وَشَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ، فَقَالَ: عَسَى اللَّهُ أَنْ يُطْعِمَكُمْ، فَأَتَيْنَا سِيفَ الْبَحْرِ، فَزَخَرَ الْبَحْرُ زَخْرَةً، فَأَلْقَى دَابَّةً فَأَوْرَيْنَا عَلَى شِقِّهَا النَّارَ، فَاطَّبَخْنَا وَاشْتَوَيْنَا وَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا، قَالَ جَابِرٌ: فَدَخَلْتُ أَنَا وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ خَمْسَةً فِي حِجَاجِ عَيْنِهَا مَا يَرَانَا أَحَدٌ حَتَّى خَرَجْنَا، فَأَخَذْنَا ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَقَوَّسْنَاهُ ثُمَّ دَعَوْنَا بِأَعْظَمِ رَجُلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ جَمَلٍ فِي الرَّكْبِ، وَأَعْظَمِ كِفْلٍ فِي الرَّكْبِ فَدَخَلَ تَحْتَهُ مَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں کھانا دے گا۔“ پھر ہم سمندر کے کنارے پہنچے، سمندر نے جوش مارا (ایک لہر سی آئی) اور اس نے ایک سمندری جانور (باہر) پھینک دیا، ہم نے سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس (کے گوشت) کو پکایا، بھونا، کھایا اور یہ سیر ہو گئے (حضرت جابر نے کہا: میں اور فلاں اور فلاں، انہوں نے پانچ آدمی گئے اس کی آنکھ کے گوشے میں گھس گئے تو کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا حتیٰ کہ ہم باہر نکل آئے اور ہم نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی (ایک جانب ایک بڑا کانٹا) لے کر اس کو کمان کی ہیت میں کھڑا کر دیا، پھر قافلے میں سب سے بڑے (قد کے) آدمی کو بلایا اور قافلے میں سب سے بڑے اونٹ کو اور قافلے کے سب سے بڑے پالان کو منگوایا، شخص سر جھکائے بغیر اس پسلی کے نیچے داخل ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7520]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة