ہوئی وہاں ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [ 29۔ العنکبوت: 27 ] یعنی ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء اور رسول آئے وہ سب آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں تھے اور جتنی کتابیں نازل ہوئیں سب آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں ہوئی دعا «صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین» یہاں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظلم کرنے والے بھی ہوں گے، ظالم سے مرد بعض نے مشرک بھی لیا ہے عہد سے مراد امر ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم کو کسی چیز کا والی اور بڑا نہ بنانا چاہیئے گو وہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے ہو، خلیل اللہ کی دعا ان کی نیک اولاد کے حق میں قبول ہوئی ہے یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ظالم سے کوئی عہد نہیں کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کا عہد توڑ دیا جائے پورا نہ کیا جائے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے اسے کچھ دینے کا عہد نہیں کیا دنیا میں تو کھا پی رہا ہے اور عیش و عشرت کر رہا ہے۔ بس یہی ہے عہد سے مراد دین بھی ہے یعنی تیری کل اولاد دیندار نہیں جیسے اور جگہ ہے آیت «ووَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ» [ 37۔ الصافات: 113 ] یعنی ان کی اولاد میں بھلے بھی ہیں اور برے بھی اطاعت کے معنی بھی کئے گئے ہیں یعنی اطاعت صرف معروف اور بھلائی میں ہی ہو گی اور عہد کے معنی نبوت کے بھی آئے ہیں ابن خویز منذاذ مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ظالم شخص نہ تو خلیفہ بن سکتا ہے نہ حاکم نہ مفتی نہ گواہ نہ راوی۔
124۔ 1 کلمات سے مراد احکام شریعت، مناسک حج، ذبح پسر، ہجرت نار نمرود وغیرہ وہ تمام آزمائشیں ہیں، جن سے حضرت ابراہیم ؑ گزارے گئے اور ہر آزمائش میں کامیاب اور کامران رہے، جس کے صلے میں امام الناس کے منصب پر فائز کئے گئے، چناچہ مسلمان ہی نہیں، یہودی، عیسائی حتٰی کہ مشرکین عرب سب ہی میں ان کی شخصیت محترم اور پیشوا مانی جاتی ہے۔ 24۔ 2 اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس خواہش کو پورا فرمایا، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، ہم نے نبوت اور کتاب کو اس کی اولاد میں کردیا، پس ہر نبی جسے اللہ نے مبعوث کیا اور ہر کتاب جو ابراہیم ؑ کے بعد نازل فرمائی، اولاد ابراہیم ہی میں یہ سلسلہ رہا (ابن کثیر) اس کے ساتھ ہی یہ فرما کر کہ میرا وعدہ ظالموں سے نہیں اس امر کی وضاحت فرمادی کہ ابراہیم کی اتنی اونچی شان اور عنداللہ منزلت کے باوجود اولاد ابراہیم میں سے جو ناخلف اور ظالم و مشرک ہوں گے۔ ان کی شقاوت و محرومی کو دور کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پیمبر زادگی کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اگر ایمان و عمل صالح نہیں، تو پیرزادگی اور صاحبزادگی کی بارگاہ الٰہی میں کیا حیثیت ہوگی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے (من بطا بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ) صحیح مسلم۔ (جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔
(آیت 124) ➊ {بِكَلِمٰتٍ:} بعض مفسرین نے ان باتوں سے مراد والد، قوم اور بادشاہ کو توحید کی دعوت، بت پرستی، ستارہ پرستی اور شاہ پرستی کی تردید، آگ میں پھینکے جانے پر صبر، پھر ہجرت، مصر کے جبار بادشاہ کی دست درازی کے باوجود استقامت، بیوی بچے کو وادی غیر ذی ذرع میں چھوڑنا اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے پر مکمل آمادگی کو لیا ہے۔ بعض نے آگے آنے والی آیات میں مذکور بیت اللہ کی تعمیر و تطہیر اور حج کے مناسک اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {”اَسْلِمْ“} (فرماں بردار ہو جا) پر فرماں بردار ہونے کے اقرار، پھر اس کے عملی ثبوت کو مراد لیا ہے۔ [ ابن أبی شیبۃ عن مجاہد ] تفسیر عبد الرزاق میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش طہارت کے احکام کے ساتھ کی، جن میں سے پانچ سر سے متعلق اور پانچ باقی جسم سے متعلق تھے۔ سر سے متعلق مونچھیں کترنا، کلی کرنا، ناک کی پانی سے صفائی کرنا، مسواک کرنا، سر کی مانگ نکالنا تھا اور جسم کے متعلق ناخن کاٹنا، زیرِ ناف بال مونڈنا، ختنہ کرنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا اور پیشاب و پاخانے کے نشان کو پانی سے دھونا تھا۔ صحیح بخاری(۵۸۸۹)، مسلم (۲۵۷) اور ابوداؤد(۴۱۹۸) وغیرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور کو فطرت میں سے شمار فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش میں یہ سب چیزیں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بھی حکم دیا انھوں نے وہ پورا کر دکھایا، بڑھاپے میں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تو پورا کر دیا، اسّی (۸۰) سال کی عمر میں اپنا ختنہ کرنے کا حکم ہوا تو وہ بھی کر دیا۔ [ بخاری، الاستئذان، باب الختان بعد الکبر …: ۶۲۹۷ ] ➋ { قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ......: } جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو تمام لوگوں کا امام بنا دیا تو انھوں نے اپنی بعض اولاد کے حق میں امامت کی دعا کی، سب کے حق میں نہیں کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، تو یہ دعا کیوں کی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، مگر اس کے ساتھ ہی انھیں بتا دیا کہ تمھاری اولاد میں سے ظالم لوگ اس نعمت سے سرفراز نہیں ہوں گے۔ اس سے بنی اسرائیل کے گمراہ لوگوں اور بنی اسماعیل کے مشرکین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ ان کے عقائد و اعمال خراب ہو چکے ہیں، محض ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونا کافی نہیں۔
اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنا لو اور ابراہیمؑ اور ا سماعیل کو تاکید کی تھی کہ میرے گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ﺛواب اور امن وامان کی جگہ بنائی، تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو، ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو
احمد رضا خان بریلوی
اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے -
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے اس گھر (خانہ کعبہ) کو تمام لوگوں کے لئے مرکز اور مقام امن قرار دیا۔ اور (حکم دیا کہ) مقام ابراہیم (جہاں عبادت کے لئے کھڑے ہوئے تھے) کو (اپنی) نماز کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو وصیت کی (حکم دیا) کہ تم دونوں میرے (اس) گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں کے لئے پاک و صاف رکھو۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے لوٹ کر آنے کی جگہ اور سراسر امن بنایا، اور تم ابراہیم کی جائے قیام کو نماز کی جگہ بنائو۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکیدی حکم دیا کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔
اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3]
ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔
ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»
یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔
امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭
یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔
مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔
حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔
یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834]
سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832]
ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن]
مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭
اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔
«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔
اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] [صحیح بخاری:4686] اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال ا
125۔ 1 حضرت ابراہیم کی نسبت سے جو اس کے بانی اول ہیں، بیت اللہ کی دو خصوصیتیں اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ایک (لوگوں کے لئے ثواب کی جگہ) دوسرے کے معنی ہیں لوٹ لوٹ کر آنے کی جگہ جو ایک مرتبہ بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہوجاتا ہے، دوبارہ سہ بارہ آنے کے لئے بیقرار رہتا ہے یہ ایسا شوق ہے جس کی کبھی تسکین نہیں ہوتی بلکہ روز افزوں رہتا ہے دوسری خصوصیت امن کی جگہ یعنی یہاں کسی دشمن کا خوف بھی نہیں رہتا چناچہ زمانہء جاہلیت میں بھی لوگ حدود حرم میں کسی دشمن جان سے بدلہ نہیں لیتے تھے۔ اسلام نے اس کے احترام کو باقی رکھا، بلکہ اس کی مزید تاکید اور توسیع کی۔ 25۔ 2 مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے، جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ؑ تعمیر کعبہ کرتے رہے اس پتھر پر حضرت ابراہیم ؑ کے قدم کے نشانات ہیں اب اس پتھر کو ایک شیشے میں محفوظ کردیا گیا ہے، جسے ہر حاجی طواف کے دوران باآسانی دیکھتا ہے۔ اس مقام پر طواف مکمل کرنے کے بعد دو رکعت پڑھنے کا حکم ہے۔ آیت (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى) 2:125
(آیت 125) ➊ {مَثَابَةً:} یہ {”ثَابَ يَثُوْبُ“} (لوٹنا) سے ظرف ہے، یعنی ”لوٹ کر آنے کی جگہ“ لوگ بار بار اللہ کے گھر کی طرف لوٹ کر آتے ہیں، کبھی ان کا دل نہیں بھرتا۔ دیکھیے سورۂ حج(۲۷) اور سورۂ ابراہیم(۳۷) دوسری خصوصیت یہ کہ اسے سرا سر امن والی جگہ بنا دیا، جاہلیت میں بھی آدمی اپنے دشمن کو دیکھتا مگر اسے کچھ نہ کہتا۔ اسلام نے اس احترام کو باقی رکھا، بلکہ اس میں تاکید اور اضافہ کیا۔ ➋ مقام ابراہیم علیہ السلام کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ تعمیرکیا۔ صحیح مسلم میں حجۃ الوداع کے واقعہ میں جابر رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کی طرف آئے اور یہ آیت پڑھی: «{ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى }» [ البقرۃ: ۱۲۵ ] پھر مقام (ابراہیم) کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کرکے دو رکعتیں پڑھیں۔ [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸ ] جیسا کہ حاجی لوگ پڑھتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کا مشورہ عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا جس کی موافقت اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ [ بخاری، الصلوۃ، باب ما جاء فی القبلۃ …: ۴۰۲ ] عمر رضی اللہ عنہ کی موافقات کی تعداد اٹھارہ ہے۔ دوسرا قول تفسیر عبد الرزاق میں صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد مقام حج ہے یعنی حرم اور عرفات جہاں ابراہیم علیہ السلام نے حج میں قیام کیا۔ چنانچہ اہل علم فرماتے ہیں کہ طواف کی دو رکعتیں حرم میں جہاں بھی پڑھ لے درست ہے۔ ➌ {طَهِّرَا بَيْتِيَ......:} طہارت سے مراد کوڑا کرکٹ سے صفائی ہی نہیں بلکہ بت پرستی اور شرک کی تمام نجاستوں سے بھی صفائی ہے، کیونکہ طواف، اعتکاف، رکوع اور سجدہ اللہ کے سوا کسی کا حق نہیں۔ مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تمھارے باپ کو کیا حکم دیا گیا تھا اور تم نے عین کعبہ میں بت لا کر کیسی فرماں برداری کی۔
اور یہ کہ ابراہیمؑ نے دعا کی: "اے میرے رب، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے، اور اس کے باشندوں میں جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انہیں ہر قسم کے پھلو ں کا رزق دے" جواب میں اس کے رب نے فرمایا: "اور جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تومیں اُسے بھی دوں گا مگر آخرکار اُسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی-
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم (ع) نے کہا (دعا کی) اے میرے پروردگار اس شہر (مکہ) کو امن والا شہر بنا۔ اور اس کے رہنے والوں میں سے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائیں انہیں ہر قسم کے پھلوں سے روزی عطا فرما۔ ارشاد ہوا: اور جو کفر اختیار کرے گا اس کو بھی چند روزہ (زندگی میں) فائدہ اٹھانے دوں گا۔ اور پھر اسے کشاں کشاں دوزخ کے عذاب کی طرف لے جاؤں گا۔ اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دے، جو ان میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔ فرمایا اور جس نے کفر کیا تو میں اسے بھی تھوڑا سا فائدہ دوں گا، پھر اسے آگ کے عذاب کی طرف بے بس کروں گا اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔
اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3]
ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔
ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»
یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔
امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭
یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔
مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔
حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔
یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834]
سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832]
ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن]
مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭
اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔
«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔
اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] [صحیح بخاری:4686] اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال ا
26۔ 1 اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی دعائیں قبول فرمائیں، یہ شہر امن کا گہوارہ بھی ہے اور وادی (غیر کھیتی والی) ہونے کے باوجود اس میں دنیا بھر کے پھل فروٹ اور ہر قسم کے غلے کی وہ فراوانی ہے جسے دیکھ کر انسان حیرت و تعجب میں ڈوب جاتا ہے۔
(آیت 126) ➊ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور مکہ معظمہ کو امن والا شہر بنا دیا۔ اب حرم کی حدود میں کسی کا خون بہانا، اس کے درختوں کو کاٹنا، شکار کو بھگانا وغیرہ جائز نہیں اور رزق کی وہ فراوانی فرمائی کہ مکہ میں کھیتی باڑی نہ ہونے کے باوجود وہاں سارا سال دنیا بھر کے تازہ پھل اور ہر قسم کا غلہ اتنی فراوانی سے ملتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت آنکھوں سے نظر آتی ہے۔ ➋ اس سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے امامت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا، اب ابراہیم علیہ السلام نے رزق کی دعا ظالموں کو نکال کر صرف ایمان والوں کے لیے کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں دنیاوی رزق کفار کو بھی دوں گا، البتہ آخرت میں ان کے لیے عذاب ہے۔ معلوم ہوا دنیا میں کسی کے پاس رزق کی کثرت اس پر اللہ تعالیٰ کے خوش اور راضی ہونے کی دلیل نہیں۔
اور یاد کرو ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: "اے ہمارے رب، ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، تو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (خانہ کعبہ) کی بنیادیں بلند کر رہے تھے۔ (اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا کرتے جاتے تھے) اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ عمل) قبول فرما۔ بے شک تو بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ابراہیم اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہا تھا اور اسماعیل بھی۔ اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔
اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3]
ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔
ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»
یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔
امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭
یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔
مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔
حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔
یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834]
سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832]
ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن]
مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭
اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔
«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔
اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] [صحیح بخاری:4686] اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال ا
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 127) {”الْقَوَاعِدَ“} بنیادیں۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا، یعنی بیت اللہ کی وہ بنیادیں جو اس سے پہلے موجود تھیں۔ [ تفسیر عبد الرزاق بسند صحیح ] اس سے معلوم ہوا کہ بیت اللہ پہلے تعمیر ہو چکا تھا، اب از سر نو اس کی بنیادیں اٹھائی جا رہی تھیں۔ سورۂ حج (۲۶) میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین فرمائی۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۹۶) اس کے بعد بیت اللہ کئی دفعہ تعمیر ہوا۔ جاہلیت میں جب سیلاب سے کعبہ منہدم ہو گیا تو قریش نے دوبارہ اس کی تعمیر کی، مگر مال کی کمی کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ باہر چھوڑ دیا، جسے حطیم کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے لیے پتھر اٹھا کر لاتے رہے۔ ابنِ اسحاق کے مطابق آپ کی عمر اس وقت ۳۵ سال تھی، پھر آپ ہی نے قریش کے جھگڑے میں حجر اسود کا فیصلہ فرمایا اور اسے اس کے مقام پر اپنے دست مبارک سے رکھا۔ دورِ اسلام میں پہلی مرتبہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے اسے ابراہیم علیہ السلام والی بنیادوں پر تعمیر کیا، اس کے بعد عبد الملک کے دورِ خلافت میں حجاج بن یوسف نے اسے گرا کر دوبارہ اسی طرح بنا دیا جس طرح جاہلیت میں بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف بادشاہ اسی عمارت کی مرمت و تزئین کرتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کعبہ کو حبشیوں میں سے ایک پتلی پنڈلیوں والا برباد کرے گا۔“ [ بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالٰی: «{ جعل اللہ الکعبۃ … }» : ۱۵۹۱۔ مسلم، الفتن، باب لا تقوم الساعۃ …: 2909/58]
اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مُطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنا (حقیقی) مسلمان (فرمانبردار بندہ) بنائے رکھ۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت مسلمہ (فرمانبردار امت) قرار دے۔ اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا۔ اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماںبردار بنا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے دکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی نہایت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭
«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔
اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3]
ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔
ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»
یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔
امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭
یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔
مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔
حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔
یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834]
سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832]
ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن]
مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭
اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔
«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔
اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] [صحیح بخاری:4686] اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال ا
اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا-
علامہ محمد حسین نجفی
