بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 461
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 461
إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، يَعْقُوبُ ، جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، ابْنِ أَبْزَى ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ: إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ؟ قَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُلْحَدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ، اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ، عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابزی کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شروع ہوا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ میرے پاس بہترین قسم کے اونٹ ہیں جنہیں میں نے آپ کے لئے تیار کر دیا ہے، آپ ان پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ تشریف لے چلیں، جو آپ کے پاس آنا چاہے گا، وہیں آ جائے گا؟ لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مکہ مکرمہ میں قریش کا ایک مینڈھا الحاد پھیلائے گا جس کا نام عبداللہ ہو گا، اس پر لوگوں کے گناہوں کا آدھا بوجھ ہو گا۔ (میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 461]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، و متنه منكر شبه موضوع
الحكم: إسناده ضعيف، و متنه منكر شبه موضوع
← پچھلی حدیث (460) باب پر واپس اگلی حدیث (462) →