بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث اور قصہ ابی الیسر کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زہد اور رقت انگیز باتیں باب: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی لمبی حدیث اور قصہ ابی الیسر کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 3006 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبَا الْيَسَرِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالسِّيَاقُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنْ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِينَا أَبَا الْيَسَرِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ مَعَهُ ضِمَامَةٌ مِنْ صُحُفٍ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيَّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيَّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا عَمِّ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفْعَةً مِنْ غَضَبٍ؟، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ، فَسَلَّمْتُ، فَقُلْتُ: ثَمَّ هُوَ، قَالُوا: لَا فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ جَفْرٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟، قَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلَيَّ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ فَخَرَجَ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي؟، قَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ لَا أَكْذِبُكَ خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ، وَأَنْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: اللَّهِ، قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: اللَّهِ، قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: فَأَتَى بِصَحِيفَتِهِ، فَمَحَاهَا بِيَدِهِ، فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً، فَاقْضِنِي وَإِلَّا أَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ، وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا، وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہارون بن معروف اور محمد بن عباد نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ دونوں سے ملتے جلتے ہیں جبکہ سیاق ہارون کا ہے۔ دونوں نے کہا: ہمیں حاتم بن اسماعیل نے یعقوب بن مجاہد ابوحزرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور میرے والد طلب علم کے لیے انصار کے اس قبیلے کی ہلاکت سے پہلے اس میں گئے، سب سے پہلے شخص جن سے ہماری ملاقات ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی حضرت ابویسر رضی اللہ عنہ تھے، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا جس کے پاس صحائف (دستاویزات) کا ایک مجموعہ تھا، حضرت ابویسر رضی اللہ عنہ کے بدن پر ایک دھاری دار چادر اور معافری کا بنا ہوا ایک کپڑا تھا۔ اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک دھاری دار چادر اور ایک معافری کپڑا تھا۔ میرے والد نے ان سے کہا: چچا! میں غصے کی بنا پر آپ کے چہرے پر رنگ کی تبدیلی دیکھ رہا ہوں، انہوں نے کہا: ہاں، فلاں بن فلاں، جس کا تعلق بنو حرام سے ہے، سلام کیا اور میں نے پوچھا: کیا وہ ہے؟ گھر والوں نے کہا: نہیں ہے، پھر اچانک اس کا ایک کم عمر لڑکا میرے سامنے گھر سے نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تیرا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ میری والدہ کے چھپر کھٹ میں گھس گئے ہیں۔ میں نے کہا: نکل کر میری طرف آ جاؤ، مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم کہاں ہو۔ وہ باہر نکل آیا، میں نے پوچھا: اس بات کا باعث کیا بنا کہ تم مجھ سے چھپ گئے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو بتاتا ہوں اور میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا، اللہ کی قسم! میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں میں آپ سے بات کروں اور جھوٹ بولوں اور میں آپ سے وعدہ کروں اور آپ کے ساتھ اس کی خلاف ورزی کروں، جبکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں تنگ دست تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے (دوبارہ) کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے (پھر) کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! کہا: پھر انہوں نے اپنا صحیفہ (جس پر قرض کی تحریر لکھی ہوئی تھی) نکالا اور اپنے ہاتھ سے اس کو مٹا دیا (پھر مقروض سے) کہا: اگر تمھیں ادائیگی کے لیے مال مل جائے تو میرا قرض لوٹا دینا اور نہیں تو تم بری الذمہ ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری ان دونوں آنکھوں کی بصارت نے (دیکھا) اور (یہ کہتے ہوئے) انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی دو آنکھوں پر رکھیں، اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یاد رکھا۔ اور انہوں نے اپنے دل والی جگہ پر اشارہ کیا۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض ختم کر دیا اللہ تعالیٰ اپنے سائے سے اس پر سایہ کرے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7512]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7512 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبَا الْيَسَرِ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالسِّيَاقُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنْ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِينَا أَبَا الْيَسَرِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ مَعَهُ ضِمَامَةٌ مِنْ صُحُفٍ، وَعَلَى أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيَّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيَّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا عَمِّ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفْعَةً مِنْ غَضَبٍ؟، قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ، فَسَلَّمْتُ، فَقُلْتُ: ثَمَّ هُوَ، قَالُوا: لَا فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ جَفْرٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟، قَالَ: سَمِعَ صَوْتَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي، فَقُلْتُ: اخْرُجْ إِلَيَّ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ فَخَرَجَ، فَقُلْتُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي؟، قَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ، ثُمَّ لَا أَكْذِبُكَ خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ، وَأَنْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: اللَّهِ، قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: اللَّهِ، قُلْتُ: آللَّهِ، قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: فَأَتَى بِصَحِيفَتِهِ، فَمَحَاهَا بِيَدِهِ، فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً، فَاقْضِنِي وَإِلَّا أَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ، وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا، وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہارون بن معروف اور محمد بن عباد نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ دونوں سے ملتے جلتے ہیں جبکہ سیاق ہارون کا ہے۔ دونوں نے کہا: ہمیں حاتم بن اسماعیل نے یعقوب بن مجاہد ابوحزرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور میرے والد طلب علم کے لیے انصار کے اس قبیلے کی ہلاکت سے پہلے اس میں گئے، سب سے پہلے شخص جن سے ہماری ملاقات ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی حضرت ابویسر رضی اللہ عنہ تھے، ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا جس کے پاس صحائف (دستاویزات) کا ایک مجموعہ تھا، حضرت ابویسر رضی اللہ عنہ کے بدن پر ایک دھاری دار چادر اور معافری کا بنا ہوا ایک کپڑا تھا۔ اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک دھاری دار چادر اور ایک معافری کپڑا تھا۔ میرے والد نے ان سے کہا: چچا! میں غصے کی بنا پر آپ کے چہرے پر رنگ کی تبدیلی دیکھ رہا ہوں، انہوں نے کہا: ہاں، فلاں بن فلاں، جس کا تعلق بنو حرام سے ہے، سلام کیا اور میں نے پوچھا: کیا وہ ہے؟ گھر والوں نے کہا: نہیں ہے، پھر اچانک اس کا ایک کم عمر لڑکا میرے سامنے گھر سے نکلا، میں نے اس سے پوچھا: تیرا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کی آواز سنی تو وہ میری والدہ کے چھپر کھٹ میں گھس گئے ہیں۔ میں نے کہا: نکل کر میری طرف آ جاؤ، مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم کہاں ہو۔ وہ باہر نکل آیا، میں نے پوچھا: اس بات کا باعث کیا بنا کہ تم مجھ سے چھپ گئے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو بتاتا ہوں اور میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا، اللہ کی قسم! میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں میں آپ سے بات کروں اور جھوٹ بولوں اور میں آپ سے وعدہ کروں اور آپ کے ساتھ اس کی خلاف ورزی کروں، جبکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں تنگ دست تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے (دوبارہ) کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے (پھر) کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! کہا: پھر انہوں نے اپنا صحیفہ (جس پر قرض کی تحریر لکھی ہوئی تھی) نکالا اور اپنے ہاتھ سے اس کو مٹا دیا (پھر مقروض سے) کہا: اگر تمھیں ادائیگی کے لیے مال مل جائے تو میرا قرض لوٹا دینا اور نہیں تو تم بری الذمہ ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری ان دونوں آنکھوں کی بصارت نے (دیکھا) اور (یہ کہتے ہوئے) انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنی دو آنکھوں پر رکھیں، اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یاد رکھا۔ اور انہوں نے اپنے دل والی جگہ پر اشارہ کیا۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض ختم کر دیا اللہ تعالیٰ اپنے سائے سے اس پر سایہ کرے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7512]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3007 صحیح مسلم
قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَنَا يَا عَمِّ لَوْ أَنَّكَ أَخَذْتَ بُرْدَةَ غُلَامِكَ وَأَعْطَيْتَهُ مَعَافِرِيَّكَ، وَأَخَذْتَ مَعَافِرِيَّهُ وَأَعْطَيْتَهُ بُرْدَتَكَ، فَكَانَتْ عَلَيْكَ حُلَّةٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ يَا ابْنَ أَخِي بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ، وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَكَانَ أَنْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عبادہ بن ولید نے) کہا: میں نے ان سے کہا: چچا جان! اگر آپ اپنے غلام کی دھاری دار چادر لے لیتے اور اسے اپنا معافری کپڑا دے دیتے یا اس سے اس کا معافری کپڑا لے لیتے اور اسے اپنی دھاری دار چادر دے دیتے تو آپ کے جسم پر ایک جوڑا ہوتا اور اس کے جسم پر بھی ایک جوڑا ہوتا۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا: اے اللہ! اس کو برکت عطا فرما۔ بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری آنکھوں کی بصارت (نے دیکھا) اور میرے دو کانوں نے سنا اور۔ دل کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا میرے دل نے اسے یاد رکھا، جبکہ آپ فرما رہے تھے: ان (غلاموں) کو اسی میں سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور اسی میں سے پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ اگر میں نے اسے دنیا کی نعمتوں میں سے (اس کا حصہ) دے دیا ہے تو یہ میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ وہ قیامت کے روز میری نیکیاں لے جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7513]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7513 صحیح مسلم
قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَنَا يَا عَمِّ لَوْ أَنَّكَ أَخَذْتَ بُرْدَةَ غُلَامِكَ وَأَعْطَيْتَهُ مَعَافِرِيَّكَ، وَأَخَذْتَ مَعَافِرِيَّهُ وَأَعْطَيْتَهُ بُرْدَتَكَ، فَكَانَتْ عَلَيْكَ حُلَّةٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ يَا ابْنَ أَخِي بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ، وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَى مَنَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَكَانَ أَنْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عبادہ بن ولید نے) کہا: میں نے ان سے کہا: چچا جان! اگر آپ اپنے غلام کی دھاری دار چادر لے لیتے اور اسے اپنا معافری کپڑا دے دیتے یا اس سے اس کا معافری کپڑا لے لیتے اور اسے اپنی دھاری دار چادر دے دیتے تو آپ کے جسم پر ایک جوڑا ہوتا اور اس کے جسم پر بھی ایک جوڑا ہوتا۔ انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا: اے اللہ! اس کو برکت عطا فرما۔ بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری آنکھوں کی بصارت (نے دیکھا) اور میرے دو کانوں نے سنا اور۔ دل کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا میرے دل نے اسے یاد رکھا، جبکہ آپ فرما رہے تھے: ان (غلاموں) کو اسی میں سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور اسی میں سے پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔ اگر میں نے اسے دنیا کی نعمتوں میں سے (اس کا حصہ) دے دیا ہے تو یہ میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ وہ قیامت کے روز میری نیکیاں لے جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7513]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3008 صحیح مسلم
جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث موقوف) ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَتُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُكَ إِلَى جَنْبِكَ؟، قَالَ: فَقَالَ: بِيَدِهِ فِي صَدْرِي هَكَذَا، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَوَّسَهَا أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ، فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً، فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟، قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟، قُلْنَا: لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ، فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا ثُمَّ طَوَى ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَرُونِي عَبِيرًا، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، فَقَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
پھر ہم (آگے) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی مسجد میں حاضر ہوئے وہ ایک کپڑے میں اسے دونوں پلوؤں کو مخالف سمتوں میں کندھوں کے اوپر سے گزار کر باندھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا گیا یہاں تک کہ ان کے اور قبلے کے درمیان جا کر بیٹھ گیا۔ (جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو) میں نے ان سے کہا: آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کی چادر آپ کے پہلو میں پڑی ہوئی ہے؟ انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے میرے سینے میں مارا انہوں (عبادہ) نے اپنی انگلیاں الگ کیں اور انھیں کمان کی طرح موڑا (اور کہنے لگے) میں (یہی) چاہتا تھا کہ تم جیسا کوئی ناسمجھ میرے پاس آئے اور دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں، پھر وہ (بھی) اس طرح کر لیا کرے۔ (پھر کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے آپ کے دست مبارک میں ابن طاب (کی کھجور) کی ایک شاخ تھی آپ نے مسجد کے قبلے کی طرف (والی دیوار پر) جما ہوا بلغم لگا دیکھا۔ آپ نے کھجور کی شاخ سے اس کو کھرچ کر صاف کیا پھر ہماری طرف رخ کر کے فرمایا: تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے (اس کی طرف نظر تک نہ کرے؟) کہا: تو ہم سب ڈر گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے؟ کہا: ہم پر خوف طاری ہو گیا آپ نے پھر سے فرمایا: تم میں سے کسے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے؟ ہم نے عرض کی، اللہ کے رسول! ہم سے کسی کو بھی (یہ بات پسند) نہیں آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے لہٰذا اسے سامنے کی طرف ہر گز تھوکنا نہیں چاہیے۔ نہ دائیں طرف ہی تھوکنا چاہیے اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔ اگر جلدی نکلنے والی ہو تو اپنے کپڑے کے ساتھ اس طرح (صاف) کرے۔ پھر آپ نے کپڑے کے ایک حصے کی دوسرے حصے پر تہ لگائی پھر فرمایا: مجھے خوشبو لا کر دو۔ قبیلے کا ایک نوجوان اٹھ کر اپنے گھر والوں کی طرف بھاگا اور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ (خوشبو) لی اسے چھڑی کے سرے پر لگایا اور جس جگہ سوکھا بلغم لگا ہوا تھا اس پر مل دی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہاں سے تم نے اپنی مسجدوں میں خوشبو لگانی شروع کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7514]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7514 صحیح مسلم
جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث موقوف) ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ أَتُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُكَ إِلَى جَنْبِكَ؟، قَالَ: فَقَالَ: بِيَدِهِ فِي صَدْرِي هَكَذَا، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَوَّسَهَا أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ، فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً، فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟، قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟، قُلْنَا: لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ، فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا ثُمَّ طَوَى ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَرُونِي عَبِيرًا، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، فَقَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
پھر ہم (آگے) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی مسجد میں حاضر ہوئے وہ ایک کپڑے میں اسے دونوں پلوؤں کو مخالف سمتوں میں کندھوں کے اوپر سے گزار کر باندھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا گیا یہاں تک کہ ان کے اور قبلے کے درمیان جا کر بیٹھ گیا۔ (جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو) میں نے ان سے کہا: آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ کی چادر آپ کے پہلو میں پڑی ہوئی ہے؟ انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے میرے سینے میں مارا انہوں (عبادہ) نے اپنی انگلیاں الگ کیں اور انھیں کمان کی طرح موڑا (اور کہنے لگے) میں (یہی) چاہتا تھا کہ تم جیسا کوئی ناسمجھ میرے پاس آئے اور دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں، پھر وہ (بھی) اس طرح کر لیا کرے۔ (پھر کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے آپ کے دست مبارک میں ابن طاب (کی کھجور) کی ایک شاخ تھی آپ نے مسجد کے قبلے کی طرف (والی دیوار پر) جما ہوا بلغم لگا دیکھا۔ آپ نے کھجور کی شاخ سے اس کو کھرچ کر صاف کیا پھر ہماری طرف رخ کر کے فرمایا: تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے (اس کی طرف نظر تک نہ کرے؟) کہا: تو ہم سب ڈر گئے۔ آپ نے پھر فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے؟ کہا: ہم پر خوف طاری ہو گیا آپ نے پھر سے فرمایا: تم میں سے کسے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اعراض فرمائے؟ ہم نے عرض کی، اللہ کے رسول! ہم سے کسی کو بھی (یہ بات پسند) نہیں آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے لہٰذا اسے سامنے کی طرف ہر گز تھوکنا نہیں چاہیے۔ نہ دائیں طرف ہی تھوکنا چاہیے اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔ اگر جلدی نکلنے والی ہو تو اپنے کپڑے کے ساتھ اس طرح (صاف) کرے۔ پھر آپ نے کپڑے کے ایک حصے کی دوسرے حصے پر تہ لگائی پھر فرمایا: مجھے خوشبو لا کر دو۔ قبیلے کا ایک نوجوان اٹھ کر اپنے گھر والوں کی طرف بھاگا اور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ (خوشبو) لی اسے چھڑی کے سرے پر لگایا اور جس جگہ سوکھا بلغم لگا ہوا تھا اس پر مل دی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہاں سے تم نے اپنی مسجدوں میں خوشبو لگانی شروع کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7514]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3009 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَطْنِ بُوَاطٍ وَهُوَ يَطْلُبُ الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ، وَكَانَ النَّاضِحُ يَعْقُبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ، فَدَارَتْ عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ، فَأَنَاخَهُ فَرَكِبَهُ ثُمَّ بَعَثَهُ، فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ، فَقَالَ لَهُ: شَأْ لَعَنَكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا اللَّاعِنُ بَعِيرَهُ؟، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ انْزِلْ عَنْهُ، فَلَا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ سَاعَةً، يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءٌ، فَيَسْتَجِيبُ لَكُمْ
