بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 138
صفحہ 3 از 7
حدیث نمبر: 439 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: دَعَا عُثْمَانُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكُمْ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي، نَشَدْتُكُمْ اللَّهَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ، وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ؟ فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ لَأَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ، فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ، يَعْنِي عَمَّارًا؟ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ، حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ، فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الدَّهْرَ هَكَذَا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْبِرْ"، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ، وَقَدْ فَعَلْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلایاجن میں سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور فرمایا کہ میں آپ لوگوں سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے چند باتوں کی تصدیق کروانا چاہتا ہوں، میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت قریش کو ترجیح دیتے تھے اور بنو ہاشم کو تمام قریش پر؟ لوگ خاموش رہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں جنت کی چابیاں ہوں تو میں وہ بنو امیہ کو دے دوں تاکہ وہ سب کے سب جنت میں داخل ہو جائیں (قرابت داروں سے تعلق ہونا ایک فطری چیز ہے، یہ دراصل اس سوال کا جواب تھا جو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر اقرباء پروری کے سلسلے میں کرتے تھے) اس کے بعد انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں آپ کو ان کی یعنی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی کچھ باتیں بتاؤں؟ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چلتا چلتا وادی بطحاء میں پہنچا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے والدین کے پاس جا پہنچے، وہاں انہیں مختلف سزائیں دی جا رہی تھیں، عمار کے والد نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم ہمیشہ اسی طرح رہیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: صبر کرو، پھر دعاء فرمائی اے اللہ! آل یاسر کی مغفرت فرما، میں بھی اب صبر کر رہا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 439]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم بن أبى الجعد لم يدرك عثمان. ولقوله : (اللهم اغفر لآل ياسر...) شاهد صحيح من حديث جابر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، سالم بن أبى الجعد لم يدرك عثمان. ولقوله : (اللهم اغفر لآل ياسر...) شاهد صحيح من حديث جابر
حدیث نمبر: 440 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ ، الْحَسَنَ ، حُمْرَانُ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي حُمْرَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ سِوَى ظِلِّ بَيْتٍ، وَجِلْفِ الْخُبْزِ، وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَتَهُ، وَالْمَاءِ، فَمَا فَضَلَ عَنْ هَذَا فَلَيْسَ لِابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گھر کے سائے، خشک روٹی کے ٹکڑے، شرمگاہ کو چھپانے کی بقدر کپڑے اور پانی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے کسی ایک میں بھی انسان کا استحقاق نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 440]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف وهو منكر
الحكم: إسناده ضعيف وهو منكر
حدیث نمبر: 441 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، شَيْخٍ ، عَمَّهُ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ ثَقِيفٍ ذَكَرَهُ حُمَيْدٌ بِصَلَاحٍ، ذَكَرَ أَنَّ عَمَّهُ أخْبَرَهُ: أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَى الْبَابِ الثَّانِي مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِكَتِفٍ فَتَعَرَّقَهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، ثُمَّ قَالَ:" جَلَسْتُ مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْتُ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَنَعْتُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مسجد کے باب ثانی کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے شانے کا گوشت منگوایا اور اس کی ہڈی سے گوشت اتار کر کھانے لگے، پھر یوں ہی کھڑے ہو کر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی اور فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کھایا، وہی کھایا اور جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا، وہی میں نے بھی کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 441]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من ثقيف وعمه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من ثقيف وعمه
حدیث نمبر: 442 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بِمِنًى، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ، فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ كَيْفَ شَاءَ"، هَلْ بَلَّغْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایام حج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ کے میدان میں فرمایا: لوگو! میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی چوکیداری عام حالات میں ایک ہزار دن سے افضل ہے، اس لئے جو شخص جس طرح چاہے، اس میں حصہ لے، یہ کہہ کر آپ نے فرمایا: کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 442]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عبدالله بن لهيعة قد توبع
الحكم: حديث حسن، عبدالله بن لهيعة قد توبع
حدیث نمبر: 443 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، أَبِيهِ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَأَنْكَرَهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِمَكَّةَ مُنْذُ قَدِمْتُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَأَهَّلَ فِي بَلَدٍ، فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایام حج میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں قصر کی بجائے پوری چار رکعتیں پڑھا دیں، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! میں مکہ مکرمہ میں آ کر مقیم ہو گیا تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی شہر میں مقیم ہو جائے، وہ مقیم والی نماز پڑھے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 443]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عكرمة بن إبراهيم وعبدالرحمن بن أبى ذباب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عكرمة بن إبراهيم وعبدالرحمن بن أبى ذباب
حدیث نمبر: 444 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو قَيْنُقَاعَ، فَأَبِيعُهُ بِرِبْحٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ، إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں یہودیوں کے ایک خاندان اور قبیلہ سے جنہیں بنو قینقاع کہا جاتا تھا، کھجوریں خریدتا تھا اور اپنا منافع رکھ کر آگے بیچ دیتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا: عثمان! جب خریدا کرو تو اسے تول لیا کرو اور جب بیچا کرو تو تول کر بیچا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 444]
