إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عُثْمَانُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: مَا بَقِيَ لِلنِّسَاءِ مِنْكَ؟ قَالَ: فَلَمَّا ذُكِرَتْ النِّسَاءُ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: ادْنُ يَا عَلْقَمَةُ، قَالَ: وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلطَّرْفِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ عورتوں کے لئے آپ کے پاس کیا باقی بچا؟ عورتوں کا تذکرہ ہوا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے قریب ہونے کے لئے کہا کہ میں اس وقت نوجوان تھا، پھر خود سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مہاجرین کے نوجوانوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس استطاعت ہو اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہ کی بھی حفاظت ہو جاتی ہے اور جو ایسا نہ کر سکے، وہ روزے رکھے کیونکہ یہ شہوت کو توڑ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 411]
حکم دارالسلام
صحيح محفوظ من حديث ابن مسعود الآتي برقم: 3592، وقد وهم أبو معشر فى جعل هذا الحديث عن عثمان بن عفان
الحكم: صحيح محفوظ من حديث ابن مسعود الآتي برقم: 3592، وقد وهم أبو معشر فى جعل هذا الحديث عن عثمان بن عفان