بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1899 — باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
کتب صحیح مسلم قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔ حدیث 1899
حدیث نمبر: 1899 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا، " يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسِلْهُ اقْرَأْ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس سے مختلف (صورت میں) پڑھتے سنا جس طرح میں پڑھتا تھا، حالانکہ مجھے (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی تھی، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اسے مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گیا، پھر میں نے اس کی چادر سے اسے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے اس طرح سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو (اور اسے مخاطب ہو کر فرمایا:) پڑھو۔" تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔" پھر مجھ سے کہا: "تم پڑھو۔" میں نے پڑھا تو (اس پر بھی) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح اتری تھی۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ پس ان میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو اسی کے مطابق پڑھو۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1899]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1898) باب پر واپس اگلی حدیث (1900) →