بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1902 — باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
کتب صحیح مسلم قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔ حدیث 1902
حدیث نمبر: 1902 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنُ شِهَابٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : بَلَغَنِي أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الأَحْرُفَ، إِنَّمَا هِيَ فِي الأَمْرِ الَّذِي يَكُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "جبرئیل علیہ السلام نے مجھے ایک حرف پر (قرآن) پڑھایا، میں نے ان سے مراجعت کی، پھر میں زیادہ کا تقاضا کرتا رہا اور وہ میرے لیے حروف میں اضافہ کرتے گئے یہاں تک کہ سات حرفوں تک پہنچ گئے۔" ابن شہاب نے کہا: مجھے خبر پہنچی کہ پڑھنے کی یہ سات صورتیں (سات حروف) ایسے معاملے میں ہوتیں جو (حقیقتاً اور معناً) ایک ہی رہتا، (ان کی وجہ سے) حلال و حرام کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1902]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1901) باب پر واپس اگلی حدیث (1903) →