حکم دارالسلام
حديث حسن، فإنه من قديم حديث ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، فإنه من قديم حديث ابن لهيعة
حدیث نمبر: 445 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 445]
حکم دارالسلام
حسن، هو مكرر ما قبله
الحكم: حسن، هو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 446 مسند احمد
عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ دعا پڑھ لیا کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی «بسم الله الذى لا يضر مع اسمه شيء فى الارض ولا فى السماء وهو السميع العليم» ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 446]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 447 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ، إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ" فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ؟ هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَعَزَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اسے دل سے حق سمجھ کر کہے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں آپ کو بتاؤں، وہ کلمہ کون سا ہے؟ وہ کلمہ اخلاص ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر لازم کیا تھا، یہ وہی کلمہ تقویٰ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کے سامنے ان کی موت کے وقت بار بار پیش کیا تھا، یعنی اللہ کی وحدانیت کی گواہی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 447]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 448 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، عُثْمَانُ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ :" يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ"، وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مباشرت کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے لئے وضو کرتا ہے، ایسا ہی وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 448]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 179، م: 347، وهذا الحديث منسوخ بحديث أبى بن كعب وأبي هريرة وعائشة
الحكم: إسناده صحيح، خ: 179، م: 347، وهذا الحديث منسوخ بحديث أبى بن كعب وأبي هريرة وعائشة
حدیث نمبر: 449 مسند احمد
عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ سورة الأنعام آية 83، قَالَ: بِالْعِلْمِ"، قُلْتُ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: زَعَمَ ذَاكَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت قرآنی «نرفع درجات من نشاء» کا مطلب یہ ہے کہ علم کے ذریعے ہم جس کے درجات بلند کرنا چاہتے ہیں، کر دیتے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ مطلب آپ سے کس نے بیان کیا؟ فرمایا: زید بن اسلم نے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 449]
حکم دارالسلام
ليس ذا بحديث إنما هو أثر عن زيد بن أسلم التابعي، وإسناده صحيح
الحكم: ليس ذا بحديث إنما هو أثر عن زيد بن أسلم التابعي، وإسناده صحيح
حدیث نمبر: 450 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّايَ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَوْ أَوْتَرَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنَّهُمَا تَمَامُ صَلَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا، مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ میں نے جفت عدد میں رکعتیں پڑھیں یا طاق عدد میں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ کو اس بات سے بچاؤ کہ دوران نماز شیطان تم سے کھیلنے لگے، اگر تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے جفت اور طاق کا پتہ نہ چل سکے تو اسے سہو کے دو سجدے کر لینے چاہئیں، کہ ان دونوں سے نماز مکمل ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 450]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف بالانقطاع، يزيد بن أبى كبشة لم يسمعه من عثمان، والواسطة بينهما مروان كما فى الرواية التالية
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف بالانقطاع، يزيد بن أبى كبشة لم يسمعه من عثمان، والواسطة بينهما مروان كما فى الرواية التالية
حدیث نمبر: 451 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، سَوَّارٌ أَبُو عُمَارَةَ الرَّمْلِيّ ، مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ ، مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَوَّارٌ أَبُو عُمَارَةَ الرَّمْلِيّ ، عَنْ مَسَرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْعَصْرَ، فَانْصَرَفَ إِلَيْنَا بَعْدَ صَلَاتِهِ، فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَسَجَدَ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَأَعْلَمَنَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُثْمَانَ ، وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسیرہ بن معبد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں یزید بن ابی کبشہ نے عصر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد وہ ہماری طرف رخ کر کے بیٹھ گئے اور کہنے لگے میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے بھی اسی طرح دو سجدے کئے اور ہماری طرف رخ کر کے بتایا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 451]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 452 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ ، مَطَرٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُثْمَانَ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: عَلَامَ تَقْتُلُونِي؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ، أَوْ قَتَلَ عَمْدًا، فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ، أَوْ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ"، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَلَا قَتَلْتُ أَحَدًا فَأُقِيدَ نَفْسِي مِنْهُ، وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جن دنوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں محصور تھے، انہوں نے لوگوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمانے لگے بھلا کس جرم میں تم لوگ مجھے قتل کرو گے؟ جب کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کر دیا جائے، اللہ کی قسم! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے، میں کبھی مرتد نہیں ہوا، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، جس کا مجھ سے قصاص لیا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 452]
حکم دارالسلام
حسن، مطر الورق - وإن تكلموا فى حفظه - حسن الحديث فى المتابعات والشواهد
الحكم: حسن، مطر الورق - وإن تكلموا فى حفظه - حسن الحديث فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 453 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو قَبِيلٍ ، مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْدَادِيَّ ، أَبِي ذَرٍّ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْدَادِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّهُ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصَاهُ، فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا كَعْبُ، إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللَّهِ، فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ، فَضَرَبَ كَعْبًا، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هَذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي، أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقٍ"، أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ، أَسَمِعْتَهُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مالک بن عبداللہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اجازت لے کر آئے، انہوں نے اجازت دے دی، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں لاٹھی تھی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے کعب! عبدالرحمن فوت ہو گئے ہیں اور اپنے ترکہ میں مال چھوڑ گئے ہیں، اس مسئلے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس کے ذریعے حقوق اللہ ادا کرتے تھے تو کوئی حرج نہیں، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنی لاٹھی اٹھا کر انہیں مارنا شروع کر دیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے پاس اس پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اپنے پیچھے اس میں سے چھ اوقیہ بھی چھوڑ دوں، میں اسے خرچ کر دوں گا تاکہ وہ قبول ہو جائے، اے عثمان! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا آپ نے بھی یہ ارشاد سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 453]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لھیعتہ وجھالتہ مالک بن عبداللہ الهيعة وجهالة مالك بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لھیعتہ وجھالتہ مالک بن عبداللہ الهيعة وجهالة مالك بن عبدالله
حدیث نمبر: 454 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ ، هَانِئٍ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ ، عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى، حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي، وَتَبْكِي مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ يَنْجُ مِنْهُ، فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ، فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ، إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہانی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کسی قبر پر رکتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہو جاتی، کسی نے ان سے پوچھا کہ جب آپ جنت اور جہنم کا تذکرہ کرتے ہیں، تب تو نہیں روتے اور اس سے رو پڑتے ہیں؟ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہاں نجات مل گئی تو بعد کے سارے مراحل آسان ہو جائیں گے اور اگر وہاں نجات نہ ملی تو بعد کے سارے مراحل دشوار ہو جائیں گے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے جتنے بھی مناظر دیکھے ہیں، قبر کا منظر ان سب سے ہولناک ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 454]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 455 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، مَرْوَانَ ، عُثْمَانُ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، وَمَا إِخَالُهُ يُتَّهَمُ عَلَيْنَا، قَالَ: أَصَابَ عُثْمَانَ رُعَافٌ سَنَةَ الرُّعَافِ، حَتَّى تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى، فدخل عليه رجل من قريش، فقال: استخلف، قَالَ: وَقَالُوهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ الْأَوَّلُ، وَرَدَّ عَلَيْهِ نَحْوَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ : قَالُوا الزُّبَيْرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنْ كَانَ لَخَيْرَهُمْ مَا عَلِمْتُ، وَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مروان سے روایت ہے کہ عام الرعاف میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ناک سے ایک مرتبہ بہت خون نکلا (جسے نکسیر پھوٹنا کہتے ہیں) یہاں تک کہ وہ حج کے لئے بھی نہ جا سکے اور زندگی کی امید ختم کر کے وصیت بھی کر دی، اس دوران ایک قریشی آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیجئے، انہوں نے پوچھا: کیا لوگوں کی بھی یہی رائے ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! انہوں نے پوچھا کہ کن لوگوں کی یہ رائے ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی آیا، اس نے بھی پہلے آدمی کی باتیں دہرائیں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے بھی وہی جواب دئیے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ لوگوں کی رائے کسے خلیفہ بنانے کی ہے؟ اس نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو، فرمایا: ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میرے علم کے مطابق وہ سب سے بہتر اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظروں میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 455]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3717
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3717
حدیث نمبر: 456 مسند احمد
سُوَيْدٌ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَاه سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گزری۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سويد- وإن كان فيه كلام - قد تابعه زكريا بن عدي فى الحديث الذى قبله
الحكم: حديث صحيح، سويد- وإن كان فيه كلام - قد تابعه زكريا بن عدي فى الحديث الذى قبله
حدیث نمبر: 457 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا ، يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، قَالَ: رَأَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ جَنَازَةً، فَقَامَ لَهَا، وَقَالَ:" رَأَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا، ثُمَّ حَدَّثَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً، فَقَامَ لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے ایک جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو وہ بھی کھڑے ہو گئے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 457]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، زكريا بن أبى زكريا مترجم فى التعجيل ، وقال عنه: مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، زكريا بن أبى زكريا مترجم فى التعجيل ، وقال عنه: مجهول
حدیث نمبر: 458 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عُثْمَانُ ، عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَطَلْحَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ : أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ: عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ :" يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ"، قَالَ: وَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَطَلْحَةَ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مباشرت کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے لئے وضو کرتا ہے، ایسا ہی وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال سیدنا علی، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا: تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 179، م: 347، وهو منسوخ
الحكم: إسناده صحيح، خ: 179، م: 347، وهو منسوخ