بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 309
صفحہ 14 از 16
حدیث نمبر: 342 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هُشَيْمٌ ، الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عُمَارَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّ عُمَرَ قَالَ:" هِيَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي الْمُتْعَةَ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ يُعَرِّسُوا بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُوا بِهِنَّ حُجَّاجًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرچہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ پیلو کے درخرت کے نیچے رات گزاریں اور صبح کو اٹھ کر حج کی نیت کر لیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 342]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 1222، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، ويأتي بإسناد صحيح من طريق شعبة برقم: 351
الحكم: صحيح، م: 1222، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، ويأتي بإسناد صحيح من طريق شعبة برقم: 351
حدیث نمبر: 343 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ جَدِّهِ ، الشَّكُّ مِنْ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ بَعْدَ الْحَدَثِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حدث کے بعد وضو کرتے ہوئے دیکھا، جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 343]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وعاصم بن عبيد الله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد وعاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 344 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ ، عُمَرُ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ، وَعَلَيْنَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَابْنُ حَسَنَةَ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعِيَاضٌ، وَلَيْسَ عِيَاضٌ هَذَا بِالَّذِي حَدَّثَ سِمَاكًا، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ " إِذَا كَانَ قِتَالٌ، فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ، قَالَ: فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ: إِنَّهُ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ، وَاسْتَمْدَدْنَاهُ، فَكَتَبَ إِلَيْنَا: إِنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْضَرُ جُنْدًا، اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَاسْتَنْصِرُوهُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي هَذَا، فَقَاتِلُوهُمْ وَلَا تُرَاجِعُونِي"، قَالَ: فَقَاتَلْنَاهُمْ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَقَتَلْنَاهُمْ أَرْبَعَ فَرَاسِخَ، قَالَ: وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا، فَتَشَاوَرُوا، فَأَشَارَ عَلَيْنَا عِيَاضٌ أَنْ نُعْطِيَ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشْرَةً، قَالَ: وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَنْ يُرَاهِنِّي؟ فَقَالَ شَابٌّ: أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ، قَالَ: فَسَبَقَهُ، فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ یرموک میں موجود تھا، ہم پر پانچ امراء مقرر تھے، ابوعبیدہ بن الجراح، یزید بن ابی سفیان، ابن حسنہ، خالد بن ولید، عیاض بن غنم (یاد رہے کہ اس سے مراد خود راوی حدیث نہیں ہیں)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرما رکھا تھا کہ جب جنگ شروع ہو تو تمہارے سردار سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ہوں گے، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ایک مراسلہ میں لکھ کر بھیجا کہ موت ہماری طرف اچھل اچھل کر آ رہی ہے، ہمارے لئے کمک روانہ کیجئے، انہوں نے جواب میں لکھ بھیجا کہ میرے پاس تمہارا خط پہنچا جس میں تم نے مجھ سے امداد کی درخواست کی ہے، میں تمہیں ایسی ہستی کا پتہ بتاتا ہوں جس کی نصرت سب سے زیادہ مضبوط اور جس کے لشکر سب سے زیادہ حاضر باش ہوتے ہیں، وہ ہستی اللہ تبارک وتعالیٰ ہیں، ان ہی سے مدد مانگو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصرت غزوہ بدر کے موقع پر بھی کی گئی تھی جبکہ وہ تعداد میں تم سے بہت تھوڑے تھے، اس لئے جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو ان سے قتال شروع کر دو اور مجھ سے بار بار امداد کے لئے مت کہو۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے قتال شروع کیا تو مشرکین کو شرمناک ہزیمت سے دوچار کیا اور چار فرسخ تک انہیں قتل کرتے چلے گئے اور ہمیں مال غنیمت بھی حاصل ہوا، اس کے بعد مجاہدین نے باہم مشورہ کیا، سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ہر مجاہد کو فی کس دس درہم دیئے جائیں، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: میرے ساتھ اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ ایک نوجوان بولا: اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں کروں گا، یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا، میں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے بالوں کی چوٹیوں کو دیکھا کہ وہ ہوا میں لہرا رہی تھیں اور وہ نوجوان ان کے پیچھے ایک عربی گھوڑے پر بیٹھا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 344]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 345 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عُيَيْنَةُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَلَيَّ جُبَّةُ خَزٍّ، فَقَالَ لِي سَالِمٌ: مَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الثِّيَابِ؟ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علی بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا، اس وقت میں نے ریشمی جبہ زیب تن کر رکھا تھا، سیدنا سالم رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ تم ان کپڑوں کا کیا کرو گے؟ میں نے اپنے والد کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ریشم وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 345]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ابن جدعان، خ : 5835، م: 2069
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ابن جدعان، خ : 5835، م: 2069
حدیث نمبر: 346 مسند احمد
