بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 138
صفحہ 4 از 7
حدیث نمبر: 459 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ، فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَا تَغْتَرُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے خوب اچھی طرح وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی جگہ بہترین انداز میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا دھوکے کا شکار نہ ہو جانا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
الحكم: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
حدیث نمبر: 460 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ بْنِ عُمَرَ التَّيْمِيُّ ، أَبِي ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ بْنِ عُمَرَ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمِّي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ مُوسَى ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ، فَدَخَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: انْظُرْ إِلَى الشَّيْخِ، فَأَقْعِدْهُ مَقْعَدًا صَالِحًا، فَإِنَّ لِقُرَيْشٍ حَقًّا، فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْأَمِيرُ، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ"، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذَا، مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي : يَا بُنَيَّ، إِنْ وَلِيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا، فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ بن عمیر کہتے ہیں کہ میں سلیمان بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنی دیر میں قریش کے ایک بزرگ تشریف لائے، سلیمان نے کہا: دیکھو! شیخ کو اچھی جگہ بٹھاؤ کیونکہ قریش کا حق ہے، میں نے کہا: گورنر صاحب! کیا میں آپ کو ایک حدیث سناؤں جو قریش کی توہین کرتا ہے، گویا وہ اللہ کی توہین کرتا ہے، اس نے کہا: سبحان اللہ! کیا خوب، یہ روایت تم سے کس نے بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے حوالے سے، انہوں نے عمرو بن عثمان کے حوالے سے کہ میرے والد نے مجھ سے فرمایا: بیٹا! اگر تمہیں کسی جگہ کی امارت ملے تو قریش کی عزت کرنا کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو قریش کی اہانت کرتا ہے، گویا وہ اللہ کی اہانت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 460]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، محمد بن حفص والد عبيد الله وعمه عبيدالله بن عمر لم يوثقهما غير ابن حبان
الحكم: حسن لغيره، محمد بن حفص والد عبيد الله وعمه عبيدالله بن عمر لم يوثقهما غير ابن حبان
حدیث نمبر: 461 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، يَعْقُوبُ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، ابْنِ أَبْزَى ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ: إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ؟ قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُلْحَدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ، عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابزی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شروع ہوا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ میرے پاس بہترین قسم کے اونٹ ہیں جنہیں میں نے آپ کے لئے تیار کر دیا ہے، آپ ان پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ تشریف لے چلیں، جو آپ کے پاس آنا چاہے گا، وہیں آ جائے گا؟ لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مکہ مکرمہ میں قریش کا ایک مینڈھا الحاد پھیلائے گا جس کا نام عبداللہ ہو گا، اس پر لوگوں کے گناہوں کا آدھا بوجھ ہو گا۔ (میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 461]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، و متنه منكر شبه موضوع
الحكم: إسناده ضعيف، و متنه منكر شبه موضوع
حدیث نمبر: 462 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، مَطَرٍ ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، نَافِعٍ ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے، بلکہ پیغام نکاح بھی نہ بھیجے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 462]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1409، إسناده من طريق يعلى بن حكيم صحيح، ومطر الوراق - وإن كان فيه كلام - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1409، إسناده من طريق يعلى بن حكيم صحيح، ومطر الوراق - وإن كان فيه كلام - قد توبع
حدیث نمبر: 463 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كَهْمَسٌ ، مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكُمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُقَامُ لَيْلُهَا، وَيُصَامُ نَهَارُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے، ایسا نہیں کہ بخل کی وجہ سے میں اسے تمہارے سامنے بیان نہ کروں گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک رات کی پہرہ داری کرنا ایک ہزار راتوں کے قیام لیل اور صیام نہار سے بڑھ کر افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 463]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن ثابت
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مصعب بن ثابت
حدیث نمبر: 464 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدًا ، أَبِي بِشْرٍ الْعنبري ، حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعنبري ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 464]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 26
الحكم: إسناده صحيح، م: 26
حدیث نمبر: 465 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ ، أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُكَحِّلَهَا، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ، وَزَعَمَ أَنَّ عُثْمَانَ حدث عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمر بن عبیداللہ کو حالت احرام میں آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہو گیا، انہوں نے آنکھوں میں سرمہ لگانا چاہا تو سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور کہا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے، سرمہ نہ لگائے) کیونکہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 465]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1204
الحكم: إسناده صحيح، م: 1204
حدیث نمبر: 466 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ ابْنَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَنَهَاهُ أَبَانُ، وَزَعَمَ أَنَّ عُثْمَانَ حدث عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ، وَلَا يُنْكِحُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ نے حالت احرام میں اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہا تو سیدنا ابان رحمہ اللہ نے اسے روک دیا اور بتایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 466]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م 1409
الحكم: إسناده صحيح، م 1409
حدیث نمبر: 467 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، رَبَاحٍ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَبَاحٍ ، قَالَ: زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً، وَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ، فَعَلِقَهَا عَبْدٌ رُومِيٌّ، يُقَالُ لَهُ: يُوحَنَّسُ، فَجَعَلَ يُرَاطِنُهَا بِالرُّومِيَّةِ، فَحَمَلَتْ، وَقَدْ كَانَتْ وَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي، فَجَاءَتْ بِغُلَامٍ وَكَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: هُوَ مِنْ يُوحَنَّسَ، فَسَأَلْتُ يُوحَنَّسَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَسَأَلَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: سَأَقْضِي بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"، فَأَلْحَقَهُ بِي، قَالَ: فَجَلَدَهُمَا، فَوَلَدَتْ لِي بَعْدُ غُلَامًا أَسْوَدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کر دی، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہو گیا، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہو گیا جس کا نام یوحنس تھا، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کر لیا، چنانچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے، ہم نے یہ معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستر والے کا ہو گا اور زانی کے لئے پتھر ہیں، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا نسب نامہ مجھ سے ثابت کر دیا اور ان دونوں کو کوڑے مارے اور اس کے بعد بھی اس کے یہاں میرا ایک بیٹاپیدا ہوا جو کالا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 467]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة رباح
