بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 1904 — باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
کتب صحیح مسلم قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔ حدیث 1904
حدیث نمبر: 1904 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، جَدِّهِ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قَرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً، أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَءَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا، فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنَ التَّكْذِيبِ وَلَا إِذْ كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَفِضْتُ عَرَقًا وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا، فَقَالَ لِي: يَا أُبَيُّ، " أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنِ اقْرإِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي، فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُكَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي، وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ حَتَّى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی یعلیٰ سے، انہوں نے اپنے دادا (عبدالرحمن) سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی داخل ہوا، نماز پڑھنے لگا اور اس نے جس طرح قراءت کی اس کو میں نے اس کے سامنے ناقابل قبول قرار دے دیا۔ پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے ایسی قراءت کی جو اس کے ساتھی (پہلے آدمی) کی قراءت سے مختلف تھی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کی کہ اس شخص نے ایسی قراءت کی جو میں نے اس کے سامنے رد کر دی اور دوسرا آیا تو اس نے اپنے ساتھی سے بھی الگ قراءت کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا، ان دونوں نے قراءت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے انداز کی تحسین فرمائی تو میرے دل میں آپ کی تکذیب (جھٹلانے) کا داعیہ اس زور سے پیدا ہوا جتنا اس وقت بھی نہ تھا جب میں جاہلیت میں تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ پر طاری ہونے والی اس کیفیت کو دیکھا تو میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا، جیسے میں ڈر کے عالم میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "میرے پاس حکم بھیجا گیا کہ میں قرآن ایک حرف (قراءت کی ایک صورت) پر پڑھوں۔ تو میں نے جواباً درخواست کی کہ میری امت پر آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس دوبارہ جواب بھیجا کہ میں اسے دو حرفوں پر پڑھوں۔ میں نے پھر عرض کی کہ میری امت کے لیے آسانی فرمائیں۔ تو میرے پاس تیسری بار جواب بھیجا کہ اسے سات حروف پر پڑھیے، نیز آپ کے لیے ہر جواب کے بدلے جو میں نے دیا ایک دعا ہے جو آپ مجھ سے مانگیں۔ میں نے عرض کی: اے میرے اللہ! میری امت کو بخش دے۔ اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لیے مؤخر کر لی ہے جس دن تمام مخلوق حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف راغب ہوں گے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1904]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (1903) باب پر واپس اگلی حدیث (1905) →