أَبُو الْمُنْذِرِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَجَّاجٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو ، أُرَاهُ عَنِ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ ابْنَهُ عَمْدًا، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ: ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً، وَقَالَ: لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ" لَقَتَلْتُكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر مار ڈالا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش ہوا تو انہوں نے اس پر سو اونٹ دیت واجب قرار دی، تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس ثنیے یعنی جو دوسرے سال میں لگے ہوں اور فرمایا: قاتل وارث نہیں ہوتا اور اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ باپ کو بیٹے کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 346]
حکم دارالسلام
حديث حسن، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد توبع
حدیث نمبر: 347 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، وَيَزِيدُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَيَزِيدُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ" لَوَرَّثْتُكَ، قَالَ: وَدَعَا خَالَ الْمَقْتُولِ، فَأَعْطَاهُ الْإِبِلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دوسری سند سے اسی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور دیت کے وہ اونٹ اس کے حوالے کر دئیے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 347]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شيعب لم يدرك عمر
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شيعب لم يدرك عمر
حدیث نمبر: 348 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، وَعَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: أَخَذَ عُمَرُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً، وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا، كُلُّهَا خَلِفَةٌ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُولِ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ دُونَ أَبِيهِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد سے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر سو اونٹ دیت واجب قرار دی، تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس ثنیے، یعنی جو دوسرے سال میں لگے ہوں، اور سب کے سب حاملہ ہوں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور دیت کے وہ اونٹ اس کے حوالے کر دئیے اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قاتل کو کچھ نہیں ملے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 348]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مجاهد بن جبر لم يدرك عمر، وانظر ما قبله
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مجاهد بن جبر لم يدرك عمر، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 349 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عمر
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: جاء العباس، وَعَلِيٌّ إلى عمر يختصمان، فقال العباس: اقض بيني وبين هذا الكذا كذا، فقال الناس: افصل بينهما، افصل بينهما، قَالَ: لَا أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا، قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مالک بن اوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ کرانے آئے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے اور ان کے درمیان فلاں فلاں چیز کا فیصلہ کر دیجئے، لوگوں نے بھی کہا کہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ان دونوں کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کروں گا کیونکہ یہ دونوں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 349]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2904، م: 1757
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2904، م: 1757
حدیث نمبر: 350 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ:" إِنَّ مِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَ آيَةُ الرِّبَا، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں سب سے آخری آیت سود سے متعلق نازل ہوئی ہے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا، اس لئے سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں ذرا بھی شک ہو اسے بھی چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 350]
حکم دارالسلام
حسن، سعيد بن المسيب لم يسمع من عمر
الحكم: حسن، سعيد بن المسيب لم يسمع من عمر
حدیث نمبر: 351 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أَبِي مُوسَى ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى : أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ :" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا بِهِنَّ مُعَرِّسِينَ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ َيَرُوحُون باِلْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے، ایک دن ایک شخص آ کر ان سے کہنے لگا کہ آپ اپنے کچھ فتوے روک کر رکھیں، آپ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ کے پیچھے، امیر المؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کیا نئے احکام جاری کئے ہیں، جب ان دونوں حضرات کی ملاقات ہوئی تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس کی بابت دریافت کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے صحابہ نے بھی کیا ہے، لیکن مجھے یہ چیز اچھی معلوم نہیں ہوتی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے اپنی بیویوں کے پاس رات گزاریں اور صبح کو حج کے لئے اس حال میں روانہ ہوں کہ ان کے سروں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 351]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1222
الحكم: إسناده صحيح، م: 1222
