بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 141
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 141
آیت نمبر: 141 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ لَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ ۚ وَ لَا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۱﴾٪
وہ کچھ لوگ تھے، جو گزر چکے اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا"
یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے
وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔
یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم کماؤگے اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔
یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرمایا تمہارے اعمال اللہ سے پوشیدہ نہیں، اس کا محیط علم سب چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے، وہ ہر بھلائی اور برائی کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یہ دھمکی دے کر پھر فرمایا کہ یہ پاکباز جماعت تو اللہ کے پاس پہنچ چکی۔ تم جب ان کے نقش قدم پر نہ چلو تو صرف ان کی اولاد میں سے ہونا تمہیں اللہ کے ہاں کوئی عزت اور نفع نہیں دے سکتا ہے۔ ان کے نیک اعمال میں تمہارا کوئی حصہ نہیں اور تمہاری بد اعمالیوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں“ جو کرے سو بھرے“ تم نے جب ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام انبیاء کو جھٹلایا بالخصوص اے وہ لوگو! جو نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ہو۔ تم تو بڑے ہی وبال میں آ گئے، تم نے تو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا جو سید الانبیاء جو ختم المرسلین ہیں، جو رسول رب العالمین ہیں جن کی رسالت تمام انسانوں اور جنوں کی طرف ہے۔ جن کی رسالت کے ماننے کا ہر ایک شخص مکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بےشمار درود و سلام آپ پر نازل ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء کرام پر بھی۔

📖 احسن البیان

141۔ 1 اس آیت میں پھر کسب و عمل کی اہمیت بیان فرما کر بزرگوں کی طرف سے لگاؤ یا ان پر اعتماد کو بےفائدہ قرار دیا گیا۔ جس کو اس کا عمل پیچھے چھوڑ گیا اس کا سلسلہ اسے اگے نہیں بڑھائے گا۔ مطلب ہے کہ تمہارے خاندان کی نیکیوں سے تمہیں کوئی فائدہ اور ان کے گناہوں پر تم سے پوچھ گیچھ نہیں ہوگی بلکہ ان کے عملوں کی بابت تم سے یا تمہارے عملوں کی بابت ان سے نہیں پوچھا جائے گا آیت (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) 35:18۔ آیت (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) 53:39 کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 141) اس آیت میں دوبارہ تنبیہ فرمائی کہ نجات کا تعلق تو اپنی کمائی اور اپنے عمل پر ہے، اگر نجات چاہتے ہو تو ان انبیاء و صالحین کی طرح خود عمل کرو، ورنہ محض ان کی طرف نسبت اور ان کی کرامتیں بیان کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهٖ نَسَبُهُ] [ مسلم، الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع …: ۲۶۹۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔“
← پچھلی آیت (140) پوری سورۃ اگلی آیت (142) →