بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 494
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 494
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عُثْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ سُفْيَانُ: وَهُوَ أَمِيرٌ، مَا يَصْنَعُ بِهِمَا؟ قَالَ: قَالَ: ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں تو ابان بن عثمان سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ وہ کیا کریں؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے، سرمہ نہ لگائے) کیونکہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1204
الحكم: إسناده صحيح، م: 1204
← پچھلی حدیث (493) باب پر واپس اگلی حدیث (495) →