بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 818 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا، " يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسِلْهُ اقْرَأْ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس سے مختلف (صورت میں) پڑھتے سنا جس طرح میں پڑھتا تھا، حالانکہ مجھے (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی تھی، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اسے مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گیا، پھر میں نے اس کی چادر سے اسے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے اس طرح سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو (اور اسے مخاطب ہو کر فرمایا:) پڑھو۔" تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔" پھر مجھ سے کہا: "تم پڑھو۔" میں نے پڑھا تو (اس پر بھی) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح اتری تھی۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ پس ان میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو اسی کے مطابق پڑھو۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1899]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1899 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا، " يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسِلْهُ اقْرَأْ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس سے مختلف (صورت میں) پڑھتے سنا جس طرح میں پڑھتا تھا، حالانکہ مجھے (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی تھی، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اسے مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گیا، پھر میں نے اس کی چادر سے اسے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے اس طرح سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو (اور اسے مخاطب ہو کر فرمایا:) پڑھو۔" تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔" پھر مجھ سے کہا: "تم پڑھو۔" میں نے پڑھا تو (اس پر بھی) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح اتری تھی۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ پس ان میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو اسی کے مطابق پڑھو۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1899]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 818 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن عبدالقاری نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان پڑھتے سنا۔ آگے اسی کے مانند حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا کہ قریب تھا کہ میں اس پر نماز میں ہی پل پڑوں، میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا یہاں تک کہ اس نے سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1900]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1900 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن عبدالقاری نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان پڑھتے سنا۔ آگے اسی کے مانند حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا کہ قریب تھا کہ میں اس پر نماز میں ہی پل پڑوں، میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا یہاں تک کہ اس نے سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1900]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 818 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے یونس کی روایت کی طرح اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1901]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1901 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے یونس کی روایت کی طرح اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1901]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 819 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنُ شِهَابٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : بَلَغَنِي أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ، إِنَّمَا هِيَ فِي الأَمْرِ الَّذِي يَكُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ایک حرف پر (قرآن) پڑھایا، میں نے ان سے مراجعت کی، پھر میں زیادہ کا تقاضا کرتا رہا اور وہ میرے لیے حروف میں اضافہ کرتے گئے یہاں تک کہ سات حرفوں تک پہنچ گئے۔" ابن شہاب نے کہا: مجھے خبر پہنچی کہ پڑھنے کی یہ سات صورتیں (سات حروف) ایسے معاملے میں ہوتیں جو (حقیقتاً اور معناً) ایک ہی رہتا، (ان کی وجہ سے) حلال و حرام کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1902]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1902 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنُ شِهَابٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : بَلَغَنِي أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ، إِنَّمَا هِيَ فِي الأَمْرِ الَّذِي يَكُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ایک حرف پر (قرآن) پڑھایا، میں نے ان سے مراجعت کی، پھر میں زیادہ کا تقاضا کرتا رہا اور وہ میرے لیے حروف میں اضافہ کرتے گئے یہاں تک کہ سات حرفوں تک پہنچ گئے۔" ابن شہاب نے کہا: مجھے خبر پہنچی کہ پڑھنے کی یہ سات صورتیں (سات حروف) ایسے معاملے میں ہوتیں جو (حقیقتاً اور معناً) ایک ہی رہتا، (ان کی وجہ سے) حلال و حرام کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1902]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 819 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1903]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1903 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1903]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 820 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، جَدِّهِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قَرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَءَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا، فَقَالَ لِي: يَا أُبَيُّ، " أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنِ اقْرإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی یعلیٰ سے، انہوں نے اپنے دادا (عبدالرحمن) سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا، نماز پڑھنے لگا اور اس نے جس طرح قراءت کی اس کو میں نے اس کے سامنے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے ایسی قراءت کی جو اس کے ساتھی (پہلے آدمی) کی قراءت سے مختلف تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کی کہ اس شخص نے ایسی قراءت کی جو میں نے اس کے سامنے رد کر دی اور دوسرا آیا تو اس نے اپنے ساتھی سے بھی الگ قراءت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا، ان دونوں نے قراءت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے انداز کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں آپ کی تکذیب (جھٹلانے) کا داعیہ اس زور سے پیدا ہوا جتنا اس وقت بھی نہ تھا جب میں جاہلیت میں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ پر طاری ہونے والی اس کیفیت کو دیکھا تو میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا، جیسے میں ڈر کے عالم میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "میرے پاس حکم بھیجا گیا کہ میں قرآن ایک حرف (قراءت کی ایک صورت) پر پڑھوں۔ تو میں نے جواباً درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس دوبارہ جواب بھیجا کہ میں اسے دو حرفوں پر پڑھوں۔ میں نے پھر عرض کی کہ میری امت کے لیے آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس تیسری بار جواب بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھیے، نیز آپ کے لیے ہر جواب کے بدلے جو میں نے دیا ایک دعا ہے جو آپ مجھ سے مانگیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے اللہ! میری امت کو بخش دے۔ اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے مؤخر کر لی ہے جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف راغب ہوں گے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1904]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1904 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، جَدِّهِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قَرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَءَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا، فَقَالَ لِي: يَا أُبَيُّ، " أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنِ اقْرإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی یعلیٰ سے، انہوں نے اپنے دادا (عبدالرحمن) سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا، نماز پڑھنے لگا اور اس نے جس طرح قراءت کی اس کو میں نے اس کے سامنے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے ایسی قراءت کی جو اس کے ساتھی (پہلے آدمی) کی قراءت سے مختلف تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کی کہ اس شخص نے ایسی قراءت کی جو میں نے اس کے سامنے رد کر دی اور دوسرا آیا تو اس نے اپنے ساتھی سے بھی الگ قراءت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا، ان دونوں نے قراءت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے انداز کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں آپ کی تکذیب (جھٹلانے) کا داعیہ اس زور سے پیدا ہوا جتنا اس وقت بھی نہ تھا جب میں جاہلیت میں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ پر طاری ہونے والی اس کیفیت کو دیکھا تو میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا، جیسے میں ڈر کے عالم میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "میرے پاس حکم بھیجا گیا کہ میں قرآن ایک حرف (قراءت کی ایک صورت) پر پڑھوں۔ تو میں نے جواباً درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس دوبارہ جواب بھیجا کہ میں اسے دو حرفوں پر پڑھوں۔ میں نے پھر عرض کی کہ میری امت کے لیے آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس تیسری بار جواب بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھیے، نیز آپ کے لیے ہر جواب کے بدلے جو میں نے دیا ایک دعا ہے جو آپ مجھ سے مانگیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے اللہ! میری امت کو بخش دے۔ اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے مؤخر کر لی ہے جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف راغب ہوں گے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1904]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 820 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بشر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں اس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھی، اس نے اس طرح قراءت کی۔ آگے عبداللہ بن نمیر کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1905]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1905 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَرَأَ قِرَاءَةً، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بشر نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں اس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھی، اس نے اس طرح قراءت کی۔ آگے عبداللہ بن نمیر کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1905]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 821 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةَ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر غندر نے شعبہ سے روایت کی، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو غفار کے اضاۃ (بارانی تالاب) کے پاس تشریف فرما تھے۔ کہا: آپ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف (قراءت کی صورت) پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو (درگزر) اور اس کی مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پر قرآن پڑھے۔ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ٹھیک پڑھیں گے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1906]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1906 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةَ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر غندر نے شعبہ سے روایت کی، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو غفار کے اضاۃ (بارانی تالاب) کے پاس تشریف فرما تھے۔ کہا: آپ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف (قراءت کی صورت) پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو (درگزر) اور اس کی مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پر قرآن پڑھے۔ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ٹھیک پڑھیں گے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1906]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 821 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1907]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1907 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ عنبری نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1907]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة