مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّايَ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَوْ أَوْتَرَ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنَّهُمَا تَمَامُ صَلَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا، مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ میں نے جفت عدد میں رکعتیں پڑھیں یا طاق عدد میں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آپ کو اس بات سے بچاؤ کہ دوران نماز شیطان تم سے کھیلنے لگے، اگر تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے جفت اور طاق کا پتہ نہ چل سکے تو اسے سہو کے دو سجدے کر لینے چاہئیں، کہ ان دونوں سے نماز مکمل ہو جاتی ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 450]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف بالانقطاع، يزيد بن أبى كبشة لم يسمعه من عثمان، والواسطة بينهما مروان كما فى الرواية التالية
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف بالانقطاع، يزيد بن أبى كبشة لم يسمعه من عثمان، والواسطة بينهما مروان كما فى الرواية التالية