اے ہمارے پروردگار ان (امت مسلمہ) میں انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر بھیج جو انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے یقینا تو بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دعائے ابراہیم علیہ السلام کا ماحصل ٭٭
اہل حرم کے لیے یہ دعا بھی ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہی رسول ان میں آئے چنانچہ یہ بھی پوری ہوئی۔ مسند احمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں“ میں اللہ جل شانہ کے نزدیک آخری نبی اس وقت سے ہوں جبکہ آدم علیہ السلام ابھی مٹی کی صورت میں تھے“ میں تمہیں ابتدائی امر بتاؤں میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔“ انبیا علیہ السلام کی واکدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔ [مسند احمد:127/4:ضعیف] سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کا شروع تو ہمیں بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور میری خوشخبری جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی اور میری ماں نے دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل چمکا دئیے۔ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ] مطلب یہ ہے کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ صاحبہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی مشہور ہو گیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ بطن آمنہ سے کوئی بڑا شخص پیدا ہو گا بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے روح اللہ نے تو بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف نام بھی لے دیا اور فرمایا لوگو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، مجھ سے پہلے کی کتاب توراۃ کی میں تصدیق کرتا ہوں اور میرے بعد آنے والے نبی کی میں تمہیں بشارت دیتا ہوں جن کا نام احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم [61-الصف:6] اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے، خواب میں نور سے شام کے محلات کا چمک اٹھنا اشارہ ہے، اس امر کی طرف کہ دین وہاں جم جائے گا۔ بلکہ روایتوں سے ثابت ہے کہ آخر زمانہ میں شام اسلام اور اہل اسلام کا مرکز بن جائے گا۔ شام کے مشہور شہر دمشق ہی میں عیسیٰ علیہ السلام شرقی سفید مینارہ پر نازل ہوں گے۔ بخاری مسلم میں ہے“ میری امت کی ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، ان کے مخالفین انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ امر اللہ آ جائے“ [صحیح بخاری:7460] صحیح بخاری میں اتنی زیادتی اور ہے کہ“ وہ شام میں ہوں گے۔“ [صحیح بخاری:3641] ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ یہ بھی اسی مقبول دعا کا ایک حصہ ہے کہ اور یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ میں مبعوث ہوں گے۔“ کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے حسن اور قتادہ اور مقاتل بن حیان اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی فرمان ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:390/1] اور حکمت سے مراد دین کی سمجھ بوجھ بھی ہے۔ پاک کرنا یعنی طاعت و اخلاص سیکھنا، بھلائیاں کرانا، برائیوں سے بچانا، اطاعت الٰہی کر کے رضائے رب حاصل کرنا، نافرمانی سے بچ کر ناراضگی سے محفوظ رہنا۔ اللہ عزیز ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی جو ہر چیز پر غالب ہے وہ حکیم ہے یعنی اس کا کوئی قول و فعل حکمت سے خالی نہیں، وہ ہر چیز کو اپنے محل پر ہی حکمت وعدل و علم کے ساتھ رکھتا ہے۔
129۔ 1 یہ حضرت ابراہیم و اسماعیل ؑ کی آخری دعا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے باپ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا، حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں (الفتح الربانی ج 20، ص 181، 189) 129۔ 2 کتاب سے مراد قرآن مجید اور حکمت سے مراد حدیث ہے۔ تلاوت آیات کی تعلیم کتاب و حکمت کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی نفس تلاوت بھی مقصود اور باعث اجر وثواب ہے۔ تاہم اگر ان کا مفہوم و مطلب بھی سمجھ میں آجاتا ہے تو سبحان اللہ، سونے پر سہاگہ ہے۔ لیکن اگر قرآن کا ترجمہ و مطلب نہیں آتا، تب بھی اس کی تلاوت میں کوتاہی جائز نہیں ہے۔ تلاوت بجائے خود ایک الگ اور نیک عمل ہے۔ تاہم اس کے مفہوم اور مطالب سمجھنے کی بھی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے۔ 129۔ 3 تلاوت وتعلیم کتاب اور تعلیم حکمت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث کا یہ چوتھا مقصد ہے کہ انہیں شرک و توہمات کی آلائشوں سے اور اخلاق و کردار کی کوتاہیوں سے پاک کریں۔
(آیت 129) یہ ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کی دعا کا خاتمہ ہے۔ { ”رَسُوْلًا“ } سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی دوسرا نبی نہیں ہوا۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں اپنے متعلق بتائیں، تو آپ نے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور میری والدہ کو جب میرا حمل ٹھہرا تو انھوں نے دیکھا کہ ان (کے بدن) سے ایک نور نکلا جس سے بصریٰ روشن ہو گیا اور بصریٰ شام کی سرزمین سے ہے۔“ (مستدرك: ۲؍۶00، ح: ۴۱۷4) اسے امام حاکم نے روایت کیا، امام ذہبی نے صحیح کہنے میں ان کی موافقت کی۔ شیخ البانی نے اسے صحیح کہا۔ [سلسله الصحيحه: ۱۵۴۵] شام کی تخصیص اس لیے ہے کہ آخر زمانہ میں شام ہی اسلام کا مرکز بنے گا، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی شام میں ہو گا اور حدیث میں جس گروہ کے قیامت تک حق پر رہنے کی خبر دی گئی ہے وہ بھی شام میں ہو گا۔ ابن کثیر میں صحیح بخاری کے حوالے سے ہے: [ وَهُمْ بِالشَّامِ ] ”وہ شام میں ہوں گے۔“ [بخاری: ۳۶۴۱، ۷۴۶۰] { ”الْكِتٰبَ“ } سے مراد قرآن مجید اور { ”الْحِكْمَةَ“ } سے مراد حدیث پاک ہے اور اسلام کے بنیادی اصول یہی دو ہیں۔ پاک کرنے سے مراد شرک اور گناہوں سے پاک کرے اور اطاعت و اخلاص کی تعلیم دے۔ {” اِنَّكَ اَنْتَ “} ضمیر مکرر لانے کے علاوہ {”الْعَزِيْزُ“} پر الف لام سے دوہرا حصر پیدا ہو گیا، اس لیے ”تو ہی“ ترجمہ کیا گیا۔
اب کون ہے، جو ابراہیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو، اس کے سو ا کون یہ حرکت کرسکتا ہے؟ ابراہیمؑ تو وہ شخص ہے، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -
علامہ محمد حسین نجفی
اور کون ہے جو ابراہیم (ع) کی ملت (و مذہب) سے روگردانی کرے سوا اس کے جو اپنے کو احمق بنائے اور ہم نے انہیں دنیا میں منتخب کیا اور آخرت میں بھی ان کا شمار نیکوکاروں میں ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کون ہے جو ابراہیم کی ملت سے بے رغبتی کرے گا سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو بے وقوف بنا لیا، اور بے شک ہم نے اسے دنیا میں چن لیا اور بلا شبہ وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید کے دعوے اور مشرکین کا ذکر ٭٭
ان آیتوں میں بھی مشرکین کی تردید ہے کہ جو اپنے آپ کو دین ابراہیمی پر بتاتے تھے حالانکہ کامل مشرک تھے جبکہ خلیل اللہ علیہ السلام تو موحدوں کے امام تھے۔ توحید کو شرک سے ممتاز کرنے والے تھے عمر بھر میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا بلکہ ہر مشرک سے اور ہر قسم کے شرک سے اور ہر غیر اللہ سے جو اللہ مانا جاتا ہو وہ دل سے نفرت کرتے تھے اور ان سب سے بیزار تھے۔ اسی بنا پر قوم سے الگ ہوئے وطن چھوڑا بلکہ باپ تک کی مخالفت کی پروا نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ آیت «قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6۔ الانعام: 79، 78 ] میں بیزار ہوں، اس چیز سے جسے تم شریک کرتے ہو میں نے تو یکسو ہو کر اپنی تمام تر توجہ اس پاک ذات کی طرف کر دی ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔ اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری ہوں تو اپنے خالق ہی کا گرویدہ ہوں، وہی مجھے راہ راست دکھائے گا۔ اور جگہ ہے آیت «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ حَلِيمٌ» [ 9۔ التوبہ: 114 ] ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لیے بھی صرف ایک وعدے کی بنا پر استغفار کی تھی لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے۔
ابراھیم علیہ السلام بڑے ہی رجوع کرنے والے اور بردبار تھے۔ اور جگہ ہے کہ ابراھیم علیہ السلام مخلص اور مطیع امت تھے۔ مشرک ہرگز نہ تھے، رب کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ رب کعبہ کے پسندیدہ تھے اور راہ راست پر لگے ہوئے تھے، دنیا کے بھلے لوگوں میں سے تھے اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں ہوں گے۔ [16-النحل:120-122] ان آیتوں کی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ”اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بے تدبیر اور گمراہ لوگ ہی ملت ابراہیمی کو ترک کرتے ہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے ہدایت کے لیے چن لیا تھا اور بچپن سے ہی توفیق حق دے رکھی تھی، خلیل جیسا معزز خطاب انہی کو دیا گیا۔ وہ آخرت میں بھی سعید بخت لوگوں میں ہیں۔ ان کے مسلک و ملت کو چھوڑ کر ضلالت و گمراہی میں پڑنے والے سے زیادہ بیوقوف اور ظالم اور کون ہو گا؟“ اس آیت میں یہودیوں کا بھی رد ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک بلکہ موحد مسلمان اور مخلص تھے ان سے دوستی رکھنے والے صرف وہی ہیں جو ان کے فرماں بردار ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایماندار اوور اللہ بھی مومنوں کا ولی ہے، جب کبھی اللہ فرماتا کہ یہ مان لو وہ جواب دیتے کہ اے رب العالمین میں نے مان لیا، اسی ملت و حدانیت کی وصیت ابراہیم علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بھی کی۔ ھا کی ضمیر کا مرجع یا تو ملت ہے یا کلمہ۔
ملت سے مراد اسلام اور کلمہ سے مراد آیت «قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [ البقرہ: 131 ] ہے۔ دیکھئے ان کے دل میں اسلام کی کس قدر محبت و عزت تھی کہ خود بھی اس پر مدت العمر عامل رہے، اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔ اور جگہ ہے آیت «وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 28 ] ہم نے اس کلمہ کو ان کی اولاد میں بھی باقی رکھا، بعض سلف نے «ویعقوب» بھی پڑھا تو بینہ پر عطف ہو گا اور مطلب یہ ہو گا کہ خلیل اللہ نے اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد میں یعقوب علیہ السلام کو جو اس وقت موجود تھے دین اسلام کی استقامت کی وصیت کی۔ قشیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”حضرت یعقوب، ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے بعد پیدا ہوئے تھے“، لیکن یہ مجرد دعویٰ ہے، جس پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے ہاں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ قرآن پاک کی آیت میں ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [ 11۔ ہود: 71 ] یعنی ہم نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اس کا نصب خفض کو ہٹا کر بھی پڑھا گیا ہے پس اگر یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں موجود نہ ہوں تو پھر ان کا نام لینے میں کوئی زبردست فائدہ باقی نہیں رہتا۔ سورۃ العنکبوت میں بھی ہے کہ «وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ» [ 29-العنكبوت: 27 ] ہم ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیہم السلام عطا فرمایا اور اس کی اولاد میں ہم نے نبوت و کتاب دی اور اسی آیت میں ہے ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب زائد عطا فرمایا۔ [21-الأنبياء:72] ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی تھے اگلی کتابوں میں بھی ہے کہ وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی مسجد پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد الحرام پوچھا۔ پھر فرمایا، مسجد بیت المقدس میں نے کہا دونوں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ فرمایا چالیس سال۔ [صحیح بخاری:3366] ابن حبان نے کہا ہے کہ ”حضرت ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام کی درمیانی مدت سے متعلق یہ بیان ہے“ حالانکہ یہ قول بالکل الٹ ہے۔ ان دونوں نبیوں کے درمیان تو ہزاروں سال کی مدت تھی بلکہ مطلب حدیث کا کچھ اور ہی ہے اور شاہ زمان سلیمان علیہ الصلوۃ الرحمن تو اس مسجد کے مجدد تھے، موجد نہ تھے۔ اسی طرح یعقوب علیہ السلام نے بھی وصیت کی تھی، جیسے عنقریب ذکر آئے گا۔ وصیت اس امر کی ہوتی ہے جب تک زندہ رہو مسلمان ہو کر رہو تاکہ موت بھی اسی پر آئے۔
موت اور ہمارے اعمال ٭٭
عموماً انسان زندگی میں جن اعمال پر رہتا ہے، اسی پر موت بھی آتی ہے اور جس پر مرتا ہے، اس پر اٹھے گا بھی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ بھلائی کے قصد کرنے والے کو بھلائی کی توفیق بھی دی جاتی ہے۔ بھلائی اس پر آسان بھی کر دی جاتی ہے اور اسے ثابت قدم بھی رکھا جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ انسان جنتیوں کے کام کرتے کرتے جنت میں ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے کہ اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں کا کام کر کے جہنمی بن جاتا ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] لیکن اس سے مطلب یہ ہے کہ یہ کام اچھے برے ظاہری ہوتے ہیں، حقیقی نہیں ہوتے۔ چنانچہ بعض روایات میں یہ لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:2898] قرآن کہتا ہے سخاوت، تقویٰ اور لا الہٰ الا اللہ کی تصدیق کرنے والے کو ہم آسانی کا راستہ آسان کر دیتے ہیں اور بخل و بےپرواہی اور بھلی بات کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ہم سختی کی راہ آسان کر دیتے ہیں۔ [92-الليل:5-10]
130۔ 1 عربی زبان میں رَغِبَ کا صلہ عَنْ تو اس کے معنی بےرغبتی ہوتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کی وہ عظمت و فضیلت بیان فرما رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت میں عطا فرمائی ہے یہ بھی وضاحت فرما دی کہ ملت ابراہیم سے اعراض اور بےرغبتی بیوقوفوں کا کام ہے، کسی عقلمند سے اس کا تصور نہیں ہوسکتا۔
(آیت 130) ➊ { ”رَغِبَ يَرْغَبُ “} کے بعد اگر {” فِيْ “} آئے تو اس کا معنی کسی چیز میں رغبت رکھنا اور اگر {” عَنْ “} آئے تو اس کا معنی بے رغبتی ہوتا ہے۔ ➋ { ”مِلَّةِ اِبْرٰهٖمَ“} کی وضاحت اگلی آیات میں آ رہی ہے، یعنی ایک اللہ کی عبادت اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے تابع فرمان کر دینا۔ اس آیت میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کی تردید ہے کہ وہ تینوں ملتِ ابراہیم کے دعوے دار تھے، مگر عملاً اس سے بالکل بے رغبت، بلکہ شدید مخالف تھے، انھوں نے اس میں شرک و بدعت کو شامل کرکے اپنا اپنا الگ الگ طریقہ بنا لیا تھا۔ یہود نے عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا رکھا تھا، نصرانی تین خدا مانتے تھے، صلیب کی پرستش اس پر مزید تھی۔ مشرکین عرب نے بت پرستی اختیار کر لی تھی، یہود و نصاریٰ کی کچھ بدعات و خرافات کا آئندہ آیات میں ذکر آ رہا ہے۔ ➌ {وَ لَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ:} بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام کی ملت میں سے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں چن لیا اور جو آخرت میں صالحین میں شامل ہوں گے، وہی شخص بے رغبتی کرے گا جو عقل کو جواب دے کر اپنے آپ کو بے وقوف بنا لے۔
اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: "مسلم ہو جا"، تو اس نے فوراً کہا: "میں مالک کائنات کا "مسلم" ہو گیا"
مولانا محمد جوناگڑھی
جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی
احمد رضا خان بریلوی
جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا-
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ انتخاب اس وقت ہوا) جب ان کے پروردگار نے ان سے فرمایا: ’’مسلم‘‘ ہو جا (سر تسلیم جھکا کر فرمانبردار ہو جا)۔ تو انہوں نے کہا میں نے تمام جہانوں کے رب کے سامنے سر جھکا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس سے اس کے رب نے کہا فرماںبردار ہو جا، اس نے کہا میں جہانوں کے رب کے لیے فرماں بردار ہوگیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید کے دعوے اور مشرکین کا ذکر ٭٭
ان آیتوں میں بھی مشرکین کی تردید ہے کہ جو اپنے آپ کو دین ابراہیمی پر بتاتے تھے حالانکہ کامل مشرک تھے جبکہ خلیل اللہ علیہ السلام تو موحدوں کے امام تھے۔ توحید کو شرک سے ممتاز کرنے والے تھے عمر بھر میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا بلکہ ہر مشرک سے اور ہر قسم کے شرک سے اور ہر غیر اللہ سے جو اللہ مانا جاتا ہو وہ دل سے نفرت کرتے تھے اور ان سب سے بیزار تھے۔ اسی بنا پر قوم سے الگ ہوئے وطن چھوڑا بلکہ باپ تک کی مخالفت کی پروا نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ آیت «قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6۔ الانعام: 79، 78 ] میں بیزار ہوں، اس چیز سے جسے تم شریک کرتے ہو میں نے تو یکسو ہو کر اپنی تمام تر توجہ اس پاک ذات کی طرف کر دی ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔ اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری ہوں تو اپنے خالق ہی کا گرویدہ ہوں، وہی مجھے راہ راست دکھائے گا۔ اور جگہ ہے آیت «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ حَلِيمٌ» [ 9۔ التوبہ: 114 ] ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لیے بھی صرف ایک وعدے کی بنا پر استغفار کی تھی لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے۔
ابراھیم علیہ السلام بڑے ہی رجوع کرنے والے اور بردبار تھے۔ اور جگہ ہے کہ ابراھیم علیہ السلام مخلص اور مطیع امت تھے۔ مشرک ہرگز نہ تھے، رب کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ رب کعبہ کے پسندیدہ تھے اور راہ راست پر لگے ہوئے تھے، دنیا کے بھلے لوگوں میں سے تھے اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں ہوں گے۔ [16-النحل:120-122] ان آیتوں کی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ”اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بے تدبیر اور گمراہ لوگ ہی ملت ابراہیمی کو ترک کرتے ہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے ہدایت کے لیے چن لیا تھا اور بچپن سے ہی توفیق حق دے رکھی تھی، خلیل جیسا معزز خطاب انہی کو دیا گیا۔ وہ آخرت میں بھی سعید بخت لوگوں میں ہیں۔ ان کے مسلک و ملت کو چھوڑ کر ضلالت و گمراہی میں پڑنے والے سے زیادہ بیوقوف اور ظالم اور کون ہو گا؟“ اس آیت میں یہودیوں کا بھی رد ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک بلکہ موحد مسلمان اور مخلص تھے ان سے دوستی رکھنے والے صرف وہی ہیں جو ان کے فرماں بردار ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایماندار اوور اللہ بھی مومنوں کا ولی ہے، جب کبھی اللہ فرماتا کہ یہ مان لو وہ جواب دیتے کہ اے رب العالمین میں نے مان لیا، اسی ملت و حدانیت کی وصیت ابراہیم علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بھی کی۔ ھا کی ضمیر کا مرجع یا تو ملت ہے یا کلمہ۔
ملت سے مراد اسلام اور کلمہ سے مراد آیت «قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [ البقرہ: 131 ] ہے۔ دیکھئے ان کے دل میں اسلام کی کس قدر محبت و عزت تھی کہ خود بھی اس پر مدت العمر عامل رہے، اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔ اور جگہ ہے آیت «وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 28 ] ہم نے اس کلمہ کو ان کی اولاد میں بھی باقی رکھا، بعض سلف نے «ویعقوب» بھی پڑھا تو بینہ پر عطف ہو گا اور مطلب یہ ہو گا کہ خلیل اللہ نے اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد میں یعقوب علیہ السلام کو جو اس وقت موجود تھے دین اسلام کی استقامت کی وصیت کی۔ قشیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”حضرت یعقوب، ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے بعد پیدا ہوئے تھے“، لیکن یہ مجرد دعویٰ ہے، جس پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے ہاں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ قرآن پاک کی آیت میں ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [ 11۔ ہود: 71 ] یعنی ہم نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اس کا نصب خفض کو ہٹا کر بھی پڑھا گیا ہے پس اگر یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں موجود نہ ہوں تو پھر ان کا نام لینے میں کوئی زبردست فائدہ باقی نہیں رہتا۔ سورۃ العنکبوت میں بھی ہے کہ «وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ» [ 29-العنكبوت: 27 ] ہم ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیہم السلام عطا فرمایا اور اس کی اولاد میں ہم نے نبوت و کتاب دی اور اسی آیت میں ہے ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب زائد عطا فرمایا۔ [21-الأنبياء:72] ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی تھے اگلی کتابوں میں بھی ہے کہ وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی مسجد پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد الحرام پوچھا۔ پھر فرمایا، مسجد بیت المقدس میں نے کہا دونوں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ فرمایا چالیس سال۔ [صحیح بخاری:3366] ابن حبان نے کہا ہے کہ ”حضرت ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام کی درمیانی مدت سے متعلق یہ بیان ہے“ حالانکہ یہ قول بالکل الٹ ہے۔ ان دونوں نبیوں کے درمیان تو ہزاروں سال کی مدت تھی بلکہ مطلب حدیث کا کچھ اور ہی ہے اور شاہ زمان سلیمان علیہ الصلوۃ الرحمن تو اس مسجد کے مجدد تھے، موجد نہ تھے۔ اسی طرح یعقوب علیہ السلام نے بھی وصیت کی تھی، جیسے عنقریب ذکر آئے گا۔ وصیت اس امر کی ہوتی ہے جب تک زندہ رہو مسلمان ہو کر رہو تاکہ موت بھی اسی پر آئے۔
موت اور ہمارے اعمال ٭٭
عموماً انسان زندگی میں جن اعمال پر رہتا ہے، اسی پر موت بھی آتی ہے اور جس پر مرتا ہے، اس پر اٹھے گا بھی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ بھلائی کے قصد کرنے والے کو بھلائی کی توفیق بھی دی جاتی ہے۔ بھلائی اس پر آسان بھی کر دی جاتی ہے اور اسے ثابت قدم بھی رکھا جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ انسان جنتیوں کے کام کرتے کرتے جنت میں ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے کہ اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں کا کام کر کے جہنمی بن جاتا ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] لیکن اس سے مطلب یہ ہے کہ یہ کام اچھے برے ظاہری ہوتے ہیں، حقیقی نہیں ہوتے۔ چنانچہ بعض روایات میں یہ لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:2898] قرآن کہتا ہے سخاوت، تقویٰ اور لا الہٰ الا اللہ کی تصدیق کرنے والے کو ہم آسانی کا راستہ آسان کر دیتے ہیں اور بخل و بےپرواہی اور بھلی بات کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ہم سختی کی راہ آسان کر دیتے ہیں۔ [92-الليل:5-10]
131۔ 1 یہ فضیلت و برگزیدگی انہیں اس لئے حاصل ہوئی کہ انہوں نے اطاعت و فرماں برداری کا بےمثال نمونہ پیش کیا۔
(آیت 131) {” اَسْلَمَ يُسْلِمُ “} کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دینا اور وہی کرنا جو وہ کہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے لیے اپنے مسلم ہونے کا اقرار کیا اور وجہ بھی ذکر فرمائی کہ رب العالمین ہونے کی وجہ سے یہ حق ہی اسی کا ہے۔
اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوبؑ اپنی اولاد کو کر گیا اس نے کہا تھا کہ: "میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا
احمد رضا خان بریلوی
اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان -
علامہ محمد حسین نجفی
اور ابراہیم (ع) نے اپنے بیٹوں کو اسی (ملت پر قائم رہنے) کی وصیت کی اور یعقوب (ع) نے بھی۔ اے میرے فرزند! بے شک اللہ نے تمہارے لئے ایک خاص دین (اسلام) منتخب کیا ہے سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم (حقیقی) مسلمان ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی۔ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، تو تم ہرگز فوت نہ ہونا مگر اس حال میں کہ تم فرماں بردار ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
توحید کے دعوے اور مشرکین کا ذکر ٭٭
ان آیتوں میں بھی مشرکین کی تردید ہے کہ جو اپنے آپ کو دین ابراہیمی پر بتاتے تھے حالانکہ کامل مشرک تھے جبکہ خلیل اللہ علیہ السلام تو موحدوں کے امام تھے۔ توحید کو شرک سے ممتاز کرنے والے تھے عمر بھر میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا بلکہ ہر مشرک سے اور ہر قسم کے شرک سے اور ہر غیر اللہ سے جو اللہ مانا جاتا ہو وہ دل سے نفرت کرتے تھے اور ان سب سے بیزار تھے۔ اسی بنا پر قوم سے الگ ہوئے وطن چھوڑا بلکہ باپ تک کی مخالفت کی پروا نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ آیت «قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6۔ الانعام: 79، 78 ] میں بیزار ہوں، اس چیز سے جسے تم شریک کرتے ہو میں نے تو یکسو ہو کر اپنی تمام تر توجہ اس پاک ذات کی طرف کر دی ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔ اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری ہوں تو اپنے خالق ہی کا گرویدہ ہوں، وہی مجھے راہ راست دکھائے گا۔ اور جگہ ہے آیت «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ حَلِيمٌ» [ 9۔ التوبہ: 114 ] ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لیے بھی صرف ایک وعدے کی بنا پر استغفار کی تھی لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے۔
ابراھیم علیہ السلام بڑے ہی رجوع کرنے والے اور بردبار تھے۔ اور جگہ ہے کہ ابراھیم علیہ السلام مخلص اور مطیع امت تھے۔ مشرک ہرگز نہ تھے، رب کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ رب کعبہ کے پسندیدہ تھے اور راہ راست پر لگے ہوئے تھے، دنیا کے بھلے لوگوں میں سے تھے اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں ہوں گے۔ [16-النحل:120-122] ان آیتوں کی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ”اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بے تدبیر اور گمراہ لوگ ہی ملت ابراہیمی کو ترک کرتے ہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے ہدایت کے لیے چن لیا تھا اور بچپن سے ہی توفیق حق دے رکھی تھی، خلیل جیسا معزز خطاب انہی کو دیا گیا۔ وہ آخرت میں بھی سعید بخت لوگوں میں ہیں۔ ان کے مسلک و ملت کو چھوڑ کر ضلالت و گمراہی میں پڑنے والے سے زیادہ بیوقوف اور ظالم اور کون ہو گا؟“ اس آیت میں یہودیوں کا بھی رد ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک بلکہ موحد مسلمان اور مخلص تھے ان سے دوستی رکھنے والے صرف وہی ہیں جو ان کے فرماں بردار ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایماندار اوور اللہ بھی مومنوں کا ولی ہے، جب کبھی اللہ فرماتا کہ یہ مان لو وہ جواب دیتے کہ اے رب العالمین میں نے مان لیا، اسی ملت و حدانیت کی وصیت ابراہیم علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بھی کی۔ ھا کی ضمیر کا مرجع یا تو ملت ہے یا کلمہ۔
ملت سے مراد اسلام اور کلمہ سے مراد آیت «قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [ البقرہ: 131 ] ہے۔ دیکھئے ان کے دل میں اسلام کی کس قدر محبت و عزت تھی کہ خود بھی اس پر مدت العمر عامل رہے، اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔ اور جگہ ہے آیت «وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 28 ] ہم نے اس کلمہ کو ان کی اولاد میں بھی باقی رکھا، بعض سلف نے «ویعقوب» بھی پڑھا تو بینہ پر عطف ہو گا اور مطلب یہ ہو گا کہ خلیل اللہ نے اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد میں یعقوب علیہ السلام کو جو اس وقت موجود تھے دین اسلام کی استقامت کی وصیت کی۔ قشیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”حضرت یعقوب، ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے بعد پیدا ہوئے تھے“، لیکن یہ مجرد دعویٰ ہے، جس پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے ہاں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ قرآن پاک کی آیت میں ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [ 11۔ ہود: 71 ] یعنی ہم نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اس کا نصب خفض کو ہٹا کر بھی پڑھا گیا ہے پس اگر یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں موجود نہ ہوں تو پھر ان کا نام لینے میں کوئی زبردست فائدہ باقی نہیں رہتا۔ سورۃ العنکبوت میں بھی ہے کہ «وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ» [ 29-العنكبوت: 27 ] ہم ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیہم السلام عطا فرمایا اور اس کی اولاد میں ہم نے نبوت و کتاب دی اور اسی آیت میں ہے ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب زائد عطا فرمایا۔ [21-الأنبياء:72] ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی تھے اگلی کتابوں میں بھی ہے کہ وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی مسجد پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد الحرام پوچھا۔ پھر فرمایا، مسجد بیت المقدس میں نے کہا دونوں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ فرمایا چالیس سال۔ [صحیح بخاری:3366] ابن حبان نے کہا ہے کہ ”حضرت ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام کی درمیانی مدت سے متعلق یہ بیان ہے“ حالانکہ یہ قول بالکل الٹ ہے۔ ان دونوں نبیوں کے درمیان تو ہزاروں سال کی مدت تھی بلکہ مطلب حدیث کا کچھ اور ہی ہے اور شاہ زمان سلیمان علیہ الصلوۃ الرحمن تو اس مسجد کے مجدد تھے، موجد نہ تھے۔ اسی طرح یعقوب علیہ السلام نے بھی وصیت کی تھی، جیسے عنقریب ذکر آئے گا۔ وصیت اس امر کی ہوتی ہے جب تک زندہ رہو مسلمان ہو کر رہو تاکہ موت بھی اسی پر آئے۔
موت اور ہمارے اعمال ٭٭
عموماً انسان زندگی میں جن اعمال پر رہتا ہے، اسی پر موت بھی آتی ہے اور جس پر مرتا ہے، اس پر اٹھے گا بھی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ بھلائی کے قصد کرنے والے کو بھلائی کی توفیق بھی دی جاتی ہے۔ بھلائی اس پر آسان بھی کر دی جاتی ہے اور اسے ثابت قدم بھی رکھا جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ انسان جنتیوں کے کام کرتے کرتے جنت میں ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے کہ اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں کا کام کر کے جہنمی بن جاتا ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] لیکن اس سے مطلب یہ ہے کہ یہ کام اچھے برے ظاہری ہوتے ہیں، حقیقی نہیں ہوتے۔ چنانچہ بعض روایات میں یہ لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:2898] قرآن کہتا ہے سخاوت، تقویٰ اور لا الہٰ الا اللہ کی تصدیق کرنے والے کو ہم آسانی کا راستہ آسان کر دیتے ہیں اور بخل و بےپرواہی اور بھلی بات کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ہم سختی کی راہ آسان کر دیتے ہیں۔ [92-الليل:5-10]
132۔ 1 حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) نے وصیت اپنی اولاد کو بھی کی جو یہودیت نہیں اسلام ہی ہے، جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت موجود ہے اور قرآن کریم میں دیگر متعدد مقامات پر بھی اس کی تفصیل آئے گی جیسے (ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بالْكِتٰبِ كُلِّھٖ ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 3:119 اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔
(آیت 132) {”الدِّيْنَ“} سے مراد یہاں اسلام ہے، کیونکہ پچھلی آیت میں ابراہیم علیہ السلام کے اسی دین کو اختیار کرنے کا ذکر ہے۔ مسلم ہونے کی حالت میں فوت ہونا اسی وقت ممکن ہے جب بندہ ہر وقت مسلم یعنی تابع فرمان رہے، کبھی کوتاہی ہو تو فوراً توبہ کرے، کیونکہ موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ انبیاء علیھم السلام کو اپنے اوراپنی اولاد سے متعلق آخری وقت مسلم ہونے کی بہت فکر رہتی تھی، کیونکہ اعمال کا دارو مدار خاتمہ پر ہے، حدیث ہے: [ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيْمِ ] [ بخاری، القدر، باب العمل بالخواتیم: ۶۶۰۷ ] یوسف علیہ السلام کی دعا ہے: «{ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ }» [ یوسف: ۱۰۱] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اگرچہ آخر وقت مسلمان ہونا بندے کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جو آدمی دلی لگاؤ کے ساتھ نیک و بد جو بھی راستہ اختیار کرتا ہے تو اور اس پر کاربند رہنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اسی کی توفیق دے دی جاتی ہے۔ دیکھیے سورۂ لیل (۵ تا ۱۰)۔
پھر کیا تم اس وقت موجود تھے، جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟اس نے مرتے وقت اپنے بچوں سے پوچھا: "بچو! میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے؟" ان سب نے جواب دیا: "ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا ہے اور ہم اُسی کے مسلم ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اوﻻد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابرہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ اور اسحاق ﴿علیہ السلام﴾ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ تم میں کے خود موجود تھے جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے یہود) کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب (ع) کی موت کا وقت آیا؟ اس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا (پوچھا) کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے اور آپ کے آباء (و اجداد) ابراہیم (ع)، اسماعیل (ع) اور اسحاق (ع)کے واحد و یکتا معبود کی عبادت کریں گے۔ اور ہم اسی کے مسلمان (فرمانبردار) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا تم موجود تھے جب یعقوب کو موت پیش آئی، جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے بعد کس چیز کی عبادت کرو گے؟ انھوںنے کہا ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے، جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے لیے فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازلی اور ابدی مستحق عبادت اللہ وحدہ لا شریک ٭٭
مشرکین عرب پر جو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے اور کفار بنی اسرائیل پر جو یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے دلیل لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یعقوب نے تو اپنی اولاد کو اپنے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی وصیت کی تھی ان سے پہلے تو پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ سب نے جواب دیا کہ آپ کے اور آپ کے بزرگوں کے معبود بر حق کی۔ یعقوب علیہ السلام اسحٰق علیہ السلام کے لڑکے اور اسحٰق ابراہیم علیہ السلام کے۔ اسماعیل علیہ السلام کا نام باپ دادوں کے ذکر میں بطور تغلیب کے آ گیا ہے کیونکہ آپ چچا ہوتے ہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ عرب میں چچا کو بھی باپ کہہ دیتے ہیں۔ [تفسیر قرطبی:138/2] اس آیت سے استدلال کر کے دادا کو بھی باپ کے حکم میں رکھ کر دادا کی موجودگی میں بہن بھائی کو ورثہ سے محروم کیا ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما کا فیصلہ یہی ہے جیسے کہ صحیح بخاری شریک میں موجود ہے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک مشہور روایت میں امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ بھائیوں بہنوں کو بھی وارث قرار دیتے ہیں۔ سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، بصریٰ طاؤس اور عطا رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور بہت سے سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ قاضی ابو یوسف اور محمد بن حسن بھی یہی کہتے ہیں اور یہ دونوں امام ابوحنیفہ کے شاگرد رشید ہیں اس مسئلہ کی صفائی کا یہ مقام نہیں اور نہ تفسیر کا یہ موضوع ہے۔
ان سب بچوں نے اقرار کیا کہ ہم ایک ہی معبود کی عبادت کریں گے یعنی اس اللہ کی الوہیت میں کسی کو شریک نہ کریں گے اور ہم اس کی اطاعت گزاری، فرمانبرداری اور خشوع و خضوع میں مشغول رہا کریں گے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ» [ 3- آل عمران: 83 ] زمین و آسمان کی ہر چیز خوشی اور ناخوشی سے اس کی مطیع ہے، اس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام رہا ہے اگرچہ احکام میں اختلاف رہا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [ 21۔ الانبیآء: 25 ] یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت سی ہیں اور احادیث میں بھی یہ مضمون بکثرت وارد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہم علاتی بھائی ہیں، ہمارا دین ایک ہے“ [صحیح بخاری:2443] پھر فرماتا ہے یہ امت جو گزر چکی تمہیں ان کی طرف نسبت نفع نہ دے گی ہاں اگر عمل ہوں تو اور بات ہے، ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم ان کے افعال کے بارے میں نہیں پوچھے جاؤ گے۔ حدیث شریف میں ہے جس کا عمل اچھا نہ ہو گا اس کا نسب اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ [صحیح مسلم:2699]
133۔ 1 یہود کو زجرو توبیخ کی جا رہی ہے تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ ابراہیم، یعقوب ؑ نے اپنی اولاد کو یہودیت پر قائم رہنے کی وصیت فرمائی تھی، تو کیا تم وصیت کے وقت موجود تھے؟ اگر وہ یہ کہیں کہ موجود تھے تو یہ جھوٹ اور بہتان ہوا اور اگر کہیں کہ حاضر نہیں تھے تو ان کا مزکورہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا کیونکہ انہوں نے جو وصیت کی وہ تو اسلام کی تھی نہ کہ یہودیت کی، یا عسائیت کی۔ تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا اگرچہ شریعت اور طریقہ کار میں کچھ اختلاف رہا ہے، اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا انبیاء کی جماعت اولاد علامات ہیں، ان کی مائیں مختلف (اور باپ ایک) ہے اور ان کا دین ایک ہی ہے۔
(آیت 133) ان آیات میں بھی یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ مکہ کی تردید ہے جو اپنے آپ کو ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ان کا دین بھی یہودیت، نصرانیت یا بت پرستی تھا۔ قرآن مجید نے بتایا کہ تم ان بزرگوں پر بہتان باندھ رہے ہو، ان کا دین بھی یہی اسلام تھا جس میں توحید اور اخلاص کی تعلیم دی گئی ہے۔
وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر گئے جو کچھ انہوں نے کمایا، وہ اُن کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے، وہ تمہارے لیے ہے تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
یہ ایک امت ہے کہ گزرچکی ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی-
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم کماؤگے اور وہ جو کچھ کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ازلی اور ابدی مستحق عبادت اللہ وحدہ لا شریک ٭٭
مشرکین عرب پر جو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے اور کفار بنی اسرائیل پر جو یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے دلیل لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یعقوب نے تو اپنی اولاد کو اپنے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی وصیت کی تھی ان سے پہلے تو پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ سب نے جواب دیا کہ آپ کے اور آپ کے بزرگوں کے معبود بر حق کی۔ یعقوب علیہ السلام اسحٰق علیہ السلام کے لڑکے اور اسحٰق ابراہیم علیہ السلام کے۔ اسماعیل علیہ السلام کا نام باپ دادوں کے ذکر میں بطور تغلیب کے آ گیا ہے کیونکہ آپ چچا ہوتے ہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ عرب میں چچا کو بھی باپ کہہ دیتے ہیں۔ [تفسیر قرطبی:138/2] اس آیت سے استدلال کر کے دادا کو بھی باپ کے حکم میں رکھ کر دادا کی موجودگی میں بہن بھائی کو ورثہ سے محروم کیا ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما کا فیصلہ یہی ہے جیسے کہ صحیح بخاری شریک میں موجود ہے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک مشہور روایت میں امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ بھائیوں بہنوں کو بھی وارث قرار دیتے ہیں۔ سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، بصریٰ طاؤس اور عطا رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور بہت سے سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ قاضی ابو یوسف اور محمد بن حسن بھی یہی کہتے ہیں اور یہ دونوں امام ابوحنیفہ کے شاگرد رشید ہیں اس مسئلہ کی صفائی کا یہ مقام نہیں اور نہ تفسیر کا یہ موضوع ہے۔
