بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 138
صفحہ 6 از 7
حدیث نمبر: 499 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، لِعُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى سُورَةِ الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي، وَإِلَى سُورَةِ بَرَاءَةٌ وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ، فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ وَهُوَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، فَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ لَهُ، فَيَقُولُ:" ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا"، وَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَاتُ، قَالَ:" ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا"، وَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَةُ، قَالَ:" ضَعُوا هَذِهِ الْآيَةَ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: وَكَانَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ سُورَةُ بَرَاءَةٌ مِنْ أَوَاخِرِ مَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهًا بِقِصَّتِهَا، فَظَنَنَّا أَنَّهَا مِنْهَا، وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں نے سورت انفال کو جو مثانی میں سے ہے سورت براۃ کے ساتھ جو کہ مئین میں سے ہے ملانے پر کس چیز کی وجہ سے اپنے آپ کو مجبور پایا، اور آپ نے ان کے درمیان ایک سطر کی «بسم الله» تک نہیں لکھی اور ان دونوں کو سبع طوال میں شمار کر لیا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہو رہا تھا تو بعض اوقات کئی کئی سورتیں اکٹھی نازل ہو جاتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کسی کاتب وحی کو بلا کر اسے لکھواتے اور فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھو، بعض اوقات کئی آیتیں نازل ہوتیں، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بتا دیتے کہ ان آیات کو فلاں سورت میں رکھو اور بعض اوقات ایک ہی آیت نازل ہوتی لیکن اس کی جگہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بتا دیا کرتے تھے۔ سورت انفال مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی، جبکہ سورت براۃ نزول کے اعتبار سے قرآن کریم کا آخری حصہ ہے اور دونوں کے واقعات و احکام ایک دوسرے سے حد درجہ مشابہت رکھتے تھے، ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے اور ہم پر یہ واضح نہ فرما سکے کہ یہ اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ میرا گمان یہ ہوا کہ سورت براۃ، سورت انفال ہی کا جزو ہے اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا، اور ان دونوں کے درمیان، «بسم الله»، والی سطر بھی نہیں لکھی اور اسے سبع طوال میں شمار کر لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 499]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ومتنه منكر
الحكم: إسناده ضعيف، ومتنه منكر
حدیث نمبر: 500 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سُفْيَانُ:" أَفْضَلُكُمْ"، وَقَالَ شُعْبَةُ:" خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے افضل اور بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 500]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5028
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5028
حدیث نمبر: 501 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٌ ، أَبُو سَهْلَةَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ قَيْسٌ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ ، أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ حِينَ حُصِرَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ". قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يَرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسہلہ کہتے ہیں کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ ہوا اور وہ یوم الدار کے نام سے مشہور ہوا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، میں اس پر ثابت قدم اور قائم ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 501]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 502 مسند احمد
يَزِيدُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، رَبَاحٌ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبَاحٌ ، قَالَ: زَوَّجَنِي مَوْلَايَ جَارِيَةً رُومِيَّةً، فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي، فَسَمَّيْتُهُ: عَبْدَ اللَّهِ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي، فَسَمَّيْتُهُ: عُبَيْدَ اللَّهِ، ثُمَّ طَبِنَ لِي غُلَامٌ رُومِيٌّ، قَالَ: حَسِبْتُهُ قَالَ: لِأَهْلِي رُومِيٌّ، يُقَالُ لَهُ: يُوحَنَّسُ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ يَعْنِي بِالرُّومِيَّةِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا أَحْمَرَ، كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: هَذَا مِنْ يُوحَنَّسَ، قَالَ: فَارْتَفَعْنَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَأَقَرَّا جَمِيعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنْ شِئْتُمْ قَضَيْتُ بَيْنَكُمْ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى" أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ"، قَالَ: حَسِبْتُهُ قَالَ: وَجَلَدَهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہوگیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام یوحنس تھا، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور غالباً انہوں نے ان دونوں کو کوڑے بھی مارے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 502]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة رباح، وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة متفق عليه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة رباح، وللمرفوع شاهد من حديث أبى هريرة متفق عليه
حدیث نمبر: 503 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 503]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 231
الحكم: إسناده صحيح، م: 231
حدیث نمبر: 504 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ زَاهِرٍ أَبَا رُوَاعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" إِنَّا وَاللَّهِ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَكَانَ يَعُودُ مَرْضَانَا، وَيَتْبَعُ جَنَائِزَنَا، وَيَغْزُو مَعَنَا، وَيُوَاسِينَا بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ، وَإِنَّ نَاسًا يُعْلِمُونِي بِهِ، عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ أَحَدُهُمْ رَآهُ قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عباد بن زاہر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا، بخدا! ہم لوگ سفر اور حضر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نشینی کا لطف اٹھاتے رہے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے بیماروں کی عیادت کرتے، ہمارے جنازہ میں شرکت کرتے، ہمارے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے، تھوڑے اور زیادہ کے ساتھ ہماری غم خواری فرماتے اور اب بعض ایسے لوگ مجھے سکھانے کے لئے آتے ہیں جنہوں نے شاید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی دیکھا بھی نہ ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 504]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 505 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، شُعَيْبٌ أَبُو شَيْبَةَ ، عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبٌ أَبُو شَيْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ، فَدَعَا بِطَعَامٍ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَكَلَهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ :" قَعَدْتُ مَقْعَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْتُ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ، وَصَلَّيْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیعد بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بنچوں پر بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے آگ پر پکا ہوا کھانا منگوایا اور کھانے لگے، پھر یوں ہی کھڑے ہو کر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی اور فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کھایا، وہی کھایا اور جس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی، میں نے بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 505]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 506 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبِي ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ : أَنَّ عُثْمَانَ أَرَادَ أَنْ يَبْنِيَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، فَكَرِهَ النَّاسُ ذَاكَ، وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعُوهُ عَلَى هَيْئَتِهِ، فَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمود بن لبید کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جب مسجد نبوی کی توسیع کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس پر خوشی کا اظہار کرنے کی بجائے اسے پرانی ہیئت پر برقرار رکھنے کو زیادہ پسند کیا، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے، اللہ اسی طرح کا ایک گھر اس کے لئے جنت میں تعمیر کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 506]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 450، م: 533
الحكم: إسناده صحيح، خ: 450، م: 533
حدیث نمبر: 507 مسند احمد
عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت میری طرف کرتا ہے، وہ جہنم میں اپنا گھر تیار کر لے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 507]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 508 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخَلَ اللَّهُ رَجُلًا الْجَنَّةَ كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا، وَبَائِعًا، وَقَاضِيًا، وَمُقْتَضِيًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا، جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 508]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وله شاهد من حديث جابر فى الصحيح البخاري : 2076 وغيره، عطاء بن فروخ لم يلق عثمان، وانظر: 410
الحكم: حسن لغيره، وله شاهد من حديث جابر فى الصحيح البخاري : 2076 وغيره، عطاء بن فروخ لم يلق عثمان، وانظر: 410
حدیث نمبر: 509 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، قَالَ: وَلِمَ تَقْتُلُونَنِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے، ہم ان کے ساتھ ہی تھے فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 509]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 510 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ ، عَلِيًّا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ يصليان يوم الفطر والأضحى، ثم ينصرفان يذكران الناس، قَالَ: وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ". قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اور میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 510]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 511 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، حُصَيْنٌ ، عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، الْأَحْنَفُ ، عُثْمَانُ ، عَلِيٌّ ، الزُّبَيْرُ ، طَلْحَةُ ، سَعْدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، قَالَ: قَالَ الْأَحْنَفُ : انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا، فَمَرَرْنَا بِالْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنْزِلِنَا، إِذْ جَاءَنَا آتٍ، فَقَالَ: النَّاسُ مِنْ فَزَعٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبِي، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَتَخَلَّلْتُهُمْ حَتَّى قُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ جَاءَ عُثْمَانُ يَمْشِي، فَقَالَ: أَهَهُنَا عَلِيٌّ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَهُنَا الزُّبَيْرُ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَهُنَا طَلْحَةُ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَهُنَا سَعْدٌ ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"، فَابْتَعْتُهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُهُ، فَقَالَ:" اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ"؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ؟" فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُهَا، يَعْنِي بِئْرَ رُومَةَ، فَقَالَ:" اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَجْرُهَا لَكَ"؟ قَالُوا:" نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ:" مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ"، فَجَهَّزْتُهُمْ، حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ خِطَامًا وَلَا عِقَالًا؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے، مدینہ منورہ سے گزر ہوا، ابھی ہم اپنے پڑاؤ ہی میں تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مسجد نبوی میں لوگ بڑے گھبرائے ہوئے نظر آ رہے ہیں، میں اپنے ساتھی کے ساتھ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ لوگوں نے مل کر مسجد میں موجود چند لوگوں پر ہجوم کیا ہوا ہے، میں ان کے درمیان سے گزرتا ہوا وہاں جا کر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ وہاں سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کھڑے ہیں، زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی دھیرے دھیرے چلتے ہوئے آ گئے۔ انہوں نے آ کر پوچھا کہ یہاں علی رضی اللہ عنہ ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! پھر باری باری مذکورہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر ان کی موجودگی کے بارے میں پوچھا اور لوگوں نے اثبات میں جواب دیا، اس کے بعد انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا جو شخص فلاں قبیلے کے اونٹوں کا باڑہ خرید کر دے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دے گا، میں نے اسے خرید لیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ خرید لینے کے بارے بتایا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ہماری مسجد میں شامل کر دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ لوگوں نے ان کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا، بیر رومہ کون خریدے گا، میں نے اسے اچھی خاصی رقم میں خریدا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آ کر بتایا کہ میں نے اسے خرید لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسلمانوں کے پینے کے لئے وقف کر دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا؟ لوگوں نے اس پر بھی ان کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کیا تم جانتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جیش العسرۃ (غزوہ تبوک) کے موقع پر لوگوں کے چہرے دیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو شخص ان کے لئے سامان جہاد کا انتظام کرے گا، اللہ اسے بخش دے گا، میں نے ان کے لئے اتنا سامان مہیا کیا کہ ایک لگام اور ایک رسی بھی کم نہ ہوئی؟ لوگوں نے اس پر بھی ان کی تصدیق کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ، یہ کہہ کر وہ واپس چلے گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 511]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، عمرو بن جاوان لم يرو عنه غير حصين، ولم يذكره أحد في الثقات غير ابن حبان
الحكم: حديث صحيح ، عمرو بن جاوان لم يرو عنه غير حصين، ولم يذكره أحد في الثقات غير ابن حبان
حدیث نمبر: 512 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، بَعْضِ ، يَعْلَى ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قَالَ يَعْلَى : طُفْتُ مَعَ عُثْمَانَ ، فَاسْتَلَمْنَا الرُّكْنَ، قَالَ يَعْلَى: فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ، جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ؟ قَالَ: فَقَالَ:" أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ أَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَانْفُذْ عَنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، جب میں رکن یمانی پر پہنچا تو میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کر لیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: کیا آپ استلام نہیں کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کبھی طواف نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: تو کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے کہا: نہیں! انہوں نے فرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ فرمایا: پھر اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 512]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإن بعض بني يعلى بن أمية مجهول لا يعرف
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فإن بعض بني يعلى بن أمية مجهول لا يعرف
حدیث نمبر: 513 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَيْوَةُ ، أَبُو عَقِيلٍ ، الْحَارِثَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ مَوْلَى عُثْمَانَ، يَقُولُ: جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ، أَظُنُّهُ سَيَكُونُ فِيهِ مُدٌّ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" وَمَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ، غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصُّبْحِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يَبِيتَ يَتَمَرَّغُ لَيْلَتَهُ، ثُمَّ إِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الصُّبْحَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ"، قَالُوا: هَذِهِ الْحَسَنَاتُ، فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: هُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حارث جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے، اتنی دیر میں مؤذن آ گیا، انہوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، میرا خیال ہے کہ اس میں ایک مد کے برابر پانی ہو گا، انہوں نے وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز پڑھے تو فجر اور ظہر کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے، پھر عصر کی نماز پڑھنے پر ظہر اور عصر کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے، پھر مغرب کی نماز پڑھنے پر عصر اور مغرب کے درمیان اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے مغرب اور عشاء کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ پھر ہو سکتا ہے کہ وہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہے اور کھڑا ہو کر وضو کر کے فجر کی نماز پڑھ لے تو فجر اور عشاء کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور یہ وہی نیکیاں ہیں جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، لوگوں نے پوچھا کہ حضرت! یہ تو حسنات ہیں باقیات (جن کا تذکرہ قرآن میں بھی آتا ہے وہ) کیا چیز ہیں؟ فرمایا وہ یہ کلمات ہیں۔ «لا اله الا الله و سبحان الله والحمدلله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله» ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 513]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 514 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، عَائِشَةَ ، وَعُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَجَلَسَ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ:" اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ"، فَقَضَى إِلَيَّ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ"، وقَالَ اللَّيْثُ: وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَائِشَةَ:" أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ يَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دونوں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی طرح لیٹے رہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا کام پورا کر کے چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی لیکن خود اسی کیفیت پر رہے، وہ بھی اپنا کام پورا کر کے چلے گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر بعد میں نے آ کر اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اپنے کپڑے سمیٹ لو، تھوڑی دیر میں میں بھی اپنا کام کر کے چلا گیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! عثمان رضی اللہ عنہ کے آنے پر آپ نے جو اہتمام کیا، وہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے آنے پر نہیں کیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان میں شرم و حیاء کا مادہ بہت زیادہ ہے، مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے انہیں اندر یوں ہی بلا لیا اور میں اپنی حالت پر ہی رہا تو وہ جس مقصد کے لئے آئے ہیں اسے پورا نہ کر سکیں گے اور بعض روایات کے مطابق یہ فرمایا کہ میں اس شخص سے حیاء کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 514]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2402
الحكم: إسناده صحيح، م: 2402
حدیث نمبر: 515 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، عُثْمَانَ ، وَعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ ، وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ.. فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں مذکور ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 515]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 516 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز کے لئے روانہ ہو اور اسے ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 516]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
الحكم: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 517 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عُثْمَانُ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: رَاحَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ حَاجًّا، وَدَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَتُهُ، فَبَاتَ مَعَهَا حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ رَدْعُ الطِّيبِ، وَمِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ مُفْدَمَةٌ، فَأَدْرَكَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ يَرُوحُوا، فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ انْتَهَرَ وَأَفَّفَ، وَقَالَ:" أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ، وَقَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَهُ وَلَا إِيَّاكَ، إِنَّمَا نَهَانِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، ان کی زوجہ محترمہ اپنے قریبی رشتہ دار محمد بن جعفر کے پاس چلی گئیں، محمد نے رات انہی کے ساتھ گزاری، صبح ہوئی تو محمد کے جسم سے خوشبو کی مہک پھوٹ رہی تھی اور عصفر سے رنگا ہوا لحاف ان کے اوپر تھا، کوچ کرنے سے پہلے ہی لوگوں کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے لگے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حال میں دیکھا تو انہیں ڈانٹا اور سخت سست کہا: اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منع کرنے کے باوجود بھی تم نے عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہن رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی سن لیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے منع کیا تھا اور نہ ہی آپ کو انہوں نے تو مجھے منع کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 517]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن عبدالرحمن وجهالة عبيدالله بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبيد الله بن عبدالرحمن وجهالة عبيدالله بن عبدالله
حدیث نمبر: 518 مسند احمد
وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، وَقَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ: حَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، يَقُولُ: قَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهَرٌ يَجْرِي، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟" قَالُوا: لَا شَيْءَ، قَالَ:" إِنَّ الصَّلَوَاتِ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِبُ الْمَاءُ الدَّرَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ بتاؤ! اگر تمہارے گھر کے صحن میں ایک نہر بہہ رہی ہو اور تم روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتے ہو تو کیا تمہارے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی؟ لوگوں نے کہا: بالکل نہیں! فرمایا: پانچوں نمازیں گناہوں کو اسی طرح ختم کر دیتی ہیں جیسے پانی میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح