بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 147
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 147
آیت نمبر: 147 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۱۴۷﴾٪
یہ قطعی ایک امر حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو
آپ کے رب کی طرف سے یہ سراسر حق ہے، خبردار آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا
(اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا -
(اے رسول(ص)! تحویل قبلہ وغیرہ) برحق ہے اور تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے لہٰذا ہرگز شک و شبہ کرنے والوں یا جھگڑا کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔
یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے، پس تو ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت عرب دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی گواہ رہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ [مسند احمد:81/8:صحیح] ‏‏‏‏

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ آسمانوں کا امین فرشتہ زمین کے امین شخص پر نازل ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعریف بتا دی یعنی جبرائیل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر پروردگار عالم نے ان کی صفتیں بیان کیں جو سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے میں کیا شک رہا؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیک نگاہ کیوں نہ پہچان لیں؟ بلکہ ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں شک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کچھ شک نہیں، [تفسیر قرطبی:163/2] ‏‏‏‏ غرض یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے ایک بڑے مجمع میں ایک شخص اپنے لڑکے کو پہچان لیتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جو اہل کتاب کی آسمانی کتابوں میں ہیں وہ تمام صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح نمایاں ہیں کہ بیک نگاہ ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود اس علم حق کے پھر بھی یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم دیا کہ خبردار تم ہرگز حق میں شک نہ کرنا۔

📖 احسن البیان

147۔ 1 پیغمبر پر اللہ کی طرف سے جو بھی حکم اترتا ہے، وہ یقینا حق ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 147) ➊ { ”اَلْحَقُّ“ } میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا گیا ہے، یعنی یہ حق جسے یہود و نصاریٰ چھپا رہے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوں۔ ➋ {الْمُمْتَرِيْنَ:} یہ {” اِمْتِرَاءٌ “} یعنی باب افتعال سے اسم فاعل کی جمع ہے، مصدر { ”مِرْيَةٌ“ } (بمعنی شک) سے فعل مجرد نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ باب افتعال سے آتا ہے۔ (ابن عاشور)
← پچھلی آیت (146) پوری سورۃ اگلی آیت (148) →