ان سب بچوں نے اقرار کیا کہ ہم ایک ہی معبود کی عبادت کریں گے یعنی اس اللہ کی الوہیت میں کسی کو شریک نہ کریں گے اور ہم اس کی اطاعت گزاری، فرمانبرداری اور خشوع و خضوع میں مشغول رہا کریں گے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ» [ 3- آل عمران: 83 ] زمین و آسمان کی ہر چیز خوشی اور ناخوشی سے اس کی مطیع ہے، اس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام رہا ہے اگرچہ احکام میں اختلاف رہا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [ 21۔ الانبیآء: 25 ] یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت سی ہیں اور احادیث میں بھی یہ مضمون بکثرت وارد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہم علاتی بھائی ہیں، ہمارا دین ایک ہے“ [صحیح بخاری:2443] پھر فرماتا ہے یہ امت جو گزر چکی تمہیں ان کی طرف نسبت نفع نہ دے گی ہاں اگر عمل ہوں تو اور بات ہے، ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم ان کے افعال کے بارے میں نہیں پوچھے جاؤ گے۔ حدیث شریف میں ہے جس کا عمل اچھا نہ ہو گا اس کا نسب اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ [صحیح مسلم:2699]
134۔ 1 یہ بھی یہود کو کہا جا رہا ہے کہ تمہارے آباواجداد جو انبیاء و صالحین ہو گزرے ہیں، ان کی طرف نسبت کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا ہے، اس کا صلہ انہیں ہی ملے گا، تمہیں نہیں، تمہیں تو وہی کچھ ملے گا جو تم کماؤ گے۔ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہی ہے جو پچھلے صالحین کا بھی سرمایا تھا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی نجات کا بھی واحد ذریعہ ہے۔
(آیت 134) یہود کو تنبیہ ہے کہ وہ انبیاء اور صلحاء کی طرف اپنی نسبت پر مغرور نہ ہوں، یہ نسبت تمھارے کچھ کام نہ آ سکے گی، بلکہ نجات کا دارو مدار انسان کے اپنے اعمال پر ہے، ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے اور تمھارے اعمال تمھارے ساتھ ہوں گے۔
یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے عیسائی کہتے ہیں: عیسائی ہو، تو ہدایت ملے گی اِن سے کہو: "نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیمؑ کا طریقہ اور ابراہیمؑ مشر کو ں میں سے نہ تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ تم کہو بلکہ صحیح راه پر ملت ابراہیمی والے ہیں، اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور کتابی بولے یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (یہود و نصاریٰ) کہتے ہیں کہ یہودی ہو جاؤ یا نصرانی تاکہ ہدایت پا جاؤ۔ (اے رسول(ص)) کہہ دیجئے کہ (نہیں) بلکہ ہم ابراہیم (ع) کی ملت پر ہیں جو نرے کھرے موحد تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا یہودی ہو جائو، یا نصرانی ہدایت پا جائو گے، کہہ دے بلکہ (ہم) ابراہیم کی ملت (کی پیروی کریں گے) جو ایک اللہ کا ہونے والا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ملتِ ابراھیمی اللہ کے راستے پر ہیں ٭٭
عبداللہ بن صوریا اعور نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ہدایت پر ہم ہیں تم ہماری مانو تو تمہیں بھی ہدایت ملے گی۔ نصرانیوں نے بھی یہی کہا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:396/1] کہ ہم تو ابراہیم حنیف علیہ السلام کے متبع ہیں جو استقامت والے، اخلاص والے، حج والے، بیت اللہ کی طرف منہ کرنے والے، استطاعت کے وقت حج کو فرض جاننے والے، اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے، تمام رسولوں پر ایمان لانے والے لا الہٰ الا اللہ کی شہادت دینے والے، ماں بیٹی خالہ پھوپھی کو حرام جاننے والے اور تمام حرام کاریوں سے بچنے والے تھے۔ حنیف کے یہ سب معنی مختلف حضرات نے بیان کئے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:397/1]
135۔ 1 یہودی، مسلمانوں کو یہودیت کی اور عیسائی، عیسایت کی دعوت دیتے اور کہتے کہ ہدایت اسی میں ہے۔ اللہ تعلیٰ نے فرمایا، ان سے کہو ہدایت ملت ابراہیم کی پیروی میں ہے جو حنیف تھا (اللہ واحد کا پرستار اور سب سے کٹ کر اسی کی عبادت کرنے والا) وہ مشرک نہیں تھا۔ جب کہ یہودیت اور عیسائیت دونوں میں شرک کی امیزش موجود ہے۔ اور اب بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی شرک کے مظاہر عام ہیں اسلام کی تعلیمات اگرچہ بحمداللہ قرآن و حدیث میں محفوظ ہیں جن میں توحید کا تصور بالکل بےغبار اور نہایت واضح ہے جس سے یہودیت اور ثنویت (دو خداؤں کے قائل مذاہب) سے اسلام کا امتیاز نمایاں ہے۔ لیکن مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے اعمال عقائد میں جو مشرکانہ اقدار و تصورات در آئے ہیں اس نے اسلام کے امتیاز کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کردیا ہے۔ کیونکہ غیر مذاہب والوں کی دسترس براہ راست قرآن و حدیث تک تو نہیں ہوسکتی، وہ تو مسلمانوں کے عمل کو دیکھ کر ہی یہ اندازہ کریں گے کہ اسلام میں اور دیگر مشرکانہ تصورات سے آلودہ مذاہب کے مابین تو کوئی امتیاز ہی نظر نہیں آتا۔ اگلی آیت میں ایمان کا معیار بتلایا جارہا ہے۔
(آیت 135) ➊ اہلِ کتاب مسلمانوں کو یہودیت اور نصرانیت کی دعوت دیتے اور ہدایت کو اپنے دین میں منحصر مانتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن صوریا (یہودی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، ہدایت صرف وہ ہے جس پر ہم ہیں، اس لیے آپ ہماری پیروی کریں تو ہدایت پا جائیں گے اور نصرانیوں نے بھی ایسے ہی کہا، اس پر یہ آیت اتری۔ (ابن کثیر بسند حسن) یعنی آپ کہہ دیں ہم تو ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کریں گے، جو حنیف اور مسلم تھے، یعنی تمام گروہوں اور آباء و اجداد کے طریقوں سے ہٹ کر ایک اللہ کی طرف ہو کر پوری طرح اس کے تابع فرمان تھے اور مشرک نہ تھے۔ ان کا دین حق پر ہونا تم بھی مانتے ہو۔ تمھارا حال یہ ہے کہ تم ایک طرف شرک میں گرفتار ہو کہ عزیر اور مسیح علیھما السلام کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے مانتے ہو، کبھی تین خدا مانتے ہو، کبھی صلیب کی پوجا کرتے ہو۔ دوسری طرف تم وحی الٰہی کی پیروی کے بجائے احبار و رہبان کی تقلید میں گرفتار ہو کر فرقوں میں بٹے ہوئے ہو۔ تم ہدایت پر ہونے کا دعویٰ کس منہ سے کرتے ہو؟ افسوس! اب مسلمانوں کی اکثریت کا بھی یہی حال ہے کہ جس طرح یہود و نصاریٰ اور مشرکین نے ملت حنیفی کو ترک کرکے چند رسوم و بدعات، خرافات اور شرکیہ اعمال کی پابندی کو دینِ ہدایت سمجھ رکھا تھا، اسی طرح انھوں نے بھی قرآن و سنت کو ترک کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں بعد آنے والے بزرگوں کی تقلید کو، جو نبی بھی نہیں تھے، واجب قرار دیا۔ اللہ کے بجائے غیر اللہ سے مانگنے کو، حج کے بجائے بزرگوں کے مقبروں پر جانے کو اور نماز، روزہ، زکوٰۃ ترک کرکے خود ساختہ اوراد و وظائف اور چلہ کشی کو اللہ کے قرب کا ذریعہ قرار دیا، اگر کوئی توحید اور قرآن وسنت کی دعوت دے تو اسے بے دین اور گمراہ قرار دیا۔ ➋ اسلام دراصل عقائد اور اصول کے مجموعے کا نام ہے، یعنی توحید کا عقیدہ اور وحی الٰہی کا اتباع۔ دین اور ملت سے بھی یہی مراد ہے۔ تمام انبیاء ایک ہی دین و ملت یعنی اسلام کے پیروکار تھے، اگر کچھ اختلاف ہے تو بعض احکام میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ اَلْاَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ، اُمَّهَاتُهُمْ شَتَّی وَ دِيْنُهُمْ وَاحِدٌ ] ”تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں (یعنی شریعتیں) مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی …: ۳۴۴۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] اس لحاظ سے دین محمدی بھی ملت ابراہیم ہی ہے، یہودیت اور نصرانیت ملت ابراہیم سے خارج ہیں، کیونکہ وہ توحید الٰہی کے بجائے شرک میں اور وحی الٰہی کی پیروی کے بجائے تقلید یعنی احبار و رہبان کی پیروی میں گرفتار ہو گئے اور تورات و انجیل پر عمل چھوڑ بیٹھے، اگر وہ واقعی مسلم ہوتے تو تورات اور انجیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات موجود ہونے کی وجہ سے آپ پر ایمان لے آتے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۶۴ تا ۶۸)۔
مسلمانو! کہو کہ: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو اُن کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلم ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان ﻻئے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں-
علامہ محمد حسین نجفی
(مسلمانو) کہو ہم تو ایمان لائے ہیں اللہ پر۔ اور اس (قرآن) پر جو ہماری طرف نازل ہوا ہے اور اس پر جو ابراہیم (ع)، اسماعیل (ع)، اسحاق (ع)، یعقوب (ع) اور اسباط (ع) پر اتارا گیا اور ہم ان (سب کے برحق ہونے میں اور ان پر ایمان لانے) میں کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اس (اللہ) کے مسلمان (فرمانبردار) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف اتارا گیا اور جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد کی طرف اتارا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو تمام نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب! ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ جو کچھ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا اس پر تو وہ تفصیل وار ایمان لائیں اور جو آپ سے پہلے انبیاء پر اترا، اس پر بھی اجمالاً ایمان لائیں۔ ان اگلے انبیاء کرام میں سے بعض کے نام بھی لے دیے اور باقی نبیوں کا مجمل ذکر کر دیا۔ ساتھ ہی فرمایا کہ یہ کسی نبی کے درمیان تفریق نہ کریں کہ ایک کو مانیں اور دوسرے سے انکار کر جائیں جو عادت اوروں کی تھی کہ وہ انبیاء میں تفریق کرتے تھے، کسی کو مانتے تھے، کسی سے انکاری تھے، یہودی عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تینوں کو نہیں مانتے تھے۔ ان سب کو فتویٰ ملا کہ آیت «اُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا» [ 4۔ النسآء: 151 ] یہ لوگ بالیقین کافر ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اہل کتاب توراۃ کو عبرانی میں پڑھتے تھے اور عربی میں تفسیر کر کے اہل اسلام کو سناتے تھے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی سچائی یا تکذیب نہ کرو۔ کہہ دیا کرو۔ [صحیح بخاری:4485] اللہ پر اور اس کی نازل ہوئی کتابوں پر ہمارا ایمان ہے۔ [صحیح مسلم:727] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی دو سنتوں میں پہلی رکعت میں یہ آیت «اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا» [ 2۔ البقرہ: 136 ] پوری آیت اور دوسری رکعت میں آیت «اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَاشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ» [ 3۔ آل عمران: 52 ] پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:727]
اسباط یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کو کہتے ہیں، جو بارہ تھے، جن میں سے ہر ایک کی نسل میں بہت سے انسان ہوئے، بنی اسماعیل کو قبائل کہتے تھے، اور بنی اسرائیل کو اسباط کہتے تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:399/1] زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ یہ یعقوب کے پوتے تھے جو ان کے بارہ لڑکوں کی اولاد تھی۔ بخاری میں ہے کہ مراد قبائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان میں بھی نبی ہوئے تھے جن پر وحی نازل ہوئی تھی۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا آیت «إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ» [ 5۔ المائدہ: 20 ] اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء اور بادشاہ بنائے۔ اور جگہ ہے آیت «وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا» [ 7۔ الاعراف: 160 ] ہم نے ان کے بارہ گروہ کر دئے۔ سبط کہتے ہیں درخت کو یعنی یہ مثل درخت کے ہیں، جس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کل انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل میں سے ہی ہوئے ہیں سوائے دس کے نوح، ہود، صالح، شعیب، ابراہیم لوط، اسحاق، یعقوب، اسماعیل، محمد علیہم الصلوۃ والسلام۔ سبط کہتے ہیں اس جماعت اور قبیلہ کو جن کا مورث اعلیٰ اوپر جا کر ایک ہو۔ [تفسیر قرطبی:141/2] ابن ابی خاتم میں ہے ہمیں توراۃ و انجیل پر ایمان رکھنا ضروری ہے لیکن عمل کے لیے صرف قرآن و حدیث ہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:400/1]
136۔ 1 یعنی ایمان یہ ہے کہ تمام انبیاء علیھم السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بھی ملا یا نازل ہوا سب پر ایمان لایا جائے، کسی بھی کتاب یا رسول کا انکار نہ کیا جائے۔ کسی ایک کتاب یا نبی کو ماننا، کسی کو نہ ماننا، یہ انبیاء کے درمیان تفریق ہے جس کو جائز نہیں رکھا۔ البتہ عمل اب صرف قرآن کریم کے ہی احکام پر ہوگا۔ پچھلی کتابوں میں لکھی ہوئی باتوں پر نہیں کیونکہ ایک تو وہ اصلی حالت میں نہیں رہیں، تحریف شدہ ہیں، دوسرے قرآن نے ان سب کو منسوخ کردیا ہے
(آیت 136) ➊ {وَ الْاَسْبَاطِ: } یہ {”سِبْطٌ “} کی جمع ہے، جس کا معنی آسانی سے پھیلنا ہے۔ اولاد کی اولاد کو بھی اسی پھیلاؤ کی وجہ سے {”سِبْطٌ“} کہتے ہیں۔ (مفردات) یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے، ان کی اولاد کے بارہ قبائل { ”الْاَسْبَاطِ“ } کہلاتے ہیں۔ { ”الْاَسْبَاطِ“ } پر الف لام کی وجہ سے ”اس کی اولاد“ اور {”وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ“} میں { ”لَهٗ“ } پہلے آنے کی وجہ سے ”ہم اسی کے فرماں بردار ہیں “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ➋ اس آیت میں مسلمانوں کو اصل ہدایت اور ایمان کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی قرآن پاک سے پہلے جتنی آسمانی کتابیں اور جتنے انبیاء و رسل آئے، جن میں سے بعض کے نام قرآن مجید میں آئے ہیں اور بعض کے نہیں آئے، سب پر مجملاً ایمان لایا جائے کہ وہ سب حق ہیں۔ ان کے درمیان فرق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو مان لیا کسی کو نہ مانا، جیسے یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور نصرانیوں نے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ البتہ تفصیلی ایمان صرف قرآن پر ضروری ہے، یعنی اس کے ہر حکم کو ماننا اور اس پر عمل کرنا، کیونکہ (1) قرآن پاک آنے سے پہلی تمام کتابیں منسوخ ہو گئیں۔ (2) پہلے تمام پیغمبر خصوصاً اپنی قوم کی طرف آتے تھے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے۔ دیکھیے سورۂ سبا (۲۸)۔ (3) پھر پہلی کوئی آسمانی کتاب محفوظ نہیں رہی، بلکہ ان میں تحریف ہو گئی، جب کہ قرآن مجید ہر طرح سے محفوظ ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہلِ کتاب تورات عبرانی میں پڑھتے، پھر اہلِ اسلام کے لیے عربی میں اس کی تفسیر کرتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ کتاب کو نہ سچا کہو اور نہ انھیں جھوٹا کہو، بلکہ یوں کہو: «{ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْنَا }» [ البقرۃ: ۱۳۶ ] [ بخاری، التفسیر، باب: «{قولوا اٰمنا بالله … }» : ۴۴۸۵ ]
پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں، جس طرح تم لائے ہو، تو ہدایت پر ہیں، اور اگراس سے منہ پھیریں، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں لہٰذا اطمینان رکھو کہ اُن کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر وه تم جیسا ایمان ﻻئیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -
علامہ محمد حسین نجفی
تو اگر یہ لوگ (اہل کتاب) اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم لائے ہو تو ہدایت پا گئے اور اگر روگردانی کریں تو وہ بڑی مخالفت اور ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں سو ان کے مقابلہ میں اللہ تمہارے لئے کافی ہے اور وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقینا وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھر جائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں، پس عنقریب اللہ تجھے ان سے کافی ہو جائے گا اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شرط نجات ٭٭
یعنی اپنے ایماندار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ 2۔ البقرہ: 137 ] کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا [ رضی اللہ عنہما ] ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] جسے «فطرۃ اللہ» میں۔ [30-الروم:3] مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے «وَعْدَ اللَّـهِ ۖ» [30-الروم:6] ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:403/1] “یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔
137۔ 1 صحابہ کرام بھی اسی مزکورہ طریقے پر ایمان لائے تھے، اس لئے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں جس طرح سے صحابہ کرام! تم ایمان لائے ہو تو پھر یقینا وہ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔ اگر وہ ضد اور اختلاف میں منہ موڑیں گے، تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ان کی سازشیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کی کفایت کرنے والا ہے۔ چناچہ چند سالوں میں ہی یہ وعدہ پورا ہوا اور بنو قینقاع اور بنو نضیر کو جلا وطن کردیا گیا اور بنو قریظہ قتل کئے گئے۔ تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت عثمان کی شہادت کے وقت ایک مصحف عثمان ان کی اپنی گود میں تھا اور اس آیت کے جملہ (فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ) 2:137 پر ان کے خون کے چھینٹے گرے بلکہ دھار بھی۔ کہا جاتا ہے یہ مصحف آج بھی ترکی میں موجود ہے۔
(آیت 137) ➊ {شِقَاقٍ:} یہ {”شِقٌّ“} میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، یعنی بعض کا ایک شق میں اور بعض کا دوسری شق میں ہو کر مقابلے میں آ جانا۔ ➋ یعنی یہ لوگ ان چیزوں پر ایمان لائیں جن پر تم ایمان لائے ہو، جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، تو واقعی وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ منہ موڑیں تو محض مخالفت اور ضد کی وجہ سے ایسا کریں گے۔ ➌ اس وعدے کے مطابق واقعی اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے کافی ہو گیا، بنو نضیر اور بنو قینقاع مدینہ سے نکالے گئے، بنو قریظہ قتل ہوئے اور بالآخر تمام یہود و نصاریٰ پورے جزیرۂ عرب سے جلا وطن کر دیے گئے۔
کہو: "اللہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کیا ہے اور اللہ کے رنگ (دین اسلام) سے بہتر کس کا رنگ ہے اور ہم اسی کے عبادت گزار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کا رنگ (اختیار کرو) اور رنگ میں اللہ سے بہتر کون ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شرط نجات ٭٭
یعنی اپنے ایماندار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ 2۔ البقرہ: 137 ] کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا [ رضی اللہ عنہما ] ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] جسے «فطرۃ اللہ» میں۔ [30-الروم:3] مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے «وَعْدَ اللَّـهِ ۖ» [30-الروم:6] ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:403/1] “یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔
138۔ 1 عیسائیوں نے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا ہے جو ہر عیسائی بچے کو بھی اور ہر اس شخص کو بھی دیا جاتا ہے جسکو عیسائی بنانا مقصود ہوتا ہے اس رسم کا نام ان کے ہاں پبتسمہ ہے۔ یہ ان کے نزدیک بہت ضروری ہے، اس کے بغیر وہ کسی کو پاک تصور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور کہا اصل رنگ تو اللہ کا رنگ ہے۔ اس سے بہتر کوئی رنگ نہیں اور اللہ کے رنگ سے مراد وہ دین فطرت یعنی دین اسلام ہے۔ جس کی طرف ہر نبی نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو دعوت دی۔ یعنی دعوت توحید۔
(آیت 138) ➊ {” صِبْغَةَ اللّٰهِ “} اس پر نصب فعل امر {” اِلْزَمُوْا “} کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے، یعنی اللہ کا رنگ لازم پکڑو اور مضارع {” نَلْتَزِمُ “} کے ساتھ بھی، یعنی ہم اللہ کا رنگ لازم پکڑتے ہیں۔ ➋ اس آیت میں ”اللہ کے رنگ“ سے مراد دین اسلام یا وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کو {” صِبْغَةَ اللّٰهِ “} کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نصاریٰ نے نصرانیت کے لیے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا تھا، جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہوتا تو اس کو اس پانی سے غسل دیتے اور کہتے کہ یہ اب پاک اور صحیح معنوں میں نصرانی ہوا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں معمودیہ یا بپتسما دینا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ سب سے بہتر رنگ ”اللہ کا رنگ“ یعنی دین اسلام ہے، جسے نوح علیہ السلام سے لے کر تمام انبیاء علیھم السلام لے کر مبعوث ہوئے ہیں، تمھیں چاہیے کہ اس کی پابندی کرو۔
اے نبیؐ! اِن سے کہو: "کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو؟حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجیئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں-
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کہہ دیجئے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ وہی ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور ہم تو اخلاص کے ساتھ اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا رب اور تمھارا رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال اور ہم اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے اعمال پر بیزاری ٭٭
مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہا ہے کہ“ تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں“ اور جگہ فرمایا آیت «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» الخ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے [ نیک ] کام سے اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔“ اور جگہ ارشاد ہے آیت «حَاجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3۔ آل عمران: 20 ] ”اگر یہ تجھ سے جھگڑیں تو تو کہہ دے میں نے اور میرے ماننے والوں نے اپنے منہ اللہ کی طرف کر دئیے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا آیت «وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ» [ 6۔ الانعام: 80 ] کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے اختلاف کرتے ہو؟ اور جگہ ہے؟ آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ» [ 2۔ البقرہ: 258 ] تو نے اسے بھی دیکھا جو ابراہیم [ علیہ السلام ] سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑنے لگا۔
پس یہاں ان جھگڑالو لوگوں سے کہا گیا کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہم تم سے الگ۔ ہم عبادت اور توجہ میں اخلاص اور یکسوئی کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کے دعوے کی تردید ہو رہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی، نہ نصرانی، تم اے یہودیو اور اے نصرانیو کیوں یہ باتیں بنا رہے ہو؟ کیا تمہارا علم اللہ سے بھی بڑھ گیا ہے اللہ نے تو صاف فرما دیا آیت «مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ 3۔ آل عمران: 67 ] ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک، بلکہ خالص مسلمان تھے، ان کا حق کی شہادت کو چھپا کر بڑا ظلم کرنا یہ تھا کہ اللہ کی کتاب جو اس کے پاس آئی اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب علیہم السلام وغیرہ یہودیت اور نصرانیت سے الگ تھے لیکن پھر نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو بھی چھپا دیا۔
139۔ 1 کیا تم ہم سے اس بارے میں جھگڑتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لئے اخلاص و نیاز مندی کے جذبات رکھتے ہیں اور اسی کے احکامات کی پیروی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ ہمارا ہی نہیں تمہارا بھی ہے اور تمہیں بھی اس کے ساتھ یہی معاملہ کرنا چاہیے جو ہم کرتے ہیں اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہارا عمل تمہارے ساتھ، ہمارا عمل ہمارے ساتھ۔ ہم تو اسی کے لئے خاص عمل کا اہتمام کرنے والے ہیں۔
(آیت 139) یہود مسلمانوں سے جھگڑتے کہ تمام انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں، پھر یہ آخری نبی عرب سے کیسے مبعوث ہو گئے؟ ہمارا دین سب سے بہتر اور تمام انبیاء کا دین ہے، تو اس آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے کہ ہمارا تمھارا سب کا رب ایک ہے اور ہم عبادت میں مخلص بھی ہیں، پھر تمھارا یہ کہنا کہ ہم بہتر ہیں، یہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟
یا پھر کیا تما را کہنا یہ ہے کہ ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو: "تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اُسے چھپائے؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کہ کیا تم زیاده جانتے ہو، یا اللہ تعالیٰ؟ اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیاده ﻇالم اور کون ہے؟ اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں-
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم (ع)، اسماعیل (ع)، اسحاق (ع)، یعقوب (ع) اور اسباط (ع) یہودی تھے؟ آپ کہیئے کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی کوئی گواہی ہو جسے وہ چھپائے اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی تھے یا عیسائی؟ کہہ دے کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ؟ اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے وہ شہادت چھپالی جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے تھی اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کے اعمال پر بیزاری ٭٭
مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہا ہے کہ“ تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں“ اور جگہ فرمایا آیت «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» الخ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے [ نیک ] کام سے اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔“ اور جگہ ارشاد ہے آیت «حَاجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3۔ آل عمران: 20 ] ”اگر یہ تجھ سے جھگڑیں تو تو کہہ دے میں نے اور میرے ماننے والوں نے اپنے منہ اللہ کی طرف کر دئیے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا آیت «وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ» [ 6۔ الانعام: 80 ] کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے اختلاف کرتے ہو؟ اور جگہ ہے؟ آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ» [ 2۔ البقرہ: 258 ] تو نے اسے بھی دیکھا جو ابراہیم [ علیہ السلام ] سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑنے لگا۔
پس یہاں ان جھگڑالو لوگوں سے کہا گیا کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہم تم سے الگ۔ ہم عبادت اور توجہ میں اخلاص اور یکسوئی کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کے دعوے کی تردید ہو رہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی، نہ نصرانی، تم اے یہودیو اور اے نصرانیو کیوں یہ باتیں بنا رہے ہو؟ کیا تمہارا علم اللہ سے بھی بڑھ گیا ہے اللہ نے تو صاف فرما دیا آیت «مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ 3۔ آل عمران: 67 ] ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک، بلکہ خالص مسلمان تھے، ان کا حق کی شہادت کو چھپا کر بڑا ظلم کرنا یہ تھا کہ اللہ کی کتاب جو اس کے پاس آئی اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب علیہم السلام وغیرہ یہودیت اور نصرانیت سے الگ تھے لیکن پھر نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو بھی چھپا دیا۔
140۔ 1 تم کہتے ہو کہ یہ اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھی، جب کہ اللہ تعالیٰ اس کی نفی فرماتا ہے۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ زیادہ علم اللہ کو ہے یا تمہیں۔ 140۔ 2 تمہیں معلوم ہے کہ یہ انبیاء یہودی یا عیسائی نہیں تھے، اسی طرح تمہاری کتابوں میں آنحضرت کی نشانیاں بھی موجود ہیں، لیکن تم ان شہادتوں کو لوگوں سے چھپا کر ایک بڑے ظلم کا ارتکاب کر رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے خفیہ نہیں۔
(آیت 140) یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق موسیٰ علیہ السلام کے بہت بعد اور نصرانیت اپنے مخصوص نظریات و عقائد کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کے بہت بعد وجود میں آئی۔ یہود و نصاریٰ کے عالم لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب علیھم السلام اور ان کی اولاد اس یہودیت و نصرانیت سے، بلکہ موسیٰ اور عیسیٰ علیھما السلام سے بھی بہت پہلے ہو گزرے ہیں، مگر یہود و نصاریٰ کے ان علماء نے عوام کے ذہن میں یہ بات پختہ کر دی تھی کہ یہ تمام انبیاء یہود کے قول کے مطابق یہودی تھے اور نصاریٰ کے قول کے مطابق نصرانی تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود و نصاریٰ کی اس بددیانتی کو ظاہر فرمایا ہے اور شہادت چھپانے کے مجرم قرار دے کر سب سے بڑے ظالم قرار دیا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے اس فعل کی مثال امتِ مسلمہ میں ایسے ہے جیسے کوئی مسلم عالم عوام کو یہ باور کروائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقہ حنفی یا فقہ شافعی کے مطابق فیصلے فرماتے تھے، حالانکہ اسے خوب معلوم ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمھما اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت بعد پیدا ہوئے اور وہ نبی بھی نہیں تھے کہ ان کی بات حجت ہو۔
وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم کماؤگے اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرمایا تمہارے اعمال اللہ سے پوشیدہ نہیں، اس کا محیط علم سب چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے، وہ ہر بھلائی اور برائی کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یہ دھمکی دے کر پھر فرمایا کہ یہ پاکباز جماعت تو اللہ کے پاس پہنچ چکی۔ تم جب ان کے نقش قدم پر نہ چلو تو صرف ان کی اولاد میں سے ہونا تمہیں اللہ کے ہاں کوئی عزت اور نفع نہیں دے سکتا ہے۔ ان کے نیک اعمال میں تمہارا کوئی حصہ نہیں اور تمہاری بد اعمالیوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں“ جو کرے سو بھرے“ تم نے جب ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام انبیاء کو جھٹلایا بالخصوص اے وہ لوگو! جو نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ہو۔ تم تو بڑے ہی وبال میں آ گئے، تم نے تو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا جو سید الانبیاء جو ختم المرسلین ہیں، جو رسول رب العالمین ہیں جن کی رسالت تمام انسانوں اور جنوں کی طرف ہے۔ جن کی رسالت کے ماننے کا ہر ایک شخص مکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بےشمار درود و سلام آپ پر نازل ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء کرام پر بھی۔
141۔ 1 اس آیت میں پھر کسب و عمل کی اہمیت بیان فرما کر بزرگوں کی طرف سے لگاؤ یا ان پر اعتماد کو بےفائدہ قرار دیا گیا۔ جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا سلسلہ اسے اگے نہیں بڑھائے گا۔ مطلب ہے کہ تمہارے خاندان کی نیکیوں سے تمہیں کوئی فائدہ اور ان کے گناہوں پر تم سے پوچھ گیچھ نہیں ہوگی بلکہ ان کے عملوں کی بابت تم سے یا تمہارے عملوں کی بابت ان سے نہیں پوچھا جائے گا آیت (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 35:18۔ آیت (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) 53:39 کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
(آیت 141) اس آیت میں دوبارہ تنبیہ فرمائی کہ نجات کا تعلق تو اپنی کمائی اور اپنے عمل پر ہے، اگر نجات چاہتے ہو تو ان انبیاء و صالحین کی طرح خود عمل کرو، ورنہ محض ان کی طرف نسبت اور ان کی کرامتیں بیان کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهٖ نَسَبُهُ] [ مسلم، الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع …: ۲۶۹۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔“
نادان لوگ ضرور کہیں گے : اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اس سے یکایک پھر گئے؟ اے نبی، ان سے کہو: "مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
عنقریب نادان لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے انہیں کس چیز نے ہٹایا؟ آپ کہہ دیجیئے کہ مشرق ومغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وه جسے چاہے سیدھی راه کی ہدایت کردے
احمد رضا خان بریلوی
اب کہیں گے بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔
علامہ محمد حسین نجفی
عنقریب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو کس چیز نے روگردان کر دیا۔ اس قبلہ (بیت المقدس) سے، جس پر وہ پہلے تھے (اے پیغمبر(ص)) کہہ دیجئے اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب بھی۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرتا ہے (اس پر لگا دیتا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
عنقریب لوگوں میں سے بے وقوف کہیں گے کس چیز نے انھیں ان کے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے؟ کہہ دے اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بیوقوفوں سے مراد یہاں مشرکین عرب اور علماء یہود اور منافقین وغیرہ ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں براء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن خود آپ کی چاہت یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ شریف ہو۔ چنانچہ اب حکم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس کی طرف ادا کی۔ آپ کے ساتھ کے نمازیوں میں سے ایک شخص کسی اور مسجد میں پہنچا، وہاں جماعت رکوع میں تھی اس نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھ کر ابھی آ رہا ہوں۔ جب ان لوگوں نے سنا تو اسی حالت میں وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے، اب بعض لوگوں نے یہ کہا کہ جو لوگ اگلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں ان کی نمازوں کا کیا حال ہے۔ تب یہ فرمان نازل ہوا کہ «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [ البقرہ: 143 ] » یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ"جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت «. قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ» [ البقرة: ١٤٤ ] یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت جس پر فرمان «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [ البقرہ: 143 ] نازل ہوا اور ان کی نمازوں کی طرف سے اطمینان ہوا۔
اب بعض بیوقوف اہل کتاب نے قبلہ کے بدلے جانے پر اعتراض کیا، جس پر یہ آیتیں «سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [ البقرہ: 142 ] نازل ہوئیں۔“ شروع ہجرت کے وقت مدینہ شریف میں آپ کو بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا تھا۔ یہود اس سے خوش تھے لیکن آپ کی چاہت اور دعا قبلہ ابراہیمی کی تھی۔ آخر جب یہ حکم نازل ہوا تو یہودیوں نے جھٹ سے اعتراض جڑ دیا۔ «لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» [ البقرة: 177 ] جس کا جواب ملا کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:138/3:حسن] اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایتیں ہیں خلاصہ یہ ہے کہ مکہ شریف میں آپ دونوں رکن کے درمیان نماز پڑھتے تھے تو آپ کے سامنے کعبہ ہوتا تھا اور بیت المقدس کے صخرہ کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ ہوتا تھا، لیکن مدینہ جا کر یہ معاملہ مشکل ہو گیا۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتے تھے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف نماز ادا کرنے کا حکم قرآن میں نازل ہوا تھا یا دوسری وحی کے ذریعہ یہ حکم ملا تھا۔ بعض بزرگ تو کہتے ہیں یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہادی امر تھا اور مدینہ آنے کے بعد کئی ماہ تک اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں پڑھتے رہے گو چاہت اور تھی۔ یہاں تک کہ پروردگار نے بیت العتیق کی طرف منہ پھیرنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف منہ کر کے پہلے نماز عصر پڑھی اور پھر لوگوں کو اپنے خطبہ میں اس امر سے آگاہ کیا۔ بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ ظہر کی نماز تھی۔ سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے اور میرے ساتھی نے اول اول کعبہ کی طرف نماز پڑھی ہے اور ظہر کی نماز تھی“ بعض مفسرین وغیرہ کا بیان ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قبلہ بدلنے کی آیت نازل ہوئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے، دو رکعت ادا کر چکے تھے پھر باقی کی دو رکعتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف پڑھیں، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام ہی مسجد ذو قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد ہے۔“
حضرت نویلہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ظہر کی نماز میں تھے جب ہمیں یہ خبر ملی اور ہم نماز میں ہی گھوم گئے۔ مرد عورتوں کی جگہ آ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ جا پہنچیں۔ ہاں اہل قباء کو دوسرے دن صبح کی نماز کے وقت یہ خبر پہنچی بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اچانک کسی آنے والے نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو حکم قرآنی نازل ہوا اور کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم ہو گیا۔ چنانچہ ہم لوگ بھی شام کی طرف سے منہ ہٹا کر کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ [صحیح بخاری:403] اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ناسخ کے حکم کا لزوم اسی وقت ہوتا ہے۔ جب اس کا علم ہو جائے گو وہ پہلے ہی پہنچ چکا ہو۔ اس لیے کہ ان حضرات کو عصر مغرب اور عشاء کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اب باطل پرست کمزور عقیدے والے باتیں بنانے لگے کہ اس کی کیا وجہ ہے کبھی اسے قبلہ کہتا ہے کبھی اسے قبلہ قرار دیتا ہے۔ انہیں جواب ملا کہ حکم اور تصرف اور امر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جدھر منہ کرو۔ اسی طرف اس کا منہ ہے بھلائی اسی میں نہیں آ گئی بلکہ اصلیت تو ایمان کی مضبوطی ہے جو ہر حکم کے ماننے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس میں گویا مومنوں کو ادب سکھایا گیا ہے کہ ان کا کام صرف حکم کی بجا آوری ہے جدھر انہیں متوجہ ہونے کا حکم دیا جائے یہ متوجہ ہو جاتے ہیں اطاعت کے معنی اس کے حکم کی تعمیل کے ہیں اگر وہ ایک دن میں سو مرتبہ ہر طرف گھمائے تو ہم بخوشی گھوم جائیں گے ہم اس کے غلام ہیں ہم اس کے ماتحت ہیں اس کے فرمانبردار ہیں اور اس کے خادم ہیں جدھر وہ حکم دے گا پھیر لیں گے۔ امت محمدیہ پر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے کہ انہیں خلیل الرحمن علیہ السلام کے قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا جو اسی اللہ لا شریک کے نام پر بنایا گیا ہے اور تمام تر فضیلتیں جسے حاصل ہیں۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث ہے کہ یہودیوں کو ہم سے اس بات پر بہت حسد ہے کہ اللہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی توفیق دی اور یہ اس سے بھٹک گئے اور اس پر کہ ہمارا قبلہ یہ ہے اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور بڑا حسد ان کو ہماری آمین کہنے پر بھی ہے جو ہم امام کے پیچھے کہتے ہیں۔ [مسند احمد:130/1-136:حسن لغیرہ]
142۔ 1 جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لے گئے 16/17 مہینے تک بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے حالانکہ آپ کی خواہش تھی کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے جو قبلہ ابراہیمی ہے اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا بھی فرماتے اور بار بار آسمان کی طرف نظر بھی اٹھاتے۔ بلآخر اللہ تعالیٰ نے تحویل کعبہ کا حکم دے دیا جس پر یہودیوں اور منافقین نے شور مچایا حالانکہ نماز اللہ کی ایک عبادت ہے اور عبادت میں عابد کو جس طرح حکم ہوتا ہے اسی طرح کرنے کا پابند ہوتا ہے اس لئے جس طرف اللہ نے رخ پھیر دیا اسی طرف پھرجانا ضروری تھا علاوہ ازیں جس اللہ کی عبادت کرنی ہے مشرق اور مغرب ساری سمتیں اسی کی ہیں اس لئے سمتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہر سمت میں اللہ کی عبادت ہوسکتی ہے بشرطیکہ اس سمت کو اختیار کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہو۔ تحویل کعبہ کا یہ حکم نماز عصر کے وقت آیا اور عصر کی نماز خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی گئی۔
(آیت 142) ➊ براء بن عازب رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، پھر آپ کو بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔ [ بخاری، أخبار الأحاد،باب ما جاء فی إجازۃ …: ۷۲۵۲ ] ➋ اس پر یہود، منافقین اور مشرکین سبھی نے اعتراضات شروع کر دیے کہ اگر وہ پہلا قبلہ درست تھا تو اسے بدلنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر یہ درست ہے تو اتنی دیر بیت المقدس قبلہ کیوں رہا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ لوگ بے وقوفی کی وجہ سے ایسی باتیں کہہ رہے ہیں، مشرق یا مغرب کی اپنی کچھ حیثیت نہیں کہ ان کی طرف منہ کرنا باعث ثواب ہو، بلکہ اصل چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرماں برداری ہے، کیونکہ مشرق و مغرب دونوں کا مالک وہی ہے۔ وہ جب چاہے، جدھر چاہے منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دے سکتا ہے۔ تمھارا کام حکم ماننا ہے، کیونکہ صراط مستقیم وہی ہے جس کا وہ حکم دے، مگر اس پر چلنے کی توفیق وہ جسے چاہے دیتا ہے، جو توفیق سے محروم ہیں وہ بے وقوفی سے بے کار باتیں بناتے رہتے ہیں، اس آیت: «لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ …» [ البقرۃ: ۱۷۷] میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔
اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت، مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ اور اے محبوب! تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔
علامہ محمد حسین نجفی
(مسلمانو! جس طرح ہم نے تم کو صحیح قبلہ بتا دیا ہے) اسی طرح ہم نے تم کو ایک درمیانی (میانہ رو) امت بنایا ہے تاکہ تم عام لوگوں پر گواہ ہو اور پیغمبر(ص) تم پر گواہ ہو اور تم پہلے جس قبلہ پر تھے، ہم نے اسے صرف اسی لیے قبلہ بنایا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول(ص) کی پیروی کون کرتا ہے، اور کون پچھلے پاؤں پلٹ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ (تحویل قبلہ) ان لوگوں کے سوا، جنہیں اللہ نے خاص ہدایت دی ہے اور سب پر بہت گراں تھی۔ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دے۔ بے شک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے اور ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا، مقرر نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ ہم جان لیں کون اس رسول کی پیروی کرتا ہے، اس سے (جدا کر کے) جو اپنی دونوں ایڑیوں پر پھر جاتا ہے اور بلاشبہ یہ بات یقینا بہت بڑی تھی مگر ان لوگوں پر جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔ بے شک اللہ لوگوں پر یقینا بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ اس پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں متوجہ کرنا اس لیے ہے کہ تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہ بنے رہو گے کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں وسط کے معنی یہاں پر بہتر اور عمدہ کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط عرب ہیں اور کہا گیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے اور صلوۃ وسطی یعنی افضل تر نماز جو عصر ہے جیسے صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:6396] اور چونکہ تمام امتوں میں یہ امت بھی بہتر افضل اور اعلیٰ تھی اس لیے انہیں شریعت بھی کامل راستہ بھی بالکل درست ملا اور دین بھی بہت واضح دیا گیا جیسے فرمایا «هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ» [ 22۔ الحج: 78 ] اس اللہ نے تمہیں چن لیا اور تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں کی تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تم ہو۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نوح علیہ السلام کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور ان سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے میرا پیغام میرے بندوں کو پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اللہ پہنچا دیا تھا۔ ان کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پرسش ہو گی کیا نوح علیہ السلام نے میری باتیں تمہیں پہنچائی تھیں وہ صاف انکار کریں گے اور کہیں گے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا تمہاری امت انکار کرتی ہے تم گواہ پیش کرو یہ کہیں گے کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میری گواہ ہے یہی مطلب اس آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [ 2۔ البقرہ: 143 ] کا ہے «وسط» کے معنی عدل کے ہیں اب تمہیں بلایا جائے گا اور تم گواہی دو گے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ [صحیح بخاری:3339]
مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے قیامت کے دن نبی آئیں گے اور ان کے ساتھ ان کی امت کے صرف دو ہی شخص ہوں گے اور اس سے زیادہ بھی اس کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس نبی علیہ السلام نے تمہیں تبلیغ کی تھی؟ وہ انکار کریں گے نبی سے کہا جائے گا تم نے تبلیغ کی وہ کہیں گے ہاں، کہا جائے گا تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت۔ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بلائی جائے گی ان سے یہی سوال ہو گا کہ کیا اس پیغمبر نے تبلیغ کی؟ یہ کہیں گے ہاں، ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں کیسے علم ہوا؟ یہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ انبیاء علیہم السلام نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا۔ یہی مطلب ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [ 2۔ البقرہ: 143 ] کا۔ [مسند احمد:58/3:صحیح] مسند احمد کی ایک اور حدیث میں وسطاً بمعنی عدلاً آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2961، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میری امت قیامت کے دن ایک اونچے ٹیلے پر ہوں گے تمام مخلوق میں نمایاں ہو گے اور سب کو دیکھ رہے ہوں گے اس روز تمام دنیا تمنا کرے گی کہ کاش وہ بھی ہم میں سے ہوتے جس جس نبی کی قوم نے اسے جھٹلایا ہے ہم دربار رب العالمین میں شہادت دیں گے کہ ان تمام انبیاء نے حق رسالت ادا کیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/3:ضعیف] مستدرک حاکم کی ایک حدیث میں ہے کہ بنی مسلمہ کے قبیلے کے ایک شخص کے جنازے میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے لوگ کہنے لگے حضور یہ بڑا نیک آدمی تھا۔ بڑا متقی پارسا اور سچا مسلمان تھا اور بھی بہت سی تعریفیں کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کس طرح کہ رہے ہو؟ اس شخص نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدگی کا علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن ظاہرداری تو اس کی ایسی ہی حالت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی پھر بنو حارثہ کے ایک شخص کے جنازے میں تھے لوگ کہنے لگے یہ برا آدمی تھا بڑا بدزبان اور کج خلق تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی برائیاں سن کر پوچھا تم کیسے کہہ رہے ہو اس شخص نے بھی یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی۔ حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ اس حدیث کو سن کر فرمانے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں دیکھو قرآن بھی کہہ رہا ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [ 2۔ البقرہ: 143 ] مستدرک حاکم268/2] مسند احمد میں ہے۔ ابوالاسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مدینہ میں آیا یہاں بیماری تھی لوگ بکثرت مر رہے تھے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو ایک جنازہ نکلا اور لوگوں نے مرحوم کی نیکیاں بیان کرنی شروع کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی اتنے میں دوسرا جنازہ نکلا لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی میں نے کہا امیر المؤمنین کیا واجب ہو گئی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے وہی کہا جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مسلمان کی بھلائی کی شہادت چار شخص دیں اسے جنت میں داخل کرتا ہے ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین بھی ہم نے کہا اگر دو ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بھی۔ پھر ہم نے ایک کی بابت کا سوال نہ کیا۔ [صحیح بخاری:1368] ابن مردویہ کی ایک حدیث میں ہے قریب ہے کہ تم اپنے بھلوں اور بروں کو پہچان لیا کرو۔ لوگوں نے کہا حضور کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجه:4221، قال الشيخ الألباني:] نے فرمایا اچھی تعریف اور بری شہادت سے تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔
پھر فرماتا ہے کہ اگلا قبلہ صرف امتحاناً تھا یعنی پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر کے پھر کعبۃ اللہ کی طرف پھیرنا صرف اس لیے تھا کہ معلوم ہو جائے کہ سچا تابعدار کون ہے؟ اور جہاں آپ توجہ کریں وہیں اپنی توجہ کرنے والا کون ہے؟ اور کون ہے جو ایک دم کروٹ لے لیتا ہے اور مرتد ہو جاتا ہے، یہ کام فی الحقیقت اہم کام تھا لیکن جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیروکار ہیں جو جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو فرمائیں سچ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم کرتا ہے۔ اپنے بندوں کو جس طرح چاہے حکم دے جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے اس کا ہر کام، ہر حکم حکمت سے پر ہے ان پر اس حکم کی بجا آوری کچھ بھی مشکل نہیں۔ ہاں بیمار دل والے تو جہاں نیا حکم آیا انہیں فوراً نیا درد اٹھا قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ» [ 9۔ التوبہ: 124، 125 ] یعنی جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض پوچھتے ہیں اس سے کس کا ایمان بڑھا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایمانداروں کے ایمان بڑھتے ہیں اور ان کی دلی خوشی بھی اور بیمار دل والے اپنی پلیدی میں اور بڑھ جاتے ہیں اور جگہ فرمان ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [ 41۔ فصلت: 44 ] یعنی ایمان والوں کے لیے یہ ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان لوگوں کے کانوں میں بوجھ اور آنکھوں پر اندھا پن ہے۔ اور جگہ فرمان ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [ 17۔ الاسرآء: 82 ] یعنی ہمارا اتارا ہوا قرآن مومنوں کے لیے سراسر شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے اس واقعہ میں بھی تمام بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم ثابت قدم رہے اول سبقت کرنے والے مہاجر اور انصار دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ چنانچہ اوپر حدیث بیان ہو چکی کہ کس طرح وہ نماز پڑھتے ہوئے یہ خبر سن کر گھوم گئے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ رکوع کی حالت میں تھے اور اسی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحیح مسلم:525] جس سے ان کی کمال اطاعت اور اعلیٰ درجہ کی فرمان برداری ثابت ہوئی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تمھارے ایما کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی تمھاری بیت المقدس کی طرف پڑھی ہوئی نمازیں رد نہیں ہوں گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بلکہ ان کی اعلیٰ ایمانداری ثابت ہوئی انہیں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا ثواب عطا ہو گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے ساتھ تمھارے گھوم جانے کو ضائع نہ کرے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ رؤف و رحیم ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی قیدی عورت کو دیکھا جس سے اس کا بچہ چھوٹ گیا تھا وہ اپپنے بچے کو پاگلوں کی طرح تلاش کر رہی تھی اور جب وہ نہیں ملا تو قیدیوں میں سے جس کسی بچے کو دیکھتی اسی کو گلے لگا لیتی یہاں تک کہ اس کا اپنا بچہ مل گیا خوشی خوشی لپک کر اسے گود میں اٹھا لیا سینے سے لگایا پیار کیا اور اس کے منہ میں دودھ دیا یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا بتاؤ یہ اپنا بس چلتے ہوئے اس بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ لوگوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر گز نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم جس قدر یہ ماں اپنے بچہ پہ مہربان ہے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندؤں پر رؤف و رحیم ہے۔ [صحیح بخاری:5999]
143۔ 1 وسط کے لغوی معنی تو درمیان کے ہیں لیکن یہ بہتر اور افضل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی جس طرح تمہیں بہتر قبلہ عطا کیا گیا اسی طرح تمہیں سب سے افضل امت بھی بنایا گیا اور مقصد اس کا یہ ہے کہ تم لوگوں پر گواہی دو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے (لِیَکُون الرَّسُولُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْ اشُھَدَآ ءَ عَلَی النَّاسِ) 22:28 رسول تم پر اور تم لوگوں پر گواہ ہو اس کی وضاحت بعض احادیث میں اس طرح آتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ پیغمبروں سے قیامت والے دن پوچھے گا کہ تم نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچایا تھا وہ ہاں میں جواب دیں گے ٫ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارا کوئی گواہ ہے؟ کہیں گے ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت، چناچہ یہ امت گواہی دے گی۔ 143۔ 2 یہ تحویل قبلہ کی ایک غرض بیان کی گئی ہے، کہ مومنین صادقین تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارات کے منتظر رہا کرتے تھے اس لئے ان کے لئے ادھر سے ادھر پھرجانا کوئی مشکل معاملہ نہ تھا بلکہ ایک مقام پر تو عین نماز کی حالت میں جب کہ وہ رکوع میں تھے یہ حکم پہنچا تو انہوں نے رکوع میں ہی اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف پھیرلیا یہ مسجد قبلٰتین (یعنی وہ مسجد جس میں ایک نماز دو قبلوں کی طرف رخ کرکے پڑھی گئی) کہلاتی ہے اور ایسا ہی واقعہ مسجد قبا میں بھی ہوا (لِنَعْلَمْ) (تاکہ ہم جان لیں) اللہ کو تو پہلے بھی علم تھا اس کا مطلب ہے تاکہ ہم اہل یقین کو اہل شک سے علیحدہ کردیں تاکہ لوگوں کے سامنے بھی دونوں قسم کے لوگ واضح ہوجائیں (فتح القدیر) 143۔ 3 بعض صحابہ ؓ اجمعین کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ جو صحابہ ؓ اجمعین بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کے زمانے میں فوت ہوچکے تھے یا ہم جتنا عرصہ اس طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے ہیں یہ ضائع ہوگئیں یا شاید ان کا ثواب نہیں ملے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نمازیں ضائع نہیں ہونگی اور ان کا پورا پورا ثواب ملے گا۔ یہاں نماز کو ایمان سے تعبیر کرکے یہ واضح کردیا کہ نماز کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایمان تب ہی معتبر ہے جب نماز اور دیگر احکام الٰہی کی پابندی ہوگی۔
(آیت 143)➊ وسط کا معنی درميان ہے، افضل چیز کو بھی وسط کہہ لیتے ہیں، کیونکہ درمیانی چیز سب سے بہتر ہوتی ہے۔ یہاں مراد سب سے بہتر ہے، جیساکہ فرمایا: «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ» [ آل عمران: ۱۱۰] ”تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی۔“ کیونکہ دو نقطوں کے درمیان سب سے مختصر اور صحیح خط مستقیم ہی ہوتا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا معنی یہاں ”عدل“ روایت کیا ہے۔ [ بخاری، التفسیر: ۴۴۸۷] عدل کا معنی ثقہ اور قابل اعتماد بھی ہے، اعتقاد و اخلاق اور اعمال میں معتدل اور پہلی امتوں کی افراط و تفریط سے پاک بھی۔ نہ یہاں یہود کی سختی ہے نہ نصاریٰ کی نرمی۔ (کبیر، قرطبی) ➋ {وَ كَذٰلِكَ …:} یعنی جس طرح یہ دو باتیں تمھارے پاس پوری ہیں اور تمھارے مخالفوں کے پاس ناقص، ایک یہ کہ تم تمام انبیاء کو مانتے ہو اور یہود و نصاریٰ کسی کو مانتے ہیں کسی کو نہیں، دوسری یہ کہ تمھارا قبلہ کعبہ ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے مقرر ہے اور ابراہیم علیہ السلام سب کے پیشوا ہیں، یہود و نصاریٰ اور ان کے قبلے بعد کی بات ہیں۔ اسی طرح ہم نے تمھیں ہر کام میں افضل امت بنا دیا ہے۔ اس لیے اب تمھارا کام ہے کہ تم دوسروں کی راہنمائی کرو، ان کا کام نہیں کہ تمھاری راہنمائی کریں۔ (موضح) ➌{ لِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ } …: اس سے تین طرح کی شہادت مراد ہے، پہلی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم شہادت دیں گے کہ انھوں نے صحابہ تک پیغام حق پہنچا دیا، صحابہ تابعین پر اور اسی طرح امت کا ہر طبقہ آنے والوں پر یہ شہادت دے گا۔ اس امت کے افضل ہونے کا سبب بھی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ آل عمران (۱۱۰) میں فرمایا: «كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ» ، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ دیا: ”اے لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کیے جانے والے ہو۔“ پھر فرمایا: ”اور میری امت کے کچھ لوگوں کو بائیں طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا، پروردگارا! یہ تو میرے ساتھی ہیں، تو کہا جائے گا، آپ نہیں جانتے انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا۔ تو میں کہوں گا جیسے صالح بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا: «وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» [ المائدۃ: ۱۱۷] ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تونے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، باب: «و کنت علیہم شہیدًا …» :۴۶۲۵] یہی بات جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھی: ”کیا میں نے (اللہ تعالیٰ کا) پیغام(آپ لوگوں تک) پہنچا دیا؟“ تو سب نے کہا: ”بے شک آپ نے پہنچا دیا۔“ [بخاری، الحج، باب الخطبۃ أیام منٰی: ۱۷۴۱] اب ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ یہ پیغام آنے والوں تک پہنچائے، تبھی وہ ان پر شہادت دے سکے گا اور تبھی وہ امتِ وسط کہلانے کا حق دار ہو گا اور جو امتِ مسلمہ کی تمام گمراہی دیکھ کر بھی خاموش رہے گا وہ نہ گواہی دے سکے گا اور نہ امتِ وسط کا مصداق ہو گا۔ دوسری وہ شہادت ہے جو امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے خبر دینے کی بنا پر پہلی تمام امتوں پر دے گی کہ ان کے انبیاء نے اللہ کے احکام ان تک پہنچا دیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”نوح علیہ السلام اور ان کی امت آئے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ عرض کریں گے، ہاں اے میرے رب! پھر ان کی امت کو فرمائے گا، کیا انھوں نے تمھیں پیغام پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے، نہیں! ہمارے پاس تو کوئی نبی آیا ہی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نوح(علیہ السلام) سے فرمائے گا، تمھاری شہادت کون دے گا؟ وہ عرض کریں گے، محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) اور ان کی امت، پھر ہم شہادت دیں گے کہ یقینًا انھوں نے پیغام پہنچا دیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: «وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ» [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ عزوجل: «ولقد أرسلنا …» : ۳۳۳۹، ۴۴۸۷، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ] تیسری شہادت دنیا ہی میں مسلمانوں کی کسی کے حق میں نیک یا بد ہونے کی شہادت ہے، جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جنازے کے لیے جنت اور دوسرے کے لیے جہنم واجب ہونے کا اعلان فرمایا اور فرمایا: [ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللّٰهِ فِي الْاَرْضِ] ”تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“ [ بخاری، الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت: ۱۳۶۷] ➍ {وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ…:} یہ تحویلِ قبلہ کی ایک حکمت بیان فرمائی ہے۔ قریش کو بطور قبلہ بیت اللہ عزیز تھا اور اہلِ کتاب کو بیت المقدس۔ پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرکے قریش اور ان کے ساتھیوں کی آزمائش ہوئی، پھر بیت اللہ کو مقرر کرکے اہل کتاب کی۔ اپنے محبوب قبلہ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فرماں برداری میں ترک کرنا ہدایت یافتہ لوگوں کے سوا دوسروں کے لیے نہایت مشکل تھا، اس لیے جنھیں یہ ہدایت نصیب نہ تھی وہ ڈگمگا گئے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے جس قبلے کی طرف آپ رخ کرتے تھے وہ بھی اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا تھا، اگرچہ قرآنِ مجید میں اس حکم کا ذکر نہیں ہے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن مجید کے علاوہ بھی احکام نازل ہوتے تھے، جنھیں وحی خفی یا حدیث کہا جاتا ہے اور انھیں ماننا بھی قرآن کی طرح فرض ہے۔ ➎ {وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ:} براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تحویل قبلہ سے قبل کئی آدمی پہلے قبلے کے زمانے میں قتل ہو کر فوت ہو چکے تھے، ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ ہم ان کے متعلق کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: «وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ» ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمھارا ایمان ضائع کر دے۔“ یعنی تمھاری پہلی نمازیں اللہ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ [بخاری، الإیمان، باب الصلاۃ من الإیمان: ۴۰] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان قرار دیا۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کو ایمان قرار دیتے ہیں ان کی بات درست نہیں، بلکہ اعمال بھی ایمان کا جز ہیں اور نماز اور زکوٰۃ تو ایسا جز ہیں جن کے بغیر بندہ اسلامی برادری «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَة» کا حصہ ہی نہیں بنتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ» [ التوبۃ: ۱۱] ”پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو دین میں تمھارے بھائی ہیں۔“ اور جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [ إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلاَۃِ ] [ مسلم، الإیمان، باب بیان إطلاق اسم …: ۸۲] ”آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان (فرق) نماز کا چھوڑنا ہے۔“
یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو مسجد حرام کی طرف رُخ پھیر دو اب جہاں کہیں تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو یہ لوگ جںہیں کتاب دی گئی تھی، خو ب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگرا س کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں، آپ اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منھ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں-
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) تحویل قبلہ کی خاطر) تیرا بار بار آسمان کی طرف منہ کرنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ تو ضرور اب ہم تمہیں موڑ دیں گے اس قبلہ کی طرف جو تمہیں پسند ہے۔ بس اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف موڑ دیجئے۔ اور (اے اہل ایمان) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے منہ (نماز پڑھتے وقت) اسی طرف کیا کرو۔ جن لوگوں کو (آسمانی) کتاب (تورات وغیرہ) دی گئی ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ کا فیصلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے ہے اور یہ حق ہے۔ اور جو کچھ (یہ لوگ) کر رہے ہیں اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں، تو یقینا ہم تجھے اس قبلے کی طرف ضرور پھیر دیں گے جسے تو پسند کرتا ہے، سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور تم جہاں بھی ہو سو اپنے چہرے اس کی طرف پھیر لو اور بے شک وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی ہے یقینا جانتے ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے یہی حق ہے اور اللہ اس سے ہرگز غافل نہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خشوع و خضوع ضروری ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قرآن میں قبلہ کا حکم پہلا نسخ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہاں کے اکثر باشندے یہود تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھنے کا حکم دیا یہود اس سے بہت خوش ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی ماہ تک اسی رخ نماز پڑھتے رہے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت قبلہ ابراہیمی کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور نگاہیں آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے بالآخر آیت «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ» [ البقرہ: 144 ] نازل ہوئی اس پر یہود کہنے لگے کہ اس قبلہ سے یہ کیوں ہٹ گئے جس کے جواب میں کہا گیا کہ «وَلِلَّـهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ» [ البقرة: 115 ] مشرق اور مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور فرمایا جدھر تمہارا منہ ہو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے اور فرمایا کہ اگلا قبلہ امتحاناً تھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:103/1] اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اس پر یہ آیت اتری اور حکم ہوا کہ مسجد الحرام کی طرف کعبہ کی طرف میزاب کی طرف منہ کرو جبرائیل علیہ السلام نے امامت کرائی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد الحرام میں میزاب کے سامنے بیٹھے ہوئے اس آیت پاک کی تلاوت کی اور فرمایا میزاب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہے۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ایک قول یہ ہے کہ عین کعبہ کی طرف توجہ مقصود ہے اور دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ کعبہ کی جہت ہونا کافی ہے اور یہی مذہب اکثر ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مراد اس کی طرف ہے۔ [مستدرک حاکم:2692] ابوالعالیہ مجاہد عکرمہ سعید بن جبیر قتادہ ربیع بن انس وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:107/1] ایک حدیث میں بھی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ [سنن ترمذي:342، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریج میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بیت اللہ مسجد الحرام والوں کا قبلہ اور مسجد اہل حرام کا قبلہ اور تمام زمین والوں کا حرام قبلہ ہے خواہ مشرق میں ہوں خواجہ مغرب میں میری تمام امت کا قبلہ یہی ہے۔ [بیھقی9/2-10:ضعیف] ابونعیم میں بروایت براء رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ سترہ مہینے تک تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن آپ کو پسند امر یہ تھا کہ بیت اللہ کی طرف پڑھیں چنانچہ اللہ کے حکم سے آپ نے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر عصر کی نماز ادا کی پھر نمازیوں میں سے ایک شخص مسجد والوں کے پاس گیا وہ رکوع میں تھے اس نے کہا میں حلفیہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ شریف کی طرف نماز ادا کی۔ یہ سن کر وہ جس حالت میں تھے اسی حالت میں بیت اللہ شریف کی طرف پھر گئے۔ [صحیح بخاری:4486] عبدالرزاق میں بھی یہ روایت قدرے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے۔ [تفسیر عبد الرزاق:1354] نسائی میں ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم صبح کے وقت مسجد نبوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جایا کرتے تھے اور وہاں کچھ نوافل پڑھا کرتے تھے ایک دن ہم گئے تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں میں نے کہا آج کوئی نئی بات ضرور ہوئی ہے میں بھی بیٹھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ» [ البقرہ: 144 ] تلاوت فرمائی میں نے اپنے ساتھی سے کہا آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہونے منبر سے اترنے سے پہلے ہی ہم اس نئے حکم کی تعمیل کریں اور اول فرمانبردار بن جائیں چنانچہ ہم ایک طرف ہو گئے اور سب سے پہلے بیت اللہ شریف کی طرف نماز پڑھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی منبر سے اتر آئے اور اس قبلہ کی طرف پہلی نماز ظہر ادا کی گئی۔ [نسائی فی السنن الکبریٰ:11004،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن مردویہ میں بروایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ پہلی نماز جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف ادا کی وہ ظہر کی نماز ہے اور یہی نماز صلوٰۃ وسطیٰ ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ پہلی نماز کعبہ کی طرف عصر کی ادا کی ہوئی اسی وجہ سے اہل قباء کو دوسرے دن صبح کے وقت اطلاع پہنچی۔ ابن مردویہ میں روایت نویلہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا موجود ہے کہ ہم مسجد بنو حارثہ میں ظہر یا عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے ادا کر رہے تھے دو رکعت پڑھ چکے تھے کہ کسی نے آ کر قبلہ کے بدل جانے کی خبر دی۔ چنانچہ ہم نماز میں بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے اور باقی نماز اسی طرف ادا کی، اس گھومنے میں مرد عورتوں کی جگہ اور عورتیں مردوں کی جگہ آ گئیں، آپ کے پاس جب یہ خبر پہنچی تو خوش ہو کر فرمایا یہ ہیں ایمان بالغیب رکھنے والے۔ [طبرانی کبیر:530/24:ضعیف] ابن مردویہ میں بروایت عمارہ بن اوس رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رکوع کی حالت میں ہمیں اطلاع ہوئی اور ہم سب مرد عورتیں بچے اسی حالت میں قبلہ کی طرف گھوم گئے۔ [مسند ابویعلیٰ:1509]
پھر ارشاد ہوتا ہے تم جہاں بھی ہو مشرق مغرب شمال یا جنوب میں ہر صورت نماز کے وقت منہ کعبہ کی طرف کر لیا کرو۔ ہاں البتہ سفر میں سواری پر نفل پڑھنے والا جدھر سواری جا رہی ہو ادھر ہی نفل ادا کرنے اس کے دل کی توجہ کعبہ کی طرف ہونی کافی ہے اسی طرح میدان جنگ میں نماز پڑھنے والا جس طرح اور جس طرف بن پڑے نماز ادا کر لے اور اسی طرح وہ شخص جسے قبلہ کی جہت کا قطعی علم نہیں وہ اندازہ سے جس طرف زیادہ دل مانے نماز ادا کر لے۔ پھر گو اس کی نماز فی الواقع قبلہ کی طرف نہ بھی ہوئی ہو تو بھی وہ اللہ کے ہاں معاف ہے۔ مسئلہ مالکیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نمازی حالت نماز میں اپنے سامنے اپنی نظریں رکھے نہ کہ سجدے کی جگہ جیسے کہ شافعی، احمد اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم کا مذہب ہے اس لیے کہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ منہ مسجد الحرام کی طرف کرو اور اگر سجدے کی جگہ نظر جمانا چاہے گا تو قدرے جھکنا پڑے گا اور یہ تکلیف کمال خشوع کے خلاف ہو گا بعض مالکیہ کا یہ قول بھی ہے کہ قیام کی حالت میں اپنے سینہ کی طرف نظر رکھے قاضی شریک کہتے ہیں کہ قیام کے وقت سجدہ کی جگہ نظر رکھے جیسے کہ جمہور جماعت کا قول ہے اس لیے کہ یہ پورا پورا خشوع خضوع ہے اور ایک حدیث بھی اس مضمون کی وارد ہوئی ہے اور رکوع کی حالت میں اپنے قدموں کی جگہ پر نظر رکھے اور سجدے کے وقت ناک کی جگہ اور التحیات کے وقت اپنی گود کی طرف پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ یہودی جو چاہیں باتیں بنائیں لیکن ان کے دل جانتے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی اللہ کی جانب سے ہے اور برحق ہے کیونکہ یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے لیکن یہ لوگ کفر وعناد اور تکبر و حسد کی وجہ سے اسے چھپاتے ہیں اللہ بھی ان کی ان کرتوتوں سے بے خبر نہیں۔
144۔ 1 اہل کتاب کے مختلف مقدس کتابوں میں خانہ کعبہ کے قبلہ آخر الانبیاء ہونے کے واضح اشارات موجود ہیں۔ اس لئے اس کا برحق ہونا انہیں یقینی طور پر معلوم تھا، مگر ان کا نسلی غرور و حسد قبول حق میں رکاوٹ بن گیا۔
(آیت 144) ➊ {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ:} یہ قبلہ بدلنے کا اصل حکم ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ قرآن میں پہلا نسخ قبلے کا ہے۔ [ابن أبی حاتم عن ابن أبی طلحۃ، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ] براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ یا سترہ ماہ نماز پڑھی اور آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہو اور آپ نے پہلی نماز (بیت اللہ کی طرف) عصر کی نماز پڑھی۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «سیقول السفہاء …» : ۴۴۸۶ ] آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بیت اللہ کا قبلہ ہونا اس قدر پسند تھا کہ قبلہ بدلنے کی امید میں بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ واضح رہے کہ بیت المقدس شام میں ہے اور یہ مدینہ سے شمال کی طرف ہے اور بیت اللہ اس کے بالکل مخالف جنوب کی طرف ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ لوگ قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک صاحب آئے، انھوں نے کہا، آج رات نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر قرآن اترا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم بھی اس کی طرف منہ کر لو۔ ان کا رخ شام کی طرف تھا تو انھوں نے گھوم کر کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔ [ بخاری، التفسیر، باب: «ولئن أتیت الذین …» : ۴۴۹۰ ] اس سے صحابہ کا حدیث رسول بلکہ قرآن کریم کے ثبوت کے لیے ایک معتبر آدمی کی خبر (یعنی خبر واحد) پر اعتماد اور اس پر فوری عمل ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ بعض احادیث کو خبر واحد کہہ کر رد کر دیتے ہیں انھیں غور کرنا چاہیے۔ ➋ {وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ:} سفر میں نفل نماز، کشتی میں نماز، حالتِ جنگ میں نماز یا جسے قبلہ معلوم نہ ہو سکے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، وہ جدھر منہ کر کے نماز پڑھ سکیں پڑھ سکتے ہیں، فرمایا: «اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ» [ البقرۃ: ۱۱۵ ] ”تو تم جس طرف رخ کرو سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔“ البتہ سفر میں اگر ممکن ہو تو سواری کا رخ قبلہ کی طرف کر کے نفل نماز شروع کر لی جائے، اس کے بعد سواری کا رخ جدھر بھی ہو مضائقہ نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی کا رخ قبلہ کی طرف کر کے تکبیر کہتے پھر سواری آپ کا رخ جدھر کو بھی کرتی نماز پڑھتے رہتے۔ [ أبو داوٗد، صلاۃ السفر، باب التطوع علی الراحلۃ: ۱۲۲۵، و حسنہ الألبانی ] ➌ {لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ:} یعنی یہود کو اپنی کتابوں کی پیشین گوئی کی بنا پر خوب علم ہے کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ مسجد حرام ہو گا، مگر وہ کفر و عناد اور حسد کی بنا پر چھپا رہے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”یہ لوگ (اہل کتاب) ہم پر کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا جمعہ کے دن پر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور اس قبلہ پر جس کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر۔“ [ أحمد: ۶؍۱۳۵، ح: ۲۵۰۸۲، إسنادہ صحیح ]
تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، او ر اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر آپ اہل کتاب کے سامنے سارے معجزے (دنیا جہان کے سارے دلائل) پیش کر دیں۔ تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔ اور نہ ہی آپ ان کے قبلہ کی پیروی کریں گے۔ اور وہ خود بھی ایک دوسرے کے قبلہ کو نہ مانتے ہیں اور نہ پیروی کرتے ہیں۔ اور اس علم کے بعد جو (منجانب اللہ) تمہارے پاس آچکا ہے اگر ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کروگے تو تمہارا شمار ظالموں (حد سے تجاوز کرنے والوں) میں ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا اگر تو ان لوگوں کے پاس جنھیں کتاب دی گئی ہے، ہر نشانی بھی لے آئے وہ تیرے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ تو کسی صورت ان کے قبلے کی پیروی کرنے والا ہے اور نہ ان کا بعض کسی صورت بعض کے قبلے کی پیروی کرنے والا ہے اور یقینا اگر تو نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو بے شک تو اس وقت ضرور ظالموں سے ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کفر و عناد زدہ یہودی ٭٭
یہودیوں کے کفر و عناد اور مخالفت و سرکشی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجودیکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا انہیں علم ہے لیکن پھر بھی یہ حالت ہے کہ ہر قسم کی دلیلیں پیش ہو چکنے کے بعد بھی حق کی پیروی نہیں کرتے جیسے اور جگہ ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] یعنی جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے چاہے ان کے پاس یہ تمام آیتیں آ جائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت بیان فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ناحق پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے تو وہ بھی سمجھ لیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ ان کی باتوں میں آ جائیں اور ان کی راہ چل پڑیں وہ ہمارے تابع فرمان ہیں اور ہماری مرضی کے عامل ہیں وہ ان کی باطل خواہش کی تابعداری ہرگز نہیں کریں گے نہ ان سے یہ ہو سکتا ہے کہ ہمارا حکم آ جانے کے بعد ان کے قبلہ کی طرف توجہ کریں پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے در اصل علماء کو دھمکایا گیا کہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد کسی کے پیچھے لگ جانا اور اپنی یا دوسروں کی خواہش پرستی کرنا یہ صریح ظلم ہے۔
145۔ 1 کیونکہ یہود کی مخالفت تو حسد وعناد کی بنا پر ہے، اس لئے دلائل کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ گویا اثر پزیری کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا دل صاف ہو۔ 145۔ 2 کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الٰہی کے پابند ہیں جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے ایسا حکم نہ ملے آپ ان کے قبلے کو کیونکر اختیار کرسکتے ہیں۔ 145۔ 3 یہود کا قبلہ بیت المقدس اور عیسائیوں کا بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔ جب اہل کتاب کے یہ دو گروہ بھی ایک قبلے پر متفق نہیں تو مسلمانوں سے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ان کی موافقت کریں گے۔ 145۔ 4 یہ وعید پہلے بھی گزر چکی ہے، مقصد امت کو متنبہ کرنا ہے کہ قرآن و حدیث کے علم کے باوجود اہل بدعت کے پیچھے لگنا، ظلم اور گمراہی ہے۔
(آیت 145) ➊ {مَا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ}: یعنی وہ کعبہ کے قبلہ ہونے کو خوب جانتے ہیں، مگر ان کا عناد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ اس کی حقانیت پر خواہ دنیا بھر کے دلائل پیش کر دیں وہ آپ کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ➋ {وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ: } اور آپ بھی وحی الٰہی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کر سکتے۔ {”بِتَابِعٍ“} میں باء کے ساتھ نفی کی تاکید ہو گئی، اس لیے ترجمہ ”اور نہ تو کسی صورت … “ کیا گیا ہے۔ ➌ {وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ:} اور ان کے باہمی عناد کا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرۂ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کی مشرقی جانب۔ (قرطبی) ➍ {وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ …:} { ”اَهْوَاءٌ“ } کی واحد { ”هَوًي“ } ہے جس کا معنی خواہش نفس ہے۔ قرآن وسنت کی پیروی تو «مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ» یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے علم کی پیروی ہے، اس کے سوا دین میں جو بھی شامل کیا جائے وہ انسانی خواہش کی پیروی ہے، خواہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے آئے، یا ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے، یا مسلمان اپنے پاس سے ایجاد کر لیں، سب خواہش کی پیروی ہے۔ اس لیے علمائے اسلام اہل بدعت کو عام طور پر ”اہل اہواء“ کہتے ہیں۔ صاحب کشاف نے ذکرفرمایا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی تاکید کئی وجوہ کی بنا پر کی گئی ہے۔ صاحب کشاف نے دس وجوہ سے اس تاکید کی تفصیل بیان کی ہے۔ مزید دیکھیے تفسیر ابن عاشور۔ اس آیت میں اگرچہ خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہے مگر مراد امت ہے، علماء اور عوام سب اس میں شامل ہیں، کیونکہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایسا کریں تو آپ سے کہا جائے: «اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ» تو امتی تو ایسا کرنے سے بالاولیٰ ظالموں میں سے ہوں گے۔ پھر کیا حال ہو گا ان عالموں کا جو منع کرنے کے بجائے تیجے، ساتے، چالیسویں، میلاد، تعزیے، عرس اور قوالی وغیرہ میں شرکت کرتے، خود ساختہ وظیفے کرتے، بعض وظیفوں میں قطب کی طرف رخ کرتے اور قبلے کی طرح اس کی تعظیم کرتے اور ان کاموں کو باعث ثواب قرار دیتے ہیں!
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اِس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات وغیرہ) دی ہے وہ اس (رسول(ص)) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں (مگر اس کے باوجود) ان کا ایک گروہ جان بوجھ کر حق کو چھپا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کوپہچانتے ہیں اور بے شک ان میں سے کچھ لوگ یقینا حق کو چھپاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت عرب دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی گواہ رہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ [مسند احمد:81/8:صحیح]
قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ آسمانوں کا امین فرشتہ زمین کے امین شخص پر نازل ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعریف بتا دی یعنی جبرائیل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر پروردگار عالم نے ان کی صفتیں بیان کیں جو سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے میں کیا شک رہا؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیک نگاہ کیوں نہ پہچان لیں؟ بلکہ ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں شک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کچھ شک نہیں، [تفسیر قرطبی:163/2] غرض یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے ایک بڑے مجمع میں ایک شخص اپنے لڑکے کو پہچان لیتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جو اہل کتاب کی آسمانی کتابوں میں ہیں وہ تمام صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح نمایاں ہیں کہ بیک نگاہ ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود اس علم حق کے پھر بھی یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم دیا کہ خبردار تم ہرگز حق میں شک نہ کرنا۔
146۔ 1 یہاں اہل کتاب کے ایک فریق کو حق کے چھپانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کے ایک فریق عبد اللہ بن سلام ؓ جیسے لوگوں کا بھی جو اپنے صدق و صفائے باطنی کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوا۔
(آیت 146) اوپر کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ اہل کتاب کعبہ کے قبلہ برحق ہونے کو خوب جانتے تھے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ قبلہ کی طرح اہل کتاب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی آخر الزماں ہونے میں کچھ شبہ نہیں ہے، مگر پھر بھی ان میں سے اہل علم کا ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے۔ ایک گروہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے بعض علماء جیسے (یہود میں سے) عبد اللہ بن سلام (اور نصاریٰ میں سے) تمیم داری اور صہیب رضی اللہ عنہم وغیرہ وہ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی صادق ہونے کو پہچاننے کے بعد مسلمان ہو گئے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
یہ قطعی ایک امر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کے رب کی طرف سے یہ سراسر حق ہے، خبردار آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا
احمد رضا خان بریلوی
(اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا -
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)! تحویل قبلہ وغیرہ) برحق ہے اور تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے لہٰذا ہرگز شک و شبہ کرنے والوں یا جھگڑا کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
عبدالسلام بن محمد
یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے، پس تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت عرب دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی گواہ رہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ [مسند احمد:81/8:صحیح]
قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ آسمانوں کا امین فرشتہ زمین کے امین شخص پر نازل ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعریف بتا دی یعنی جبرائیل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر پروردگار عالم نے ان کی صفتیں بیان کیں جو سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے میں کیا شک رہا؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیک نگاہ کیوں نہ پہچان لیں؟ بلکہ ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں شک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کچھ شک نہیں، [تفسیر قرطبی:163/2] غرض یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے ایک بڑے مجمع میں ایک شخص اپنے لڑکے کو پہچان لیتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جو اہل کتاب کی آسمانی کتابوں میں ہیں وہ تمام صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح نمایاں ہیں کہ بیک نگاہ ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود اس علم حق کے پھر بھی یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم دیا کہ خبردار تم ہرگز حق میں شک نہ کرنا۔
147۔ 1 پیغمبر پر اللہ کی طرف سے جو بھی حکم اترتا ہے، وہ یقینا حق ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
(آیت 147) ➊ { ”اَلْحَقُّ“ } میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا گیا ہے، یعنی یہ حق جسے یہود و نصاریٰ چھپا رہے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوں۔ ➋ {الْمُمْتَرِيْنَ:} یہ {” اِمْتِرَاءٌ “} یعنی باب افتعال سے اسم فاعل کی جمع ہے، مصدر { ”مِرْيَةٌ“ } (بمعنی شک) سے فعل مجرد نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ باب افتعال سے آتا ہے۔ (ابن عاشور)
ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے، جس کی طرف وہ مڑتا ہے پس بھلا ئیوں کی طرف سبقت کرو جہاں بھی تم ہو گے، اللہ تمہیں پا لے گا اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے تم نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا بیشک اللہ جو چاہے کرے-
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر ایک کے لئے ایک سمت ہے جدھر وہ (نماز کے لیے) منہ کرتا ہے (اے مسلمانو! تم اس نزاع کو چھوڑ دو) پس تم بڑھ چڑھ کر نیکیوں کی طرف سبقت کرو۔ تم جہاں بھی ہوگے اللہ تم سب کو (جزا و سزا کے لئے ایک جگہ) لے آئے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے، جس کی طرف وہ منہ پھیرنے والا ہے، سو نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تمھیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سچا قبلہ ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب والوں کا ایک قبلہ ہے لیکن سچا قبلہ وہ ہے جس پر مسلمان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:193/3] ابوالعالیہ کا قول ہے کہ یہود کا بھی قبلہ ہے نصرانیوں کا بھی قبلہ ہے اور تمہارا بھی قبلہ ہے لیکن ہدایت والا قبلہ وہی ہے جس پر اے مسلمانو تم ہو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:121/1] حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کعبہ کو قبلہ مانتی ہے وہ بھلائیوں میں سبقت کرے آیت «مُوَلِّيهَا» کی دوسری قرأت «مُوَلَّاھَا» ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا» [ 5۔ المائدہ: 48 ] ، یعنی ہر شخص کو اپنے اپنے قبلہ کی پڑی ہوئی ہے ہر شخص اپنی اپنی راہ لگا ہوا ہے پھر فرمایا کہ گو تمہارے جسم اور بدن مختلف ہو جائیں گو تم ادھر ادھر بکھر جاؤ لیکن اللہ تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے اسی زمین سے جمع کر لے گا۔
148۔ 1 یعنی ہر مذہب والے نے اپنا پسندیدہ قبلہ بنا رکھا ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ کہ ہر ایک مذہب نے اپنا ایک راستہ اور طریقہ بنا رکھا ہے، جیسے قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ) 5:48 یعنی اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور ضلالت دونوں کی وضاحت کے بعد انسان کو ان دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنے کی جو آزادی دی ہے، اس کی وجہ سے مختلف طریقے اور دستور لوگوں نے بنا لئے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ایک ہی راستے یعنی ہدایت کے راستے پر چلا سکتا تھا، لیکن یہ سب اختیارات دینے سے مقصود ان کا امتحان ہے۔ اس لئے اے مسلمانوں تم تو خیر کی طرف سبقت کرو، یعنی نیکی اور بھلائی ہی کے راستے پر گامزن رہو یہ وحی الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا راستہ ہے جس سے دیگر محروم ہیں۔
(آیت 148) ➊ {وِجْهَةٌ:} وہ جگہ جس طرف منہ کیا جائے۔ اس کا وزن {”فِعْلَةٌ“} ہے، جو اس {”فِعْلٌ“} کا مؤنث ہے جو بمعنی مفعول ہے، جیسے {”ذِبْحٌ“} بمعنی {”مَذْبُوْحٌ“} (ابن عاشور) ➋ اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ اگرچہ کعبہ تھا، مگر بعد میں ہر ایک نے اپنی اپنی مرضی سے کسی نہ کسی سمت کو اپنا قبلہ مقرر کر لیا۔ چنانچہ یہود نے بیت المقدس کے صخرہ کو قبلہ قرار دے لیا اور نصاریٰ نے بیت المقدس کی مشرقی جانب کو۔ اب تمھارے لیے کعبہ کو قبلہ مقرر کر دیا گیا ہے، اس لیے ان لوگوں سے اس بحث کا کوئی خاص فائدہ نہیں کہ کون سی سمت افضل ہے۔ اصل چیز نیکیوں میں سبقت ہے، اس کا اہتمام کرو، کیونکہ تم جہاں بھی ہو گے تمھیں اللہ کے حضور پیش ہونا پڑے گا، جیسا کہ فرمایا: ”نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگ دستی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔“ [ البقرۃ: ۱۷۷ ] نیکیوں میں سبقت میں نماز کو وقت پر ادا کرنا، پہلی صف میں پہلی تکبیر کے ساتھ شامل ہونا، اسی طرح جہاد کی اولین صفوں میں پہنچنا بھی شامل ہے۔
تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو، وہیں اپنا رُخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل حق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ جہاں سے نکلیں اپنا منھ (نماز کے لئے) مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں، یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بےخبر نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جہاں سے ا ٓ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں-
علامہ محمد حسین نجفی
اور (اے پیغمبر(ص)) آپ جب بھی کہیں نکلیں تو (نماز کے وقت) اپنا رخ مسجد حرام کی طرف رکھیں۔ بے شک یہ (تبدیلی قبلہ) آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل و بے خبر نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو جہاں سے نکلے سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور بلاشبہ یقینا یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تین بار نزول حکم ٭٭
یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے۔ پہلے حکم میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو باربار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمایا تاکہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہیئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا-
پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی علیہ السلام پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں [ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ] پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بے جان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 149)یعنی فرض نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ایسا حکم ہے کہ سفر میں بھی اس کا اہتمام ضروری ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ سفر کی مشقت کی بنا پر یہاں تخفیف ہو گی، بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: «وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ» اس حکم کی تاکید کے لیے ہے اور «وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ» اس کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ہے، تاکہ اسے معمولی سمجھ کر کوئی نظر انداز نہ کرے۔ (ابن عاشور)
اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو، اپنا رُخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نما ز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ہاں جو ظالم ہیں، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو اُن سے تم نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کی کوئی حجت تم پر باقی نہ ره جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ﻇلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راه راست پاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے مگر جو ان میں ناانصافی کریں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آپ جب بھی کہیں نکلیں تو (نماز کے وقت) اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف ہی موڑیں اور (اے مسلمانو!) تم بھی جہاں کہیں ہو (نماز کے وقت) اپنے مونہوں کو اسی (مسجد الحرام) کی طرف ہی کر لیا کرو۔ (اس حکم کی بار بار تکرار سے ایک غرض یہ ہے کہ) تاکہ لوگوں (مخالفین) کو تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ ملے۔ سوا ان لوگوں کے لیے جو ظالم ہیں (کہ ان کی زبان تو کسی طرح بھی بند نہیں ہو سکتی)۔ تو تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو (دوسری غرض یہ ہے) کہ تم پر میری نعمت تام و تمام ہو جائے (اور تیسری غرض یہ ہے) کہ شاید تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ ۔
عبدالسلام بن محمد
اور تو جہاں سے نکلے سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور تم جہاں کہیں ہو سو اپنے چہرے اس کی طرف پھیر لو، تاکہ لوگوں کے پاس تمھارے خلاف کوئی حجت نہ رہے، سوائے ان کے جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے، سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور تاکہ تم ہدایت پائو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تین بار نزول حکم ٭٭
یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے۔ پہلے حکم میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو باربار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمایا تاکہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہیئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا-
پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی علیہ السلام پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں [ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ] پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بے جان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی۔
150۔ 1 قبلہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم تین مرتبہ دوہرایا گیا یا تو اس کی تاکید اور اہمیت واضح کرنے کے لئے یا چونکہ نسخ کا حکم پہلا تجربہ تھا اس لئے ذہنی خلجان دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسے بار بار دھرا کر دلوں میں راسخ کردیا جائے۔ ایک علت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی اور خواہش تھی وہاں اسے بیان کیا گیا ہے۔ دوسری علت، ہر اہل ملت اور صاحب دعوت کے لئے ایک مستقل مرکز کا وجود ہے وہاں اسے دہرایا۔ تیسری، علت مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہے وہاں اسے بیان کیا گیا ہے (فتح القدیر) 150۔ 2 یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور نماز یہ بیت المقدس کی طرف پڑھتے ہیں۔ 150۔ 3 یہاں ظَلَمُوْا سے مراد عناد رکھنے والے ہیں یعنی اہل کتب میں سے جو عناد رکھنے والے ہیں، وہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخری الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور عناد کہیں گے کہ بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بلآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ 150۔ 4 ظالموں سے نہ ڈرو۔ یعنی مشرکوں کی باتوں کی پروا مت کرو۔ انہوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا قبلہ تو اختیار کرلیا، عنقریب ہمارا دین بھی اپنا لیں گے مجھ سے ڈرتے رہو، جو حکم میں دیتا ہوں اس کا بلا خوف عمل کرتے رہو۔ تحویل قبلہ کو اتمام نعمت اور ہدایت یافتگی سے تعبیر فرمایا کہ حکم الہی پر عمل کرنا یقینا انسان کو انعام و اکرام کا مستحق بھی بناتا ہے اور ہدایت کی کی توفیق بھی اسے نصیب ہوتی ہے۔
(آیت 150) ➊ اس آیت میں پچھلا حکم دہرایا گیا ہے، پہلے جملے { ”فَوَلِّ وَجْهَكَ“ } میں مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور دوسرے جملے {”فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ“} میں تمام مسلمان مخاطب ہیں، تاکہ یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص نہ سمجھا جائے۔ دہرانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے کی مزید حکمتیں بیان کرنا مقصود ہے۔ جن میں سے پہلی حکمت یہ ہے کہ لوگوں میں سے کسی کے پاس تمھارے خلاف کوئی دلیل باقی نہ رہے۔ اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ پہلی کتابوں میں تو آخری نبی کا قبلہ مسجد حرام ہے، انھوں نے بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنا رکھا ہے؟ اور کفار عرب یہ نہ کہہ سکیں کہ ملتِ ابراہیم کا قبلہ تو بیت اللہ ہے، یہ اسے کیوں اختیار نہیں کر رہے؟ دلیل تو ان میں سے کسی کے پاس نہیں رہے گی، البتہ ان میں سے بے انصاف لوگ خاموش نہیں ہوں گے، سو ان سے مت ڈرو، بس مجھی سے ڈرتے رہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح اس آخری امت کے احکام قیامت تک مکمل اور غیر منسوخ کرکے تم پر اپنی نعمت تمام کی ہے قبلہ کے بارے میں بھی یہ نعمت تمام ہو اور تیسری حکمت دوسرے احکام کی طرح قبلہ میں بھی تمھیں راہِ حق کی ہدایت عطا کرنا ہے۔ ➋ شروع آیات سے یہاں تک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ، مسلمانوں کو یہ حکم دو مرتبہ، اس کے حق ہونے کا ذکر تین مرتبہ اور ہر جگہ اس کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ آیا ہے، اس سے اس حکم کی تاکید اور اس کی شان واضح ہو رہی ہے۔ درمیان میں دوسرے جملے مثلاً اہل کتاب کا اس کے حق ہونے کو جاننا اور اللہ کا تمھارے عمل سے بے خبر نہ ہونا وغیرہ تاکید مزید کا کام دے رہے ہیں۔ (ابن عاشور)