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة رباح
حدیث نمبر: 468 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، قَالَ: وَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلْنَاهُ سَمِعْنَا كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ، قَالَ: فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، قَالَ: قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَقَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ"، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَلَا تَمَنَّيْتُ بَدَلًا بِدِينِي مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے، میں ان کے ساتھ ہی تھا تھوڑی دیر کے لئے ہم کسی کمرے میں داخل ہوتے تو چوکی پر بیٹھنے والوں کی بات بھی سنائی دیتی تھی، اسی طرح ایک مرتبہ وہ اس کمرے میں داخل ہوئے، تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لائے تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا اور وہ فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے مجھے ابھی ابھی قتل کی دھمکی دی ہے، ہم نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین! اللہ ان کی طرف سے آپ کی کفایت و حفاظت فرمائے گا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے، اللہ کی قسم! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے، میں نے اس دین کے بدلے کسی دوسرے دین کو پسند نہیں کیا، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 468]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 469 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَسُرَيْجٌ ، وَحُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ . ح وَسُرَيْجٌ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ حُسَيْنُ: ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ: مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ أَوْعَى أَصْحَابِهِ عَنْهُ، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، وَقَالَ حُسَيْنٌ: أَوْعَى صَحَابَتِهِ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں تم سے اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث بکثرت بیان نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں انہیں یاد نہیں رکھ سکا، بلکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 469]
حکم دارالسلام
إسناده حسن والحديث متواتر
الحكم: إسناده حسن والحديث متواتر
حدیث نمبر: 470 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ ، أَبِي صَالِحٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوصالح جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگو! میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی تاکہ تم لوگ مجھ سے جدا نہ ہو جاؤ لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی جو مناسب سمجھے، اسے اختیار کر لے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن کی پہرہ داری، دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 470]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 471 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، رَجُلٍ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ، يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ: بِسْمِ اللَّهِ، آمَنْتُ بِاللَّهِ، اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان اپنے گھر سے نکلتے وقت خواہ سفر کے ارادے سے یا ویسے ہی یہ دعا پڑھ لے «بسم الله آمنت بالله، اعتصمت بالله، توكلت على الله لاحول ولاقوة الا بالله»، تو اسے اس کی خیر عطاء فرمائی جائے گی اور اس نکلنے کے شر سے اس کی حفاظت کی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 471]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه صالح بن كيسان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه صالح بن كيسان
حدیث نمبر: 472 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَجَّاجِ ، عَطَاءٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو اچھی طرح دھویا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 472]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج مدلس وقد عنعن، وعطاء لم يدرك عثمان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج مدلس وقد عنعن، وعطاء لم يدرك عثمان
حدیث نمبر: 473 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، وَأَنَا قَائِمٌ مَعَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے، تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 473]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 231
الحكم: إسناده صحيح، م: 231
حدیث نمبر: 474 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ، أَوْ فِي أَوَّلِ لَيْلَتِهِ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، أَوْ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دن یا رات کے آغاز میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھ لیا کرے اسے اس دن یا رات میں کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ «بسم الله الذى لا يضر مع اسمه شيء فى الارض و لا فى السماء وهو السميع العليم» ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 474]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 475 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو سِنَانٍ ، يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ ، عُثْمَانَ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ : أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ، وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ، فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ"، قَالَ عُثْمَانُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي، فَأَعْفَاهُ، وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن موہب کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو قاضی بننے کی پیشکش کی، انہوں نے فرمایا کہ میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کروں گا اور نہ ہی امامت کروں گا، کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا، جو اللہ کی پناہ میں آ جائے وہ مکمل طور پر محفوظ ہو جاتا ہے؟ فرمایا: کیوں نہیں! اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی عہدہ دیں، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں چھوڑ دیا اور فرمایا کسی کو اس بارے میں مت بتائیے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 475]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناده ضعيف لضعف أبى سنان
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناده ضعيف لضعف أبى سنان
حدیث نمبر: 476 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے تو اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کے ناخن کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 245
الحكم: إسناده صحيح، م: 245
حدیث نمبر: 477 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، هَجِّرُوا فَإِنِّي مُهَجِّرٌ، فَهَجَّرَ النَّاسُ، ثُمّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ مَا تَكَلَّمْتُ بِهِ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رِبَاطَ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ مِمَّا سِوَاهُ، فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ حَيْثُ شَاءَ"، هَلْ بَلَّغْتُكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوصالح جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو! روانہ ہو جاؤ کیونکہ میں بھی روانہ ہونے لگا ہوں، لوگ روانہ ہونے لگے تو فرمایا کہ میں نے اب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے، اس لئے جو شخص چاہے وہ پہرہ داری کرے، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 477]
حکم دارالسلام
حديث حسن ، وهذا إسناد ضعيف، سويد بن سعيد مختلف فيه، ورشدين بن سعد ضعيف
الحكم: حديث حسن ، وهذا إسناد ضعيف، سويد بن سعيد مختلف فيه، ورشدين بن سعد ضعيف
حدیث نمبر: 478 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، حُمْرَانَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمْرَانَ ، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فِي مَقْعَدِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَغْتَرُّوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پانی منگوا کر خوب اچھی طرح وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی جگہ بہترین انداز میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور مسجد میں آ کر دو رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: دھوکے کا شکار نہ ہو جانا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 478]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 160، م: 227
الحكم: إسناده صحيح، خ: 160، م: 227