حدیث نمبر: 352 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: حَجَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَخْطُبَ النَّاسَ خُطْبَةً، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: إِنَّهُ قَدْ اجْتَمَعَ عِنْدَكَ رَعَاعُ النَّاسِ، فَأَخِّرْ ذَلِكَ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَدِينَةَ. فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ دَنَوْتُ مِنْهُ قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" وَإِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: مَا بَالُ الرَّجْمِ، وَإِنَّمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْجَلْدُ؟ وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ، وَلَوْلَا أَنْ يَقُولُوا: أَثْبَتَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ فِيهِ، لَأَثْبَتُّهَا كَمَا أُنْزِلَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لئے تشریف لے گئے، وہاں انہوں نے مخصوص حالات کے تناظر میں کوئی خطبہ دینا چاہا، لیکن سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اس وقت تو لوگوں کا کمزور طبقہ بہت بڑی مقدار میں موجود ہے، آپ اپنے اس خطبہ کو مدینہ منورہ واپسی تک مؤخر کر دیں (کیونکہ وہاں کے لوگ سمجھدار ہیں، وہ آپ کی بات سمجھ لیں گے، یہ لوگ بات کو صحیح طرح سمجھ نہ سکیں گے اور شورش بپا کر دیں گے۔) چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس آ گئے تو ایک دن میں منبر کے قریب گیا، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ بعض لوگ کہتے ہیں رجم کی کیا حیثیت ہے؟ کتاب اللہ میں تو صرف کوڑوں کی سزا ذکر کی گئی ہے؟ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور ان کے بعد ہم نے بھی، اور اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے کتاب اللہ میں اس چیز کا اضافہ کر دیا جو اس میں نہیں ہے تو میں اس حکم والی آیت کو قرآن کریم (کے حاشیے) پر لکھ دیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2462، م: 1691
حدیث نمبر: 353 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ، قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ مَا أَصَابَ النَّاسُ مِنَ الدُّنْيَا، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھوک کی وجہ سے کروٹیں بدلتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا پیٹ بھر لیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 353]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2978
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2978
حدیث نمبر: 354 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، ابْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ"، وَقَالَ حَجَّاجٌ:" بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میت کو اس کی قبر میں اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1292، م: 927
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1292، م: 927
حدیث نمبر: 355 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، رُفَيْعًا أَبَا الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رُفَيْعًا أَبَا الْعَالِيَةِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : حَدَّثَنِي رِجَالٌ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسِبُهُ قَالَ: مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَأَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ: بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے ایسے لوگوں نے اس بات کی شہادت دی ہے (جن کی بات قابل اعتماد ہوتی ہے، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں جو میری نظروں میں ان سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں) کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، ایک تو یہ کہ عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نفلی نماز نہ پڑھی جائے اور دوسرے یہ کہ فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 355]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 581، م: 826
الحكم: إسناده صحيح، خ: 581، م: 826
حدیث نمبر: 356 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، أَوْ بِالشَّامِ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا، أُصْبُعَيْنِ"، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَمَا عَتَّمْنَا إِلَّا أَنَّهُ الْأَعْلَامُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام یا آذربائیجان میں تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط آ گیا، جس میں لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ریشمی لباس پہننے سے منع فرمایا ہے سوائے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں کے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 356]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5828، م: 2069
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5828، م: 2069
حدیث نمبر: 357 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 358 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَأَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: صَلَّى عُمَرُ الصُّبْحَ وَهُوَ بِجَمْعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بِجَمْعٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ،" وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے اور کہتے تھے کہ کوہ ثبیر روشن ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1684
حدیث نمبر: 359 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنَ عُمَرَ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَمَا أَصْنَعُ؟ قَالَ:" اغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ تَوَضَّأْ، ثُمَّ ارْقُدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اگر میں رات کو ناپاک ہو جاؤں تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی شرمگاہ کو دھو کر نماز والا وضو کر کے سو جاؤ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 287، م: 306
الحكم: إسناده صحيح، خ: 287، م: 306
حدیث نمبر: 360 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبَا الْحَكَمِ ، ابْنَ عُمَرَ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ، فَحَدَّثَنَا عَنْ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْجَرِّ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحکم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عنہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے، کدو کی تونبی، سبز رنگ کی روغنی ہنڈیا یا برتن سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 361 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، الْأُصَيْلِعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ:" أَمَا إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1597، م: 1270
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1597، م: 1270