بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 150
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 150
آیت نمبر: 150 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ حَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ شَطۡرَہٗ ۙ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَیۡکُمۡ حُجَّۃٌ ٭ۙ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ ٭ فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِیۡ ٭ وَ لِاُتِمَّ نِعۡمَتِیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾ۙۛ
اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو، اپنا رُخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کر کے نما ز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ہاں جو ظالم ہیں، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو اُن سے تم نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں اور اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے
اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کی کوئی حجت تم پر باقی نہ ره جائے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ﻇلم کیا ہے تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راه راست پاؤ
اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے مگر جو ان میں ناانصافی کریں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ،
اور آپ جب بھی کہیں نکلیں تو (نماز کے وقت) اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف ہی موڑیں اور (اے مسلمانو!) تم بھی جہاں کہیں ہو (نماز کے وقت) اپنے مونہوں کو اسی (مسجد الحرام) کی طرف ہی کر لیا کرو۔ (اس حکم کی بار بار تکرار سے ایک غرض یہ ہے کہ) تاکہ لوگوں (مخالفین) کو تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ ملے۔ سوا ان لوگوں کے لیے جو ظالم ہیں (کہ ان کی زبان تو کسی طرح بھی بند نہیں ہو سکتی)۔ تو تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو (دوسری غرض یہ ہے) کہ تم پر میری نعمت تام و تمام ہو جائے (اور تیسری غرض یہ ہے) کہ شاید تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ ۔
اور تو جہاں سے نکلے سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور تم جہاں کہیں ہو سو اپنے چہرے اس کی طرف پھیر لو، تاکہ لوگوں کے پاس تمھارے خلاف کوئی حجت نہ رہے، سوائے ان کے جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے، سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور تاکہ تم ہدایت پائو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تین بار نزول حکم ٭٭

یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے۔ پہلے حکم میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو باربار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر فرمایا تاکہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہیئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا-

پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی علیہ السلام پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں [ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ] ‏‏‏‏ پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بے جان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی۔

📖 احسن البیان

150۔ 1 قبلہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم تین مرتبہ دوہرایا گیا یا تو اس کی تاکید اور اہمیت واضح کرنے کے لئے یا چونکہ نسخ کا حکم پہلا تجربہ تھا اس لئے ذہنی خلجان دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسے بار بار دھرا کر دلوں میں راسخ کردیا جائے۔ ایک علت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی اور خواہش تھی وہاں اسے بیان کیا گیا ہے۔ دوسری علت، ہر اہل ملت اور صاحب دعوت کے لئے ایک مستقل مرکز کا وجود ہے وہاں اسے دہرایا۔ تیسری، علت مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہے وہاں اسے بیان کیا گیا ہے (فتح القدیر) 150۔ 2 یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور نماز یہ بیت المقدس کی طرف پڑھتے ہیں۔ 150۔ 3 یہاں ظَلَمُوْا سے مراد عناد رکھنے والے ہیں یعنی اہل کتب میں سے جو عناد رکھنے والے ہیں، وہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخری الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور عناد کہیں گے کہ بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بلآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ 150۔ 4 ظالموں سے نہ ڈرو۔ یعنی مشرکوں کی باتوں کی پروا مت کرو۔ انہوں نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا قبلہ تو اختیار کرلیا، عنقریب ہمارا دین بھی اپنا لیں گے مجھ سے ڈرتے رہو، جو حکم میں دیتا ہوں اس کا بلا خوف عمل کرتے رہو۔ تحویل قبلہ کو اتمام نعمت اور ہدایت یافتگی سے تعبیر فرمایا کہ حکم الہی پر عمل کرنا یقینا انسان کو انعام و اکرام کا مستحق بھی بناتا ہے اور ہدایت کی کی توفیق بھی اسے نصیب ہوتی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 150) ➊ اس آیت میں پچھلا حکم دہرایا گیا ہے، پہلے جملے { ”فَوَلِّ وَجْهَكَ“ } میں مخاطب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور دوسرے جملے {”فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ“} میں تمام مسلمان مخاطب ہیں، تاکہ یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خاص نہ سمجھا جائے۔ دہرانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے کی مزید حکمتیں بیان کرنا مقصود ہے۔ جن میں سے پہلی حکمت یہ ہے کہ لوگوں میں سے کسی کے پاس تمھارے خلاف کوئی دلیل باقی نہ رہے۔ اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ پہلی کتابوں میں تو آخری نبی کا قبلہ مسجد حرام ہے، انھوں نے بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنا رکھا ہے؟ اور کفار عرب یہ نہ کہہ سکیں کہ ملتِ ابراہیم کا قبلہ تو بیت اللہ ہے، یہ اسے کیوں اختیار نہیں کر رہے؟ دلیل تو ان میں سے کسی کے پاس نہیں رہے گی، البتہ ان میں سے بے انصاف لوگ خاموش نہیں ہوں گے، سو ان سے مت ڈرو، بس مجھی سے ڈرتے رہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ جس طرح اس آخری امت کے احکام قیامت تک مکمل اور غیر منسوخ کرکے تم پر اپنی نعمت تمام کی ہے قبلہ کے بارے میں بھی یہ نعمت تمام ہو اور تیسری حکمت دوسرے احکام کی طرح قبلہ میں بھی تمھیں راہِ حق کی ہدایت عطا کرنا ہے۔ ➋ شروع آیات سے یہاں تک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ، مسلمانوں کو یہ حکم دو مرتبہ، اس کے حق ہونے کا ذکر تین مرتبہ اور ہر جگہ اس کی طرف رخ کرنے کا حکم تین مرتبہ آیا ہے، اس سے اس حکم کی تاکید اور اس کی شان واضح ہو رہی ہے۔ درمیان میں دوسرے جملے مثلاً اہل کتاب کا اس کے حق ہونے کو جاننا اور اللہ کا تمھارے عمل سے بے خبر نہ ہونا وغیرہ تاکید مزید کا کام دے رہے ہیں۔ (ابن عاشور)
← پچھلی آیت (149) پوری سورۃ اگلی آیت (151) →