بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 138
صفحہ 1 از 7
حدیث نمبر: 399 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَوْفٌ ، يَزِيدُ يَعْنِي الْفَارِسِيَّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، يَزِيدَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي الْفَارِسِيَّ . قَالَ أَبِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي، وَإِلَى بَرَاءَةٌ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ تَكْتُبُوا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: بَيْنَهُمَا سَطْرًا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ، مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ عُثْمَانُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ يَدْعُو بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ عِنْدَهُ، يَقُولُ:" ضَعُوا هَذَا فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا"، وَيُنْزَلُ عَلَيْهِ الْآيَاتُ، فَيَقُولُ:" ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا"، وَيُنْزَلُ عَلَيْهِ الْآيَةُ، فَيَقُولُ:" ضَعُوا هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا"، وَكَانَتْ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا أُنْزِلَ بِالْمَدِينَةِ، وَبَرَاءَةٌ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهًا بِقِصَّتِهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، وَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ ثَمَّ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرًا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورت برائۃ کے ساتھ جو کہ مئین میں سے ہے ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی بسم اللہ تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو سبع طوال میں شمار کر لیا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہو جاتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوتیں، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بتا دیتے کہ ان آیات کو اس سورت میں رکھو اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بتا دیا کرتے تھے۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، جبکہ سورت برائۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات و احکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت برائۃ، سورت انفال ہی کا جزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان، بسم اللہ والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 399]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ومتنه منكر
الحكم: إسناده ضعيف ومتنه منكر
حدیث نمبر: 400 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ حُمْرَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: تَوَضَّأَ عُثْمَانُ عَلَى الْبَلَاطِ، ثُمَّ قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ دَخَلَ فَصَلَّى، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پتھر کی چوکی پر بیٹھ کر وضو فرمایا اس کے بعد فرمایا کہ میں تم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اگر کتاب اللہ میں ایک آیت (جو کتمان علم کی مذمت پر مشتمل ہے) نہ ہوتی تو میں تم سے یہ حدیث کبھی بیان نہ کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھے، تو اگلی نماز پڑھنے تک اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 400]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
الحكم: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 401 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، نَافِعٌ ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے، بلکہ پیغام نکاح بھی نہ بھیجے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 401]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1409
الحكم: إسناده صحيح، م: 1409
حدیث نمبر: 402 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ حَرْمَلَةَ ، سَعِيدًا يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، عُثْمَانُ ، لِعَلِيٍّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: خَرَجَ عُثْمَانُ حَاجًّا، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قِيلَ لِعَلِيٍّ :" إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا، فَأَهَلَّ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِعُمْرَةٍ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ عُثْمَانُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ؟ قَالَ: فَقَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ؟ قَالَ: بَلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کے ارادے سے نکلے، جب راستے کا کچھ حصہ طے کر چکے تو کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کیا ہے، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: جب وہ روانہ ہوں تو تم بھی کوچ کرو، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا احرام باندھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں کوئی بات نہ کی، بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود ہی ان سے پوچھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ حج تمتع سے روکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حج تمتع کرنے کے بارے میں نہیں سنا؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 402]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 1569، م: 1223، ابن حرملة مختلف فيه، روي له مسلم حديثاً واحداً فى القنوت متابعة .
الحكم: صحيح، خ: 1569، م: 1223، ابن حرملة مختلف فيه، روي له مسلم حديثاً واحداً فى القنوت متابعة .
حدیث نمبر: 403 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 403]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، عامر بن شقيق ضعفه ابن معين وذكره ابن حبان فى الثقات
الحكم: حديث صحيح لغيره، عامر بن شقيق ضعفه ابن معين وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 404 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي النَّضْرِ ، أبي أَنَسٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أبي أَنَسٍ : أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَيْسَ هَكَذَا رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالُوا: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوانس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، اس وقت ان کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اسی طرح دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 404]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 230
الحكم: إسناده صحيح، م: 230
حدیث نمبر: 405 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سب سے افضل اور بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 405]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5028
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5028
حدیث نمبر: 406 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 406]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 231
الحكم: إسناده صحيح، م: 231
حدیث نمبر: 407 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٌ ، أَبُو سَهْلَةَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ قَيْسٌ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ : أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ حِينَ حُصِرَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ"، قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يَرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسہلہ کہتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ ہوا اور وہ یوم الدار کے نام سے مشہور ہوا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، میں اس پر ثابت قدم اور قائم ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 407]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 408 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ، وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ، فَهُوَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ"، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، فَهُوَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ، فَهُوَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے ساری رات قیام کرنا اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 408]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 656
الحكم: إسناده صحيح، م: 656
حدیث نمبر: 409 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، فَهُوَ كَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ، فَهُوَ كَمَنْ قَامَ اللَّيْلَ كُلَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے ساری رات قیام کرنا اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے نصف رات قیام کرنا اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے تو یہ ساری رات قیام کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 409]
حکم دارالسلام
حديث صحيح كسابقه، وهذا سند فيه انقطاع، محمد بن إبراهيم التيمي لم يدرك عثمان بن عفان
الحكم: حديث صحيح كسابقه، وهذا سند فيه انقطاع، محمد بن إبراهيم التيمي لم يدرك عثمان بن عفان
حدیث نمبر: 410 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ: أَنَّ عُثْمَانَ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا، فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، فَلَقِيَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا مَنَعَكَ مِنْ قَبْضِ مَالِكَ؟ قَالَ: إِنَّكَ غَبَنْتَنِي، فَمَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ أَحَدًا إِلَّا وَهُوَ يَلُومُنِي، قَالَ: أَوَ ذَلِكَ يَمْنَعُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاخْتَرْ بَيْنَ أَرْضِكَ وَمَالِكَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا، وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کوئی زمین خریدی، لیکن جب اس کی طرف سے تاخیر ہوئی تو انہوں نے اس سے ملاقات کی اور اس سے فرمایا کہ تم اپنی رقم پر قبضہ کیوں نہیں کرتے؟ اس نے کہا کہ آپ نے مجھے دھوکہ دیا، میں جس آدمی سے بھی ملتا ہوں وہ مجھے ملامت کرتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم صرف اس وجہ سے رکے ہوئے ہو؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، فرمایا: پھر اپنی زمین اور پیسوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دے لو (اگر تم اپنی زمین واپس لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو اور اگر پیسے لینا چاہتے ہو تو وہ لے لو) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 410]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وله شاهد من حديث جابر فى صحيح البخاري : 2076 وغيره، عطاء بن فروخ روى عنه اثنان، ولم يوثقه غير ابن حبان، وذكر على بن المديني فى العلل أنه لم يلق عثمان
الحكم: حسن لغيره، وله شاهد من حديث جابر فى صحيح البخاري : 2076 وغيره، عطاء بن فروخ روى عنه اثنان، ولم يوثقه غير ابن حبان، وذكر على بن المديني فى العلل أنه لم يلق عثمان
حدیث نمبر: 411 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: مَا بَقِيَ لِلنِّسَاءِ مِنْكَ؟ قَالَ: فَلَمَّا ذُكِرَتْ النِّسَاءُ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: ادْنُ يَا عَلْقَمَةُ، قَالَ: وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ عورتوں کے لئے آپ کے پاس کیا باقی بچا؟ عورتوں کا تذکرہ ہوا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے قریب ہونے کے لئے کہا کہ میں اس وقت نوجوان تھا، پھر خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہاجرین کے نوجوانوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس استطاعت ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہ کی بھی حفاظت ہو جاتی ہے اور جو ایسا نہ کر سکے، وہ روزے رکھے کیونکہ یہ شہوت کو توڑ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 411]
حکم دارالسلام
صحيح محفوظ من حديث ابن مسعود الآتي برقم: 3592، وقد وهم أبو معشر فى جعل هذا الحديث عن عثمان بن عفان
الحكم: صحيح محفوظ من حديث ابن مسعود الآتي برقم: 3592، وقد وهم أبو معشر فى جعل هذا الحديث عن عثمان بن عفان
حدیث نمبر: 412 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَلْقَمَةَ بْنَ مَرْثَدٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ مَرْثَدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَكُمْ مَنْ عَلَّمَ الْقُرْآنَ، أَوْ تَعَلَّمَهُ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَحَجَّاجٌ: فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي هَذَا الْمَقْعَدَ، قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: وَلَمْ يَسْمَعْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ عُثْمَانَ، وَلَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَلَكِنْ قَدْ سَمِعَ مِنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَبِي: وَقَالَ بَهْزٌ: عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَخْبَرَنِي، وَقَالَ:" خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے، راوی حدیث ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ اسی حدیث نے مجھے یہاں (قرآن پڑھانے کے لئے) بٹھا رکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 412]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5028
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5028
حدیث نمبر: 413 مسند احمد
عَفَّانُ
حَدَّثَنَاه عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، وَقَالَ فِيهِ:" مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، أَوْ عَلَّمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 414 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، رَجُلًا ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ سَمْحًا بَائِعًا وَمُبْتَاعًا، وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) ہونے میں یا ادا کرنے والا اور تقاضا کرنے والا ہونے کی صورت میں نرم خو ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 414]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الذى روى عنه عمرو بن دينار، ويحمتل أن يكون عطاء بن فروخ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الذى روى عنه عمرو بن دينار، ويحمتل أن يكون عطاء بن فروخ
حدیث نمبر: 415 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرِ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا أَضْحَكَنِي؟ فَقَالُوا: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذِهِ الْبُقْعَةِ، فَتَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَ:" أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي؟" فَقَالُوا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوَضُوءٍ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهِهِ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی منگوایا، چنانچہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ چہرہ دھویا اور دونوں بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں کے اوپر والے حصے پر بھی مسح فرمایا اور ہنس پڑے، پھر اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ ہی بتائیے کہ آپ کیوں ہنسے؟ فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے بھی اسی طرح پانی منگوایا اور اس جگہ کے قریب بیٹھ کر اسی طرح وضو کیا جیسے میں نے کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ فرمایا: انسان جب وضو کا پانی منگوائے اور چہرہ دھوئے تو اللہ اس کے وہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے جو چہرے سے ہوتے ہیں، جب بازو دھوتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جب سر کا مسح کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور جب پاؤں کو پاک کرتا ہے تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 415]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، قتادة لم يسمع من مسلم بن يسار فيما قاله يحيى القطان وأبو حاتم
الحكم: صحيح لغيره، قتادة لم يسمع من مسلم بن يسار فيما قاله يحيى القطان وأبو حاتم
حدیث نمبر: 416 مسند احمد
بَهْزٌ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، رَبَاحٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ رَبَاحٍ قَالَ: زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً، فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي، فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي، فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ، ثُمَّ طَبِنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي رُومِيٌّ، يُقَالُ لَهُ: يُوحَنَّسُ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ، قَالَ: فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا؟ قَالَتْ: هُوَ لِيُوحَنَّسَ، قَالَ: فَرُفِعْنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ، قَالَ مَهْدِيٌّ: أَحْسَبُهُ قَالَ: سَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا، فَقَالَ: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ: الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ". قَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: جَلَدَهَا وَجَلَدَهُ، وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام یوحنس تھا، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا، انہوں نے فرمایا «‏‏‏‏کہ کیا تم اس» بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور زانی کے لئے پتھر ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 416]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة رباح وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة متفق عليه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة رباح وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة متفق عليه
حدیث نمبر: 417 مسند احمد
شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، رَبَاحٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
حَدَّثَنَا عبد الله: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَبَاحٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَرَفَعْتُهُمَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ... فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گزری۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 417]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 418 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ بِمَاءٍ وَهُوَ عَلَى الْمَقَاعِدِ، فَسَكَبَ عَلَى يَمِينِهِ، فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے پانی منگوایا، سب سے پہلے اسے بائیں ہاتھ پر ڈالا، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، کلی بھی کی اور ناک میں پانی بھی ڈالا، تین مرتبہ کہنیوں سمیت بازؤوں کو بھی دھویا، پھر سر کا مسح کر کے تین مرتبہ ٹخنوں سمیت پاؤں دھو لئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل میں خیالات اور وساوس نہ لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 418]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 159، م: 226
الحكم: إسناده صحيح، خ: 159، م: 226