بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 138
صفحہ 5 از 7
حدیث نمبر: 479 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، أَبُو عَوْنٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَمَّا بَلَغَنِي عَنْكَ؟ فَاعْتَذَرَ بَعْضَ الْعُذْرِ، فَقَالَ عُثْمَانُ : وَيْحَكَ، إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ وَحَفِظْتُ وَلَيْسَ كَمَا سَمِعْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سَيُقْتَلُ أَمِيرٌ وَيَنْتَزِي مُنْتَزٍ"، وَإِنِّي أَنَا الْمَقْتُولُ، وَلَيْسَ عُمَرَ، إِنَّمَا قَتَلَ عُمَرَ وَاحِدٌ، وَإِنَّهُ يُجْتَمَعُ عَلَيَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعون انصاری کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ کے حوالے سے مجھے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں، آپ ان سے رک جائیے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کچھ عذر پیش کئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! میں نے اس بات کو سنا بھی ہے اور محفوظ بھی کیا ہے خواہ آپ نے نہ سنا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ایک حکمران قتل کیا جائے گا اور شر پھیلانے والے اس میں جلد بازی کریں گے، یاد رکھو! وہ مقتول ہونے والا امیر میں ہی ہوں، اس سے مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، کیونکہ انہیں تو صرف ایک آدمی نے شہید کیا تھا، جب کہ مجھ پر یہ سب مل کر حملہ کرنے والے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 479]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو عون الأنصاري لم يوثقه غير ابن حبان وروايته عن عثمان مرسلة
الحكم: إسناده ضعيف، أبو عون الأنصاري لم يوثقه غير ابن حبان وروايته عن عثمان مرسلة
حدیث نمبر: 480 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ لَهُ: ابْنَ أَخِي، أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا، وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ، وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا، قَالَ: فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ، فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ، وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ، حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا بھتیجے! کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پایا ہے؟ میں نے عرض کیا، نہیں! البتہ ان کے حوالے سے خالص معلومات اور ایسا یقین ضرور میرے پاس ہیں جو کنواری دوشیزہ کو اپنے پردے میں ہوتا ہے، اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حمد و ثناء اور اقرار شہادتین کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں بھی تھا، نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت پر ایمان لانے والوں میں، میں بھی تھا، پھر میں نے حبشہ کی طرف دونوں مرتبہ ہجرت کی، مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پر بیعت بھی کی ہے، اللہ کی قسم! میں نے کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 480]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3696
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3696
حدیث نمبر: 481 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ، وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى، وَإِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا، اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ: إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ، فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً، وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ، وَإِمَّا أَنْ نَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ، فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ، فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا، وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ، فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ، وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ، فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ، وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ، يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ"، فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ، وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ، وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ، فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي، وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے، ان دنوں باغیوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا تھا اور آکر عرض کیا کہ آپ مسلمانوں کے عمومی حکمران ہیں، آپ پر جو پریشانیاں آ رہی ہیں، وہ بھی نگاہوں کے سامنے ہیں، میں آپ کے سامنے تین درخواستیں رکھتا ہوں، آپ کسی ایک کو اختیار کر لیجئے، یا تو آپ باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کریں، آپ کے پاس افراد بھی ہیں، طاقت بھی ہے اور آپ برحق بھی ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں، یا جس دروازے پر یہ لوگ کھڑے ہیں، آپ اسے چھوڑ کر اپنے گھر کی دیوار توڑ کر کوئی دوسرا دروازہ نکلوائیں، سواری پر بیٹھیں اور مکہ مکرمہ چلے جائیں، جب آپ وہاں ہوں گے تو یہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یا پھر آپ شام چلے جائیے کیونکہ وہاں اہل شام کے علاوہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ میں باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کروں، تو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سب سے پہلا وہ آدمی ہرگز نہیں بنوں گا جو امت میں خونریزی کرے، رہی یہ بات کہ میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں تو یہ میرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کا ایک آدمی مکہ مکرمہ میں الحاد پھیلائے گا، اس پر اہل دنیا کو ہونے والے عذاب کا نصف عذاب دیا جائے گا، میں وہ آدمی نہیں بننا چاہتا اور جہاں تک شام جانے والی بات ہے کہ وہاں اہل شام کے علاوہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں تو میں دارالہجرۃ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑوس کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 481]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن عبدالملك لم يثبت سماعه من المغيرة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن عبدالملك لم يثبت سماعه من المغيرة
حدیث نمبر: 482 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ
حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: يُلْحِدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 482]
حکم دارالسلام
ضعيف كسابقه، ابن المبارك : هو عبدالله ، وهو يرويه عن الاوزاعي
الحكم: ضعيف كسابقه، ابن المبارك : هو عبدالله ، وهو يرويه عن الاوزاعي
حدیث نمبر: 483 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَيُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ حَجَّاجٌ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز کے لئے روانہ ہو اور اسے ادا کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 483]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
الحكم: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 484 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمٍ ، الْمُسَيَّبِ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ، فَوَضَعْتُ وَضُوءًا لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِلصَّلَاةِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ، قَالَ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: بَدَا لِي أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمُوهُ، فَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَنَأْخُذُ بِهِ، أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِيهِ، قَالَ: فَقَالَ: فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِهِ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ هَذَا الْوُضُوءَ، فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، كَفَّرَتْ عَنْهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى، مَا لَمْ يُصِبْ مَقْتَلَةً" يَعْنِي: كَبِيرَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب سے اسلام قبول کیا تھا، ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ نہایا کرتے تھے، ایک دن نماز کے لئے میں نے وضو کا پانی رکھا، جب وہ وضو کر چکے تو فرمانے لگے کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا تھا، پھر میں نے سوچا کہ نہ بیان کروں، یہ سن کر حکم بن ابی العاص نے کہا کہ امیر المؤمنین! بیان کر دیں، اگر خیر کی بات ہو گی تو ہم بھی اس پر عمل کر لیں گے اور اگر شر کی نشاندہی ہو گی، تو ہم بھی اس سے بچ جائیں گے، فرمایا: میں تم سے یہ حدیث بیان کرنے لگا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی طرح وضو کیا اور فرمایا: جو شخص اس طرح وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور رکوع و سجود کو اچھی طرح مکمل کرے تو یہ وضو اگلی نماز تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، بشرطیکہ کسی گناہ کبیرہ کا ارتکا ب نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 484]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 228، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 228، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 485 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، يُونُسَ ، عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَدْخَلَ اللَّهُ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا قَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا، وَبَائِعًا، وَمُشْتَرِيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا، جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 485]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عطاء بن فروخ روى عنه أثنان، ولم يوثقة غير ابن حبان، وذكر على بن المديني فى العلل أنه لم يلق عثمان
الحكم: حديث حسن، عطاء بن فروخ روى عنه أثنان، ولم يوثقة غير ابن حبان، وذكر على بن المديني فى العلل أنه لم يلق عثمان
حدیث نمبر: 486 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، رَجُلٌ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَذَّنَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَدَعَا عُثْمَانُ بِطَهُورٍ فَتَطَهَّرَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَطَهَّرَ كَمَا أُمِرَ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ"، فَاسْتَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ أَرْبَعَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ جب مؤذن نے عصر کی اذان دی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا، وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص حکم الٰہی کے مطابق وضو کرے، وہ اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اس کے بعد انہوں نے چار صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس پر گواہی لی اور چاروں نے اس بات کی گواہی دی کہ واقعی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی فرمایا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 486]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وله شاهد من حديث أبى أيوب الآتي، برقم:23595، وهذا إسناد ضعيف ، إبراهيم بن المهاجر فيه لين، والرجل من أهل المدينة مجهول
الحكم: حسن لغيره، وله شاهد من حديث أبى أيوب الآتي، برقم:23595، وهذا إسناد ضعيف ، إبراهيم بن المهاجر فيه لين، والرجل من أهل المدينة مجهول
حدیث نمبر: 487 مسند احمد
ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي ، سُفْيَانَ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَتَى عُثْمَانُ الْمَقَاعِدَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ،" فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا يَتَوَضَّأُ، يَا هَؤُلَاءِ: أَكَذَاكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے، وضو کا پانی منگوایا، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، پھر سر اور پاؤں کا تین تین مرتبہ مسح کیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم جو وہاں موجود تھے، ان سے فرمایا: کیا ایسا ہی ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 487]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 230
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 230
حدیث نمبر: 488 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ،" فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ"، قَالَ أَبِي: هَذَا الْعَدَنِيُّ كَانَ بِمَكَّةَ مُسْتَمْلِيَ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئے، وضو کا پانی منگوایا اور تمام اعضاء کو تین تین مرتبہ دھویا اور چند صحابہ رضی اللہ عنہم جو وہاں موجود تھے، ان سے فرمایا: کیا ایسا ہی ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 488]
حکم دارالسلام
حديث صحيح كسابقه ، وإسناده قوي
الحكم: حديث صحيح كسابقه ، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 489 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوءٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأَمَرَّ بِيَدَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: تَوَضَّأْتُ لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ كَمَا رَأَيْتُهُ رَكَعَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ:" مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ صَلَاتِهِ بِالْأَمْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ انہوں نے پانی منگوایا، سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت بازؤوں کو بھی دھویا، پھر سر کا مسح کر کے دونوں ہاتھ کانوں کی ظاہری سطح پر گزارے، پھر داڑھی پر پھیرے اور تین تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لئے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا اسی طرح تمہیں بھی وضو کر کے دکھا دیا اور جس طرح انہوں نے دو رکعتیں پڑھی تھیں میں نے بھی پڑھ کر دکھا دیں اور ان دو رکعتوں سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل میں خیالات اور وساوس نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح كسابقه، وإسناده حسن
الحكم: حديث صحيح كسابقه، وإسناده حسن
حدیث نمبر: 490 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ ، شَقِيقٍ ، عُثْمَانَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ، فَقَالَ لَهُ: ما لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَبْلِغْهُ أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ، قَالَ: عَاصِمٌ، يَقُولُ: يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ أَتَخَلَّفْ يَوْمَ بَدْرٍ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ ، قَالَ: فَقَالَ:" أَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنَ، فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ وَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ سورة آل عمران آية 155، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي تَخَلَّفْتُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَاتَتْ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِي، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فَقَدْ شَهِدَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ، فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا وَلَا هُوَ"، فَأْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی، ولید نے کہا: کیا بات ہے، آپ امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے؟ انہوں نے کہا کہ میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دو کہ میں غزوہ احد کے دن فرار نہیں ہوا تھا، میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا اور نہ ہی میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت کو چھوڑا ہے، ولید نے جاکر یہ ساری بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بتا دی۔ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے یہ جو کہا کہ میں غزوہ احد سے فرار نہیں ہوا تھا، وہ مجھے ایسی لغزش سے کیسے عار دلا سکتے ہیں، جسے اللہ نے خود معاف کر دیا، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم میں سے جو لوگ دو لشکروں کے ملنے کے دن پیٹھ پھیر کر چلے گئے تھے، انہیں شیطان نے پھسلا دیا تھا، بعض ان چیزوں کی وجہ سے جو انہوں نے کیں اور غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے کا جو طعنہ انہوں نے مجھے دیا ہے تو اصل بات یہ ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی اور اپنی زوجہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری میں مصروف تھا، یہاں تک کہ وہ اسی دوران فوت ہو گئیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شرکاء بدر کے ساتھ مال غنیمت میں میرا حصہ بھی شامل فرمایا اور یہ سمجھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس کا حصہ مقرر فرمایا وہ غزوہ بدر میں شریک تھا، رہی ان کی یہ بات کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سنت نہیں چھوڑی تو سچی بات یہ ہے کہ اس کی طاقت مجھ میں ہے اور نہ خود ان میں ہے تم جا کر ان سے یہ باتیں بیان کر دینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 490]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 491 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي سَهْلٍ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ، وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ، كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 656
الحكم: إسناده صحيح، م: 656
حدیث نمبر: 492 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ مَعْمَرٍ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ، فَبَعَثَنِي إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَوْسِمِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ أَخَاكَ أَرَادَ أَنْ يُنْكِحَ ابْنَهُ، فَأَرَادَ أَنْ يُشْهِدَكَ ذَاكَ، فَقَالَ: أَلَا أُرَاهُ عِرَاقِيًّا جَافِيًا،" إِنَّ الْمُحْرِمَ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ"، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بِمِثْلِهِ يَرْفَعُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ ابن معمر نے شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے اپنے بیٹے کے نکاح کا دوران حج پروگرام بنایا اور مجھے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کے پاس جو کہ امیر حج تھے بھیجا، میں نے ان کے پاس جا کر کہا کہ آپ کے بھائی اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ آپ بھی اس میں شرکت کریں، انہوں نے کہا کہ میں تو اسے عراقی دیہاتی نہیں سمجھتا تھا، یاد رکھو! محرم نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی کا نکاح کرا سکتا ہے، پھر انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس مضمون کی حدیث سنائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1409
الحكم: إسناده صحيح، م: 1409
حدیث نمبر: 493 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ: أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ، فَغَسَلَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، سَقَطَتْ خَطَايَاهُ" يَعْنِي مِنْ وَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، وَرِجْلَيْهِ، وَرَأْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بنچ پر بیٹھ کر وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص میری طرح ایسا وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے گناہ اس کے چہرے، ہاتھوں، پاؤں اور سر سے جھڑ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 493]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
الحكم: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 494 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهُوَ أَمِيرٌ، مَا يَصْنَعُ بِهِمَا؟ قَالَ: قَالَ: ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں تو ابان بن عثمان سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ وہ کیا کریں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے، سرمہ نہ لگائے) کیونکہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1204
الحكم: إسناده صحيح، م: 1204
حدیث نمبر: 495 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ :" أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً مُقْبِلَةً، فَلَمَّا رَآهَا، قَامَ، وَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے ایک جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو وہ بھی کھڑے ہو گئے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 495]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن مسلمة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن مسلمة
حدیث نمبر: 496 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی سے پیغام نکاح بھیجے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1409
الحكم: إسناده صحيح، م: 1409
حدیث نمبر: 497 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ رَجُلٍ مِنَ الْحَجَبَةِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ، أَوْ قَالَ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَهُ: أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محرم کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر اس کی آنکھیں دکھنے لگیں تو صبر کا سرمہ لگا لے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 497]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1204
الحكم: إسناده صحيح، م: 1204
حدیث نمبر: 498 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م 26
الحكم: إسناده صحيح، م 26