عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ، فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ، فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلَمْ يَحِلَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ (بن معاذ) نے ہمیں شعبہ سے حدیث سنائی، (کہا:) مسلم قریؒ نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: (حجۃ الوداع کے موقع پر اولاً) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (حج کے ساتھ ملا کر) عمرہ کرنے کا تلبیہ پکارا تھا، اور آپ کے (بعض) صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو قربانیاں ساتھ لائے تھے، انہوں نے (جب تک حج مکمل نہ کر لیا) احرام نہ کھولا، باقی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے (جن کے ہمراہ قربانیاں نہ تھیں) احرام کھول دیا۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے، لہذا انہوں نے احرام نہ کھولا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3007]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة