بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ البقرة — Surah Baqarah
آیت نمبر 139
کل آیات: 286
قرآن کریم البقرة آیت 139
آیت نمبر: 139 — سورۃ البقرة islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اَتُحَآجُّوۡنَنَا فِی اللّٰہِ وَ ہُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ۚ وَ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ۚ وَ نَحۡنُ لَہٗ مُخۡلِصُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾ۙ
اے نبیؐ! اِن سے کہو: "کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو؟حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں، تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں
آپ کہہ دیجیئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں
تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں-
(اے رسول(ص)) کہہ دیجئے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ وہی ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور ہم تو اخلاص کے ساتھ اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
کہہ دے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا رب اور تمھارا رب ہے اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال اور ہم اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کے اعمال پر بیزاری ٭٭

مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہا ہے کہ“ تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں“ اور جگہ فرمایا آیت «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» الخ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے [ نیک ] ‏‏‏‏ کام سے اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔“ اور جگہ ارشاد ہے آیت «حَاجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3۔ آل عمران: 20 ] ‏‏‏‏ ”اگر یہ تجھ سے جھگڑیں تو تو کہہ دے میں نے اور میرے ماننے والوں نے اپنے منہ اللہ کی طرف کر دئیے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا آیت «وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ» [ 6۔ الانعام: 80 ] ‏‏‏‏ کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے اختلاف کرتے ہو؟ اور جگہ ہے؟ آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ» [ 2۔ البقرہ: 258 ] ‏‏‏‏ تو نے اسے بھی دیکھا جو ابراہیم [ علیہ السلام ] ‏‏‏‏ سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

پس یہاں ان جھگڑالو لوگوں سے کہا گیا کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہم تم سے الگ۔ ہم عبادت اور توجہ میں اخلاص اور یکسوئی کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کے دعوے کی تردید ہو رہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی، نہ نصرانی، تم اے یہودیو اور اے نصرانیو کیوں یہ باتیں بنا رہے ہو؟ کیا تمہارا علم اللہ سے بھی بڑھ گیا ہے اللہ نے تو صاف فرما دیا آیت «مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ 3۔ آل عمران: 67 ] ‏‏‏‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک، بلکہ خالص مسلمان تھے، ان کا حق کی شہادت کو چھپا کر بڑا ظلم کرنا یہ تھا کہ اللہ کی کتاب جو اس کے پاس آئی اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب علیہم السلام وغیرہ یہودیت اور نصرانیت سے الگ تھے لیکن پھر نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو بھی چھپا دیا۔

📖 احسن البیان

139۔ 1 کیا تم ہم سے اس بارے میں جھگڑتے ہو کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں، اسی کے لئے اخلاص و نیاز مندی کے جذبات رکھتے ہیں اور اسی کے احکامات کی پیروی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ ہمارا ہی نہیں تمہارا بھی ہے اور تمہیں بھی اس کے ساتھ یہی معاملہ کرنا چاہیے جو ہم کرتے ہیں اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تمہارا عمل تمہارے ساتھ، ہمارا عمل ہمارے ساتھ۔ ہم تو اسی کے لئے خاص عمل کا اہتمام کرنے والے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 139) یہود مسلمانوں سے جھگڑتے کہ تمام انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں، پھر یہ آخری نبی عرب سے کیسے مبعوث ہو گئے؟ ہمارا دین سب سے بہتر اور تمام انبیاء کا دین ہے، تو اس آیت میں ان کی تردید فرمائی گئی ہے کہ ہمارا تمھارا سب کا رب ایک ہے اور ہم عبادت میں مخلص بھی ہیں، پھر تمھارا یہ کہنا کہ ہم بہتر ہیں، یہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟
← پچھلی آیت (138) پوری سورۃ اگلی آیت (140) →