بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1906 — باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
کتب صحیح مسلم قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔ حدیث 1906
حدیث نمبر: 1906 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةَ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ، مُعَافَاتَهُ، وَمَغْفِرَتَهُ، وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ، أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ، فَقَدْ أَصَابُوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر غندر نے شعبہ سے روایت کی، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو غفار کے اضاۃ (بارانی تالاب) کے پاس تشریف فرما تھے۔ کہا: آپ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف (قراءت کی صورت) پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو (درگزر) اور اس کی مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پر قرآن پڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے اس کا عفو اور بخشش مانگتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔" پھر وہ جبرئیل علیہ السلام چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پر قرآن پڑھے۔ وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے ٹھیک پڑھیں گے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1906]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1905) باب پر واپس اگلی حدیث (1907) →