بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 146
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 146
آیت نمبر: 146 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنۡہُمۡ لَیَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۴۶﴾ؔ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اِس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے
جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -
جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات وغیرہ) دی ہے وہ اس (رسول(ص)) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں (مگر اس کے باوجود) ان کا ایک گروہ جان بوجھ کر حق کو چھپا رہا ہے۔
وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کوپہچانتے ہیں اور بے شک ان میں سے کچھ لوگ یقینا حق کو چھپاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت عرب دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی گواہ رہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ [مسند احمد:81/8:صحیح] ‏‏‏‏

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ آسمانوں کا امین فرشتہ زمین کے امین شخص پر نازل ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعریف بتا دی یعنی جبرائیل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر پروردگار عالم نے ان کی صفتیں بیان کیں جو سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے میں کیا شک رہا؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیک نگاہ کیوں نہ پہچان لیں؟ بلکہ ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں شک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کچھ شک نہیں، [تفسیر قرطبی:163/2] ‏‏‏‏ غرض یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے ایک بڑے مجمع میں ایک شخص اپنے لڑکے کو پہچان لیتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جو اہل کتاب کی آسمانی کتابوں میں ہیں وہ تمام صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح نمایاں ہیں کہ بیک نگاہ ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود اس علم حق کے پھر بھی یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم دیا کہ خبردار تم ہرگز حق میں شک نہ کرنا۔

📖 احسن البیان

146۔ 1 یہاں اہل کتاب کے ایک فریق کو حق کے چھپانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کے ایک فریق عبد اللہ بن سلام ؓ جیسے لوگوں کا بھی جو اپنے صدق و صفائے باطنی کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 146) اوپر کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ اہل کتاب کعبہ کے قبلہ برحق ہونے کو خوب جانتے تھے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ قبلہ کی طرح اہل کتاب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی آخر الزماں ہونے میں کچھ شبہ نہیں ہے، مگر پھر بھی ان میں سے اہل علم کا ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے۔ ایک گروہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے بعض علماء جیسے (یہود میں سے) عبد اللہ بن سلام (اور نصاریٰ میں سے) تمیم داری اور صہیب رضی اللہ عنہم وغیرہ وہ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی صادق ہونے کو پہچاننے کے بعد مسلمان ہو گئے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
← پچھلی آیت (145) پوری سورۃ اگلی آیت (147) →