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(جابر رضی اللہ عنہ نے کہا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وادی بواط کی جنگ میں تھے۔ آپ (قبیلہ جحینہ کے سردار) مجدی بن عمرو جہنی کو ڈھونڈ رہے تھے پانی ڈھونے والے ایک اونٹ پر ہم پانچ چھ اور سات آدمی باری باری بیٹھتے تھے۔ انصار میں سے ایک آدمی کی اپنے اونٹ پر (بیٹھنے کی) باری آئی تو اس نے اونٹ کو بٹھایا اور اس پر سوار ہو گیا۔ پھر اس کو اٹھایا تو اس (اونٹ) نے اس (کے حکم) پر اٹھنے میں کسی حد تک دیر کی تو اس نے کہا: کھڑا ہو، تم پر اللہ لعنت کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں۔ آپ نے فرمایا: اس سے اتر جاؤ جس پر لعنت کی گئی ہو وہ ہمارے ساتھ نہ چلے اپنے آپ کو بددعا نہ دو نہ اپنی اولاد کو بددعا دو نہ اپنے مال مویشی کو بددعا دو اللہ کی طرف سے (مقرر کردہ قبولیت کی) گھڑی کی موافقت نہ کرو جس میں (جو) کچھ مانگا جاتا ہے وہ تمھیں عطا کر دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7515]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7515 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَطْنِ بُوَاطٍ وَهُوَ يَطْلُبُ الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ، وَكَانَ النَّاضِحُ يَعْقُبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ، فَدَارَتْ عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ، فَأَنَاخَهُ فَرَكِبَهُ ثُمَّ بَعَثَهُ، فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ، فَقَالَ لَهُ: شَأْ لَعَنَكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا اللَّاعِنُ بَعِيرَهُ؟، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ انْزِلْ عَنْهُ، فَلَا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ سَاعَةً، يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءٌ، فَيَسْتَجِيبُ لَكُمْ
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(جابر رضی اللہ عنہ نے کہا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وادی بواط کی جنگ میں تھے۔ آپ (قبیلہ جحینہ کے سردار) مجدی بن عمرو جہنی کو ڈھونڈ رہے تھے پانی ڈھونے والے ایک اونٹ پر ہم پانچ چھ اور سات آدمی باری باری بیٹھتے تھے۔ انصار میں سے ایک آدمی کی اپنے اونٹ پر (بیٹھنے کی) باری آئی تو اس نے اونٹ کو بٹھایا اور اس پر سوار ہو گیا۔ پھر اس کو اٹھایا تو اس (اونٹ) نے اس (کے حکم) پر اٹھنے میں کسی حد تک دیر کی تو اس نے کہا: کھڑا ہو، تم پر اللہ لعنت کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں۔ آپ نے فرمایا: اس سے اتر جاؤ جس پر لعنت کی گئی ہو وہ ہمارے ساتھ نہ چلے اپنے آپ کو بددعا نہ دو نہ اپنی اولاد کو بددعا دو نہ اپنے مال مویشی کو بددعا دو اللہ کی طرف سے (مقرر کردہ قبولیت کی) گھڑی کی موافقت نہ کرو جس میں (جو) کچھ مانگا جاتا ہے وہ تمھیں عطا کر دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7515]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3010 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ عُشَيْشِيَةٌ، وَدَنَوْنَا مَاءً مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَجُلٌ يَتَقَدَّمُنَا، فَيَمْدُرُ الْحَوْضَ، فَيَشْرَبُ وَيَسْقِينَا، قَالَ جَابِرٌ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ رَجُلٍ مَعَ جَابِرٍ، فَقَامَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْبِئْرِ، فَنَزَعْنَا فِي الْحَوْضِ سَجْلًا أَوْ سَجْلَيْنِ، ثُمَّ مَدَرْنَاهُ ثُمَّ نَزَعْنَا فِيهِ حَتَّى أَفْهَقْنَاهُ، فَكَانَ أَوَّلَ طَالِعٍ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَأْذَنَانِ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشْرَعَ نَاقَتَهُ، فَشَرِبَتْ شَنَقَ لَهَا، فَشَجَتْ فَبَالَتْ ثُمَّ عَدَلَ بِهَا، فَأَنَاخَهَا ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوْضِ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ قُمْتُ، فَتَوَضَّأْتُ مِنْ مُتَوَضَّإِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أَنْ أُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ، فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ، فَقَالَ: هَكَذَا بِيَدِهِ يَعْنِي شُدَّ وَسَطَكَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ وَاسِعًا، فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا، فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب کسی حد تک شام ہو گئی اور ہم عرب کے پانیوں میں سے کسی پانی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کون شخص ہے جو ہم سے پہلے جا کر حوض (کے کنارے کو مضبوط کرنے کے لیے اس) کی لپائی کرے گا اور خود بھی پانی پیے گا اور ہمیں بھی پلائے گا؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھڑا ہو گیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! یہ ہے وہ آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کون شخص جابر کے ساتھ جائے گا؟ تو حضرت جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ہم کنویں کے پاس گئے اور ہم نے (کنویں سے نکال کر) وضو کیا پھر میں کھڑا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کرنے کی جگہ سے (پانی لے کر) وضو کیا۔ جبار بن صخر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم پر ایک چادر تھی۔ میں (ایک طرف) گیا کہ اس (چادر) کے دونوں کناروں کو مخالف سمتوں میں (کندھوں پر) ڈالوں تو وہ مجھے پوری نہ آئی۔ اس کی جھاگریں تھیں میں نے اس (چادر) کو الٹ کر اس کے کنارے بدلے پھر اس پر اپنی گردن سے زور ڈالا (گردن جھکا کر اسے اس کے نیچے دبایا) پھر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے گھمایا یہاں تک کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا پھر جبار صخر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے وضو کیا اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ہمیں دھکیل کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تسلسل سے میری طرف دیکھ رہے تھے اور مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا پھر مجھے سمجھ آئی تو آپ نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا: آپ کا مقصد تھا کہ اپنی کمر باندھ لو۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: اے جابر! میں نے عرض کی حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کپڑا کھلا ہو تو اس کے کناروں کو مخالف سمتوں میں لے جاؤ اور اگر تنگ ہو تو اس کو کمر کے اوپر باندھ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7516]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7516 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ عُشَيْشِيَةٌ، وَدَنَوْنَا مَاءً مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَجُلٌ يَتَقَدَّمُنَا، فَيَمْدُرُ الْحَوْضَ، فَيَشْرَبُ وَيَسْقِينَا، قَالَ جَابِرٌ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ رَجُلٍ مَعَ جَابِرٍ، فَقَامَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْبِئْرِ، فَنَزَعْنَا فِي الْحَوْضِ سَجْلًا أَوْ سَجْلَيْنِ، ثُمَّ مَدَرْنَاهُ ثُمَّ نَزَعْنَا فِيهِ حَتَّى أَفْهَقْنَاهُ، فَكَانَ أَوَّلَ طَالِعٍ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَأْذَنَانِ؟، قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشْرَعَ نَاقَتَهُ، فَشَرِبَتْ شَنَقَ لَهَا، فَشَجَتْ فَبَالَتْ ثُمَّ عَدَلَ بِهَا، فَأَنَاخَهَا ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَوْضِ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ قُمْتُ، فَتَوَضَّأْتُ مِنْ مُتَوَضَّإِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أَنْ أُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا، فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ، فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا، فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ، فَقَالَ: هَكَذَا بِيَدِهِ يَعْنِي شُدَّ وَسَطَكَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ وَاسِعًا، فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا، فَاشْدُدْهُ عَلَى حَقْوِكَ
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب کسی حد تک شام ہو گئی اور ہم عرب کے پانیوں میں سے کسی پانی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کون شخص ہے جو ہم سے پہلے جا کر حوض (کے کنارے کو مضبوط کرنے کے لیے اس) کی لپائی کرے گا اور خود بھی پانی پیے گا اور ہمیں بھی پلائے گا؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کھڑا ہو گیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! یہ ہے وہ آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کون شخص جابر کے ساتھ جائے گا؟ تو حضرت جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ہم کنویں کے پاس گئے اور ہم نے (کنویں سے نکال کر) وضو کیا پھر میں کھڑا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کرنے کی جگہ سے (پانی لے کر) وضو کیا۔ جبار بن صخر رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لیے چلے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور میرے جسم پر ایک چادر تھی۔ میں (ایک طرف) گیا کہ اس (چادر) کے دونوں کناروں کو مخالف سمتوں میں (کندھوں پر) ڈالوں تو وہ مجھے پوری نہ آئی۔ اس کی جھاگریں تھیں میں نے اس (چادر) کو الٹ کر اس کے کنارے بدلے پھر اس پر اپنی گردن سے زور ڈالا (گردن جھکا کر اسے اس کے نیچے دبایا) پھر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے گھمایا یہاں تک کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا پھر جبار صخر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے وضو کیا اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ہمیں دھکیل کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تسلسل سے میری طرف دیکھ رہے تھے اور مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا پھر مجھے سمجھ آئی تو آپ نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا: آپ کا مقصد تھا کہ اپنی کمر باندھ لو۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: اے جابر! میں نے عرض کی حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کپڑا کھلا ہو تو اس کے کناروں کو مخالف سمتوں میں لے جاؤ اور اگر تنگ ہو تو اس کو کمر کے اوپر باندھ لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7516]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3011 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قُوتُ كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً، فَكَانَ يَمَصُّهَا ثُمَّ يَصُرُّهَا فِي ثَوْبِهِ وَكُنَّا نَخْتَبِطُ بِقِسِيِّنَا، وَنَأْكُلُ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، فَأُقْسِمُ أُخْطِئَهَا رَجُلٌ مِنَّا يَوْمًا، فَانْطَلَقْنَا بِهِ نَنْعَشُهُ، فَشَهِدْنَا أَنَّهُ لَمْ يُعْطَهَا، فَأُعْطِيَهَا، فَقَامَ فَأَخَذَهَا
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ایک مہم پر) گئے۔ ہم میں سے ہر شخص کی خوراک روز کی ایک کھجور تھی وہ اس کھجور کو چوستا رہتا اور پھر اس کو اپنے کپڑے میں لپیٹ لیتا ہم اپنی کمانوں سے درختوں کے پتے جھاڑتے تھے اور کھاتے تھے حتیٰ کہ ہماری باچھوں میں زخم ہوئے۔ قسم کھاتا ہوں کہ ایک دن ہم میں سے ایک غلطی سے اس (ایک کھجور) سے محروم رہ گیا ہم اسے (سہارا دے کر) اٹھاتے ہوئے لے کر (تقسیم کرنے والے کے پاس) گئے۔ اور اس کے حق میں گواہی دی کہ اسے وہ (ایک کھجور) نہیں دی گئی۔ وہ اسے دی گئی تو اس نے خود کھڑے ہو کر لی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7517]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7517 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قُوتُ كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً، فَكَانَ يَمَصُّهَا ثُمَّ يَصُرُّهَا فِي ثَوْبِهِ وَكُنَّا نَخْتَبِطُ بِقِسِيِّنَا، وَنَأْكُلُ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، فَأُقْسِمُ أُخْطِئَهَا رَجُلٌ مِنَّا يَوْمًا، فَانْطَلَقْنَا بِهِ نَنْعَشُهُ، فَشَهِدْنَا أَنَّهُ لَمْ يُعْطَهَا، فَأُعْطِيَهَا، فَقَامَ فَأَخَذَهَا
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ایک مہم پر) گئے۔ ہم میں سے ہر شخص کی خوراک روز کی ایک کھجور تھی وہ اس کھجور کو چوستا رہتا اور پھر اس کو اپنے کپڑے میں لپیٹ لیتا ہم اپنی کمانوں سے درختوں کے پتے جھاڑتے تھے اور کھاتے تھے حتیٰ کہ ہماری باچھوں میں زخم ہوئے۔ قسم کھاتا ہوں کہ ایک دن ہم میں سے ایک غلطی سے اس (ایک کھجور) سے محروم رہ گیا ہم اسے (سہارا دے کر) اٹھاتے ہوئے لے کر (تقسیم کرنے والے کے پاس) گئے۔ اور اس کے حق میں گواہی دی کہ اسے وہ (ایک کھجور) نہیں دی گئی۔ وہ اسے دی گئی تو اس نے خود کھڑے ہو کر لی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7517]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3012 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا يَعْنِي جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَالْتَأَمَتَا، قَالَ جَابِرٌ: فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَبْتَعِدَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ: فَيَتَبَعَّدَ فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ بِرَأْسِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا ثُمَّ أَقْبَلَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيَّ، قَالَ: يَا جَابِرُ هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي؟، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ إِلَى الشَّجَرَتَيْنِ فَاقْطَعْ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا، فَأَقْبِلْ بِهِمَا حَتَّى إِذَا قُمْتَ مَقَامِي، فَأَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِكَ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِكَ، قَالَ جَابِرٌ: فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ حَجَرًا، فَكَسَرْتُهُ وَحَسَرْتُهُ فَانْذَلَقَ لِي، فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ فَقَطَعْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا، ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا حَتَّى قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَمَّ ذَاكَ، قَالَ: إِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ایک مہم کے لیے) روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم کشادہ وادی میں جا اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے میں (چمڑے کا بنا ہوا) پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نظر دوڑائی ایسی چیز نظر نہ آئی جس کی آپ اوٹ لے سکتے۔ وادی کے کنارے پر دو درخت نظر آئے آپ ان میں سے ایک درخت کے پاس تشریف لے گئے اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور فرمایا: اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ۔ تو وہ نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح آپ کا فرمانبردار بن گیا پھر دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور کہا: اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ۔ تو وہ بھی اسی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ (اسے چلاتے ہوئے) دونوں کے درمیان کے آدھے فاصلے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں کو جھکا کر آپس میں ملا (کرا کھڑا کر) دیا آپ نے فرمایا: دونوں اللہ کے حکم سے میرے آگے مل جاؤ۔ تو وہ دونوں ساتھ گئے (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پردہ مہیا کر دیا) حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ڈر سے بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا کہ میرے قریب ہونے کو محسوس کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے (مزید) دور (جانے پر مجبور) نہ ہو جائیں اور محمد بن عباد نے (اپنی روایت میں) کہا: آپ کو دور جانے کی زحمت کرنی پڑے میں (ایک جگہ) بیٹھ گیا اور اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا۔ اچانک میری نگاہ پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور دیکھا کہ دونوں درخت الگ الگ ہو چکے ہیں۔ ہر ایک درخت تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا ہے پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بار رکے اور اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ کیا۔ ابواسماعیل (حاتم بن اسماعیل) نے اپنے سر سے دائیں بائیں اشارہ کیا۔ پھر آپ آگے تشریف لائے جب میرے پاس پہنچے تو فرمایا: جابر! کیا تم میرے کھڑے ہونے کی جگہ دیکھی تھی؟ میں نے عرض کی جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: دونوں درختوں کی طرف جاؤ اور دونوں میں سے ہر ایک سے ایک (ایک) شاخ کاٹ لاؤ یہاں تک کہ آکر جب میری جگہ پر کھڑے ہو جاؤ تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دینا اور ایک شاخ بائیں طرف۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اٹھا ایک پتھر اٹھایا اسے توڑا اور اسے گھسایا جب وہ میرے (کام کے) کے لیے تیز ہو گیا تو ان دونوں درختوں کی طرف آیا ہر ایک سے ایک (ایک) شاخ کاٹی، پھر ان کو گھسیٹتا ہوا آیا، یہاں تک کہ آکر اس جگہ کھڑا ہوا جہاں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے تھے تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دی اور ایک اپنی بائیں طرف۔ پھر میں آپ کے ساتھ جا ملا اور عرض کی: اللہ کے رسول! (جو آپ نے فرمایا تھا) میں نے کر دیا ہے وہ کس لیے تھا؟ فرمایا: میں دو قبروں کے پاس سے گزرا ان کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ میں نے ان کے بارے میں شفاعت کرنی چاہی کہ ان سے اس وقت تک کے لیے تخفیف کر دی جائے جب تک یہ شاخیں گیلی رہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7518]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7518 صحیح مسلم
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهِ، فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الْأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا يَعْنِي جَمَعَهُمَا، فَقَالَ: الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَالْتَأَمَتَا، قَالَ جَابِرٌ: فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَبْتَعِدَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ: فَيَتَبَعَّدَ فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ بِرَأْسِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا ثُمَّ أَقْبَلَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيَّ، قَالَ: يَا جَابِرُ هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي؟، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَانْطَلِقْ إِلَى الشَّجَرَتَيْنِ فَاقْطَعْ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا، فَأَقْبِلْ بِهِمَا حَتَّى إِذَا قُمْتَ مَقَامِي، فَأَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِكَ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِكَ، قَالَ جَابِرٌ: فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ حَجَرًا، فَكَسَرْتُهُ وَحَسَرْتُهُ فَانْذَلَقَ لِي، فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ فَقَطَعْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا، ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا حَتَّى قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَمَّ ذَاكَ، قَالَ: إِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (ایک مہم کے لیے) روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم کشادہ وادی میں جا اترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے میں (چمڑے کا بنا ہوا) پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نظر دوڑائی ایسی چیز نظر نہ آئی جس کی آپ اوٹ لے سکتے۔ وادی کے کنارے پر دو درخت نظر آئے آپ ان میں سے ایک درخت کے پاس تشریف لے گئے اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور فرمایا: اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ۔ تو وہ نکیل ڈالے ہوئے اونٹ کی طرح آپ کا فرمانبردار بن گیا پھر دوسرے درخت کے پاس آئے اور اس کی ٹہنیوں میں سے ایک کو پکڑا اور کہا: اللہ کے حکم سے میرے مطیع ہو جاؤ۔ تو وہ بھی اسی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ (اسے چلاتے ہوئے) دونوں کے درمیان کے آدھے فاصلے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں کو جھکا کر آپس میں ملا (کرا کھڑا کر) دیا آپ نے فرمایا: دونوں اللہ کے حکم سے میرے آگے مل جاؤ۔ تو وہ دونوں ساتھ گئے (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پردہ مہیا کر دیا) حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ڈر سے بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا کہ میرے قریب ہونے کو محسوس کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے (مزید) دور (جانے پر مجبور) نہ ہو جائیں اور محمد بن عباد نے (اپنی روایت میں) کہا: آپ کو دور جانے کی زحمت کرنی پڑے میں (ایک جگہ) بیٹھ گیا اور اپنے آپ سے باتیں کرنے لگا۔ اچانک میری نگاہ پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور دیکھا کہ دونوں درخت الگ الگ ہو چکے ہیں۔ ہر ایک درخت تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا ہے پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بار رکے اور اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ کیا۔ ابواسماعیل (حاتم بن اسماعیل) نے اپنے سر سے دائیں بائیں اشارہ کیا۔ پھر آپ آگے تشریف لائے جب میرے پاس پہنچے تو فرمایا: جابر! کیا تم میرے کھڑے ہونے کی جگہ دیکھی تھی؟ میں نے عرض کی جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: دونوں درختوں کی طرف جاؤ اور دونوں میں سے ہر ایک سے ایک (ایک) شاخ کاٹ لاؤ یہاں تک کہ آکر جب میری جگہ پر کھڑے ہو جاؤ تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دینا اور ایک شاخ بائیں طرف۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اٹھا ایک پتھر اٹھایا اسے توڑا اور اسے گھسایا جب وہ میرے (کام کے) کے لیے تیز ہو گیا تو ان دونوں درختوں کی طرف آیا ہر ایک سے ایک (ایک) شاخ کاٹی، پھر ان کو گھسیٹتا ہوا آیا، یہاں تک کہ آکر اس جگہ کھڑا ہوا جہاں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے تھے تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف ڈال دی اور ایک اپنی بائیں طرف۔ پھر میں آپ کے ساتھ جا ملا اور عرض کی: اللہ کے رسول! (جو آپ نے فرمایا تھا) میں نے کر دیا ہے وہ کس لیے تھا؟ فرمایا: میں دو قبروں کے پاس سے گزرا ان کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ میں نے ان کے بارے میں شفاعت کرنی چاہی کہ ان سے اس وقت تک کے لیے تخفیف کر دی جائے جب تک یہ شاخیں گیلی رہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7518]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3013 صحیح مسلم
قَالَ: فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا جَابِرُ نَادِ بِوَضُوءٍ، فَقُلْتُ: أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُبَرِّدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ عَلَى حِمَارَةٍ مِنْ جَرِيدٍ، قَالَ: فَقَالَ لِيَ: انْطَلِقْ إِلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ؟، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فِيهَا فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، قَالَ: اذْهَبْ، فَأْتِنِي بِهِ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ وَيَغْمِزُهُ بِيَدَيْهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهِ، فَقَالَ يَا جَابِرُ: نَادِ بِجَفْنَةٍ، فَقُلْتُ: يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ، فَأُتِيتُ بِهَا تُحْمَلُ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي الْجَفْنَةِ هَكَذَا، فَبَسَطَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ وَضَعَهَا فِي قَعْرِ الْجَفْنَةِ، وَقَالَ: خُذْ يَا جَابِرُ فَصُبَّ عَلَيَّ، وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ فَارَتِ الْجَفْنَةُ وَدَارَتْ حَتَّى امْتَلَأَتْ، فَقَالَ يَا جَابِرُ: نَادِ مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ، قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا، قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ؟، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلْأَى،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! وضو کے پانی کے لیے آواز دو۔ تو میں نے (ہر جگہ پکار کر) کہا: کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے قافلے میں ایک قطرہ (پانی) نہیں ملا۔ انصار میں سے ایک آدمی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اپنے پُرانے مشکیزے میں پانی ڈال کر اسے کھجور کی ٹہنی (سے بنی ہوئی) کھونٹی سے لٹکا کر ٹھنڈا کیا کرتا تھا۔ (جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ نے مجھ سے فرمایا: فلاں بن فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو اس کے پُرانے مشکیزے میں کچھ ہے؟ کہا: میں کیا، اس کے اندر دیکھا تو مجھے اس (مشکیزے) کے منہ والی جگہ پر ایک قطرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اگر میں اسے (دوسرے برتن میں) نکالتا تو اس کا خشک حصہ اسے پی لیتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے اس (مشکیزے) کے منہ میں پانی کے ایک قطرے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اگر میں اسے انڈیلوں تو اس کا خشک حصہ اسے پی لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور کچھ کہنا شروع کیا مجھے پتہ نہ چلا کہ آپ نے کیا کہا اور اس (مشکیزے) کو اپنے دونوں ہاتھوں میں دبانے اور حرکت دینے لگے، پھر آپ نے مجھے وہ دے دیا تو فرمایا: جابر! پانی (پلانے) کا بڑا برتن منگواؤ۔ میں نے آواز دی: سواروں کا بڑا برتن (ٹب) لاؤ۔ اسے اٹھا کر میرے پاس لایا گیا تو میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ پیالے میں اس طرح کیا، اسے پھیلایا اور اپنی انگلیاں الگ الگ کیں پھر اسے برتن کی تہہ میں رکھا اور فرمایا: جابر! میرے ہاتھ پر پانی انڈیل دو اور بسم اللہ پڑھو! میں نے اسے آپ (کے ہاتھ) پر انڈیلا اور کہا: بسم اللہ۔ میں نے پانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹتے ہوئے دیکھا، پھر وہ بڑا برتن (پانی کے جوش سے) زور سے امڈنے اور گھومنے لگا۔ یہاں تک کہ پورا بھر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! جس جس کو پانی کی ضرورت ہے اسے آواز دو۔ کہا: لوگ آئے اور پانی لیا، یہاں تک کہ سب کی ضرورت پوری ہو گئی، کہا: میں نے اعلان کیا کوئی باقی ہے جسے (پانی کی) ضرورت ہو؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن سے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہ (اسی طرح) بھرا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7519]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7519 صحیح مسلم
قَالَ: فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا جَابِرُ نَادِ بِوَضُوءٍ، فَقُلْتُ: أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ أَلَا وَضُوءَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُبَرِّدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ عَلَى حِمَارَةٍ مِنْ جَرِيدٍ، قَالَ: فَقَالَ لِيَ: انْطَلِقْ إِلَى فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ؟، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فِيهَا فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَاءِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، قَالَ: اذْهَبْ، فَأْتِنِي بِهِ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ وَيَغْمِزُهُ بِيَدَيْهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهِ، فَقَالَ يَا جَابِرُ: نَادِ بِجَفْنَةٍ، فَقُلْتُ: يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ، فَأُتِيتُ بِهَا تُحْمَلُ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي الْجَفْنَةِ هَكَذَا، فَبَسَطَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ وَضَعَهَا فِي قَعْرِ الْجَفْنَةِ، وَقَالَ: خُذْ يَا جَابِرُ فَصُبَّ عَلَيَّ، وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: بِاسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ فَارَتِ الْجَفْنَةُ وَدَارَتْ حَتَّى امْتَلَأَتْ، فَقَالَ يَا جَابِرُ: نَادِ مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ، قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا، قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ؟، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلْأَى،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! وضو کے پانی کے لیے آواز دو۔ تو میں نے (ہر جگہ پکار کر) کہا: کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کیا وضو کا پانی نہیں ہے؟ کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے قافلے میں ایک قطرہ (پانی) نہیں ملا۔ انصار میں سے ایک آدمی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اپنے پُرانے مشکیزے میں پانی ڈال کر اسے کھجور کی ٹہنی (سے بنی ہوئی) کھونٹی سے لٹکا کر ٹھنڈا کیا کرتا تھا۔ (جابر رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ نے مجھ سے فرمایا: فلاں بن فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو اس کے پُرانے مشکیزے میں کچھ ہے؟ کہا: میں کیا، اس کے اندر دیکھا تو مجھے اس (مشکیزے) کے منہ والی جگہ پر ایک قطرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اگر میں اسے (دوسرے برتن میں) نکالتا تو اس کا خشک حصہ اسے پی لیتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے اس (مشکیزے) کے منہ میں پانی کے ایک قطرے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اگر میں اسے انڈیلوں تو اس کا خشک حصہ اسے پی لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور کچھ کہنا شروع کیا مجھے پتہ نہ چلا کہ آپ نے کیا کہا اور اس (مشکیزے) کو اپنے دونوں ہاتھوں میں دبانے اور حرکت دینے لگے، پھر آپ نے مجھے وہ دے دیا تو فرمایا: جابر! پانی (پلانے) کا بڑا برتن منگواؤ۔ میں نے آواز دی: سواروں کا بڑا برتن (ٹب) لاؤ۔ اسے اٹھا کر میرے پاس لایا گیا تو میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ پیالے میں اس طرح کیا، اسے پھیلایا اور اپنی انگلیاں الگ الگ کیں پھر اسے برتن کی تہہ میں رکھا اور فرمایا: جابر! میرے ہاتھ پر پانی انڈیل دو اور بسم اللہ پڑھو! میں نے اسے آپ (کے ہاتھ) پر انڈیلا اور کہا: بسم اللہ۔ میں نے پانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹتے ہوئے دیکھا، پھر وہ بڑا برتن (پانی کے جوش سے) زور سے امڈنے اور گھومنے لگا۔ یہاں تک کہ پورا بھر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جابر! جس جس کو پانی کی ضرورت ہے اسے آواز دو۔ کہا: لوگ آئے اور پانی لیا، یہاں تک کہ سب کی ضرورت پوری ہو گئی، کہا: میں نے اعلان کیا کوئی باقی ہے جسے (پانی کی) ضرورت ہو؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن سے اپنا ہاتھ اٹھایا تو وہ (اسی طرح) بھرا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7519]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3014 صحیح مسلم
وَشَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ، فَقَالَ: عَسَى اللَّهُ أَنْ يُطْعِمَكُمْ، فَأَتَيْنَا سِيفَ الْبَحْرِ، فَزَخَرَ الْبَحْرُ زَخْرَةً، فَأَلْقَى دَابَّةً فَأَوْرَيْنَا عَلَى شِقِّهَا النَّارَ، فَاطَّبَخْنَا وَاشْتَوَيْنَا وَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، قَالَ جَابِرٌ: فَدَخَلْتُ أَنَا وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ خَمْسَةً فِي حِجَاجِ عَيْنِهَا مَا يَرَانَا أَحَدٌ حَتَّى خَرَجْنَا، فَأَخَذْنَا ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَقَوَّسْنَاهُ ثُمَّ دَعَوْنَا بِأَعْظَمِ رَجُلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ جَمَلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ كِفْلٍ فِي الرَّكْبِ فَدَخَلَ تَحْتَهُ مَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں کھانا دے گا۔ پھر ہم سمندر کے کنارے پہنچے، سمندر نے جوش مارا (ایک لہر سی آئی) اور اس نے ایک سمندری جانور (باہر) پھینک دیا، ہم نے سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس (کے گوشت) کو پکایا، بھونا، کھایا اور یہ سیر ہو گئے (حضرت جابر نے کہا: میں اور فلاں اور فلاں، انہوں نے پانچ آدمی گئے اس کی آنکھ کے گوشے میں گھس گئے تو کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا حتیٰ کہ ہم باہر نکل آئے اور ہم نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی (ایک جانب ایک بڑا کانٹا) لے کر اس کو کمان کی ہیت میں کھڑا کر دیا، پھر قافلے میں سب سے بڑے (قد کے) آدمی کو بلایا اور قافلے میں سب سے بڑے اونٹ کو اور قافلے کے سب سے بڑے پالان کو منگوایا، شخص سر جھکائے بغیر اس پسلی کے نیچے داخل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7520]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7520 صحیح مسلم
وَشَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ، فَقَالَ: عَسَى اللَّهُ أَنْ يُطْعِمَكُمْ، فَأَتَيْنَا سِيفَ الْبَحْرِ، فَزَخَرَ الْبَحْرُ زَخْرَةً، فَأَلْقَى دَابَّةً فَأَوْرَيْنَا عَلَى شِقِّهَا النَّارَ، فَاطَّبَخْنَا وَاشْتَوَيْنَا وَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، قَالَ جَابِرٌ: فَدَخَلْتُ أَنَا وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ خَمْسَةً فِي حِجَاجِ عَيْنِهَا مَا يَرَانَا أَحَدٌ حَتَّى خَرَجْنَا، فَأَخَذْنَا ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَقَوَّسْنَاهُ ثُمَّ دَعَوْنَا بِأَعْظَمِ رَجُلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ جَمَلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ كِفْلٍ فِي الرَّكْبِ فَدَخَلَ تَحْتَهُ مَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں کھانا دے گا۔ پھر ہم سمندر کے کنارے پہنچے، سمندر نے جوش مارا (ایک لہر سی آئی) اور اس نے ایک سمندری جانور (باہر) پھینک دیا، ہم نے سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس (کے گوشت) کو پکایا، بھونا، کھایا اور یہ سیر ہو گئے (حضرت جابر نے کہا: میں اور فلاں اور فلاں، انہوں نے پانچ آدمی گئے اس کی آنکھ کے گوشے میں گھس گئے تو کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا حتیٰ کہ ہم باہر نکل آئے اور ہم نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی (ایک جانب ایک بڑا کانٹا) لے کر اس کو کمان کی ہیت میں کھڑا کر دیا، پھر قافلے میں سب سے بڑے (قد کے) آدمی کو بلایا اور قافلے میں سب سے بڑے اونٹ کو اور قافلے کے سب سے بڑے پالان کو منگوایا، شخص سر جھکائے بغیر اس پسلی کے نیچے داخل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7520]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة